جمعہ، 3 نومبر، 2017

تصو یرِ قائد کی وفات


عظیم باپ کی عظیم بیٹی، تصویر محمد علی جناح دینا واڈیا کی2نومبر2017ء بروز جمعرات نیویارک میں اپنے گھر میں ابدی نیند سو جانے کی خبر نے دل بوجھل کر دیا۔ دینا واڈیا برصغیر پاک و ہند کی دو عظیم شخصیات محمد علی جناح اور رتن بائی کی محبت کی نشانی تھیں۔ محمد علی جناح اور رتی جناح شادی کے بعد انگلستان کے سفر پر تھے کہ ان کی زندگی کا اہم واقعہ پیش آیا۔ یہ وسط اگست کی ایک شام تھی جب جناح، رتی کو تھیٹر دکھانے لے گئے۔ وہاں رتی کی طبیعت خراب ہونے پر انہیں تھیٹر سے اٹھ کر ہسپتال جانا پڑا۔ یہ14اور15اگست1919ء کی درمیانی شب تھی وہاں ان کی دنیا میں ایک ننھی منی جان نے قدم رکھا یہ ان کی اکلوتی بیٹی دینا تھی۔ ظاہر ہے محبت کرنے والے ماں باپ نے اس کے لیے کیا کچھ نہ کیا ہو گا۔ دینا کے ایام طفولیت کا فی مشکل تھے کہ ان کے والدین کے ازدواجی تعلقات سرد مہری کا شکار ہوئے اور پھر علیحدگی پر جا کر رُکے۔ دینا دس سال کی تھی کہ اس کی والدہ انتقال کر گئیں۔ بلاشبہ محبت ابتلاء و آزمائش سے گزرتی ہے لیکن خود بہت شفیق ہوتی ہے۔ محمد علی جناح کی لخت جگر کا اصل نام صوفیہ تھا اور عرفیت دینا، اس لیے وہ دینا جناح کے نام سے جانی جانے لگیں۔ وہ قائد اعظم کے ساتھ ہی رہتی تھیں۔ ایک شفیق باپ کی طرح وہ اسے بہترین تعلیم دلانے کے آرزو مند تھے۔ 
جی الانہ کے مطابق دینا جب بارہ سال کی عمر کو پہنچیں تو انہیں انگلستان کے ایک بورڈنگ سکول میں داخل کر ا دیا گیا۔ قائد اعظم جب انگلستان جاتے تو دینا اپنی تعطیلات اپنے والد کے ساتھ گزراتی تھیں۔ اپنی محبوبہ بیوی کی وفات کے بعد دینا ہی اس کی واحدنشانی تھی۔ باپ اب اپنی ساری محبت اور شفقت اسی پر نچھاور کرنے لگا تھا۔تاہم والد کی سیاسی مصروفیات کے باعث دینا ننھیال کے زیادہ قریب رہنے لگی تھی۔ 1932ء میں جناح نے کمال اتاترک کی سوانح"Grey Wolf"پڑھی تو اس سے بہت متاثر ہوئے وہ اکثر گھر میں اس کتاب کا تذکرہ کرتے انہوں نے یہ کتاب دینا کو بھی دی۔ دینا اکثر اپنے بابا کو   ”گرے ولف“ کے نام سے ہی پکارتی تھی۔ 
محمد علی جناح کو اپنی بیٹی کی پارسی خاندان میں شادی کے فیصلے پراختلاف ہوا۔ انہوں نے مولانا شوکت علی کو بھی دینا کو سمجھانے کا کہا تاہم وہ اپنے فیصلے کی پکی تھیں، انہوں نے25نومبر1938ء کو پارسی نوجوان سے شادی کر لی۔ کہا جاتا ہے کہ اس پر باپ بیٹی میں کچھ ناراضگی بھی ہوئی۔ قائد اعظم کے ڈرائیور محمد حنیف آزاد کے بقول ایک دفعہ وہ گاڑی چلا رہے تھے، قائد اعظم پچھلی نشست پر بیٹھے تھے۔ سامنے سے ان کی بیٹی دینا کی گاڑی آ گئی۔ میں نے خاص طور پر شیشے میں سے قائد اعظم کا رویہ دیکھناچاہا۔ جب دینا کی گاڑی قریب سے گزری تو قائد اعظم نے منہ دوسری طرف پھیر لیا۔ بلاشبہ شادی کے مسئلے پر بیٹی سے ناراضگی تھی اور یہ ایک فطری امر ہے۔نیول واڈیا سے   ا ن کی شادی کامیاب نہ رہی اور پانچ سال بعد ہی1943ء میں علیحدگی ہو گئی۔ تاہم اس کو بنیاد پر کچھ لوگوں نے یہ سمجھ لیا کہ قائد اعظم نے بیٹی سے تعلق توڑلیا۔ ایسا بالکل نہیں تھا۔ دینا کی شادی کو ابھی چھ ماہ ہی گذرے تھے کہ قائد اعظم نے30مئی1939ء کو اپنی وصیت لکھی۔ ناراضگی یاقطع تعلقی تھی تو وہ دینا کو ترکے سے محروم کر سکتے تھے لیکن انہوں نے اپنی بیٹی کے لیے تاحیات دو لاکھ رروپے کی رقم کا منافع مختص کر دیا اور وصیت کی کہ دینا کی وفات کے بعد تمام رقم دینا کی اولاد کو منتقل کر دی جائے۔ کوئی والد اپنی عاق شدہ اولاد کے لیے ایسی وصیت نہیں لکھ سکتا۔ باپ بیٹی کی محبت کے رشتے کی کئی شہادتیں ہیں۔ خاص طور پر سالگرہ و دیگر مواقع پرقائد اعظم کو بھیجے جانے والے دینا واڈیا کے تہنیتی کارڈز اور ان کی تحریریں قائد اعظم اور دینا کے درمیان خط و کتابت باپ بیٹی کے پیا رکا عکس ہیں۔28اپریل1947ء کے ایک خط میں دینا لکھتی ہیں ”مائی ڈئیر پاپا! پہلے تو آپ کو مبارکباد دوں کہ ہمیں پاکستان مل گیا، یعنی اصولی طور پر تسلیم کر لیا گیا۔ میں اس پر کتنا فخر اور خوشی محسوس کر رہی ہوں۔ آپ نے اس کے لیے کتنی محنت کی ہے!۔“ ایک اور خط میں دینا نے باپ سے والہانہ لگاؤ کا اظہار کیا اور ان سے رشتے پر فخر کا اظہار کیا۔ لکھتی ہیں ”پیارے پاپا! آپ کے شفقت نامے کا بے حد شکریہ، میں جانتی ہوں آپ کس قدر مصروف ہیں۔ شاید اس لمحے آپ وائسرئے کے ساتھ ہوں گے۔ آپ نے پچھلے چند سالوں میں جو کامیابی حاصل کی ہے وہ حیرت انگیزہے اور میں آپ سے اپنی نسبت پر فخر اور انبساط محسوس کرتی ہوں۔ہندوستان بھر میں آپ وہ واحد شخص ہیں جو حقیقت پسند، راست باز، دانا اور بے مثال مدبر ہیں۔ شاید اب یہ کسی پرستار کا خط بن گیا ہے، ٹھیک کہہ رہی ہوں نا!میں نے آپ کی3جون کی تقریر سنی۔ میرے خیال میں آپ کی تقریر سب سے بہتر اور موضوع کے عین مطابق تھی۔ آپ جو چاہتے تھے وہ پورے طور پر نہ مل سکا لیکن پھر بھی آپ نے بہت کچھ حاصل کر لیا۔ کانگریس کا غرور کس طرح ٹوٹا۔ یہاں کے ہندو پاکستان کے تسلیم کیے جانے اوردو مملکتوں کے قیام پر خوش نہیں ہیں۔ اب آپ کے سامنے بڑا مسئلہ در پیش ہے یعنی پاکستان کو عملی جامہ پہنانا۔ میں جانتی ہوں کہ آپ اس میں بھی کامیاب ہوں گے۔“ ان خطوط میں دینا کو اپنے باپ سے نسبت پر بہت فخر تھا۔ قائد کو اپنی بیٹی سے ہی نہیں نواسوں سے بھی بہت پیا ر تھا۔ نسلے واڈیا نے ایک مرتبہ کہا کہ تھا ”بچپن میں ایک بار نانا ہمارے ہاں ملنے آئے تو میں ان کی ٹوپی سے کھیلنے لگا۔ نانانے یہ ٹوپی مجھے دے دی جسے میں نے ہمیشہ اپنی زندگی کی قیمتی متاع کے طور پر سنبھال رکھا ہے!
قیام پاکستان کے بعد قائدا عظم کی وفات پر وہ تدفین میں شریک ہوئیں۔ قائد اعظم کے اے ڈی سی کیپٹن این اے حسین کے مطابق بابائے قوم کی وفات پر ان کی بیٹی مسز واڈیا کو اسی رات بمبئی میں اطلاع دی گئی جس پر وہ اگلی صبح بروقت کراچی پہنچ گئیں۔ وہ سیاہ لباس پہنے ہوئے جنازے اور تدفین میں شریک ہوئیں۔ وہ اپنی پھوپھی فاطمہ جناح کے ہمراہ قائد کی پسندیدہ سیاہ کار ہمبرپل میں تشریف فرما تھیں۔تدفین کے بعد اگلے روز وہ فلیگ سٹاف ہاؤس گئیں تو اس میں بابا کی چیزیں دیکھ کر آبدیدہ ہو گئیں۔ انہوں نے بہت سی اشیاء کو شناخت کر لیا، ان اشیاء کی خریداری کا سال اور جگہ بھی ان کو یاد تھی۔ انہیں ہر شے کے متعلق ہر وہ تعریفی جملہ بھی یاد آر ہا تھا جو قائد اعظم نے ان اشیاء کے بارے میں فرمایا تھا۔ قائد اعظم اور ان کی بیٹی کے درمیان ملاقاتیں اور خط و کتابت و رابطے ہمیشہ رہے۔ بابائے قوم کو اپنی تصویر دینا سے بہت لگاؤ تھا۔ نواب بہادر یار جنگ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ وہ قائد اعظم کے ہاں گئے۔ قائد اعظم کسی دوسرے کمرے میں تھے۔ تھوڑی دیر انتظار کے بعد وہ بھی ادھر چل دیے۔ میں نے دیکھا قائد اعظم ایک صندوق پر جھکے ہوئے ہیں اور کوئی چیز دیکھ رہے ہیں اور آبدیدہ ہیں۔ نواب صاحب کہتے ہیں مجھے تعجب ہوا۔ اس پر قائد اعظم نے بتایا کہ یہ میری بیٹی کے بچپن کے کپڑے ہیں۔ آج اس کی سالگرہ ہے۔ وہ اسے یاد کر رہے ہیں۔ چاہنے والوں میں ایک خفیہ معاہدہ ہوتا ہے وہ ایک دوسرے کو دیکھتے ہیں تو محبتوں کے سرکش جذبے خامیوں کو خوبیاں بنا دیتے ہیں۔ 
1976ء میں قائد اعظم کی سویں سالگرہ کے حوالے سے ایک کتاب شائع ہوئی"Pakistan: Past & Present"اس میں دینا واڈیا نے اپنے والد کے حوالے سے"A Daughter's Memory"کے نام سے تاثرات رقم کیے۔
"My father was not a demonstrative man. But he was an affectionate father. My last meeting with him took place in Bombay in 1946....He phoned inviting me and my children to tea. He was very happy to see us. We mostly talked about the children and politics."
2004ء میں دینا واڈیا پاک بھار ت میچ دیکھنے کے لیے پاکستان آئیں۔یہاں انکا والہانہ خیر مقدم کیا گیا۔ انہوں نے بھی بڑے پُرتپاک جذبات کا اظہار کیا۔ وہ والد کی قبر پر بھی گئیں اور اپنے تاثرات رقم بھی کیے۔ انہوں نے اپنے جذبات کے غلبے کو چھپانے کے لیے والد کی قبر پر جاتے ہوئے کسی کو ساتھ نہیں آنے دیا۔ قائد اعظم اور ان کی بیٹی کی نسبت اور مراسم بڑے خوشگوار رہے۔2007ء میں دینا جناح نے بھارتی حکومت کو درخواست دی کہ بمبئی کے جناح ہاؤس کو ان کی ملکیت میں دیا جائے۔ جس گھر میں بچپن گزرا، اسی میں زندگی کے آخری سال گذارنا چاہتی ہیں تا ہم انہیں اس کا جواب نہیں ملا۔ انکے پاس برطانوی اور ہندوستانی شہریت تھی لیکن وہ گذشتہ کئی عشروں سے امریکہ کے شہر نیویارک میں رہائش پذیر تھیں۔ جہاں انہوں نے داعی اجل کولبیک کہا۔ 2نومبر کو جب ان کی وفات کی خبر سنی تو باپ بیٹی کی محبت و لگاؤ کے لازوال تاثرات خوب یاد آئے۔ وقت سے بے نیاز، زمانے کی آندھیوں کی گرد ایسے پختہ رشتوں پر نہیں جمتی۔دینا قائد اعظم کی تصویر دکھائی دیتی تھیں۔ انھے دیکھ کر قائد اعظم خوب یاد آ رہے ہیں۔ ان کی وفات سے ایک عہد اپنے اختتام کو پہنچا ہے۔دعاہے کہ پروردگار ان کی اُخروی منزلیں آسان کرے۔

