منگل، 16 دسمبر، 2014

اس بے ثمر فساد سے مخلوق تنگ ہے



قدیم بغداد کے ایک نامور واعظ ابن السماک تھے انہوں نے ایک دفعہ عباسی خلیفہ ہارون الرشید کو نصیحت کرتے ہوئے کہا تھا”لا تحرق و جھک فی النار“ یعنی ایسا نہ کرو کہ تمہارا چہرہ آگ میں جلے ۔ یہ بات میں کسی کو کہہ تو نہیں سکتا، لیکن یہ الفاظ مجھے 15 دسمبر کو لاہور میں تحریک انصاف کے ”لاہور بند کرنے“ کی حکمت اور حکمت عملی کو دیکھ کر بہت یاد آئے ۔ یہ جماعت تبدیلی کے نعرے کی علمبردار ہے اور پاکستانی یوتھ کی بڑی تعداد اس تبدیلی کے لیے ان کے ساتھ ہونے کی دعویدار بھی ہے ۔ تبدیلی کا عمل محض تبدیلی برائے تبدیلی ہو تو اس کے لیے جوش و جذبہ کافی ہے کیونکہ بے راہ جذبہ بے ہنگم صورتحال کو جنم دے کر تبدیلی تو پیدا کر دیتا ہے مگر مثبت اور پائیدار تبدیلی کے لیے بے ہنگم جذبات ہی کافی نہیں ہوتے۔ سنبھل کر، سمجھ کر آگے برھنا پڑتا ہے اور تدبر و تفکر کو تیاگ کر یوتھ کو کھلی چھٹی دے دی جائے تو وہی ہوتا ہے جو لاہور میں ہوا۔ کسی نے سچ کہا ہے کہ طاقت اپنے زور کے کے بھدے پن میں چابی کو بے کار سمجھ کر ، کلہاڑے سے کام لینے لگتی ہے ۔ احتجاج کے نام پر جس طرح شہریوں کے بنیادی حقوق پامال کیے جا رہے ہیں ، سڑکیں اس طرح بند کی جا رہی ہیںکہ ایمبولینسوں میں مریض دم توڑنے لگے ہیں۔ مدہوشی اتنی کہ ”ٹائیگرز“ غیرت کی حدیں پھلانگ کر اپنے ساتھ شریک احتجاج خواتین کی چادر میلی کرنے کے در پہ نظر آنے لگے ہیں۔ خواتین اور صحافیوں کی زندگی اجیرن کر دی گئی کاروبار بند او رمعمولات زندگی متاثر، یہ کوئی کارنامہ نہیں۔ کوئی بھی بے ہنگم ہجوم کہیں بھی نکل آئے ایسے نتائج سامنے آجاتے ہیں۔ تحریک انصاف کی قیادت ہر وقت مغربی جمہوریتوں کا حوالہ دیتی ہے کیا یورپ میں کوئی احتجاج کے نام پر سڑکیں بند کر سکتا ہے ۔ تشدد کی زبان، تشدد کا مزاج، الامان، الحفیظ،وہ دو بچے جو کل کے احتجاج کی بھینٹ چڑھے ان کی قبروں پر تبدیلی کا نعرہ ان الفاظ میںرقم ہوا ہے کہ پھول مرجھا کر آہ بھرتا ہے کہ بہار ہمیشہ کے لیے رخصت ہوئی ۔ 
ٹیگور نے کہا تھا کہ دنیا زیادہ تر اپنے ہی بہی خواہ کے بے نیاز تشدد سے پریشان رہتی ہے ۔ لاہور میں خواتین اور خاتون صحافیوں کے ساتھ جو کیا گیا اس سے ہر غیرت مند کا سر ندامت اور شرم سے جھک گیا ۔جب پاکستان کی بیٹی کروڑوں لوگوں کے سامنے رونے لگی، اس کو رونے پر مجبور کر دیا گیا ۔ پی ٹی آئی کو کسی ادارے سے اختلاف ہو سکتا ہے مگر ورکنگ جرنلسٹس کے ساتھ بے ہودہ سلوک، یہ کوئی پہلی بار نہیں ہے ۔ PFUJ کے مطابق ایسے 69 واقعات ہو چکے ہیں۔ ماریہ میمن، ثنا مرزا، امین حفیظ، سہیل وڑائچ، جواد ملک ، مسعود رضا ہر کسی کے ساتھ ناروا سلوک، مسلسل سلوک قابل مذمت ہے ۔ لاہور کا منظر نامہ کئی سوالات کو جنم دے رہا تھا ۔ ہو سکتا ہے کہ تحریک انصاف نے ”سیاسی شعور“ دیا ہو مگر اس سیاسی شعور نے اخلاقیات اور اقدار کا جنازہ نکال دیا ہے ۔ لاہور بند کر کے عمران کی انا شاید جیت گئی ہو ، مگر پاکستانی سماج اور ریاست کی ہار ہوئی ہے ۔ 
پھر اقتدار کے مصروف جنگ ہیں
وہ لوگ جن کے ہاتھ میں وعدوں کے سنگ ہیں 
جس نسل کے ذریعے تبدیلی کی امید کی جا رہی ہے اسکا کھلنڈرا پن ابھر کر سامنے آگیا ہے ۔ وہ نسل جس نے نئے پاکستان کا جھنڈا اٹھا رکھا ہے وہ نسل اپنی عزتوں کے دو پٹے اچھال رہی ہے ۔ سچ یہ ہے کہ تبدیلی دھاندلی دھاندلی کا راگ الاپنے سے نہیں آتی۔ یہ قیادت کے تاثر کا نتیجہ ہے ۔ دھاندلی سیاست سے عوام اکتا گئے ہیں 
اس بے ثمر فساد سے مخلوق تنگ ہے 
یہ جنگ صرف بانجھ اناﺅں کی جنگ ہے 
کہتے ہیں کہ خطائیں صداقت کی ہمسایہ ہیں اور اکثر ہمیں فریب دیتی ہیں۔ خانصاحب کی سیاست اور اس کے کھلنڈرے اثرات دیکھ کر Frank Lloy Wright کا قول یاد آرہا ہے کہ The anything wrong with architecture is architects۔ 
یعنی تعمیر میں واحد غلط چیز اس کے معمار ہیں۔ معمار اگر غیر دانش مند و غیر سنجیدہ ہو تو قوم کی تعمیر ممکن نہیں۔ اٹھارویں صدی کے اٹلی کے ممتاز دانشور کا ¶نٹ یوٹونیو نے اپنی کتاب ”ڈیلا امیڈے“ کے نام سے لکھی ہے ۔ اس میں مصنف نے تشدد، تخریب اور ہتھیاروں کے ذریعے تبدیلی لانے سے پہلے ذہن اور شعور میں انقلاب لانے کا فلسفہ بیان کیا ہے ۔تبدیلی کی خواہش متشدد خیالات اور بے ضبط اعمال کے راستے پر چل نکلے تو اندھا دھند فتنہ بن کر قوم و ملک کو تباہ کر دیتی ہے ۔ 
بڑے لیڈر کسی بڑی مصیبت کی پیداوار ہوتے ہیں اور اپنے بعد کوئی بڑی مصیبت چھوڑ جاتے ہیں۔ ایسے لیڈر منفی نعروں پر کھڑے ہوتے ہیں۔ پر جوش تقریریں کر کے فوراًعوام میں مقبولیت حاصل کر لیتے ہیں۔ ایسے لیڈر قوم کو ایک گڑھے سے بچانے کے نام پر دوسرے گھڑے میں گرا دیتے ہیں۔ سماجی و سیاسی زندگی میں غصہ اور تلخی پیدا ہونا غیر معمولی بات نہیں مگر اس کے اظہار کے دو طریقے ہیں ایک یہ کہ غصے کو غصہ کی شکل میں ظاہر کیا جائے، دوسرا یہ کہ غصہ کو برداشت کی شکل دی جائے۔ غصہ کو برداشت کی شکل میں ظاہر کرنا مفید رہتا ہے مگر جو لوگ غصہ برداشت نہ کر سکیں انہیں اس سے بھی زیادہ بُری چیز برداشت کرنا پڑتی ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ غصہ کو غصہ کی شکل میں ظاہر کرنا صرف ان لوگوں کے لیے مفید ہے جنہیں اپنے نفع نقصان کا کوئی درد نہ ہو ۔ ژاںساپال سارتر نے جو بات تشدد کے بارے میں کہی ہے وہی غصہ کے بارے میں صحیح ہے ۔ اس نے کہا تھا کہ تشدد ان لوگوں کے لیے موزوں ہے جو اپنے کھونے کے لیے کچھ نہ رکھتے ہوں۔ خانصاحب کے غصے میں نفرت اور حسد بھی شامل ہے ۔ وہ اس کا اظہار کرنے میں کوئی موقع ضائع نہیں کرتے ۔ فرانسس بیکن نے کہا تھا کہ حسد کی تعطیل کا دن نہیں ہوتا ۔ 
کہتے ہیں کہ زنجیر کی مضبوطی اس کی کمزور ترین کڑی کے ذریعے جانچی جاتی ہے ۔ کسی چیز کی تمام کڑیاں مضبوط ہوں اور صرف ایک کڑی کمزور ہو تو زنجیر وہیں سے ٹوٹے گی اور پھر اس کا انجام تمام کڑیوں کی کمزوری کی صورت میں ہو گا ۔ لاہور کے واقعات میں پی ٹی آئی کے مضبوط لوگ نہ سہی کمزور ہی شامل تھے پھر یہ کمزوری اس جماعت کی حقیقی کمزوری کی نمائندہ ہے ۔ لیکن ایسی باتیں تو ہوشمندوں کے لیے ہوتی ہیں ۔ جوش تو بے مہار ہوتا ہے ۔ جو سوچ کر نہ سمجھے وہ دیکھ کر بھی نہیں سمجھ سکتا ۔ جس شخص کی عقل اس کو نہ بتائے، اس کی آنکھ بھی اس کو نہیں بتا سکتی، قرآن مجید کے الفاظ میں آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں، بلکہ وہ دل کے اندھے ہوتے ہیں ، جو سینوں کے اندر ہے۔ بلاشبہ دانا سکھانا جانتے ہیں اور ناداں بھلانا جانتے ہیں۔ 
جوش کے علمبرداروں سے عرض یہ ہے کہ ناکام شخص وہ ہے جس نے ایک غلطی کی مگر وہ اس قابل نہیں کہ اپنی غلطی سے تجربہ حاصل کر سکے ۔ غلطی سے آدمی اگر کوئی سبق سیکھ سکے تو وہ غلطی نہیں۔ غلطی دراصل وہ ہے جو آدمی کو سبق تک پہنچائے اور جو اس کے شعور میں اضافہ کا باعث ہو ۔ مگر جوشیلے نوجوان اپنی غلطیوں سے سیکھنے کی بجائے عذر گناہ تلاش کرنے میں سارا زور صرف کر رہے ہیں۔ وہ سازشی تھیوری کے ذریعے ندامت کا داغ دھونے کی کوشش کرتے ہیں۔ واہ کیا بات ہے اپنی سیاہی کے دھبوں کو جائز ٹھہرانے کے لیے، لوگ دن کو رات کہتے ہیں۔ 
آپ ہی اپنی ادا ¶ں پر ذرا غور کریں 
ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہو گی 
عمران خاں نے تمام طبقوں کو بیک وقت ساتھ ملانے کی جذباتی پالیسی اپنا رکھی ہے ۔ بغداد کے واعظ ابن السماک کی ایک ذہین خادمہ تھی ۔ السماک نے ایک بار پوچھا کہ میرا وعظ کیسا ہوتا ہے ؟ اس نے جواب دیا آپ کا وعظ تو بہت اچھا ہوتا ہے مگر آپ ایک بات کو بار بار کہتے ہیں، اس طرح آپ کا وعظ بہت لمبا ہو جاتاہے۔ ابن السماک نے کہا کہ میری مجلس میں خواص بھی ہوتے ہیں اور عام بھی ۔ میں بات کی تفصیل اس لیے زیادہ کرتا ہوں کہ جو عوام ہیں وہ میری بات سمجھ جائیں۔ خادمہ نے جواب دیا ! جب تک عوام سمجھیں گے اس وقت تک خواص اکتا چکے ہوں گے ۔ اس معاملے میں بہتر یہ ہے کہ آدمی اپنے لیے کسی ایک گروہ کا انتخاب کرے ، اگر اس نے دونوں گروہوںکو مخاطب بنانے کی کوشش کی تو ایک گروہ کے تقاضے پورے کرتے کرتے دوسرا گروہ ناراض ہو جائے گا ۔ خان صاحب کو بھی سوچنا ہو گا وہ کن طبقوں کے ذریعے تبدیلی لانا چاہتے ہیں۔ پلان سی دیکھ کر یاد آتا ہے کہ کسی نے کہا تھا 
قیاس کن زگلستان من بہار مرا 
(میرے گلستان سے اندازہ کرلے، میری بہار کیسے ہو گی )


المیہ مشرقی پاکستان اور جرنیلوں کا کردار




دسمبر 1971ءمیں قائداعظم کے پاکستان کی تقسیم اور مشرقی پاکستان کے ”بنگلہ بدھو “(بنگال کا بھائی)کے بنگلہ دیش اور مغربی پاکستان کے ”قائد عوام “کے نئے پاکستان کی تخلیق جنوبی ایشیاءکی حالیہ تاریخ کا سبق آموز باب جبکہ ہماری ملی تاریخ کا اذیت ناک اور فوجی تاریخ کا عبرتناک سانحہ ہے ۔ تاریخ کے اوراق شاہد ہیں کہ سقوط مشرقی پاکستان چند جرنیلوں کی ہوس اقتدار کی وجہ سے فوجی قوت کے بل بوتے پر سیاسی امنگیں پوری کرنے کی ایسی ناکام داستان ہے جس نے ظہور پاکستان کے بعد قحط الرجال کی شکار قوم کے ہر شعبہ ، حیات میں زوال کی تصدیق کر دی ۔ قائداعظم کا پاکستان کئی برس پہلے مر چکا تھا لیکن اس کی تدفین کا کام 16 دسمبر 1971ءکو اس وقت مکمل ہو ا جب جنرل نیازی نے ہزاروں فوجیوں سمیت جنرل جگجیت سنگھ اروڑا کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے ، یہ پاکستان کے لئے ذلت و رسوائی اور بھارت کے لئے جشن منانے کا دن تھا ۔
جغرافیائی لحاظ سے وفاق پاکستان مشرقی و مغربی یونٹوں کے درمیان تقریباً گیارہ سو میل کے فاصلے کی وجہ سے دفاعی مشکلات کا شکار تھا چنانچہ جنوری 1955 میں جنرل محمد ایوب خاں نے دفاعی حکمت عملی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا۔ ” مشرقی پاکستان کا دفاع وہاں سے نہیں کیا جا سکتا اگر وہاں تمام فوجی طاقت بھی مجتمع کر دیں تو بھی اس کا دفاع ممکن نہیں اس لئے ہمیں مغربی پاکستان میں اپنی فوجی بنیاد مضبوط بنانا ہو گی اور عوام کو اس حقیقت کا اعتراف کر لینا چاہئے “۔ چنانچہ قیام پاکستان کے بعد دفاعی نا خداﺅں نے مسلح افواج کے بڑے حصے کو مغر بی پاکستان میں تعینات رکھا، بس ایک ڈویژن بھر فوج مشرقی پاکستان میں رکھی اس طرح دونوں اکائیوں میں مسلح افواج کی غیر منصفانہ تقسیم سے فوجی توازن کا پلڑا مغربی بازو کی طرف بہت زیادہ جھک گیا ۔ جنرل کمال متین کہتے ہیں کہ چونکہ اہمیت کا مرکز مغربی بازو میں تھا ، سیاسی و فوجی طاقت غیر بنگالیوں کے ہاتھوں مرتکز رہی لہذا دفاع کی یہ حکمت عملی قومی منصوبہ بندیوں میں بڑی مقبول ہوئی کہ مشرق کا دفاع مغرب سے ہو گا “۔ تخلیق پاکستان کے بعد پہلے عشرے میں ہی یہاں کے مقتدر طبقوں نے ریاستی سطح پر وفاق اور اتحاد کے اصولوں کو زبردست مرکز پسند سیاسی نظام کے ذریعے کچلا تو مشرقی پاکستان میں لسانی علاقائیت نیشنل ازم میں بدلنے لگی ۔ سول بیورو کریسی اور فوج نے بنگالی راہنماﺅں کی جانب سے سیاسی شرکت اور عدم مرکزیت کے مطالبات کو اپنے لئے خطرہ سمجھا اور اس کے تدارک کے لئے سخت انتظامی پالیسی وضع کی ۔ فریب خوردہ سیاسی حکمت عملی نے بنگالی اجنبیت کو فروغ دیا چنانچہ 1963ءمیں دسویں ڈویژن کے کمانڈر میجر جنرل خواجہ واحد الدین نے کہا کہ ” مرکزی حکومت کے کرنے کا کام صرف یہ ہے کہ تقسیم کے بعد سے مشرقی بازو میں کی جانے والی غلطیوں کو پہچانے اور تسلیم کرے اور پھر ہمدردی اور مفاہمت کے ساتھ مشرقی بازو کے مسائل حل کرنے کی کوشش کرے ،طاقت یا جبر کے اقدامات نہ صرف ناکام ہوں گے بلکہ وہاں پائی جانے والی ابتر سیاسی صورتحال میں مزید ابتری پھیلانے کا سبب بنیں گے “جی ایچ کیو کے دفاعی فلسفے کا پہلا امتحان 1965میں ہوا ۔ اس سترہ روزہ جنگ کے بعد ذوالفقار علی بھٹو نے قومی اسمبلی میں کہا کہ ” مشرقی پاکستان کو چین نے بچا لیا “۔ یہ کوئی معمولی بیان نہیں تھا اس نے بنگالی فکر میں انقلابی تبدیلیاں پیدا کر دیں ۔ بنگالی دانشور میزان الرحمن نے اپنی کتاب ”دی ایمر جنس آف بنگلہ دیش “میں تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ اس جنگ کا سب سے پہلا اور اہم ترین پہلو جغرافیائی دور ی اور مشرقی بازو کے غیر محفوظ ہونے کا احساس شدت سے ابھرا، تصادم کے سترہ دنوں میں مشرقی بازو کو معیشت اور دفاع کے معاملات میں اس کے حال پر چھوڑ دیا گیا وہاں محض ایک انفنٹری ڈویژن ایک ٹینک رجمنٹ اور کوریا کی جنگ کے بچے کھچے ایف۔ 86 امریکی طیاروں کا ایک سکوارڈن تھا جس کے مقابلے میں بھارت کی طاقتور فضائی قوت کا خطرہ ہر وقت موجود تھا“۔ اس سے مشرقی پاکستان میں علیحدہ اور مستقل دفاع کا مطالبہ سامنے آیا کیونکہ بصورت دیگر پاکستان سے اتحاد کا کوئی عملی فائدہ نہیں تھا، بے اطمینانی بے تابی میں تبدیل ہوتی رہی ۔ اسی جنگ میں جنرلوں کے ناقابل شکست ہونے کا بھرم ٹوٹا تو صوبائی خود مختاری کے لئے جدوجہد میں مصروف بنگالی کارکنوں کے حوصلے بلند ہو گئے چنانچہ 1966ءمیں اگر تلہ سازش کا سراغ لگا لیا گیا ۔ یہ محض افسانہ نہیں تھا بلکہ اس کی تصدیق مسٹر اشوک رائنا نے اپنی کتاب Inside Raw میں تفصیلی ذکر سے کی ہے ۔ جنگ کے بعد کساد بازاری کا ریلا آیا تو ریاستی وسائل کا رخ مزید مغربی پاکستان کی فوج کیطرف کر دیا گیا اس سے اقتصادی عدم توازن مزید بڑھا تو حالات کی نزاکت دیکھ کر دس سالہ جرنیلی اقتدار دوسرے جرنیل کو 25 مارچ1969ءکو منتقل کر دیا گیا۔ ہربرٹ فیلڈ مین کے لفظوں میں یحییٰ خاں وہ وارث تھا جسے دونوں صوبوں کے درمیان تعلقات کی میراث میں منفعت سے زیادہ قرضوں کا بوجھ ہے ۔ چہرہ بدل گیا مگر عوامی جمہوری نظام نہ آسکا ۔ایک جنرل نے 1956ءکا آئین منسوخ کیا تو دوسرے نے 1962ءکا کالعدم قرار دے دیا ۔ 1970ءکے انتخابات کا اعلان ہوتے ہی دونوں بازوﺅں کی جانب سے لعن طعن اور تنقید کی رسوا کن مہم شروع ہو گئی ۔ لارنس زائرنگ کے خیال میں اگر 1970ءکے الیکشن کے موقع پر کوئی دستور نافذ ہوتا تو اس کے نتائج آئینی حدود کے اندر رہتے اور ان سے کوئی خطرہ لاحق نہ ہو تا۔ مشرقی پاکستان پر نازل ہونے والی تمام آفتوں کا ذمہ دار مغربی پاکستان کو ٹھہرایا جانے لگا ۔ اسی اثناءمیں نومبر میں وہاں سمندری طوفان اور سیلاب آگیا فوج کے آئینی فرائض میں شامل ہے کہ وہ آفات، بلوﺅں یا ہنگاموں کی حالت میں مسائل سے نمٹنے کے لئے حکومت کی معاونت کرے۔ اس ہنگامی حالت میں مشرقی پاکستان کے گورنر ایڈمرل احسن اور مجیب الرحمن کے اصرار اور بار بار اپیلوں کے باوجود کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل یعقوب علی کی جانب سے کوئی خاص امداد نہ کی گئی۔ جب قوم اور فوج نے امداد میں لیت و لعل سے کام لیا اس وقت امریکی اور برطانوی ٹیمیں امدادی کام کے لئے مشرقی پاکستان پہنچ گئیں ۔ فوجی حکومت کی جانب سے امداد کی فراہمی میں ناکامی پر بنگالی غضب ناک ہو گئے۔ شیخ مجیب الرحمن نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ ہمارے مردوں کو دفن کرنے کی ذمہ داری برطانوی سپاہیوں کے ذمے آن پڑی ہے ۔ “ اس صورتحال میں ہونے والے انتخابات کے نتائج نے بہت سوں کو حیران کر دیا ۔ یہ انتخابات 1962ءکا دستور منسوخ ہونے کے بعد سیاسی و فوجی ٹولہ کے حکم پر کرائے گئے اور ان کا مقصد ایک نیا سیاسی نظام وضع کرنے کی بجائے ایوب خان کے سیاسی نظام کی توثیق کرنا تھا۔ چنانچہ جنرل اکبر نے جو پیشگوئی کی تھی وہ درست ثابت ہوئی تو قومی گاڑی کو مخالف سمتوں میں کھینچا جانے لگا ۔ یحییٰ خاں نے مجیب کو مستقبل کا وزیر اعظم کہہ کر اسے خوش کرنے کی کوشش کی لیکن مجیب یحییٰ کو صدر برقرار رکھ کر ممنون نہیں کرنا چاہتا تھا ۔ ہوس اقتدار کا مارا جنرل یحییٰ خان، مجیب سے مایوس ہو کر 18,17جنوری کو بطخوں کے شکار کے نام پر لاڑکانہ میں منتظر بھٹو کے پاس چلا گیا ۔ سیاسی حوالے سے یہ غیر شائستہ بات تھی کہ آئینی مذاکرات جیسے حساس موضوع پر یحییٰ خان نے بھٹو کی ذاتی میز بانی قبول کر لی ۔ 

