بدھ، 29 جون، 2016

”تاریخ لکھنوال“مختصر جائزہ




افریقی نژاد، برطانوی سیاہ فام سیاسی راہنما و صحافی مارکوس گیروے نے کہا تھا کہ:  
"A people without the knowledge  of their past 
history, origin and culture is like a tree without roots."
بلا شبہ تاریخ سماج کی اجتماعی یاداشت کا دوسرا نام ہے، اگر کسی قوم کو اس کی تاریخ سے نا آشنا رکھا جائے تو وہ اپنی شناخت سے بھی محروم رہتی ہے۔ ہر قوم، ملک، شہر، قصبوں، دیہاتوں، بستیوں اور آبادیوں کی اپنی ایک تاریخ ہوتی ہے۔ شہروں اور دیہاتوں میں واقع آثار قدیمہ، کھنڈرات، خستہ و شکستہ در و دیوار، گلیاں اور خانقاہیں سب اہم تاریخی مآخذ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ پاکستان بھی تا حال دیہاتوں کا ملک ہے، دیہات آج بھی ہماری تاریخ کی زندہ اور متحرک دستاویز ہیں لیکن اسے بدقسمتی کے سوا کیا کہیے کہ ہمارے ہاں علاقوں، دیہاتوں،لوگوں اور ان کی تاریخ کی طرف کسی کا دھیان ہی نہیں۔ قومی بے حسی کا دردناک اور عبرتناک پہلو یہ ہے کہ ہمارے لوگ اور دیہات کبھی سرکاری و غیر سرکاری توجہ کا مرکز رہے ہی نہیں۔ آپ وطن عزیز کے کسی گاؤں یا علاقے میں چلے جائیے، ہمارا تاریخی ورثہ سسک سسک کر ہماری اجتماعی غفلت کا نوحہ کہتا نظر آئے گا۔ حکمرانوں کو تو چھوڑیئے، ہمارے پروفیشنل مؤرخین کوبھی اس جانب توجہ کی توفیق نہیں ہوئی .اس عدم توجہ کا نتیجہ ہے کہ ہماری تاریخ و ثقافت کا بہت کچھ اوراق پارینہ بن چکا اور بہت کچھ مٹتا جا رہاہے یا پھر مٹایا جا رہا ہے؟ یہ سب کچھ ہمارے سامنے ہو رہا ہے، لیکن اس پر ہم میں سے کسی کی رگِ حمیت نہیں پھڑکتی۔ ہماری تاریخ مر رہی ہے ,اسے صرف ایک ہی صورت میں زندہ رکھا جا سکتا ہے کہ کوئی زندہ دل اس کی طرف متوجہ ہو، اور اسے قلمبند کر دے اور یہ عوامی اور دیہاتی تاریخ تصنیف و تالیف کی شکل میں منتقل ہو کر کتابی صورت میں سامنے آئے اور آنے والوں کے لیے محفوظ ہو جائے۔ ہماری حالت امریکی ناول نگار Chuck Palahniuk کے لفظوں میں کچھ یوں ہے کہ:
"We will be remembered more for what 
we destroy than what we create."
ایسے گھمبیر حالات میں جب ہمارے محققین و مؤرخین کے موضوعات صرف روزگار کی بہتری اور جلد شہرت کے لیے محدود اور مخصوص ہو کر رہ گئے ہیں صرف کوئی دیوانہ ہی دیہاتوں کی تاریخ کی طرف توجہ دے سکتا ہے۔ ویسے بھی پہلے مرحلے پر دیہاتوں میں بکھری پڑی تہذیب و تاریخ کو دیکھنے، سمجھنے اور لکھنے کے لیے ڈگری سے زیادہ بڑی شرط اسکی اہمیت کی ”بصیرت“ کا موجود ہونا ہے جو صرف عشق والوں میں ہی ہو سکتی ہے۔ گجرات کے تاریخی گاؤں اسلام گڑھ سے تعلق رکھنے والے رائے فصیح اللہ جرال علاقائی تاریخ سے محبت کرنے والے نوجوان ہیں۔ ادب، قلمکاروں اور قلمی نسخہ جات سے فصیح کو بچپن سے ہی عشق ہے، اسی نسبت سے انہیں تاریخ میں بھی دلچسپی پیدا ہوئی۔ وہ مآخذوں اور کتابوں سے تاریخ پڑھنے کے ساتھ ”بیانیہ تاریخ“ کے علمبردار اور مبلغ بھی ہیں اور بزرگوں کے سینوں میں مدفون تاریخ کو کھنگالنے کے  شوقین بھی۔ گجرات اور نواح کی علمی، ادبی اورصوفیانہ تاریخ کے حوالے سے ان کے مضامین اخبارات، ادبی جرائد اور تحقیقی جرنلز میں شائع ہوتے رہتے ہیں۔ گذشتہ دنوں ان کی مختصر کتاب یا کتابچہ ”تاریخ لکھنوال“ کے عنوان سے پاک کشمیر لائبریری اینڈ ریسرچ سنٹر اسلام گڑھ(جلالپورجٹاں) ضلع گجرات نے شائع کیا ہے۔ لکھنوال ضلع گجرات کا تاریخی گاؤں ہے اور اپنی تاریخی و ثقافتی جہتوں کی وجہ سے ملک بھر میں خاص شناخت کا حامل ہے۔ اسی صفحات پر مشتمل اس کتابچے میں پہلے سولہ صفحات کتابچے اور قلمکار کے تعارف پر مشتمل ہیں۔ اگلے 74 صفحات کو چار ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلا باب گجرات کی تاریخ کے حوالے سے لکھی جانے والی کتب میں درج لکھنوال کے احوال پر مبنی ہے جن میں 1849ء میں شائع ہونے والی گنیش داس وڈیرہ کی فارسی کتاب ”چہار باغ“، 1868 میں چھپنے والی مرزا محمد اعظم کی ”تواریخ گجرات“،  1977 میں منظر عام پر آنے والی شیخ کرامت اللہ کی کتاب ”آئینہ گجرات“ جلد اول، سمیت ایلیٹ کی دی کرانیکلز آف گجرات، اسحاق آشفتہ کی ”گجرات کی بات“                       ، ڈاکٹر احمد حسین قریشی قلعہ داری کی تاریخ ”ضلع گجرات“، ایم زمان کھوکھر کی ”گجرات کی روحانی شخصیات اور تباہ شدہ بستیاں“ اور یونیورسٹی آف گجرات کے شعبہئ تصنیف و تالیف کا شائع کردہ ”گجرات پیڈیا“ شامل ہیں۔فصیح جرال نے محنت کے ساتھ ان کتب میں سے تاریخ لکھنوال کے تذکرے و حوالے کو جمع کر کے اکٹھا کر دیا ہے اور پھر مقامی لوگوں سے انٹرویوز ”ملٹری گزٹ“ اور ریاست جموں و کشمیر کی تاریخ کی رپورٹوں میں سے لکھنوال کے سلہری خاندان کی بازگشت بھی رقم کی ہے اور ان حوالوں کے تناظر میں اپنی رائے کا برملا اظہار بھی کیا ہے۔ اسی باب کا ذیلی عنوان 1947ء سے قبل کا لکھنوال ہے۔ اس میں لکھنوال کے تاریخی مقامات، واقعات اور نمایاں ہندو مسلم شخصیات کا ذکر کیا گیا ہے۔ دیوان لچھمن داس صوبتی کی بیٹی کی شادی کا والہانہ تذکرہ بھی ہے۔ اور پھر عالمی ریاضی بورڈ کے سابق چیئرمین پروفیسر سائیں داس ہانڈہ، پنجاب یونیورسٹی کے سابق استاد شعبہئ تاریخ پروفیسر گنپت، حکیم تارا چند صوبتی کا بھی ذکر بھی موجود ہے۔ تقسیم ہند سے قبل لکھنوال میں ہندوؤں اور سکھوں کی بڑی تعداد رہائش پذیر تھی ان کی مقدس عبادت گاہوں کو بھی قابل ذکر سمجھا گیا ہے۔ باب دوئم میں قیام پاکستان سے قبل کی مسلم شخصیات اور اس دور کے واقعات رقم ہیں۔ امیر شاہ بگا سلطان سچیاری نوشاہی قادری اور ان کے مزار کا احوال، انیسویں صدی کے ممتاز ماہر تعلیم اور اس وقت کے انسپکٹر سکولز آف ضلع خوشاب چوہدری رحمت خاں وڑائچ، چوہدری علی بخش اور محترمہ غلام فاطمہ اور باکمال استاد چوہدری فیض سرور سلطان کا ذکر ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ ممتاز تجزیہ نگار، اینکر اور صحافی محترم سہیل وڑائچ بھی اسی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ چوہدری رحمت خان سہیل وڑائچ کے نانا تھے۔ چوہدری علی بخش اور محترمہ غلام فاطمہ ان کے دادا، دادی اور چوہدری فیض سرور سلطان ان کے والد تھے۔ لکھنوال طوائفوں کا گاؤں بھی کہلاتا ہے۔ فن موسیقی او راداکاری کے حوالے سے بھی بڑے بڑے نام اس گاؤں کے باسی تھے۔ کسی زمانے میں سُر سنگیت کے حوالے سے یہاں کی ’بلو‘ اور’تلو‘ نے خوب نام کمایا۔ پنوں اللہ وسائی، لکھی سردار بھی آوازوں کی ملکہ تھیں۔ پاکستان کی فلم انڈسٹری کو بھی اس گاؤں نے نامور لوگ دیئے ادادکارہ ممتاز، تصور خانم، گلوکار خلیل حیدر، سہیل رانا، ٹرپل ایس سسٹرزکا تعلق بھی اسی گاؤں سے تھا۔ تیسرے باب میں بھی متفرق شخصیات، واقعات اور تاریخ ہی کا بیان ہے۔ ممتاز ماہر تعلیم پروفیسر خورشید عالم بھٹی، خاکسار راہنما ظفر علی بھٹی، امام الدین سیالوی، مولوی محمد علی سمیت کئی نام درج ہیں۔ چوتھے باب میں روحانی شخصیات حضرت امیر شاہ سلطان، خواجہ محمد امام الدین گجراتی، خواجہ غلام فرید گجراتی، حضرت محمد گہنے خاں، پیر برہان الدین سہروردی کا تفصیلی تذکرہ ہے اور آخر میں مآخذوں اور کتب کی فہرست ہے۔ مجموعی طور پر معلوماتی کتابچہ ہے۔ 
تاہم اس مختصر کتاب کے مطالعے کے بعد تشفی نہیں ہوتی بلکہ تشنگی بڑھتی ہے۔ یہ احساس بھی پیدا ہوتا ہے کہ یہ کتاب بہت جلد بازی میں شائع کی گئی ہے۔ جمع شدہ مواد کو بھی مزید بہتر انداز میں پیش کیا جا سکتا تھا اور پھر لکھنوال کا نام سنتے ہی جن موضوعات سے دلچسپی پیدا ہوتی ہے ان کا تذکرہ بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس کتاب میں لکھنوال کی فنی اور ثقافتی جھلک نظر نہیں آتی۔ لکھنوال کے باسیوں کے امتیازی رہن سہن، رسوم و رواج، تعمیر و تزئین، عمارتوں، گلیوں، حویلیوں اور بالکونیوں اور ان کے ذریعے پنپنے والی ثقافت کے حوالے سے مزید کام کرنے اور لکھنے کی ضرورت تھی۔ فصیح جیسے جواں عزم سے ہی توقع کی جا سکتی ہے کہ اس کی کتاب کا دوسرا ایڈیشن مطلوبہ اضافوں کے ساتھ ہو گا۔ لکھنے کے لیے ضروری ہے کہ ماضی کو کریدنے کے ساتھ اسے سمجھ کر جہاں تک قدرت حاصل ہو سچائی کی روشنی میں لکھا جائے۔ رائے فصیح جرال اس کام پر مبارکباد کے مستحق ہیں اور ہمارا فریضہ ہے کہ ہم اس کے کام میں سے کیڑے نکالنے کی بجائے اس کی بھرپور حوصلہ افزائی کریں تاکہ یہ باہمت اور جذبے کا حامل لکھاری بہتر سے بہتر لکھتا جائے۔ فصیح جرال کو علاقے کی تاریخ سے عشق ہے اور وہ جذبے سے کام کرتا ہے۔ تھپکی اس لیے بھی ضروری ہے کہ جذبے کا حامل لکھاری ہی کچھ لکھ سکتا ہے۔ بیانیہ تاریخ کے حوالے سے مستند لکھاری برطانوی مؤرخہ اور تاریخ کی استاد  C.V Wedgwood درست کہتی ہیں کہ: 
"Without passion there might be no error, 
but without passion there would certainly 
be no history."