بدھ، 25 اکتوبر، 2017

درگاہ سے دعا تک



افلاطون نے کہا تھا کہ ”انسانی معاملات بمشکل ہی سنجیدگی سے غور کے مستحق ہوں گے، لیکن ہمیں ان کے متعلق سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہو گا“ انسان سرکشی اور نا انصافی کا پتلا ہونے کے باوجود اس قدر قیمتی ہے کہ اس کے منہ موڑنے پر خدا، خالق ارض و سما بھی افسوس کرتا ہے چنانچہ اپنے چند دوستوں کو بے سکون اور ٹینشن میں دیکھ کر نرم دل استاد ڈاکٹر غلام علی نے تجویز دی کہ برادرم سائر انور ملہی اور محترم ایاز نورانی کی ناقابل بیاں بے قراری کو قرار بخشنے کے لیے کسی درگاہ پر حاضری دی جائے اور ان کی قلبی راحت کے لیے دعا کی جائے۔  یہ دونوں دوست آج تحیر زدہ دکھائی دیتے ہیں، میں نے اتفاق کرتے ہوئے عرض کیا حیرت زدہ ہونا، انسان ہونے کی ہی ایک روش ہے، البتہ یہ نری آوارگی، بے مقصد گھومنے، مٹر گشت اور سیر سپاٹوں کی ایک صورت بھی ہو سکتی ہے اپنی حیرت کو ایک سوال کا رخ دینا ذہن کو ایک طریقہ کار میں ڈھالنے کے ہی مترادف ہے۔ ذہنی کرب معنویت سے محروم وجود یا واقعات کے تجربے یا خوف سے زیادہ پیدا ہوتا ہے۔ فلسفیانہ مزاج کے سائر انور ملہی نے کہا کہ ایسا ہی نہیں ہے، ایک رخ ناقابل بیاں ماورائے معنویت کا بھی ہے۔ اس کی آگہی اپنے ساتھ”نا قابل بیان“کا احساس لاتی ہے جس کا تجربہ ہمیں اپنی خواہش کے تحت نہیں ہوتا بلکہ ہمارے ششدر رہ جانے اور عظمت کا مقابلہ نہ کرسکنے کے باعث ہوتا ہے۔ حقیقت کے معروضی پہلو کا عالمگیر وجدان جس کی صلاحیت ہر شخص میں موجود ہوتی ہے،یہ جہالت کی جھاگ نہیں بلکہ فکر کا نقطعہ عروج ہے۔ یہ ایک شعوری وجدان ہے کیونکہ اس کی عطا کردہ آگہی علمِ دنیا کی گہرائی میں اضافے کا سبب بنتی ہے۔ ایاز نوارانی نے گفتگو کی سنجیدگی پر ضرب لگاتے ہوئے کہا، شیخ صاحب! گھبرائیں نہیں، ملہی صاحب صوفی ہو گئے ہیں۔ ان کی روحانی تشنگی کا علاج ضروری ہے۔ میں نے عرض کیا، یہ کیسے ممکن ہے، ایک ایسا بینکار جس کے ہاتھ ہر وقت مادیت کے نشان روپے، پیسے سے رنگے ہوتے ہیں، صوفی ہو جائے……؟ تو نورانی صاحب نے فوراً جواب دیا، زمانہ بدل گیا ہے آج کا تقاضا ہے کہ ہر شخص کو تھوڑا بہت صوفی ہونا چاہیے اور ہر صوفی کو تھوڑا بہت انسان ہونا چاہیے۔ روحانی قوت کے لیے اسے کسی درگاہ پر لے چلتے ہیں تاکہ اس کی بے چین روح کو قرار ملے۔ میرا خیال تھا کہ صوفی ازل اور عوام کا باہمی رشتہ ہمیشہ سے الجھن کا شکار رہا ہے ہم صوفیاء کو ایسی نظر سے دیکھتے ہیں جیسے وہ علاقہ غیر کی ہستیاں ہوں۔ صوفی کا نام سنتے ہی ہماری آنکھیں عروجی سفر کی جانب اٹھتی ہیں۔ عوامی خیال اور سماجی مقاصد اور ہیں، مقامات تصوف کی زبان اور ہے۔ ڈاکٹر غلام علی کہنے لگے،کہ عوام زمین پر زمین کا سفر طے کرتے ہیں اور صوفی زمین سے آسمان کی طرف راہ کھولتا ہے۔ بظاہر صوفی اور عوام دونوں کی منزلیں جدا جدا ہیں تاہم زمین دونوں میں مشترک ہے اور یہی صوفی اور عام انسان کے تعلق کی بنیاد ہے۔ بات چیت جاری تھی کہ گاڑی نے بریک لگائی اور غلام علی کہنے لگے ہم خانقاہ نقشبندیہ مجددیہ سیدا شریف نزد پھالیہ پہنچ گئے ہیں۔ درگاہ پر پہنچے تو سفید رنگت، متوازن قد کے باریش لیکن جوان شخص نے متانت، وقار اور مسکراہٹ کے ساتھ استقبال کیا۔ معلوم ہوا کہ یہ خلیق و شفیق اسلاف کے گدی نشین صاحبزادہ ابوبکر ہیں، وہ سجادہ نشینی کے ساتھ ساتھ والدین کی تعلیمی و تدریسی خدمات کے وارث اور انگریزی زبان و ادب کے ایک یونیورسٹی میں استاد بھی ہیں۔ درگاہ پر خوشدلانہ استقبال، محبت بھری میزبانی اور دسترخواں کی وسعت ان کے گھرانے و خانقاہ کی حُسنِ معاشرت کی آئینہ دار تھی۔ ہم نے سب سے پہلے خواجہ محبوب عالم ؒ و دیگر قبور کی زیارت کی، حاضری دی اور سلام پیش کیا۔ سادگی و شکوہ کا حسین امتزاج دیکھنے کو ملا۔ خاموشی و طمانیت کا دریا بہہ رہا تھا اور اطمینان و قرار کی بہار تھی۔ قلوب جیسے معطر ہو گئے اور بے وجہ قرار سا آگیا۔ اسی روح پرور مستی کی فضا میں ہمارے ہاتھ خود بخود دعا کے لیے اٹھ گئے، جھولیاں پھیلنے لگیں۔ بیدار ذہن، بند آنکھوں اور محسوس کرتے دل سے نکلنے والی دعا کا اپنا ایک سرور و خمار تھا۔ دعا محض خدا سے رحم کی پکار یا روحانی برجستگی نہیں۔ دعا روح کی تکثیف ہے۔ یہ ایک لحظے میں مکمل روح کو سمو دینے کا نام ہے اور ہمارے اعمال کا خلاصہ ہے۔ دعا کے انسان میں رچنے بسنے کے لیے انسان کا دعا میں رچنا بسنا ضروری ہے۔ دعا وہ لمحہ ہے جب عاجزی حقیقت بن جائے۔ اظہار ذات کے لیے ہمیں یہ سیکھنا ضروری ہے کہ طلب جاہ، تکبر اور حُب دنیا کے خولوں کو کس طرح اتار پھینکا جائے۔ کرب کی پکار جب رحمت خداوندی کا تصور بن جائے تو اسے دعا کہتے ہیں۔ دعا وہ لمحہ ہے جب کرب میں مبتلا انسان اپنا اضطراب بھول کر خدا اوراس کی رحمت کے بارے میں سوچنا شروع کر دیتا ہے۔ صرف اپنے نفس کا مشاہدہ کرنا نہیں، بلکہ مکمل انسان کا خدا کی جانب پھر جانا ہے یہ ایک مشکل صورتحال تو ہے لیکن نا ممکن نہیں۔ شاید اس کا دورانیہ ایک ساعت ہی ہو لیکن اس میں ایک زمانہ حیات کا نچوڑ پایا جاتا ہے۔ درگاہ پر دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے کیفیت بتا رہی تھی کہ ولی کامل کے پاس حاضری دے کر دعا مانگنا ایسے ہی ہے جیسے رومی نے کہا تھا 
گر تو سنگِ خارہ، مرمرشوی
چوں بصاحب دل رسی گوہر شوی 
یعنی اگر تو ناکار ہ و سخت پتھر ہے تو سنگ مر مر ہو جائے گا۔ جب کسی دل والے کے پاس جائے گا تو موتی ہو جائے گا 
دعا کے بعد حجرے میں پہنچے تو وہاں ہر طرف کتابیں ہی کتابیں بکھری ہوئی تھیں۔ اسی اثناء میں صاحبزادہ بلال صدیق ایڈووکیٹ جو سجادہ نشین کے چھوٹے بھائی ہیں وہ بھی آ پہنچے۔ ان کی آمد نے محفل کو مکالمے میں بدل دیا، بات صوفیاء کی زندگی کے محاسن سے شروع ہوئی اور خانقاہی نظام کی افراط و تفریط میں الجھ کر رہ گئی۔ انسانی تحریکیں خواہ کتنی ہی اچھی کیوں نہ ہوں جب افراط و تفریط اور عمل و رد عمل کا بازیچہ بنتی ہیں تو ان کی شکل مسخ ہوئے بغیر نہیں رہ سکتی۔ جیسے فقہ اسلامی کی تدوین نے مسلمانوں کی دینی و سماجی زندگی کو سنوارنے کا عظیم کام کیا لیکن جب اسے حیلہ بازیوں کا ذریعہ بنایا گیا تو مسلمانوں کی عملی زندگی بے روح ہوکر رہ گئی۔ایسا ہی حال تصوف کا بھی ہوا۔ شریعت و طریقت میں تفریق پیدا ہو گئی۔ مجاز پرستی، پیر پرستی، قبر پرستی نے درگاہوں کے فیض چھین لیے۔ تاہم یہ سب گمراہیاں اپنی جگہ لیکن کھرا سچ یہ ہے کہ صوفیہئ صافی نے ہمیشہ ان گمراہیوں کے خلاف آواز بلند کی۔ حضرت شیخ ابو الحسن ؒ کا قول ہے کہ ”تصوف رسوم وعلوم کا نام نہیں بلکہ اخلاق کا نام ہے۔صوفیاء و درگاہوں نے اسلامی تاریخ میں ہمیشہ اخلاقی تحریک کے طور پر مسلمانوں کی راہبری کی۔ ہملٹن گب نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ ”تاریخ اسلام میں بار ہا ایسے مواقع آئے ہیں کہ اسلام کے کلچر کا شدت سے مقابلہ کیا گیا ہے۔ لیکن بایں ہمہ،وہ مغلوب نہ ہو سکا۔اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ تصوف یا صوفیہ کا انداز فکر فوراً اس کی مدد کو آجاتا تھا۔ اور اس کو اتنی قوت اور توانائی بخش دیتا تھا کہ کوئی طاقت اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی تھی“۔ گِب کی رائے بالکل درست ہے۔ اسلامی تاریخ میں صوفیاء کے کارنامے اسی نظر سے مطالعے کے مستحق ہیں۔ مسلمانوں کی ملی زندگی میں جب بھی کوئی مشکل مقام آیا تو ان ہی بزرگوں نے بصیرت و حکمت کے ساتھ نا مساعد حالات کا مقابلہ کیا۔ ان کا ہاتھ ملت کی نبض پر تھا اور ان کا دماغ تجدید و احیاء کی تدبیریں سوچنے میں مصروف رہتا تھا۔ آج بھی لوگ صوفیاء اور درگاہوں سے ایسے ہی راہبرانہ افعال وکردار کی توقع رکھتے ہیں۔ لیکن مشائخ و خانقاہوں نے ملت کی بہتری و راہبری کی تدبیریں سوچنا کم کر دی ہیں۔ مکالمہ ابھی ادھورا ہی تھا کہ رخصت کا وقت آن پہنچا۔ علم دوست درگاہ سے واپسی پر تبرک کے طور پر تصوف کی اہم کتب کا تحفہ ملا، جسے بصد شکریہ قبول کیا،اور اجازت چاہی۔ 
معرفتِ حق کی جستجو ایک مادہ پرست بنک آفیسر کے دل کو بھی اسی طرح بے چین کر سکتی ہے جس طرح ایک عارف کے دل کو…… اسی انسانی جستجو کا نام تصوف ہے۔ حقیقی تصوف مذہب کی روح، اخلاق کی جان اور ایمان کا کمال ہے۔ اس کی اساس شریعت ہے اور سر چشمہ قرآن و حدیث۔ یہ شریعت کی نفی نہیں بلکہ اس کی توضیع ہے۔ صرف اقرار باللسان نہیں، اقرار بالقلب بھی ہے۔ لیکن اسی سفر کے دوران حاصل سفر یہ بات تھی کہ حضرت یحییٰ بن معاذ رازیؒ کا قول یاد رکھنے والا ہے کہ تین قسم کے آدمیوں کی صحبت سے بچنا چاہیے۔ ایک غافل عالم سے، دوسرے مکار فقیر سے اور تیسرے جاہل صوفی سے۔ 