ایک خیال یہ بھی ہے کہ پاکستان توڑنے کے حتمی منصوبے ایم ایم احمد پلان کی منظوری یہاں یحییٰ بھٹو ملاقات میں ہی دی گئی ۔ 1970کے انتخابات کے فوراً بعد بھٹو نے اپنے معاشی امور کے مشیر ایم ایم احمد اور پلاننگ کمیشن کے ڈپٹی چیئرمین قمر الاسلام کو حکم دیا کہ وہ ان کے لئے ایسی دستاویز تیار کریں جس سے یہ بات ثابت ہو سکے کہ مغربی پاکستان مشرقی پاکستان کے بغیر بھی خوشحال رہ سکتا ہے ۔ لاڑکانہ میں منظور ہونے والے اس منصوبے کا مقصد تھا مشرقی پاکستان کو وہاں پر کوئی متبادل حکومت قائم کئے بغیر چھوڑ دیا جائے یعنی جان بوجھ کر جنگ ہار دی جائے۔ انہی دنوںمیں بھارت نے جو مجیب کی مسلسل مدد کر رہا تھا دباﺅ ڈالنے کے لئے اپنی فوجیں سرحد پر جمع کر دیں ۔ یہ مجیب کے لئے واضح اشارہ تھا کہ وہ مرکز کے خلاف بغاوت کر دے ۔دوسری طرف گیارہ فروری کو بھٹو نے یحییٰ سے ملاقات کی اور اس سے اگلے روز پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے لاہور میں عوامی لیگ کے دفتر پر حملہ کر کے اس کا جھنڈا جلا دیا ۔ حالات خراب ہوئے تو جنرل یحییٰ خان نے دور رو زبعد اعلان کیا کہ قومی اسمبلی کا اجلاس 3 مارچ کو ڈھاکہ میں ہو گا ۔ بھٹو نے اس اعلان کو نا پسند کیااور 15 فروری کو لاہور میں بند کمرے میں سیاسی تعطل کو دور کرنے کا طریقہ تجویز کرتے ہوئے کہا کہ یا تو مشرقی پاکستان کو آزاد ہونے دیا جائے یا پھر مجیب الرحمن کو گرفتار کر لیا جائے، عوامی لیگ نے اس کی مذمت کی ۔ 20 فوری کو ایل ایف اومیں ایک ترمیم کے ذریعے اراکین اسمبلی کو اجلاس سے پہلے مستعفی ہونے کی اجازت دے کر بھٹو کا کام آسان کر دیا گیا انہی دنوں میجر جنرل عمر نے سیاستدانوں سے کہنا شروع کر دیا کہ وہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لئے ڈھاکہ نہ جائیں ۔ 22 فروری کو جنرل یحییٰ خان نے اسلام آباد میں صوبائی گورنروں کے ساتھ میٹنگ کی جس میں مشرقی کمان کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل یعقوب علی خاں بھی شامل ہوئے ۔ اسی کانفرنس میں فوجی کاروائی”بلٹز“ (یلغار) نامی منصوبہ منظور کیا گیا ۔ جنرل یعقوب کو کھلی چھٹی دے دی کہ اگر مجیب چھ نکات پر اپنے موقف پر تبدیلی نہ کرے تو وہ بلٹزکے منصوبے پر عمل کریں ۔ کانفرنس کے بعد جنرل یعقوب نے جنرل ہیڈ کوارٹر میں جنرل حمید سے ملاقات کی جنہوں نے حالات سے نمٹنے کے لئے اضافی بریگیڈ کی پیش کش کی ، جب بریگیڈ کے دو پلاٹون ڈھاکہ پہنچے تو مجیب پریشان ہو گیا ۔ جنرل حمید نے تیسری بٹالین بھی بھجوا دی ، انہی دنوں عوامی لیگ نے چھ نکات پر اپنے موقف میں تبدیلی پر جنرل یحییٰ خاں سے مشرقی پاکستان کا دورہ کرنے کی درخواست کی مگر اسے مسترد کر دیا گیا۔ اس طرح حالات پر قابو پانے کا اہم موقع ضائع کر دیا گیا۔ وائس ایڈمرل احسن نے زور دیا کہ صدر مجوزہ اقدام سے گریز کریںاس مشورہ کی پاداش میں انہیں گورنری سے سبکدوش کر دیا گیا ۔ 27فروری کو مجیب کو اجلاس کی نئی تاریخ کے ساتھ اجلاس ملتوی کرنے کی اطلاع دی گئی ۔ 
یکم مارچ کو قومی اسمبلی کا اجلاس ملتوی کر دیا گیا مگر نئی تاریخ کا اعلان نہیں کیاگیا، جی ڈبلیو چوہدری کے مطابق”اعلان کا مسودہ بھٹو اور جنرل پیرزادہ نے تیار کیا تھا اس ضمن میں یحییٰ خاں کی حیثیت ایک بے بس دستخط کنندہ کے سوا کچھ نہیں تھی“۔ صرف بھٹو اور قیوم خاں نے اسمبلی کے اجلاس کے التواءکا خیر مقدم کیا جبکہ عوامی لیگ نے اسے عوامی فیصلے کے خلاف سازش قرار دیا ۔التواءکے ساتھ ہی بنگالی ” ہم آزاد بنگال چاہتے ہیں “ کے نعرے لگاتے ہوئے گلیوںمیں نکل آئے مجیب نے متوازی حکومت قائم کر لی ۔ 3 مارچ کو صوبہ گیر ہڑتال نے مشرقی پاکستان کو مفلوج کر دیا حالات ابتر ہونے پر جنرل یعقوب علی نے 4 مارچ کو استعفیٰ دے دیا ۔ 1978ءمیں یحییٰ خاں نے بھٹو حکومت کی جانب سے عائد کردہ زباں بندی کے خاتمے پر تسلیم کیا تھا کہ یہ اجلاس انہوں نے بھٹو کے کہنے پر ملتوی کیا تھا ۔ 7 مارچ کو جنرل ٹکا خاں نے کمانڈر مشرقی چھاﺅنی، مارشل لاءایڈمنسٹریٹر اور گورنر مشرقی پاکستان کے فرائض سنبھالے چیف جسٹس ڈھاکہ ہائی کورٹ نے ان سے حلف لینے سے انکار کر دیا ۔ 6 مارچ کو یحییٰ خاں نے اعلان کیا کہ اجلاس 25 مارچ کو ہو گا مگر اس سے امن عامہ کا مسئلہ حل نہ ہو سکا۔ مجیب الرحمن نے چار شرائط پر شرکت کا اعلان کیا مگر معاملات طے نہ ہو سکے ۔ مشرقی پاکستان میں سول وار شروع ہو گئی، قتل و بربریت انتہاﺅں کو چھونے لگی مسلسل سیاسی محرومی نا سور بن کر بغاوت کی صورت پھوٹ پڑی۔ جنرل ٹکا نے آتے ہی ایک غلط قدم یہ اٹھایا کہ تمام غیر ملکی اخبار نویسوں ، رپورٹروں اور ٹی وی کے عملے کو ملک سے نکال دیا کئی کو مارا پیٹا ، وہ سب بھارت چلے گئے اس طرح ہم نے ابلاغیات کے غیر ملکی اداروں کی ہمدردی بھی کھو دی اور حالات کی تصویر کشی ہمارے مقاصد کے برعکس ہونے لگی ۔ 
15 مارچ کو جنرل یحییٰ خاں مسلح پنجابی دستے کی معیت میں ڈھاکہ پہنچے ۔جی ڈبلیو چوہدری کے مطابق پاکستان کی سا لمیت کے لئے یہ آخری کوشش ایسے جاں بلب مریض کو آکسیجن دینے کا عمل تھا جسے ڈاکٹر لا علاج قرار دے چکے ہوں ”آئین ٹالبوٹ کے لفظوں میں یحییٰ اور مجیب کے درمیان اعتماد کی سطح اتنی گر چکی تھی کہ ان کے درمیان اس موقع پر پہلی ملاقات بیڈ روم کے باتھ روم میں ہوئی کیونکہ عوامی لیگ کاراہنما ایوان صدر کے ڈرائنگ روم کو ”Bugged“ (جہاں خفیہ آلات لگے ہوں)سمجھتے تھے اور وہاں مذاکرات کے لئے تیار نہ تھا “۔ اس ملاقات میں مجیب کے مطالبات کے حوالے سے کچھ پیش رفت ہوئی ۔18 مارچ کو عدالتی کمیشن کا اعلان کیا گیا، 21مارچ کو بھٹو ساتھیوں کے ہمراہ ڈھاکہ پہنچے تو مجیب نے برہمی کا اظہار کیا ۔ ایوان صدر میں ملاقاتوں میں مسلسل پیش رفت ہو رہی تھی لیکن باہر ماحول خراب ہوتا چلا گیا ۔ چنانچہ 23 مارچ کو قرار داد لاہور کی 31سالگرہ کو وہاں ’یوم مزاحمت‘ کے طور پر منایا گیا ۔ سٹوڈنٹ ملیشیا نے بنگلہ دیش کے پرچم کے سائے تلے پریڈ کی مجیب الرحمن نے سلامی لی ۔دھان منڈی میں انکی رہائش گاہ کے آہنی گیٹ پر بنگلہ دیش کا جھنڈا کندہ کیا گیا ۔برطانیہ کے ڈپٹی ہائی کمیشن اور روسی قونصلیٹ نے بھی یہی جھنڈا لہرایا ۔کرنل عثمانی کو انقلابی فوج کا کمانڈر بنایا گیا جبکہ میجر جنرل (ر) مجید کی نگرانی میں سابق فوجی بھرتی کئے جانے لگے ۔ 23 مارچ کی شام کی چائے کے وقت آرمی کمان نے یحییٰ خاں کو مشورہ دیا کہ ملٹری ایکشن کا وقت آگیا ہے ۔ 
25 اور 26 مارچ کی درمیانی شب جونہی جنرل یحییٰ خاں نے ڈھاکہ سے پرواز کی ، آپریشن سرچ لائٹ کے کوڈ نام سے کریک ڈاﺅن شروع ہو گیا، جنرل نیازی کے مطابق جنرل ٹکا نے سارے وسائل اس کاروائی میں جھونک دیئے جیسے وہ اپنے ہی گم کردہ راہ افراد سے نمٹنے کی بجائے کسی حملہ آور فوج کا مقابلہ کر رہا ہو ، یہ ملٹری ایکشن کھلی جارحیت کا ایک مظاہرہ تھا ۔ یہ بخار ا اور بغداد میں چنگیز خاں اور ہلاکو خاں یا جلیانوالہ باغ میں برطانوی جنرل ڈائر کے برپا کردہ قتل عام سے زیادہ بے درد تھا “۔ ابھی تک بنگالی فوجی دستوں نے بغاوت نہیں کی تھی ۔ڈھاکہ یونیورسٹی کے اقبال اور جگن ناتھ ہوسٹلوں پر فوج نے دھاوا بول دیا ۔سینکٹروں طلباءمارے گئے ۔فوج نے اپنی آتشیں قوت کا بھرپور استعمال پولیس ہیڈ کوارٹرز اور ایسٹ پاکستان رائفلز ہیڈ کوارٹر پر بھی کیا ۔ قتل عام نے ایسٹ بنگال رجمنٹ کو مشتعل کر دیا اور میجر ضیاءالرحمن کی قیادت میں بغاوت ہو گئی ۔جنرل ٹکا کو فرض سونپا گیا تھا کہ مسلح بنگالی یونٹوں کو تنہا کر یں اور بنگالی راہنماﺅں کو حفاظت میں لے لیں ۔ مگر ٹکا نے شہریوں کے قتل عام اور ایک زمین سوز حکمت عملی (scorched earth policy) پر عملدرآمد شروع کر دیا ۔ فوج کو حکم دیا کہ مجھے زمین کی ضرورت ہے ،افراد کی نہیں ۔ اس پر عمل کرنے کے بعد میجر جنرل فرمان نے اپنی ڈائری میں لکھا کہ مشرقی پاکستان کی سبز زمین کو سرخ کر دیا گیا مگر ناعاقبت اندیشوں کی پالیسی سے بنگالی آبادی کی حق خود داری کی خواہش معدوم ہونے کی بجائے مزید طاقتور ہو گئی ۔ ڈاکٹر صفدر کے بقول بعد کے واقعات نے ثابت کیا کہ مشرقی پاکستان میں فوجی اقدام نے دراصل متحدہ پاکستان کے خاتمے کا اعلان کیا ۔ بنگالی پاکستانی فوج کو قابض فوج کہنے لگے ۔ ملٹری ایکشن بذات خود کوئی مقصد نہیں ہوتا بلکہ کسی مقصد کے حصول کا ذریعہ ہوتا ہے ۔ لازم تھا کہ ملٹری ایکشن کو امن عامہ کی بحالی تک محدود رکھا جاتا ۔ پروفیسر غلام اعظم نے الزام لگایا کہ ٹکا خاں نے خالص فوجی انداز میں فیصلے کئے جس کے نتیجے میں عناد میں اضافہ ہوا ۔ فوجی اقدام سے مشرقی پاکستان میں معنی خیز سکوت ہوا مگر سول انتظامیہ کی تشکیل نو نا ممکن ہو گئی۔ حسن ظہیر ان پندرہ مغربی پاکستانی افسران میں سے تھے جو بعد میں ڈھاکہ گئے ۔ان کے اپنے الفاظ میں وہ 17 مئی کو ڈھاکہ ایئرپورٹ پر اس طرح اترے جیسے کسی غیر ملک سے آئے ہوں۔ “ سات ملین بنگالی بھارت فرار ہو گئے ۔اس بحران کو بین الاقوامی بنانے کے لئے تری پورہ کی پہاڑی ریاست میں نو لاکھ افراد جمع ہو گئے ۔ 17 اپریل کو کلکتہ میں بنگلہ دیش کی جلا وطن حکومت قائم کر دی گئی ۔ریڈیو آزاد بنگلہ کی نشریات ”خود مختارعوامی جمہوریہ بنگلہ دیش“ کے لئے کلور گھاٹ سے جاری ہو گئیں ۔عوامی لیگ کی بیشتر قیادت بھارت میں نئے پارٹی ہیڈ کوارٹر مجیب نگر پہنچ گئی ۔ پاکستان کو متحد رکھنے کی جرنیلی سیاست اور فوجی اقدامات ناکام رہے تویحییٰ خان نے عوامی لیگ کے اعتدال پسند اور انتہا پسند عناصر کے درمیان تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کی اور 1970ءکے انتخابات میں کامیاب ہونے والے 78افراد کو نا اہل قرار دے دیا اور مشرقی پاکستان کی قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر دوبارہ انتخابات کا اعلان کیا تو دائیں بازو کے وہ عناصر جو 70ءکے انتخابات میں بری طرح ہارے ، اب سیاسی مال غنیمت سے حصہ بٹورنے کے لئے جنرل یحییٰ خان کی بی ٹیم بننے لگے ۔ کئی حلقوں میں امیدوار مقابلے پر نہ آئے تو بڑی تعداد بلا مقابلہ کامیاب قرار دے دی گئی ۔ یہ سب کچھ ان دنوں میں ہوا جب جنگ کے سائے پھیلنے لگے تھے ۔ مکتی باہنی کی گوریلا کاروائیاںبھی جاری تھیں ۔ میجر جنرل خشونت سنگھ لکھتے ہیں کہ باغیوں کا مقابلہ کرتے ہوئے پاکستانی فوج بڑے دباﺅ میں آگئی ۔بیالیس ہزار با ضابطہ سپاہیوں کے ساتھ اسے پورے مشرقی پاکستان میں پھیلی ہوئی بغاوت سے نمٹنا تھا ۔ جانی نقصان بہت زیادہ ہوا 237 جونیئر افسران، 136 جونیئر کمیشنڈ افسران اور 3,559 دوسرے عہدیدار“۔ ایسی صورتحال میں پیشہ ور فوجی ماہرین کا خیال ہے کہ مئی جون میں وقت تھا کہ پاکستانی فوج جنگ کو باغیوں کے خلاف کاروائی کے لئے بھارتی سر زمین پر لے جاتی ۔میجر جنرل خشونت سنگھ رقمطراز ہیں کہ مئی 1971ءکے تقریباً خاتمے پر گوریلوںکے تعاقب اور بھارت میں ان کے اڈوں کو کچلنے کے لئے یحییٰ کے پاس مشرق میں بین الاقوامی سرحدیں پار کرنے کا پورا جواز موجود تھا اور اس کے پاس موقع تھا کہ وہ مغرب میں بھارت پر حملہ کرکے تصادم کو ایک بھرپور جنگ میں بدل دے، وہ بھارت کے لئے سب سے برے دن تھے ۔اس کی محفوظ فوجیں ملک کے اندرونی علاقوں میں پڑی ہوئی تھیں۔ اس کے پاس جنگی ساز و سامان اور سپاہیوں کی بے انتہا کمی تھی اور عوام کا ذہن فوری طور پر جنگ کے لئے تیار نہ تھا اگر یحییٰ نے اس موقع پر حملہ کر دیا ہوتا تو وہ موسم باراں شروع ہونے سے پہلے مغربی اور مشرقی دونوں محاذوں پر بڑے مفید نتائج حاصل کر سکتا تھا“۔ بہت صحیح لگتا ہے کہ ہم اچانک حملہ کر کے بھارت کو حیرت زدہ کر سکتے تھے۔ حیر ت جنگ کی کامیابی کی چابیوں میں سے ایک ہے ، اس وقت تک بھارت اور سوویت یونین کا معاہدہ بھی نہیں ہوا تھا ۔ ویسے بھی ہم مشرقی پاکستان میں غیر اعلانیہ جنگی صورتحال سے دوچار تھے ہماری فوج مسلسل آٹھ ماہ سے لڑ رہی تھی ۔اگست 1971ءمیں مغربی پاکستان سے سینئر فوجی ڈاکٹروں کی ایک ٹیم گئی اس نے فوجی حوالے سے دورہ مکمل کر کے آخر میں رپورٹ دی کہ ہمارے فوجی جنگی خستگی کی حالت کو پہنچ چکے ہیں اور اب مزید لڑائی کے لئے موزوں نہیں رہے انہیں واپس بلا کر چھٹی پر بھیج دیا جائے ۔ مگر ہوس اقتدار کے مارے پاکستانی جنرلوں کی توجہ فوجی تربیت، پالیسی اور سازو و سامان کی بجائے کرسی کے تحفظ کی خاطر اعلیٰ فوجی عہدوں پر ترقیوں اور فوج کے لئے مادی آسائشوں کی فراہمی پر مرکوز تھی ۔ اگست میں بھارت اور سوویت یونین کے درمیان دفاعی معاہدے کے جواب میں یحییٰ نے مجیب الرحمن کے خلاف خصوصی فوجی عدالت میں مقدمہ چلانے کا اعلان کیا ۔ ہنری کسنجر نے اس مقدمہ کو ایک مایوس آدمی کی طرف سے وحشیانہ اقدام قرار دیا تھا ۔ Sission & Rose کے مطابق ”اس اقدام نے یحییٰ خان کے ان فیصلوں کی کیٹلاگ مکمل کر دی جس نے پاکستان کی فوجی حکومت کو دنیا بھر سے الگ تھلک کر دیا تھا ۔ مقدمہ کی کاروائی ابھی مکمل نہ ہو سکی کہ پاک بھارت جنگ کا اعلان ہو گیا “۔ ایک طرف سیاست و اقتدار کے شوقین جرنیلوںنے بحران کے فیصلہ کن مہینوں میں کسی عسکری پیشہ واریت کا مظاہرہ نہ کیا تو دوسری جانب بھارت کے دفاعی تھنک ٹینک مستقبل کی پیش بندی کرنے لگے ۔مئی 1971ءمیں بھارتی انسٹی ٹیوٹ آف ڈیفنس سٹڈیز کے ڈائریکٹر سبرامینم نے یہ نظریہ پیش کیا کہ لاکھوں مہاجرین کو غیر معینہ مدت تک پالنے کی بجائے اقتصادی نقطہ نظر سے بہتر ہو گا کہ بنگلہ دیش کا مسئلہ جنگ سے حل کر دیا جائے اور پھر غیر اعلانیہ جنگ میں بھارت اپنے جوانوں کے جانی نقصان پر پریشان تھا ۔ جیسا کہ مرار جی ڈیسائی نے انکشاف کیا تھا کہ مسز گاندھی نے ہزار ہا بھارتی فوجیوں کو بغیر وردی کے مکتی باہنی کے نام سے بھیجا ۔ اپریل اور دسمبر 1971ءکے درمیان اس مہم میں پانچ ہزار بھارتی سپاہی مارے گئے اسی لئے چیف آف سٹاف گاندھی کے پاس گئے اور کہا یہ نہیں چلے گا ۔ اس بات کی اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ اس طرح ہلاک ہوں آپ انہیں یا تو ان کی بیرکوں میں واپس کر دیں یا صحیح طور پر مقابلہ کریں ۔ اس پس منظر میں بھارتی افواج کی براہ راست مداخلت شروع ہو گئی ۔ یحییٰ حکومت کی ناقص خارجہ پالیسی کی وجہ سے پاکستان تنہا رہ گیا تھادوسری طرف بھارت نے 9اگست 1971ءکو سوویت یونین کے ساتھ دوستی اور تعاون کے معاہدے پر دستخط کر دیئے ۔ روس نے چین کی سرحد پر اپنی فوجوں میں اضافہ کر دیا پھر بھارت کی طرف سے ٹینکوں، توپ خانے اور گاہے بگاہے فضائی طاقت کا استعمال اسکی فوجی مہم کو نئے مرحلے میں لا رہا تھا۔ جبکہ پاکستان کی جوابی کاروائی ابہام کا شکار تھی ، جنرل یحییٰ خان اور وزیر اعظم اندرا گاندھی کے طرز عمل میں زمین آسمان کا فرق تھا ۔ یحییٰ خان مارچ کے کریک ڈاﺅن کا اندازہ لگائے بغیر خانہ جنگی کی طرف چل پڑے تھے ۔ جبکہ اندرا گاندھی دانشمندی کے ساتھ ایک ایسا نادر موقع حاصل کرنے کےلئے تیار بیٹھی تھی جو بھارت کے فوجی مبصر سبرامنیم کے مطابق” پاکستان توڑنے کیلئے تھا “۔ 