جمعرات، 23 جون، 2016

روزہ، پیروی د ین کا ایک اہم تقاضا ہے



حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت کہ فرمان نبویؐ ہے کہ آدمی بظاہر نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج و عمرہ کا عمل کرتا ہے۔ حتیٰ کہ آپؐ نے تمام اعمال ِخیر کا ذکر کیا۔ پھر حضور نبی رحمتؐ نے فرمایا، مگر قیامت کے دن وہ صرف عقل کے بقدر اس کا بدلہ پائے گا۔ اس حدیث نبویؐ میں عقل کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ عقل سے مراد فہم و شعور ہے۔ اس کے معنی یہ ہوئے کہ آدمی ذکر و عبادت کے اعمال تو کرتا ہے مگر ان اعمال کا اجر ان کے فارم یا کمیت کے اعتبار سے نہیں ملتا بلکہ عمل کی روح کے اعتبار سے دیا جاتا ہے۔ آدمی نے جس درجہ شعور کے ساتھ عبادت کی ہو گی اسی درجہ شعور کے اعتبار سے اس کے عمل کا انعام مقرر کیا جائے گا۔ مثال کے طور پر ایک آدمی عبادت کرتا ہے لیکن قرآن حکیم کے مطابق سہو یعنی غیر حاضر دماغی سے عبادت کرتا ہے تو وہ عبادتی افعال تو کر رہا ہوتا ہے لیکن عقل و شعور کے اعتبار سے وہ حالتِ غفلت میں ہوتا ہے۔ رسم عبادت ادا کرنے والا ایسا آدمی صرف غیر مطلوب عبادت کرتا ہے۔ ذکر و عبادت کی مطلوب اور حقیقی صورت وہ ہے جب عبادت کرنے والے کا وہ حال ہو جائے جیسا قرآن مجید کی سورہ انفعال میں ہے کہ خدا کی یاد سے اس کا دل دہل اُٹھے یا سورۃ الزمر کے لفظوں میں اسکے جسم کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں ایسا آدمی ہی زندہ اور حرکی شعور کے ساتھ عبادت کا عمل کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے یہاں بڑے بڑے انعامات اس کو دئیے جائیں گے جس نے زندہ شعور کے ساتھ ذکر وعبادت کا عمل کیا۔ 
ماہِ صیام ہے اس میں روزہ ہی کو لے لیں۔ سورۃ بقرہئ میں ہے کہ تم پر روزے فرض کیے گئے تاکہ تم متقی بن سکو۔ یعنی روزہ اس لیے رکھاجائے کہ پرہیز گار بنا یا جا سکے۔ اس حکم قرآن سے ایک بات واضح ہوئی کہ جو روزہ نہیں رکھتا وہ ہدایت یافتہ نہیں ہو سکتا۔ جتنی عبادتیں ہیں ان میں ہم کچھ نہ کچھ کرتے ہیں، نماز پڑھتے ہیں، حج کرتے ہیں تو وہ نیکی میں شمار ہوتا ہے۔ جتنی عبادتیں ہم پر فرض ہیں ان سب کا تعلق نیکو کاری سے ہے سوائے روزے کے۔ کیونکہ روزہ نیکو کاری سے آگے پرہیز گاری میں آتاہے۔ روزہ کچھ کرنے کا نام نہیں بلکہ کچھ چیزوں سے رُک جانے کا نام ہے۔ روزہ روح و جسم میں سال بھر میں پیدا ہو جانے والے فسادی عناصر کے خاتمہ کے لیے اینٹی بائیو ٹک ہے یہ گناہوں سے بچنے کے لیے سالانہ ویکسینیشن ہے۔ یہ تربیتی کو رس ہے متقی بننے کے لیے۔ یہ محض بھوک، پیاس کی سالانہ رسم نہیں ہے۔ آپ نے سرکس میں دیکھا ہو گا کہ شیر جیسا خونحوار جانور کس طرح مالک کے اشاروں پر آگ کے پہیوں میں سے گذر جاتا ہے۔ گلی محلوں میں لوگ ریچھ کو لیے پھرتے ہیں یہ درندہ مالک کے اشاروں پر ناچتا ہے۔ سدھانے سے، تربیت سے درندہ فرمانبردار ہو جاتا ہے۔ لیکن کبھی آپ نے سوچا درندوں کو سدھایا کیسے جاتا ہے کہ وہ فرمان برداربن جاتے ہیں۔ معلوم کرنے پر پتہ چلے گا کہ سدھانے والا پہلے ان جانوروں کو بھوکا رکھتا ہے اور بھوک میں سدھاتا ہے۔ بھوک اور فرمانبرداری لازم و ملزوم ہیں یعنی فرمانبرداری آپ نے اختیار کرنی ہے۔ متقی بننا ہے تو بھوک و پیاس کے بغیر ممکن نہیں۔اسی لیے تمام اُمتوں پر روزے فرض کیے گئے لیکن یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ اس تربیتی کورس میں بھوک و پیاس تربیت کا ذریعہ ہے مقصد نہیں۔ اس کے ذریعے بھوک و پیاس کے تجربے سے گزارنا مقصود ہے تاکہ تربیت کی جا سکے اور یہ اخلاقی ڈسپلن و ضبط کا سالانہ تربیتی پروگرام ہے۔ اللہ کی رضا کے لیے اپنی خواہشوں پر روک لگانا ہی پرہیز گاری ہے۔ اسلام اور ایمان کے معنی بھی یہی ہیں کہ آدمی خدا کی منع کی ہوئی چیزوں سے رُک جائے۔ روزہ ہر سال یہی سبق یاد دلانے کے لیے فرض کیا گیا ہے۔ بلاشبہ وہ نیکی بڑی معتبر ہے جس کا رب کے سوا کوئی گواہ نہ ہو۔ روزے کے اعلیٰ درجے کو حاصل کرنے کے لیے آدمی کو چاہیے کہ وہ شعوری طور پر اپنے آپ کو غیر متعلق چیزوں میں مشغول ہونے سے بچائے۔ 
روزہ میں آدمی کو خود عائد پابندی کی وجہ سے بھوک و پیاس کے تجربے سے گذرناہے تاکہ تقویٰ کے معیار کو پا سکے۔ لیکن ہم رمضان میں پہلے سے زیادہ کھاتے ہیں،ہماری خوراک بڑھ جاتی ہے کچھ لوگ کہتے ہیں اس لیے کہ حدیث ہے کہ رمضان میں مومن کا رزق بڑھا دیا جاتا ہے۔ بس اسی آڑ میں ہم کھائے جاتے ہیں۔ حالانکہ یہ روح رمضان کے خلاف ہے۔ کیونکہ اس حدیث میں رزق بڑھنے سے مراد خوراک میں اضافہ نہیں ہے، روزے کا تو مقصد ہی بھوک و افلاس کا تجربہ کرنا ہے روزے تو پہلی اُمتوں پر بھی فرض ہوئے۔ حضرت آدمؑ پر بھی فرض ہوئے ان کے دور میں تو خوراک ایسی تھی ہی نہیں صرف پھل کھائے جاتے تھے۔ 
رزق بڑھنے کے روحانی معنی معرفت میں اضافہ کے معنوں میں ہے۔ قانون فطرت ہے کہ انسان کو جب شاک پہنچتا ہے تو اس کا دماغ متحرک ہو جاتا ہے۔ جب ہمیں بھوک لگتی ہے تو ہمارے تمام حواس بیدار ہو جاتے ہیں۔ تخیل کی بے پناہ قوت پیدا ہو جاتی ہے۔ بڑی بڑی باتیں سامنے آتی ہیں، انکشاف ہوتے ہیں۔ بھوک و پیاس کا تجربہ دراصل انسان کی تخلیقی فکر بڑھانے کے لیے ہے۔ اس سے انسان کی روحانی غذا میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ حضرت آدم ؑ کوجنت ملی تو باغات کے ہجوم میں اسے ایک پھل کھانے سے روک دیا گیا۔ آدم ؑنے یہ پابندی خود پر عائد کر لی۔ یعنی وہ جنت میں حالت روزہ میں تھے مگر اُنہوں نے جب یہ پابندی توڑی تو جنت سے نکال دئیے گئے۔ یہ واقعہ آج بھی پیغام دیتا ہے کہ جو اللہ کی لگائی ہوئی روک پر رُک جائے گا وہی جنت میں جائے گا۔ جو روکنے پر بھی نہیں رُکے گا، پرہیز گار نہیں ہوگا، نافرمان ہو گا، جنت اسکے لیے نہیں ہے۔ 
روزہ رکھتے ہوئے ہم شعوری طور پر اس کا فہم بھی رکھتے ہیں۔ کیا ہماری بھوک و پیاس کسی تخلیقی فکر کو جنم دیتی ہے۔ ہمارا احساس بیدار ہوتا ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہمارا قلب اطاعت و فرمابنرداری کی طرف مائل ہوتا ہے۔ فرمان نبوی ؐ ہے کہ اللہ کے نزدیک صرف وہ روزہ مقبول ہے جو ایمان و احتساب کے جذبے کے ساتھ رکھا جائے۔ حدیث ہے کہ تم میں سے کوئی روزہ سے ہو تو بدکلامی اور فضول گوئی نہ کرے۔ نہ شور و شر کرے۔ کوئی اگر اس کو گالی دے اور لڑنے اور جھگڑنے پر آمادہ ہو تو یہ کہہ دے کہ میں روزے سے ہوں۔ 
حضرت ابوعبیدہؓ سے روایت ہے کہ حضورؐ نے فرمایا روزہ ڈھال ہے جب تک اس کو پھاڑ نہ دیا جائے۔ وسط میں سوال آیا، کس سے پھاڑ دے۔ ارشاد ہوا، ”جھوٹ یا غیبت سے“ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ روزہ رکھتے ہوئے یہ یاد رکھیں کہ اس تربیتی کورس سے مجھے سال بھر غلط کاریوں سے بچنا ہے، وعدہ خلافی نہیں کرنی، ناجائز منافع نہیں کمانا، کسی کا حق نہیں مارنا، کسی کا رزق نہیں چھیننا، کوئی لڑے بھی تو اس سے لڑائی نہیں کرنی۔ فرض دیانتداری سے ادا کرناہے۔ مجھے ماہِ صیام میں اپنا عزم اور حوصلہ مستحکم کرنا ہے تاکہ میں سارا سال نیکیوں کے موسم بہار کی مہک پھیلاتا رہوں۔ عام طور پر ہمارا روزہ محض دن بھر کی بھوک و پیاس کا نام بن کررہ جاتا ہے،کیونکہ یہ رسم بن کر رہ گیا ہے اس میں ہمارے شعور کا عمل دخل نہیں ہوتا۔ ہمیں سمجھنا ہوگا کہ اس ماہ کے تربیتی کورس کے ثمرات سارے سال پر محیط ہونے چاہئیں۔ اگر ہم تربیتی کورس مکمل کرنے کے دعوے کے باوجود سال بھر اس پر عمل پیرا ہونے میں نا کام رہیں تو کیا کسی فیل ہو جانے والے کو انعام سے نوازا جا سکتا ہے؟
عرض یہ ہے کہ ہمیں اپنی ریاضت و عبادت کو اپنے شعور کا حصہ بنانا ہے۔ فکرو اجتہاد سے۔ قرآن حکیم میں اللہ تعالیٰ نے مطیع و فرمانبردار بندوں کی صفت یہ بیان کی ہے کہ وہ آیات الٰہیہ کی کورانہ تقلید نہیں کرتے۔ یعنی وہ ان پر حکیمانہ غور کرتے ہیں۔ سورۃ الاسراء میں ہے کہ اورجو کوئی اس دنیا میں اندھا رہا، وہ آخرت میں اندھا رہے گا۔ اور راستے سے یک قلم بھٹکا ہوا۔ ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے ہاں روح عبادت سے آشنائی کے لیے کوئی ذہنی بیداری کا درس نہیں دیتا ہے۔ کوئی ادارہ یا تحریک نہیں جو art of thinkingفن تفکّر کی روشنی میں ہماری فکر ی راہنمائی کرے۔ کوئی قرآنی پیغام عام نہیں کرتا کہ تم تفکر نہیں کرتے، عقل سے کام نہیں لیتے۔ انعام اور اجر کے لیے لازم ہے کہ ہماری عبادت میں ہمارا شعوری حصہ بھی ہو۔ 
علامہ ابن القیم ؒنے روزہ کے اسرار و مقاصد پر یوں روشنی ڈالی ہے کہ ”روزہ جوارح ظاہری اور قوائے باطنی کی حفاظت میں بڑی تاثیر رکھتا ہے۔ فاسد مادہ کے جمع ہو جانے سے انسان میں جو خرابیاں پیدا ہو جاتی ہیں اس سے وہ اس کی حفاظت کرتا ہے،جو چیزیں مانع صحت ہیں ان کو خارج کر دیتا ہے اور اعضاء و جوارح میں جو خرابیاں ہواوہوس کے نتیجہ میں ظاہر ہوتی رہتی ہیں و ہ اس سے دفع ہوتی ہیں، و ہ صحت کے لیے مفید اور تقویٰ کی زندگی اختیار کرنے میں بہت ممدو معاون ہے۔“

سوموار، 13 جون، 2016

انسان کون ہے۔۔۔؟


کہاجاتا ہے کہ جن دنوں روسی ناول نگار گوگول پیٹرز برگ میں بے کاری کے دن گزار رہا تھا۔ پشکن کی سفارش پر اسے یونیورسٹی میں لیکچرر کی نوکری مل گئی۔ مگر وہاں گوگول ایک لیکچر دے کر بھاگ گیا اور دوبارہ یونیورسٹی نہیں گیا۔ پشکن نے وجہ پوچھی تو کہنے لگا”جتنا مجھے آتا تھا میں نے پڑھا دیا۔ اب میرے پاس کہنے کو کچھ نہیں، وہاں جا کر طالبعلموں کو کیا پڑھاؤں گا۔“ میں نے بھی علمی ذوق کے حامل اورکتاب دوستی کے پیامبر دانشور دوست پروفیسر میاں انعام الرحمن سے اپنی کم مائیگی اور نالائقی کا تذکرہ کیا اور پڑھنے لکھنے سے معذرت چاہی۔ مگر کیا کیا جائے کہ میاں صاحب مبالغہ کی حد تک ”بابرکت“ شخص ہیں اور حلقہئ یاراں میں ان کا شمار ایسے افراد میں ہوتا ہے کہ جن سے کسی بھی نشست و گفتگو کے بعد علمی تشنگی بڑھ جاتی ہے وہ جب بھی گوجرانوالہ سے تشریف لاتے ہیں، کتابوں کی باتیں کرتے ہیں اور کتب بینی کا درس دیتے ہیں۔ گذشتہ دنوں آئے اور بڑی محبت سے عالمی شہرت یافتہ یہودی مذہبی و روحانی سکالر ابراہام جوشو اہیشل کی کتابWho is Man?کا اُردو ترجمہ عنایت کیا، اور اپنے مخصوص علمی انداز بیاں سے کتاب، صاحب کتاب اور مترجمین کا تعارف بھی کروایا اور مجھے کتاب پڑھنے کی ”دعا“ بھی دی۔ میں نے کتاب لی،شکریہ ادا کیا اور پھرمیری نظر ٹائٹل پر ہی ٹھہر گئی ”انسان کون ہے؟“ اور دیگر تحریریں، تقدیم و ترجمہ، قیصر شہزاد، عاصم بخشی۔ سادہ مگر بامعنی ٹائٹل ایک راسخ العقیدہ روحانی عالم کی انسان بارے سوچنے اور فکر کرنے کی جسارت کا عکاس دکھائی دیا۔ میں نے ورق اُلٹنے شروع کیے اور پھرمیری بے قراری سطر سطر بڑھتی گئی۔صفحہ نمبر366پر پہنچا تو لگا ابھی تو شروع کیا تھا۔ فکر، تجزیے، روحانیت سے بھرپور تحریر اور محبت،محنت کے امتزاج سے قابل فہم ترجمہ نے مزہ دو آتشہ کر دیا۔”انسان بیک وقت باقی نامیاتی فطرت کا حصہ بھی ہے اور روح الہٰی کے لا متناہی فیضان کا بھی۔ دائرہ وجود میں ایک اقلیت ہوتے ہوئے اس کا مقام خدا اور درندوں کے درمیان کہیں ہے۔ تنہا رہنے کی صلاحیت سے محروم ہونے کے باعث اسے ان دونوں میں سے کسی ایک سے مل جانا ہو گا“۔
والٹیر نے کہا تھا کہ خدا نے انسان کو اپنی صورت پر بنایا تھا اور انسان نے اس کے جواب میں خدا کو اپنی صورت کے مطابق بنا لیا۔ جی ہاں!خدا، کائنات اور انسان کی تثلیت میں انسان کی اہمیت مسلم ہے۔ قرآن مجید ”والناس“ پر ختم ہوتا ہے اور انسان کے معنی آنکھ کی پتلی کے بھی ہیں۔ گویا انسان کائنات کی آنکھ ہے جس کا نورحق ہے کہ خدا کا عرفان اور کائنات کی پہچان انسان کے وجود سے ہی وابستہ ہے۔ اس یہودی روحانی عالم کے قلم و فکر میں بھی ہمیں خدا انسان کی تلاش میں نظر آتا ہے۔375صفحات پر مشتمل اس کتاب کو مکتبہئ اشارات اسلام آباد نے شائع کیا ہے۔ فلسفے کے استاد ڈاکٹر قیصر شہزاد اور ڈاکٹر عاصم بخشی نے اسے اُردو کے قالب میں ڈھالا ہے۔ دونوں مترجمین نے بیسویں صدی کے اہم دانشوروں کی اہم تحریروں کو اُردو میں منتقل کرنے کے جس کارِخیر کا آغاز کیا تھا یہ کتاب اس کی اہم کڑی ہے۔ اس کتاب میں ابراہام جوشوا ہیشل کی کتاب ”انسان کون ہے؟“ اور ان کی مختلف کتابوں سے منتخب کردہ گیارہ مزید اجزاء کا ترجمہ کرکے کتاب میں شامل کیا گیا ہے۔ ہیشل کے فراہم کردہ حواشی آخر میں دئیے گئے ہیں جبکہ مترجمین کے توضیحی تبصرے فٹ نوٹس میں ساتھ ساتھ موجود ہیں۔ کتاب کے آخر میں ہیشل کی تحریروں اور انکی فکر پر کیے گئے تحریری کام کی مختصر کتابیات کی فہرست بھی دی گئی ہے۔ فہرست میں پہلے حصے میں ہیشل کی تحریروں کی فہرست ہے جبکہ دوسرے حصے میں ہیشل کے حوالے سے لکھی جانے والی چودہ تحریروں کی فہرست دی گئی ہے۔ ڈاکٹر قیصر شہزاد نے کمال مہارت سے26صفحات کے جامع مقدمہ میں مصنف، اسکی شخصیت اور فکر کا بھرپور تعارف کروایا ہے۔ یہ مقدمہ جہاں ہیشل کی فکر و خدمات کا بھرپور احاطہ کرتا ہے وہیں ڈاکٹر قیصر شہزاد جیسے فلسفے کے استاد کی فکری و قلمی مہارت کا عکاس بھی ہے۔ آخر میں ڈاکٹر عاصم بخشی نے تجزیاتی انداز میں مطالعہئ ہیشل کے حوالے سے چند معنی خیز گذارشات بھی رقم کی ہیں۔اُردو کتاب کی ایک اور خاص بات یہ ہے کہ پیش لفظ مصنف کی بیٹی سوزانہ ہیشل نے لکھا ہے جو خود ڈار ٹماؤتھ کالج امریکہ میں شعبہئ مذاہب کی پروفیسر ہیں اور لکھتی ہیں کہ ”میرے والد نے ایک ایسے ماحول میں درس و تدریس کے فرائض انجام دئیے جہاں مسلمان علماء کے ساتھ ان کے بہت کم روابط ہو سکے۔ البتہ وہ عربی زبان سے واقف تھے اور انہوں نے ازمنہ وسطیٰ کے یہودی اور مسلمان فلسفیوں پر کام بھی کیا۔ موسیٰ ابن میمون کی سوانح لکھتے ہوئے انہوں نے اسلام کا ذکر مدح و توصیف کے ساتھ کیا اور اسکے توحید قطعی کے نظریہ اور ہر طرح کے شرک کی مخالفت پر کھل کر تعریف کی۔ یہ جان کر ان کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ ہوتا کہ انکی تحریریں پاکستان کے مسلمان قارئین تک پہنچ رہی ہیں اور مجھے معلوم ہے کہ وہ اپنے مسلم قارئین سے مل کر بہت خوش ہوتے“۔ وہ مزید لکھتی ہیں کہ ”تاریخ کے دائرے میں ایک ایسا کام کر جانا جو مراد خداوندی کی تکمیل کا راستہ ہموار کرے۔ تاریخ کے تاریک اور خطرناک زمانہ حال میں، جب کہ ایمان و مذہب کو کئی طرح کی تحریفات کا سامنا ہے،یہ اہم کتاب اردو میں سامنے لائی جا رہی ہے۔“
ترجمے سے محبت کرنے والے مترجمین کی یہ کاوش یاد دلاتی ہے کہ یورپ نے اپنی نشاۃ ثانیہ کے دوران ترجمہ کاری کے ذریعے ہی یونانی اور اسلامی فکر و فلسفہ، فکری تحریکوں، سماجی رویوں، تاریخ و سیاست اور سائنس و طب سے متعلقہ صدیوں پر مبنی علمی و فکری ورثہ کو اپنے ہاں منتقل کیا۔ یہ بات بجا طور پر کہی جا سکتی ہے کہ ترجمہ کاری کا فن نہ ہوتا تو شاید مختلف علوم ارتقائے انسانیت میں کردار ادا کرنے سے محروم رہتے۔ تھیالوجی جیسے خشک موضوع سے تعلق رکھنے والی کتاب کا ترجمہ مشکل کام ہے،تاہم اس کتاب کے مطالعے سے واضح ہوتا ہے کہ مترجمین ادراک رکھتے ہیں کہ ترجمے میں الفاظ کا صحیح استعمال بڑی اہمیت رکھتا ہے، اگر مترجم ایسا کرنے میں ناکام رہے تو مرکزی خیال، مجموعی تاثر اور خیال کی شدت تینوں متاثر ہو سکتے ہیں۔ ڈاکٹر قیصر شہزاد اور ڈاکٹر عاصم بخشی کی کاوش قابل تحسین ہے کہ مترجمین لفظوں کے سیاق و سباق سے آشنائی کی بدولت رواں، قابل فہم اور با مقصد ترجمہ کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔ ڈاکٹر عاصم بخشی کے اپنے الفاظ میں ”شاعرانہ، صوفیانہ، فلسفیانہ اور ادبی روایت کی امین، اردو جیسی ایک نسبتاًجدید زبان میں ہیشل کا ترجمہ شاید ہمیں کچھ ایسے نئے اور نادر زاویے کھولنے میں مدد دے جن سے مغربی جدیدیت سے متاثر مشرقی ذہن نہ صرف اپنی روایت کا تازہ احیاء کر سکے بلکہ تہذیبی روایتوں کا ملاپ بھی ممکن ہو، یہ اس لیے بھی اہم ہے کہ شاید اب ہم تاریخ کے اس نازک موڑ پر کھڑے ہیں جہاں تہذیبی روایتوں کے دم توڑتے معرکوں سے زیادہ ہمیں انسان اور ایک عالمگیر ابھرتی تہذیب کی راہ متعین کرانے کی ضرورت ہے“۔ 
کتاب کے کل بارہ ابواب میں سے تین ابواب کا ترجمہ ڈاکٹر قیصر شہزاد نے کیا ہے جن میں ”نبی کس طرح کا انسان ہوتا ہے؟“، ”انسان کون ہے؟“ اور ”ہم مل کر کیا کر سکتے ہیں؟۔“جبکہ نو ابواب، ”دعا بطور نظام حیات“، ”الہٰیات عمق“، ”تین نکاتِ آغاز“، ”ارفع“، ”سرّ“، ”ایک وجودیاتی مفروضہ“، ”انفعال خداوندی“، ”مذہب: آزاد معاشرے میں“، ”ابن میمون کے آخری ایام“، کا ترجمہ ڈاکٹر عاصم بخشی نے کیا ہے۔خوبی یہ ہے کہ دوران مطالعہ یہ کم مواقع پر کھٹکتا ہے کہ مختلف ابواب کا ترجمہ مختلف قلمکاروں کی سعی ہے۔ یہ دونوں مترجمین کی قلمی یکجہتی اور فکری محبت کا ثبوت ہے۔  
مارٹن بیوبر یا کانٹ کے انسان کے بارے اٹھائے گئے فلسفیانہ سوالوں یا مباحث کے برعکس ہیشل نے ابتداء ہی میں واضح کر دیا کہ انسان کون ہے؟ کوئی سوال نہیں بلکہ ایک مسئلہ ہے۔ سوال تو کم علمی یا تجسس کی کوکھ سے جنم لیتا ہے لیکن مسئلہ ضرورت سے زیادہ جاننے اور علم میں محسوس ہونے والے داخلی تعارض سے پیدا ہوتا ہے۔ ہیشل تصور انسان کے تاریخی تناظر کا علمی جائزہ لیتا ہے۔ اور آخر میں مارٹن ہائیڈیگر اور وجودیت کے فکری پس منظر سے تعلق رکھنے والے مفکرین کے تصور انسان کو ہدف تنقید بناتا ہے۔ ان سے ہیشل کا اختلاف یہ ہے کہ یہ انسان کو بے نام، بے چہرہ اور بے حس وجود کا ایک پہلو قرار دیتا ہے۔ اس کے نزدیک انسان کا اہم مسئلہ اس کا ”ہونا“ نہیں اسکا ”جینا“ ہے۔ ہیشل انسان کا تعلق مردہ یا   لا تعلق ماورائیت سے جوڑنے کی بجائے ”خدا“ کی زندہ ماورائیت سے جوڑتا ہے اور اسے الوہی انداز میں جینے کی تعلیم دیتا ہے۔ عمیق نظروں سے مطالعہ کیا جائے تو ہیشل کا تصور انسان فلسفیانہ اور منطقی حوالے سے بھی اپنے معاصرین کے تصور انسان پر سبقت لے جاتا ہے۔ تاہم خود انسان کو اس حوالے سے غور و فکر کی ضرورت ہے۔ بیدل نے کیا خوب کہا تھا کہ دونوں عالم خاک ہوئے تب کہیں انسان کا نقش بنا۔ اے انسان، اے بہار نیستی اپنی قدر کو پہچان؟ ایسا ہی پیغام ہیشل کا ہے وہ لکھتا ہے ”کائنات تو مکمل ہو چکی ہے، لیکن شاہکار ابھی نامکمل ہے اور ابھی بھی تاریخ کے اندر تخلیق کیا جا رہا ہے۔ خدا کے عظیم تر منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے انسان کی ضرورت ہے…… زندگی،مٹی اور پارسائی وہ سانچہ ہے جس میں خدا تاریخ کی تشکیلِ جدید چاہتا ہے…… خدا رحمت اور پارسائی کا حکم دیتا ہے اور اس کا یہ حکم محض عبادت گاہوں میں ہی نہیں بلکہ تاریخ اور زمانے میں ہی بجا لایا جاسکتا ہے۔ خدائی مشن کی تکمیل انسان صرف تاریخ کے اندر ہی کر سکتا ہے“
یہ کتاب تشنہ ذہنوں کی پیاس بجھانے کے لیے نہیں بلکہ فکری اور روحانی تشنگی بڑھانے کے لیے ہے۔ ایسے میں جب دنیا ایک روحانی صحرا بن چکی ہے۔ انسان اس کرب سے نکلنے کے کسی راستے اور انسان ہونے کی کسی نئی معنویت کے متلاشی ہیں۔ کیا انبیاء کے پیغام کو زندہ رکھنے کے دعویداروں سے کسی مدد کی توقع کی جاسکتی ہے؟ یا پھر کسی موجود کو ”انسان“ کہلانے کے قابل کیا شے بناتی ہے؟ میں ہوں! مگر یہ ”میں“ کون ہے؟  اور ”ہونے“ سے کیا مراد ہے؟۔ مذہب کہاں مل سکتا ہے؟ ایسے ہی بہت سوال اس کتاب میں اٹھائے گئے تاکہ انسان فہمی کو کائنات کے وسیع تناظر میں پرکھا جا سکے۔ ایسے ہی بہت سے سوال جو آج کے دور کے انسان کو در پیش ہیں اور ہم سب کی توجہ کے طالب ہیں 
یہ کتاب پڑھتے ہوئے مجھے علامہ اقبال کے خطبات بہت یاد آئے۔ آج بھی ہمیں فہم انسان و مذہب کے لیے فکری تغیراور مذہبی افکار کی تشکیل جدید کی اشد ضرورت ہے۔ایسے میں اس کتاب کا اردو ترجمہ اور اس کا مطالعہ ایک اہم بات ہے۔ یہ کتاب مذکورہ مضامین کے حوالے سے پختہ فکر بحث میں معاون ہو سکتی ہے۔ ہیشل کے خیال میں بین المذاہب سرگرمی کی شرط اول ہی ایمان ہے۔ اہل مذاہب کو مکالمہ عقاید پر مباحثے کی نیت سے نہیں بلکہ ”الہٰیات عمق“ کی سطح پر کرنا چاہیے۔ ہیشل کے مباحث سے مذہبی فکر نو کی امید بھی جنم لیتی ہے۔ مذہبی اور فلسفیانہ موشگافیوں کی تاریخ سے آشنائی کے باوجود وہ مایوس آدمی نہیں تھا۔ وہ سچے اور کھرے مذہبی انسان کی طرح پُر امید شخص تھا۔ اس کی تحریروں کے مطالعے سے یہ بھی اخذ ہوتا ہے کہ مذہبی انسان کبھی مایوس نہیں ہوتا۔ امید ہی تغیر کی جان ہے،شاید اسی لیے وہائیٹ ہیڈ نے کہا تھا کہ ”زندگی کو مستقل طور پر ایک ہی قالب میں محبوس رکھنا نا ممکن ہے۔ اس لیے مذہب کو بھی سائنس کی طرح بدلتے ہوئے تقاضوں کا لحاظ رکھنا پڑے گا۔ اس کے اصول ابدی ہو سکتے ہیں۔ لیکن ان اصولوں کی تعبیرات تو حالات کے ساتھ بدلتی رہیں گی“۔  


