ہفتہ، 1 نومبر، 2014

پاکستان میں ہائر ایجوکیشن کو درپیش چیلنج


کسی ملک اور قوم کی ترقی میں اعلیٰ تعلیم کلیدی اہمیت کی حامل ہوتی ہے اور معیاری اعلیٰ تعلیم کے بغیر ملک و قوم ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ جاتے ہیں کیونکہ افرادی قوت کی ترقی اور اداروں کی تعمیر کے بغیر خوشحالی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ تعلیمی عمل میں اعلیٰ معیار کو مرکزی اہمیت حاصل ہے۔ میدان علم و تحقیق میں جو انقلابی تبدیلیاں عالمگیر سطح پر ظہور پذیر ہیں ان سے مستفید ہونے کے لیے لازم ہے کہ قوم اعلیٰ تعلیم کے اداروں کی ضروریات پوری کرے اور اعلیٰ تعلیم کے بنیادی ڈھانچے میں بہتری لائے۔ اعلیٰ تعلیم میں قومی سرمایہ کاری کبھی رائیگاں نہیں جاتی بلکہ اس کا ثمر منافع کے ساتھ قوم و ملک کو ضرور ملتا ہے۔اس کے برعکس اعلیٰ تعلیم کو نظر انداز کرنے پر بھاری قیمت بھی قوم ہی کو چکانی پڑتی ہے۔ 
آج دنیا بھر میں مسابقت اور فضیلت کے لیے جدوجہد نے اعلیٰ تعلیم کو معاشرے میں منفرد حیثیت دی ہے۔ عالمگیریت کے سبب یونیورسٹی سطح کی تعلیم کو دنیا کے نقشے میں نمایاں جگہ ملی ہے اس لیے ضروری ہے کہ ہماری یونیورسٹیاں عالمی معیار پر پوری اتریں۔ عالمی معیار سے مطابقت کے لیے ہماری یونیورسٹیوں کو تیزی سے تبدیل ہونے والی دنیا کے مسائل اور چیلنجز، معاشرے کی توقعات اور طلبہ کے روز افزوں تقاضوں سے عہدہ برآہ ہونے کی صلاحیت سے مالا مال ہونا ضروری ہے۔ اعلیٰ تعلیم کسی بھی سماج میں ہمہ جہت ترقی و پیش رفت کے وسیع امکانات کی حامل ہوتی ہے چنانچہ اعلیٰ تعلیم کے نظام کو اس طرح فعال بنانا کہ وہ قومی تعمیرِ نو کے عمل میں تجدید ی کاوشوں کا علمبردار ثابت ہوترقی کی آرزو مند اقوام کی ترجیح رہا ہے۔ 
تیز رفتار ترقی کے اس عہد میں پاکستان میں ہائر ایجوکیشن پر سخت دباؤلمحہ فکریہ ہے۔ عددی توسیع، اداروں کی ساخت میں تنوع اور مالی مسائل نے اعلیٰ تعلیم کے معیار کو متاثر کرنا شروع کر دیا ہے ایسے وقت میں مقتدرہ قومی زبان اسلام آباد کے مدبر چیئر مین ڈاکٹر انوار احمد نے بروقت ادراک کرتے ہوئے ہائر ایجوکیشن کمیشن اور عمرانی علوم کے فروغ کے جامعاتی کنسورشیم کے سیکرٹری مرتضیٰ نور کے اشتراک سے ”پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کو درپیش عصری چیلنجز“ کے عنوان سے فکر انگیز سیمینار کا انعقاد ممکن بنایا۔ صدارت قائداعظم یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر معصوم یاسین زئی نے کی،مہمان خصوصی HEC کے پُرعزم ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر سہیل نقوی تھے جبکہ کلیدی خطاب عالمی شہرت یافتہ ماہر عمرانیات، مؤرخ، روشن خیال دانشور اور فارن پروفیسر ڈاکٹر اسلم سید نے کیا۔ جامعہ گجرات کے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد نظام الدین جو HEC کی عمرانی علوم کے فروغ کی کمیٹی کے چیئر مین ہیں ان کی خصوصی ہدایت پر یونیورسٹی آف گجرات سے راقم الحروف نے پروفیسر سید شبیر حسین شاہ کے ہمراہ سیمینار میں ’دانشگاہ گجرات‘ کی نمائندگی کی۔ سیمینار میں خاص بات یہ نظر آئی کہ یہاں محض نشتند و برخاستند کی بجائے شرکاء نے پورے خلوص اور لگن سے موضوع میں دلچسپی لی اور پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے مستقبل کے حوالے سے بساط بھر تجاویز پیش کیں۔ ڈاکٹر انوار احمد کے خیالات کا لب لباب تھا کہ پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کو درپیش بڑا چیلنج زبان کا ہے۔ ان کے خیال میں قومی زبان کے ذریعے ہی اعلیٰ تعلیم کی ضروریات پوری کی جانی چاہئیں۔ ڈاکٹر اسلم سید نے کلیدی خطاب میں اعلیٰ تعلیم کو درپیش عصری مسائل کا علمی محاکمہ کیا اور کہا کہ اعلیٰ تعلیم کے ادارے یا جامعات کے قیام کامقصد محض خوبصورت عمارتوں کی تعمیر نہیں بلکہ تحقیق اور جدت کے علمی ماحول کا قیام ہے۔ انہوں نے بجا طور پر کہا کہ ہمارے ہاں تعلیم کا بجٹ شرمناک حد تک کم ہے۔ڈاکٹر اسلم سید نے مزید کہا کہ جامعات فیکٹریاں نہیں اور تعلیم منافع کمانے والا شعبہ بھی نہیں۔ہمیں تعلیم کے شعبے کو بیرونی پریشر سے محفوظ رکھنا ہو گا۔  ڈاکٹر سہیل نقوی نے کہا کہ اعلیٰ تعلیم پر 0.18 فیصد خرچ کر کے قومی فلاح کی ضامن اعلیٰ تعلیم کا فروغ ممکن نہیں بنایا جاسکتا۔ تعلیم سب کا حق ہے قوم کے راہبروں کو ادراک ہونا چاہئے اعلیٰ تعلیم کے بجٹ میں اضافہ ہی اعلیٰ تعلیم کے نظام کو استحکام بخش سکتا ہے۔ رئیس الجامعہ قائداعظم ڈاکٹر یاسین زئی نے بھی کہا کہ تعلیمی بجٹ میں مسلسل کمی مناسب قدم نہیں انہوں نے اصرار کیا کہ اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے لیے تعلیمی بجٹ کم از کم چار فیصد ہونا چاہئے۔ 
اعلیٰ تعلیم کے ارباب اختیار کا ہائر ایجوکیشن کو درپیش مسائل سے پریشان ہونا یقیناً غور و فکر کا متقاضی ہے۔ پاکستان میں گذشتہ چند سالوں میں HECکے مثبت کردار سے اعلیٰ تعلیم میں بہتری کے آثار نمایاں ہوئے تھے مگر گذشتہ سال سے HEC ایک بار پھر زیر عتاب ہے۔ اسے بد قسمتی کے سوا کیا کہیے کہ پاکستان کے حکمران، منصوبہ ساز اور فیصلہ کرنے والے ہمیشہ یہی کہتے ہیں کہ اکیسویں صدی سائنس اور ٹیکنالوجی، علم اور تحقیق کی صدی ہے لیکن ان کی ترجیحات کچھ اور دکھاتی ہیں۔ پاکستان کے علم دوست ارباب اقتدار بجٹ میں تعلیم کے لیے جی ڈی پی کا صرف 2 فیصد یا اس سے بھی کم مختص کرتے ہیں۔ پاکستان تعلیمی بجٹ کے حوالے سے دنیا کے آخری دس ممالک میں ہے ہم جیسے ترقی پذیر ممالک کو تو تعلیم پر زیادہ صرف کرنے کی ضرورت ہے مگر ہم تو 2 فیصد تعلیمی بجٹ میں سے بھی صرف 10 فیصد اعلیٰ تعلیم پر خرچ کررہے ہیں طرفہ تماشہ یہ کہ روشن پاکستان کا نعرہ لگانے والے اسے بھی مزید کم کرنے کی ٹھانے ہوئے ہیں۔ مشترکہ مفادات کونسل کے اگلے 2014ء کے اجلاس تک یہ وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ آئین میں اٹھارویں ترمیم میں تعلیم کو بنیادی حق کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے آئین کے مطابق تعلیم وفاق اور صوبوں دونوں کی ذمہ داری ہے۔ پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کی لڑکھڑاتی عمارت کے لیے ضروری ہے اور یہ ہر محب وطن کا مطالبہ بھی ہے کہ جی ڈی پی کا کم از کم چار فیصد تعلیم کے لیے مختص ہو اور اعلیٰ تعلیم کے لیے تو مسلسل تین عشروں تک زیادہ سے زیادہ رقم کی ضرورت ہے اگر یہ قومی تقاضا ہے تو پھر حکمران اس قومی تقاضے سے عہدہ برآہ کیوں نہیں ہو رہے؟
موجودہ د ور میں اعلیٰ تعلیم کو بنیادی سرمایہ کاری کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے اعلیٰ تعلیم پر سرمایہ لگانے کے معنی ہیں کہ افرادی قوت پر سرمایہ کاری جس سے مہارتوں کے حامل افراد کی تعداد میں اضافہ ہوتاہے، ٹیکنالوجی کے میدان میں اس سے ایجادات کو فروغ ملتا ہے اور اس طرح حاصل ہونے والا منافع مادی سرمایہ کاری سے کہیں زیادہ ہوتا ہے۔ اعلیٰ تعلیم کا معاشی ترقی سے بھی گہرا رشتہ ہے۔ سنگاپور جیسے ترقی یافتہ ممالک یونیورسٹیوں میں سائنس کی تعلیم اور جدید آلات سے لیس لیبارٹریوں کو اپنی ترقی کے لیے بنیادی ڈھانچے کا حصہ سمجھتے ہیں۔ 
ہمیں اعلیٰ تعلیم کو مسائل کے گرداب سے نکالنے کے لیے سنجیدہ کوشش کرنی چاہئے چہ جائیکہ قومی اسمبلی میں HEC کے حوالے سے ایک نجی ترمیمی بل کی تلوار لٹکا دی گئی ہے معاشرے کی ضروریات اور توقعات سے متعلق اعلیٰ تعلیم کی مناسبت سے جامعات کا کردار ملک کی ترقی کے لیے سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ جامعات کو مضبوط اور جدید بنانے کے لیے HEC کو مضبوط، مستحکم اور فعال رکھنا ضروری ہے۔ پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کو فوری اور سب سے خطرناک چیلنج یہ ہے کہ HEC کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کی بجائے اسے تتر بتر کرنے کی سوچ اور حکمت عملی غالب ہے اس سوچ کو بدلنے اور حکمرانوں کو ہوش کے ناخن لینے کی ضرورت ہے۔ اعلیٰ تعلیم پر سرمایہ کاری میں اضافے کے بغیر اعلیٰ قومی مقام ممکن نہیں۔ 
محب وطن افراد اور دانشوروں کو یکجا ہو کر حکمرانوں سے مطالبہ کرنا چاہئے کہ آئندہ بجٹ میں تعلیم کے لیے کم از کم جی ڈی پی کا چار فیصد مختص کرے بصورت دیگر عالمی معیار سے مطابقت کی حامل اور قومی ترقی کی ضامن اعلیٰ تعلیم کی منزل دور سے دور ہوتی چلے جائے گی HEC کے کردار سے اختلاف اور اس میں بہتری کی گنجائش ہو سکتی ہے۔ اس کے لیے اعلیٰ تعلیم کے کمیشن کو چیک اینڈ بیلنس کی اصلاحات کے ساتھ زیادہ خود مختار بنا کر زیادہ کارآمد بنایا جاسکتا ہے۔ اس کمیشن نے گذشتہ آٹھ سال میں اعلیٰ تعلیم کی بہتری میں جو کردار ادا کیا ہے اس کی سزا یہ نہیں کہ اسے بیوروکریسی کی دلدل میں پھینک دیا جائے۔ تعلیم اور اعلیٰ تعلیم کو در پیش مسائل حکمرانوں کی خصوصی توجہ کے طالب ہیں