بدھ، 29 جون، 2016

”تاریخ لکھنوال“مختصر جائزہ




افریقی نژاد، برطانوی سیاہ فام سیاسی راہنما و صحافی مارکوس گیروے نے کہا تھا کہ:  
"A people without the knowledge  of their past 
history, origin and culture is like a tree without roots."
بلا شبہ تاریخ سماج کی اجتماعی یاداشت کا دوسرا نام ہے، اگر کسی قوم کو اس کی تاریخ سے نا آشنا رکھا جائے تو وہ اپنی شناخت سے بھی محروم رہتی ہے۔ ہر قوم، ملک، شہر، قصبوں، دیہاتوں، بستیوں اور آبادیوں کی اپنی ایک تاریخ ہوتی ہے۔ شہروں اور دیہاتوں میں واقع آثار قدیمہ، کھنڈرات، خستہ و شکستہ در و دیوار، گلیاں اور خانقاہیں سب اہم تاریخی مآخذ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ پاکستان بھی تا حال دیہاتوں کا ملک ہے، دیہات آج بھی ہماری تاریخ کی زندہ اور متحرک دستاویز ہیں لیکن اسے بدقسمتی کے سوا کیا کہیے کہ ہمارے ہاں علاقوں، دیہاتوں،لوگوں اور ان کی تاریخ کی طرف کسی کا دھیان ہی نہیں۔ قومی بے حسی کا دردناک اور عبرتناک پہلو یہ ہے کہ ہمارے لوگ اور دیہات کبھی سرکاری و غیر سرکاری توجہ کا مرکز رہے ہی نہیں۔ آپ وطن عزیز کے کسی گاؤں یا علاقے میں چلے جائیے، ہمارا تاریخی ورثہ سسک سسک کر ہماری اجتماعی غفلت کا نوحہ کہتا نظر آئے گا۔ حکمرانوں کو تو چھوڑیئے، ہمارے پروفیشنل مؤرخین کوبھی اس جانب توجہ کی توفیق نہیں ہوئی .اس عدم توجہ کا نتیجہ ہے کہ ہماری تاریخ و ثقافت کا بہت کچھ اوراق پارینہ بن چکا اور بہت کچھ مٹتا جا رہاہے یا پھر مٹایا جا رہا ہے؟ یہ سب کچھ ہمارے سامنے ہو رہا ہے، لیکن اس پر ہم میں سے کسی کی رگِ حمیت نہیں پھڑکتی۔ ہماری تاریخ مر رہی ہے ,اسے صرف ایک ہی صورت میں زندہ رکھا جا سکتا ہے کہ کوئی زندہ دل اس کی طرف متوجہ ہو، اور اسے قلمبند کر دے اور یہ عوامی اور دیہاتی تاریخ تصنیف و تالیف کی شکل میں منتقل ہو کر کتابی صورت میں سامنے آئے اور آنے والوں کے لیے محفوظ ہو جائے۔ ہماری حالت امریکی ناول نگار Chuck Palahniuk کے لفظوں میں کچھ یوں ہے کہ:
"We will be remembered more for what 
we destroy than what we create."