سوموار، 17 اپریل، 2017

ترجمہ کاری کے فروغ میں میڈیا کاکردار

ترجمہ کاری انسانی مزاج، تاریخ اور تمدن کی دریافت اور شناخت کا اہم ذریعہ ہے۔ انسان رنگ و نسل،لسانی و جغرافیائی بندشوں اور سیاسی و سماجی تفرقات کی وجہ سے انسان ہوتے ہوئے بھی ایک دوسرے کے لیے اجنبی ہے، وہ ترجمہ کاری کے ذریعے ایک زبان کو اپنی زبان کے حروف تہجی میں ڈھالنے سے انسانی سطح پر ایک دوسرے سے تعارف و آگاہی حاصل کرتا ہے۔خود کو ذہنی و جذباتی سطح پرباخبر رکھنے اور دوسروں کے مسائل و وسائل اور خوشی و غم کو جاننے اور ان میں شریک ہونے کے لیے ترجمہ ہی ایک ایسا وسیلہ ہے جو خبر کا ذریعہ بنتا ہے۔ ترجمہ کاری درحقیقت انسانوں میں اشترا ک کا قرینہ پید اکرنے کا فن ہے۔ زبان کے فروغ، تمدن سے آشنائی، کائنات کی دریافت و بازیافت اور تاریخ کے وقوف کے لیے ایک سے زیادہ زبانوں سے رابطہ پید ا کرنا لازمی ہے۔ اسی تناظر میں آج عالمگیریت کے عہد شباب میں ترجمہ کاری کو علم کی حیثیت حاصل ہو گئی ہے۔ آج کی علمی معیشت کے دور میں بھی علوم کی وسعت اور فروغ میں ترجمہ کاری کا کردار نمایاں ترین ہے۔ جدید دنیا کے عالمی انکشافات، سائنسی تحقیقات اور ادبی سرگرمیاں ترجمے کے وسیلے سے اگلے ہی لمحے ساری دنیا تک پہنچ رہے ہیں۔ ترجمہ کاری وہ فن ہے جو زبانوں، تہذیوں، تاریخوں اور اقوام کو ایک دوسرے کے قریب لانے کا فریضہ انجام دیتا ہے۔

