سوموار، 17 نومبر، 2014

”غنیمت از خاکیان ہند غنیمت بود“


ہماری ادبی و شعری تاریخ میں سخنوروں کی بستی کنجاہ ”مدینہ الشعراء“ کی شہرت رکھتی ہے،یہ اعزاز کسی فرد واحد کی وجہ سے نہیں بلکہ صدیوں سے شعراء کی بستی ہے جس نے بے شمار شعراء کو جنم دیا جنہو ں نے اندرون و بیرون ممالک خطہئ یونان گجرات کی شہرت کو دوام بخشا ہے۔ میری دیرینہ خواہش تھی کہ کنجاہ کی سرزمین پر سوئے عظیم شعراء کی تربت پر حاضری دوں، حُسن اتفاق کہ گذشتہ دنوں کنجاہ کے علمی و ادبی حلقوں کے روح رواں جواں عزم اور پختہ فکر احسان فیصل کنجاہی کا دعوت نامہ ملا کہ شریف کنجاہی ایوارڈز 2014کی تقریب میں ضرور شرکت کریں۔ میں نے دعوت کو غنیمت جانا اور 14نومبر بروز ہفتہ کی سہ پہر گجرات کے ”بیت الحکمت“ المیر ٹرسٹ لائبریری کے سر پرست اور ”فنافی الکتب“محترم عارف علی میر کی راہنمائی و رفاقت میں کنجاہ پہنچااور تقریب میں شرکت کی۔میرے لیے یہ امر باعث اعزاز ہے کہ مجھے بزم غنیمت اور احسان فیصل کنجاہی کے ادبی ہفت روزہ کامرانیاں کے زیر اہتمام منعقدہ تقریب میں ”شریف کنجاہی ایوارڈ2014“ سے نوازاگیا۔ راولپنڈی سے تشریف لائے بزرگ شاعر، ناول نگار محترم زہیر کنجاہی نے اپنے دست مبارک سے یہ ایوارڈدیا۔ شریف کنجاہی اردو اور پنجابی ادب، شعر اور تحقیق کے حوالے سے عالمی سطح پر مستند نام ہے۔ میرے لیے یہ بات اس لیے بھی قلبی مسرت کا سبب بنی کہ اس طرح جناب شریف کنجاہی کے نام سے کسی نہ کسی طور میرا نام جڑ گیا ہے۔ تقریب میں بزرگ شاعر سرور ابنالوی، منیر صابری کنجاہی، پروفیسر تفاخر گوندل، رخسانہ نازی، اشرف نازک سے ملاقات کا موقع بھی ملا، تقریب کے اختتام پر میں نے برادرم احسان فیصل کنجاہی سے درخواست کی کہ خواہ اندھیرا ہو گیا تاہم میں مولانا محمد اکرم غنیمت کنجاہی اور شریف کنجاہی کی قبور پر حاضری دینا چاہتا ہوں، ان کی وساطت سے نامورشعراء منیر صابری کنجاہی اور اشرف نازک نے کمال شفقت سے ہمارا ساتھ دیا اور روضہئ غنیمت تک رسائی فراہم کی۔ وہی غنیمت کنجاہی جس کے بارے میں ”شعراء العجم فی الہند“کے مطابق تذکرہ نگار مرزا محمد افضل سر خوش نے لکھا ہے کہ ”غنیمت از خاکیان ہند غنیمت بود“ اورنگزیب عالمگیر عہد کے قادرالکلام فارسی شاعر غنیمت کنجاہی کے علمی کمالات اور روحانی محاسن و تصرفات سے ان کے زمانہ حیات سے لے کر آج تک اصحاب فہم و ادراک متاثر نظر آتے ہیں۔ سید شرافت نوشاہی رقمطراز ہیں کہ ”آپ عالم یگانہ، فاضل زمانہ، علامہ دوراں، فہماہ، بلند مکاں، شاعر با کمال، ناظم بے مثال،غواص، بحر شریعت، گوہر دریائے حقیقت، صاحب عشق و محبت و علم وفضل تھے“ عہد عالمگیری میں غنیمت کنجاہی کی شاعری کا سورج نصف النہار پر تھا۔ پنجاب اور ہند کے علاوہ دوسرے ممالک میں بھی آپ کی شاعری کے چرچے تھے۔ ان کی شاعری کا ڈنکا بجتا تھا۔ ان کی مثنوی ”نیرنگ عشق“ کو ہندوستان، افغانستان اور وسطیٰ ایشیا میں قبول عام کی سعادت ملی۔ فارسی تذکروں کے علاوہ یورپی مستشرقین بھی ان کا ذکر اپنی تالیفات میں احترام و محبت سے کرتے ہیں۔کہا جاتا ہے کہ ان کے آباء واجداد ملک شام سے ہجرت کر کے کنجاہ آئے تھے۔ صادق علی دلاوری سید جعفر شاہ گیلانی جو غنیمت کے قریب العصر تھے کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ ”غنیمت ابھی شکم مادر میں ہی تھے کہ ایک دن حضرت خضر ؑتشریف لائے اور آپ کی والدہ ماجدہ کو بشارت دی کہ اس حمل کوغنیمت جانو۔ یہ فرزند مقبول درگاہ خدا ہوگا۔ چناچہ کہا جاتا ہے کہ اس واقعہ کی مناسبت سے ہی محمد اکرم نے اپنا تخلص غنیمت رکھا۔ سادہ مزاج اور خوش خلق انسان تھے۔ لاہور کے اس عہد کے گورنر نواب محمد مکرم خان اور اس وقت کے سیالکوٹ کے فوجدار مرزا ارتق بیگ سے دوستی تھی۔

دیگر خوبیوں کے ساتھ ساتھ انھیں پنجاب سے بڑی محبت تھی بلکہ حُبِ پنجاب ان کے خون میں سرایت کر گئی تھی۔ وہ سچے وطن پرست اور زندہ دلان پنجاب کے عاشق تھے۔ جہاں بھی جاتے پنجاب کو یاد کرتے۔ جنت نظیروادی کشمیر کی سیر پر گئے مگر وہاں بھی پنجاب کی یاد انھیں ستاتی رہی انہوں نے شعر کہا کہ
آب شد کشمیر در چشم غنیمت از حجاب
تاکہ دانستہ نام خطہ پنجاب برد 
ایک اور جگہ پنجاب سے اپنی محبت کا اظہار یوں کرتے ہیں کہ 
نخواھم لالہ زار گلشن ایران کہ سربرزدہ
گل داؤدی صبح وطن از خاک پنجابم
غنیمت نے اس زمانے میں بابا فغانی شیرازی، نظیری، مرزا صائب، قاسم دیوانہ مشہدی، ناصر علی سرہندی، جلال اسیر اصفہانی جیسے فارسی شعراء کے تتبع میں شعر کہے۔ عظیم مرتبے کے عظیم فارسی شاعر کے مزار پر پہنچے تو وہاں مزار کی خستہ حالت دیکھ کر کچھ کوفت بھی ہوئی۔ ان کی خانقاہ ان کے شایان شان نہیں۔ مزار کنجاہ کے جنوب میں باغ دیواناں سے متصل ہے۔ غنیمت کنجاہی نے 1108ھ میں وفات پائی تو ان کے دوست گورنر لاہور خانصاحب محمد مکرم نے 1110ھ میں مزار کی تعمیر کروائی ایک بڑا رقبہ بھی مزار کے ساتھ ملحق کیا۔ مگر وقت گذرنے کے ساتھ اس کی حالت خراب ہو گئی تو 1928ء میں اس وقت کنجاہ  میں تھانیدار بخشی منظور علی نے شہر سے اعانت و امداد اکٹھی کی اور پندرہ سو روپے کی لاگت سے مزار کی تعمیر نو کروائی۔ عمارت پھر خستہ حال ہوئی تو پھر بھی کسی سرکار کو یا ادبی ادارے کو خیال نہیں آیا مگر رئیس کنجاہ ملک فضل الہیٰ نے 1960ء میں ذاتی حیثیت میں مرمت کروا دی۔ زیادہ عرصہ نہ گذرا تو مزار پھر خستہ حال ہو گیا۔ 1994 میں بزم غنیمت کنجاہ کے شعراء نے پھر ذاتی حیثیت میں کوششیں شروع کیں۔ کنجاہ سابق وزیر اعلیٰ پنجاب کا حلقہ انتخاب رہا ہے۔ شعراء نے چوہدری پرویز الہیٰ سے اس حوالے سے مدد طلب کی تو اس شاعر عظیم کے مزار کی تعمیر کے لیے انہو ں نے ’کمال سخاوت‘کا مظاہرہ کرتے ہوئے صرف30 ہزار روپے عطا کیے۔ بزم غنیمت نے ادھر ادھر سے بھی فنڈز اکٹھے کیے اور مقبرے کی تعمیر کا آغاز کیا تو دوران کھدائی معلوم ہوا کہ آدھی قبر سابق دیوار کے نیچے ہے۔ اسے کھدوا کر ٹھیک کروایا اور ایک عامیانہ سا مزار تعمیر کروا دیا گیا۔ کنجاہ کے باسی بھی وقت گذرنے کے ساتھ اس فرزند عظیم کو فراموش کر بیٹھے۔ حکمران اور ضلعی انتظامیہ کو اس فارسی شاعر سے کیا لینا دینا تھا لہذاٰ کوئی وارث نہ رہا تو اہل قصبہ نے اپنی اپنی بساط کے مطابق ملحقہ زمین پر قبضہ کر کے رہائشیں تعمیر کروا لیں۔ اب عصر حاضر کے عالمی شہرت یافتہ پنجابی شاعر شریف کنجاہی بھی وصیت کے مطابق غنیمت کنجاہی کے پہلو میں دفن ہیں۔ وہ صدارتی ادبی ایوارڈ یافتہ شاعر و ادیب ہیں۔دو عظیم ہستیاں جنہوں نے دنیا بھر میں کنجاہ، گجرات اور پنجاب کو شہرت بخشی آج گمنامی کی حالت میں حکمرانوں کی توجہ کے طالب ہیں۔میری وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف، ڈویژنل اور ضلعی ارباب اختیار، سرکاری ادبی اداروں سے التماس ہے کہ غنیمت کنجاہی اور شریف کنجاہی کے مزار کی حالت زار پر توجہ دیں اورسرکاری امداد سے ان کے شایان شان مزار تعمیر کروایا جائے اور مزار کی زمینوں پر قبضہ ختم کروایا جائے۔ کنجاہ کے ادبی جنونیوں نے ہمت و جرأت سے وہاں شریف کنجاہی میموریل لائبریری کی تشکیل کے لیے ہال تعمیر کروایا ہے جو تا حال نامکمل ہے۔ اس لائبریری کے قیام کو ہر ممکن طور پر اعانت فراہم کی جائے۔ حکمرانوں کی بے حسی بڑی بے رحم ہو گئی ہے۔ علماء و ادیبوں سے تو انہیں کوئی تعلق ہی نہیں۔ غنیمت کنجاہی جیسے لوگ کسی سماج کا سرمایہ افتخار ہوتے ہیں۔ ایسے افراد کی قدر کرنا درحقیقت اپنی اور اپنی قوم کی قدر کرنے کے مترادف ہوتا ہے  ہم ان کے مقبرے یا علمی اثاثے کی اشاعت نو کی طرف کوئی توجہ دیں یا نہ دیں ان کا مقام و مرتبہ ہمیشہ رہے گا۔ یہ عظیم ہستیاں ہماری تاریخ ہیں اور جو قومیں تاریخ کو فراموش کر دیتی ہیں، ان کا جغرافیہ انہیں فراموش کر دیتا ہے۔گوہر نوشاہی لکھتے ہیں کہ ”مولانا غنیمت کنجاہی نوشاہی فارسی ادب کے ان معروف شعراء میں سے ہیں جن پر سر زمین پنجاب ا س وقت تک فخر و ناز کرے گی جب تک یہاں فارسی ادب کا ذوق باقی ہے۔ انہوں نے غیر ملکی ہونے کے باوجود فارسی زبان پر وہ قدرت حاصل کی کہ اساتذہ فن ان کے حضور میں تحسین پیش کرنے پر مجبور ہوئے۔ ایسی ہستیاں دنیا سے روپوش ہو جاتی ہیں لیکن روحانی طور پر ہمیشہ زندہ رہتی ہیں۔ ان کے اقوال اور ان کے کلام دنیا کے لیے مشعل راہ اور قندیل بزم کی حیثیت رکھتے ہیں۔ “