جمعہ، 3 جون، 2016

”تخلیقی اقلیت“کا خواب



تاریخ گواہ ہے کہ اقوام و ادیان کے عروج و زوال کی ذمہ داری عمومی طور پر حکمرانوں،قائدین اور مذہبی راہنماؤں کے کندھوں پر ہی ہوتی ہے لیکن ایک سنجیدہ پہلو یہ بھی ہے کہ جیسے جیسے تعلیم اور شعور بڑھتا ہے اس سے عوام میں ایک ایسا طبقہ ابھرتا ہے جو عوامی مسائل پر سنجیدگی سے غور کرتا ہے اور اس ضمن میں اپنی رائے کا بھی اظہار کرتا ہے۔ یہ طبقہ اہل فکر کا ہوتا ہے۔عزم صمیم کا حامل یہ طبقہ سماجی نا قدری، بار بار مایوسیوں اور بعض اوقات ملامت کا ہدف بننے کے باوجودتفکرو مکالمے کا عمل جاری رکھتا ہے۔تہذیبوں کے عروج و زوال کا مورخ ٹائن بی گہرے مطالعے اور تجزیے کے بعد اہل فکر کے ایسے طبقے کو بہت اہمیت دیتا ہے اور اسے تہذیب میں کار آمد ”تخلیقی اقلیت“ قرار دیتے ہوئے تہذیبی و سماجی زندگی کے ارتقا کے لیے لازمی گردانتا  ہے۔ بلاشبہ یہ وہ اقلیت ہوتی ہے جو قوم کو فوڈ فار تھاٹ فراہم کرتی ہے اور افکار تازہ کی علمبردارہوتی ہے۔اس طبقے کے افکار کی جدلیت سے نئے افکار جنم لیتے ہیں اور یوں معاشرے کے پیچیدہ اور روز افزوں مسائل کے حل کی تلاش کا عمل شروع ہوتا ہے۔زوال پذیر معاشروں میں اہل فکر کی ضرورت اور ذمہ داریاں مزید بڑھ جاتی ہیں۔ یہ بات میرے لیے خوشگوار حیرت کا موجب بنی ہوئی ہے کہ پاکستان کے دور افتادہ قصبہ کڑیانوالہ میں اہل فکر کا ”تھنکرز فورم“اپنے کردار سے نہ صرف آگاہ ہے بلکہ سماجی ارتقاء میں اپنا فعال کردار ادا کر رہا ہے،تعلیم،خدمت،رضا کاریت اور مکالمہ یہ وہ پہلو ہیں جو ”تھنکرز فورم“اور ”کئیرز پاکستان“دہمتھل کے سماج سدھار نصب العین کے اصل اہداف ہیں۔ گزشتہ چند ہفتوں سے اہل فکر کے اس طبقے نے علاقہ میں مذہبی ہم آہنگی اور مساجد کے مرکزی کردار کے فروغ کے لیے آئمہ مساجد اور علمائے دین کے ساتھ مکالمے کی مؤثر روایت کو رواج دیا ہے۔ مجھے ان کی کئی نشستوں میں شرکت کا موقع ملا۔ میں ان کی مثبت فکر اور سنجیدہ عمل کا مداح ہو گیا ہوں۔ گذشتہ دنوں بھی مجھے جواں عزم اور خیال افروز اعمال کے حامل تھنکرز فورم کے راہنما عاطف رزاق بٹ کی جانب سے مختلف الخیال علماء اور مساجد کمیٹیوں کے کار پردازان سے گفتگو کی دعوت ملی تو تمام تر مصروفیات کے باوجود میرے دل نے جانے کے لیے حامی بھر لی۔ مکالمے میں اسلامی علوم کے پی ایچ ڈی سکالرز،علماء، اساتذہ،سول سوسائٹی،صحافیوں اور نوجوانوں پر مشتمل حاضرین موجود تھے۔علامہ رضا المصطفیٰ نے کمال بلاغت سے مقاصد کا تعارف کروایا اور پچھلی نشستوں کا خلاصہ پیش کیا کہ اصل مقصد گلی محلوں میں موجود مساجد کو فعال کر کے دینی مراکز بنانا ہے جہاں عبادت و خدمت کا توازن قائم ہو۔دین کا معاشرتی پہلوہمارے اعمال و افکار سے محو ہو گیا ہے۔ ہمیں سماج سازی میں اسلامی معاشرے کی تشکیل کے اصولوں کو متعارف کروانا ہے۔صاحبزادہ علامہ حامد فاروق نے علمی انداز میں آئمہ اور مساجد کے معاشرتی کردار پر روشنی ڈالی اور کہا کہ آئمہ اور خطیب حضرات پر ساری ذمہ داری نہیں ڈالی جا سکتی،یہ اجتماعی دانش کا متقاضی معاملہ ہے۔ہمیں فروعی معاملات پر الجھاؤ کو بڑھانے کی بجائے سلجھاؤ کا پیغام دینا ہے اس کے لیے فکری مکالمہ اور ابلاغ ناگزیر ہے۔
پروفیسر شعیب عارف نے مساجد کے بطور کمیونٹی سنٹر کردار کا حوالہ دیا اور کہا کہ جب تک آئمہ مساجد سماجی رابطہ کار کا کردار ادانہیں کریں گے یہ کام ممکن نہیں۔ نبی رحمت ﷺ خود لوگوں کی عیادت کرتے، ان کے معاملات میں شریک ہوتے تھے۔ جب تک آئمہ مساجد سماج سے دور رہیں گے تب تک اس ادارے کے مثبت اثرات سے سماج محروم رہے گا۔ امریکہ سے آئے ہوئے عالم دین علامہ بشارت شازی نے کہاکہ یورپ و امریکہ میں مساجد حقیقی معنوں میں کمیونٹی سنٹر کا کردار ادا کر رہی ہیں۔ جب تک حاکم مسجد سے منسلک رہے مسجد مرکز رہی تاہم ا ب بھی مسجد کو متحرک کرنے کیلئے حکمرانوں کی توجہ کی ضرورت ہے۔ قاری محمد عیسیٰ، علامہ ادریس جلالی،ذاکر رضا شاہ، قاری رحمت اور علامہ شہباز احمد و دیگر کا بھی ایسا ہی خیال کہ مسلکی اختلاف کی فضا نے بھی مساجد سے دوری میں کردار ادا کیا ہے۔ میں نے بصد احترام عرض کیا کہ مسالک و مشارب کا اختلاف صبح قیامت تک رہے گا، تاہم مسالک اور طریق کار کے اختلاف کے با وجود ہدف اور منزل ایک ہو سکتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں تعبیر کے اختلاف کے باوجود اس میں مضمر حقیقت ایک ہو سکتی ہے۔ اتحاد نام ہی اختلاف کے باوجود متحد ہونے کا ہے۔ مختلف اسباب سے لوگوں میں طرح طرح کے اختلاف پیدا ہو جاتے ہیں۔ کسی بھی تدبیر سے اختلاف کا کلی خاتمہ ممکن نہیں۔ ہمیں ایسی باتوں کے تذکرے کو معمول بناناہے جس میں اتفاق ہے۔ وحی اللہ کی روشنی میں تشکیل پانے والا معاشرہ روشن خیال اور اعتدال پسند معاشرہ ہوتا ہے۔ نبی رحمت ﷺ نے اپنے کردار و عمل کے ذریعے اتباع وحی میں بالفعل ایسا ہی معاشرہ تشکیل دیا جو افراط و تفریط میں بٹے ہوئے انسانوں کیلئے انتہائی پر کشش تھا۔
ہم میں سے ہر ایک کو اپنے اپنے دائرے میں رہتے ہوئے قرآن و ایمان کے انوارات کو پھیلانے کی کوشش کرنی چاہئے اور اپنی توانائیوں کو دوسروں کے ساتھ جھگڑے میں خرچ نہیں کرنا چاہیے۔ اگر ہم کسی سے اتفاق نہ کر سکیں تو کم از کم ہمیں اختلاف کی آگ بھڑکانے سے تو گریز کرنا چاہئے۔ ہمیں نہ صرف مسلمانوں کے ساتھ جھگڑنے، ان پر تنقید کرنے اور ان کی عیب جوئی سے مکمل اجتناب کرنا چاہئے بلکہ ہمیں ہر اچھا کام کرنے والے کی تحسین کرنے اور ہر کلمہ گو سے تعاون کرنے کی سعی کرنے چاہئے۔ ابو سعید ابوالخیر ؒ کا قول ہے کہ خلق خدا کی جس میں بھلائی نہ ہو وہ کام خدا کو بھی پسند نہیں۔ اسلام کے پانچ ستونوں نماز، روزہ، کلمہ، زکوٰۃ، حج کا تذکرہ بہت ہوتا ہے۔ ریاضت و تفکر سے واضح ہوتا ہے کہ یہ محض ستون نہیں ان پر خلق خدا کی خدمت کی عمارت تعمیر ہوتی ہے ان سب کا مقصد انسانوں کی بہتری اور بخشش ہے۔ حضرت بایزیدبسطامی ؒ کا قول ہے کہ ”جب میں عرش خدا وندی کے نزدیک پہنچا اور دریافت کیا، اللہ کہاں ہے؟ جواب ملا کہ اللہ میاں کو اہل زمیں کے شکستہ قلوب میں تلاش کرو“۔آئیے مل کر دین کی خدمت خلق کے جذبے کو فروغ دیں تاکہ اخوت و بھائی چارہ پروان چڑھے۔ پروفیسر تنویر احمد نوید نے کہاکہ حضرت سری سقطی ؒ کا کہنا ہے کہ ”حسن خلق یہ ہے کی مخلوق خدا کو آزار نہ پہنچاؤ اور لوگوں کی دی ہوئی تکالیف کو برداشت کرو“۔ ڈاکٹر شمشاد احمد شاہین کا کہنا تھا کہ فیصلہ کر لینا بہت اہم سہی مگر فیصلہ اس وقت تک ایک آرزو ہی رہے گا جب تک اس پر عمل نہ ہو، یہاں بیٹھے علماء اور سول سو سائٹی کے نمائندے اپنی اپنی بساط بھر کوشش سے عملی آغاز کریں تا کہ نتیجہ بھی نکل سکے۔ سوشل ورکر چوہدری جاوید اعظم کہنے لگے کہ اللہ تعالیٰ کبھی اس شخص کو ہدایت سے محروم نہیں رکھتا جو اس کیلئے انکسار، صبر، اعتماد اور استقلال سے کوشش کرتا ہے۔ وہ ہمیں بھٹک جانے کی ڈھیل بھی اسی لیے دیتا ہے کہ ہم گمراہی سے اور اچھی طرح واقف ہو جائیں اور اپنی نیتوں کا امتحان دے سکیں، ہو سکتا ہے کہ کامیابی دم آخر تک حاصل نہ ہو یا ایسی صورت یا موقع پر نصیب ہو جس کا وہم و گمان بھی نہ تھا۔ 
میں حاضرین کی باتیں سن رہا تھا اور ان کے شوق اور جسارت کی داد دے رہا تھا۔ میں نے عاطف رزاق سے پوچھا کہ آخر اس کارِ خیر کے لیے مکالمے اور مباحثے کی ضرورت کیا ہے؟ توا س نے کمال تدبر سے جواب دیا کہ جھگڑوں کا آغاز بھی چونکہ انسانی دل و دماغ میں ہوتا ہے اس لیے امن وخدمت کی فصلیں بھی انسان کے قلب و دماغ میں ہی بونی چاہئیں“۔ میرا خیال ہے کہ ایک آزاد اور متحرک سماج کی عظمت میرے حقِ آزادی کے شعور اور میرے آزاد ہونے کی قابلیت میں نہیں بلکہ میرے ساتھی انسان کے حقِ آزادی کے شعور و فہم اور اس کی آزاد ہونے کی قابلیت میں بھی ہے۔ عبادات ہستی کی بے وقعتی کے خلاف رد عمل ہیں۔ عبادات صرف فرد کو اپنے سے منسلک سے نہیں کرتیں بلکہ اسے حتمی رشتوں میں زندگی کا احساس بھی عطا کرتی ہیں۔ عبادات دانش و بصیرت سے جنم لیتی ہیں یہ انسان کو اس طرح اکیلے کھڑا ہونا سکھاتی ہیں کہ وہ تنہا نہ ہو۔ آج عبادات کا حقیقی مفہوم متعارف کروانا، مساجد کو حقیقی عبادت گاہ کے تصور سے جوڑنے کی کوشش کرنا اور سماج کو انسانی اخوّت کے مذہب کے پیغام کی یاد دہانی کروانا یقینا اہل فکر کا کام ہے اور لائق تحسین بھی ہے۔ نوجوانوں کے اس فکری گروہ کا مثبت کردار دیکھ کر مجھے حسن عبدالحکیم کی کتاب King of the Castleکے مقدمے کی یہ سطور یاد آگئیں کہ ”ایک منظم اور صالح انسانی معاشرہ ان لوگوں سے کبھی تعمیر نہیں ہو سکتا جو ایسے معاشرے کی تخلیق کو اپنا بنیادی مقصد بنا لیتے ہیں۔۔۔ایک اچھامعاشرہ صرف ان افعال افکار اور محسوسات کی ضمنی پیداوار کے طور پر اُبھر سکتا ہے جن کا ہدف انسانی زندگی کے حوادث سے ماوراہو،جن کا مقصد دارالخلد ہو۔“ اس علاقہ کے جوانوں کی تخلیقی اقلیت نے بھی ایسا ہی خواب دیکھا ہے۔دُعا ہے کہ یہ جلد سے جلد تعبیر حاصل کرے۔ اس کے لیے پروردگار نے جنہیں حرکت کی توفیق دی ہے انہیں استقلال بھی عطا کرے۔ (آمین)