اس المیے کا ایک اور دلچسپ پہلو یہ ہے کہ بھارت اور سوویت یونین کے درمیان دفاعی معاہدے کے سات روز بعد 16 اگست کو بھارتی کمانڈر انچیف جنرل مانک شا نے مشرقی پاکستان پر حملہ کرنے کے آپریشنل آرڈرز پر دستخط کر دیئے اور یہ پلان ایسٹرن کمان کے بھارتی کمانڈر کو روانہ کر دیا۔ بھارت کو معلوم تھا کہ مشرقی پاکستان پر حملہ کا جواب مغربی پاکستان سے دیا جائے گا ۔اس لئے جنرل مانک شا نے دو روز بعد18 اگست کو ویسٹرن کمان کے لئے بھی آپریشنل آرڈرز پر دستخط کئے اور سوویت یونین بھارت معاہدے اور جنرل مانک شا کے دونوں آپریشنل آرڈرز کی نقول 22 اگست کو راولپنڈی میں جی ایچ کیو کے متعلقہ حکام کی میزوں پر موجود تھیں پنجاب کے سابق گورنر اور آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) غلام جیلانی خاں نے بتایا تھا کہ چھ ستمبر کو انہوں نے خود یہ نقول جنرل آغا محمد یحییٰ خان قزلباش کو پیش کی تھیں ۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس وقت جی ایچ کیو کے اعلیٰ منصوبہ ساز وں نے اس پر غور و فکر کرنے کے بعد فیصلہ کیا کہ بھارت کا حملہ روکنے کے لئے ضروری ہے کہ پاکستان بھارت پر پہلے حملہ کرے اور اس کے لئے 16 اکتوبر کی تاریخ مقرر کی گئی اس دفاعی حملے کا پورا خاکہ تیار کر لیا گیا ۔اس منصوبہ کی تیاری کرنے والوں کو سو فیصد یقین تھا کہ بھارت کی فوجوں کے حرکت میں آنے تک پاکستان کی فوجیں بھارتی پنجاب اور ہریانہ سے آگے نکل چکی ہوں گی۔ بھارت کے آرمرڈ ڈویژن اور ریزرو فورس کے جھانسی سے روانہ ہونے سے پہلے ہی پاکستانی افواج کے nerve center کے قریب ہوں گی ۔ اس معاملے کا المناک پہلو یہ ہے کہ جی ایچ کیو کے Brain cellنے اس پلان پر نہ صرف عمل نہیں کیا بلکہ بھارتی حملے کی تفاصیل پورے 80 دن قبل موصول ہونے کے باوجو د کوئی دفاعی منصوبہ بندی نہیں کی ۔ لمحہ فکریہ ہے کہ ایسا کیوں ہوا؟ جنرل نیازی کے بقول ”بھارتی حملے کی اطلاع کے باوجود فوجی اقدام کے آٹھ مہینوں کے دوران نہ تو صدر ،نہ کمانڈر انچیف ،نہ کسی پرنسپل سٹاف آفیسر یعنی ایڈجوائنٹ جنرل، کوارٹر ماسٹر جنرل، یا ماسٹر جنرل آرڈی نینس نے ایک نے بھی ہمارے ہاں آنے کی تکلیف گوارا نہ کی ۔ جب پاکستان کی سا لمیت کی جنگ لڑی جا رہی تھی اس مرحلے پر بھی سی او ایس جنرل جمید اور سی جی ایس جنرل گل حسن کی آمد تو کجا ان لوگوں نے ٹیلی فون کرنا بھی گوارا نہ کیا ۔“ مشرقی کمانڈر کو خفیہ اطلاعات کے بارے میں بتایا تک نہ گیا ؟ کیا مشرقی پاکستان ” جی ایچ کیو “ کی ذمہ داری نہ تھا ؟ 
اگست کے آخر سے نومبر تک مشرقی پاکستان کے ہر حلقے میں بھارت نے بٹالین اور بریگیڈ کی سطح کے متعدد حملے کئے ۔نو مبر کا وسط حملے کے لئے انتہائی ساز گار تھا ، بارش کا موسم ختم ہو چکا تھا ۔مون سون گزرنے کے بعد زمینی فوجی نقل و حرکت کے لئے ہموار ہو چکی تھی ۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ نومبر کے آخر میں حملہ کرنے سے چینی حملے کے ممکنہ خطرے کا بندوبست بھی ہو گیا ۔ کیونکہ اس وقت تک سلسلہ کوہ کے در برف سے ڈھک چکے تھے۔ میجر جنرل فضیل مقیم کے مطابق بھارتی افواج نے 21,20 نومبر کی درمیانی شب جب چاندرات تھی اور صبح عید کا دن تھامشرقی پاکستان پر ہر طرف سے حملہ کر دیا ۔ میجر جنرل لچھمن سنگھ کے مطابق ”بھارت نے حملہ کرنے کے 22 نومبر”یوم مقررہ“کے طور پر کیا تھا لیکن انہوں نے عید کی وجہ سے ایک روز پہلے حملہ کر دیا ۔ کیونکہ یہ امید تھی کہ پاکستان فوجی عید منا رہے ہوں گے “۔ حملے کے فوری بعد مشرقی پاکستان کے چیف آف سٹاف نے جی ایچ کیو میںوائس چیف آف جنرل اسٹاف میجر جنرل قریشی کو اطلاع دی ۔ جنرل نیازی نے چیف آف جنرل اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل گل حسن سے بات کرنے کی کوشش کی لیکن وہ بھارتی اندازوں کے عین مطابق ” عید منانے لاہور گئے ہوئے تھے۔ اس نازک موقع پر صدر مملکت جنرل یحییٰ خان اور چیف آف آرمی سٹاف جنرل عبدالحمید بھی جی ایچ کیو میں نہیں تھے بلکہ وہ دونوں عید کے روز بظاہر فوجیوں سے ملنے سیالکوٹ گئے ہوئے تھے حقیقتاً وہ تیتر کا شکار کھیل رہے تھے عموماً عید کے روز کوئی بھی کمانڈر انچیف مسلمان فوجیوں سے ملنے نہیں جایا کرتا ۔ یہ بھی غور طلب ہے کہ بھارتی حملے کی خفیہ اطلاعات کے باوجود فوج کی اعلیٰ کمان بیک وقت جی ایچ کیو سے غائب کیوں تھی .... ؟ میجر جنرل فضل مقیم کے بقول جب صدر یحییٰ اور سی او ایس جنرل عبدالحمید دوپہر کے بعد واپس آئے تو تمام افسران ایئر فیلڈ پر ان کے منتظر تھے۔ جہاں سے انہیں ایم آئی آپریشن روم لایا گیا،وہاں بریفنگ کا اہتمام تھا ۔اس حساس لمحے پر بھی وفادار سی او ایس جنرل حمید نے صدر کو سستانے اور میٹنگ م ¶خر کرنے کا مشورہ دیا ،تاہم مختصر میٹنگ ہوئی ۔بریفنگ کے بعد صدر نے کہا کہ انہیں صورتحال پر غور کرنے کے لئے چند گھنٹے درکار ہیں اور کہا کہ شام ساڑھے چھ بجے ایوان صدر میں کانفرنس ہو گی اس میں سیکرٹری دفاع غیاث الدین جوسی او ایس کے دفاعی مشیر بھی تھے ،دفتر خارجہ کے ممتاز علوی اور سی جی ایس جنرل گل حسن کو اندر بلا لیا گیا ۔جبکہ ڈی جی ، آئی ایس آئی ، وائس چیف آف جنرل اسٹاف ، ڈی ایم او اور ڈی ایم آئی کو باہر انتظار کرنے کے لئے کہہ دیا گیا ۔اس کانفرنس میںحملے کی بات ہوئی تو فضل مقیم کے مطابق ایک عینی شاہد کا کہنا ہے " The President looked completely nonchalant, casual and almost unconcerned. At this short and non serious meeting, the President remarked, what can I do for East Pakistan ? I can only pray". ۔
جب یحییٰ خان نے یہ کہا کہ میں مشرقی پاکستان کے لئے دعا کے سوا کیا کر سکتا ہوں ؟ تو گویا اس نے خود کو مشرقی پاکستان سے علیحدہ کر لیا حالانکہ Breaking of Pakistan کے صفحہ 24 پر درج ہے کہ یحییٰ خان نے تسلیم کیا کہ پاکستان کے تمام فوجی کمانڈروں کی پختہ رائے تھی کہ پاکستان کا دفاع مغرب سے ہو گا ، اس طے شدہ نظریے کے مطابق ہماری ریزرو فوج کو فوراً مغربی محاذ پر جوابی حملہ کرنا چاہئے تھاجو نہیں کیا گیا ۔ کیا یہ 1947 سے 1971ءتک جی ایچ کیو کے پالیسی سازوں اور متحدہ پاکستان کے دفاع کے لئے بھاری بھر کم دفاعی بجٹ صرف کرنے کا مذاق نہیں اڑایا جا رہا تھا ؟ بھارت نے مربوط طریقے سے تیزی سے حملے کی منصوبہ بندی کی تھی ۔نیم فوجی دستوں سمیت اسکی حملہ آور فوج کی تعداد پانچ لاکھ تھی ۔اس کے علاوہ اسے اپنی پانچ لاکھ کی وہ فوج بھی دستیاب تھی جو چین کی سرحد پر تھی ۔ جنگی تاریخ میں شاید ہی کسی ایک لیفٹیننٹ جنرل نے اتنی بڑی فوج کی کمان کی ہو ۔ بھارت دو ہفتوں میں مقاصد حاصل کرنا چاہتا تھا ، جنرل اروڑا نے کہا تھا کہ وہ بارہ دن میں مشرقی پاکستان کو فتح کر لے گا ۔ میجر جنرل فضل مقیم کا خیال ہے کہ مغربی پاکستان میں ایک محدود کامیابی بھی مشرقی چھاﺅنی کو جنگ کی پروا کئے بغیرجنگ جاری رکھنے کے لئے پر امید بنا سکتی تھی لیکن ایسا نہیں ہوا “۔ نہ صرف یہ کہ مغرب سے حملہ نہیں کیا گیا بلکہ معاملے کو اقوام متحدہ میں بھی نہیں لے جایا گیا ۔ ایسا لگتا ہے کہ مشرقی پاکستان میں موجود مختصر سی فوج کو قربانی کا بکرا بنایا جا رہا تھا۔ سلامتی کونسل میں معاملہ اس لئے نہیں بھجوایا گیا کہ کوئی سیاسی تصفیہ نہ ہو جائے ، مغرب سے حملہ نہ کرکے بھارت کو پورے تیرہ دن دیئے گئے تاکہ جنرل اروڑہ بارہ دنوں میں کامیابی کا خواب پورا کر لے ۔ فوج میں نظم و ضبط کا فقدان اس المیے کو منطقی انجام کی طرف لے گیا جب قوم کی ناموس داﺅ پر لگی ہوئی تھی اس وقت بھی یہ جرنیل اپنی اپنی جھوٹی اناءکے خول میں قید رہے۔ جنرل نیازی کا کہنا ہے کہ ڈائریکٹر آف ملٹری آپریشنز بریگیڈیئر ریاض نے جنگ کی پوری مدت میں ایک بار بھی مجھ سے یا میرے اسٹاف آفیسرز سے بات نہیں کی ۔ جنرل کمال متین تو یہاں تک لکھتے ہیں کہ جب یہ جنگ لڑی جا رہی تھی ان دنوں چیف آف اسٹاف جنرل حمید اور انکے چیف آف جنرل اسٹاف جنرل گل حسن کی آپس میں بول چال ہی بند تھی اور نہ گل حسن کے تعلقات جی ایچ کیو کے دوسرے پرنسپل اسٹاف افسروں کے ساتھ خوشگوار تھے ۔ خود جنرل گل حسن اپنی یاداشتوں کے صفحہ299 پر رقمطراز ہیں کہ ” میں نہیں سمجھتا کہ جی ایچ کیو کبھی اتنا غیر موثر رہا جتنا وہ 1971 میں بھارت کے خلاف جنگ شروع ہونے سے چند مہینوں پہلے تھا ۔ فوج کے اعصابی مرکز میں احکام کی غیر موجودگی اور اتفاق و اتحاد کے فقدان نے ہم پر بڑے بے رحم تھپیڑے لگائے “ ۔ ان حالات میں فیصلے بر وقت کیسے ہو سکتے تھے ۔جب مغرب سے حملے کا وقت تھا تب کیا نہیں گیا مگر بعد میں 30 نومبر کو فیصلہ کر لیا کہ 3 دسمبر کو حملہ کریں گے اس وقت تک بہت تاخیر ہو چکی تھی ۔ اس جنگ میں بالخصوص فضائیہ اپنے سربراہ کے حکم کی تعمیل میں خاموش رہی ۔ بے وقت حملے کا نتیجہ یہ ہواکہ بھارت نے ہمیں جارح قرار دے دیا ۔ بھارت نے بارہ دنوں میں ہماری ہزاروں مربع میل زمین پر قبضہ کر لیا ۔ دوسری طرف مشرقی کمان کو یہ بتایا گیا کہ مغرب میں بھی بھارت نے ہم پر حملہ کر دیا ہے ۔ 12 دسمبر کو نا گفتہ بہ صورتحال میں جنرل گل حسن نے پشتو میں نیازی کو پیغام دیا کہ 13 دسمبر دوپہر امریکہ اور چین کی مدد آرہی ہے اگلے دن فون آیا کہ دوستوں کی مدد 48 گھنٹے کیلئے موخر ہو گئی ہے ۔ مشرقی کمان کو سی او ایس نے اشارہ دیا کہ یو این سیکورٹی کونسل اسی سیشن میں سیز فائر کروا رہی ہے ۔ اسی دوران جنرل کمال متین کے مطابق پاکستان نے 5 دسمبر کی روسی تجویز منظور نہ کرکے اپنی فوجوں کے مشرقی پاکستان سے با عزت انخلاءکا آخری موقع بھی گنوا دیا۔ سوویت تجویز میں ایک سیاسی تصفیے کے لئے کہا گیا تھا اسے چین نے ویٹو کر دیا۔اس وقت سوویت یونین واحد ملک تھا جو بھارت کو روک سکتا تھا ۔ پھر مسز گاندھی نے بھی 13 دسمبر کو اوتھانٹ جنرل سیکرٹری اقوام متحدہ کے نام خط میں فوجیں واپس بلانے کا عندہ دیا تھا اسے بھی صدر یحییٰ نے تسلیم نہیں کیا ، سفارتی محاذ پر ہم کسی کی بات مان نہیں رہے تھے اور کوئی ہماری بات سن نہیں رہاتھا۔ فوجی حوالے سے 1971ءکی جنگ میں فوج کے بڑے حصے نے حصہ ہی نہیں لیا ۔ حالات اس قدر دگرگوں تھے کہ راجھستان کی سرحد سے جو ڈیزرٹ آپریشن سی او ایس جنرل حمید نے کور کمانڈر سے مل کر شروع کروایا تھا وہ جنرل گل حسن نے اپنی ذمہ داری پر رکوا دیا اور تمام فوج کو بھارتی علاقے میں واپس آنے کا حکم دیا۔ چیف آف سٹاف اور چیف آف جنرل سٹاف جن کے دفاتر چند گز کے فاصلے پر تھے انہوں نے باہمی مشورہ اور بات چیت تک نہ کی ۔رفیق ڈوگر کے بقول ہاکی میچ میں بھی کسی کھلاڑی کی جگہ بدلنے کے لئے مینجر ، کوچ اور کپتان سے مشورہ لیتا ہے ۔ہماری سرحدوں کے دفاع کے ذمہ داروں نے وطن عزیز کے دفاع کو ہاکی میچ جتنی اہمیت بھی کیوں نہ دی ؟ 
اس دوران جنگ بندی کے جو بھی مواقع آئے اعلیٰ کمان نے گنوا دیئے ۔جنرل یحییٰ اور انکا ساتھی ٹولہ حالات کو ایم ایم احمد پلان کے مطابق چلا رہا تھا ۔ آخر کار بھٹو کواعلیٰ وفد کے ہمراہ نیو یارک بھجوا دیا گیاوہ چند گھنٹوں کا سفر 3 دن میں کر کے اپنی دلچسپی ظاہر کر رہے تھے۔ وہ کابل اور تہران سے ہوتے ہوئے فرینکفرٹ گئے ۔راستے میں لندن میں مشرقی پاکستان کے چیف سیکرٹری مظفر حسین کی بیوی سے ملاقات کی اور انہیں کہا کہ اب وہ بہت دنوں تک اپنے شوہر سے نہیں مل پائے گی جسکا واضح مطلب ہتھیار ڈالنا اور جنگی قیدی بن جانا تھا ۔ وہ وہاں سے نیو یارک گئے روسی قرار داد کا وقت آیا تو انہیں نزلہ ہو گیا جبکہ یحییٰ خان کے بقول انہوں نے اتنی پی لی کہ ہوش نہ رہا ۔ بہر حال اگلے روز انہوں نے بھرپور جذباتی تقریر کے بعد پولینڈ کی قرارداد کا مسودہ یہ کہہ کر پھاڑ ڈالا کہ آپ اپنی سلامتی کونسل اپنے پاس رکھیں ۔بھٹو کی اقوام متحدہ میں اداکاری میدان جنگ پراثر انداز نہ ہو سکی۔ 14 دسمبر کو بھارتی فضائیہ نے گورنر ہاﺅس پر بمباری کی ۔ گورنر اور اسکے ساتھی مستعفی ہو کر ریڈ کراس کے زیر سایہ انٹر کانٹی نینٹل ہوٹل میں چلے گئے اسی روز چیف آف آرمی سٹاف کے سیکرٹری کا سگنل جاتا ہے کہ جنگ روکنے کی کوشش کی جائے ۔ 14 دسمبر کو جنرل نیازی کے بقول انہوں نے تصدیق کے لئے ایوان صدر فون کیا تو جنرل حمید نے کہا کہ صدر یحییٰ غسل خانے میں ہیں وہ غسل خانے میں نہیں تھے زیادہ پی کر ہوش میں نہیں تھے ۔تب ائر مارشل رحیم سے بھی بات ہوئی تو وہ بھی نشے میں معلوم ہوئے انہوں نے صدر کے حکم کی اطاعت کا کہا “ اور پھر امریکن قونصل جنرل کے ذریعے جنرل مانک شا کا مشروط پیغام آیا جسے جی ایچ کیو نے منظور کر لیا۔ حالات خراب دیکھ کر یحییٰ خان کے ان دنوں نامزد وزیر اعظم نور الامین نے ہفت روزہ زندگی 24 تا 30 جنوری 1972ءکو انٹر ویو میں بتایا کہ وہ پندرہ دسمبر کو غیر معمولی رنج و غم کی حالت میں صدر سے ملاقات کے لئے گئے تو دیکھ کر حیران رہ گئے کہ یحییٰ خان جنرل حمید کے ساتھ شراب نوشی میں مصروف مزے لے رہے تھے جنگ کے بارے استفسارپر یحییٰ نے ان سے کہا کہ ہم مجبور ہیں مگر جنگ جاری رہے گی ۔ “ اگلے روز فوج نے مشرقی پاکستان میں ہتھیار ڈال دیئے اور کہا گیا کہ 93 ہزار فوجیوں نے ہتھیار ڈال دیئے۔ یہ کیسے کمانڈر اور حکمران تھے جنہیں اپنی فوج کے صحیح اعداد و شمار تک معلوم نہ تھے ۔حقیقتاً مشرقی محاذ پر فوجیوں کی تعداد صرف 34 ہزار تھی رینجرز ، اسکاﺅٹس ملیشیاءاور سول پولیس ملا کر گیارہ ہزار بنتی تھی اس طرح کل 45 ہزار تعداد تھی ۔اگر بحری ، فضائی دستوں کے لوگوں اور ان تمام لوگوں کو بھی شامل کر لیا جائے جنہیں وردی اور مفت راشن کا استحقاق تھا تب بھی یہ تعداد 55 ہزار بنتی ہے بقیہ سول لوگ، عورتیں اور بچے تھے مگر حمودالرحمن کمیشن سمیت ہم آج تک یہی کہتے ہیں کہ ہمارے چھیانوے ہزار فوجیوں نے ہتھیار ڈال دیئے ،یہ کیسا مذاق کیا جارہا تھا۔ پھر کوئی یہ تسلیم نہیں کرتا کہ ہتھیارپھینکنے کے احکامات کس نے دیے اور کیوں دیے، ہماری تاریخ میں آج تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ ہتھیار ڈالنے کا حکم کس نے دیا ، نہ یحییٰ نے تسلیم کیا نہ کوئی اور جنرل ماننے کے لئے تیار ہے ۔ ملک میں مارشل لاءتھا ، ملک کا صدر چیف مارشل لاءایڈمنسٹریٹر اور فوجوں کا سپریم کمانڈر تھا صوبوں میں جنرل حکمران تھے جنہوں نے ساری عمر میدان جنگ میں گزاری مگر جب جنگ شروع ہوئی تو کمانڈر انچیف کا حکم فضائیہ کا سربراہ نہیں مانتا، سی او ایس کا آپریشن سی جی ایس منسوخ کر دیتا ہے ، تحفظ وطن کے لئے سٹرائیک آپریشن تیرہ روز تک شروع ہی نہیں ہو پاتا، ملک دو ٹکڑے ہو جاتا ہے ،بچے کھچے پاکستان کے بڑے حصے پر بھی بھارت قبضہ کر لیتا ہے اور جنرل صاحبان کو یہ تک معلوم نہیں کہ وہ آرڈر کون دیتا تھا ، وہ آرڈروں کی تعمیل بھی کرتے رہے اور ملک ٹوٹنے کا تماشہ بھی دیکھتے رہے ۔ انہوں نے مشرقی پاکستان کا دفاع مغربی پاکستان سے کرنے کی حکمت عملی بنائی اور مغربی پاکستان بچانے کے لئے مشرقی پاکستان کو الگ کر دیا ، کیا تاریخ ایسی پیشہ وارانہ مہارت، دفاع وطن ، حب الوطنی اور مدہوش کمان کی کوئی اور مثال بھی پیش کر سکتی ہے ۔ دسمبر 1971 میں بے حس جرنیلوں کی پیشہ وارانہ قابلیت کا پول کھل گیا ۔حب الوطنی سے زیادہ ہوس اقتدار ان کے اعصاب پر سوار رہی ، اتنا بڑا سانحہ ہو گیا مگر افسوس یہ کہ اس المیے کے ذمہ داران سقوط مشرقی پاکستان کے بعد بھی ترقی پر ترقی پاتے رہے ۔ فوج سے ریٹائر ہوئے تو پرانی ہوس اقتدار ان میں سے کئی جرنیلوں کو عملی سیاست میں لے آئی ۔ سانحہ مشرقی پاکستان کی تہہ در تہہ وجوہات میں سے اہم ترین وجہ پاکستان کے فوجی جرنیلوں کی پیشہ وارانہ فرائض سے غفلت برت کر سیاسی چسکے پورے کرنے کی ہوس تھی ۔ جب تک پاکستان میں فوج کا سیاسی کردار محدود یا ختم نہیں ہو گا وفاق پاکستان خطرات کی زد میں رہے گا ۔ 

