پیر, جون 13, 2016

انسان کون ہے۔۔۔؟


کہاجاتا ہے کہ جن دنوں روسی ناول نگار گوگول پیٹرز برگ میں بے کاری کے دن گزار رہا تھا۔ پشکن کی سفارش پر اسے یونیورسٹی میں لیکچرر کی نوکری مل گئی۔ مگر وہاں گوگول ایک لیکچر دے کر بھاگ گیا اور دوبارہ یونیورسٹی نہیں گیا۔ پشکن نے وجہ پوچھی تو کہنے لگا”جتنا مجھے آتا تھا میں نے پڑھا دیا۔ اب میرے پاس کہنے کو کچھ نہیں، وہاں جا کر طالبعلموں کو کیا پڑھاؤں گا۔“ میں نے بھی علمی ذوق کے حامل اورکتاب دوستی کے پیامبر دانشور دوست پروفیسر میاں انعام الرحمن سے اپنی کم مائیگی اور نالائقی کا تذکرہ کیا اور پڑھنے لکھنے سے معذرت چاہی۔ مگر کیا کیا جائے کہ میاں صاحب مبالغہ کی حد تک ”بابرکت“ شخص ہیں اور حلقہئ یاراں میں ان کا شمار ایسے افراد میں ہوتا ہے کہ جن سے کسی بھی نشست و گفتگو کے بعد علمی تشنگی بڑھ جاتی ہے وہ جب بھی گوجرانوالہ سے تشریف لاتے ہیں، کتابوں کی باتیں کرتے ہیں اور کتب بینی کا درس دیتے ہیں۔ گذشتہ دنوں آئے اور بڑی محبت سے عالمی شہرت یافتہ یہودی مذہبی و روحانی سکالر ابراہام جوشو اہیشل کی کتابWho is Man?کا اُردو ترجمہ عنایت کیا، اور اپنے مخصوص علمی انداز بیاں سے کتاب، صاحب کتاب اور مترجمین کا تعارف بھی کروایا اور مجھے کتاب پڑھنے کی ”دعا“ بھی دی۔ میں نے کتاب لی،شکریہ ادا کیا اور پھرمیری نظر ٹائٹل پر ہی ٹھہر گئی ”انسان کون ہے؟“ اور دیگر تحریریں، تقدیم و ترجمہ، قیصر شہزاد، عاصم بخشی۔ سادہ مگر بامعنی ٹائٹل ایک راسخ العقیدہ روحانی عالم کی انسان بارے سوچنے اور فکر کرنے کی جسارت کا عکاس دکھائی دیا۔ میں نے ورق اُلٹنے شروع کیے اور پھرمیری بے قراری سطر سطر بڑھتی گئی۔صفحہ نمبر366پر پہنچا تو لگا ابھی تو شروع کیا تھا۔ فکر، تجزیے، روحانیت سے بھرپور تحریر اور محبت،محنت کے امتزاج سے قابل فہم ترجمہ نے مزہ دو آتشہ کر دیا۔”انسان بیک وقت باقی نامیاتی فطرت کا حصہ بھی ہے اور روح الہٰی کے لا متناہی فیضان کا بھی۔ دائرہ وجود میں ایک اقلیت ہوتے ہوئے اس کا مقام خدا اور درندوں کے درمیان کہیں ہے۔ تنہا رہنے کی صلاحیت سے محروم ہونے کے باعث اسے ان دونوں میں سے کسی ایک سے مل جانا ہو گا“۔
والٹیر نے کہا تھا کہ خدا نے انسان کو اپنی صورت پر بنایا تھا اور انسان نے اس کے جواب میں خدا کو اپنی صورت کے مطابق بنا لیا۔ جی ہاں!خدا، کائنات اور انسان کی تثلیت میں انسان کی اہمیت مسلم ہے۔ قرآن مجید ”والناس“ پر ختم ہوتا ہے اور انسان کے معنی آنکھ کی پتلی کے بھی ہیں۔ گویا انسان کائنات کی آنکھ ہے جس کا نورحق ہے کہ خدا کا عرفان اور کائنات کی پہچان انسان کے وجود سے ہی وابستہ ہے۔ اس یہودی روحانی عالم کے قلم و فکر میں بھی ہمیں خدا انسان کی تلاش میں نظر آتا ہے۔375صفحات پر مشتمل اس کتاب کو مکتبہئ اشارات اسلام آباد نے شائع کیا ہے۔ فلسفے کے استاد ڈاکٹر قیصر شہزاد اور ڈاکٹر عاصم بخشی نے اسے اُردو کے قالب میں ڈھالا ہے۔ دونوں مترجمین نے بیسویں صدی کے اہم دانشوروں کی اہم تحریروں کو اُردو میں منتقل کرنے کے جس کارِخیر کا آغاز کیا تھا یہ کتاب اس کی اہم کڑی ہے۔ اس کتاب میں ابراہام جوشوا ہیشل کی کتاب ”انسان کون ہے؟“ اور ان کی مختلف کتابوں سے منتخب کردہ گیارہ مزید اجزاء کا ترجمہ کرکے کتاب میں شامل کیا گیا ہے۔ ہیشل کے فراہم کردہ حواشی آخر میں دئیے گئے ہیں جبکہ مترجمین کے توضیحی تبصرے فٹ نوٹس میں ساتھ ساتھ موجود ہیں۔ کتاب کے آخر میں ہیشل کی تحریروں اور انکی فکر پر کیے گئے تحریری کام کی مختصر کتابیات کی فہرست بھی دی گئی ہے۔ فہرست میں پہلے حصے میں ہیشل کی تحریروں کی فہرست ہے جبکہ دوسرے حصے میں ہیشل کے حوالے سے لکھی جانے والی چودہ تحریروں کی فہرست دی گئی ہے۔ ڈاکٹر قیصر شہزاد نے کمال مہارت سے26صفحات کے جامع مقدمہ میں مصنف، اسکی شخصیت اور فکر کا بھرپور تعارف کروایا ہے۔ یہ مقدمہ جہاں ہیشل کی فکر و خدمات کا بھرپور احاطہ کرتا ہے وہیں ڈاکٹر قیصر شہزاد جیسے فلسفے کے استاد کی فکری و قلمی مہارت کا عکاس بھی ہے۔ آخر میں ڈاکٹر عاصم بخشی نے تجزیاتی انداز میں مطالعہئ ہیشل کے حوالے سے چند معنی خیز گذارشات بھی رقم کی ہیں۔اُردو کتاب کی ایک اور خاص بات یہ ہے کہ پیش لفظ مصنف کی بیٹی سوزانہ ہیشل نے لکھا ہے جو خود ڈار ٹماؤتھ کالج امریکہ میں شعبہئ مذاہب کی پروفیسر ہیں اور لکھتی ہیں کہ ”میرے والد نے ایک ایسے ماحول میں درس و تدریس کے فرائض انجام دئیے جہاں مسلمان علماء کے ساتھ ان کے بہت کم روابط ہو سکے۔ البتہ وہ عربی زبان سے واقف تھے اور انہوں نے ازمنہ وسطیٰ کے یہودی اور مسلمان فلسفیوں پر کام بھی کیا۔ موسیٰ ابن میمون کی سوانح لکھتے ہوئے انہوں نے اسلام کا ذکر مدح و توصیف کے ساتھ کیا اور اسکے توحید قطعی کے نظریہ اور ہر طرح کے شرک کی مخالفت پر کھل کر تعریف کی۔ یہ جان کر ان کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ ہوتا کہ انکی تحریریں پاکستان کے مسلمان قارئین تک پہنچ رہی ہیں اور مجھے معلوم ہے کہ وہ اپنے مسلم قارئین سے مل کر بہت خوش ہوتے“۔ وہ مزید لکھتی ہیں کہ ”تاریخ کے دائرے میں ایک ایسا کام کر جانا جو مراد خداوندی کی تکمیل کا راستہ ہموار کرے۔ تاریخ کے تاریک اور خطرناک زمانہ حال میں، جب کہ ایمان و مذہب کو کئی طرح کی تحریفات کا سامنا ہے،یہ اہم کتاب اردو میں سامنے لائی جا رہی ہے۔“
ترجمے سے محبت کرنے والے مترجمین کی یہ کاوش یاد دلاتی ہے کہ یورپ نے اپنی نشاۃ ثانیہ کے دوران ترجمہ کاری کے ذریعے ہی یونانی اور اسلامی فکر و فلسفہ، فکری تحریکوں، سماجی رویوں، تاریخ و سیاست اور سائنس و طب سے متعلقہ صدیوں پر مبنی علمی و فکری ورثہ کو اپنے ہاں منتقل کیا۔ یہ بات بجا طور پر کہی جا سکتی ہے کہ ترجمہ کاری کا فن نہ ہوتا تو شاید مختلف علوم ارتقائے انسانیت میں کردار ادا کرنے سے محروم رہتے۔ تھیالوجی جیسے خشک موضوع سے تعلق رکھنے والی کتاب کا ترجمہ مشکل کام ہے،تاہم اس کتاب کے مطالعے سے واضح ہوتا ہے کہ مترجمین ادراک رکھتے ہیں کہ ترجمے میں الفاظ کا صحیح استعمال بڑی اہمیت رکھتا ہے، اگر مترجم ایسا کرنے میں ناکام رہے تو مرکزی خیال، مجموعی تاثر اور خیال کی شدت تینوں متاثر ہو سکتے ہیں۔ ڈاکٹر قیصر شہزاد اور ڈاکٹر عاصم بخشی کی کاوش قابل تحسین ہے کہ مترجمین لفظوں کے سیاق و سباق سے آشنائی کی بدولت رواں، قابل فہم اور با مقصد ترجمہ کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔ ڈاکٹر عاصم بخشی کے اپنے الفاظ میں ”شاعرانہ، صوفیانہ، فلسفیانہ اور ادبی روایت کی امین، اردو جیسی ایک نسبتاًجدید زبان میں ہیشل کا ترجمہ شاید ہمیں کچھ ایسے نئے اور نادر زاویے کھولنے میں مدد دے جن سے مغربی جدیدیت سے متاثر مشرقی ذہن نہ صرف اپنی روایت کا تازہ احیاء کر سکے بلکہ تہذیبی روایتوں کا ملاپ بھی ممکن ہو، یہ اس لیے بھی اہم ہے کہ شاید اب ہم تاریخ کے اس نازک موڑ پر کھڑے ہیں جہاں تہذیبی روایتوں کے دم توڑتے معرکوں سے زیادہ ہمیں انسان اور ایک عالمگیر ابھرتی تہذیب کی راہ متعین کرانے کی ضرورت ہے“۔ 
کتاب کے کل بارہ ابواب میں سے تین ابواب کا ترجمہ ڈاکٹر قیصر شہزاد نے کیا ہے جن میں ”نبی کس طرح کا انسان ہوتا ہے؟“، ”انسان کون ہے؟“ اور ”ہم مل کر کیا کر سکتے ہیں؟۔“جبکہ نو ابواب، ”دعا بطور نظام حیات“، ”الہٰیات عمق“، ”تین نکاتِ آغاز“، ”ارفع“، ”سرّ“، ”ایک وجودیاتی مفروضہ“، ”انفعال خداوندی“، ”مذہب: آزاد معاشرے میں“، ”ابن میمون کے آخری ایام“، کا ترجمہ ڈاکٹر عاصم بخشی نے کیا ہے۔خوبی یہ ہے کہ دوران مطالعہ یہ کم مواقع پر کھٹکتا ہے کہ مختلف ابواب کا ترجمہ مختلف قلمکاروں کی سعی ہے۔ یہ دونوں مترجمین کی قلمی یکجہتی اور فکری محبت کا ثبوت ہے۔  
مارٹن بیوبر یا کانٹ کے انسان کے بارے اٹھائے گئے فلسفیانہ سوالوں یا مباحث کے برعکس ہیشل نے ابتداء ہی میں واضح کر دیا کہ انسان کون ہے؟ کوئی سوال نہیں بلکہ ایک مسئلہ ہے۔ سوال تو کم علمی یا تجسس کی کوکھ سے جنم لیتا ہے لیکن مسئلہ ضرورت سے زیادہ جاننے اور علم میں محسوس ہونے والے داخلی تعارض سے پیدا ہوتا ہے۔ ہیشل تصور انسان کے تاریخی تناظر کا علمی جائزہ لیتا ہے۔ اور آخر میں مارٹن ہائیڈیگر اور وجودیت کے فکری پس منظر سے تعلق رکھنے والے مفکرین کے تصور انسان کو ہدف تنقید بناتا ہے۔ ان سے ہیشل کا اختلاف یہ ہے کہ یہ انسان کو بے نام، بے چہرہ اور بے حس وجود کا ایک پہلو قرار دیتا ہے۔ اس کے نزدیک انسان کا اہم مسئلہ اس کا ”ہونا“ نہیں اسکا ”جینا“ ہے۔ ہیشل انسان کا تعلق مردہ یا   لا تعلق ماورائیت سے جوڑنے کی بجائے ”خدا“ کی زندہ ماورائیت سے جوڑتا ہے اور اسے الوہی انداز میں جینے کی تعلیم دیتا ہے۔ عمیق نظروں سے مطالعہ کیا جائے تو ہیشل کا تصور انسان فلسفیانہ اور منطقی حوالے سے بھی اپنے معاصرین کے تصور انسان پر سبقت لے جاتا ہے۔ تاہم خود انسان کو اس حوالے سے غور و فکر کی ضرورت ہے۔ بیدل نے کیا خوب کہا تھا کہ دونوں عالم خاک ہوئے تب کہیں انسان کا نقش بنا۔ اے انسان، اے بہار نیستی اپنی قدر کو پہچان؟ ایسا ہی پیغام ہیشل کا ہے وہ لکھتا ہے ”کائنات تو مکمل ہو چکی ہے، لیکن شاہکار ابھی نامکمل ہے اور ابھی بھی تاریخ کے اندر تخلیق کیا جا رہا ہے۔ خدا کے عظیم تر منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے انسان کی ضرورت ہے…… زندگی،مٹی اور پارسائی وہ سانچہ ہے جس میں خدا تاریخ کی تشکیلِ جدید چاہتا ہے…… خدا رحمت اور پارسائی کا حکم دیتا ہے اور اس کا یہ حکم محض عبادت گاہوں میں ہی نہیں بلکہ تاریخ اور زمانے میں ہی بجا لایا جاسکتا ہے۔ خدائی مشن کی تکمیل انسان صرف تاریخ کے اندر ہی کر سکتا ہے“
یہ کتاب تشنہ ذہنوں کی پیاس بجھانے کے لیے نہیں بلکہ فکری اور روحانی تشنگی بڑھانے کے لیے ہے۔ ایسے میں جب دنیا ایک روحانی صحرا بن چکی ہے۔ انسان اس کرب سے نکلنے کے کسی راستے اور انسان ہونے کی کسی نئی معنویت کے متلاشی ہیں۔ کیا انبیاء کے پیغام کو زندہ رکھنے کے دعویداروں سے کسی مدد کی توقع کی جاسکتی ہے؟ یا پھر کسی موجود کو ”انسان“ کہلانے کے قابل کیا شے بناتی ہے؟ میں ہوں! مگر یہ ”میں“ کون ہے؟  اور ”ہونے“ سے کیا مراد ہے؟۔ مذہب کہاں مل سکتا ہے؟ ایسے ہی بہت سوال اس کتاب میں اٹھائے گئے تاکہ انسان فہمی کو کائنات کے وسیع تناظر میں پرکھا جا سکے۔ ایسے ہی بہت سے سوال جو آج کے دور کے انسان کو در پیش ہیں اور ہم سب کی توجہ کے طالب ہیں 
یہ کتاب پڑھتے ہوئے مجھے علامہ اقبال کے خطبات بہت یاد آئے۔ آج بھی ہمیں فہم انسان و مذہب کے لیے فکری تغیراور مذہبی افکار کی تشکیل جدید کی اشد ضرورت ہے۔ایسے میں اس کتاب کا اردو ترجمہ اور اس کا مطالعہ ایک اہم بات ہے۔ یہ کتاب مذکورہ مضامین کے حوالے سے پختہ فکر بحث میں معاون ہو سکتی ہے۔ ہیشل کے خیال میں بین المذاہب سرگرمی کی شرط اول ہی ایمان ہے۔ اہل مذاہب کو مکالمہ عقاید پر مباحثے کی نیت سے نہیں بلکہ ”الہٰیات عمق“ کی سطح پر کرنا چاہیے۔ ہیشل کے مباحث سے مذہبی فکر نو کی امید بھی جنم لیتی ہے۔ مذہبی اور فلسفیانہ موشگافیوں کی تاریخ سے آشنائی کے باوجود وہ مایوس آدمی نہیں تھا۔ وہ سچے اور کھرے مذہبی انسان کی طرح پُر امید شخص تھا۔ اس کی تحریروں کے مطالعے سے یہ بھی اخذ ہوتا ہے کہ مذہبی انسان کبھی مایوس نہیں ہوتا۔ امید ہی تغیر کی جان ہے،شاید اسی لیے وہائیٹ ہیڈ نے کہا تھا کہ ”زندگی کو مستقل طور پر ایک ہی قالب میں محبوس رکھنا نا ممکن ہے۔ اس لیے مذہب کو بھی سائنس کی طرح بدلتے ہوئے تقاضوں کا لحاظ رکھنا پڑے گا۔ اس کے اصول ابدی ہو سکتے ہیں۔ لیکن ان اصولوں کی تعبیرات تو حالات کے ساتھ بدلتی رہیں گی“۔