جمعرات، 23 جون، 2016

روزہ، پیروی د ین کا ایک اہم تقاضا ہے



حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت کہ فرمان نبویؐ ہے کہ آدمی بظاہر نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج و عمرہ کا عمل کرتا ہے۔ حتیٰ کہ آپؐ نے تمام اعمال ِخیر کا ذکر کیا۔ پھر حضور نبی رحمتؐ نے فرمایا، مگر قیامت کے دن وہ صرف عقل کے بقدر اس کا بدلہ پائے گا۔ اس حدیث نبویؐ میں عقل کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ عقل سے مراد فہم و شعور ہے۔ اس کے معنی یہ ہوئے کہ آدمی ذکر و عبادت کے اعمال تو کرتا ہے مگر ان اعمال کا اجر ان کے فارم یا کمیت کے اعتبار سے نہیں ملتا بلکہ عمل کی روح کے اعتبار سے دیا جاتا ہے۔ آدمی نے جس درجہ شعور کے ساتھ عبادت کی ہو گی اسی درجہ شعور کے اعتبار سے اس کے عمل کا انعام مقرر کیا جائے گا۔ مثال کے طور پر ایک آدمی عبادت کرتا ہے لیکن قرآن حکیم کے مطابق سہو یعنی غیر حاضر دماغی سے عبادت کرتا ہے تو وہ عبادتی افعال تو کر رہا ہوتا ہے لیکن عقل و شعور کے اعتبار سے وہ حالتِ غفلت میں ہوتا ہے۔ رسم عبادت ادا کرنے والا ایسا آدمی صرف غیر مطلوب عبادت کرتا ہے۔ ذکر و عبادت کی مطلوب اور حقیقی صورت وہ ہے جب عبادت کرنے والے کا وہ حال ہو جائے جیسا قرآن مجید کی سورہ انفعال میں ہے کہ خدا کی یاد سے اس کا دل دہل اُٹھے یا سورۃ الزمر کے لفظوں میں اسکے جسم کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں ایسا آدمی ہی زندہ اور حرکی شعور کے ساتھ عبادت کا عمل کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے یہاں بڑے بڑے انعامات اس کو دئیے جائیں گے جس نے زندہ شعور کے ساتھ ذکر وعبادت کا عمل کیا۔ 
ماہِ صیام ہے اس میں روزہ ہی کو لے لیں۔ سورۃ بقرہئ میں ہے کہ تم پر روزے فرض کیے گئے تاکہ تم متقی بن سکو۔ یعنی روزہ اس لیے رکھاجائے کہ پرہیز گار بنا یا جا سکے۔ اس حکم قرآن سے ایک بات واضح ہوئی کہ جو روزہ نہیں رکھتا وہ ہدایت یافتہ نہیں ہو سکتا۔ جتنی عبادتیں ہیں ان میں ہم کچھ نہ کچھ کرتے ہیں، نماز پڑھتے ہیں، حج کرتے ہیں تو وہ نیکی میں شمار ہوتا ہے۔ جتنی عبادتیں ہم پر فرض ہیں ان سب کا تعلق نیکو کاری سے ہے سوائے روزے کے۔ کیونکہ روزہ نیکو کاری سے آگے پرہیز گاری میں آتاہے۔ روزہ کچھ کرنے کا نام نہیں بلکہ کچھ چیزوں سے رُک جانے کا نام ہے۔ روزہ روح و جسم میں سال بھر میں پیدا ہو جانے والے فسادی عناصر کے خاتمہ کے لیے اینٹی بائیو ٹک ہے یہ گناہوں سے بچنے کے لیے سالانہ ویکسینیشن ہے۔ یہ تربیتی کو رس ہے متقی بننے کے لیے۔ یہ محض بھوک، پیاس کی سالانہ رسم نہیں ہے۔ آپ نے سرکس میں دیکھا ہو گا کہ شیر جیسا خونحوار جانور کس طرح مالک کے اشاروں پر آگ کے پہیوں میں سے گذر جاتا ہے۔ گلی محلوں میں لوگ ریچھ کو لیے پھرتے ہیں یہ درندہ مالک کے اشاروں پر ناچتا ہے۔ سدھانے سے، تربیت سے درندہ فرمانبردار ہو جاتا ہے۔ لیکن کبھی آپ نے سوچا درندوں کو سدھایا کیسے جاتا ہے کہ وہ فرمان برداربن جاتے ہیں۔ معلوم کرنے پر پتہ چلے گا کہ سدھانے والا پہلے ان جانوروں کو بھوکا رکھتا ہے اور بھوک میں سدھاتا ہے۔ بھوک اور فرمانبرداری لازم و ملزوم ہیں یعنی فرمانبرداری آپ نے اختیار کرنی ہے۔ متقی بننا ہے تو بھوک و پیاس کے بغیر ممکن نہیں۔اسی لیے تمام اُمتوں پر روزے فرض کیے گئے لیکن یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ اس تربیتی کورس میں بھوک و پیاس تربیت کا ذریعہ ہے مقصد نہیں۔ اس کے ذریعے بھوک و پیاس کے تجربے سے گزارنا مقصود ہے تاکہ تربیت کی جا سکے اور یہ اخلاقی ڈسپلن و ضبط کا سالانہ تربیتی پروگرام ہے۔ اللہ کی رضا کے لیے اپنی خواہشوں پر روک لگانا ہی پرہیز گاری ہے۔ اسلام اور ایمان کے معنی بھی یہی ہیں کہ آدمی خدا کی منع کی ہوئی چیزوں سے رُک جائے۔ روزہ ہر سال یہی سبق یاد دلانے کے لیے فرض کیا گیا ہے۔ بلاشبہ وہ نیکی بڑی معتبر ہے جس کا رب کے سوا کوئی گواہ نہ ہو۔ روزے کے اعلیٰ درجے کو حاصل کرنے کے لیے آدمی کو چاہیے کہ وہ شعوری طور پر اپنے آپ کو غیر متعلق چیزوں میں مشغول ہونے سے بچائے۔ 
روزہ میں آدمی کو خود عائد پابندی کی وجہ سے بھوک و پیاس کے تجربے سے گذرناہے تاکہ تقویٰ کے معیار کو پا سکے۔ لیکن ہم رمضان میں پہلے سے زیادہ کھاتے ہیں،ہماری خوراک بڑھ جاتی ہے کچھ لوگ کہتے ہیں اس لیے کہ حدیث ہے کہ رمضان میں مومن کا رزق بڑھا دیا جاتا ہے۔ بس اسی آڑ میں ہم کھائے جاتے ہیں۔ حالانکہ یہ روح رمضان کے خلاف ہے۔ کیونکہ اس حدیث میں رزق بڑھنے سے مراد خوراک میں اضافہ نہیں ہے، روزے کا تو مقصد ہی بھوک و افلاس کا تجربہ کرنا ہے روزے تو پہلی اُمتوں پر بھی فرض ہوئے۔ حضرت آدمؑ پر بھی فرض ہوئے ان کے دور میں تو خوراک ایسی تھی ہی نہیں صرف پھل کھائے جاتے تھے۔ 
رزق بڑھنے کے روحانی معنی معرفت میں اضافہ کے معنوں میں ہے۔ قانون فطرت ہے کہ انسان کو جب شاک پہنچتا ہے تو اس کا دماغ متحرک ہو جاتا ہے۔ جب ہمیں بھوک لگتی ہے تو ہمارے تمام حواس بیدار ہو جاتے ہیں۔ تخیل کی بے پناہ قوت پیدا ہو جاتی ہے۔ بڑی بڑی باتیں سامنے آتی ہیں، انکشاف ہوتے ہیں۔ بھوک و پیاس کا تجربہ دراصل انسان کی تخلیقی فکر بڑھانے کے لیے ہے۔ اس سے انسان کی روحانی غذا میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ حضرت آدم ؑ کوجنت ملی تو باغات کے ہجوم میں اسے ایک پھل کھانے سے روک دیا گیا۔ آدم ؑنے یہ پابندی خود پر عائد کر لی۔ یعنی وہ جنت میں حالت روزہ میں تھے مگر اُنہوں نے جب یہ پابندی توڑی تو جنت سے نکال دئیے گئے۔ یہ واقعہ آج بھی پیغام دیتا ہے کہ جو اللہ کی لگائی ہوئی روک پر رُک جائے گا وہی جنت میں جائے گا۔ جو روکنے پر بھی نہیں رُکے گا، پرہیز گار نہیں ہوگا، نافرمان ہو گا، جنت اسکے لیے نہیں ہے۔ 