جمعہ، 12 دسمبر، 2014

جوش کو ہوش کے تابع رکھنا ضروری ہے



ایک عربی شاعر نے کہا تھا کہ 
و اذا الحبیب اتی بذنب واحد
جاء ت محاسنہ بالف شفیع

یعنی اور جب محبوب سے کوئی برائی ظاہر ہوتی ہے تو اس کی خوبیاں ہزار سفارشی بن کر سامنے آجاتی ہیں۔ عام طور پر بھی یہی دیکھا گیا ہے کہ آدمی کسی سے محبت کرتا ہو تو اسکے عیبوں پر بھی اس کے محاسن کا غلبہ ہی نظر آتا ہے اور خامیاں غائب ہو جاتی ہیں۔ اس کے برعکس اگر کسی سے نفرت ہو جائے تو اس کی خوبیاں بھی اس کی برائیاں ہی نظر آنے لگتی ہیں۔ درحقیقت جو اپنی محبت اور نفرت سے اوپر اٹھ کر کسی شخص کے بارے میں رائے قائم نہیں کر سکتا، وہ سچ سے محروم رہتا ہے۔ بس اتنی سی بات امریکہ میں مقیم اپنے ایک انجینئر بھتیجے کو بتانی ہے۔ ایاز طفیل شیخ امریکہ سے پڑھا ہے اس لیے معلوم نہیں وہ ہم ٹاٹ سکولوں سے پڑھنے کی سعادت حاصل کرنے والوں کو سوچنے والا سمجھتا بھی ہے یا نہیں ……وہ قادری صاحب کے انقلاب اور خان صاحب کی تبدیلی کا بڑا وکیل ہے۔ اسے حق حاصل ہے کہ وہ اپنی رائے رکھے۔ مجھے ایاز شیخ کی رائے اور لندن سے محمد الیاس سمیت بیرون ممالک سے بہت سے دوستوں کی آراء ملتی رہتی ہیں۔ دیار غیر میں محنت اور ہمت سے مقام بنانے والے ایسے پاکستانی بڑے محب وطن ہیں، وہ پاکستان سے محبت کے تقاضوں کے مطابق اسے امریکہ، برطانیہ، یورپ کی طرح دیکھنے کے آرزو مند ہیں جو لائق ستائش جذبہ ہے مگر ان کی جذباتیت اپنی جگہ اور پاکستان کے زمینی حقائق اپنی جگہ ہیں۔اوورسیز پاکستانی نوجوانوں کی بڑی تعداد پوری نیک نیتی اور جوش سے پاکستان میں تبدیلی کی تحریک کی حامی ہے اور تبدیلی کے لیے عمران خاں کی حمایتی بھی۔ 
عمران خاں نے پاکستان میں جوش اور صرف جوش کی سیاست کے ایسے باب کو رقم کیا ہے جس کے بارے میں بہتر فیصلہ تاریخ ہی کر سکتی ہے۔ تاہم چند خوبیوں کے ساتھ ساتھ اس تبدیلی کی تحریک کے پس منظر اور پیش منظر میں پنہاں خامیوں کا ادراک بھی پاکستانیت کا تقاضا ہے۔ کئی لوگ عمران خان کے پرکشش نعروں کے اسیر نہیں اور وہ حقیقت پسندانہ تجزیے کی بنا پر خانصاحب سے اختلاف کی جسارت بھی کرتے ہیں کیونکہ جب کوئی صداقت لازمی ہو تو بھی تجزیے کے ذریعے اس کی منطق تلاش کرنی چاہیے۔ جب بھی کوئی لکھنے اور سوچنے والا ایسے کرتا ہے تو تبدیلی کے علمبردار خم ٹھونک کر اسے تبدیلی دشمن ثابت کرنے پر زور لگانا شروع کر دیتے ہیں، عمران خاں کے حامیوں کا جذباتی پہلو اتنا متفقہ ہے کہ ان تمام کی منطق، انداز، لہجہ اور آہنگ سب کچھ مشترک نظر آتا ہے۔ ان کا رد عمل اتنا یکسانیت کا حامل ہوتا ہے کہ یوں محسوس ہوتا ہے سب ایک ہی طرح سوچتے ہیں۔ اس صورتحال میں والٹر لپ مین کا یہ قول ہماری راہنمائی کرتا ہے کہ ”جہاں سارے لوگ ایک ڈھنگ سے سوچتے ہیں وہاں کوئی بھی شخص زیادہ سوچنے والا نہیں ہو گا“۔ خان صاحب اور ان کے سارے عقیدتمند اگر یکساں نہ سوچتے تو یہ پارٹی بڑے مثبت کردار کی حامل پارٹی بن جاتی ہے۔ خان صاحب کو بار بار اپنے ہی اعلانات اور بیانات سے پیچھے نہ ہٹنا پڑتا۔ وہ عقیدتمندوں کی ہاں کو رائے سمجھنے کی بجائے حقیقی معنوں میں مشاورت سے کام لیتے۔ خان صاحب رائے کے غیر جمہوری تصور کے حامل خود پسند فرد ہیں۔ وہ جو رائے بناتے ہیں اور جس طرح بناتے ہیں اس میں تفکر، تدبر اور عقل کی کمی واضح دکھائی دیتی ہے۔ وہ معاملات کے حوالے سے یا تو بہت جلدی کر دیتے ہیں یا ہمیشہ تاخیر، عمران خاں کی رائے انکی شخصیت کی آئینہ دار کم اور ان کی شخصیت ان کی رائے کی عکاس زیادہ بنتی جا رہی ہے۔ وہ بے صبرے ہو رہے ہیں اس بے صبری میں ان کی رائے ان کے جذبات کے زیر اثر آگئی ہے ان کی ذہانت کے زیر سایہ نہیں رہی۔ ہربرٹ اسپنسر نے کہا تھا کہ:
"Opinion is ultimately determined by the feelings and not by intellect."
یعنی آدمی جو رائے بناتا ہے وہ بالآخر احساسات کے زیر اثر بنتی ہے نہ کہ عقل کے تحت۔ انسان کی یہی کمزوری اس کو حقیقت پسندی تک پہنچنے سے روکتی ہے۔ عمران خان اور ان کے پرستار منطقی یا حقیقت پسندانہ ہم آہنگی کی بجائے جذبات اور احساسات کی بنیاد پر جڑے دکھائی دیتے ہیں۔ ذاتی اور نجی تعلقات کے حوالے سے یہ تعلق کمزور نہیں، تاہم قومی امور میں قیادت اور راہبری کے تقاضوں پر پورا نہیں اترتا۔ برادرم شیخ ایاز کی جذباتی وابستگی اپنی جگہ مگرحُب الوطنی کے تقاضے کچھ اور بھی ہیں۔ وہ جب بھی خان صاحب کی فکر و عمل کا جائزہ لیتے ہیں تو محبت اور عقیدت سے اور جب خانصاحب کے مخالفین کا ذکر کرتے ہیں تو ان کے الفاظ سے صرف اور صرف نفرت مترشع ہوتی ہے۔ یہ انداز نظر روشن مستقبل کا ضامن نہیں ہو سکتا، حالات کا تقاضا ہے کہ ہم صرف جوش کی زرہ سے باہر نکل کر ہوش مندی سے تجزیہ کر کے آگے بڑھیں۔ ولیم میک فی نے بتا رکھا ہے کہ The world belongs to the enthusiast who keep cool"۔ یعنی یہ دنیا اس پر جوش شخص کے لیے ہے جو اپنے آپ کو ٹھنڈا رکھے۔ خاں صاحب اور پرستاروں کو جوش کی طاقت کو ہوش کے تابع کر کے پائیدار تبدیلی کے قابل ایجنڈے کے بارے میں سوچنا ہو گا۔ جوش، جوش اور صرف جوش آخر میں تھکا دینے کے علاوہ کوئی ثمر نہیں دیتا۔ پاکستانیت کی اصل ضرورت یہ نہیں کہ اقتدار ایک ہاتھ سے نکال کر دوسرے ہاتھ میں تھما دیا جائے بلکہ گہرے غور و حوض سے قابل عمل مثبت اور ثمر آور پالیسیاں تشکیل دی جائیں۔ اصلاحات کے ذریعے بغیر قومی نقصان کے آگے اور بہتری کی طرف بڑھا جائے۔ خان صاحب نے سیاست میں جتنے سال صرف کیے ہیں اور جو انداز اپنایا ہے وہ دیکھ کر میرا ایک دوست عاطف رزاق بٹ اکثر تبصرہ کرتا ہے کہ تجربہ ہماری عقل کو بڑھاتا ہے مگر ہماری غلطیوں کو کم نہیں کرتا۔ 
خان صاحب کے پر جوش پلان اے، بی ناکام ہوئے، پلان سی ناکام ہونے کے قریب ہے اور پلان ڈی ان کی مایوسیوں کی کوکھ سے جنم لے گا۔ جسے کسی صورت ملکی مفاد میں نہیں سمجھا جاسکتا۔ خان صاحب کی آواز تا حال اونچی او رنعرے بلند ہیں تاہم تھکن اور مایوسی ان کے چہرے اور انداز سے عیاں ہو رہی ہے۔ وہ ہار ماننے والے نہیں حالانکہ مدبر آدمی ہار کر جیت جانے کی طاقت رکھتا ہے۔ تحریک انصاف کو ایک بار پھر وزیر اعظم کے استعفے سے پیچھے ہٹنا پڑا ہے۔ انتخابات میں دھاندلی بلاشبہ ادھورا سچ ہے۔ اس ملک کی تاریخ میں انتخابی عمل اتنا شفاف ہے ہی نہیں۔ ریاست اور اس کے ادارے سماج کے عکاس ہوتے ہیں۔ سماجی سطح پر ہم منافقت، جھوٹ اور ذاتی مفاد کے اسیر ہو کر رہ گئے ہیں۔ اس سماج کو بدلنے کے لیے بہت کچھ کرنا باقی ہے، سماج منصفانہ مزاج کا حامل ہو جائے تو مقتدر لوگ فرشتے ہی ہو جاتے ہیں۔ اب خان صاحب کو کسی ایمپائر کا انتظار کرنے، کسی دھرنا اتحادی پر یقین کرنے کی بجائے وطن عزیز میں دور رس نتائج کی حامل اصلاحات کے لیے سمجھداری سے مذاکرات کرنے چاہئیں۔ مارو، جلادو اور جل جاؤ والے مایوس لوگوں کے پاس گنوانے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ خاں صاحب بھی اپنے پلانوں کی پہ در پہ ناکامیوں پر مایوس نظر آنے لگے ہیں اور مایوس آدمی کا المیہ یہ ہے کہ انہیں ہر موقع کے اندر مشکل نظر آتی ہے۔ 
فرانسس بیکن کا قول ہے کہ "Before you attempt consider what you can perform"
جب بھی تم کوئی اقدام کرو، اس سے پہلے سوچ لو، تم کیا کچھ کر سکتے ہو۔ بلاشبہ معرفت کہیں اور نہیں بلکہ صرف اور صرف شعور میں جلوہ گر ہوتی ہے۔ عمران خاں کا حالیہ تجربہ یہ واضح کرتا ہے کہ آدمی کو قابل عمل دائرہ میں عمل کرنا چاہیے۔ ناقابل عمل دائرہ میں کام کرنا ناکامی کے خندق میں چھلانگ لگانا ہے۔ جو لوگ ناقابل عمل دائرہ میں کام کریں اور پھر جب ناکام ہو ں تو حالات کی شکایت لے کر بیٹھ جائیں وہ درحقیقت دوسروں کی شکایت نہیں کرتے بلکہ خود اپنی نادانی کا اعلان کر رہے ہوتے ہیں۔ مایوسی میں مرنے والے کی ساری زندگی بیکار جاتی ہے۔ خانصاحب کے چاہنے والوں کو اس موقع پر اندھے جذبات کی تقلید کی بجائے اپنے کھرے تجزیے اور روح عصر سے ہم آہنگ محبت کا اظہار کرنا چاہیے۔ ہیجان خیزی کے اس دور میں ہمیں اس احساس کو اجاگر کرنا ہے کہ ایسی فضا جہاں تصورات اور افکار کو پنپنے اور پھلنے پھولنے کے آزادانہ مواقع حاصل ہوں۔ یہی احسا س حقیقی تبدیلی اور اس کے استحکام کا سبب بنے گا۔  