سوموار، 16 مئی، 2016

فلاح معاشرہ اور مساجد و آئمہ مساجد کا کردار

فلاح معاشرہ اور مساجد و آئمہ مساجد کا کردار 



ہمارا دین رحمت جس ضابطہ حیات کی دعوت دیتا ہے اس میں اجتماعی فوز و فلاح کا راز مضمر ہے اور ایک ایسے خدا پرست معاشرے کا داعی ہے جس کے افراد ایک خالق و مالک کے رشتے سے باہم اخوت و محبت رکھتے ہیں، ان کی پوری زندگی انتہائی نظم و ضبط اور کامل اطاعت کا مظہر ہو اور اس میں انتشار، افتراق، بے ترتیبی کا گذر نہ ہو، اس کے رکوع و سجود بھی انہی صفات کے حامل ہوں اور تمام شعبہئ ہائے حیات میں بھی یکجہتی کا مظاہرہ دکھائی دے۔ 
اسلام کے تصور مدنیت میں لوگوں کے شعور کی تربیت اسی اساس پر ہے کہ عبادت صرف دعا اور مناجات تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کی معنویت زندگی کے ہر شعبے پر محیط ہے۔ اس تناظر میں سماج میں مسجد کے مقام کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ محض مقام صلوٰۃ نہیں ہے بلکہ اسلامی ریاست کا دارالامارت بھی ہے اور اس کا منبر مقام وعظ و تذکیر ہی نہیں بلکہ ریاستی پالیسی کے اعلانات کی سرکاری جگہ ہے۔ اسلام کا یہ امتیازی وصف ہے کہ اس نے مساجدکی تقدیس و حرمت کو وسیع معنویت عطا کی ہے اور انہیں اس نظام حیات کی تربیت گاہ قرار دیا ہے جو دین و دنیا دونوں پر محیط ہے۔ تھنکرز فورم کڑیانوالہ کے سماجی راہنما عاطف رزاق بٹ اور کیئرز پاکستان دہمتھل کے سرپرست پروفیسرتنویر احمد نوید سماج سدھار کے لیے ہر لمحہ متحرک رہتے ہیں اور اس کار خیر کے لیے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے۔ علاقے میں اسلامی بھائی چارے کا فروغ ان کے مشن کی نمایاں ترجیح ہے انہوں نے بڑی جہاندیدگی سے ”فلاح معاشرہ میں مساجد اور آئمہ مساجد کا کردار“ کے موضوع پر چراغ اعظم ٹرسٹ بھنگرانوالہ کے اشتراک سے مکالمے کی فکر انگیز محفل کا اہتمام کیا اور خلوص نیت سے علاقہ کے ممتاز علمائے دین اور آئمہ مساجد جو مختلف مسالک سے تعلق رکھتے تھے ان کو مدعو کیا۔ مکالمے میں مجھ نا چیز سمیت، جامعہ گجرات کے پروفیسر ڈاکٹر غلام علی کو بھی شرکت کی دعوت دی۔ اتوار 15 مئی کے روز امریکہ میں مقیم دانشور جاوید اعظم چوہدری کی میزبانی میں مکالمے کی محفل میں شرکت خوشگوار حیرت کا موجب بنی۔میزبان چوہدری جاوید اعظم نے تعارفی کلمات میں واضح کیا کہ مسلمانوں کی اجتماعی زندگی میں مسجد کا رول کلیدی رہا ہے۔ رسول اللہ ؐاور اصحاب رسولؐ کی زندگی میں مسجد دینی، سماجی اور سیاسی تمام قسم کی مثبت اور تعمیری سرگرمیوں کا مرکز ہوتی تھی مگر آج کل محلوں میں مساجد جزیرے بن کر رہ گئی ہیں۔ ان کو آباد کرنا اور معاشرے سے جوڑنا لازمی ہے۔ میں نے عرض کیا ابتدائے اسلام میں نبی کریم ؐ امام بھی تھے اور خطیب بھی اور اسی طرح خلفائے راشدین، امراء و قائدین سب امامت و خطابت کے منصب پر فائز ہوا کرتے تھے۔ اس لیے کسی مسجد کے امام و خطیب کے لیے علم و اخلاق کے اعتبار سے مضبوط ہونا معاشرہ کی فلاح کے لیے ناگذیر ہے۔ چونکہ امام و خطیب ہی کے ذریعے مسجد اپنا روحانی، ثقافتی اور سماجی کردار ادا کرتی ہے اس لیے ان کی حیثیت مسجدوں کے ستون اور معمار کی سی ہوتی ہے۔ 
مسجد مسلمانوں کی انفرادی و اجتماعی زندگی کا ایسا مرکز و محور ہے جہاں سے ان کے تمام مذہبی، اخلاقی، اصلاحی، تعلیمی، تمدنی، ثقافتی، تہذیبی، سیاسی اور اجتماعی امور کی راہنمائی ہوتی ہے اور ہونی چاہیے۔ مسجد دین کی ہمہ گیر یت اور جامعیت کو مستحکم کرنے والے ادارے کی حیثیت کی حامل ہے۔ مسجد مسلمانوں کے درمیان اخوت و بھائی چارے کے رشتے کو مضبوط کرنے کے لیے ثمر آور کردار کی ضامن ہے۔ قرون اولیٰ میں مسجد کی حیثیت دارالخلافہ سے لے کر غرباء و مساکین کی قیام گاہ تک تھی۔ یہیں ان کی تعلیم و تربیت ہوتی اور یہیں سے دوسری قوموں کے ساتھ تعلقات کے اطوار طے ہوتے تھے۔ یہ خلیفہ کا مسکن اور معاہدات کی جگہ تھی۔ اجتماعی کاموں کی منصوبہ بندی اور مفاد عامہ کی فلاح کی پالیسیاں مسجد میں ہی تشکیل پاتی تھیں۔ جب تک سماج میں مسجد کو یہ مقام حاصل رہا، مسلمان امت واحدہ رہے لیکن جیسے جیسے سماج اور مسجد میں فاصلہ بڑھتا گیا، نظم ختم ہوتا گیا، انتشار، فرقہ واریت اور دین سے دوری بھی بڑھتی گئی۔ مساجد ہی تعلیم و تربیت کا مرکز ہوتی تھیں۔ جامعہ الازھر پہلے ایک مسجد ہی تھی اور اپنے کردار سے جامعہ میں تبدیل ہو گئی۔ اس سے مسلم سماج پر مسجد کے اثرات کا اندازہ ہو جاتا ہے۔ اس کے اثرات کم ہونے کی وجہ سے مسلم سماج کو بہت نقصان اٹھانا پڑا۔ مسجد کا سب سے اہم کام مسلمانوں میں اجتماعیت کا قیام اور اسے پائیدار بنانا تھا مگر ہمارے ہاں مسجدیں مسلکی کش مکش کے مراکز بن کر رہ گئی ہیں۔ آج جب ہم ہر لحاظ سے نشاۃ ثانیہ کا خواب دیکھ رہے ہیں تو لازم ہے کہ مسجد کو مسلم سماج سے مطلوب سطح پر جوڑ دیا جائے۔ مسلمانوں کی فکر سازی اور سماجی اصلاح دونوں کام مسجد سے لیے جا سکتے ہیں مسجد کی انتظامیہ اور اس کا امام صحیح شعور سے بہر ہ ور ہو جائے تو مسجد امت مسلمہ کے لیے ایک فکر ساز ادارے یعنی تھنک ٹینک کا کام کر سکتی ہے۔ ایسے ہی جیسے شروع میں نبی کریم ؐ نے مسجد کو مقام و مرکزیت دی تھی۔ معاشرے کی اصلاح کے لیے مسجد کو مرکز بنانے سے بہت سے تنازعے، فتنے اور فروعات ختم ہو جائیں گے۔ یقین مانیں مسجد کو اپنا حقیقی مقام مل جائے تو سماج سے بڑے مسائل ختم کیے جا سکتے ہیں۔ 
عصری منظر نامے پر نظر دوڑائیں تو عیاں ہوتا ہے کہ غیر مسلم معاشروں میں موجود اقلیتی مسلمانوں کی مساجد مسلم اکثریتی معاشرے کی مساجد سے زیادہ فعال اور بھرپور کردار ادا کر رہی ہیں۔ یہ مساجد اسلامک سنٹرز کا کردار ادا کر رہی ہیں۔ اپنی مساجد کو آباد اور فعال کرنے کے لیے ہمیں انہیں جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہو گا تاکہ لوگوں کی توجہ کا مرکز بن سکیں۔ لوگ اس طرف دلچسپی لیں گے، اس طرف آئیں گے تو ہی اصلاح اور فلاح کی تربیت ممکن ہو گی۔ ہماری مساجد میں خواتین کا داخلہ بند کر کے 52 فیصد مسلمانوں کو ویسے ہی لا تعلق کر دیا گیا ہے۔ اس حوالے سے ہمیں مجتہدانہ فکر سے کام لینا ہو گا۔ بچوں کی تعلیم و تربیت کے لیے مساجد کے ساتھ کمیونٹی سنٹرز ہونا ضروری ہے۔ تاکہ لوگ وہاں آئیں اپنی اپنی دلچسپی کے کاموں میں مشغول رہنے کے ساتھ ساتھ نماز پنجگانہ بھی خشوع و خضوع سے ادا کریں۔ مساجد میں کتب خانوں کی ثقافت متعارف کروانی پڑے گی۔ جدید ٹیکنالوجی کا استعمال وقت کا اہم تقاضا ہے۔ ہم ایئر کنڈیشنر تو مساجد میں لگا لیتے ہیں، ڈیجیٹل لائبریری قائم نہیں کرتے۔ہمیں مساجد کے فلاحی کردار کو بحال کرنے کے لیے مختلف فلاحی تنظیموں کے تعاون سے مسجدوں میں رضا کار ڈاکٹر اور فرسٹ ایڈ کی فراہمی ممکن بنانی ہو گی۔ محلہ داروں میں آگاہی مہم متعارف کروانی ہو گی۔ مساجد میں ریفریشر کورسز شروع کروانے ہوں گے۔ نمازیوں اور مسجد آنے والوں میں باہمی بھائی چارگی سے ایک دوسرے سے تعاون اور امداد کو پروان چڑھانا ہو گا۔ صرف مسجد کے لیے چندہ مانگنے کی بجائے غریب اور مستحق اہل محلہ کی مدد کے لیے متحرک کردار ادا کرنا ہو گا۔ مسجد کے ساتھ ہم بزرگ شہریوں کے بیٹھنے، اخبار پڑھنے کی سہولت وغیرہ کا انتظام کردیں تو مسجد میں آنے کا رجحان بڑھ جائے گا۔ مسجدوں میں ان موضوعات پر گفتگو کو عام کرنا جن پر ملت اسلامیہ متحد ہے۔ مسلمان اللہ کے سپاہی ہیں جن کا مرکز اور چھاؤ نی مسجد ہے۔ آئمہ مساجد کو مل بیٹھ کر اپنی اپنی مسجد کو آباد کرنے کے لیے زمینی حقائق،عصری چیلنجوں اور مستقبل کی مشکلات کے ادراک کے پیش نظر باہمی اتفاق سے لائحہ عمل ترتیب دینا ہے اور امام و راہبر کا فریضہ ادا کرنا ہے۔مختلف مسالک سے تعلق رکھنے والے علامہ رضا المصطفیٰ، قاری محمد عیسیٰ، قاری محمد نعیم، قاری غلام نبی، حافظ محمد الیاس، قاری ذوالفقار جلالی، قاری غلام محمد، قاری ساجد وٹو اور مذہبی سیاسی شخصیت فیاض شاہد بٹ سمیت شرکاء نے کمال محبت و شفقت سے میری گفتگو کو سنا اور مثبت انداز میں میری بات کو آگے بڑھایا۔ ڈاکٹر غلام علی نے جدید علوم کے تقاضوں اور دینی ہم آہنگی کے ثمرات سے آگاہ کیا اور برداشت، رواداری،تحمل اور تحرک کو نصب العین بنانے کی ترغیب دی اور خطبوں کو جوش کی بجائے ہوش سے ترتیب دینے کی استدعا کی۔ اس مکالمے میں شریک ہر فرد خلوص نیت سے اتفاق و اتحاد کا داعی نظر آرہا تھا۔ مکالمے کی ایسی کاوشیں ہی افہام و تفہیم سے اسلام کی حقیقی روح کے تعارف کے لیے نا گذیر ہیں۔ منتظمین و میزبان جزائے خیر کے حقدار ہیں۔ مکالمے میں شریک مختلف الخیال علماء کی شرکت اور تحمل و تدبر قابل تحسین تھا۔ ہر ایک نے ایک دوسرے محلے کی مساجد میں جانے کا اعادہ کیا۔  
مسلکی اور گروہی تضادات میں بٹے معاشرے میں مساجد اور آئمہ مساجد کے فعال کردار سے ہی نمٹا جا سکتا ہے۔ مسجد کے کردار کو بحیثیت ادارہ فروغ دے کر مقاصد حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ مساجد کو امت مسلمہ کی یکجائی کا مرکز و محور بنا کر ہی آگے بڑھا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے کسی مسیحا کا انتظار کرنے کی بجائے ہمیں اپنی مدد آپ کے تحت آگے بڑھنا ہے اور اپنی اپنی بساط کے مطابق علاقائی اور مقامی سطح پر اقدامات کرنے ہیں۔ سماج میں نیک لوگوں کی کمی نہیں،انہیں اعتماد دینے اور حوصلہ دینے کی ضرورت ہے۔مسجد کا سماجی کردار وسیع ہو گا تو امامت کے ادارے کی اہمیت بھی بڑھے گی اور مسجد کے امام کو ”دو رکعت کا امام“ سمجھنے کے رویے میں تبدیلی پیدا ہو گی اور پھر سماجی علوم کے حامل علوم دین سے بہرہ مند با صلاحیت اور زرخیز فکر علما وفضلا امامت کی طرف آئیں گے۔ جن سے عوام کی دینی و سماجی ذہن سازی ہو سکے گی۔ مساجد اور آئمہ کے کردار سے ہماری مدنی اور تہذیبی زندگی میں اسلام کی روح نظر آنے لگے گی۔ 