ایسے گھمبیر حالات میں جب ہمارے محققین و مؤرخین کے موضوعات صرف روزگار کی بہتری اور جلد شہرت کے لیے محدود اور مخصوص ہو کر رہ گئے ہیں صرف کوئی دیوانہ ہی دیہاتوں کی تاریخ کی طرف توجہ دے سکتا ہے۔ ویسے بھی پہلے مرحلے پر دیہاتوں میں بکھری پڑی تہذیب و تاریخ کو دیکھنے، سمجھنے اور لکھنے کے لیے ڈگری سے زیادہ بڑی شرط اسکی اہمیت کی ”بصیرت“ کا موجود ہونا ہے جو صرف عشق والوں میں ہی ہو سکتی ہے۔ گجرات کے تاریخی گاؤں اسلام گڑھ سے تعلق رکھنے والے رائے فصیح اللہ جرال علاقائی تاریخ سے محبت کرنے والے نوجوان ہیں۔ ادب، قلمکاروں اور قلمی نسخہ جات سے فصیح کو بچپن سے ہی عشق ہے، اسی نسبت سے انہیں تاریخ میں بھی دلچسپی پیدا ہوئی۔ وہ مآخذوں اور کتابوں سے تاریخ پڑھنے کے ساتھ ”بیانیہ تاریخ“ کے علمبردار اور مبلغ بھی ہیں اور بزرگوں کے سینوں میں مدفون تاریخ کو کھنگالنے کے  شوقین بھی۔ گجرات اور نواح کی علمی، ادبی اورصوفیانہ تاریخ کے حوالے سے ان کے مضامین اخبارات، ادبی جرائد اور تحقیقی جرنلز میں شائع ہوتے رہتے ہیں۔ گذشتہ دنوں ان کی مختصر کتاب یا کتابچہ ”تاریخ لکھنوال“ کے عنوان سے پاک کشمیر لائبریری اینڈ ریسرچ سنٹر اسلام گڑھ(جلالپورجٹاں) ضلع گجرات نے شائع کیا ہے۔ لکھنوال ضلع گجرات کا تاریخی گاؤں ہے اور اپنی تاریخی و ثقافتی جہتوں کی وجہ سے ملک بھر میں خاص شناخت کا حامل ہے۔ اسی صفحات پر مشتمل اس کتابچے میں پہلے سولہ صفحات کتابچے اور قلمکار کے تعارف پر مشتمل ہیں۔ اگلے 74 صفحات کو چار ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلا باب گجرات کی تاریخ کے حوالے سے لکھی جانے والی کتب میں درج لکھنوال کے احوال پر مبنی ہے جن میں 1849ء میں شائع ہونے والی گنیش داس وڈیرہ کی فارسی کتاب ”چہار باغ“، 1868 میں چھپنے والی مرزا محمد اعظم کی ”تواریخ گجرات“،  1977 میں منظر عام پر آنے والی شیخ کرامت اللہ کی کتاب ”آئینہ گجرات“ جلد اول، سمیت ایلیٹ کی دی کرانیکلز آف گجرات، اسحاق آشفتہ کی ”گجرات کی بات“                       ، ڈاکٹر احمد حسین قریشی قلعہ داری کی تاریخ ”ضلع گجرات“، ایم زمان کھوکھر کی ”گجرات کی روحانی شخصیات اور تباہ شدہ بستیاں“ اور یونیورسٹی آف گجرات کے شعبہئ تصنیف و تالیف کا شائع کردہ ”گجرات پیڈیا“ شامل ہیں۔فصیح جرال نے محنت کے ساتھ ان کتب میں سے تاریخ لکھنوال کے تذکرے و حوالے کو جمع کر کے اکٹھا کر دیا ہے اور پھر مقامی لوگوں سے انٹرویوز ”ملٹری گزٹ“ اور ریاست جموں و کشمیر کی تاریخ کی رپورٹوں میں سے لکھنوال کے سلہری خاندان کی بازگشت بھی رقم کی ہے اور ان حوالوں کے تناظر میں اپنی رائے کا برملا اظہار بھی کیا ہے۔ اسی باب کا ذیلی عنوان 1947ء سے قبل کا لکھنوال ہے۔ اس میں لکھنوال کے تاریخی مقامات، واقعات اور نمایاں ہندو مسلم شخصیات کا ذکر کیا گیا ہے۔ دیوان لچھمن داس صوبتی کی بیٹی کی شادی کا والہانہ تذکرہ بھی ہے۔ اور پھر عالمی ریاضی بورڈ کے سابق چیئرمین پروفیسر سائیں داس ہانڈہ، پنجاب یونیورسٹی کے سابق استاد شعبہئ تاریخ پروفیسر گنپت، حکیم تارا چند صوبتی کا بھی ذکر بھی موجود ہے۔ تقسیم ہند سے قبل لکھنوال میں ہندوؤں اور سکھوں کی بڑی تعداد رہائش پذیر تھی ان کی مقدس عبادت گاہوں کو بھی قابل ذکر سمجھا گیا ہے۔ باب دوئم میں قیام پاکستان سے قبل کی مسلم شخصیات اور اس دور کے واقعات رقم ہیں۔ امیر شاہ بگا سلطان سچیاری نوشاہی قادری اور ان کے مزار کا احوال، انیسویں صدی کے ممتاز ماہر تعلیم اور اس وقت کے انسپکٹر سکولز آف ضلع خوشاب چوہدری رحمت خاں وڑائچ، چوہدری علی بخش اور محترمہ غلام فاطمہ اور باکمال استاد چوہدری فیض سرور سلطان کا ذکر ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ ممتاز تجزیہ نگار، اینکر اور صحافی محترم سہیل وڑائچ بھی اسی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ چوہدری رحمت خان سہیل وڑائچ کے نانا تھے۔ چوہدری علی بخش اور محترمہ غلام فاطمہ ان کے دادا، دادی اور چوہدری فیض سرور سلطان ان کے والد تھے۔ لکھنوال طوائفوں کا گاؤں بھی کہلاتا ہے۔ فن موسیقی او راداکاری کے حوالے سے بھی بڑے بڑے نام اس گاؤں کے باسی تھے۔ کسی زمانے میں سُر سنگیت کے حوالے سے یہاں کی ’بلو‘ اور’تلو‘ نے خوب نام کمایا۔ پنوں اللہ وسائی، لکھی سردار بھی آوازوں کی ملکہ تھیں۔ پاکستان کی فلم انڈسٹری کو بھی اس گاؤں نے نامور لوگ دیئے ادادکارہ ممتاز، تصور خانم، گلوکار خلیل حیدر، سہیل رانا، ٹرپل ایس سسٹرزکا تعلق بھی اسی گاؤں سے تھا۔ تیسرے باب میں بھی متفرق شخصیات، واقعات اور تاریخ ہی کا بیان ہے۔ ممتاز ماہر تعلیم پروفیسر خورشید عالم بھٹی، خاکسار راہنما ظفر علی بھٹی، امام الدین سیالوی، مولوی محمد علی سمیت کئی نام درج ہیں۔ چوتھے باب میں روحانی شخصیات حضرت امیر شاہ سلطان، خواجہ محمد امام الدین گجراتی، خواجہ غلام فرید گجراتی، حضرت محمد گہنے خاں، پیر برہان الدین سہروردی کا تفصیلی تذکرہ ہے اور آخر میں مآخذوں اور کتب کی فہرست ہے۔ مجموعی طور پر معلوماتی کتابچہ ہے۔ 
تاہم اس مختصر کتاب کے مطالعے کے بعد تشفی نہیں ہوتی بلکہ تشنگی بڑھتی ہے۔ یہ احساس بھی پیدا ہوتا ہے کہ یہ کتاب بہت جلد بازی میں شائع کی گئی ہے۔ جمع شدہ مواد کو بھی مزید بہتر انداز میں پیش کیا جا سکتا تھا اور پھر لکھنوال کا نام سنتے ہی جن موضوعات سے دلچسپی پیدا ہوتی ہے ان کا تذکرہ بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس کتاب میں لکھنوال کی فنی اور ثقافتی جھلک نظر نہیں آتی۔ لکھنوال کے باسیوں کے امتیازی رہن سہن، رسوم و رواج، تعمیر و تزئین، عمارتوں، گلیوں، حویلیوں اور بالکونیوں اور ان کے ذریعے پنپنے والی ثقافت کے حوالے سے مزید کام کرنے اور لکھنے کی ضرورت تھی۔ فصیح جیسے جواں عزم سے ہی توقع کی جا سکتی ہے کہ اس کی کتاب کا دوسرا ایڈیشن مطلوبہ اضافوں کے ساتھ ہو گا۔ لکھنے کے لیے ضروری ہے کہ ماضی کو کریدنے کے ساتھ اسے سمجھ کر جہاں تک قدرت حاصل ہو سچائی کی روشنی میں لکھا جائے۔ رائے فصیح جرال اس کام پر مبارکباد کے مستحق ہیں اور ہمارا فریضہ ہے کہ ہم اس کے کام میں سے کیڑے نکالنے کی بجائے اس کی بھرپور حوصلہ افزائی کریں تاکہ یہ باہمت اور جذبے کا حامل لکھاری بہتر سے بہتر لکھتا جائے۔ فصیح جرال کو علاقے کی تاریخ سے عشق ہے اور وہ جذبے سے کام کرتا ہے۔ تھپکی اس لیے بھی ضروری ہے کہ جذبے کا حامل لکھاری ہی کچھ لکھ سکتا ہے۔ بیانیہ تاریخ کے حوالے سے مستند لکھاری برطانوی مؤرخہ اور تاریخ کی استاد  C.V Wedgwood درست کہتی ہیں کہ: 
"Without passion there might be no error, 
but without passion there would certainly 
be no history."