جمعہ، 5 دسمبر، 2014

مرد ناداں پہ کلام نرم و نازک بے اثر


حضرت عمرؓ کا ایک قول ہے، وہ اکثر اپنے اس قول کو دہرایا کرتے تھے ”اخوف ما اخاف علیکم اعجاب المرء برأیہ“ یعنی سب سے زیادہ میں جس چیز سے تمہارے بارے میں ڈرتا ہوں، وہ ہے آدمی کا اپنی رائے کو پسند کرنا۔ اپنی رائے ہی کو رائے سمجھنے کا مزاج ہلاکت کی بد ترین مثال ہے۔ مولانا وحید الدین خاں لکھتے ہیں کہ ”جس شخص کے اندر یہ مزاج پیدا ہو جائے وہ بس اپنے خیالات میں گم رہتا ہے، اس کو اپنے باہر کی صداقت کا علم نہیں ہوتا۔ وہ سمجھتا ہے کہ میں حق کی پیروی کر رہا ہوں، حالانکہ وہ صرف اپنی خواہشات کی پیروی کر رہا ہوتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ میں معاملہ کی سچائی تک پہنچ گیا ہوں حالانکہ وہ صرف اپنی ادھوری رائے میں بھٹک رہا ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اپنے ذہنی خول سے باہر نکلنا ہی نجات اور کامیابی کا آغاز ہے جو لوگ اپنے ذہنی خول سے نہ نکلیں ان کا ذہنی خول ان کے لیے قبرستان بن کر رہ جاتا ہے“ حضرت عمرؓ کا یہ قول اور اس پر مولانا وحید الدین کی تفہیم مجھے میرے گذشتہ کالم ”ہوا نے بھید سبھی موسموں کے کھول دیے“ پر لندن سے ایک دوست محمد االیاس کے مسلسل تبصروں کی بنا پر یادآئے۔ 
ہماری سماجی و سیاسی زندگی میں حالیہ تبدیلی کی جوشیلی تحریک کے پرستار حقیقت میں حضرت عمر ؓ کے اس قول کے عکاس ہیں۔ انہوں نے سرخ عینک لگائی ہے اور یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ دنیا صرف سرخ ہے۔ حالانکہ اس دنیا کے کئی اور رنگ ہیں جن کا ادراک انہیں صرف اس وجہ سے ہی نہیں ہو پا رہا کہ وہ آنکھوں کی بجائے عینک سے دیکھنے لگے ہیں، انہیں خانصاحب کی ذات میں مسیحا نظر آتا ہے اور جب کوئی کسی راہنما کی عقیدت میں گرفتار ہو کر اس کا بُت بنا لے تو صرف پوجا ہی کر سکتا ہے۔ 
عمران خاں کی موجودہ سیاسی تحریک ان کی مرضی کے نتائج نہیں دے رہی۔ ان کے جذبات محض کے عکاس سیاسی پلان باری باری ناکام ہو رہے ہیں اور جس کی وجہ سے وہ خود اقرار کرتے ہیں کہ ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔ مگر ان کے ”عقیدت مند“دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ ناکامی نہیں بلکہ دھیرے دھیرے آگے بڑھنے کا عمل ہے۔ محمد الیاس یہ بھی سوال کرتے ہیں کہ کیا آپ جواب دے سکتے ہیں کہ خانصاحب کو پلان اے، بی، سی کیوں دینا پڑا……؟ پھر خود ہی اس کا جواب بھی دے دیتے ہیں کہ شریف برادران کی خود سری اور اکڑ کی وجہ سے ایسا کرنا پڑا ہے۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ خان صاحب عمل کے سیاستدان نہیں رد عمل کے کھلاڑی ہیں۔ سیاست کے اچھے موسم میں بھی خانصاحب اقتدار کے ایوانوں تک نہ پہنچ سکے۔ عمران خاں کی ناکامیوں میں دوسروں کی اکڑ سے زیادہ ان کی اپنی ہٹ دھرمی اور نفرت کی سیاست عمل دخل ہے۔ ڈیل کارنیگی نے لکھا تھا کہ جب ہم اپنے دشمنوں سے نفرت کرتے ہیں تو ہم ان کو اپنے اوپر غلبہ دے دیتے ہیں۔ غلبہ اپنی نیند پر، اپنی اشتہاء اور اپنی خوشی پر،وہ خوشی  سے ناچیں اگر وہ جان لیں کہ وہ ہم کو کتنا زیادہ پریشان کر رہے ہیں۔ ہماری نفرت ان کو کچھ نقصان نہیں پہنچاتی البتہ وہ ہمارے دنوں اور راتوں کو جہنمی عذاب میں تبدیل کر رہی ہے۔ دوسروں سے نفرت کرنا خود اپنے آپ سے نفرت کرنا ہوتا ہے۔ خانصاحب کی شریف برادران سے عداوت نے ان کے اعصاب پر بوجھ ڈال رکھا ہے۔ وہ کچھ مثبت اور منطقی سوچنے کی بجائے اسی نفرت کا شکار ہو کر رہ گئے ہیں۔ ان کے اعلانات اور میلا نات سنجیدہ سوچ بچار کے بغیر نظر آتے ہیں۔ ابھی 30 نومبر کو انہوں نے ملک کو بند کرنے کا منصوبہ بنایا تو اس پر بھی تدبر و تفکر نہیں کیا۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں اگلے ہی دن تاریخوں کو تبدیل کرنا پڑا۔ اس سے قبل وہ ملکی معیشت کو ہنڈی کے ذریعے مضبوط کرنے کی حب الوطنی دکھا چکے ہیں۔ دراصل خاں صاحب سیاست میں فاسٹ باؤلر بننے کے لیے کوشاں رہے ہیں۔ چند سال قبل انہیں ”چوہدری برادران“ سے نفرت ہوئی تو انہیں لگا ملک کے سب سے کرپٹ راہنما یہی ہیں پھر ان کے اعصاب پر الطاف حسین چھا گئے، کچھ عرصہ پہلے وہ پرویز مشرف کی محبت میں گرفتار ہوئے اور ایک نشست کی بنیاد پر وزارت عظمیٰ نہ دینے کے مشرف کے غیر جمہوری فیصلے سے نالاں ہو گئے۔ ان کے سیاسی تدبر نے خوب جان لیا کہ شیخ رشید جیسے شخص کو تو وہ چوکیدار بھی نہ رکھیں مگر پھر انہی سے سیاسی محبت کی پینگیں بڑھا لیں۔ شیخ رشید اور خانصاحب میں شریف برادران سے نفرت کے علاوہ شاید ہی کوئی اور قدر مشترک ہو۔ ڈیڑھ، دو سال قبل جاوید ہاشمی جمہوریت کا سب سے بڑا استعارہ تھا مگر جب اس نے سازشی سیاست سے اختلاف کیا تو باغی سے داغی ہو گیا۔ عمران خاں کی سیاست نفرت کے سہارے چل رہی ہے۔ خان صاحب فاسٹ باؤلر رہے ہیں اور خوب جانتے ہیں کہ جب بھی فاسٹ باؤلر بے صبرا ہو تا ہے اس کی لائن لینتھ خراب ہو جاتی ہے اور مخالف ٹیم باؤلر کے اندھے زور کے باوجود آسانی سے اور زیادہ رنز بناتی ہے۔ عمران خاں کی بے صبری نے قوم کے تین چار ماہ ضائع کر دیے ہیں۔ وہ 14 اگست کے بعد آپے سے باہر ہو گئے اور مذاکرات کے ذریعے جمہوریت کے ارتقاء کے لیے اصلاحات کی کامیابی سمیٹنے کی بجائے وزیر اعظم کے استعفیٰ کی رٹ لگا بیٹھے۔ قادری صاحب کے دھرنے کے خاتمے کے بعد انہیں اپنی قدر و قیمت کا احساس ہوا تو پھر مذاکرات کی صدا لگانے لگے۔ کیا خان صاحب اپنے نفسیاتی مسائل کے ذریعے قوم اور ملک کے چار ماہ کے نقصان کو پورا کریں گے۔ اگر انہوں نے اچانک استعفیٰ کے مطالبے سے پیچھے ہٹنا ہی تھا تو جب جرگہ اور سارا ملک کہہ رہا تھا تب کیوں نہیں سوچا۔ اب عقل آہی گئی ہے تو کیا وہ تاریخ کے باب میں اپنے خلاف ایف آئی آر درج کروائیں گے۔ دھرنا کے بعد جو صورتحال بنتی گئی اس میں حقیقت پسندی سے کام لیا ہی نہیں گیا۔ ایلیٹ نے بڑے پتے کی بات کہہ رکھی ہے کہ اگر تم کسی گول چھید میں جا پڑو  تو تمہیں اپنے آپ کو گیند بنا لینا چاہیے۔ یہ زندگی میں کامیابی کے لیے نہایت قیمتی گر ہے۔ مگر خانصاحب کے چاہنے والے تو انہیں غلطی سے پاک فرشتہ سمجھتے ہیں۔ انکے آمرانہ مزاج کا ہی شاخسانہ ہے کہ جب بھی وہ ایسا کوئی غیر منطقی فیصلہ یا اعلان کرتے ہیں تو کوئی انہیں مشورہ دینے کی بھی جسارت نہیں کرتا۔ 
سب سمجھتے ہیں بات مطلب کی  
کس نے سمجھا بات کا مطلب  
حقیقت کبھی اتنی سادہ نہیں ہوتی جتنا ایک مخلص آدمی اسے سمجھ لیتا ہے۔ غلطی کرنا ایک وقتی فعل ہے مگر غلطی تسلیم نہ کرنا ابدی جرم ہے۔ ایسا کرنے والے اپنے ہاتھوں خود ہلاک ہو جاتے ہیں۔ غلطی نہ ماننا سب سے بڑی غلطی ہے اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جو شخص دوسرے کو مجرم ظاہر کرنا چاہتا ہے وہ خود اپنی نظر میں مجرم بن جاتا ہے۔ دانشمند وہ ہے جو ایک چیز اور دوسری چیز میں فرق کو جان سکے۔ حقیقت کی دنیا میں وہی کامیاب ہوتا ہے جو حقیقی مسئلے میں بر وقت فرق کر سکے اور حقیقی مسئلے پر پوری توجہ دیتے ہو غیر حقیقی مسئلے کو نظر انداز کر دے۔ خاں صاحب کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ شریف برادران کے نکل جانے سے نظام بہتر نہیں ہو گا۔ اس ملک میں شریف برادران کی کمی نہیں تاہم نظام میں بہتری آنے سے ایسے لوگ خود بخود باہر ہوتے جائیں گے۔ حضرت علیؓ کا ایک قول کہیں پرھا تھا کہ ”العاقل ھوالذی یصنع الشئی مواضعہ“ یعنی عقل مند وہ ہے جو چیز کو اس کی جگہ پر رکھ سکے۔ یہ دانشمند آدمی کی بڑی جامع تعریف ہے۔ معلومات یا الزامات ہر شخص کے پاس ہوتے ہیں مگر باتوں کو ان کی اصل حیثیت میں رکھ کر ان کی حقیقت کو سمجھنا بہت مشکل کام ہے اسی لیے فارسی کا ایک مقولہ کہ ”یک من علم راہ دہ من عقل می باید“ ایک من علم کے لیے دس من عقل چاہیے“۔ جذباتیت، ہٹ دھرمی، ضد اور نفرت کی سیاست کرنے والوں کو محبت اور دانش کی سیاست سے کیا غرض۔ ویسے بھی کہا جاتا ہے کہ 
مرد ناداں پہ کلام نرم و نازک بے اثر 

جمعرات، 4 دسمبر، 2014

روحانی تجربے کا بیان واقعتا مشکل ہے



باطنیت کا تجربہ ایک منفیانہ خصوصیت کا حامل ہوتا ہے جسے یہ تجربہ حاصل ہو جائے وہ اس کا اعتراف کرتا ہے کہ میں بیان نہیں کر سکتا کہ میں نے کیا محسوس کیا ہے …… سو اگر اس کیفیت کو بیان نہیں کیا جاسکتا تو وہ دوسرے تک منتقل بھی نہیں کیا جاسکتا۔ لہذٰا باطنی تجربہ اگر کوئی صداقت رکھتا ہے تو یہ صداقت صرف صاحب ِتجربہ کے کام آسکتی ہے کسی اور کے لیے اسے صداقت قرار نہیں دیا جاسکتا…… اسی لیے دوسرے لوگوں پر اس کی کوئی پابندی نہیں کہ وہ اس صداقت کو تسلیم کر لیں۔ یہ خالص جذباتی احساس کا نام ہے اور جذبات یکسر ذاتی اور گونگے ہوتے ہیں۔ جو کچھ بھی ایک شخص محسوس کرتا ہے وہ اس کا احساس کسی دوسرے میں پیدا نہیں کر سکتا تاوقتیکہ وہ دوسرا شخص خود ہی محسوس نہ کرے“ روحانیت کے ممتاز مغربی دانشور ولیم جیمز کے مذکورہ الفاظ مجھے گجرات کے دارالحکمت المیر ٹرسٹ لائبریری و مرکز تحقیق و تالیف میں علم دوست اور کتاب دوست شخصیت عارف علی میر ایڈووکیٹ کی سربراہی میں خطہئ یونان گجرات کے نامور اور حقیقت پسند عوام دوست دانشور، کالم نگار اور کامریڈ راہنما افتخار بھٹہ کی حج بیت اللہ کی سعادت کے بعد واپسی پر ان کے اعزاز میں منعقدہ ظہرانے میں شدت سے یاد آئے کہ جب حاضرین کے پر زور اصرار کے باوجود افتخار بھٹہ حج کے ذہنی و  باطنی تجربے پر روشنی ڈالنے میں پس و پیش سے کام لیتے رہے۔ افتخار بھٹہ نصف صدی سے زیادہ عرصے سے لیفٹ کے دانشور کی شناخت رکھتے ہیں، کامریڈ اور مارکسسٹ ہیں، ہمیشہ سائنسی فکر کے داعی اور انسانی فضیلت کے علمبردار رہے ہیں، روشن خیال، لبرل اور اقتصادی ترقی کے آرزو مند ہیں۔ کتاب، قلم، دانش اور عقل سے ان کا رشتہ بہت پختہ ہے۔ مارکسسٹوں کا خیال کارل مارکس کی ’داس کیپٹل‘ میں رقم ان الفاظ کا عکاس ہے کہ ”اخلاقیات، مذہب، مابعد الطبیعات اور اسی قسم کے دوسرے تصورات اپنا آزاد وجود کہیں نہیں رکھتے۔ ان کی نہ کوئی تاریخ ہے نہ نشوونما۔ مذہب انسانی ذہن کی پیداوار ہے، انسان مذہب کی پیداوار نہیں“۔ بائیں بازو کے نظریے پر پختہ یقین رکھنے والے افتخار بھٹہ کے حوالے سے چند ہفتے قبل جب یہ خبر آئی کہ وہ حج کی سعادت کے لیے گئے ہیں تو سوچنے بولنے اور لکھنے والے حلقوں میں بڑی چہ مگوئیاں ہوئیں۔ سوال ہونے لگا ہے کہ کوئی شخص پرانی دنیا کو ترک کیے بغیر نئی دنیا کیسے دریافت کر سکتا ہے۔ سب کو جستجو تھی کہ وہ واپس آئیں تو ان کے روحانی تجربے سے آگاہی ضرور حاصل کی جائے۔ 

 میرا یہ ماننا ہے کہ پروردگار نے حج کو ایک رسم نہیں، ایک قلبی واردات کے طور پر فرض قرار دیا ہے۔ مکہ و مدینہ وہ مقام ہیں جہاں جو جاتا ہے اس کو امان مل جاتی ہے۔ حج حقیقت میں ہجرت کا روحانی تجربہ ہے جس کے دوران انسان اپنے رب کیطرف یہ کہتے ہوئے پلٹتا ہے کہ اے رب العالمین! میری نماز، میری قربانی، میری زندگی سب کچھ تیرے لیے ہے۔ یہ تجربہ سب کو نہ سہی کچھ حاجیوں کو ضرور نصیب ہوتا ہے اور پھر ان کی زندگی ایمان، محبت، خیر، صداقت اور امن کی روحانی بنیادوں پر استوار ہو جاتی ہے۔ روحانی طور پر زندہ و بیدار شخص خدا کی تلاش میں ایمان، محبت، خیر، صداقت اور امن کی مسافرت پر نکلتا ہے۔ اس سفر کے مسافر افتخار بھٹہ کی واپسی پر اس روحانی تجربے کے بیان کے لیے عارف میر صاحب نے خصوصی نشست کا اہتمام کیا اور مجھے بھی شرکت کی دعوت دی تو میں بڑے اشتیاق سے شریک ہوا۔ محفل میں روحانیت سے خاص دلچسپی رکھنے والوں کی تعداد زیادہ تھی۔ درویش منش میاں خورشید احمد، پیر محمد آصف، نجم الحسن، ظفر علی سید، صوفی محمد سیف، عاشق حسین عظیمی خاص طور پر مدعو تھے،میزبان عارف علی میر نے بڑی چابکدستی سے محفل کو موضوع گفتگو دیتے ہوئے کہا کہ زندگی کو مستقل طور پر ایک ہی قالب میں محبوس رکھنا نا ممکن ہے، اس لیے مذہب کو بھی سائنس کی طرح بدلتے ہوئے تقاضوں کا لحاظ رکھنا ہو گا، مذہب کے اصول ابدی ہو سکتے ہیں لیکن ان کی تعبیرات تو حالات کے ساتھ بدلنی چاہئیں۔افتخار بھٹہ کا تجربہ اس سلسلے میں ہماری راہنمائی کر سکتا ہے۔ جواب میں خاموش بیٹھے بھٹہ صاحب اورساکت ہوگئے۔ اس پر نوجوان وکیل ندیم اللہ نے مہمان خصوصی کو بولنے پر اکسانے کے لیے اوسپنسکی کی بات دہرائی کہ جو مذہب سائنس کی تکذیب کرے اور جو سائنس مذہب کی تکذیب کرے، وہ دونوں باطل ہوتے ہیں۔ بھٹہ صاحب نے بھی اسی تجربے کے لیے حج پر جانے کا سوچا تھا؟ ہمیشہ بڑے تپاک سے بولنے والے افتخار بھٹہ جواب دینے کی بجائے کسی گہری سوچ میں کھو گئے ان کی آنکھیں ہی بند نہ تھیں ایسے لگا انہوں نے ہونٹ بھی سی لیے ہیں، ایسے میں متحرک خیال ساجد راٹھور نے بھٹہ صاحب کی جذباتی کیفیت کو سمجھتے ہوئے ان کے ساکن جذبات میں تلاطم پیدا کرنے کے لیے اپنے حصے کا کنکر پھینکنے سے گریز نہیں کیا اور کہا بھٹہ صاحب نے بائیں بازو کے زندگی بھر تجربے کے بعد نئی کروٹ لینے کا شعوری اور درست فیصلہ کیا ہے۔ ایک مقام پر کھڑے رہ کر وقت گذارتے رہنا زندگی نہیں۔ قدامت پسندی مذہب کی دنیا میں بھی اسی طرح بری ہے جس طرح انسانی زندگی کے اور شعبوں میں۔ اس سے انسانی انا کی قوت تخلیق تباہ ہو جاتی ہے اور نئے نئے روحانی تجربوں کا راستہ مسدود کر دیتی ہے۔ بھٹہ صاحب متحرک فکر کے شخص ہیں وہ زندگی کو ماضی کی زنجیروں میں جکڑے رکھنے کی بجائے اپنے زمانے کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے والے بیدار ذہن کے مالک ہیں۔ میں نے عرض کیا بھٹہ صاحب کی حالت دیکھ کر کہنا پڑ رہا ہے کہ جب نیکی نفع دینے لگتی ہے تو نفع نیکی پر ہنسنے لگتا ہے۔ میری بات جیسے بھٹہ صاحب کے سینے میں لگی ان کے ساکت جسم میں حرکت پیدا ہوئی اور وہ فوراً گویا ہوئے۔ جو میں نے دیکھا، جو میں نے محسوس کیا، وہ بیان کی طاقت نہیں رکھتا۔ میرا تجربہ باطنی ہے، اس سے میرا اندر روشن ہوا ہے یہ ظاہر کا تجربہ نہیں تھا۔ بس میری پیاس بجھ گئی، قرار آگیا ہے، اطمینان ہوا ہے۔ میرا تجربہ روشنی کی مانند ہے جو نظر آتا ہے بیان نہیں کیا جاسکتا۔میری جدید محبت قدیم ابدی دولت لے کر آئی ہے۔ شیخ صاحب کیا کہوں، وہاں بہت رونق ہے۔ کعبہ میں علم نہیں کیا کشش ہے، بس اس کو دیکھتے رہنے او رمن میں بسا لینے کو دل چاہتا ہے۔ مجھے زندگی میں یہ خواہش نہیں رہی کہ میں بڑا بزرگ، اللہ والا یا صوفی بن جاؤں، مجھے مراتب کی آرزو ہی نہیں۔ میرے خیال میں انسان ہونا بذات خود عظمت کی بات ہے۔ میری بس ایک ہی تمنا رہی کہ میرا رخ مثبت رہے، میں مثبت سوچوں۔ اللہ کی طرف اور اللہ کی مخلوق کی طرف۔ حج کی سعادت سے میری تمنا کو اثبات مل گیا ہے۔ ٹھنڈ پڑ گئی ہے، بولنے کی بجائے چپ رہنے کو جی کرتا ہے۔ میں نے یہی جانا ہے کہ شیطان کے ساز و سامان بہت مہنگے ہیں اور رحمان کے تحفے بے قیمت۔ افتحار بھٹہ بول رہے تھے تو ان کی زبان میں عقیدت و محبت کا ایسا اظہار تھا کہ محفل میں موجود نرم دل پگھلنے لگے۔ بھٹہ صاحب کہنے لگے میں نے خود کو یکجا کر کے دیرینہ خواہش کو تکمیل بخشی اور اپنی رفیقہئ حیات سے پرانا وعدہ نبھایا، وہاں پہنچا تو جلال دیکھ کر کرچی کرچی ہو گیا، میں نے عرض کیا حضور، پھولوں کی پتیاں بکھرتی ہیں، تو پھل ملتا ہے۔ بھٹہ صاحب نے ایک بار پھر سکوت کو توڑا اور کہا میں نے محسوس کیا کہ خدا منتظر ہے کہ اس کا معبد محبت سے تعمیر ہو، لیکن لوگ پتھر لے کر آتے ہیں۔ میری مخلوق خدا سے محبت اس کی خدمت اور انسان کی عظمت کے نظریے کو مزید تقویت ملی ہے۔ میں سنجیدگی سے افتخار بھٹہ کے روحانی تجربے کو سن ہی نہیں رہا تھا محسوس کرنے کی سعی بھی کر رہا تھا۔ مجھے لگا جو انسانی ذات کی قدر و قیمت جانتا ہے اس کے نزدیک سچ یہ ہے کہ انسان، خدا کے غیر متبدل مقاصد کے بروئے کار آنے میں ممدو معاون بن جائے اور موجودات عالم پر قدرت حاصل کر کے اس سے نئی نئی تخلیق، خدا اور بندے کی مشترکہ ذمہ داری قرار دے، اس سے زندگی اپنی انتہائی بلندیوں تک پہنچ جائے گی۔ سچا مذہب اور نظریہ صرف وہی ہے جو خدا اور بندے میں عمل تخلیق و اشتراک سے رفاقت و تعاون کا تعلق پیدا کر دے اور وحدت مقصد کی بنا پر تمام انسان ایک ہی نظام کے پرزے اور ایک ہی کل کے جزو بن جائیں۔ میرا خیال ہے کہ مذہب صرف خیال کرنے یا محسوس کرنے کی چیز نہیں، یہ تو انسانی زندگی سے مشہود کرنے کی چیز ہے۔ افتخار بھٹہ کے لیے حج کا سفر روحانی تجربہ ثابت ہوا، اس تجربہ نے انہیں انسانیت کی کئی جہتوں سے آشنا کیا۔ میرے ساتھی ان کے اس تجربے کے حوالے سے منطقی انداز میں سوال پر سوال کر رہے تھے مگر افتحار بھٹہ ٹھہر ٹھہر کر، نمناک آنکھوں، لرزتے ہونٹوں سے جواب دیتے اور پھر چپ ہو جاتے کہنے لگے بول نہیں سکتا مگر اس تجربے کو لکھ کر کتابی صورت میں سب کے سامنے پیش کروں گا مجھے اس کتاب کا شدت سے انتظار رہے گا تاہم اس نشست میں مجھے یہ بات سمجھ آگئی کہ ٹیگور نے کیوں لکھا تھا کہ ”ستارے نے کہا ”مجھے اپنا دیا جلانے دو، یہ بحث نہ کرو کہ اس سے اندھیرا دور ہو گا کہ نہیں“۔ 