نت نئے علوم کے اس عہد میں تراجم کی افادیت و اہمیت بہت بڑھ گئی ہے۔ روح عصر کے جدید تقاضوں سے ہم آہنگی رکھنے والی پاکستان کی جدید جامعہ ”یونیورسٹی آف گجرات“ میں ایک عشرہ قبل ہی ”مرکز السنہ و علوم ترجمہ“ کا قیام عمل میں لایا گیا۔ اس مرکز کو رئیس الجامعہ ڈاکٹر ضیاء القیوم کی بھرپور سرپرستی حاصل ہے، وہ خود کمپیوٹر سائنس کے استاد اور ”مشین ٹرانسلیشن“ میں تخصیصی مہارت کے حامل ہیں ان کی راہنمائی میں اس مرکز کے علم دوست سربراہ ڈاکٹر غلام علی نے شب و روزکی جہد ِمسلسل اور اصحابِ لگن پر مشتمل ٹیم کے تعاون سے اس مرکز علوم ترجمہ کو حقیقی معنوں میں مرکز ِفضیلت بنا دیا ہے۔ پاکستان بھر میں اس مرکز کی کارکردگی کو خوب سراہا جاتا ہے۔ اس مرکز کے زیر انتظام”دارالترجمہ“ کا قیام بھی عمل میں لایا گیا ہے۔ جس میں علمی و ادبی تراجم کے ساتھ ساتھ حکومت پنجاب کے قوانین کے اردو تراجم کا قومی فریضہ بھی کامل تندہی سے انجام دیا جا رہا ہے۔ اس مرکز السنہ و علوم ترجمہ کا ایک قابل ذکر و تحسین کام علوم ترجمہ اور ترجمہ کاری کے فہم و ادراک کے لیے بیداری مہم کا آغاز اور اس کے لیے سیمینار،سپموزیم، کانفرنسوں اور مکالماتی نشستوں کا مسلسل اہتمام کرنا ہے اور ترجمہ کاری کوقومی بیانیے کی تشکیل میں معاون بنانے کے لیے مباحث ومکالمے کو فروغ دینا ہے۔ اسی حوالے سے13اپریل بروز جمعرات جامعہ گجرات کی مرکزی قائد اعظم لائبریری کے نمائش ہال میں ”ترجمہ کاری کے فروغ میں میڈیا کا کردار“کے موضوع پر خصوصی فکری نشست کا انعقاد ممکن بنایا گیا۔ یونیورسٹی آف گجرات کے رجسٹرار ڈاکٹر طاہرعقیل نے صدارت کی جبکہ ممتازدانشورتجزیہ کاراورصاحب اسلوب کالم نگاروسعت اللہ خاں مہمان خصوصی تھے۔ محفل کا آغازعطاء اللہ کی تلاوت قرآن حکیم سے ہوا۔ صدر شعبہ ڈاکٹر غلام علی نے کہا کہ ترجمے کا فن انسانیت کی تاریخ میں بین الاقوامی نقطہ نظر کی پیداوار ہے اور آفاقی انداز نظر پید اکرنے کا اہم وسیلہ بھی۔ آج ترجمہ کاری کے فروغ میں میڈیا کا کردار غیر معمولی اہمیت کاحامل ہے۔ صحافتی مقاصد کے لیے ترجمے اور طریقہ ہائے ترجمہ پر سب سے زیادہ اثر میڈیا کے بدلتے ہوئے کردار نے ہی ڈالا ہے۔ اب میڈیا کی ذمہ داری صرف آگاہ کرنا یا ابلاغ نہیں ہے بلکہ میڈیا معلومات کا طے شدہ پالیسیوں اور نظریاتی بنیادوں پر مخصوص معلومات یا تصویر کے کسی ایک ترجیحاتی رُخ کا سامعین وناظر تک ابلاغ ہے۔ آج ابلاغ کے مقصد سے موجود متن کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ چنانچہ میڈیا کا کردار محض خبر کا نہیں بلکہ طے شدہ اہداف و مقاصد کے لیے میڈیا اہم ہتھیار بن گیا ہے۔ ترجمہ اور ترجمہ کاری ایک فن اور معلومات کی منقلی کا عمل ہے۔ مگر صحافت کے میدان میں ترجمہ فعال کردار کا حامل ہے۔ اس لیے آج ترجمہ کاری کے فروغ کے لیے میڈیا کے کردار کا جائزہ ناگزیر ہے۔ مہمان خصوصی و کالم نگار وسعت اللہ خاں نے کہا کہ زبان کسی بھی معاشرے کی تہذیبی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ترجمہ کاری کا عمل زبان کو لسانی، ثقافتی اور تہذیبی حوالوں سے وسعت بخشتے ہوئے ذہنی رویوں کو کشادہ کرتا ہے۔ عصر حاضر میں میڈیا کو ایک ذمہ دارانہ کردار ادا کرتے ہوئے سماج و معاشرہ کی مثبت تشکیل نو میں ہاتھ بٹانے کی ضرورت ہے۔ ترجمہ کا عمل کسی قوم، ملک یا تہذیب کی پہچان کا باعث بنتا ہے چنانچہ دنیا کے بہترین و ارفع ادب کو پاکستان کی مقامی و قومی زبانوں  میں منتقل کرتے ہوئے ہم بہتر سماجی تبدیلیوں سے آشنا ہو سکتے ہیں۔ ترجمہ کاری ایک ذمہ دارانہ عمل ہے۔ میڈیا کو خبر کی عوام تک ترسیل کرتے ہوئے ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے۔ میڈیا کو خبر کی عوام تک ترسیل کرتے ہوئے ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے۔ میڈیا میں ترجمے کی اہمیت اپنی جگہ لیکن سچ تو یہ ہے کہ ہمارے ہاں اس قومی ضرورت کے حوالے سے صحافیوں کی تربیت کا کوئی نظام اور انتظام موجود نہیں۔ رجسٹرار ڈاکٹر طاہر عقیل نے کہا کہ مختلف مسائل کا دیانتدارانہ تجزیہ ہی ان کے حل میں معاون ہو سکتا ہے۔ وسعت اللہ خان ایک کامیاب اور حساس تجزیہ نگار ہیں، انہوں نے صحافیانہ ذمہ داریوں کے حوالے سے بھی کھلے سچ کو بیان کیاہے۔ بلاشبہ لفظی ترجمہ کی ابلاغی اہمیت ا س کی تاریخی اہمیت میں ضم ہوجاتی ہیں۔ ترجمہ ایک ایسی مشقت ہے جو مترجم سے ہر ممکن قربانی کا تقاضا کرتی ہے۔ جامعہ گجرات کا مرکز علوم ترجمہ اپنے سربراہ ڈاکٹر غلام علی قیادت میں قومی فرائض کی ادائیگی میں نئی تاریخ رقم کر رہا ہے اور اس یونیورسٹی کا سنٹر آف ایکسیلنس بن چکا ہے۔ تقریب میں شعبہ ابلاغیات کے استاد زاہد بلال،ثوبیہ عابد، ڈاکٹر ذکیہ بانو، ممتاز دانشور افتخار بھٹہ اور چیف لائبریرین کاظم علی سید نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ 
بلاشبہ میڈیا کی اپنی ضروریات اور تکنیکی مسائل ہیں اور برق رفتاری تراجم کی روح کو ملیا میٹ کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ میڈیا کا مقصد فوری اور جلد ترسیل ہے معیار ترجمہ نہیں۔ اس میں ضرورت ابلاغ کی ہے لسانیات کی نہیں۔ صحافتی متن کا ترجمہ آزاد ترجمہ کہلاتا ہے۔میڈیا میں منتخب متن کے ترجمے کا طریقہ استعمال کیا جاتا ہے صحافت اور ترجمہ کا تعلق بہت اہم ہے لیکن ناظرین و سامعین کا ذہن ترجمے اور میڈیا کے تعلق کی طرف  جاتا ہی نہیں، حالانکہ صحافی ترجمان بھی ہوتا ہے۔ صحافی کے وظائف یعنی خبر کا انتخاب،تحقیق، تحریر اور اس کی ایڈیٹنگ کا عمل سمجھنے سے میڈیا میں ترجمے کے کردار کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ صحافت میدان عمل ہے اور بدلتے ہوئے حالات و تناظر میں کوئی صحافی خود کو جتنا زیادہ اچھا مترجم بنائے گا،اتنا ہی اچھا صحافی سمجھا جائے گا۔ اس سیمینار سے اس بات کی ضرورت بھی محسوس ہوئی کہ ترجمہ کاری کے فروغ میں میڈیا کے کردار کی خواہش کی تکمیل کے لیے لازم ہے کہ مرکز السنہ و علوم ترجمہ میڈیا کے لوگوں کے لیے تربیتی کورسز کا اہتمام کرے تاکہ میڈیا میں ایسے افراد پیدا کیے جا سکیں جو ترجمہ کاری کی اہمیت و افادیت سے آشنا ہوں۔ جامعات قوم کی کردا ر سازی میں اہمیت کی حامل ہیں۔ میڈیا عوامی رائے عامہ کی تشکیل میں نئی راہیں متعین کرنے میں سازگار ثابت ہو سکتا ہے۔ ترجمہ کاری میں صحافتی ضروریات کے پیش نظر یقینا لفظ و معنی کے ذائقے میں کئی بار تبدیلی آ جاتی ہے۔ یہ کوئی انہونی بات نہیں۔ ہمیں دونوں شعبوں کی ضرورتوں کا خیال رکھنا ہے۔ ایک یونانی مقولہ ہے کہ ”ترجمہ ہمیشہ ایک بھنی ہوئی سٹرابیری ہی رہے گا“ یعنی ترجمے کے دوران اصل چیز کے ذائقے میں فرق ضرور پڑتا ہے۔ 


بدھ، 1 فروری، 2017

پہلا گجرات لٹریری فیسٹول

دوسری جنگ عظیم کے زمانے میں جب نازیوں نے پیرس پر قبضہ کرکے اپنے مخالف ادیبوں، دانشوروں اور مفکروں کو گرفتار کر لیا تو ان کے لیے سزا یہ تجویز کی گئی کہ سب کو الگ الگ کوٹھڑیوں میں بند کرکے ہر کوٹھڑی میں ایک لاؤڈ سپیکر لگا دیا گیا جس پر ان کے لیے خاص پروگرام نشر کیے جاتے تھے۔ ایسے پروگرام جن سے انہیں ذہنی اذیت پہنچے۔ وہ سن سکتے تھے، بول نہیں سکتے تھے، جواب نہیں دے سکتے تھے۔ کچھ عرصہ تک یہ پروگرام نشر ہوتے رہے لیکن جلد ہی ان پروگراموں کے لکھنے والے تھک گئے اور انہوں نے اس کی وجہ یہ بتائی کہ سننے والوں کا رد عمل معلوم ہوئے بغیر ان کا قلم جواب دے گیا ہے۔ آخر گونگوں کے لیے کب تک اور کیسے لکھا جا سکتا ہے؟ سوچ تو ردّعمل کی فضا میں آگے بڑھتی ہے۔ جب یہ رشتہ کمزور پڑ جائے تو فکر و خیال کے دروازے بند ہو جاتے ہیں۔ ہمارے لکھنے اور پڑھنے والے کے درمیان ابلاغ کمزور ہونے سے ہم زندگی کی ہر سطح پر ایک تھکا دینے والے بحران سے گزر رہے ہیں۔ زندگی میں ہم نے نصب العین اور معنویت کو گم کر دیا ہے۔ ہماری نئی نسل سرگرداں و پریشان ہے اور سماج برسات کے پانی کی طرح،نالیاں نہ ہونے کے باعث سٹرکوں پر مارا مارا پھر رہا ہے اور جدھر راستہ ملتا ہے، بہہ نکلتا ہے۔ فکری بحران اوربے معنویت کے ابھارنے سب سے زیادہ نقصان ادب وفن کا کیا ہے۔ شعر و ادب اور فنون لطیفہ کی تخلیقی قوتیں اس سے بجھ سی گئی ہیں۔ تخلیق و تحریر جیسی قدریں بے معنی ہو گئی ہیں۔ آج ہمارا ادب و فن مستقبل کے عقیدے سے محروم ہے اور ہمارے لکھنے والے کے پاس نئی نسلوں کو دینے کے لیے آنے والے زمانے کا کوئی خواب نہیں ہے۔ ایسی گھمبیر صورتحال میں وقت کا اہم ترین تقاضا ہے کہ ہماری یونیورسٹیاں آگے بڑھیں اور اہل قلم اور نسل نو کے درمیان ابلاغ کے فروغ کے لیے گفتگو اور مکالمے کا پلیٹ فارم فراہم کریں تاکہ اعلیٰ تعلیم کے مقاصد کا عملی سماجی اطلاق ممکن ہو سکے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے سنجیدہ فکر قائد ڈاکٹر مختار احمد کی فکری کاوشیں رنگ لانے لگی ہیں اور ہماری جامعات کے جوا ں عزم وائس چانسلرز نے متحرک کردار ادا کرنے کی ٹھان لی ہے۔ اسکی ایک مثال عصری چیلنجوں سے ہم آہنگ جدید تعلیمی و فکری وژن کے حامل یونیورسٹی آف گجرات کے خوش خیال وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ضیاء القیوم کی ہے انہوں نے قائدانہ بصیرت سے جامعہ گجرات کو دانش گاہ کی شناخت فراہم کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔ گزشتہ دنوں انہوں نے ایک تاریخ ساز ادبی روایت کے آغاز کا فریضہ سرانجام دیا اور سنحنوروں کی بستی کہلانے والے گجرات کو ”پہلے گجرات ادبی میلہ“ کی روشنی سے منور کرکے گجرات کی قدیم شناخت کی ”نشاۃِ ثانیہ“ کا آغاز کیا۔ اس زرخیز ادبی سرزمین نے نامور اہل قلم کو جنم دیا۔ فارسی شاعر غنیمت کنجاہی سے پنجابی کے نامور شاعر و محقق شریف کنجاہی تک ممتا ز شعراء، ناول نگاروں، کہانی کاروں اور نثر نگاروں نے اس دھرتی کامان بڑھایا۔ حضرت نوشہ گنج سے ڈاکٹر شاہین مفتی تک شعرو ادب کے ایسے ایسے بطل جلیل گجرات کی سرزمین سے فیض یاب ہوئے کہ سرسید احمد خاں نے گجرات کی علمی وتعلیمی خدمات کے اعتراف میں اسے ”خطہئ یونان“ کے لقب سے نوازا۔ ایسے ہی اہل علم و ادب کی خدمات کے اعتراف اور انہیں خراج تحسین پیش کرنے کے لیے شیخ الجامعہ نے نہ صرف محترمہ توشیبا سرور کی ادب دوستی کی معاونت سے یونیورسٹی آف گجرات میں بھرپور انداز میں پہلے گجرات لٹریری فیسٹیول کا اہتمام کیا بلکہ ببانگ دہل اسے سنحنوران گجرات کے نام بھی کیا۔ 

  