جمعہ، 6 مئی، 2016

سرشت بہار زندہ ہے

سرشت بہار زندہ ہے 


زندہ قومیں زندہ لوگوں کی قدر کرتی ہیں جبکہ مردہ قومیں مردوں کی پرستش کرتی ہیں۔ ماضی پرست قوم ہونے کے ناطے ہمارے ہاں ”عظمت رفتہ“ کا سحر اس قدر طاری ہے کہ ہمیں زندہ لوگوں میں کوئی بڑا آدمی نظر ہی نہیں آتا۔ ہم رشک کی بجائے حسد کرنے کے عادی ہیں۔ بت پرستی کے اس عالم میں زندہ لوگوں سے محبت کے اظہار، ان کی تعریف و تحسین کے لیے ان کے اعزاز میں منعقد ہونے والی پر وقار تقریب میں شرکت کی دعوت ملی تو مجھے حیرت ہوئی لیکن خوشی بھی ہوئی کہ ’سرشت بہار زندہ ہے“۔وطن عزیز کے قابل قدر ماہرین تعلیم اور اعلیٰ تعلیم  کے راہبر چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن ڈاکٹر مختار احمد،ایگزیکٹو ڈائریکٹر HEC ڈاکٹر ارشد علی، وائس چانسلر یونیورسٹی آف اینمل اینڈ ویٹرنری سائنسز ڈاکٹر طلعت نصیر پاشا اور گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد کے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد علی شاہ کو تعلیم، تدریس، تحقیق کے حوالے سے قومی خدمات پر حکومت پاکستان نے ستارہئ امتیاز اور تمغہئ امتیاز سے نوازا تو اعلیٰ تعلیم کے حلقوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی تھی۔ اس خوشی کے اجتماعی اظہار کے لیے وائس چانسلر یونیورسٹی آف گجرات پروفیسر ڈاکٹر ضیاء القیوم، وائس چانسلر علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد ڈاکٹر شاہد صدیقی اور شہید ذوالفقار علی بھٹو میڈیکل سائنسز یونیورسٹی اسلام آبادکے وائس چانسلر ڈاکٹر جاوید اکرم نے مشترکہ طو رپر ”شامِ اعزاز“ کی میزبانی کا اعلان کیا اور گذشتہ دنوں لاہور کے کیولری گراؤنڈ میں شاندار، باوقار اور علم پرور عشائیے کا اہتمام کر کے واضح کیا کہ صاحب علم او ربا عمل لوگ زندہ قومی ہیروز کی قدر کرتے ہیں۔کیونکہ عظیم دماغ دوسروں کے اثرات سے نہ خوفزدہ ہوتے ہیں اور نہ مرعوب بلکہ ان کے وجود کی وسعت کا انداز کرتے ہیں۔ 

ڈاکٹر جاوید اکرم کا گھر ان کے ذوق جمال کا عکاس تھا اور حسنِ انتظام ان کی انتظامی صلاحیتوں کا کھلا ثبوت کہ آنے والوں کے لیے شرکت بلا شبہ اعزاز سے کم نہ تھی۔تقریب اتنی پروقار تھی کہ پنجاب کی 35 جامعات کے سربراہان یہاں اپنی اپنی شریک حیات کے ساتھ اعتماد اور محبت سے کھنچے چلے آئے،ایسا لگ رہا تھا کہ اعلیٰ تعلیم محض ایک پیشہ نہیں اس سے وابستہ لوگ ایک فیملی ہیں۔ 
جامعات کے سربراہان کو داد دینے کے لیے ممتاز تجزیہ نگار و اینکر سہیل وڑائچ، سینئر صحافی سجاد میر، جوان فکر اینکر حبیب اکرم، تعلیم دوست کالم نگار نعیم مسعود، ڈی جی پی آر کے  ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر محمد اسلم ڈوگر، وفاقی پارلیمانی سیکرٹری برائے دفاع ایم این اے چوہدری جعفر اقبال اور وزیر اعلیٰ پنجاب کے مشیر صحت خواجہ سلمان رفیق بھی پیش پیش تھے۔ 
شیخ الجامعہ دانش گاہ گجرات  ڈاکٹر ضیاء القیوم جس گرمجوشی اور محبت سے مہمانوں کو ’جی آیاں نوں‘کہنے میں مصروف عمل تھے اسے دیکھ کر مجھے مدر ٹریسا کی یہ بات یاد آرہی تھی کہ ”اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ہم کس کو کتنا کم یا کتنا زیادہ دے رہے ہیں بلکہ فرق صرف اس بات سے پڑتا ہے کہ ہم جو کچھ دے رہے ہیں اس دینے میں ہماری محبت کس قدر شامل ہے“۔ 
ستارہئ امتیاز کے حامل مہمانان گرامی پنڈال میں آئے تو ایسے ہی تھا جیسے چپکے سے ویرانے میں بہار آ جائے۔ عالموں کی آمد سے شب بھی منور ہو گئی۔ جس کو بھی مبارک دی جاتی وہ عجز و انکساری کا پیکر بن جاتا۔اور برملا کہہ دیتا یہ میرا نہیں میرے شعبے کا اعزاز ہے، یہ ہائر ایجوکیشن کے لیے افتخار کی بات ہے۔ کارکردگی، محنت،ریاضت اور کاوش کے شجر پر پھل ضرور آتا ہے اور ایسے موقعوں پر لوگ ثمر دار درخت یافرد کی طرف اشارہ کر کے ضرور کہتے ہیں کہ 
؎  دانہ خاک میں مل کر گل و گلزار ہوتا ہے  
دانہ زمین کی تہہ دار گہرائیوں اور اندھے غاروں میں سفر کر کے کس طرح زمین کا سینہ چیر کر باہر آتا ہے، یہ دانہ ہی جانتا ہے مگر اس کی ذات میں اپنے آپ کو دکھانے اور ذات کااظہار کرنے کے لیے جس ہمت اور محنت کی ضرورت ہوتی ہے اس کا ہونا بے حد ضروری ہے۔ ڈاکٹر مختار احمد، ڈاکٹر ارشد علی، ڈاکٹر محمد علی شاہ یا ڈاکٹر طلعت نصیر پاشا کو تحقیق و تعلیم کے میدان میں کتنی جان مارنا پڑی اس کا اندازہ شاید دور بیٹھ کر نہیں کیا جاسکتا ہے اس کے باوجود یہ سارے تشکر و عاجزی کا جو مظاہرہ کر رہے تھے اس سے نوبل انعام دینے کی وہ تقریب ضرور یاد آرہی تھی جس میں عظیم امریکی ادیب ولیم فاکنر کو نوبل انعام ملا تھا، وہ اپنی بیٹی کے ساتھ انعام وصول کرنے سویڈن گیا تو اس نے کہا ”یہ انعام مجھے نہیں میرے کام کو دیا گیا ہے“اسی خیال سے میں آگے بڑھا مگر درویش منش چیئر مین HEC ڈاکٹر مختار احمد سے پوچھنے کی جسارت نہ کر سکا کہ آپ کو یہ ستارہئ امتیاز کیوں ملا……؟  بہت سے لوگ مصروف عمل ہیں تو پھر سرکاری انتخاب آپ کیوں؟ تاہم میں نے یہی سوال پاس بیٹھے محترم ڈاکٹر ضیاء القیوم سے ذرا بدل کر پوچھ لیا کہ ان لوگوں کی امتیازی صفت کیا ہے جو باقی لوگوں میں کم ہے۔ ان کی کونسی کرامت ہے کہ انہیں یہ اعزاز ملا ہے؟ ڈاکٹر ضیاء القیوم مسکرائے اور بولے کہ ایک عربی مقولہ ہے ”الاستقامۃ فوق الکرامۃ“ یعنی استقامت کرامت سے بھی اوپر ہے۔ یہ استقامت والے لوگ ہیں یہ کام اور محنت کرتے نہیں ہیں کئی عشروں سے کرتے ہی چلے آرہے ہیں۔ آدمی اگر استقلال کے ساتھ کام کرے تو وہ اس سے بھی زیادہ بڑی کامیابی حاصل کر لیتا ہے جو کوئی صاحب کرامت آدمی کرامت کے ذریعے حاصل کرتا ہے۔  میں ضیائے دانش گاہ گجرات کی بات سن کر چپ ہو گیا اور میرے ذہن میں بنجمن ڈزرائیلی کا یہ قول مچلنے لگا کہ ”زندگی میں سب سے زیادہ کامیاب شخص وہ ہے جو بہترین معلومات رکھتا ہو“۔  

ڈاکٹر جاوید اکرم اور ڈاکٹر شاہد صدیقی نے اپنے اپنے انداز میں مہمانوں کو مبارکباد دی اور کہا کہ ایسی تقریبات کو اعلیٰ تعلیم کے غیر رسمی تعلقات سے تعبیر کرنا چاہیے جہاں نئی روایات جنم لیتی ہیں۔ محترم سہیل وڑائچ نے کہا کہ یہ تقریب دیگر سربراہان جامعات کے لیے بھی امید افزاء ہے اور پھر غیر رسمی ماحول میں اعلیٰ تعلیم کے تعمیری و تطہیری پہلوؤں پر کھل کر گفتگو نئے اعزازات کے لیے راستہ ہموار کرنے کا موجب ہو گی۔ سینئر صحافی سجاد میر نے مبارکباد دی اور کہا کہ اتنے بڑے بڑے عالموں، محققوں بلکہ استادوں کے استادوں کی محفل میں آنا خوشی کی بات ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہماری تحقیق کو جدت و اختراع کے ساتھ ساتھ قومی تقاضوں سے ہم آہنگ بھی ہونا چاہیے۔ اینکر حبیب اکرم نے کہا کہ میں نے تو دوران تعلیم مشکل سے اپنے وائس چانسلر کو قریب سے دیکھا تھا جبکہ آج اتنے زیادہ وائس چانسلرز کی موجودگی میں خوش اور حیران ہوں او رموقع غنیمت جان کر چیئر مین HEC سے گذارش کروں گا کہ قومی زبان کے نفاذ کے لیے اعلیٰ تعلیم میں قومی زبان کے کردار پر بھی بھرپور کام کیا جائے۔ تمغہئ امتیاز کے حامل ڈاکٹر محمد علی شاہ تعلیم و تحقیق کے حوالے سے بات کر رہے تھے تو عیاں ہو رہا تھا کہ دنیا کے اعزازات اس پر جوش شخص پر واری واری جاتے ہیں جو اپنے آپ کو ٹھنڈ ااور متوازن رکھتا ہے۔ ڈاکٹر محمد علی شاہ کی سائنسی تحقیق کی گرمی کو ان کی صوفیاء کے کلام سے محبت ٹھنڈا رکھتی ہے،وہ مٹی کی خوشبو سے رچی بسی پاکستانی فکر کے علمبردار ہیں وہ کامل درویش کی طرح شکریہ ادا کر رہے تھے۔ البرٹ آئن سٹائن سے اس کے عظیم اور ناقابل فراموش کارناموں کے بارے میں کسی نے پوچھاتو اس نے ایک ہی بات کہی تھی کہ وہ ہمیشہ دوسروں کا شکریہ ادا کرتا ہے۔ وہ دن میں کئی کئی مرتبہ اظہار محبت کرتا تھا اسی لیے زندگی نے بھی اپنے تمام راز آئن سٹائن پرافشاکردیئے۔ ڈاکٹر محمد علی شاہ کی یہ خوبی آئن سٹائن سے ہی مماثلت رکھتی ہے۔ ڈاکٹر مختار احمد اپنی درویشی اور شیریں گفتگو اور متانت کے باعث جانِ محفل نظر آرہے تھے۔ ہر ایک ان کے گرد جمع ہو کر ان سے دعائیں ضرور لیتا۔ کہتے ہیں کہ خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروق ؓنے ایک بار فرمایا،وہ ایک آدمی کی تلاش میں تھے جس کو کسی مقام کا حاکم بنا سکیں، انہوں نے کہا کہ میں ایک ایسا آدمی چاہتا ہوں کہ جب وہ کسی گروہ میں امیر ہو تو وہ ان میں انہی کے ایک شخص کی طرح رہے، او رجب وہ امیر نہ ہو تو ان کے درمیان امیر کی طرح بنا ہو، یعنی اس آدمی کے اندر ایسے اخلاقی اوصاف ہوں کہ عہدہ کے بغیر وہ لوگوں کے درمیان عزت و احترام کا درجہ حاصل کر لے، مگر اسی کے ساتھ وہ اتنا بے نفس ہو کہ اسے عہدہ پر بٹھا دیا جائے تو اس کے اندر بڑائی کا احساس پیدا نہ ہو، اس کے باوجود لوگوں کے درمیان عام آدمی کی طرح رہے۔ اچھے عہدیدار کی اس سے بہتر تعریف نہیں ہو سکتی۔ اسی تعریب کا کرشمہ میں نے اس شامِ اعزاز میں دیکھا۔ مجھے لگا کہ اختیار کو مختار سے نسبت یونہی نہیں ہو گئی، فضّلِ ربی ضرور ہے اور بے وجہ بھی نہیں ہے وہ بلا شبہ ستاروں کی اس محفل میں چودھویں کے چاندکی طرح تھے۔ 
مجھے خوشی ہے کہ جس لمحہ ان اعزازات پانے والی ہستیوں کی ستائش کی جا رہی تھی،میں لفظوں کی مالا لیے ان کے ساتھ کھڑا تھا اور دل ہی دل میں دعا کر رہا تھا کہ رب العالمین! امتیاز کے حامل ان ماہرین تعلیم کی روح اور دل کو سکون و راحت نصیب کرے۔ 
یہ تقریب ’ہیروورشپ‘کی نہیں تاریخی شعور کی عکاس تھی۔تاریخی شعور ہی ہے کہ جس میں ماضی اور حال کا وجدان دونوں شامل ہیں۔ تاریخی شعور انسان کو اپنے عہد کے ساتھ سانس لیتے انسانوں کی ہڈیوں میں موجود محبت کے ذروں کو لفظ اور احترام میں سمو دینے کا حوصلہ بخشتا ہے اور یہی فکر ہمیں اپنے ہم عصروں، وقت اور زمانے کا احساس دلاتی ہے اور پھر لوگ اور گروہ حسد کرنے کی بجائے رشک کرنے کی راہ پر بامراد ٹھہرتے ہیں۔ یہ شامِ اعزاز نوید دے رہی تھی کہ اعلیٰ تعلیم کی اگواکاری کا فریضہ تاریخی شعورکے حامل رشک کرنے والے مثبت فکر لوگوں کے کاندھوں پر ہے جو اس قوم کے لیے روشن مستقبل کی ضامن اچھی خبر ہے۔  