منگل، 2 دسمبر، 2014

ہوا نے بھید سبھی موسموں کے کھول دیے



ہوا نے بھید سبھی موسموں کے کھول دیے
نقاب الٹا تو سب بادشہ فقیر لگے

Dean Ingeنے لکھا تھا کہ ”آزاد لوگ جنگ کے زیادہ متمنی ہوتے ہیں اور جمہوریتیں، مطلق االعنان بادشاہوں سے زیادہ اپنے جذبات کی غلام“ یہ بات آج کل کے ”پاکستان“ پر پوری طرح صادق آتی ہے جہاں حکمرانوں کی روایتی سستی اور ’پی ٹی آئی‘ کی ضرورت سے زیادہ تیز رفتاری نے واہموں، وسوسوں اور ابہامات کا لنڈا بازار سجا دیا ہے۔ وطن عزیز میں جو کچھ ہو رہا ہے، ذاتی اغراض وباطنی خواہشات کے مارے ہوئے راہبروں کی ہوس اقتدار نے عدم استحکام کے جو گل کھلائے ہیں انھیں دیکھ کر اطالیہ کے معمار Cavourکی بات شدت سے یاد آتی ہے کہ ”اگر ہم وہی کچھ اپنی ذات کیلئے کریں جو کچھ ہم نے مملکت کیلئے کیا ہے تو ہم کتنے بڑے شیاطین کہلائیں“۔ اسی ”شیطانی سیاست“ کا نتیجہ ہے کہ ہمارے ہاں بے یقینی کا موسم چھا گیا ہے، راستے بے امان اور لوگ بدگمان ہو چکے ہیں۔ ایسے میں لوگ کس کا اعتبار کریں اور کیوں کریں۔کہا جاتا ہے کہ ایک مکمل جمہوریت بھی اس حد تک جمہوری نہیں ہو سکتی جس حدتک نظریہ جمہوریت اسے جمہوری بناتا ہے۔ ایسے میں ترقی پذیر ملک میں بلاشبہ جمہوریت مثالی نہیں ہے، گذشتہ اڑسٹھ سالوں میں عینیت پسندی کے تناظر میں کچھ نہیں ہوا۔ حکمرانوں کی غلطیوں کا دفاع بھی ممکن نہیں۔ یہاں فرشتوں کا سماج اور فرشتوں کی حکومت کا خواب پورا نہ ہوسکا۔ تنقید برائے تنقید کیلئے یہاں اتنا مواد ہے کہ سیاسی غلطیوں کا انسائیکلوپیڈیا لکھا جا سکتا ہے۔ اس تناظر میں ایک فرد واحد نے ایک گروہ اور ایک پارٹی نے  ”تبدیلی“ کا پر زور نعرہ بلند کیا۔ سادہ لوح عوام کیلئے اس میں بڑی کشش ہے، چنانچہ دھرنے اور یہ جلسہ سیاست شروع ہو گئی۔ اور پھر خانصاحب نے 30نومبر کو فیصلہ کن جنگ کا اعلان کیا، خانصاب کے 30نومبر کے جلسے کی تقریر میں پہلی نمایاں بات تو ان کا اعتراف شکست ہے۔ انہوں نے برملا اعلان کیا کہ ان کا پلان اے، اور پلان بی ناکام ہو گئے ہیں چنانچہ پلان سی کا اعلان کیا گیا اور ساتھ زور دے کر کہا کہ پلان سی کی ناکامی کے بعد پلان ڈی بھی تیار ہے، یعنی پلان سی کا اعلان کرتے ہوئے انھیں اس کی ناکامی کا پورا ادراک ہے۔ ان کی جذباتیت، پہ درپہ شکستوں کا نتیجہ ہے یا شکستیں بے مہار جذباتیت کا ثمرہیں، یہ تو کوئی ماہر نفسیات ہی بتا سکتا ہے۔تاہم یہ بات یاد رکھنے کی ہے یہ پلان انھیں کہیں ڈی گریڈ نہ کر دیں۔
خان صاحب نے مختلف شہروں کو بند کرنے اور پھر پاکستان کی تاریخ کے عبرتناک دن 16دسمبر کو پورا پاکستان بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ویسے عمران خاں کے مشیروں کے قربان جائیے کہ ہمیشہ تاریخوں کے انتخاب میں انہوں نے خاں صاحب کو رسوا کروایا ہے، پہلے پاکستان کی آزادی کے جشن کے رنگ میں بھنگ ڈالنے کی سعی کی اور اب سقوط مشرقی پاکستان کی تاریخ، تاریخیں دینے والوں کی ذہنی و فکری نفسیات کا طائرانہ جائزہ بھی عیاں کرتا ہے کہ وہ تاریخ سے بدلہ لینے کی دیرینہ آرزو کوخان صاحب کے ذریعے پورا کرنے کی سعی کر رہے ہیں، خاکم بدہن 16دسمبر کو پاکستان کو ”بند‘‘ کرنے کی کوشش سعی ناتمام کی تکمیل کے ارمان کی عکاس ہے۔الامان، الحفیظ، خانصاحب سیاست کو کھیل مت بنائیے، کرکٹ فوبیا کا شکار قوم پہلے ہی انٹرٹینمنٹ انڈسٹری کی زلفوں کی اسیر ہے جبکہ سیاست سنجیدہ فکری کی طالب ہے۔ عمرانی طرز سیاست کے بغور جائزہ سے جیمز میڈیسن کی بات یاد آجاتی ہے جو اس نے امریکی انقلاب کے وقت متنبہ کرتے ہوئے کہی تھی کہ وطن میں آزادی پر مسلط کی جانے والی زنجیریں ہمیشہ ان ہتھیاروں سے تیار کی جاتی ہیں جو حقیقی جھوٹ موٹ یا تصوراتی خارجی خطرات کیلئے تیار کی جاتی ہیں، خان صاحب کی فکر اور سیاست تضادات کا مجموعہ بن کر رہ گئی ہے۔ وہ سرمایہ داروں، وڈیروں اور گدی نشینوں کے کندھوں پر کھڑے ہو کر جمہوریت کی اذان دیتے ہیں۔ ان کے ذاتی اخلاق کا گھر شیشے کا ہے جس میں بیٹھ کر وہ دوسروں پر پتھر پھینکتے ہیں۔ سیاست میں ذاتی اور سیاسی اخلاق ہم معنی ہوتے ہیں۔ عمران خاں دوسروں کے ماضی کا تذکرہ اور اپنے مستقبل کی بات کرتے ہیں۔ خانصاحب کو رسل کی یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ سیاسی اخلاق کے بغیر قومیں تباہ ہو جاتی ہیں اور ذاتی اخلاق کے بغیر ان کا وجود بے معنی ہوتا ہے اس لیے ایک اچھی دنیا کیلئے سیاسی اور پرائیویٹ اخلاق دونوں کی ضرورت ہے۔ 
خان صاحب نے ضد اور ہٹ دھرمی کی سیاست کے ذریعے پاکستان میں موجود سیاسی و سماجی نا انصافیوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے نوجوان نسل کو سہانے خواب دکھا کر جذباتی سے ہیجانی بنادیا ہے۔ انتخابی اصلاحات، پائیدار معیشت او سماجی انصاف کی حامل جمہوریت ہر پاکستانی کا خواب ہے۔خان صاحب نے حقیقی اپوزیشن کا کردار ادا کرنے کی بجائے کھلنڈری اپوزیشن کا کردار ادا کر کے سنجیدہ حلقوں کو مایوس کیا ہے۔ میرے جیسے لوگ توقع کر رہے تھے کہ 30نومبر کو خانصاحب ”دھرنا سیاست“ کے ساتھ ساتھ سنجیدگی کا مظاہرہ کریں گے اور جس مغرب کی وہ مثالیں دے دے کر نہیں تھکتے، وہاں کے آداب سیاست کو ملحوظ رکھتے ہوئے میاں نواز شریف کی حکومت کا حقیقی احتساب کریں گے۔ اور جمہوری روایات کو پختگی بخشنے کے لیے ”شیڈو کیبنٹ“ کا اعلان کر دیں گے اور جن وزراء کو طعنے دیتے رہتے ہیں ان کی کارکردگی کا پول کھولنے کے لیے متبادل پالیسیاں دیں گے۔ معاشی اور سماجی تبدیلی کا حقیقی ایجنڈا دیں گے۔ پختہ فکری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملکی ترقی اور استحکام کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کرنے کا اعلان کریں گے۔ کہا جاتا ہے کہ سیاست کا دار و مدار بظاہر متناقص صداقتوں پر ہوتا ہے۔ عمران خاں کا سیاسی فہم ابھی مزیر تدبر و تفکر کا متقاضی ہے۔ عمران خاں عینیت پسند ہیں اور فیصلوں کے وقت اس کے نتائج پر غور کم ہی کرتے ہیں۔ سیاسی و عمرانی مفکر میکس ویبر نے کہہ رکھا ہے کہ سیاست میں صرف دو ہی بڑے گناہ ہیں۔ حقیقت پسندی کا فقدان اور فیصلوں کے نتائج کی ذمہ داری قبول کرنے کا فقدان۔ خان صاحب واہموں کے جنگل میں خواہشوں کے رستے پر رواں دواں ہیں اور بھلا بیٹھے ہیں کہ ارمانوں کے موسم میں بس حسرتوں کا شمار ہی ہوپاتا ہے۔ عمران خاں سیاست کے میدان میں افلاطون کی مثالیت پسندی کے علمبردار ہیں اور ”خان بادشاہ“ کے تصور کے اسیربھی حالانکہ ممتاز مؤرخ والپول نے تاریخ کا یہ سبق رقم کر رکھا ہے کہ ”نیک آدمی کبھی کسی بڑی سلطنت کو بچا نہیں سکتے“۔ 
خان صاحب حقیقت پسندی کا تقاضا ہے کہ کسی خاص حکومت کو جانچنے کے لیے ہمیں یہ دیکھنا پڑتا ہے کہ اس نے یہ وظائف ورثے میں ملنے والے حالات میں کتنے اچھے  طریقے سے سر انجام دیئے ہیں۔ جرمن شاعر ہولدر لین نے بڑے پتے کی بات کہہ رکھی ہے کہ ”جو چیز ریاست کو دوزخ ارضی بناتی ہے وہ یہ ہے کہ انسان اسے جنت بنانے کی کوشش کرتا ہے“ خان صاحب پاکستان کو دنیاوی ریاست بن لینے دیں۔ آپ کی سیاست نے سارے راز افشاں کر دیے ہیں، ہٹ دھرمی، ضد اور صرف اپنی پسند کے سچ کو یونیورسل سچ بنا کر پیش کرنا زمینی حقیقتوں سے نا آشنائی ہے۔ عمران خان کی سیاست نے نظری حوالے سے کچھ ”مثبت اثرات“بھی مرتب کیے ہوں گے مگر ان کی کہانی کنٹینر پر اور،عدالتوں میں اور ہوتی ہے۔ روشن مستقبل کا خواب دکھاتے ہوئے خان صاحب نے جتنے اندھے یو ٹرن لیے ہیں وہ کسی کج فہمی سے کم نہیں ہیں۔ میاں برادران سے انکی ذاتی عداوت دیرینہ اور اپنی جگہ مگر شیخ رشید جیسے مفاد پرست سے وقتی محبت بھی بڑے سوالوں کو جنم دے رہی ہے۔ میاں صاحب کے جن ادوار کو خانصاحب پاکستان کی بد قسمتی قرار دیتے ہیں شیخ رشید اِن ادوار میں کچن کیبنٹ میں تھے اور حکومت اور میاں برادران کے ترجمان بھی۔ آج کل خان صاحب اور شیخ رشید میں یگانگت شکستوں کی کہانی کی وجہ سے ہے۔ شکست خوردہ انسان اور شکست خوردہ ذہنیت کبھی مثبت سوچ نہیں سکتی، اچھا بول نہیں سکتی۔ عمران خاں کی کنٹینر سیاست کے بعد بس اتنا کہنا ہے کہ 
ہوا نے بھید سبھی موسموں کے کھول دیے 
شہادتوں کا ہر اک نقش منحرف نکلا
رح بشر سے جو پردہ ہٹا تو جھولے میں 
وہی چہرہ تھا جو صبح ازل کو دیکھا تھا  

جمعرات، 27 نومبر، 2014

"Fairy Tales: The End of Science and the Resurrection"