جامعہ گجرات کے ادب دوست کنسلٹنٹ حیدر معراج اور ڈائریکٹر سٹوڈنٹس سروسز سنٹر محمد یعقوب نے حیاتین لٹریری سوسائٹی کی ادبی روایات کو بخوبی آگے بڑھاتے ہوئے علامہ اقبال ہال کو ادبی جمالیات کے تقاضوں سے سجایا۔ ادیبوں اور فنکاروں کی آمد پر پُر جوش طالبعلموں نے والہانہ استقبال کیا۔ ڈاکٹر شیبا عالم نے میزبانی و نظامت کے فرائض بحسن و خوبی انجام دئیے۔ پہلا سیشن ”انتظار حسین کی یاد میں“ تھا۔ خراج تحسین پیش کرنے والوں میں دانشور لکھاری محترمہ کشور ناہید اور ڈاکٹر اصغر ندیم سید تھے۔ کشور ناہید نے کہا کہ سیاسی، سماجی اور ثقافتی حقیقتوں کا بیانیہ ہماری فکشن کا خاصاہے۔ انتظار حسین نے اپنے ناولوں اور افسانوں کے ذریعے سماج کو انسان دوستی کے تصور سے روشناس کرایا۔ اصغر ندیم سید کا کہنا تھا کہ انتظار حسین اردو میں کہانی کی روایت کے عظیم نمائندہ ادیب تھے اور وضعداری اور تہذیبی شخصیت کے حامل تھے۔ دوسرا سیشن ”کچھ عشق کیا، کچھ کام کیا“ فیض احمد فیض کی یادوں سے مہکا ہوا تھا۔ 


محترمہ سلیمہ ہاشمی نے اپنے خوشگوار انداز میں اپنے ”ابا“ فیض احمد فیض کی یادوں سے نوجوانوں کو متعارف کروایا۔ انہوں نے بیان کیا کہ فیض صاحب کو عوامی زندگی سے عشق تھا۔ وہ تیسری دنیا کے ادیبوں و شاعروں کو عوامی فلاح کی خاطر ایک پلیٹ فارم پر یکجا کرنا چاہتے تھے۔ ڈاکٹر عارفہ سیدہ کا کہنا تھا کہ فیض دھیمے مگر مضبوط لہجے کے شاعر تھے جنہوں نے عوامی موضوعات کو اپنے شعروں کا موضوع بناتے ہوئے غاصبوں کا مقابلہ کیا۔ اصغر ندیم سید کا کہنا تھا کہ فیض کی شاعری گہرے تاریخی شعور کی مظہر ہے وہ عوامی اقدار کے شاعر تھے۔ اگلا سیشن ”پاکستان میں تھیٹر اور ڈرامے کی روایت“ کے موضوع پر تھا۔ فن ڈرامہ سے وابستہ ممتاز فنکاروں نعیم طاہر اور سلمان شاہد نے فنی و تنقیدی جائزہ پیش کیا۔ نعیم طاہر نے واضح کیا کہ تھیٹراصلاً ایک طرز زندگی ہے جو ناظرین کو سماجی شعور و آگاہی بخشتاہے۔ سلمان شاہد نے ڈرامہ کے فن پرکمرشلائزیشن کے غلبے پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ حقیقت میں ڈرامہ تخلیق کاری میں نمایاں مقام کا حامل ہے۔ پھر باری تھی مزاح نگار عطاء الحق قاسمی کی جنہوں نے ”بزبان قاسمی“ میں اپنے لطیف بیان سے حاضرین کو ادبی چاشنی سے لطف اندوز کیا۔ اپنی یادوں کے مزاحیہ چراغ جلائے اور تحریروں کے اقتباسات پڑھ کر محفل کو زعفران کر دیا۔ آخری سیشن ”پاکستانی میڈیا اور اخلاقی ذمہ داریاں“ کے موضوع پر تھا جس میں فعال علم دوست توشیبا سرور اور معروف اینکر عبدالرؤف نے سنجیدہ انداز میں گفتگو کی۔ عبدالرؤف کا کہنا تھا کہ میڈیا کی تمام اصناف اور ادب کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔ ادب سے رابطہ توڑ کر ہمارا میڈیا زوا ل پذیر ہے۔ پاکستانی میڈیا کو سماجی تشکیل کے لیے ہر صورت اپنی اخلاقی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کی ضرورت ہے۔ ریٹنگ کے لیے سنسنی نے حدود کو متاثر کیا ہے۔ جامعہ گجرات کے وائس چانسلر ڈاکٹر ضیا ء القیوم نے اختتامی خطاب میں تمام شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ادب بنیاد ی طور پر ایک سماجی عمل ہے اور انسان کے سماجی رشتوں کا سب سے اہم مظہر بن کر قوم کی روح کے اظہار کا سب سے بڑا وسیلہ بن جاتا ہے۔ گجرات ادبی میلے کا مقصد ہی یہ تھا کہ سماج اور اس کے افراد کو ادب کی سطح پر ایک دوسرے کے تجربوں میں شمار ہونے کا موقع فراہم کرنے کی روایت کو مضبوط کیاجائے۔ تاکہ لکھنے والوں اور پڑھنے والوں کے درمیان قربت کے ذریعے نئے فہم و شعور سے آشنائی ممکن ہو سکے۔ ادب و فن غیر معمولی قوت کے ذریعے ہماری ہستی کو بیدار کرکے اسے عام شعور کا حصہ بنا دیتا ہے اور اس کے ذریعے ہم زندگی کے نئے معنی تلاش کرتے ہیں۔ 

اس ادبی میلے میں شرکاء بجا طور مسرور تھے کہ عشروں بعد گجرات میں ایسی ادبی محفل سجی تھی جو سنحن فہمی کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے کے ساتھ ساتھ سنحنوری کے فروغ کا علم بھی بلند کیے ہوئی تھی۔ منتظمین تحسین و مبارک کے حقدار ٹھہرے کہ انہوں نے ادب پروری کی شمع روشن کردی ہے جس کی روشنی میں نوجوان نیا شعور حاصل کریں گے۔ اسی شعور کے ذریعے قومیں بدلتی ہیں اور یہی نئی معنویت نوجوانوں میں قوت عمل اور خواہش عمل بیدار کرتی ہے۔ مارسل پر وست نے کہیں لکھا ہے کہ ”ہماری اصل زندگی ہماری نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔ ادب کا کام یہ ہے کہ وہ اسے ہمارے سامنے لائے اور اس طرح خود ہمیں ہم سے واقف کر دے۔“بلاشبہ اسی شعور کے ذریعے ہم ایک نیا جنم لیتے ہیں۔ گجرات لٹریری فیسٹیول کے مباحث نے عیاں کر دیا کہ ادبی رویے فکری رویوں کی نشاندہی کرتے ہیں اور لکھنے والوں کی ذمہ داری، فکری رویوں کی پاسداری سے ثابت ہوتی ہے۔ اللہ کرے ہم لکھنے والوں کو اپنے رد عمل سے نواز سکیں تاکہ وہ لکھتے رہیں۔ سوچتے رہیں کیونکہ ہم سوچتے ہیں، اسی لیے تو ہم ہیں۔ 

