جمعہ، 14 نومبر، 2014

رنگوں کے اثرات


رنگوں کا انسانی تہذیب و تمدن کے ساتھ ساتھ انسانی شخصیت سے بھی گہرا تعلق ہے۔ ہم رنگوں میں عمر بسر کرتے ہیں مگر شعوری طور پر ان کی موجودگی یا عدم موجودگی کا ادراک نہیں کرتے۔ حالانکہ فطرت کے رنگوں میں ڈوب کر سراغِ زندگی پا لینا انسان کے ارفع اعمال میں شمار کیے جانے کے لائق ہے۔ جس طرح شعروں کا انتخاب رسوا کر سکتا ہے اسی طرح رنگوں کا انتخاب بھی دِل کا معاملہ کھول سکتا ہے۔ سُروں کی مانند رنگ بھی انسانی طبیعت پر گہرے اثر ڈالتے ہیں۔ انسانی شخصیت، مزاج اور موڈ پر رنگوں کے اثرات کا ماہرانہ مطالعہ کر کے دلچسپ نتائج اخذ کیے جاتے ہیں یہ اثرات اتنے عام ہیں کہ ان کے جائزے کے لیے خصوصی تجربات کی بھی ضرورت نہیں پڑتی سفید، سیاہ، سرخ، زرد اور نیلا رنگ بہت جلد مزاج پر اثر انداز ہوتا ہے اسی لیے با ذوق افراد اپنے ماحول، رہائش، دفاتر، بیڈ رومز اور دیواروں کے لیے رنگوں کا انتخاب غوروفکر کے بعد کرتے ہیں کیونکہ یہ بلاوجہ نہیں کہا جاتا کہ رنگ باتیں کریں اور رنگوں سے خوشبو آئے۔ 
رنگ ہمارے جذبات اور مزاج پر اثر انداز ہی نہیں ہوتے بلکہ یہ ہمارا موڈ بنا کر اُن میں توانائی پھونکتے ہیں، یہ جذبات پر بھی اثر ڈالتے ہیں جو ہمیں خوش یا غمگین کر سکتے ہیں۔ رنگوں سے جنم لینے والی انسانی مسرتوں اور پریشانیوں کی کہانی خاصی دلچسپ ہے۔ قدیم راہبوں، جوگیوں، درویشوں، بھکشوؤں اور صوفیاء و اولیاء نے اپنے آپ کو ایک دوسرے سے الگ رکھنے کے لیے کوئی خاص رنگ اپنے ساتھ مخصوص کیے رکھا اور اس طرح سبز، گیروے، نیلے، کالے، پیلے رنگ پہننے والوں کی کرامتیں ان کے لباس کے رنگوں سے مخصوص رہیں۔ روحانی علوم کے ماہرین کاخیال ہے کہ جو حرف ہم ادا کرتے ہیں وہ ایک خاص رنگ اور خاص طاقت کا حامل ہوتا ہے۔ غیب بینوں نے حروف کو لکھ کر جب تیسری آنکھ یعنی روحانی آنکھ سے دیکھا تو انہیں ’الف‘کا رنگ سرخ، ’ب‘کا رنگ نیلا، ’د‘کا سبز اور’س‘ کا زرد نظر آیا۔ ان حروف یا الفاظ کے اثرات کا جائزہ لے کر ہی انہوں نے اندازہ کیا کہ بعض الفاظ اسمِ اعظم کا درجہ رکھتے ہیں۔ غلام جیلانی برق نے روحانی علوم پر بحث کرتے ہوئے دلچسپ و اقعات بیان کیے ہیں مثلاً ”ایک محفل میں چند احباب گفتگو میں مصروف تھے اور میں دور بیٹھ کر ان کے اجسام لطیفہ کا مشاہدہ کر رہا تھا، ایک نے کسی بات پر زور سے قہقہہ لگایا، ساتھ ہی کوئی پھبتی کس دی کہ معاً اس کے جسم ِلطیف پر گہرے نسواری رنگ کا جالا تن گیا جسے دیکھ کر انتہائی کراہت ہوئی“کہا جاتا ہے کہ اگر کوئی شخص دیوانہ ہو جائے تو یہ ہالہ خاکستری ہو جاتا ہے، عبادت، ریاضت سے یہ روشنی نیلی ہو جاتی ہے۔ 