سائنس کا خاتمہ یا احیائے نو 


نیو یارک ٹائمز کے سابق سائنس ایڈیٹرWaidemar Kaempffertنے اپنی کتاب "Exploration In Science"کے آخر میں اپنے تجزیے کا نچوڑبیان کرتے ہوئے صفحہ 279پرلکھا ہے کہ”انسان اس کرہئ ارض پر قریب ایک لاکھ سال سے آباد ہے لیکن اس کے اخلاقی شعور کو بیدار ہوئے صرف پانچ ہزار سال کا عرصہ ہوا ہے۔ اگر نوع انسانی کا صحیح مطالعہ صرف انسان سے کیا جا سکتا ہے تو اس باب میں سائنس ہنوز اپنے دورِ جہالت میں ہے۔وہ ایٹم کے متعلق تو بہت کچھ جانتی ہے لیکن انسان کے متعلق جو کائنات کا سب سے زیادہ دلچسپ اور اہم موضوع ہے بہت کم جانتی ہے۔ سائنس کو ابھی ایک نشاۃِ ثانیہ کی ضرورت ہے، اس کی نمود کے لیے شاید ابھی ایک سو سال درکار ہوں۔ جب ایسا ہوا تو پھر سائنس انسان کی صلاحیتوں اورکمزوریوں کی تحقیق کے لیے کم از کم اتنا وقت تو دے گی جتنا وقت یہ دوائیوں اور پلاسٹک کی تحقیق کے لیے صرف کرتی ہے۔ اب تک سائنس نے انسان کو صرف یہ بتایا ہے کہ وہ اپنے ماحول کو کس طرح مسخر کر سکتا ہے۔ اس نے ابھی انسان کو یہ بتانا ہے کہ وہ جو کچھ کرتا ہے، ایسا کیوں کرتا ہے اور اس کے لیے تسخیر خویش کس طرح ممکن ہے۔“1953ء میں لکھی جانے والی مذکورہ کتاب مجھے گذشتہ روز اس وقت یاد آئی جب میں UOG کے سابق ڈائریکٹر سائنسزعلم دوست محقق و ماہر طبیعات ڈاکٹر اعجاز الرحمان درانی سے ملنے گیا تو معمول کے مطابق خوشگوار مسکراہٹ سے استقبال کرنے کے بعد اُنہوں نے حالات حاضرہ پر گفتگو شروع کر دی۔ ڈاکٹر درانی 4 مئی 1949ء کو ضلع گجرات کے ہی معتبر خانوادے میں پیدا ہوئے۔ پنجاب یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی اور نظریاتی فزکس کے ماہر کے طور پر بڑی جامعات میں خدمات انجام دیں۔ وہ مختلف جامعات سے بطور پروفیسر ڈائریکٹر اور وائس چانسلر منسلک رہے۔ آج کل لاہور میں مقیم ہیں۔ سنجیدہ مزاج اور علمی گفتگو کے رمز شناس ڈاکٹر اعجاز درانی آداب حیات سے آگاہ ہیں اور سائنسی موضوعات کے علاوہ سماجی فلاحی اور سیاست کے نشیب و فراز پر سیر حاصل گفتگو میں مہارت رکھتے ہیں۔  باتوں ہی باتوں میں ڈاکٹر درانی کی نئی کتاب"Fairy Tales: The End of Science and the Resurrection"کا تذکرہ ہوا۔ فراخ دل محقق نے اپنی کتاب پیش کی جسے میں نے بصدشکریہ وصول پایا۔ میں سیاسیات و تاریخ کا طالب علم ہوں اسے میری نالائقی کے سوا کیا کہئیے کہ مجھے مادی علوم سے کبھی دلچسپی نہیں رہی۔ مگر فوکو ہاما کی کتاب”تاریخ کا خاتمہ“ پر نظر رکھنے والے طالبعلم کے لیے سائنس بالخصوص فزکس کے محقق کی جانب سے ملنے والی کتاب کا عنوان”من گھڑت کہانیاں!سائنس کا خاتمہ اور احیائے نو“ توجہ کا مرکز بن گیا۔ سائنسی تحقیقی اُصولوں اور فزکس کے کُلیئوں سے سجی یہ کتاب انگلستان کے نامور پبلشرMELROSEنے شائع کی ہے۔412صفحات پر مشتمل یہ پیپر بیک کتاب پانچ حصوں فئیری ٹیلز، فیوژن فزکس، سپیس پلازمہ، رئیلٹی سٹڈیز(ٹیررازم)، ہائپر رئیلٹی سٹڈیز(منی میٹرز اینڈ سائیکو فزکس) پر مشتمل ہے جس میں جامع تعارف اور پُر مغزاختتامیے کے علاوہ 34تحقیقی مضامین شامل ہیں۔ سائنس کے حوالے سے من گھڑت کہانیوں کے ٹائٹل نے ہی چونکا دیا۔ میرے جیسے ”غیر سائنسی“ لوگوں نے تو سُن رکھا ہے کہ سائنس اٹل حقیقتوں کے مجموعے کو کہتے ہیں پھر ڈاکٹر درانی انہیں افسانوی کیوں کہتے ہیں؟ میری اس اُلجھن کو ریڈنگ یونیورسٹی میں فزکس کے پروفیسر ڈاکٹر جمیز آرنلڈ کروتھرکی کتاب"The Great Design"میں موجود اقتباس نے حل کیا کہ ”نظام ِفطرت اپنی گہری بنیادی سادگی میں اس قدر تحیر انگیز ہے کہ دنیائے سائنس میں کسی موضوع پر حرفِ آخر آخری انسان کے لیے ہی چھوڑ دینا پڑتا ہے۔“خیرڈاکٹر درانی کی کتاب سے یہ تو عیاں ہوتا ہے کہ سائنس کی نشاۃ ثانیہ کی جو تحریک مغرب اور ترقی یافتہ دنیا میں شروع ہوئی تھی اس کی بازگشت پاکستان میں بھی سنائی دینے لگی ہے۔ ڈاکٹر درانی پاکستان میں سوشل فزکس کے حوالے سے لکھنے والے خال خال قلمکاروں میں شامل ہیں جنہوں نے تحقیق و گیان کے امتزاج کو موضوع قلم بنایا۔ ان کی تحریر یں عمرانی طبیعات کی عکاس ہیں۔ 
سوشل فزکس کی اصطلاح سب سے پہلے بیلجئیم کے ماہر شماریاتAdolphe Queteletنے1835میں استعمال کی۔ اس کی شماریاتی فکر سے فرانسیسی ماہر عمرانیات Agust Comteنے اختلاف کیا۔ اس کے لیےSociologieکی اصطلاح ایجاد کی۔ آگسٹ کومٹے کے مطابق عمرانی طبیعات کی اصطلاح سے مراد معاشرتی قوانین یا سائنس آف سویلائزیشن ہے۔ ا س نے اپنی کتاب"Positive Philoseply"کے حصہ ششم میں لکھا ہے کہSocial physics would complete the scientific description of the world Galileo, Newton and others had begun.ڈاکٹر درانی کی کتاب عمرانی طبیعات کے اس پرانے سفر کا نیا سنگ میل ہے۔ چونکہ نظریاتی فزکس کے حوالے سے ڈاکٹر درانی ماہرین طبیعات کے طے کردہ طرز ِکُہن پر نہیں اڑتے بلکہ اُنہوں نے طبیعاتی علوم کو معاشرتی شعور کے امتزاج سے روحِ عصر سے مطابقت دی ہے۔ عمرانی طبیعات پر لکھنے والے محققین دنیا بھر میں سراہے جاتے ہیں مگر ہمارے ہاں سائنسی اندازِ فکر سے عاری ”سائنسدان“ اسے بغاوت سمجھتے ہیں۔ کتاب کے اوراق واضح کرتے ہیں کہ مصنف سائنسی علوم میں محض مقلد نہیں سائنس کی روح کے مطابق بدعتی ہیں اسی لیے اُنہوں نے اپنے لیے نئی راہ کا انتخاب کیا ہے۔ کتاب کے تعارف میں ہی ڈاکٹر درانی نے اپنے مخصوص اسلوب میں روایتی محققین اور تحقیق کے قدیم مکتبہ فکر کو آڑے ہاتھوں لیا ہے اور نہ صرف اس حوالے سے سوالات اُٹھائے ہیں بلکہ تحقیق کے نئے زاویوں پرروشنی بھی ڈالی ہے۔ 
ڈاکٹر اعجاز الرحمان درانی کی نئی کتاب کے ٹائٹل کو رپرنظر ڈالیں تو اس پر رکھی صلیب اکیسویں صدی کے انسان کے المیوں کی داستان نظر آتی ہے یہ کورJeremy Kayنے ڈیزائن کیا ہے جو ڈاکٹر درانی کے فکر و عمل کا استعارہ ہے۔ محققانہ دماغ کے مالک ڈاکٹر اعجاز الرحمان درانی فکر مند قلب کے حامل انسان ہیں اُن کا مزاج فلسفیانہ و دانشورانہ ہے۔ وہ اطلاقی طبیعات کی طرف مائل نہیں اور نہ ہی انسانی فکر و فلسفے کو لیبارٹریوں کی قربان گاہ پر قربان کرنے کے عادی ہیں بلکہ وہ نظریاتی طبیعات میں دلچسپی لیتے ہیں جس نے انہیں گیان دھیان کی طرف مائل کر رکھا ہے۔ عہد حاضر کی صورتحال پر ان کا دِل درد محسوس کرتا ہے وہ سمجھتے ہیں کہ تاریخی جبر کے شکار انسانوں کو ناروا اور ناخوشگوار نظریات و متبرکات کو سننا اور برداشت کرنا پڑتا ہے۔ جس کی بناء پرآج ہم سب مصلوب ہو کر رہ گئے ہیں۔ معلومات کے سیلاب میں بہتا انسان سوچ و بچار سے عاری ہو کر رہ گیا ہے۔ ایسے میں ڈاکٹر درانی نے صلیب کو کتاب کے ٹائٹل پر رکھ کر خود فکر وآگہی کے لیے تزکیہء نفس شروع کر دیا اور اس سفر میں تحقیق و آگہی اور خیال و تجزیے کی جو منزلیں طے کیں انہیں مضامین کی صورت دے کر جمع کر دیا ہے۔ ڈاکٹر درانی کی محققانہ کھوج او ر درویشانہ عرق ریزی دیکھ کر لگتا ہے کہ اشفاق احمد مرحوم نے غلط نہیں کہا تھا کہ صوفی اور سائنسدان ایک ہی سکے کے دو رُخ ہیں۔ اُنہوں نے علم طبیعات کے قدیم و جدید موضوعات کے ساتھ ساتھ عصری حقائق مثلاً دہشت گردی اسکے محرکات، معاملات اور اثرات کا سائنسی انداز ِ فکر سے تجزیہ کیا ہے بلکہ ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے طبیعات کی عینک سے دنیا کے مالی معاملات اور تحلیلی طبیعات کو بھی موضوع قلم بنایا ہے۔ اس سے قبل ڈاکٹر درانی کی کتابScientific Writingsبھی اپنے منفرد موضوعات کی وجہ سے محققین اور تجزیہ نگاروں سے داد و تحسین وصول کر چکی ہے۔ ڈاکٹر اعجاز الرحمان درانی کی نئی کتاب بھی بلاشبہ بحث و نتائج کے حوالے سے نئی جہتیں اور پہلو متعارف کروا رہی ہے۔ اُمید ہے کہ علم طبیعات کے محققین، استاد اور طالبعلم ہی اس سے مستفید نہیں ہونگے بلکہ عمرانی شعور سے بہرہ مند ہر پڑھا لکھا شخص اس کتاب سے فیضاب ہو گا۔ اس کتاب نے ثابت کر دیا ہے کہ ڈاکٹر درانی مستند محقق، نامور اُستاد ہی نہیں بلکہ انسانی تقاضوں سے عہدہ برآہ ہونے والے عمرانی شعور کے مالک درویش بھی ہیں۔ بلاشبہ روح عصر کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے کے لیے ہمیں تحقیق و تدریس اور فکر و دانش کے ایسے امتزاج کی ضرورت ہے۔ 

منگل، 25 نومبر، 2014

”سائنٹفک تحریریں“ ڈاکٹر اعجاز الرحمن درانی کی کتاب

 ایک جائزہ


ممتاز مؤرخ ایچ جی ویلز نے اپنے ایک مقالے”سائنس اور دنیا“ میں لکھا ہے کہ ”میں نے ایک ایسی قد آور دوربین دیکھی ہے جو ابھی زیر تعمیر ہی ہے۔ وہ مجھے نہایت کامیاب نظر آئی وہ میرے اعصاب پر مسلط ہو گئی۔ میں مہینوں اس کے متعلق سوچتا رہا۔ میں عزائم اور ادراک کے اس دیو قد شاہکار کی موجودگی میں کوتاہ قد نظر آیا۔ اس کے با وجود میں کہوں گا کہ دوربین بنانا اتنا ضرور ی نہیں، جتنا فلاحِ انسانیت کا خیال۔“ بلاشبہ سائنس نے روز بروز نئی نئی باتیں بتا کر انسان کے دل و دماغ میں ایک بے چینی اور تڑپ پید ا کر رکھی ہے۔جس کی بدولت آج انسان علم اور سمجھ کی منزل پر رواں دواں ہے تا ہم یہ سفر ابھی نا تما م ہے۔ اس صورت میں انسانی روح بے تابی کے ساتھ سائنس کے میدان میں آگے بڑھنا چاہتی ہے چنانچہ سائنسدان کوشاں ہیں کہ وہ علم کو ترقی دینے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائیں۔ سائنس کا دائرہ عمل علم اور آلات کی ترقی کے ساتھ ساتھ بہت پھیل گیا ہے۔ اب سائنس کا خاص طریقہ اور تحقیق کے نتائج و نظریات معیشت، معاشرت، سیاست بلکہ ہر فن اور ہنر پر استعمال کیے جاتے ہیں۔ دراصل سائنس کا صحیح مقام اب کائنات کی پیدائش یا تخلیق اور تسخیر سے لے کر انسان کی حقیقت اور اس کے تمام رازوں تک پہنچ جاتا ہے۔ سائنس علمی و عملی دونوں لحاظ سے زندگی کے عمل، قیام اور ترقی کے لیے لازمی امر کی حیثیت رکھتی ہے۔ سائنسدان اپنے علم ہی کے ذریعے خلقِ خدا کی خدمت کی کوئی نہ کوئی صورت نکال سکتا ہے۔ انسانی معاشرے کی بہتری، ترقی اور حفاظت کے لیے معاشی مسائل، دہشت گردی اور جمہوریت وغیرہ آج کے اہم ترمسائل ہیں۔ان مسائل کو سمجھنے اور حل کرنے کے لیے غور و فکر کرنا ہی حقیقی فرزندانِ انسانیت کا فریضہ ہے۔ 
خطہ یونان گجرات کے علمی و سماجی گھرانے کے فرزند سابق یوینورسٹی آف گجرات کے ڈائر یکٹر سائنسزڈاکٹر اعجاز الرحمن درانی سائنس کی ایک اہم شاخ طبیعات کے محقق و ماہر ہیں۔ وہ صرف طبیعات کے محقق ہی نہیں سائنسی اندازِ فکر کے حامل لکھاری بھی ہیں۔ لہٰذا عصرِ حاضر کے مادی اور سماجی مسائل کا سائنسی تجزیہ کرتے رہتے ہیں۔ وہ سنجیدہ فکرانسان،محنتی استاد اور دانشور ہیں۔ حال ہی میں ان کے شب و روز کے سائنسی تجربات اور فکری ریاضیت کے حامل تحقیقی مقالات کا مجموعہ منظر عام پر آیا ہے"Scientific Writings"کے نام سے انکی اسمِ بامسمٰی کتاب برطانیہ کے مشہور اشاعتی ادارےMelroseBooksنے شائع کی ہے۔160صفحات پر مشتمل اس کتاب میں ڈاکٹر اعجاز الرحمن درانی کے تجزباتی فکر کے حامل17دانشورانہ مقالہ جات شامل ہیں جن میں جدید فزکس کی نصابی اہمیت کے ساتھ ساتھ طبیعات کی معاشرتی افادیت کو بھی موضوع بنایا گیا ہے۔ کتاب فزکس کے مضمون پر مصنف کی مہارت کی مظہر ہے۔ موصوف نے موضوعات کے چناؤ اور تجزیے میں جدید نظریات و تصورات سے استفادہ کر کے واضع کیاہے کہ جتنا انسان کا تجربہ، عقل اور شعور بڑھتا جائے گا سائنس کا دائرہ اتنا ہی وسیع تر ہوتا جائے گا۔ 
جدید مادی سائنس میں کوانٹم فزکس کا غلبہ ہے۔ کوانٹم فزکس کی بدولت ایٹم کو اس کی   بے شمار تفصیلات کے ساتھ اتنی اچھی طرح سمجھا جاتا ہے کہ اب اس کی صداقت میں کوئی شک نہیں ہے۔ جو ں جوں بصری، ریڈیائی، ایکس شعائی، کائناتی شعائی مشاہدات کیے جا رہے ہیں، توں توں معلوم شدہ طبیعاتی اصولوں کی صحت پر اعتبار بڑھتا جا رہا ہے۔ تا ہم کوانٹم نے جو فلسفیانہ مسائل چھیڑے ہیں وہ بہت اہم، لیکن تکنیکی اور مشکل ہیں۔ کوانٹم فزکس سے پہلے دنیا کو بالکل پیش گوئی سمجھا جاتا تھا۔ ماضی کے واقعات حال کا تعین کرتے تھے اس تیقن کی نفی اتنی پریشان کن تھی کہ آئن سٹائن کو کہنا پڑا”خدا کائنات کے ساتھ پانسے کا کھیل نہیں کھیلتا“۔ اور اس نے کوانٹم میکانیات کی مخالفت کی۔ آئن سٹائن کے بلند مقام کے باوجود اس کے معاصرین نے ان سے اختلاف کیا۔ کوانٹم فزکس نے ہمیں یہ تسلیم کرنے پر مجبور کر دیا کہ حقیقت کے بارے میں ہمارا موجودہ تصور بہت سادہ ہے۔ مشاہدے کے عمل نے بعض امکانات کو حقیقت بننے پر مجبور کر دیا اور دیگر امکانات کو حقیقت کے زمرے سے خارج کر دیا۔ اگر یہ صحیح ہے تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ مشاہدہ کس کے ذریعے اور کس کا؟ نوبل انعام یافتہ ماہرِ طبیعات یوجین پی وگنر کے مطابق یہ سوال ناگذیر طور پر انسانی شعور کو کائنات کی موجودہ حالت کا تعین کرنے والے عامل کی حیثیت سے سامنے لاتا ہے۔ گو طبیعات کی یہ تفیسر منتازعہ ہے تا ہم اس سے وجود اور حقیقت کے مسائل پر موجودہ سوچ کا اندازہ ہوتا ہے۔ پُرکشش اور دلچسپ کوانٹم فزکس کائنات کے ُاس رُخ کی طرف کھڑکی کھولتی ہے جو ہماری عام قوت ِمشاہدہ کی پہنچ سے باہر ہے۔”کوپن ہاگن“ تشریح کا دعویٰ ہے کہ کوانٹم میکانیات ان تمام صورتوں سے پنٹ سکتی ہے جو چند حقیقی یا ضربی تجربات کے تصورات سے متعلق ہوں۔ 
کوانٹم فزکس اور کوانٹم میکانیات کے قدری تصورات کی روشنی میں ہی ڈاکٹر اعجاز الرحمن درانی نے زندگی کے مادی اور غیر مادی مسائل کا تجزیہ کیا ہے مصنف کی ”سائنٹفک تحریروں میں اضافیت، کشش ِثقل سے الیکٹرو میگنٹ ازم، کلاسیکل فزکس، تخلیق ِکائنات، ریاضیاتی فزکس، سائنسی انقلاب جیسے نیچرل سائنس کے موضوعات ہیں تو ساتھ ہی ساتھ عصر حاضر کے نمایاں سیاسی، سماجی و معاشی مسائل کا تحقیقی مطالعہ بھی کیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ معاشیات کی مختصر تاریخ، سٹاک مارکیٹ میں تشویش و ندامت، دہشت گردی کی سائنسی وضاحت، نیوکلیئر ٹیررازم کے اثرات، دہشت گردی کے خاتمے کے لیے فزکس کا نسخہ، نئی جمہوریت کے لیے اتفاقِ رائے بذریعہ کوانٹم پارلیمنٹ، مونا لیزا کی ناقابل بیان مسکراہٹ اور کوانٹم مکینکس جیسے عنوانات بھی شامل ہیں۔ جدید عمرانی مسائل کا طبیعاتی تجزیہ کر کے مصنف نے سماجی طبیعات کے فروغ میں اپنا حصہ ڈالا ہے اور ثابت کیا ہے کہ سائنس انسان کی جملہ ضروریات سے تعلق رکھتی ہے۔ آج طبیعاتی علوم کا دائرہ عمل اتنا پھیل گیا ہے کہ طبیعات کے مخصوص مظاہر اور تحقیق کے نتیجے اور نظر یے معیشت، معاشرت، سیاست بلکہ آرٹ پر بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔ سائنس کے سچے طالبعلم کا مطالعہ واضح کرتا ہے کہ اس کا علم محض کتابوں تک محدود نہیں ہوتا بلکہ وہ خود مشاہدے اور تجربے کی بناء پر انسان زندگی کے لیے سازگار معاونات و ممدات کو کرۂ ِ ارض پر کار فرما دیکھتا ہے۔ 
ڈاکٹر اعجاز الرحمن درانی کے مقالات وسعت مطالعہ، تنقیدی رویے، سائنسی تجزیے اور سائنٹفک فکر کے عکاس ہیں۔ میں انھیں انکی اس کتاب پر مبارکباد دیتا ہوں اور توقع کرتا ہوں کہ انکی تحریری سائنس کے طالبعلموں کے لیے بالعموم اور طبیعات میں دلچسپی رکھنے والوں کے لیے بالخصوص مشعلِ راہ ثابت ہونگی اور وہ خود ”سماجی طبیعات“ کے جدید تصورات کی روشنی میں مادی و غیر مادی، سائنسی و سماجی مسائل کے حل کے لیے تحقیق، تدریس اور تحریر کا یہ سلسلہ جاری رکھیں گے۔ 