بدھ، 29 جون، 2016

”تاریخ لکھنوال“مختصر جائزہ




افریقی نژاد، برطانوی سیاہ فام سیاسی راہنما و صحافی مارکوس گیروے نے کہا تھا کہ:  
"A people without the knowledge  of their past 
history, origin and culture is like a tree without roots."
بلا شبہ تاریخ سماج کی اجتماعی یاداشت کا دوسرا نام ہے، اگر کسی قوم کو اس کی تاریخ سے نا آشنا رکھا جائے تو وہ اپنی شناخت سے بھی محروم رہتی ہے۔ ہر قوم، ملک، شہر، قصبوں، دیہاتوں، بستیوں اور آبادیوں کی اپنی ایک تاریخ ہوتی ہے۔ شہروں اور دیہاتوں میں واقع آثار قدیمہ، کھنڈرات، خستہ و شکستہ در و دیوار، گلیاں اور خانقاہیں سب اہم تاریخی مآخذ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ پاکستان بھی تا حال دیہاتوں کا ملک ہے، دیہات آج بھی ہماری تاریخ کی زندہ اور متحرک دستاویز ہیں لیکن اسے بدقسمتی کے سوا کیا کہیے کہ ہمارے ہاں علاقوں، دیہاتوں،لوگوں اور ان کی تاریخ کی طرف کسی کا دھیان ہی نہیں۔ قومی بے حسی کا دردناک اور عبرتناک پہلو یہ ہے کہ ہمارے لوگ اور دیہات کبھی سرکاری و غیر سرکاری توجہ کا مرکز رہے ہی نہیں۔ آپ وطن عزیز کے کسی گاؤں یا علاقے میں چلے جائیے، ہمارا تاریخی ورثہ سسک سسک کر ہماری اجتماعی غفلت کا نوحہ کہتا نظر آئے گا۔ حکمرانوں کو تو چھوڑیئے، ہمارے پروفیشنل مؤرخین کوبھی اس جانب توجہ کی توفیق نہیں ہوئی .اس عدم توجہ کا نتیجہ ہے کہ ہماری تاریخ و ثقافت کا بہت کچھ اوراق پارینہ بن چکا اور بہت کچھ مٹتا جا رہاہے یا پھر مٹایا جا رہا ہے؟ یہ سب کچھ ہمارے سامنے ہو رہا ہے، لیکن اس پر ہم میں سے کسی کی رگِ حمیت نہیں پھڑکتی۔ ہماری تاریخ مر رہی ہے ,اسے صرف ایک ہی صورت میں زندہ رکھا جا سکتا ہے کہ کوئی زندہ دل اس کی طرف متوجہ ہو، اور اسے قلمبند کر دے اور یہ عوامی اور دیہاتی تاریخ تصنیف و تالیف کی شکل میں منتقل ہو کر کتابی صورت میں سامنے آئے اور آنے والوں کے لیے محفوظ ہو جائے۔ ہماری حالت امریکی ناول نگار Chuck Palahniuk کے لفظوں میں کچھ یوں ہے کہ:
"We will be remembered more for what 
we destroy than what we create."
ایسے گھمبیر حالات میں جب ہمارے محققین و مؤرخین کے موضوعات صرف روزگار کی بہتری اور جلد شہرت کے لیے محدود اور مخصوص ہو کر رہ گئے ہیں صرف کوئی دیوانہ ہی دیہاتوں کی تاریخ کی طرف توجہ دے سکتا ہے۔ ویسے بھی پہلے مرحلے پر دیہاتوں میں بکھری پڑی تہذیب و تاریخ کو دیکھنے، سمجھنے اور لکھنے کے لیے ڈگری سے زیادہ بڑی شرط اسکی اہمیت کی ”بصیرت“ کا موجود ہونا ہے جو صرف عشق والوں میں ہی ہو سکتی ہے۔ گجرات کے تاریخی گاؤں اسلام گڑھ سے تعلق رکھنے والے رائے فصیح اللہ جرال علاقائی تاریخ سے محبت کرنے والے نوجوان ہیں۔ ادب، قلمکاروں اور قلمی نسخہ جات سے فصیح کو بچپن سے ہی عشق ہے، اسی نسبت سے انہیں تاریخ میں بھی دلچسپی پیدا ہوئی۔ وہ مآخذوں اور کتابوں سے تاریخ پڑھنے کے ساتھ ”بیانیہ تاریخ“ کے علمبردار اور مبلغ بھی ہیں اور بزرگوں کے سینوں میں مدفون تاریخ کو کھنگالنے کے  شوقین بھی۔ گجرات اور نواح کی علمی، ادبی اورصوفیانہ تاریخ کے حوالے سے ان کے مضامین اخبارات، ادبی جرائد اور تحقیقی جرنلز میں شائع ہوتے رہتے ہیں۔ گذشتہ دنوں ان کی مختصر کتاب یا کتابچہ ”تاریخ لکھنوال“ کے عنوان سے پاک کشمیر لائبریری اینڈ ریسرچ سنٹر اسلام گڑھ(جلالپورجٹاں) ضلع گجرات نے شائع کیا ہے۔ لکھنوال ضلع گجرات کا تاریخی گاؤں ہے اور اپنی تاریخی و ثقافتی جہتوں کی وجہ سے ملک بھر میں خاص شناخت کا حامل ہے۔ اسی صفحات پر مشتمل اس کتابچے میں پہلے سولہ صفحات کتابچے اور قلمکار کے تعارف پر مشتمل ہیں۔ اگلے 74 صفحات کو چار ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلا باب گجرات کی تاریخ کے حوالے سے لکھی جانے والی کتب میں درج لکھنوال کے احوال پر مبنی ہے جن میں 1849ء میں شائع ہونے والی گنیش داس وڈیرہ کی فارسی کتاب ”چہار باغ“، 1868 میں چھپنے والی مرزا محمد اعظم کی ”تواریخ گجرات“،  1977 میں منظر عام پر آنے والی شیخ کرامت اللہ کی کتاب ”آئینہ گجرات“ جلد اول، سمیت ایلیٹ کی دی کرانیکلز آف گجرات، اسحاق آشفتہ کی ”گجرات کی بات“                       ، ڈاکٹر احمد حسین قریشی قلعہ داری کی تاریخ ”ضلع گجرات“، ایم زمان کھوکھر کی ”گجرات کی روحانی شخصیات اور تباہ شدہ بستیاں“ اور یونیورسٹی آف گجرات کے شعبہئ تصنیف و تالیف کا شائع کردہ ”گجرات پیڈیا“ شامل ہیں۔فصیح جرال نے محنت کے ساتھ ان کتب میں سے تاریخ لکھنوال کے تذکرے و حوالے کو جمع کر کے اکٹھا کر دیا ہے اور پھر مقامی لوگوں سے انٹرویوز ”ملٹری گزٹ“ اور ریاست جموں و کشمیر کی تاریخ کی رپورٹوں میں سے لکھنوال کے سلہری خاندان کی بازگشت بھی رقم کی ہے اور ان حوالوں کے تناظر میں اپنی رائے کا برملا اظہار بھی کیا ہے۔ اسی باب کا ذیلی عنوان 1947ء سے قبل کا لکھنوال ہے۔ اس میں لکھنوال کے تاریخی مقامات، واقعات اور نمایاں ہندو مسلم شخصیات کا ذکر کیا گیا ہے۔ دیوان لچھمن داس صوبتی کی بیٹی کی شادی کا والہانہ تذکرہ بھی ہے۔ اور پھر عالمی ریاضی بورڈ کے سابق چیئرمین پروفیسر سائیں داس ہانڈہ، پنجاب یونیورسٹی کے سابق استاد شعبہئ تاریخ پروفیسر گنپت، حکیم تارا چند صوبتی کا بھی ذکر بھی موجود ہے۔ تقسیم ہند سے قبل لکھنوال میں ہندوؤں اور سکھوں کی بڑی تعداد رہائش پذیر تھی ان کی مقدس عبادت گاہوں کو بھی قابل ذکر سمجھا گیا ہے۔ باب دوئم میں قیام پاکستان سے قبل کی مسلم شخصیات اور اس دور کے واقعات رقم ہیں۔ امیر شاہ بگا سلطان سچیاری نوشاہی قادری اور ان کے مزار کا احوال، انیسویں صدی کے ممتاز ماہر تعلیم اور اس وقت کے انسپکٹر سکولز آف ضلع خوشاب چوہدری رحمت خاں وڑائچ، چوہدری علی بخش اور محترمہ غلام فاطمہ اور باکمال استاد چوہدری فیض سرور سلطان کا ذکر ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ ممتاز تجزیہ نگار، اینکر اور صحافی محترم سہیل وڑائچ بھی اسی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ چوہدری رحمت خان سہیل وڑائچ کے نانا تھے۔ چوہدری علی بخش اور محترمہ غلام فاطمہ ان کے دادا، دادی اور چوہدری فیض سرور سلطان ان کے والد تھے۔ لکھنوال طوائفوں کا گاؤں بھی کہلاتا ہے۔ فن موسیقی او راداکاری کے حوالے سے بھی بڑے بڑے نام اس گاؤں کے باسی تھے۔ کسی زمانے میں سُر سنگیت کے حوالے سے یہاں کی ’بلو‘ اور’تلو‘ نے خوب نام کمایا۔ پنوں اللہ وسائی، لکھی سردار بھی آوازوں کی ملکہ تھیں۔ پاکستان کی فلم انڈسٹری کو بھی اس گاؤں نے نامور لوگ دیئے ادادکارہ ممتاز، تصور خانم، گلوکار خلیل حیدر، سہیل رانا، ٹرپل ایس سسٹرزکا تعلق بھی اسی گاؤں سے تھا۔ تیسرے باب میں بھی متفرق شخصیات، واقعات اور تاریخ ہی کا بیان ہے۔ ممتاز ماہر تعلیم پروفیسر خورشید عالم بھٹی، خاکسار راہنما ظفر علی بھٹی، امام الدین سیالوی، مولوی محمد علی سمیت کئی نام درج ہیں۔ چوتھے باب میں روحانی شخصیات حضرت امیر شاہ سلطان، خواجہ محمد امام الدین گجراتی، خواجہ غلام فرید گجراتی، حضرت محمد گہنے خاں، پیر برہان الدین سہروردی کا تفصیلی تذکرہ ہے اور آخر میں مآخذوں اور کتب کی فہرست ہے۔ مجموعی طور پر معلوماتی کتابچہ ہے۔ 
تاہم اس مختصر کتاب کے مطالعے کے بعد تشفی نہیں ہوتی بلکہ تشنگی بڑھتی ہے۔ یہ احساس بھی پیدا ہوتا ہے کہ یہ کتاب بہت جلد بازی میں شائع کی گئی ہے۔ جمع شدہ مواد کو بھی مزید بہتر انداز میں پیش کیا جا سکتا تھا اور پھر لکھنوال کا نام سنتے ہی جن موضوعات سے دلچسپی پیدا ہوتی ہے ان کا تذکرہ بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس کتاب میں لکھنوال کی فنی اور ثقافتی جھلک نظر نہیں آتی۔ لکھنوال کے باسیوں کے امتیازی رہن سہن، رسوم و رواج، تعمیر و تزئین، عمارتوں، گلیوں، حویلیوں اور بالکونیوں اور ان کے ذریعے پنپنے والی ثقافت کے حوالے سے مزید کام کرنے اور لکھنے کی ضرورت تھی۔ فصیح جیسے جواں عزم سے ہی توقع کی جا سکتی ہے کہ اس کی کتاب کا دوسرا ایڈیشن مطلوبہ اضافوں کے ساتھ ہو گا۔ لکھنے کے لیے ضروری ہے کہ ماضی کو کریدنے کے ساتھ اسے سمجھ کر جہاں تک قدرت حاصل ہو سچائی کی روشنی میں لکھا جائے۔ رائے فصیح جرال اس کام پر مبارکباد کے مستحق ہیں اور ہمارا فریضہ ہے کہ ہم اس کے کام میں سے کیڑے نکالنے کی بجائے اس کی بھرپور حوصلہ افزائی کریں تاکہ یہ باہمت اور جذبے کا حامل لکھاری بہتر سے بہتر لکھتا جائے۔ فصیح جرال کو علاقے کی تاریخ سے عشق ہے اور وہ جذبے سے کام کرتا ہے۔ تھپکی اس لیے بھی ضروری ہے کہ جذبے کا حامل لکھاری ہی کچھ لکھ سکتا ہے۔ بیانیہ تاریخ کے حوالے سے مستند لکھاری برطانوی مؤرخہ اور تاریخ کی استاد  C.V Wedgwood درست کہتی ہیں کہ: 
"Without passion there might be no error, 
but without passion there would certainly 
be no history."


