جمعرات، 27 نومبر، 2014

"Fairy Tales: The End of Science and the Resurrection"

سائنس کا خاتمہ یا احیائے نو 


نیو یارک ٹائمز کے سابق سائنس ایڈیٹرWaidemar Kaempffertنے اپنی کتاب "Exploration In Science"کے آخر میں اپنے تجزیے کا نچوڑبیان کرتے ہوئے صفحہ 279پرلکھا ہے کہ”انسان اس کرہئ ارض پر قریب ایک لاکھ سال سے آباد ہے لیکن اس کے اخلاقی شعور کو بیدار ہوئے صرف پانچ ہزار سال کا عرصہ ہوا ہے۔ اگر نوع انسانی کا صحیح مطالعہ صرف انسان سے کیا جا سکتا ہے تو اس باب میں سائنس ہنوز اپنے دورِ جہالت میں ہے۔وہ ایٹم کے متعلق تو بہت کچھ جانتی ہے لیکن انسان کے متعلق جو کائنات کا سب سے زیادہ دلچسپ اور اہم موضوع ہے بہت کم جانتی ہے۔ سائنس کو ابھی ایک نشاۃِ ثانیہ کی ضرورت ہے، اس کی نمود کے لیے شاید ابھی ایک سو سال درکار ہوں۔ جب ایسا ہوا تو پھر سائنس انسان کی صلاحیتوں اورکمزوریوں کی تحقیق کے لیے کم از کم اتنا وقت تو دے گی جتنا وقت یہ دوائیوں اور پلاسٹک کی تحقیق کے لیے صرف کرتی ہے۔ اب تک سائنس نے انسان کو صرف یہ بتایا ہے کہ وہ اپنے ماحول کو کس طرح مسخر کر سکتا ہے۔ اس نے ابھی انسان کو یہ بتانا ہے کہ وہ جو کچھ کرتا ہے، ایسا کیوں کرتا ہے اور اس کے لیے تسخیر خویش کس طرح ممکن ہے۔“1953ء میں لکھی جانے والی مذکورہ کتاب مجھے گذشتہ روز اس وقت یاد آئی جب میں UOG کے سابق ڈائریکٹر سائنسزعلم دوست محقق و ماہر طبیعات ڈاکٹر اعجاز الرحمان درانی سے ملنے گیا تو معمول کے مطابق خوشگوار مسکراہٹ سے استقبال کرنے کے بعد اُنہوں نے حالات حاضرہ پر گفتگو شروع کر دی۔ ڈاکٹر درانی 4 مئی 1949ء کو ضلع گجرات کے ہی معتبر خانوادے میں پیدا ہوئے۔ پنجاب یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی اور نظریاتی فزکس کے ماہر کے طور پر بڑی جامعات میں خدمات انجام دیں۔ وہ مختلف جامعات سے بطور پروفیسر ڈائریکٹر اور وائس چانسلر منسلک رہے۔ آج کل لاہور میں مقیم ہیں۔ سنجیدہ مزاج اور علمی گفتگو کے رمز شناس ڈاکٹر اعجاز درانی آداب حیات سے آگاہ ہیں اور سائنسی موضوعات کے علاوہ سماجی فلاحی اور سیاست کے نشیب و فراز پر سیر حاصل گفتگو میں مہارت رکھتے ہیں۔  باتوں ہی باتوں میں ڈاکٹر درانی کی نئی کتاب"Fairy Tales: The End of Science and the Resurrection"کا تذکرہ ہوا۔ فراخ دل محقق نے اپنی کتاب پیش کی جسے میں نے بصدشکریہ وصول پایا۔ میں سیاسیات و تاریخ کا طالب علم ہوں اسے میری نالائقی کے سوا کیا کہئیے کہ مجھے مادی علوم سے کبھی دلچسپی نہیں رہی۔ مگر فوکو ہاما کی کتاب”تاریخ کا خاتمہ“ پر نظر رکھنے والے طالبعلم کے لیے سائنس بالخصوص فزکس کے محقق کی جانب سے ملنے والی کتاب کا عنوان”من گھڑت کہانیاں!سائنس کا خاتمہ اور احیائے نو“ توجہ کا مرکز بن گیا۔ سائنسی تحقیقی اُصولوں اور فزکس کے کُلیئوں سے سجی یہ کتاب انگلستان کے نامور پبلشرMELROSEنے شائع کی ہے۔412صفحات پر مشتمل یہ پیپر بیک کتاب پانچ حصوں فئیری ٹیلز، فیوژن فزکس، سپیس پلازمہ، رئیلٹی سٹڈیز(ٹیررازم)، ہائپر رئیلٹی سٹڈیز(منی میٹرز اینڈ سائیکو فزکس) پر مشتمل ہے جس میں جامع تعارف اور پُر مغزاختتامیے کے علاوہ 34تحقیقی مضامین شامل ہیں۔ سائنس کے حوالے سے من گھڑت کہانیوں کے ٹائٹل نے ہی چونکا دیا۔ میرے جیسے ”غیر سائنسی“ لوگوں نے تو سُن رکھا ہے کہ سائنس اٹل حقیقتوں کے مجموعے کو کہتے ہیں پھر ڈاکٹر درانی انہیں افسانوی کیوں کہتے ہیں؟ میری اس اُلجھن کو ریڈنگ یونیورسٹی میں فزکس کے پروفیسر ڈاکٹر جمیز آرنلڈ کروتھرکی کتاب"The Great Design"میں موجود اقتباس نے حل کیا کہ ”نظام ِفطرت اپنی گہری بنیادی سادگی میں اس قدر تحیر انگیز ہے کہ دنیائے سائنس میں کسی موضوع پر حرفِ آخر آخری انسان کے لیے ہی چھوڑ دینا پڑتا ہے۔“خیرڈاکٹر درانی کی کتاب سے یہ تو عیاں ہوتا ہے کہ سائنس کی نشاۃ ثانیہ کی جو تحریک مغرب اور ترقی یافتہ دنیا میں شروع ہوئی تھی اس کی بازگشت پاکستان میں بھی سنائی دینے لگی ہے۔ ڈاکٹر درانی پاکستان میں سوشل فزکس کے حوالے سے لکھنے والے خال خال قلمکاروں میں شامل ہیں جنہوں نے تحقیق و گیان کے امتزاج کو موضوع قلم بنایا۔ ان کی تحریر یں عمرانی طبیعات کی عکاس ہیں۔ 
سوشل فزکس کی اصطلاح سب سے پہلے بیلجئیم کے ماہر شماریاتAdolphe Queteletنے1835میں استعمال کی۔ اس کی شماریاتی فکر سے فرانسیسی ماہر عمرانیات Agust Comteنے اختلاف کیا۔ اس کے لیےSociologieکی اصطلاح ایجاد کی۔ آگسٹ کومٹے کے مطابق عمرانی طبیعات کی اصطلاح سے مراد معاشرتی قوانین یا سائنس آف سویلائزیشن ہے۔ ا س نے اپنی کتاب"Positive Philoseply"کے حصہ ششم میں لکھا ہے کہSocial physics would complete the scientific description of the world Galileo, Newton and others had begun.ڈاکٹر درانی کی کتاب عمرانی طبیعات کے اس پرانے سفر کا نیا سنگ میل ہے۔ چونکہ نظریاتی فزکس کے حوالے سے ڈاکٹر درانی ماہرین طبیعات کے طے کردہ طرز ِکُہن پر نہیں اڑتے بلکہ اُنہوں نے طبیعاتی علوم کو معاشرتی شعور کے امتزاج سے روحِ عصر سے مطابقت دی ہے۔ عمرانی طبیعات پر لکھنے والے محققین دنیا بھر میں سراہے جاتے ہیں مگر ہمارے ہاں سائنسی اندازِ فکر سے عاری ”سائنسدان“ اسے بغاوت سمجھتے ہیں۔ کتاب کے اوراق واضح کرتے ہیں کہ مصنف سائنسی علوم میں محض مقلد نہیں سائنس کی روح کے مطابق بدعتی ہیں اسی لیے اُنہوں نے اپنے لیے نئی راہ کا انتخاب کیا ہے۔ کتاب کے تعارف میں ہی ڈاکٹر درانی نے اپنے مخصوص اسلوب میں روایتی محققین اور تحقیق کے قدیم مکتبہ فکر کو آڑے ہاتھوں لیا ہے اور نہ صرف اس حوالے سے سوالات اُٹھائے ہیں بلکہ تحقیق کے نئے زاویوں پرروشنی بھی ڈالی ہے۔ 