جمعہ، 21 نومبر، 2014

فیضؔ کے شعری آہنگ کو عام کرنا ہے

فیضؔ کے شعری آہنگ کو عام کرنا ہے



فیض احمد فیضؔ ہماری ادبی و فکری تاریخ کا ایک منور استعارہ ہیں۔ دانشور، شاعر، استاد، نقاد، مدیر، مزدور انقلابی راہنما، یہ سب ان کی ہمہ پہلو شخصیت کی نمایاں جہتیں ہیں۔ دنیا انہیں ظلم و جبر، آمریت و سامراجیت اور استحصال و استعمار کے خلاف مزاحمت کی علامت کے طور پر جانتی ہے۔ 
پرصغیر پاک و ہند کے نوآبادیاتی عہد میں اُردو ادب میں ترقی پسندوں نے استعمار، سامراج اور بالا دست طبقوں کے خلاف بیداری اور فروغِ شعور کے لئے اہم کردار ادا کیا تھا۔ایسا کرنے والے ترقی پسند دانشوروں میں فیضؔ کا نام ہر اول دستے  میں شامل ہے۔ تقسیم ہند کے بعد بھی فیضؔ کی منفرد اور تواناء آواز سب سے نمایاں اور مؤثر رہی۔ انہوں نے شعر و فکر کے ذریعے جدوجہد، امید، اجتماعیت اور رجائیت کی بنیادوں پر ایسے عمرانی آئیڈیلز کو اُبھارا جنہوں نے سامراج اور استعمار دشمنی، انقلاب، ترقی، انسان دوستی، روشن خیالی اور خرد افروزی کی سوچ کو فروغ دیا۔ ہم وطنوں کی زبوں حالی اور شکستہ دلی کی ترجمانی کا حق ادا کرنے کے باوجود انہوں نے اپنے خیال و شعر میں مایوسی، نا امیدی اور شکست خوردگی کو کوئی جگہ نہ دی۔ ان کی شاعری کا آغاز رومان اور  وجدان میں لپٹا ہوا ہے مگر جلد ہی زندگی کے تلخ اور کڑوے حقائق اس خول کو چٹخا دیتے ہیں اور وہ ذاتی دُکھ کے ساتھ ہی عالم انسانیت پر مسلط دوسرے بے شمار دکھوں کی جلن بھی اپنے اندر محسوس کرنے لگتے ہیں۔ فیض ؔ کی شاعری نے ہی اردو شاعری کا تیسری دنیا سے تعلق مضبوط کیا اور عالم انسانیت کو پیغام دیا کہ جب تک انسان کے جسدِ خاکی میں دل دھڑکتا ہے انسان کبھی ٹوٹ نہیں سکتا اور جب تک انسانوں کے مابین احساس کا رشتہ قائم ہے انسان اور انسانیت کبھی آزادی، امن اور ترقی کی آرزو سے محروم نہیں ہو سکتے۔ فیضؔ ایسے انسانی مناظر کے شاعر ہیں جن سے آگے بہتر سے بہتر دنیا آباد ہے۔ فیضؔ کی شعری فکر کے راستے پر چل کر ہی انسان ایک نئے زمانے میں داخل ہو سکتا ہے۔ یہ سفر رجائیت سے شروع ہو کر حالات کو بدلنے کے حوصلے تک لے آتا ہے۔ اس کا اظہار ان کی نظم ’سوچ‘ میں بھی ملتا ہے اور اس حوصلے سے نکلنے والی رجائیت ’چند روز مری جاں فقط چند ہی روز‘، اور ’اے دِلِ بے تاب ٹھہر!‘ دونوں نظموں میں عیاں ہے۔ جبکہ نظم ’سوچ‘ مارکسی تعبیر کے حوالے سے دُکھ، درد کا بڑا عمیق اور اچھا تجزیہ بھی ہے۔ 
فیضؔ چونکہ حساس دل کے ساتھ بیدار ذہن بھی رکھتے تھے اس لئے دنیاوی درد و غم کی طرف ان کا رویہ فراری نہیں رہا۔  ’مرے ہم دم مرے دوست‘ میں واضح اشارہ کرتے ہیں کہ وہ غم جس نے انسانوں کی اکثریت کو زندگی کو تمام حلاوتوں سے محروم رکھا ہے اس کا مداوا نہ تو ہمدردوں کے حرفِ تسلی میں پوشیدہ ہے اور نہ شعراء کے شیریں نغموں میں بلکہ عوام اپنے مصائب کے مسیحا خود ہی ہیں۔ ’سوچ‘ میں واشگاف کہتے ہیں کہ آج حیاتِ انسانی جن سرمایہ دارانہ لعنتوں میں گرفتار ہے ان سے نجات کی واحد صورت عالمگیر عوامی جدوجہد ہی ہے۔ عوامی طاقت پر انحصار اور اعتماد  ترقی پسند فکر کا جزو لانیفک رہا ہے چنانچہ فیضؔ کی شاعری بھی اسی یقین کی مبلغ ہے۔ 
فیضؔ کو استعمار سے نفرت ہے۔ سرمایہ داری، جاگیرداریت، طبقاتی کشمکش استحصالی قوتوں، سب سے نفرت ہے لیکن شدید نفرت کے باوجود ان کے شعروں میں نفرت کا بے ہنگم شور سنائی نہیں دیتا بلکہ ان کے مترنم لفظوں کے پیچھے ہمارے ماضی کی گونج سنائی دیتی ہے اور حال کا آہ و فغاں بول رہا ہوتا ہے اور ہمارا مستقبل جگمگا رہا ہوتا ہے۔ وہ روحِ عصر کی بلیغ و جمیل ترجمانی کرنے کے ساتھ مثبت سماجی انقلاب کے داعی بھی تھے۔ دنیا ہمیشہ ان دانشوروں اور مفکروں میں دلچسپی لیتی رہی ہے جو اس کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔  مگر جو اس کو بدلنے کی آرزو یا کوشش کرے اسکی پرستش کرتی ہے۔فیض احمد فیضؔ بھی باعمل دانشوروں یا شاعروں کی اسی صف میں کھڑے نظر آتے ہیں جس میں کرسٹوفر کا ڈویل،  ہیمنگوے،  پیبلو نرودا،  لورکا،  ناظم حکمت،  اگستینونیتو نمایاں ہیں۔  آل احمد سرور نے بجا کہا تھا کہ ”فیض صاحب ِطرز ہونے کے ساتھ ساتھ ایک باشعور شاعر بھی ہیں اور ایسا کم از کم برصغیر کی حد تک کوئی دوسرا شاعر نہیں ہے“۔  
فیضؔ ایسے خوش بخت شاعر ہیں جو خواص و عام دونوں کو میں یکساں مقبول ہیں۔ عصرِ حاضر میں شاید ہی کوئی ذی فہم ہو جس کے شعور کی سطح ان کا کلام سننے یا پڑھنے کے بعد بلند نہ ہوئی ہو یا پھر شاید ہی کوئی شاعر یا ادیب ایسا ہو جو فیضؔ کی شاعری اور شخصیت سے متاثر نہ ہوا ہو۔ یہ فیضؔ ہی تھے جنہوں نے ظلم کو ظلم کہنے کا سلیقہ سکھایا، طرز کہن پر اڑے رہنے کی بجائے انکار کی جرات بخشی، رجز کی زبان دی اور ستم گری سے نبرد آزمائی میں ہماری ہمت بندھائی۔ انہوں نے ہی مشاہدۂ حق کی گفتگو میں حسن کی لطافتوں کا رنگ بھر کر گفتگو کو زیادہ بامعنی، دلکش اور پُر اثر بنا دیا۔ اسی لئے ان کے زیادہ تر اشعار ضرب المثل بن گئے۔ 
کہتے ہیں کہ ہر عہد اپنے ایک شاعر کے ذریعے پہچانا جاتا ہے۔ فیضؔ کی شاعری بھی ان کی ذات اور ان کے زمانے دونوں کا پتہ دیتی ہے۔بلاشبہ عہد ساز شاعر تھے بلکہ آج بھی انہی کا دور ہے اور ہم ابھی تک عہدِ فیض میں ہی جی رہے ہیں۔ انہوں نے منفرد اصطلاحوں، تشبیہوں، ترکیبوں، اچھوتی علامتوں اور مؤثر فکر سے اردو ادب کے خزانے کو ایسے مالا مال کیا کہ ان کا طرز فغاں اوروں کا طرز بیاں ٹھہرا۔ 

بول، کہ لب آزاد ہیں تیرے 
بول، زباں اب تک تیری ہے 

بلا سے ہم نے نہ دیکھا تو اور دیکھیں گے 
فروغ گلشن و صوتِ ہزار کا موسم 
یہ ان کے وجدان و بیان اور فکر و شاعری کی کرامت ہی ہے کہ وہ مرنے کے بعد آج بھی عصر رواں کی دھڑکن بنے ہوئے ہیں، شاید اسی تسلسل کی کوکھ سے ہی وہ فکر و نظر پیدا ہو جو اپنے خیال و افکار سے ہمارے مستقبل کو روشن کر دے،کیونکہ افکار تازہ سے ہی جہانِ نو پیدا ہوتا ہے۔
مگردھیرے دھیرے فیضؔ اور نسل ِ نو کے درمیان فاصلہ بڑھتا جا رہا ہے۔ ہماری نسل کا فرض ہے کہ وقت کی خلیج پر فیضیات کا پُل بنا دے۔ یہ ایک الگ بحث ہے کہ فیضؔ کے ہم خیال فیضیات کو نئی نسل تک پوری قوت کے ساتھ منتقل کیوں نہیں کر پا رہے حالانکہ فیضؔ سے محبت کے دعویداروں کو یہ کام دلجمعی اور لگن سے کرنا چاہئے تھا کیونکہ فیضؔ کے نظریاتی دوست اسکی فکر کے مبلغ ہیں مجاور نہیں۔ صد افسوس! ہم بڑے لوگوں کے مرنے کے بعد صرف ان کا بُت بنا لیتے ہیں۔اس قوم نے اقبالؔ کو بھی مجاوروں کے ہاتھوں ہی گنوایا، جنہوں نے فکر اقبال کو آگے بڑھانے کی بجائے اس کے مزار پر چادر چڑھانے کو ذریعہ معاش بنا کر اس مجاوری کو اقبالیات کہنا شروع کر دیا۔ اقبال کے بعد ہمارے پاس فیضؔ تھے اس لیے سلسلہ چلتا رہا مگر فیض ؔکے بعد تو ایسے، جیسے خُدا ہم سے روٹھ ہی گیا ہے۔ آج ہم بڑے آدمی، بڑے شاعر، بڑے دانشور کو ترس گئے ہیں۔ ہر طرف قحط الرجال ہے اور اگر نہیں ہے،  تو پھر قہر الرجال ضرور ہے۔ خدا نہ کرے کہ فیضؔ بھی مجاوروں کے ہاتھوں گم ہو جائیں۔ فیضؔ سے محبت کرنے والوں کا فریضہ ہے کہ فیضؔ کے افکار و سخُن کو آگے بڑھائیں ان کی فکر کا چراغ بجھنے نہ دیں۔ فیضؔ بطور نقاد جو کسوٹی پیش کرتے ہیں وہ خود بھی اس پر پورا اترتے تھے۔
چشمِ نم، جان شوریدہ کافی نہیں 
تہمتِ عشقِ پوشیدہ کافی نہیں 
آج بازار میں پابجولاں چلو 
او رپھر کہتے ہیں: 
رخت دل باندھ لو، دل فگارو چلو 
پھر ہمیں قتل ہو آئیں یارو چلو 
آج ہم میں سے کتنے اس کے لیے تیار ہیں …………؟ 
آج ہم صوبائیت، نسلیت، لسانیت، عالمگیریت، فرقہ واریت، دہشت گردی، انتہا پسندی کے جس عفریت و کینسر کا شکار ہیں اس نے قوم کو مایوس کر دیا ہے۔ کوئی نہیں ہے جو اس بکھرتے سماج کی ڈھارس بندھائے، اسے امید دے…… اگر کوئی ہے تو بس فیضؔ ہی ہے۔ فیض ؔ کی رجائیت، اسکا مثبت انقلاب ہی ہماری  بے بسی کا علاج ہے۔ ہمیں فیض کی رجائی فکر اور  اس کے شعری آہنگ کو عام کرنا ہو گا کیونکہ ہمیں اس قوم کو، اس وطن کو بچانا ہے۔

ابھی چراغِ سرِ رہ کو کچھ خبر ہی نہیں 
ابھی گرانی شب میں کچھ کمی نہیں آئی 
نجاتِ دیدہ و دِل کی گھڑی نہیں آئی 
چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی 

جمعرات، 20 نومبر، 2014

فیض احمد فیض : جس کی آج بھی ضرورت ہے

دانشور صوفی شاعر،جس کی آج بھی ضرورت ہے


مچل رہا ہے رگِ زندگی میں خون بہار 
اُلجھ رہے ہیں پرانے غموں سے روح کے تار 
چلو کہ چل کے چراغاں کریں دیارِ حبیب 
ہیں انتظار میں اگلی محبتوں کے مزار 
محبتیں جو فنا ہو گئی ہیں میرے ندیم 

دانش و افکار کسی پراسرار دنیا سے نازل نہیں ہوتے جس کو مرزا غالب نے ”عالم غیب“ کا نام دیا ہے بلکہ فکر و دانش زندگی کے بدلتے ہوئے سانچوں کے ساتھ ساتھ دھیرے دھیرے ارتقاء پذیر ہوتے ہیں۔ کسی قوم یا ملک کے لیے دانشور کا ہونا لازمی ہے کہ دانشور قلمکار ہی وہ چراغ ہوتا ہے جس کی روشنی میں قوم اور راہنما عملی قدم اُٹھاتے ہیں۔ سچا لکھاری یا ادیب اپنے سماج کے اجتماعی شعورکاآئینہ دار ہوتا ہے جو معاشرہ کو اپنے احساسات سے باخبر بھی کرتا ہے اور اسے بدلتا بھی ہے۔ 
سگمنڈ فرائیڈ نے کہا تھا کہ"Everywhere I go, a poet has been there before me"یعنی میں جہاں بھی جاتا ہوں، جو سائنسی تحقیق کرتا ہوں، کوئی شاعر وہی بات پہلے ہی بیان کر چکا ہوتا ہے۔
فیض احمد فیضؔ ہماری ادبی و شعری اور فکری وتہذیبی حیات کا سب سے روشن، اہم اور زندہ حوالہ ہیں۔ شاعر، نقاد، صحافی، استاد، فوجی افسر، ٹریڈ یونین رہ نما سب انکی ہمہ گیر شخصیت کی مختلف جہتیں اور نمایاں پہلو ہیں جو ہماری قلمی، تہذیبی، ثقافتی اور ادبی زندگی میں منفرد، قابل فخر اور مثالی شناخت رکھتے ہیں۔وہ عالمی سطح پر انسانی مساوات ومحبت اور انسان دوستی کے آرزو مند راہ نما، امن و آزادی کے ترجمان اور مجبوروں، محروموں اور مظلوموں کی حمایت کرنے والے شاعر کی حیثیت میں روشن علامت سمجھے جاتے ہیں۔ ان کی نظر مشرقی و مغربی ادب پر بہت گہری تھی چنانچہ مشرقی و مغربی ادب کی اعلیٰ اقدار، احساس و یقین کے ساتھ ان کے ہاں جلوہ فگن ہوتی رہیں۔ اگرچہ اشتراکیت کے فلسفے سے ان کی وابستگی گہری تھی مگر فیض ؔنے کورانہ تقلید کی بجائے اپنے تواناء شعور، پختہ ادبی ذوق اور منفرد شعری و جدان کے ہمراہ اسے اپنی فکر کا جزو بنایا اور شاعری کی مثبت روایت اور ثقافتی ورثے کو قائم رکھا۔ ڈاکٹر اعجاز حسین کو کہنا پڑا کہ ”فن کاری اورندرتِ خیال کا اتنا حسین امتزاج دور جدید میں کسی شاعر کے یہاں نہیں دکھائی دیتا۔ سیدھے سادے الفاظ کو بغیر تشبہیہ و استعارے کے شعر کی صورت میں پیش کرنا اور تاثیر و معنویت پیدا کرنا فیض کا خاص کارنامہ ہے “۔
فیض کی شاعری زرد پتوں کے اس بن کے نام ہے جو درد کی انجمن ہے جہاں کلرک ہیں، پوسٹ مین ہیں، تانگے والے ہیں، کارخانوں کے بھوکے مزدور ہیں، اناج اگانے والے کسان ہیں، دکھی مائیں ہیں، طالبعلم ہیں۔ فیض کی فکر کا حقیقی محور سماجی و معاشی استحصال ہے۔ اس لیے وہ سرمایہ دارانہ نظام کو تمام برائیوں کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔ شعوری طور پر ترقی پسند ہیں لیکن دوسرے ترقی پسندوں کے برعکس وہ افکار وجذبات کی رو میں نہیں بہتے بلکہ ان کے ہاں غصہ، گھن گرج اور ہما ہمی کے آثار کہیں نمایاں نہیں ہوتے بلکہ وہ انتہا پسندی سے گریز کرکے اپنی بات دھیمے لہجے میں بڑے اعتدال کے ساتھ کرنے کے عادی ہیں۔ وہ تلخ و ترش واقعات کی شدت کو شعر کے لطیف پردوں میں اس طرح اُجاگر کرتے ہیں کہ شعریت اور سیاست دونوں ایک دوسرے میں بالکل شیرو شکر ہو گئے 
اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا 
راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا 

فیض صاحب کی ترقی پسندی کھرے معاشرتی تجزیے کی حامل ہے۔ سٹیفن سپینڈر کا کہنا ہے کہ ”ادیبوں کو ان کے سیاسی نظریات سے نہیں سماجی تجزیے کی سچائی سے جاننا ضروری ہے“۔ 
انہیں کے فیض سے بازار عقل روشن ہے 
جو گاہ گاہ جنون اختیار کرتے ہیں 
فیض احمد فیضؔ بے پایاں خلوص اور محبت کے آدمی ہیں، بغض و عناد اور کینے سے نا آشنا، پھر بھی عمر بھر جتنی گالیاں فیض صاحب کو دی گئیں شاید ہی کسی اورکو دی گئی ہوں۔ اس کے باوجود فیض صاحب نے جس اعلیٰ ظرفی اور صبر کا مظاہرہ کیا اسی بناء پر کئی لوگ انہیں صوفی سلسلے میں شامل کرتے ہیں۔ مرحوم اشفاق احمد نے فیض کو ملامتی صوفی قرار دیتے ہوئے لکھا تھا کہ ”یہ ادب، یہ صبر، ایسا دھیما پن، اس قدر در گذرکم سخنی اور احتجاج سے گریز، یہ صوفیوں کے کام ہیں۔ ان سب کو فیض نے اپنے دامن میں سمیٹ رکھا ہے،اوپر سے ملامتی رنگ یہ اختیار کیا ہے کہ اشتراکیت کا گھنٹہ بجاتے پھرتے ہیں کہ کوئی قریب نہ آئے اور محبوب کا راز نہ کھل جائے۔ واہ بابا ٹل واہ! کیا کہنے، چوری کر، تے بھن گھر رب دا،ٹھگاں دے ٹھگ نوں ٹھگ۔ میرا تعلق چونکہ خانوادے سے ہے اور میں مسلمان بادشاہوں کا پرستار ہوں اور ملوکیت کو ہی اسلام سمجھتا ہوں۔ اس لیے میری اور بابا ٹل کی نہیں بن سکتی۔ لیکن کبھی اکیلے بیٹھے بیٹھے خاموش اور چپ چاپ میں سوچا کرتا ہوں کہ اگر فیض صاحب حضور سرور کائنات ؐ کے زمانے میں ہوتے تو ان کے چہیتے غلاموں میں سے ہوتے۔ جب بھی کسی بد زبان، تند خو، بد اندیش یہودی دوکاندار کی دراز دستی کی خبر پہنچتی تو حضور ؐ کبھی کبھی ضرور فرماتے: آج فیض کو بھیجو، یہ بھی دھیما ہے، صابر ہے، بردبار ہے، احتجا ج نہیں کرتا، پتھر بھی کھا لیتا ہے۔ ہمارے مسلک پر عمل کرتا ہے“۔
اشفاق احمد کچھ غلط بھی نہیں کہہ رہے یقینافیض صاحب تصوف کے پختہ کار داعی بھی تھے۔ اپنے عہد کے بہت سے صوفیاء سے ان کے قریبی تعلقات تھے۔ وہ لاہور کے صوفی بابا ملنگ صاحب کے چاہنے والوں میں سے تھے۔ واصف علی واصف، اشفاق احمد اور سید فخر الدین بلے سے قریبی تعلق رہا۔ ایک دفعہ ان سے استفسار کیا گیا کہ صوفیوں کا سوشلسٹ کامریڈوں سے کیسے موازنہ کیا جا سکتا ہے؟ تو اُنہوں نے کہا کہ صوفی ہی حقیقی کامریڈ ہوتے ہیں۔ پھرفیض صاحب نے ہی اناء الحق کو سیاسی انداز میں اپنانے کا اسلوب اختیار کیا۔ ان کی شاعری میں مادھو لعل حسین اور بلھے شاہ کی انکھ، میاں میر کی انسان دوستی، شاہ عبدالطیف بھٹائی کا سُر سنگیت، وارث شاہ کی رومانویت اور خواجہ فرید کی شیرینی جا بجا نظر آتی ہے۔ اپنے ہم عصر حاسدین کی ہزار مخالفتوں اور مخاصتوں کے باوجود لوگوں کی اکثریت کا خیال ہے کہ فیض نے صرف غم جاناں اور غم روزگار کا فرق ہی نہیں سمجھایا بلکہ یہ بھی بتایا کہ غم روزگار کو غم جاناں بنانے کے لیے کتنی ریاضت کرنا پڑتی ہے بلکہ فیض کی ساری زندگی ہی انسانوں اور انسانیت کی اعلیٰ قدروں پر صرف ہوئی۔
آج پاکستانی سماج میں جو بگاڑ ہے اس میں امن اور انسان دوستی کی اشد ضرورت ہے اس تناظر میں دیکھا جائے تو فیض صاحب اپنی وفات کے بعد آج بھی سیاسی و سماجی حالات سے مطابقت رکھتے ہیں۔ کسی بھی بڑے ادیب و شاعر کا کمال ہی یہ ہے کہ وہ اپنے عہد کے بعد آنے والے زمانوں کے احساسات اور اپنے سماج کی خواہشات، خوابوں، امنگوں اور آرزوں سے آشناہی نہیں ہوتا بلکہ اپنے قلم کے ذریعے انہیں صفحہئ قرطاس پر منتقل کرتا ہے اور آنے والے زمانوں میں بھی releventہوتا ہے۔ فیض نے فلسفیانہ سطح پر جو خواب دیکھے پاکستان کا عام آدمی عام رنگ میں آج بھی وہی خواب دیکھ رہا ہے۔ ان کے بعد یہاں جبرو استحصال میں جس قدر اضافہ ہوا ہے اس نے اس سماج اور آج کے مسائل نے فیض احمد فیض ؔکو اور زیادہ اہم بنا دیا ہے۔ محترمہ افضل توصیف سچ کہتی ہیں کہ ”فیض اگر آج اپنی دنیا کو پلٹ کر دیکھ سکتے تو پھر یہاں آنے کے لیے بے قرار ہو جاتے، سارے کام ادھورے پڑے ہیں“۔عدم برداشت، سیاسی و سماجی استحصال، طبقاتی کشمکش غرض کچھ نہیں بدلا بلکہ اوربڑھ گیا ہے چنانچہ آج ہمارے حالات فکر ِفیضؔ کی ترسیل ِنو کے متقاضی ہیں اور اہم اسی کے ابلاغ اور احیاء کے خواہشمند ہیں۔ البیلے اور محبوب شاعر فیض احمد فیض کے ذکر جمیل سے ان کے چاہنے والوں کا جی نہیں بھرتا، حالانکہ فیض ٹھہرا ہو اپانی نہیں ہے جسے دیکھ کر خوش ہو ا جائے بلکہ فکر فیض کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔ 
قتل گاہوں سے چن کر ہمارے علم 
اور نکلیں گے عشاق کے قافلے