جمعرات، 23 جون، 2016

روزہ، پیروی د ین کا ایک اہم تقاضا ہے



حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت کہ فرمان نبویؐ ہے کہ آدمی بظاہر نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج و عمرہ کا عمل کرتا ہے۔ حتیٰ کہ آپؐ نے تمام اعمال ِخیر کا ذکر کیا۔ پھر حضور نبی رحمتؐ نے فرمایا، مگر قیامت کے دن وہ صرف عقل کے بقدر اس کا بدلہ پائے گا۔ اس حدیث نبویؐ میں عقل کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ عقل سے مراد فہم و شعور ہے۔ اس کے معنی یہ ہوئے کہ آدمی ذکر و عبادت کے اعمال تو کرتا ہے مگر ان اعمال کا اجر ان کے فارم یا کمیت کے اعتبار سے نہیں ملتا بلکہ عمل کی روح کے اعتبار سے دیا جاتا ہے۔ آدمی نے جس درجہ شعور کے ساتھ عبادت کی ہو گی اسی درجہ شعور کے اعتبار سے اس کے عمل کا انعام مقرر کیا جائے گا۔ مثال کے طور پر ایک آدمی عبادت کرتا ہے لیکن قرآن حکیم کے مطابق سہو یعنی غیر حاضر دماغی سے عبادت کرتا ہے تو وہ عبادتی افعال تو کر رہا ہوتا ہے لیکن عقل و شعور کے اعتبار سے وہ حالتِ غفلت میں ہوتا ہے۔ رسم عبادت ادا کرنے والا ایسا آدمی صرف غیر مطلوب عبادت کرتا ہے۔ ذکر و عبادت کی مطلوب اور حقیقی صورت وہ ہے جب عبادت کرنے والے کا وہ حال ہو جائے جیسا قرآن مجید کی سورہ انفعال میں ہے کہ خدا کی یاد سے اس کا دل دہل اُٹھے یا سورۃ الزمر کے لفظوں میں اسکے جسم کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں ایسا آدمی ہی زندہ اور حرکی شعور کے ساتھ عبادت کا عمل کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے یہاں بڑے بڑے انعامات اس کو دئیے جائیں گے جس نے زندہ شعور کے ساتھ ذکر وعبادت کا عمل کیا۔ 
ماہِ صیام ہے اس میں روزہ ہی کو لے لیں۔ سورۃ بقرہئ میں ہے کہ تم پر روزے فرض کیے گئے تاکہ تم متقی بن سکو۔ یعنی روزہ اس لیے رکھاجائے کہ پرہیز گار بنا یا جا سکے۔ اس حکم قرآن سے ایک بات واضح ہوئی کہ جو روزہ نہیں رکھتا وہ ہدایت یافتہ نہیں ہو سکتا۔ جتنی عبادتیں ہیں ان میں ہم کچھ نہ کچھ کرتے ہیں، نماز پڑھتے ہیں، حج کرتے ہیں تو وہ نیکی میں شمار ہوتا ہے۔ جتنی عبادتیں ہم پر فرض ہیں ان سب کا تعلق نیکو کاری سے ہے سوائے روزے کے۔ کیونکہ روزہ نیکو کاری سے آگے پرہیز گاری میں آتاہے۔ روزہ کچھ کرنے کا نام نہیں بلکہ کچھ چیزوں سے رُک جانے کا نام ہے۔ روزہ روح و جسم میں سال بھر میں پیدا ہو جانے والے فسادی عناصر کے خاتمہ کے لیے اینٹی بائیو ٹک ہے یہ گناہوں سے بچنے کے لیے سالانہ ویکسینیشن ہے۔ یہ تربیتی کو رس ہے متقی بننے کے لیے۔ یہ محض بھوک، پیاس کی سالانہ رسم نہیں ہے۔ آپ نے سرکس میں دیکھا ہو گا کہ شیر جیسا خونحوار جانور کس طرح مالک کے اشاروں پر آگ کے پہیوں میں سے گذر جاتا ہے۔ گلی محلوں میں لوگ ریچھ کو لیے پھرتے ہیں یہ درندہ مالک کے اشاروں پر ناچتا ہے۔ سدھانے سے، تربیت سے درندہ فرمانبردار ہو جاتا ہے۔ لیکن کبھی آپ نے سوچا درندوں کو سدھایا کیسے جاتا ہے کہ وہ فرمان برداربن جاتے ہیں۔ معلوم کرنے پر پتہ چلے گا کہ سدھانے والا پہلے ان جانوروں کو بھوکا رکھتا ہے اور بھوک میں سدھاتا ہے۔ بھوک اور فرمانبرداری لازم و ملزوم ہیں یعنی فرمانبرداری آپ نے اختیار کرنی ہے۔ متقی بننا ہے تو بھوک و پیاس کے بغیر ممکن نہیں۔اسی لیے تمام اُمتوں پر روزے فرض کیے گئے لیکن یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ اس تربیتی کورس میں بھوک و پیاس تربیت کا ذریعہ ہے مقصد نہیں۔ اس کے ذریعے بھوک و پیاس کے تجربے سے گزارنا مقصود ہے تاکہ تربیت کی جا سکے اور یہ اخلاقی ڈسپلن و ضبط کا سالانہ تربیتی پروگرام ہے۔ اللہ کی رضا کے لیے اپنی خواہشوں پر روک لگانا ہی پرہیز گاری ہے۔ اسلام اور ایمان کے معنی بھی یہی ہیں کہ آدمی خدا کی منع کی ہوئی چیزوں سے رُک جائے۔ روزہ ہر سال یہی سبق یاد دلانے کے لیے فرض کیا گیا ہے۔ بلاشبہ وہ نیکی بڑی معتبر ہے جس کا رب کے سوا کوئی گواہ نہ ہو۔ روزے کے اعلیٰ درجے کو حاصل کرنے کے لیے آدمی کو چاہیے کہ وہ شعوری طور پر اپنے آپ کو غیر متعلق چیزوں میں مشغول ہونے سے بچائے۔ 
روزہ میں آدمی کو خود عائد پابندی کی وجہ سے بھوک و پیاس کے تجربے سے گذرناہے تاکہ تقویٰ کے معیار کو پا سکے۔ لیکن ہم رمضان میں پہلے سے زیادہ کھاتے ہیں،ہماری خوراک بڑھ جاتی ہے کچھ لوگ کہتے ہیں اس لیے کہ حدیث ہے کہ رمضان میں مومن کا رزق بڑھا دیا جاتا ہے۔ بس اسی آڑ میں ہم کھائے جاتے ہیں۔ حالانکہ یہ روح رمضان کے خلاف ہے۔ کیونکہ اس حدیث میں رزق بڑھنے سے مراد خوراک میں اضافہ نہیں ہے، روزے کا تو مقصد ہی بھوک و افلاس کا تجربہ کرنا ہے روزے تو پہلی اُمتوں پر بھی فرض ہوئے۔ حضرت آدمؑ پر بھی فرض ہوئے ان کے دور میں تو خوراک ایسی تھی ہی نہیں صرف پھل کھائے جاتے تھے۔ 
رزق بڑھنے کے روحانی معنی معرفت میں اضافہ کے معنوں میں ہے۔ قانون فطرت ہے کہ انسان کو جب شاک پہنچتا ہے تو اس کا دماغ متحرک ہو جاتا ہے۔ جب ہمیں بھوک لگتی ہے تو ہمارے تمام حواس بیدار ہو جاتے ہیں۔ تخیل کی بے پناہ قوت پیدا ہو جاتی ہے۔ بڑی بڑی باتیں سامنے آتی ہیں، انکشاف ہوتے ہیں۔ بھوک و پیاس کا تجربہ دراصل انسان کی تخلیقی فکر بڑھانے کے لیے ہے۔ اس سے انسان کی روحانی غذا میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ حضرت آدم ؑ کوجنت ملی تو باغات کے ہجوم میں اسے ایک پھل کھانے سے روک دیا گیا۔ آدم ؑنے یہ پابندی خود پر عائد کر لی۔ یعنی وہ جنت میں حالت روزہ میں تھے مگر اُنہوں نے جب یہ پابندی توڑی تو جنت سے نکال دئیے گئے۔ یہ واقعہ آج بھی پیغام دیتا ہے کہ جو اللہ کی لگائی ہوئی روک پر رُک جائے گا وہی جنت میں جائے گا۔ جو روکنے پر بھی نہیں رُکے گا، پرہیز گار نہیں ہوگا، نافرمان ہو گا، جنت اسکے لیے نہیں ہے۔ 
روزہ رکھتے ہوئے ہم شعوری طور پر اس کا فہم بھی رکھتے ہیں۔ کیا ہماری بھوک و پیاس کسی تخلیقی فکر کو جنم دیتی ہے۔ ہمارا احساس بیدار ہوتا ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہمارا قلب اطاعت و فرمابنرداری کی طرف مائل ہوتا ہے۔ فرمان نبوی ؐ ہے کہ اللہ کے نزدیک صرف وہ روزہ مقبول ہے جو ایمان و احتساب کے جذبے کے ساتھ رکھا جائے۔ حدیث ہے کہ تم میں سے کوئی روزہ سے ہو تو بدکلامی اور فضول گوئی نہ کرے۔ نہ شور و شر کرے۔ کوئی اگر اس کو گالی دے اور لڑنے اور جھگڑنے پر آمادہ ہو تو یہ کہہ دے کہ میں روزے سے ہوں۔ 
حضرت ابوعبیدہؓ سے روایت ہے کہ حضورؐ نے فرمایا روزہ ڈھال ہے جب تک اس کو پھاڑ نہ دیا جائے۔ وسط میں سوال آیا، کس سے پھاڑ دے۔ ارشاد ہوا، ”جھوٹ یا غیبت سے“ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ روزہ رکھتے ہوئے یہ یاد رکھیں کہ اس تربیتی کورس سے مجھے سال بھر غلط کاریوں سے بچنا ہے، وعدہ خلافی نہیں کرنی، ناجائز منافع نہیں کمانا، کسی کا حق نہیں مارنا، کسی کا رزق نہیں چھیننا، کوئی لڑے بھی تو اس سے لڑائی نہیں کرنی۔ فرض دیانتداری سے ادا کرناہے۔ مجھے ماہِ صیام میں اپنا عزم اور حوصلہ مستحکم کرنا ہے تاکہ میں سارا سال نیکیوں کے موسم بہار کی مہک پھیلاتا رہوں۔ عام طور پر ہمارا روزہ محض دن بھر کی بھوک و پیاس کا نام بن کررہ جاتا ہے،کیونکہ یہ رسم بن کر رہ گیا ہے اس میں ہمارے شعور کا عمل دخل نہیں ہوتا۔ ہمیں سمجھنا ہوگا کہ اس ماہ کے تربیتی کورس کے ثمرات سارے سال پر محیط ہونے چاہئیں۔ اگر ہم تربیتی کورس مکمل کرنے کے دعوے کے باوجود سال بھر اس پر عمل پیرا ہونے میں نا کام رہیں تو کیا کسی فیل ہو جانے والے کو انعام سے نوازا جا سکتا ہے؟
عرض یہ ہے کہ ہمیں اپنی ریاضت و عبادت کو اپنے شعور کا حصہ بنانا ہے۔ فکرو اجتہاد سے۔ قرآن حکیم میں اللہ تعالیٰ نے مطیع و فرمانبردار بندوں کی صفت یہ بیان کی ہے کہ وہ آیات الٰہیہ کی کورانہ تقلید نہیں کرتے۔ یعنی وہ ان پر حکیمانہ غور کرتے ہیں۔ سورۃ الاسراء میں ہے کہ اورجو کوئی اس دنیا میں اندھا رہا، وہ آخرت میں اندھا رہے گا۔ اور راستے سے یک قلم بھٹکا ہوا۔ ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے ہاں روح عبادت سے آشنائی کے لیے کوئی ذہنی بیداری کا درس نہیں دیتا ہے۔ کوئی ادارہ یا تحریک نہیں جو art of thinkingفن تفکّر کی روشنی میں ہماری فکر ی راہنمائی کرے۔ کوئی قرآنی پیغام عام نہیں کرتا کہ تم تفکر نہیں کرتے، عقل سے کام نہیں لیتے۔ انعام اور اجر کے لیے لازم ہے کہ ہماری عبادت میں ہمارا شعوری حصہ بھی ہو۔ 
علامہ ابن القیم ؒنے روزہ کے اسرار و مقاصد پر یوں روشنی ڈالی ہے کہ ”روزہ جوارح ظاہری اور قوائے باطنی کی حفاظت میں بڑی تاثیر رکھتا ہے۔ فاسد مادہ کے جمع ہو جانے سے انسان میں جو خرابیاں پیدا ہو جاتی ہیں اس سے وہ اس کی حفاظت کرتا ہے،جو چیزیں مانع صحت ہیں ان کو خارج کر دیتا ہے اور اعضاء و جوارح میں جو خرابیاں ہواوہوس کے نتیجہ میں ظاہر ہوتی رہتی ہیں و ہ اس سے دفع ہوتی ہیں، و ہ صحت کے لیے مفید اور تقویٰ کی زندگی اختیار کرنے میں بہت ممدو معاون ہے۔“