بدھ، 4 مئی، 2016

جمہوری وفاقیت کے استحکام میں اٹھارویں آئینی ترمیم کا کردار اور امکانات

جمہوری وفاقیت کے استحکام میں اٹھارویں آئینی ترمیم 
کا کردار اور امکانات 


ممتاز ماہر سیاسیات ہیرالڈ لاسکی کا ایک مضمون"The Obsolescence of Federalism"   ء میں شائع ہوا جس میں اس نے اعلان کیا تھا کہ ”وفاقیت کا عہد اپنے اختتام کو پہنچا“ اور نشاندہی کی کہ وفاقی حکومت اپنی روایتی ہیئت،وظائف کی حد بندی، غیر لچک پذیری اور فطری قدامت پسندی کے باعث زندگی کی اس رفتار کا ساتھ نہیں دے سکتی جسے سرمایہ داری جیسے دیو قامت نظام نے پروان چڑھایا ہے لہذا اب غیر مرکزیت والی واحدانی حکومت بیسویں صدی کے درمیان کے حالات کے لیے زیادہ موزوں ہے۔ اس کے باوجود وہ مسائل جو وفاقیت کے لیے الجھن کا باعث ہیں اور وہ مسائل جو وفاقی نظام میں از خود موجود ہیں، انہیں جاننے کے باوجود دنیا نے وفاقی نظام کو نہ صرف زندہ رکھا ہے بلکہ اس نے ترقی پذیر ملکوں میں مقبولیت بھی حاصل کی ہے۔ 
آج بھی دنیا کی آبادی کا چالیس فیصد حصہ وفاقی ممالک میں رہتا ہے وفاقی نظام ہائے حکومت کے حامل 28 ممالک میں حیرت انگیز کثیر جہتی پائی جاتی ہے ان میں نہ صرف دنیا کے متمول ترین ممالک جیسا کہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ بلکہ مائکرونیشیا اور سینٹ کٹس اور نیوس جیسی مختصر جزیریاتی ریاستیں بھی شامل ہیں۔ دنیا کے دس گنجان ترین ممالک میں سے چھ اور رقبے کے اعتبار سے دس بڑے ممالک میں سے آٹھ وفاقی ہیں۔سر آئیور جیننگز نے کہا تھا کہ ”کوئی بھی وفاقی نظام نظام کو نہ اپناتا، اگر وہ اس سے صرفِ نظر نہیں کر سکتا“۔ دنیا میں اس وقت وفاقیت ہی بڑھتی ہوئی مقبولیت حاصل نہیں کر رہی بلکہ اس کے مآخذوں، بنیادوں اور خصوصیات کو سمجھنا بھی اہم گیا ہے۔ 
پاکستان بھی ایک وفاقی ملک ہے، کہا جاتا ہے کہ پاکستان میں وفاقی نظام اچھے طریقے سے کام نہیں کر سکا کیونکہ مرکز گریز قوتوں اور مرکز مائل قوتوں میں توازن نہیں رہا۔ یہاں نظام اور مزاج کا رجحان مرکزیت کی طرف تھا جس سے و فاقی اور علاقائی عدم توازن پیدا ہوا۔ اس کے باوجود اٹھارویں آئینی ترمیم اس سفر میں اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے اور اس کی کوکھ سے جمہوری اور شراکتی وفاقیت کے استحکام کے نئے امکانات روشن ہوئے ہیں۔ لیونگسٹن نے عمرانی نقطعہئ نظر سے وفاقیت کی تشریح کرتے ہوئے کہا تھا کہ وفاقیت کی اصل روح اس کی دستوری اور اداراتی ساخت میں نہیں بلکہ خود معاشرے میں موجود ہوتی ہے۔ وفاقی حکومتیں اور وفاقی دساتیر کچھ محرکات کے جواب میں وجود میں آتے ہیں، چنانچہ یہ نظام شعوری طور پر اختیار کیا جاتا ہے تاکہ وہ ان مسائل کو حل کر سکے جو ان محرکات کے ترجمان اور نمائندہ ہوتے ہیں۔پاکستان میں جمہوری وفاقیت کو شعوری طور پر اپنانے اور اس کے فروغ کے لیے علمی مکالمہ ناگذیر ہے۔اس حوالے سے پاکستان کی نامور جامعہ گجرات اپنے کردار کے حوالے سے قومی دانش گاہ کا کردار ادا کرتی نظر آرہی ہے۔ حسب روایت حساس آئینی اور اہم قومی مسئلے سے نسل نو کو آگاہ کرنے کے لیے یونیورسٹی آف گجرات کی وژنری اور محب وطن قیادت نے خصوصی لیکچر کا اہتمام کیا۔ شعبہ ئسیاسیات و بین الاقوامی تعلقات کے زیر اہتمام تقریب میں قائداعظم محمد علی جناح کے اے ڈی سی میاں عطاء ربانی کے دانشور صاحبزادے وفاق کے نمائندہ ادارے سینٹ کے چیئرمین میاں رضا ربانی کو موضوع پر گفتگو کے لیے مدعو کیا سابق وفاقی وزیر اطلاعات چوہدری قمر زمان کائرہ، ایم پی اے میجر معین نواز اور چوہدری شبیر احمد،ڈی سی او لیاقت علی چٹھہ بھی ان کے ہمراہ تھے۔ علم دوست وائس چانسلر ڈاکٹر ضیاء القیوم نے سینئر سٹاف کے ہمراہ مہمانوں کا والہانہ استقبال کیا۔ 

دانش گاہیں وہ ہوتی ہیں جنہیں دانشوروں کی میزبانی کا شرف حاصل ہو،جامعہ گجرات میں قومی اہمیت کے حامل موضوعات پر دانشوروں کی آمد کی روایت پختہ اور قابل تحسین ہے۔پاک سرزمین کو شاد باد رکھنا اور منزلِ مرادتک پہنچانا جن کی ذمہ داری تھی وہ پروڈا، اورایبڈو جیسے قوانین کا رزق ہو گئے، قومی یکجہتی کی علامت قیادت کے حوالے سے قحط الرجال کے اس دور میں کہیں کہیں اُمید کے کچھ جزیر ے ہیں جہاں سے وفاقیت کے کچھ علمبردار ہر تاریک رات میں اپنے عہد کا دیا جلا کر راہبری کا فریضہ ادا کر رہے ہیں۔ ان آشفتہ سروں کی کاوشیں ہیں کہ بلوچستان کی محرومی کا تریاق ہو چلا ہے، ڈرون کی جنگ اپنے انجام کو پہنچی ہے اور سب سے بڑھ کر۔۔۔کوئی ایسا بھی ہے جو زمیں زاد ہے، رضا ربانی جیسے سنجیدہ فکر پاکستانی نہ صرف جمہور کی اُمید ہیں بلکہ جمہوریت کی آس بھی ہیں۔ ان کی آمد سے تقریب میں پاکستانیت اور وفاقیت کا رنگ نمایاں ہو گیا۔ صدر ِ شعبہئ سیاسیات ڈاکٹر مشتاق احمد نے اختصار و جامعیت سے مہمانوں کو خوش آمدید کہنے کے ساتھ وفاق اور وفاقیت کا تعارف کروایا۔ گلگت  بلتستان کے سابق گورنر چوہدری قمر زمان کائرہ جو تکلم کی جولانی اور گفتگو کی روانی کے حوالے سے شہرت عام رکھتے ہیں اُنہوں نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم نے پاکستان میں صوبوں، اکائیوں اور مرکز کے درمیان تناؤ کم کرکے اعتماد کی فضا کو بحال کیا ہے۔ پاکستان قائدا عظم کے وفاقیت پر کامل یقین کے ساتھ ہی آگے بڑھ سکتا ہے۔ غیر متوازن قوتیں نظام کے بہتر عمل درآمد کی راہ میں رکاوٹ بنی ہیں۔ کڑے مرحلے پر رضا ربانی نے بطور چیئرمین کمیٹی وفاقیت کے استحکام کے لیے اکائیوں کو بہت کچھ لوٹا یا،ہماری قومی سیاسی اور آئینی تاریخ میں ان کا اجتہادی کارنامہ ہمیشہ یاد رکھا جا ئے گا۔ چیئرمین سینٹ میاں رضا ربانی نے اپنے خصوصی خطاب میں زور دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی ممالک کے پاس حکومتوں کے درمیان بڑی حد تک باہمی انحصاری ہوتی ہے۔ سیاستدان، سرکاری ملازمین، شہری اور دیگر حصے دار اپنے اپنے دائروں میں نتائج پر کس طرح اثر انداز ہونے کی کوشش کرتے ہیں یہ چیز ایک وفاق کی سیاسی زندگی کے قلب تک جاتی ہے۔ وہ جمہوریتیں اور وفاقی نظام جن کو یکجہتی کے چیلنج کا سامنا ہو، ایک مثبت سیاسی قومیت کو فروغ دے سکتے ہیں۔ وفاقیت کی طرف بتدریج بڑھتا ہوا رُحجان جمہوری انتظام کاری کے پھیلاؤ کے نتیجے میں اُبھرا ہے۔ پاکستان میں جمہوریت کے استحکام کے لیے ابھی بڑی تگ و دو کی ضرورت ہے۔ عوام اور اکائیوں کے حقوق کا تحفظ ریاست پاکستان کا استحکام ہے۔ ہماری تہذیب اور ریاست مختلف صوبوں  سے جنم لیتی ہے۔ اُنہوں نے قائد اعظم کی حصولِ پاکستان کی جدوجہدکے تصور اور 11اگست1947ء کی پالیسی ساز تقریر سے وفاقِ پاکستان کی روح کو کشید کیا اور بتایا کہ تاریخ پاکستان میں اتحاد و اختلاف کے مستقبل بدلتے ہوئے دباؤ کے مقابل پاکستان میں وفاقی نظام ایک انتہا سے دوسری انتہا تک ڈانواں ڈول رہا، غیر متوان قوتیں نظام کے بہتر عمل درآمد کی راہ میں رکاوٹ بنی رہیں۔ مرکزیت پسند حکومتیں قومی یکجہتی کا شعور بیدار نہ کر سکیں۔ ایسے میں اٹھارویں ترمیم خاصی اہمیت کی حامل ہے اس نے اکائیوں کو ان کے اصل مقام سے آگاہ کیا اور صوبائی خود مختاری کے تکنیکی اور آئینی معاملات پر سے گرد صاف کر دی گئی۔ صدرِ محفل ڈاکٹر ضیاء القیوم نے کہا کہ وفاقیت ایک ایسا طریقہ ہے جس کے ذریعے متفرق لسانی اور ثقافتی گروہوں کو ایک عمومی مرکزی حکومت کے تحت متحد کرکے اتحاد و اختلاف کی متصادم قوتوں کو ہم آہنگ کیا جا سکتا ہے۔ کثیر نسلی اور کثیر اللسانی معاشرے ہی وفاقی ہوتے ہیں پاکستان کا معاشرہ وفاق کی خصوصیات کا حامل ہے۔ بانیان پاکستان کے تفکر میں وفاقی نظام وہ واحد ممکن العمل طریقہ کار تھا جس کے ذریعے اتحاد اور اختلاف کے متصادم دباؤوں کے درمیان توازن قائم رکھا جا سکتا تھا۔ اتحاد یا اختلاف کی قوتیں جیسی بھی ہوں ان کو مناسب طور پر متوازن ہونا چاہیے تاکہ نظام چلتا رہے یہ ایک نازک معاملہ ہے، لیکن رضاربانی جیسے اٹھارویں ترمیم کے تخلیق کاروں نے پاکستان میں وفاقیت کو مرکزیت میں بدلنے سے روکنے کے لیے تاریخ ساز کردار ادا کیا، اٹھارویں ترمیم کی کوکھ سے مستحکم وفاق اور خوشحال پاکستان کے نئے امکانات روشن ہوئے ہیں۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم نسل نو تک اس روشنی کو پہنچائیں اور انہیں حقیقی جمہوری و وفاقی اقدار سے روشناس کرائیں۔ جامعات اس حوالے سے مثبت اور متحرک کردار ادا کر سکتی ہیں۔ جامعہ گجرات قومی ذمہ داریوں سے آگاہ دانش گاہ ہے ہم اس حوالے سے پاکستانیت کے تقاضوں سے عہدہ برآہ ہونے کے لیے اپنا کردار ادا کرنے میں کوئی کسر اُٹھا نہیں رکھیں گے۔ سوال و جواب کے فکر انگیز سیشن نے نئے سوالات اُٹھائے اور مہمان مقرر نے بھرپور جواب دئیے۔ سوال و جواب کی اُلجھنوں میں پاکستان میں جمہوری وفاقیت کی گتھی سلجھتی ہوئی دکھائی دینے لگی تو پنڈال پر زور تالیوں سے گونج اُٹھا۔ 
ٍ تکثیری معاشرے میں چھوٹی اکائیوں کا بڑے صوبوں سے خائف رہنا کوئی غیر معمولی مظہر نہیں یہ احساس کینیڈا و بھارت سمیت تمام وفاقی معاشروں میں مختلف درجوں میں پایا جاتا ہے۔ تاہم یہ احساس نظام کے استحکام کے لیے اس وقت خطرہ بن جاتا ہے جب چھوٹے علاقوں کے شکوک و شہبات اور بے اعتمادی ایک زبردست عدم تحفظ کے احساس میں تبدیل ہو جائے۔ پاکستان میں وفاقیت کی ڈولتی کشتی کو پار لگانے کے لیے اٹھارویں ترمیم اہم موڑ ہے اس سے نئے امکانات اُبھر کر روشن مستقبل کی اُمید کو جنم دے رہے ہیں۔ بلاشہ ہمارے ہاں جمہوری وفاقیت عمدگی سے کام نہیں کر سکی یاا سے ٹھیک طرح سے کام کرنے نہیں دیا گیا، اس سے نتیجہ اخذ نہیں ہوتا کہ وفاقیت ملک کے لیے موزوں نہیں۔ پاکستان میں وفاقی معاشرہ اپنے شدید ثقافتی و لسانی اختلافات کے ساتھ موجود ہے اس کے لیے جمہوری وفاق کا فروغ ناگذیر ہے حقیقی وفاق اور خالص جمہوریت کے علاوہ کوئی نظام اس معاشرے کی بقا کا ضامن نہیں ہو سکتا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اٹھارویں ترمیم سے وا ہونے والے نئے امکانات کو پروان چڑھانے کے لیے ساز گار حالات پیدا اور فراہم کیے جائیں جو اس کے کامیاب عمل درآمد کے لیے ممدو معاون اور لازمی ہیں۔ 



