بدھ، 12 نومبر، 2014

جیسی فکر ویسے ہم



جیسی فکر ویسے ہم ممتاز دانشور پروفیسر Susan Stabbings نے اپنی کتاب and Ideals Illusions میں کہا تھا کہ جس قسم کے ہم خود ہوں گے اسی قسم کی ہماری فکر ہوگی۔لیکن حقیت تو اس کے برعکس دکھائی دیتی ہے کہ جس قسم کی انسان کی فکر ہوتی ہے اسی قسم کا انسان خود بن جاتا ہے۔ میکانکی تصور حیات حیات کے مطابق تما م کائنات اور خود انسان ایک مشین کی طرح کام کرتے ہیں چنانچہ اس فکر کے مطابق سوچنے والا انسان بھی آہستہ آہستہ مشین بن گیا ہے جس میں حرکت تو ہے لیکن لچک نہیں رہی اصلایت تو ہے لیکن توچ باقی نہیں بچی۔وہ زندگی اور اس کے حقائق کو حبرثقیل کے فارمولوں، ریاضی کی مساواتوں، فزکس کے میکانکی نظریوں اور کیمسٹری کے غیر نامیاتی قاعدوں کی رو سے حل کرنے کی کوشش کر رہا ہے اس سے زندگی کے لطیف پہلو اس کی نگاہوں سے اوجھل ہو کر رہ گئے ہیں ڈارون نے اپنے خطوط  میں لکھا ہے کہ ایک مدت تک ایک ہی سمت میں سوچنے سے اس کی طبعیت نے ان تما چیزوں سے حظ اٹھانا چھوڑ دیا جو پچین اور جوانی میں اسے بہت محبوب تھیں شاعری، مصوری، موسیقی وغیرہ اور پھر پنی طبعیت کی اس تبدیلی کو ڈارون نے بہت بڑا نقصان قرار دیا۔ آج ہم اپنے اردگرد نظر دوڑاہیں تو ایسا لگتا ہے جو کچھ ڈارون سے ہوا۔وہی کچھ ہمارے ساتھ بھی ہوگیا اسی کا نیتجہ ہے کہ مادیت کے علاوہ انسانی زندگی کے دیگر سوتے خشک دکھائی دیتے ہیں۔ زندگی کی لطیف حسیات سے محرومی کی وجہ سے سماج میں Isolation اور انفرادیت کے رحجانات غالب آگئے اور ایثار خلوص،معدت، احسان، مروت،جھکاؤ،سپردگی غیر اہم ہو کر رہ گئے۔ میکانکی تصور حیات نے ہمیں صرف یہی بتایا کہ دُنیا ہے ہی مادی اس لیے علم بھی وہی ہے جو ہمیں حواس سے حاصل ہو۔اس سوچ نے ہمیں بتایا کہ مالعدالطبعیات اور مطلق اقدار کے تصورات نے محض افسانے ہیں جو ذہن انسانی نے اپنی مصلحت کوشیوں کے لیے تراشے ہیں۔میں شعبہ ابلاغیات کی طالبہ انعم جاوید کے مادیت کے حوالے سے لکھے ہوئے مضمون پر حفصہ کے سوال کا جواب دے رہا تھا کہ خوش مزاج حعضہ نے کھلتی مسکراہٹ سے میری گفتگو کی سنجیدگی کا جمود توڑا اور کہا کہ آپ کی گفتگو سے لگ رہا ہے کہ معاشرہ تباہ ہو چکا ہے حالانکہ  ہم تو ترقی کر رہے ہیں ترقی انعم جاوید نے ٹوکا، احساس مر جائے تو قبرستان بھی گلشن دکھائی دیتا ہے۔حیات اور نفسِ انسانی کے متعلق تو یکسر جہالت اور فزکس اور کیمسٹری کا بڑھتا ہوا علم۔جب صورتحال ایسی ہو جائے تو معاشرہ تباہ ہو جاتا ہے۔
زبیر میر جو سنجیدہ گفتگو کے دوران لقمہ دینے کی عادت ہے وہ دور بیٹھا ساری باتیں سن رہا تھا اچانک بولا، سرجی! مالبعد الطبیعات کے معقلق ہمارا علم قلیل سطحی اور نامکمل ہے اسی سے تمام خرابیاں پیدا ہوتی ہیں۔مابعدالطبعیات کے متعلق علم و فہم ہی تو انسانی تخیل کی راہ نمائی کرتا اور مقصد حیات کے لیے وجہ جواز بہم پہنچاتا ہے۔مابعدالطبعیاتی معتقدات کے بغیر کوئی تہذیب باقی نہیں رہ سکتی۔
میں نے کہا بات غور طلب ہے۔ پروفیسر وہائٹ ہیڈ نے کہ رکھا ہے کہ ہر دور کا کریکٹر اس بات سے پرکھا جاتا ہے کہ اس دور کے انسانوں کا ان مادی حوادث کے خلاف ردعمل کیا ہے۔جن سے وہ دو چار ہوتے ہیں یہ ردعمل ان کے بنیادی،معتقدات سے متعین ہوتا ہے۔ ان کی امید و بیم سے اقدار کے متعلق ان کے فیصلوں سے۔۔۔۔“میرا خیال ہے کہ معتقدات ہمیشہ یقین سے ہی پیدا ہوتے ہیں اور یقین کی عمارت، مستقل اقدار کی بنیادوں ہی پر استوار ہو سکتی ہے۔میکانکی تصور حیات چونکہ مستقل اقدار کے وجود ہی سے انکار کرتا ہے اس لیے اس کی بنیاد دُنیا میں یقین کا کوئی دخل نہیں ہوتا۔ مادیت کا نیتجہ شک ہے۔ آج ہم یقین سے محروم تشکیک اور ریب کے انسان ہیں۔مغربی مفکر J.W.T Mason نے اپنی کتاب Creative Freedom میں واضح کیا کہ کسی قوم کی دو نسلوں پر تشکیک اور ریب کی حالت گذرنے دیجیے اس کے بعد ان میں خود بخود مادیت پیدا ہوجائے گ۔وہ مزید کہا ہے کہ عدم یقین وہ چیز ہے جو اپنی تباہی کے سامان خود اپنے اندر رکھتی ہے اس لیے کہ تخلیقی مگر تحرک کبھی کسی نظریے کو مستقل طور پر اپنے ساتھ نہیں رکھ سکتا جو انسانی ذات کی تعبیر صرف مادی اصعلاحات میں کرئے۔ حعفہ نے پھر معصومیت سے سوال داغ دیا کہ اس سے کیا فرق پڑتا ہے بے یقینی بھی ایک یقین ہے؟میں نے حعضہ کی بات پر توقف کیا اور پھر عرض کیا کہ زندگی کی اقدار پر یقین نہ رہے تو قلب انسانی میں ایک ایسا خلاء پیدا ہوتا ہے جیسے کوئی اور جذبہ پُر نہیں کر سکتا اس لیے بے یقینی کا لازمی نیتجہ پریشانی و اضطراب ہوتا ہے۔ میری بات پر یقین نہیں تو سماجی تاریخ کے نامور مورخ الفریڈ کو بن سے پوچھ لیتے ہیں جو بہت عرصہ پہلے شاید ہماری نوجوان نسل کی بے یقینی کو مغربی نوجوانوں میں دیکھ چکا تھا اس نے اپنی کتاب crisis of Civilization میں حعضہ کی بات کا یوں جواب دیا کہ جو شخض یہ خیال کرتا ہے انسان ایمان یا یقین کے بغیر بھی زندہ رہ سکتا ہے اسے دور حاضر کے نوجوانوں کی حالت کا مطالعہ کرنا چاہئے جو مضطربانہ اس تلاش میں پھر رہے ہیں کہ کوئی ایسی چیز مل جائے جس پر ایمان لایا جائے“
انعم جاوید جیسی طالبات مادیت کی زندگی سے اکتا کر نئی انگڑائی لے رہی ہیں انہوں مادیت کی دیواروں پر چڑھ کر کسی اور دُنیا میں جھانکنے کی جسارت کی ہے جو خوش آئند ہے۔ہماری درسگاہوں،ماہرین تعلیم اور اہل فکر و دانش کی علمی ترقیاں اسی کا ایک تخلیقی جواب ہے لیکن بلکہ بھرپور جواب ہے لیکن جو مسائل آج ہمیں درپیش ہیں ان کا جواب معلوں اور تجربہ گاہوں میں نہیں مل سکتا یہ مسائل اخلاقی ہیں اور آج کی سائنس اخلاق سے بے تعلق ہے۔ اس سائنسی عہد میں انعم جاوید اور حعضہ جیسے بیقرار روحوں کے مالک نوجوانوں کو نفسیات اور تحلیل نفسی کے ماہرینگ کی تشخیص سے آگاہی ضروری ہے اس نے لکھا تھا کہ میں نے اپنی زندگی کے نصف آخر میں جس قدر مریضوں کا تجزیہ نفس کیا ان میں سے ایک بھی ایسا نہ تھا جسے زندگی کے مسائل کے حل کے لیے مذہبی زاویہ نگاہ کی تلاش نہ ہو۔ان میں سے ہر ایک کی بیماری کی وجہ یہ تھی کہ اس نے ”شے“کو ضائع کر دیاتھا جو زندہ مذہب انسان کو مہیا کرتا ہے۔ ان کا علاج اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ انہیں پھر سے وہی ”شے“دے دی جائے جو ان سے گم ہو چکی تھی۔ یہی ان کی دوا تھی،عقیدہ، امید، محبت،نگہ خود“۔ بلاشبہ آج کے عدم یقین، نکات،توہم پرستی اور عیاشی کے حامل سماج کو یقین، افکار تازہ اور حرکت کے اصول سے آگاہی لازم ہے۔ تاہم زندگی اتنی آسان نہیں کہ کامیابی کا کوئی ایک دائمی اصول سے آگاہی لازم ہے۔تا ہم زندگی اتنی آسان نہیں کہ کامیابی کو کوئی ایک دائمی اصول ہو۔ فرد ہو یا سماج ہر نیا مسئلہ ایک برجستہ جواب کا تقاضا کرتا ہے۔ کم از کم دو باتوں کی اشد ضروریات ہے۔ ہمیں نئی دُنیا کی تخلیق محکم بنیادوں پر کرنی چاہیے۔اور پھر ہمیں اپنے آپکو اس نئی دُنیا میں رہنے کے قابل کریں گے خارجی اصلاحات کا بھی کوئی فاہدہ نہیں ہو گا۔ اپنے اپنے من میں ڈوب کر سراغ زندگی پانے کی سعی کرنا ہو گی۔ انسان کی مادی سوچ نے اس کے ظاہر کو چکا چوند کر دیا ہے اسے ایک بار پھر باطن کی روشنی کی ضرورت ہے ہمیں فکر کو بدلنے کی ضرورت ہے کیونکہ جسطرح کی ہماری فکر ہو گی ویسے ہی ہم خود بن جاہیں گے۔