سُروں کی مانند رنگوں کے گہرے اثرات کو بھی تسلیم کرکے آج کل ماہرین انہیں جسمانی و اعصابی عوراض کے لیے بطور علاج استعمال کرنے لگے ہیں۔ صحت مند زندگی کے لیے رنگوں کا متوازن ہونا ضروری ہے، شوخ، چمکیلے اور خیرہ کرنے والے رنگ لوگوں کو حرکت پر اُکساتے ہیں۔ رنگوں کے ذریعے مریضوں میں مزاحمتی صلاحیتیں بڑھانے اور تیزی سے صحت مند ہونے میں مدد لی جاتی ہے۔ یہ روشنی ہوتی ہے جس سے رنگوں کے ملاپ کے بعدکچھ مقناطیسی توانائی کی شعاعیں نکلتی ہیں جب روشنی فوٹو پیکڑ سے گذرتی ہے تو یہ الیکٹرانک امپلس میں ڈھل جاتی ہے جو کہ دماغ تک سفر کرکے ہارمونز خارج کرتی ہے۔ جنوب میں روشنی کی کمی ہوتی ہے اس لیے وہاں کے لوگ ڈپریشن کا شکا رہوتے ہیں۔ اس صورتحال کو ”سیزنل ایفیکٹس ڈس آڈر“ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ 
رنگوں کی تھراپی میں سات رنگ استعمال ہوتے ہیں جو جسم کو متوازن کرکے توانائی میں اضافہ کرتے ہیں اس لیے انہیں ہیلنگ کے عمل میں استعمال کیا جاتا ہے یہ کام نفسیاتی بنیادوں پر کیاجاتا ہے جس سے مخصوص رنگوں پر ردعمل ظاہر ہوتا ہے۔ جب روشنی آنکھوں کے ذریعے داخل ہوتی ہے تو یہ نیورولوجی کے راستے پر چلتی ہوئی یاٹنل غدود تک جاتی ہے جو دماغ سے جڑا ہوتا ہے اور زندگی کے روزمرہ معمولات کو دیکھتا ہے۔ ان رنگوں کی فریکوئنسی یا ویولنیتھ مختلف ہوتی ہے اور جسمانی یا ذہنی وضاحت پر مختلف اثرات مرتب کرتی ہے۔ کلر تھراپی سے جامد جذبات کو خارج کیا جاتا ہے جسم کو مختلف رنگوں سے منور کرنے کے لیے تھراپسٹ مختلف تکنیک استعمال کرتے ہیں کچھ لوگ روشنیوں کی بجائے سلک کے کپڑے کو ترجیح دیتے ہیں، تیز روشنی کے ذریعے روشنی کا بکس آپ کے SADمیں بہتری لاتا ہے اور ہارمونز پر اثر انداز ہو کر کام کرتا ہے نیز مزاج کو اچھا کرنے والے دماغی کیمیکل سلوشن کی مقدار کو بڑھاتا ہے۔ 
مختلف رنگ دماغ پر مختلف رد عمل ظاہر کرتے ہیں۔ لال کمرے میں وقت سست اور نیلے یا ہرے کمرے میں تیزی سے گذرتا ہے۔ لال رنگ قربت اور نرمی کی علامت ہوتا ہے۔ نیلا رنگ فاصلے اور ٹھنڈک کی علامت ہے۔ چمکدار لال اور پیلا بلڈ پریشر اور پٹھوں کی ٹینشن کو کم کرتا ہے۔ مشاہدے سے واضح ہوتا ہے کہ لوگ لال رنگ کے کمرے میں گرمی محسوس کرتے ہیں اور اسی درجہ حرارت میں نیلے رنگ میں ٹھنڈک کا احساس ہوتا ہے۔ نیلا رنگ بلڈ پریشر کو کم کرتا ہے، گلابی رنگ  کی مختلف ویلیو مختلف جذبات پر اثر انداز ہوتی ہے۔ ہلکا ڈل گلابی رنگ سکون اور نبض کی رفتار کو ہلکا کرتا ہے، گہرا گلابی مثبت اثرات مرتب کرتا ہے، کمرے میں گذارنے والے وقت کا انحصار بھی رنگ پر ہوتا ہے۔ غصے والے بچوں کو اگر نیلے رنگ والے کلاس روم میں رکھا جائے تو ان کا غصہ کم ہوتا ہے، کہا جاتا ہے کہ جب لندن برج کا رنگ کالے سے نیلا کیا گیا تو خود کُشی کی شرح پچاس فیصد سے زیادہ کم ہو گئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ذیابیطس کے مریضوں کےAuraمیں پیلے رنگ کی کمی ہوتی ہے پیلا رنگ اس مسئلے کو کم کرتا ہے۔ کالا رنگ ذبابیطس کو گراؤنڈ جبکہ ڈر کو ختم کرتا ہے۔ مختصر یہ کہ رنگ ہماری زندگی میں اہمیت کے حامل ہیں ہمیں رنگوں کی شناخت اور اثرات سے آشنا ہونا چاہیے تا کہ خوبی رنگ سے تصویر کو پہچان سکیں۔ رنگوں کے اثرات کے حوالے سے بات کو افتخار عارف کے اس مصرع پر ختم کروں گا کہ 
”فضا میں رنگ نہ ہوں تو آنکھ میں نمی بھی نہ ہو۔“