منگل، 3 مئی، 2016

قوانین کا اُردو ترجمہ:نفاذِ اُردو کی جانب اہم قدم


کوئی قوم اپنے نظام عدل اور معاشرتی انصاف کے تصور کو اس وقت تک بامعنی اور مفید نہیں بنا سکتی جب تک عام آدمی اپنے حقوق کے شعور اور اپنے فرائض کے فہم سے پوری طرح ہمکنار نہیں ہو جاتا۔ چونکہ پاکستانی قوانین کی زبان انگریزی رہی ہے اس لیے کم تعلیم یافتہ افراد کے لیے قانون کا فہم ہمیشہ ہی ناممکن رہا ہے۔ سابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس جواد ایس خواجہ نے اُردو کے بطور قومی زبان نفاذ کے حوالے سے اپنے فیصلے میں اس کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ”عدالتی کاروائی کی سماعت میں اکثر یہ احساس شدت سے ہوتا ہے کہ کئی دہائیوں کی محنت شاقہ اور کئی بے نوا نسلوں کی کاوشوں کے باوجود آج بھی انگریزی ہمارے ہاں بہت ہی کم لوگوں کی زبان ہے اور اکثر فاضل وکلاء اور جج صاحبان بھی اس میں اتنی مہارت نہیں رکھتے جتنی کہ درکار ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ آئین اور قانون کے نسبتاً سادہ نکتے بھی پیچیدہ اور ناقابل فہم ہو جاتے ہیں۔ یہ فنی پیچیدگی تو اپنی جگہ مگر آئین کے آرٹیکل251کے عدم نفاذ کا ایک پہلو اس سے بھی کہیں زیادہ تشویشناک ہے۔ ہمارا آئین پاکستان کے عوام کی اس خواہش کا عکاس ہے کہ وہ خود پر لاگو ہونے والے تمام قانونی ضوابط اور اپنے آئینی حقوق کی بابت صادر کیے گئے فیصلوں کو براہِ راست سمجھنا چاہتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ حکمران جب ان سے مخاطب ہوں تو ایک پرائی زبان میں نہیں بلکہ قومی یا صوبائی زبان میں گفتگو کریں۔ یہ نہ صرف عزت نفس کا معاملہ ہے بلکہ ان کے بنیادی حقوق میں شامل ہے اور دستور کا تقاضا بھی ہے ایک غیر ملکی زبان میں لوگوں پر حکم صادر کرنا محض اتفاق نہیں، یہ سامراجیت کا ایک پرانا اور آزمودہ نسخہ ہے“۔ عدالت عظمیٰ پاکستان نے اپنے تاریخ ساز فیصلے کے ذریعے اُردو کے بطور قومی زبان نافذ العمل کرنے کے احکامات جاری کیے تو حکومتِ پنجاب نے خادم اعلیٰ میاں شہباز شریف کی قیادت میں بروقت قد م اُٹھاتے ہوئے، قانون تک عام آدمی کی رسائی کے لیے قوانین کے اُردو ترجمے کا فیصلہ کیا،چنانچہ حکومت پنجاب کی وزرات قانون و پارلیمانی اُمور نے فیصلہ کیا کہ قوانین کامعیاری، درست اور قابل فہم ترجمہ کروایا جائے۔ سیکرٹری قانون و پارلیمانی اُمور ڈاکٹرابو الحسن نجمی جیسے زیرک، مستعد اور محنتی شخص نے اس کام کو انجام دینے کے لیے گہری دلچسپی اور لگن کا اظہار کیا۔ ان کی ٹیم ایڈیشنل سیکرٹری فضل عباس رانا اور ڈپٹی سیکرٹری طارق علی نے تگ و دو اور کھری کاوشوں سے اس کا انتظام مکمل کیا اور پھر ایک ٹینڈر کے ذریعے اس کام کی تکمیل کے لیے میرٹ اور صرف میرٹ پر قرعہ فال یونیورسٹی آف گجرات کے نام نکلا۔ قوانین کے اُردو ترجمے کے لیے پہلے پندرہ ہزار صفحات پر کام کے آغازکے لیے جامعہ گجرات کے مرکز السنہ و علوم ترجمہ اور شعبہئ قانون کے درمیان قومی تقاضے کے حامل معاہدے پر دستخطوں کی پُروقار تقریب دانش گاہ گجرات کے قائد اعظم آڈیٹوریم میں منعقدہوئی۔ تقریب میں وائس چانسلر ڈاکٹر ضیاء القیوم، سیکرٹری قانون پنجاب ڈاکٹر سید ابوالحسن نجمی، ہائر ایجوکیشن کمیشن اسلام آباد کے ڈائریکٹر ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ ڈاکٹر محمد لطیف، اکادمی ادبیات پاکستان کے چیئرمین ڈاکٹر قاسم بھگیو، سنیئر صحافی سجاد میر، حبیب اکرم اور ڈاکٹر اسلم ڈوگر، کمشنر انکم ٹیکس لاہور خالد محمود خاں، مشینی ترجمہ کے ماہر ڈاکٹر سرمد حسین، نامور سفارت کار و مترجم توحید احمد، مرزا حامد بیگ، ڈاکٹر سعادت سعید،ڈائریکٹر لاء فیڈرل لاء منسٹری شیربابر خاں سمیت ادب، صحافت، سیاست اور قانون کے شعبے سے تعلق رکھنے والے ماہرین کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ سول سوسائٹی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات بھی شرکاء میں شامل تھیں۔ صدر مرکز السنہ و علوم ترجمہ جامعہ گجرات نے دھیمے مزاج سے پختہ عزم کا اظہار اور معاہدے کی تفصیلات جس طرح بیان کیں اس سے واضح تھا کہ ترجمے کا کام جذبے اور عشق کا کام ہے بلاشبہ محنت اور محبت کے امتزاج کی حامل ریاضت ہی ڈاکٹر غلام علی اور ان کے مترجمین کی ٹیم کا نمایاں وصف ہے۔ شیخ الجامعہ گجرات پروفیسر ڈاکٹر ضیاء القیوم نے برملا اعلان کیا کہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ اس عظیم قومی خدمت کی ادائیگی کے لیے قرعہئ فال جامعہ گجرات کے نام نکلا ہے۔ قوانین کے اُردو ترجمے کی ذمہ داری سونپے جانا حکومت پنجاب کی جانب سے اعتماد کا اظہار ہے۔ یہ جامعہ اپنی قومی، سماجی اور علمی ذمہ داریوں سے پوری طرح آشنا ہے۔ ڈاکٹر ضیاء القیوم نے مزید وضاحت کی کہ ہم جامعات کے سماجی کردار کے حوالے سے ایک واضح تصور رکھتے ہیں۔ جامعات ہی وہ ادارے ہیں جہاں قوموں کی تقدیر کے فیصلے ہوتے ہیں۔ ڈاکٹرمحمد لطیف نے زور دیا کہ قوانین کو ہمیشہ عوام ہی کی زبان میں مدون ہونا چاہیے۔چیئرمین اکادمی ادبیات اسلام آباد ڈاکٹر قاسم بھگیونے فراخدلی سے جامعہ گجرات کے مرکز السنہ و علوم ترجمہ کو ہر ممکن سہولیات فراہم کرنے کی حامی بھری۔دانشورصحافی سجاد میر نے کہا کہ اپنی زبان سے دوری دراصل حقائق پر پردہ ڈالنے کا نام ہے۔ ترجمہ عظمت و توقیر کا نام ہے۔ حبیب اکرم کا کہنا تھا کہ عدالتی فیصلوں اور قوانین کے قومی زبان میں معیاری تراجم وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ ڈاکٹر سرمد حسین نے وضاحت کی کہ ترجمہ مشکل اور تخلیقی کام ہے قوانین کے اُردو ترجمہ کے سلسلے میں تقریباً دس لاکھ الفاظ کا ترجمہ کیا جائے گا اس کے لیے مشینی ترجمہ کی مدد ضروری ہے۔ 
ڈاکٹر سید ابو الحسن نجمی سیکرٹری لاء پنجاب نے اس موقع پر کہا کہ قوانین کے اطلاق کے لیے عوامی شعور ضروری امر ہے او ر عوامی شعور اسی وقت پروان چڑھتا ہے جب قوانین کی تدوین عوام الناس کی اپنی زبان میں ہو۔ قوانین کا قومی زبان میں ترجمہ ایک مقدس فریضہ ہے۔ قوانین کے تراجم میں معیار اور ترجمہ کا یکساں ہونا ضروری ہے۔ قوانین کے ترجمہ کے سلسلہ میں یونیورسٹی آف گجرات کے سربراہ ڈاکٹر ضیاء القیوم اورسربراہ مرکز السنہ و علوم ترجمہ ڈاکٹر غلام علی اور ان کی ٹیم کی نیک نیتی، حب الوطنی، قومی زبان سے محبت اور اس کارِ خیر کے لیے سنجیدہ کاوشیں لائق تحسین ہیں۔ شعبہئ قانون پنجاب نے ترجمے کے لیے جامعہ گجرات کے جس مرکز  CeLTSکا انتخاب کیا اس کا خاص وصف یہی ہے کہ یہ پاکستان میں علوم ترجمہ کا پہلا مرکز ہے جہاں علوم ترجمہ کے حوالے سے بی ایس اور ایم فل سطح کی تعلیم دی جاتی ہے۔ اس سے قبل یہ کئی معیاری تراجم کر چکا ہے۔ اس مرکز سے بین الاقوامی معیار کا تحقیقی جریدہPJLTSشائع ہوتا ہے جو HECکا منظور شدہ ہے۔ اسی شعبے سے کثیر الکسانی مجلہ ”مترجم“ بھی شائع ہوتا ہے۔ ایسے ہی کئی کارنامے مختصر مدت میں اس مرکز کے ماتھے پر سجے ہیں۔ مختصر مگر کارکردگی سے بھری تاریخ کے حاملCeLTSجامعہ گجرات کو حکومت پنجاب نے کھلے مقابلے میں ترجمے کے لیے موزوں ترین ادارہ قرار دیا ہے۔ گوئٹے نے کہا تھا کہ جملہ اُمور عالم میں جو سرگرمیاں سب سے زیادہ اہمیت کی حامل اور قدروقیمت رکھتی ہیں، ان میں ترجمہ بھی شامل ہے۔تقریب کے آخر میں جامعہ گجرات اور حکومت پنجاب کے شعبہئ قانون و پارلیمانی اُمور کے درمیان معاہدے کی دستاویزات پر دستخط کیے گئے۔ وائس چانسلر یونیورسٹی آف گجرات ڈاکٹر ضیاء القیوم اور سیکرٹری قانون ڈاکٹر سید ابوالحسن نجمی نے دستخط کیے، دستاویزات کا تبادلہ ہوا تو حاضرین کی خوشی بھی دیدنی تھی۔ 
تاریخ گواہ ہے کہ یورپ میں ایک عرصے تک کلیسائی عدالتوں کا راج رہا جہاں شرع و قانون کا بیان صرف لاطینی زبان میں ہوتا تھا جو راہبوں اور شہزادوں کے سوا کسی کی زبان نہیں تھی۔ برصغیر میں آریاؤں نے قانون کو سنکرت کے حصار میں محدود کر دیا۔ انگریزوں کے غلبے کے بعد لارڈ میکالے کی تہذیب دشمن سوچ کے زیر سایہ ہماری مقامی اور قومی زبان کی تحقیر کا نیا دورشروع ہوا اور آج تک مسلط ہے۔ انگریزی زبان نے طبقاتی تفریق کی نئی خلیج پیدا کی۔ تا ہم آئین پاکستان جو ہمارے سیاسی اور تہذیبی شعور کا علمبردار ہے، اس کے آرٹیکل251اور آرٹیکل28میں محکمومانہ سوچ کو خیر باد کہہ دیا گیا۔ اس سلسلے میں اُردو کے قومی زبان کے طور پر نفاذ کے لیے عدالت عظمیٰ کا فیصلہ بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ عدالت نے شعبہ ئ ترجمہ بھی قائم کیا ہے۔ مختصراً یہی کہ یہ ہماری پسند یا نا پسند کا معاملہ نہیں اور نہ ہی ہماری تن آسانی کا بلکہ یہ آئینی حکم ہے کہ اُردو کو بطور سرکاری زبان یقینی بنایا جائے اور صوبائی زبانوں کی ترویج کی جائے۔ میری بلکہ پوری قوم کی دُعائیں یونیورسٹی آف گجرات کے ساتھ ہیں جس نے اس آئینی تقاضے کی تکمیل کے لیے قومی دانش گاہ کا فریضہ ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ شعبہ علوم ترجمہ اس قوم کے تہذیبی، سیاسی اور قانونی شعور کی نشاۃ ثانیہ کے لیے قابل فخر کام کر رہا ہے۔ قوانین کا اُردوترجمہ ہمارے آئین  اورپاکستان کے عوام کی اس خواہش کا عکاس ہے کہ وہ خود پر لاگو ہونے والے تمام قانونی ضوابط اور اپنے آئینی حقوق کی بابت صادر کیے گئے فیصلوں کو براہِ راست سمجھنا چاہتے ہیں۔ قوانین کا اُردو ترجمہ عوام کی منشاء کا اظہار ہے۔ 

جمعرات، 21 اپریل، 2016

چوں مرگ آید تبسم برلب اوست

چوں مرگ آید تبسم برلب اوست 


حضرت علامہ اقبال مقدر کے سکندر تھے۔ انہیں ہر طرح سے تاریخ میں اعلیٰ مقام حاصل ہوا۔ فکری و فنی پہلو میں ان کی مہارت نے اپنا لوہا منوایا تو نجی زندگی میں بھی وہ کم خوش قسمت نہ تھے۔ تاریخ کی ستم ظریفی ہے کہ فارسی کا عظیم شاعر فردوسی لاچارگی کی موت مرا، عطا ر جیسا عظیم فارسی شاعر معمولی سپاہی کی تلوار سے جاں بحق ہوا۔ جعفر زٹلی حق بات کہنے پر ہاتھی سے کچل دیا گیا۔ انشاء اللہ خاں جیسا شاندار شعر کہنے والا شاعر بھی شاہی عتاب کا نشانہ بنا۔ اس تناظر میں شاعر مشرق، حکیم الامت علامہ اقبال خوش قسمت رہے۔ ان کی علالت میں علاج اور تیمار داری ایسی شاہانہ تھی کہ بڑے بڑے بادشاہ بھی اس کی آرزو کرتے ہیں۔
شاعر مشرق، مصور پاکستان علامہ محمد اقبال آغاز شباب کے سوا کسی دور میں بھی صحیح معنوں میں تندرست و توانا نہیں رہے۔ حالانکہ علامہ اقبال کے خاندانی ”جینز“بہت عمدہ تھے،ان کے خاندان کے اکثر افراد دراز عمر رہے۔ ان کے والد نے 93 سال، والدہ نے پچھتر سال،بھائی اور بہن نے اسی سال سے زائد جبکہ بیٹے جاوید اقبال نے بھی نوے سال سے زیادہ عمر پائی۔ تاہم حضرت علامہ اکسٹھ سال چند ماہ کی عمر میں ہی داعی اجل کو لبیک کہہ گئے۔ اقبال کی کم عمری کی وجوہات میں ان کی کمزور طبیعت، تساہل پسندی، فشار اعصاب، تمباکو نوشی، بدپرہیزی اور کشتوں کا استعمال وغیرہ بیان کی جاتی ہیں۔ علامہ زندگی بھر مختلف بیماریوں کا شکار رہے۔ عوارض چشم، عوارض گردہ، نقرس، عوارض قلب، عوارض ریوہ، عوارض گوراشی، درد گلو، امراض دہان، ملیریا اور کم خوابی جیسی امراض کا ساتھ زندگی بھر رہا۔ علامہ اقبال نے اپنی بیماریوں کا تذکرہ خود بہت تفصیل سے کر رکھا ہے اور اپنی بیماریوں اور کیفیتوں کو خوب رقم کیا۔ ان کے مطبوعہ ساڑھے چودہ سو خطوط میں سے 251 خطوط میں ان کی بیماریوں کا ذکر ہے۔ علامہ کی آخری عمر کی کئی نظموں میں بھی اس کا تذکرہ ہے۔ مسلسل بیماریوں کے حملوں کے باوجود علامہ اقبال وبائی امراض اور ان کے حملوں میں محفوظ رہے۔ 1918ء میں لاہور میں جان لیوا انفلوائنزا کی وبا میں لاکھوں شہری لقمہئ اجل بن گئے پھر طاعون کی وبا کے وقت بھی علامہ کا مدافعتی نظام کامیاب رہااور وہ محفوظ رہے۔ 
علامہ اقبال علالت و علاج کے معاملے میں بھی خوش قسمت رہے اور انہیں وقت کے لحاظ سے بہترین طبی امداد میسر رہی۔ تیس سے زیادہ حکیموں اور ڈاکٹروں کے نام ان کے معا لجین کی فہرست میں نمایاں ہیں۔ ان معالجین میں مقامی اور غیر ملکی ماہرین جن میں برطانوی، جرمن اور فرانسیسی طبیب بھی شامل ہیں۔ حکیم عبدالوہاب انصاری المعروف حکیم نابینا دہلی، حکیم اجمل خاں، حکیم سید ضیاء الحسن بھوپال، حکیم سلطان محمود، حکیم محمد حسن قریشی، حکیم گورداس پور، حکیم سید زادہ، حکیم محمد افضل اور حکیم فقیر محمد کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر عبدالباسط انصاری، ڈاکٹر احمد بخش خاں بہادر، ڈاکٹر رحمان، ڈاکٹر بوس، ڈاکٹر حسن محمدحیات، ڈاکٹر مظفر علی، ڈاکٹر ڈک، ڈاکٹر یار محمد خاں، ڈاکٹر کرم، ڈاکٹر کرنل امر چند، ڈاکٹر کیپٹن الہٰی بخش، ڈاکٹر برج موہن ورما، ڈاکٹر عباس علی، ڈاکٹر ذیلنتر، ڈاکٹر محمد یوسف، ڈاکٹر متھرا داس، ڈاکٹر جمعیت سنگھ، ڈاکٹر عبدالقیوم کے نام نمایاں ہیں۔ ایام شباب سے ہی صحت کے حوالے سے مشکلات کا شکار رہنے والے علامہ کو زندگی کے آخری سالوں میں جس جان لیوا بیماری نے ان کو مبتلائے اذیت رکھا، وہ 1934 میں کھانسی اور زکام سے شروع ہوئی۔ سید نذیر نیازی کے مشہور مضمون ”آخری علالت“ کے مطابق 1934 میں 10 جنوری عید الفطر کا دن تھا وہ حسب معمول نماز کے لیے شاہی مسجد گئے،اس روز تیز اور ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔ علامہ عام لباس میں گئے تو وہاں مسجد کے کھلے صحن میں انہیں ٹھنڈ لگ گئی۔ واپس آگئے،سویاں کھائیں اور والد مرحوم کی تقلید میں دودھ کی بجائے دہی میں ملا کر کھائیں۔ حکیم فقیر محمد نے انہیں عرصہ سے دودھ اور ہر اس شے سے جو دودھ سے بنی ہو، سے پرہیز تجویز کر رکھا تھا یہ کھانے سے ان کا گلا بیٹھ گیا۔ علاج شروع ہوا مگر افاقہ نہ ہوا۔ فروری میں ایکسرے ہوا تو پتہ چلا کہ قلب کے اوپر رسولی بن رہی ہے۔ ڈاکٹر نے ریڈی ایشن علاج تجویز کیا مگر علامہ متفق نہ تھے انہوں نے حکیم نابینا سے رابطہ کیا اور ان کے علاج سے بہتری آئی۔ معاملات معمولی تبدیلیوں کے ساتھ چلتے رہے 1938 کے فروری میں دمہ کا دورہ ہوا۔ 30 مارچ کو ضعف قلبی سے غشی طاری ہو گئی۔ اپریل میں چہرے، پاؤں پر ورم ہو گیا، درد پشت اور درد شانہ کے عوارض شروع ہو گئے۔ 19 اپریل سے بلغم میں کسی قدر خون آنے لگا۔ ڈاکٹر جمعیت سنگھ نے مایوسی ظاہر کی۔ ڈاکٹر امیر چند پہنچ گئے اور ڈاکٹر عبدالقیوم کو ہدایات دے کر چلے گئے، دوائی کھائی تو علامہ کا جی متلانے لگا، اس پر خمیرہ گاؤ زبان عنبری کی خوراک لی تو طبعیت بحال ہوئی۔ 20 اپریل کو طبیعت زیادہ ناساز ہوئی تو ڈاکٹروں نے Mersalyl کا ٹیکہ لگانے کا فیصلہ کیا۔ اس ٹیکے سے پیشتر چونکہ ان دنوں ایمونیم کلورائیڈ دینا ضروری تھا تاکہ پیشاب کھل کر آجائے۔ ڈاکٹر عبدالقیوم نے دوائی تیار کی اور ذائقہ بدلنے کے لیے تھوڑا سا ”گلیسرینزا“ بھی ملا دیا۔ اس کے باوجود علامہ کو دوائی ناگوار لگی اور انہوں نے ناگواریت کا اظہار بھی کیا۔ صبح سے علامہ کی چارپائی جاوید منزل کے پورچ میں تھی رات ہوتے ہی خنکی ہونے لگی اور رات گئے علامہ نے چارپائی اندر لے جانے کا کہا۔علی بخش اور ڈاکٹر قیوم چارپائی ان کے کمرہ خاص میں لے گئے۔ چارپائی رکھ کر ڈاکٹر قیوم کمرے سے نکل کر باہر سستانے لگے۔ علامہ نے علی بخش کو کہا کہ میرے شانے دباؤ پھر بیٹھے بیٹھے پاؤں پھیلا لیے اور دل پر ہاتھ رکھ کر کہا، ”یا اللہ، یہاں درد ہے اس کے ساتھ ہی سر پیچھے کی طرف گرنے لگا،علی بخش نے سہارا دیا تو علامہ نے قبلہ رو ہو کر آنکھیں بند کر لیں اور پیدا کرنے والے کے دربار میں سرخرو ہو گئے۔ 21 اپریل 1938 ء بمطابق 19 صفر بروز جمعرات صبح سوا پانچ بجے علامہ نے جان جانِ آفریں کے سپرد کر دی۔ علی بخش نے گھبرا کر ڈاکٹر صاحب کو آواز دی۔ڈاکٹر عبدالقیوم دوڑتے ہوئے اندر پہنچے تو علامہ کی آنکھیں بند اور لبوں پر ہلکا سا تبسم سا تھا۔ اس وقت ہر طرف فجر کی اذانوں کی پر سطوت صدائیں گونج رہی تھیں پھر ڈاکٹر عبدالقیوم نے ہی ریڈیو والوں کو فون پر علامہ کے انتقال کی خبر دی۔ لوگ جوق در جوق جمع ہونا شروع ہو گئے۔ اخباروں نے خصوصی ضمیمے شائع کیے، سکول، کالج، عدالتیں سب ادارے بند رہے عبدالمجید سالکؔ کے بقول ”جاوید منزل اس بیوہ کی طرح نظر آرہی تھی جس کا سہاگ اجڑ گیا ہو“۔ چوہدری محمد حسین نے، راجہ حسن اختر اور ڈاکٹر مظفر الدین قریشی کے ہمراہ اقبال کو شاہی مسجد کے کسی حجرے میں دفن کرنے کی تجویز پیش کی۔ اس کے لیے سرکاری اجازت کی ضرورت تھی۔ پنجاب حکومت کے سربراہ سکندر حیات کلکتہ کے دورے پر تھے۔ میاں امیر الدین نے ٹیلی گراف کے ذریعے ان سے رابطہ کر کے اجازت طلب کی تو انہوں نے انکار کر دیا اور اسلامیہ کالج کے میدان میں تدفین کا کہا۔ لیکن علامہ کے دوست احباب ڈٹے رہے اور انہوں نے براہ راست صوبہ کے گورنر سر ہنری کریگ سے رابطہ کر کے دہلی سے اجازت منگوا لی اور مسجد شاہی کے بائیں جانب والے قطعہ زمین پر علامہ کی لحد کی تیاری شروع ہو گئی۔ علامہ کی رہائش گاہ پر عقید ت مندوں کی آمد پانچ بجے عصر تک جاری رہی پھر علامہ کا جنازہ جاوید منزل سے برآمد ہوا۔ جنازے کی چارپائی کے ساتھ لمبے لمبے بانس باندھ دیئے گئے تاکہ ہر شخص آسانی سے کندھا دے سکے، ہر مذہب، مسلک اور فکر کے لوگ ہجوم کی صو رت ساتھ ساتھ تھے۔ جنازہ قلعہ گوجر سنگھ اور خیابان فلیمنگ سے ہوتا ہوا، اسلامیہ کالج سے گذر کر قلعہ لاہور کے قریب پہنچا، پہلے حضوری باغ پھر شاہی مسجد کی سیڑھیوں کے قریب رکھ دیا گیا۔ 60 ہزار سے زیادہ کا ہجوم شام سات بجے شاہی مسجد کے صحن پہنچا اور وہاں جنازہ رکھ کر علامہ کے بڑے بھائی عطا محمد کا انتظار ہونے لگا جو سیالکوٹ سے نہیں پہنچ پائے تھے۔ ساڑھے آٹھ بجے مولانا غلام مرشد نے نماز جنازہ پڑھائی، اسی اثناء میں سیالکوٹ سے رشتہ دار پہنچ گئے۔ کہرام مچ گیا۔ عطا محمد روتے روتے مجمع کو ہٹاتے جاتے اور کہتے لوگو مجھے میرے بھائی کا چہرہ دیکھ لینے دو، اس نے کہا تھا اس کے چہرے پر مرنے کے بعد تبسم ہو گا ۔یقیناہو گا۔ علامہ نے خود کہا تھا کہ