روزہ رکھتے ہوئے ہم شعوری طور پر اس کا فہم بھی رکھتے ہیں۔ کیا ہماری بھوک و پیاس کسی تخلیقی فکر کو جنم دیتی ہے۔ ہمارا احساس بیدار ہوتا ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہمارا قلب اطاعت و فرمابنرداری کی طرف مائل ہوتا ہے۔ فرمان نبوی ؐ ہے کہ اللہ کے نزدیک صرف وہ روزہ مقبول ہے جو ایمان و احتساب کے جذبے کے ساتھ رکھا جائے۔ حدیث ہے کہ تم میں سے کوئی روزہ سے ہو تو بدکلامی اور فضول گوئی نہ کرے۔ نہ شور و شر کرے۔ کوئی اگر اس کو گالی دے اور لڑنے اور جھگڑنے پر آمادہ ہو تو یہ کہہ دے کہ میں روزے سے ہوں۔ 
حضرت ابوعبیدہؓ سے روایت ہے کہ حضورؐ نے فرمایا روزہ ڈھال ہے جب تک اس کو پھاڑ نہ دیا جائے۔ وسط میں سوال آیا، کس سے پھاڑ دے۔ ارشاد ہوا، ”جھوٹ یا غیبت سے“ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ روزہ رکھتے ہوئے یہ یاد رکھیں کہ اس تربیتی کورس سے مجھے سال بھر غلط کاریوں سے بچنا ہے، وعدہ خلافی نہیں کرنی، ناجائز منافع نہیں کمانا، کسی کا حق نہیں مارنا، کسی کا رزق نہیں چھیننا، کوئی لڑے بھی تو اس سے لڑائی نہیں کرنی۔ فرض دیانتداری سے ادا کرناہے۔ مجھے ماہِ صیام میں اپنا عزم اور حوصلہ مستحکم کرنا ہے تاکہ میں سارا سال نیکیوں کے موسم بہار کی مہک پھیلاتا رہوں۔ عام طور پر ہمارا روزہ محض دن بھر کی بھوک و پیاس کا نام بن کررہ جاتا ہے،کیونکہ یہ رسم بن کر رہ گیا ہے اس میں ہمارے شعور کا عمل دخل نہیں ہوتا۔ ہمیں سمجھنا ہوگا کہ اس ماہ کے تربیتی کورس کے ثمرات سارے سال پر محیط ہونے چاہئیں۔ اگر ہم تربیتی کورس مکمل کرنے کے دعوے کے باوجود سال بھر اس پر عمل پیرا ہونے میں نا کام رہیں تو کیا کسی فیل ہو جانے والے کو انعام سے نوازا جا سکتا ہے؟
عرض یہ ہے کہ ہمیں اپنی ریاضت و عبادت کو اپنے شعور کا حصہ بنانا ہے۔ فکرو اجتہاد سے۔ قرآن حکیم میں اللہ تعالیٰ نے مطیع و فرمانبردار بندوں کی صفت یہ بیان کی ہے کہ وہ آیات الٰہیہ کی کورانہ تقلید نہیں کرتے۔ یعنی وہ ان پر حکیمانہ غور کرتے ہیں۔ سورۃ الاسراء میں ہے کہ اورجو کوئی اس دنیا میں اندھا رہا، وہ آخرت میں اندھا رہے گا۔ اور راستے سے یک قلم بھٹکا ہوا۔ ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے ہاں روح عبادت سے آشنائی کے لیے کوئی ذہنی بیداری کا درس نہیں دیتا ہے۔ کوئی ادارہ یا تحریک نہیں جو art of thinkingفن تفکّر کی روشنی میں ہماری فکر ی راہنمائی کرے۔ کوئی قرآنی پیغام عام نہیں کرتا کہ تم تفکر نہیں کرتے، عقل سے کام نہیں لیتے۔ انعام اور اجر کے لیے لازم ہے کہ ہماری عبادت میں ہمارا شعوری حصہ بھی ہو۔ 
علامہ ابن القیم ؒنے روزہ کے اسرار و مقاصد پر یوں روشنی ڈالی ہے کہ ”روزہ جوارح ظاہری اور قوائے باطنی کی حفاظت میں بڑی تاثیر رکھتا ہے۔ فاسد مادہ کے جمع ہو جانے سے انسان میں جو خرابیاں پیدا ہو جاتی ہیں اس سے وہ اس کی حفاظت کرتا ہے،جو چیزیں مانع صحت ہیں ان کو خارج کر دیتا ہے اور اعضاء و جوارح میں جو خرابیاں ہواوہوس کے نتیجہ میں ظاہر ہوتی رہتی ہیں و ہ اس سے دفع ہوتی ہیں، و ہ صحت کے لیے مفید اور تقویٰ کی زندگی اختیار کرنے میں بہت ممدو معاون ہے۔“