ڈاکٹر اعجاز الرحمان درانی کی نئی کتاب کے ٹائٹل کو رپرنظر ڈالیں تو اس پر رکھی صلیب اکیسویں صدی کے انسان کے المیوں کی داستان نظر آتی ہے یہ کورJeremy Kayنے ڈیزائن کیا ہے جو ڈاکٹر درانی کے فکر و عمل کا استعارہ ہے۔ محققانہ دماغ کے مالک ڈاکٹر اعجاز الرحمان درانی فکر مند قلب کے حامل انسان ہیں اُن کا مزاج فلسفیانہ و دانشورانہ ہے۔ وہ اطلاقی طبیعات کی طرف مائل نہیں اور نہ ہی انسانی فکر و فلسفے کو لیبارٹریوں کی قربان گاہ پر قربان کرنے کے عادی ہیں بلکہ وہ نظریاتی طبیعات میں دلچسپی لیتے ہیں جس نے انہیں گیان دھیان کی طرف مائل کر رکھا ہے۔ عہد حاضر کی صورتحال پر ان کا دِل درد محسوس کرتا ہے وہ سمجھتے ہیں کہ تاریخی جبر کے شکار انسانوں کو ناروا اور ناخوشگوار نظریات و متبرکات کو سننا اور برداشت کرنا پڑتا ہے۔ جس کی بناء پرآج ہم سب مصلوب ہو کر رہ گئے ہیں۔ معلومات کے سیلاب میں بہتا انسان سوچ و بچار سے عاری ہو کر رہ گیا ہے۔ ایسے میں ڈاکٹر درانی نے صلیب کو کتاب کے ٹائٹل پر رکھ کر خود فکر وآگہی کے لیے تزکیہء نفس شروع کر دیا اور اس سفر میں تحقیق و آگہی اور خیال و تجزیے کی جو منزلیں طے کیں انہیں مضامین کی صورت دے کر جمع کر دیا ہے۔ ڈاکٹر درانی کی محققانہ کھوج او ر درویشانہ عرق ریزی دیکھ کر لگتا ہے کہ اشفاق احمد مرحوم نے غلط نہیں کہا تھا کہ صوفی اور سائنسدان ایک ہی سکے کے دو رُخ ہیں۔ اُنہوں نے علم طبیعات کے قدیم و جدید موضوعات کے ساتھ ساتھ عصری حقائق مثلاً دہشت گردی اسکے محرکات، معاملات اور اثرات کا سائنسی انداز ِ فکر سے تجزیہ کیا ہے بلکہ ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے طبیعات کی عینک سے دنیا کے مالی معاملات اور تحلیلی طبیعات کو بھی موضوع قلم بنایا ہے۔ اس سے قبل ڈاکٹر درانی کی کتابScientific Writingsبھی اپنے منفرد موضوعات کی وجہ سے محققین اور تجزیہ نگاروں سے داد و تحسین وصول کر چکی ہے۔ ڈاکٹر اعجاز الرحمان درانی کی نئی کتاب بھی بلاشبہ بحث و نتائج کے حوالے سے نئی جہتیں اور پہلو متعارف کروا رہی ہے۔ اُمید ہے کہ علم طبیعات کے محققین، استاد اور طالبعلم ہی اس سے مستفید نہیں ہونگے بلکہ عمرانی شعور سے بہرہ مند ہر پڑھا لکھا شخص اس کتاب سے فیضاب ہو گا۔ اس کتاب نے ثابت کر دیا ہے کہ ڈاکٹر درانی مستند محقق، نامور اُستاد ہی نہیں بلکہ انسانی تقاضوں سے عہدہ برآہ ہونے والے عمرانی شعور کے مالک درویش بھی ہیں۔ بلاشبہ روح عصر کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے کے لیے ہمیں تحقیق و تدریس اور فکر و دانش کے ایسے امتزاج کی ضرورت ہے۔