نشان مرد مومن باتو گویم 
چو مرگ آید تبسم بر لب اوست

(مرد مومن کی علامت سے کہتا ہوں کہ جب اس پر موت آئے تو اس کے لبوں پر مسکراہٹ رہتی ہے) 

حکیم الامت کے جسد خاکی کو سوا دس بجے رات سپرد خاک کر دیا گیا۔ چند مہینوں بعد مزار کمیٹی بنا دی گئی جس نے فیصلہ کیا کہ مزار کی تعمیر کے لیے چندہ نہیں لیں گے۔ قیام پاکستان کے بعد وزیر خزانہ غلام محمد نے حکومت کی جانب سے مزار کی مدد کرنا چاہی تو کمیٹی نے قبول نہیں کیا۔ افغان حکومت نے اٹلی کے ماہرین فن سے مقبرہ کا نقشہ بنوا کر بھیجا، اسے بھی قبول نہیں کیا گیاکہ اس میں کیتھولک صنعتی فن تعمیر نظر آتا ہے اور آخر میں عالمی شہرت یافتہ ماہر فن تعمیر نواب زین یار بہادر جنگ سے نقشہ بنوایا گیا اور پھر پرشکوہ مقبرہ تعمیر ہوا۔ علامہ اقبال کا مقبرہ لاہور کی سرزمین پر صدیوں ”سجدہ گاہ صاحب نظراں“ رہے گا اقبال نے کہا تھا کہ  
زیارت گاہ اہل عزم و ہمت ہے لحد میری  

بدھ، 20 اپریل، 2016

پاکستان بھی تو لفظ ہے


کتاب مقدس میں ہے کہ اندھیرا ہی اندھیرا تھا، پانی ہی پانی تھا اور صرف خدا کا وجود تھا پھر اس نے چاہا کہ وہ جانا جائے اور ایک لفظ تخلیق ہوا   ”کن“ اور پھر کروڑوں سال سے دنیا میں لفظ”کن“ کا ہی جمال ہے۔ کائنات میں تخلیق کا پہلا اظہار، تخلیق اور قوت گویائی کی پہلی دلیل لفظ بنا، لفظ تخلیق کا بنیادی جزو اور کائنات اصلاً لفظ کے حُسن کاا ظہار ہے۔ لفظ اپنی معنویت میں تخلیق کی ماں ہے۔ کسی دانشور نے خوب کہا ہے کہ ہم لفظ کی صورت حال میں زندہ رہتے ہیں اور لفظ ہی ہمارا گردوپیش اور ہمارا سیاق و سباق متعین کرتے ہیں۔ لفظ تلفظ کے عمل سے لیکر معنی کے ابلاغ تک ایک ایسی کنجی کا نام ہے جو اسرار کے ہر زاویے تک رسائی کا ناگزیر اور لازمی ذریعہ ہے۔ لفظ اسم ہے، اسم پہچان۔لفظ فعل ہے، فعل کارکردگی۔ لفظ حرف ہے، حرف حقیقت۔ تمام انسانی خیالات، تصورات، تفکرات، تواہمات، نظریات، فلسفے اور مذاہب لفظوں کے استعمال سے ہی تشکیل پاتے ہیں۔ لمحہئ تنزیل میں اترا ہوا پیغام بھی لفظ ہے اور شاعر کے شعور پر ہویدا ہونے والا خیال بھی لفظ کے لباس میں جلوہ گر ہوتا ہے۔ لفظ بیاں بھی ہے اور طلسم بھی، لفظ اظہار بھی ہے اور اخفاء بھی۔ لفظ بے نقاب بھی کرتا ہے اور ڈھانپ بھی لیتا ہے۔ لفظ کی اسی ہمہ گیریت اور ہمہ جہتی نے یونیورسٹی آف گجرات کی ڈیبیٹنگ سوسائٹی کو بھی اپنی گرفت میں لے لیا کہ اس نے گیارہ اور بارہ اپریل کو منعقد ہونے کل پاکستان مباحثے کو لفظ 2016کے خیال سے باندھ دیا۔آل پاکستان بین الجامعاتی تقریری مقابلے یونیورسٹی آف گجرات کی قابلِ تحسین روایت ہے اس سال چوتھے کل پاکستان مقابلوں کو بھی ”لفظ“ ہی کے نام سے موسوم کیا گیا،  لفظ انسانی زندگی کو معنی دیتے ہیں تو مکالمہ ان لفظوں کی ترتیب سے نئے افکار کی پرورش کرتا ہے۔ مباحثے اور مکالمے سے نئی بحثیں جنم لیتی ہیں، مختلف خیالات ٹکراتے ہیں اور پھر یہ جدلیات کسی نئے امتزاج میں ڈھل کر تہذیبی اہمیت کی حامل ہو جاتی ہے۔

کسی قومی دانشگاہ کا فریضہ بھی یہی ہوتا ہے کہ وہ آنے والی نسلوں کو جانے والوں کی تہذیب سے متعارف کروائے اور نئی تہذیب کے وارثوں کے ہاتھ میں نئے سوال تھما دے جن کی روشنی میں وہ زندگی کی ترقی کا سفر طے کریں۔ جامعہ گجرات کی وژنری قیادت اجتماعی شعور کی نمائندہ ہے اسی لئے اس درسگاہ کی فضا شیخ الجامعہ کی فکری ضیاء سے منور ہے اس روشنی نے چار سو لفظ اور خیال کا سویرا قائم کر رکھا ہے۔ ڈاکٹر ضیاء القیوم کی حب الوطنی نے ان روایتی تقریری مقابلوں کو قومی یکجہتی اور ملی آگہی کا ضامن بنا دیا۔ کل پاکستان مباحثے میں پاکستان کی تمام اکائیوں کی بھرپور نمائندگی تھی۔ ملک بھر سے چالیس ممتاز جامعات کی ٹیموں نے بھرپور شرکت کی۔ پہلی شب کو پاکستانیت کے عنوان سے ثقافتی رنگ میں رنگ دیا گیا اور گجرات یونیورسٹی کو سندھ، خیبر پختونخواہ، بلوچستان، پنجاب، گلگت  بلتستان اور کشمیر کے ثقافتی رنگوں سے سجا کر پاکستانیت کا علمبردار بنا دیا گیا۔ افتتاحی تقریب میں ڈی سی او گجرات لیاقت علی چٹھہ مہمان خصوصی تھے، جامعہ گجرات کی نمائندگی رجسٹرار ڈاکٹر طاہر عقیل نے کی۔ سٹوڈنٹس سروسز سنٹر کے ڈائریکٹر محمو یعقوب اور اپنی ذات میں پوری انجمن کا کردا ادا کرنے والے محمدحیدر معراج نے حسن انتظام اور والہانہ استقبال کی درخشندہ روایت کو رواج دیا۔ڈبیٹنگ سوسائٹی کے کوارڈینیٹر رانا احمد شہید اور صدر سوسائٹی آصفہ فرحت نے میزبانی کے تقاضے بھرپور انداز سے نبھائے، نظامت کے فرائض خوش گفتارعروشہ اعوان اور نورالہدیٰ نے بحسن و خوبی انجام دئیے۔ مقابلوں کے بنیادی تھیم ”لفظ 2016“ کے تعارف کی ذمہ داری راقم الحروف کو سونپی گئی تو میں نے مختصراً عرض کیا کہ لفظ ہر وہ چیز ہے جسے تلفظ کیا جاسکے۔ نحویوں کے نزدیک لفظ وہ ہے جسے اسم اور حرف میں تقسیم کیا جا سکے، حرفیوں کے ہاں لفظ وہ ہے جو پہلو بدلے تو معنی بدل جاتے ہیں، فلسفیوں کے نزدیک لفظ خیال کا جسم و پیکر ہے اور صوفیوں کے نزدیک لفظ اشارہ ہے جو ماورائے حقیقت کی طرف راہنمائی کرتا ہے۔ محی الدین ابن عربی نے کہا تھا کہ ”تمہارے نام تمہاری تربیت کرتے ہیں، اس طرح لفظ ہی ہماری شناخت کی تقسیم کرتے ہیں۔ افکار کی جنگ ہو یا اقوام کی جنگ لفظ ہی حتمی طور پر مؤثر ہتھیار ثابت ہوتے ہیں۔ ہیرلڈ پنٹر کے ایک کردار کے بقول”لفظ جس کی گرفت میں آجائیں وقت کی لگامیں اس کے ہاتھوں میں آجاتی ہیں“۔جامعہ گجرات کے چوتھے کل پاکستان مباحثے کا آغاز ہونے جا رہا ہے لفظوں کی جنگ شروع ہونے والی ہے میں تمام ٹیموں اور ان کے سپہ سالاروں کے سامنے سقراط کی آخری بات رکھنا چاہتا ہوں۔ زہر کا پیالہ پی لینے کے بعد اپنے شاگرد کو آخری نصیحت کرتے ہوئے سقراط نے کہا تھا کہ کریٹو! یاد رکھو لفظوں کا غلط استعمال دنیا کا سب سے بڑا گناہ ہے۔امید ہے  لفظو ں کے سوداگر آنے والے مقابلوں میں لفظ کی حرمت پر کوئی آنچ نہیں آنے دیں گے۔ اس کے بعد رنگا رنگ ثقافتی پروگرام پیش کیا گیا۔ شینا ڈانس، پختون اور بلوچ روایتی رقص اور بلوچ و پنجابی لوک داستانوں نے حاضرین کو خوب محظوظ کیا۔ بانسری نے سماں باندھا تو زوہیب خاور اور نثار احمد کی مدھر آوازوں نے دلوں کے راگ چھیڑے، طبلے پر فنکارانہ کمال نے محفل کو دو آتشہ کر دیا۔ڈی سی او گجرات لیاقت علی چٹھہ نے کہا کہ تقریر دلیل کے ذریعے سامع کو قائل کرنے کا فن ہے۔ مقرر لفظ کی حرمت کا پاسباں ہوتا ہے۔ انہوں نے ملک بھر سے آئے ہوئے طالبعلموں اور اساتذہ کا گجرات کی سول سوسائٹی کی جانب سے خیر مقدم کیا۔ نامور مقرر اور ماہر امور طلبہ محمد حیدر معراج نے کہا کہ تقریر محنت اور منطق کا حسین امتزاج ہوتی ہے انسانی تہذیب میں فن تقریری کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ فن تقریر قوموں اور قومیتوں کے درمیان امن اور یکجہتی کا فریضہ سر انجام دینے میں معاون ہوتا ہے۔

رجسٹرار ڈاکٹر طاہر عقیل نے کہا کہ لفظوں کی ہم آہنگی ہماری متوازن سوچ کی کی غماز ہوتی ہے۔ جامعہ گجرات میں صحت مند ہم نصابی سر گرمیاں تربیت کا اہم وسیلہ ہیں۔ ڈائریکٹر محمد یعقوب نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔ دو روزہ اردو اور انگریزی تقریری مقابلوں میں شعبہ انگریزی کی اسسٹنٹ پروفیسر محترمہ صائمہ انور، عبدالواحد، صافیہ ضیاء، کامران احمد، ہمراز شیروانی اور حیدر معراج نے منصفین کے فرائض سر انجام دیے۔گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کی ٹیم ٹرافی کی حقدار ٹھہری۔ انفرادی طور پر انگریزی مقابلوں میں UETٹیکسلا کی فاطمہ اول، رابعہ رحمان دوم اور پنجاب یونیورسٹی کے حماس سوم قرار پائے جبکہ اردو مقابلوں میں جی سی یو لاہور کے کفیل رانا پہلے، یو ای ٹی ٹکسلا کے محمد عامر دوسرے اور FASTفیصل آباد کیمپس کے حسان الرشید تیسرے نمبر پر رہے۔ حذیفہ کو انفرادی جبکہ کیڈٹ کالج پشین کی ٹیم کو حوصلہ افزائی کا انعام دیا گیا۔تقسیم انعامات کی تقریب کے مہمان خصوصی وائس چانسلر جامعہ گجرات ڈاکٹر ضیاء القیوم تھے، انہوں نے فاتح ٹیم کو ٹرافی اور انعامات کے حقدار ٹھہرنے والوں میں نقد انعامات اور ٹرافیاں اپنے دست مبارک سے تقسیم کیں۔سر پرست ڈیبٹنگ سوسائٹی ڈاکٹر طاہر عقیل نے قومی یکجہتی و قومی ہم آہنگی کو فروغ دینے کیلئے طالبعلموں کو بہترین سفیر قرار دیا۔ڈاکٹر ضیا القیوم نے کہا کہ مکالمہ و مباحثہ سماجی رواداری اور فکری روشن خیالی کا ضامن سمجھاجاتا ہے جامعہ گجرات طالبعلموں فکری راہنمائی اور تربیت و کردار سازی کو اولین ترجیح گردانتی ہے۔ تمام صوبوں کے نمائندگان کی موجودگی سے ان مقابلوں کو معیار اور وقار ملا ہے۔منتظمین کو اس ثمر آور مقابلے کے اہتمام پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
 لفظ جو ایک علامت ہے کبھی کانوں میں رس گھولتا نغمہ، کبھی دلوں کو چھو لینے والی میٹھی بات۔ کبھی رگ وپے میں تلخی بکھیرنے والا نشتر، تو کبھی زخم مند مل کر دینے والا مرہم۔ان مقابلوں میں لفظ کے بہت سے پہلو کھل کر سامنے آئے۔ طالبعلموں کی گفتار اور فکری معیارواضح کر رہا تھا کہ کائنات رنگ و بو میں ہر رنگ لفظ سے شناخت پاتا ہے اور ہر خوشبو لفظ کے دامن سے لپٹی چلی آتی ہے۔ ایسے ہی جیسے اس عظیم دھرتی ماں کے سارے رنگ، ساری خوشبوئیں جامعہ گجرات میں لفظ کی شمع جلا کر پتنگوں کے رقص کا عکس پیش کر رہی تھیں۔ قومی تقاضو ں سے ہم آہنگ قومی یکجہتی کے عکاس ان دو روزہ کل پاکستان تقریری مقابلوں میں اس اعلان پر سب کا اتفاق تھا کہ پاکستان بھی تو لفظ ہے۔اس کی معنویت اور حرمت پر کبھی کوئی آنچ نہیں آنے دیں گے۔