سوموار، 13 جون، 2016

انسان کون ہے۔۔۔؟


کہاجاتا ہے کہ جن دنوں روسی ناول نگار گوگول پیٹرز برگ میں بے کاری کے دن گزار رہا تھا۔ پشکن کی سفارش پر اسے یونیورسٹی میں لیکچرر کی نوکری مل گئی۔ مگر وہاں گوگول ایک لیکچر دے کر بھاگ گیا اور دوبارہ یونیورسٹی نہیں گیا۔ پشکن نے وجہ پوچھی تو کہنے لگا”جتنا مجھے آتا تھا میں نے پڑھا دیا۔ اب میرے پاس کہنے کو کچھ نہیں، وہاں جا کر طالبعلموں کو کیا پڑھاؤں گا۔“ میں نے بھی علمی ذوق کے حامل اورکتاب دوستی کے پیامبر دانشور دوست پروفیسر میاں انعام الرحمن سے اپنی کم مائیگی اور نالائقی کا تذکرہ کیا اور پڑھنے لکھنے سے معذرت چاہی۔ مگر کیا کیا جائے کہ میاں صاحب مبالغہ کی حد تک ”بابرکت“ شخص ہیں اور حلقہئ یاراں میں ان کا شمار ایسے افراد میں ہوتا ہے کہ جن سے کسی بھی نشست و گفتگو کے بعد علمی تشنگی بڑھ جاتی ہے وہ جب بھی گوجرانوالہ سے تشریف لاتے ہیں، کتابوں کی باتیں کرتے ہیں اور کتب بینی کا درس دیتے ہیں۔ گذشتہ دنوں آئے اور بڑی محبت سے عالمی شہرت یافتہ یہودی مذہبی و روحانی سکالر ابراہام جوشو اہیشل کی کتابWho is Man?کا اُردو ترجمہ عنایت کیا، اور اپنے مخصوص علمی انداز بیاں سے کتاب، صاحب کتاب اور مترجمین کا تعارف بھی کروایا اور مجھے کتاب پڑھنے کی ”دعا“ بھی دی۔ میں نے کتاب لی،شکریہ ادا کیا اور پھرمیری نظر ٹائٹل پر ہی ٹھہر گئی ”انسان کون ہے؟“ اور دیگر تحریریں، تقدیم و ترجمہ، قیصر شہزاد، عاصم بخشی۔ سادہ مگر بامعنی ٹائٹل ایک راسخ العقیدہ روحانی عالم کی انسان بارے سوچنے اور فکر کرنے کی جسارت کا عکاس دکھائی دیا۔ میں نے ورق اُلٹنے شروع کیے اور پھرمیری بے قراری سطر سطر بڑھتی گئی۔صفحہ نمبر366پر پہنچا تو لگا ابھی تو شروع کیا تھا۔ فکر، تجزیے، روحانیت سے بھرپور تحریر اور محبت،محنت کے امتزاج سے قابل فہم ترجمہ نے مزہ دو آتشہ کر دیا۔”انسان بیک وقت باقی نامیاتی فطرت کا حصہ بھی ہے اور روح الہٰی کے لا متناہی فیضان کا بھی۔ دائرہ وجود میں ایک اقلیت ہوتے ہوئے اس کا مقام خدا اور درندوں کے درمیان کہیں ہے۔ تنہا رہنے کی صلاحیت سے محروم ہونے کے باعث اسے ان دونوں میں سے کسی ایک سے مل جانا ہو گا“۔
والٹیر نے کہا تھا کہ خدا نے انسان کو اپنی صورت پر بنایا تھا اور انسان نے اس کے جواب میں خدا کو اپنی صورت کے مطابق بنا لیا۔ جی ہاں!خدا، کائنات اور انسان کی تثلیت میں انسان کی اہمیت مسلم ہے۔ قرآن مجید ”والناس“ پر ختم ہوتا ہے اور انسان کے معنی آنکھ کی پتلی کے بھی ہیں۔ گویا انسان کائنات کی آنکھ ہے جس کا نورحق ہے کہ خدا کا عرفان اور کائنات کی پہچان انسان کے وجود سے ہی وابستہ ہے۔ اس یہودی روحانی عالم کے قلم و فکر میں بھی ہمیں خدا انسان کی تلاش میں نظر آتا ہے۔375صفحات پر مشتمل اس کتاب کو مکتبہئ اشارات اسلام آباد نے شائع کیا ہے۔ فلسفے کے استاد ڈاکٹر قیصر شہزاد اور ڈاکٹر عاصم بخشی نے اسے اُردو کے قالب میں ڈھالا ہے۔ دونوں مترجمین نے بیسویں صدی کے اہم دانشوروں کی اہم تحریروں کو اُردو میں منتقل کرنے کے جس کارِخیر کا آغاز کیا تھا یہ کتاب اس کی اہم کڑی ہے۔ اس کتاب میں ابراہام جوشوا ہیشل کی کتاب ”انسان کون ہے؟“ اور ان کی مختلف کتابوں سے منتخب کردہ گیارہ مزید اجزاء کا ترجمہ کرکے کتاب میں شامل کیا گیا ہے۔ ہیشل کے فراہم کردہ حواشی آخر میں دئیے گئے ہیں جبکہ مترجمین کے توضیحی تبصرے فٹ نوٹس میں ساتھ ساتھ موجود ہیں۔ کتاب کے آخر میں ہیشل کی تحریروں اور انکی فکر پر کیے گئے تحریری کام کی مختصر کتابیات کی فہرست بھی دی گئی ہے۔ فہرست میں پہلے حصے میں ہیشل کی تحریروں کی فہرست ہے جبکہ دوسرے حصے میں ہیشل کے حوالے سے لکھی جانے والی چودہ تحریروں کی فہرست دی گئی ہے۔ ڈاکٹر قیصر شہزاد نے کمال مہارت سے26صفحات کے جامع مقدمہ میں مصنف، اسکی شخصیت اور فکر کا بھرپور تعارف کروایا ہے۔ یہ مقدمہ جہاں ہیشل کی فکر و خدمات کا بھرپور احاطہ کرتا ہے وہیں ڈاکٹر قیصر شہزاد جیسے فلسفے کے استاد کی فکری و قلمی مہارت کا عکاس بھی ہے۔ آخر میں ڈاکٹر عاصم بخشی نے تجزیاتی انداز میں مطالعہئ ہیشل کے حوالے سے چند معنی خیز گذارشات بھی رقم کی ہیں۔اُردو کتاب کی ایک اور خاص بات یہ ہے کہ پیش لفظ مصنف کی بیٹی سوزانہ ہیشل نے لکھا ہے جو خود ڈار ٹماؤتھ کالج امریکہ میں شعبہئ مذاہب کی پروفیسر ہیں اور لکھتی ہیں کہ ”میرے والد نے ایک ایسے ماحول میں درس و تدریس کے فرائض انجام دئیے جہاں مسلمان علماء کے ساتھ ان کے بہت کم روابط ہو سکے۔ البتہ وہ عربی زبان سے واقف تھے اور انہوں نے ازمنہ وسطیٰ کے یہودی اور مسلمان فلسفیوں پر کام بھی کیا۔ موسیٰ ابن میمون کی سوانح لکھتے ہوئے انہوں نے اسلام کا ذکر مدح و توصیف کے ساتھ کیا اور اسکے توحید قطعی کے نظریہ اور ہر طرح کے شرک کی مخالفت پر کھل کر تعریف کی۔ یہ جان کر ان کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ ہوتا کہ انکی تحریریں پاکستان کے مسلمان قارئین تک پہنچ رہی ہیں اور مجھے معلوم ہے کہ وہ اپنے مسلم قارئین سے مل کر بہت خوش ہوتے“۔ وہ مزید لکھتی ہیں کہ ”تاریخ کے دائرے میں ایک ایسا کام کر جانا جو مراد خداوندی کی تکمیل کا راستہ ہموار کرے۔ تاریخ کے تاریک اور خطرناک زمانہ حال میں، جب کہ ایمان و مذہب کو کئی طرح کی تحریفات کا سامنا ہے،یہ اہم کتاب اردو میں سامنے لائی جا رہی ہے۔“
ترجمے سے محبت کرنے والے مترجمین کی یہ کاوش یاد دلاتی ہے کہ یورپ نے اپنی نشاۃ ثانیہ کے دوران ترجمہ کاری کے ذریعے ہی یونانی اور اسلامی فکر و فلسفہ، فکری تحریکوں، سماجی رویوں، تاریخ و سیاست اور سائنس و طب سے متعلقہ صدیوں پر مبنی علمی و فکری ورثہ کو اپنے ہاں منتقل کیا۔ یہ بات بجا طور پر کہی جا سکتی ہے کہ ترجمہ کاری کا فن نہ ہوتا تو شاید مختلف علوم ارتقائے انسانیت میں کردار ادا کرنے سے محروم رہتے۔ تھیالوجی جیسے خشک موضوع سے تعلق رکھنے والی کتاب کا ترجمہ مشکل کام ہے،تاہم اس کتاب کے مطالعے سے واضح ہوتا ہے کہ مترجمین ادراک رکھتے ہیں کہ ترجمے میں الفاظ کا صحیح استعمال بڑی اہمیت رکھتا ہے، اگر مترجم ایسا کرنے میں ناکام رہے تو مرکزی خیال، مجموعی تاثر اور خیال کی شدت تینوں متاثر ہو سکتے ہیں۔ ڈاکٹر قیصر شہزاد اور ڈاکٹر عاصم بخشی کی کاوش قابل تحسین ہے کہ مترجمین لفظوں کے سیاق و سباق سے آشنائی کی بدولت رواں، قابل فہم اور با مقصد ترجمہ کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔ ڈاکٹر عاصم بخشی کے اپنے الفاظ میں ”شاعرانہ، صوفیانہ، فلسفیانہ اور ادبی روایت کی امین، اردو جیسی ایک نسبتاًجدید زبان میں ہیشل کا ترجمہ شاید ہمیں کچھ ایسے نئے اور نادر زاویے کھولنے میں مدد دے جن سے مغربی جدیدیت سے متاثر مشرقی ذہن نہ صرف اپنی روایت کا تازہ احیاء کر سکے بلکہ تہذیبی روایتوں کا ملاپ بھی ممکن ہو، یہ اس لیے بھی اہم ہے کہ شاید اب ہم تاریخ کے اس نازک موڑ پر کھڑے ہیں جہاں تہذیبی روایتوں کے دم توڑتے معرکوں سے زیادہ ہمیں انسان اور ایک عالمگیر ابھرتی تہذیب کی راہ متعین کرانے کی ضرورت ہے“۔ 
کتاب کے کل بارہ ابواب میں سے تین ابواب کا ترجمہ ڈاکٹر قیصر شہزاد نے کیا ہے جن میں ”نبی کس طرح کا انسان ہوتا ہے؟“، ”انسان کون ہے؟“ اور ”ہم مل کر کیا کر سکتے ہیں؟۔“جبکہ نو ابواب، ”دعا بطور نظام حیات“، ”الہٰیات عمق“، ”تین نکاتِ آغاز“، ”ارفع“، ”سرّ“، ”ایک وجودیاتی مفروضہ“، ”انفعال خداوندی“، ”مذہب: آزاد معاشرے میں“، ”ابن میمون کے آخری ایام“، کا ترجمہ ڈاکٹر عاصم بخشی نے کیا ہے۔خوبی یہ ہے کہ دوران مطالعہ یہ کم مواقع پر کھٹکتا ہے کہ مختلف ابواب کا ترجمہ مختلف قلمکاروں کی سعی ہے۔ یہ دونوں مترجمین کی قلمی یکجہتی اور فکری محبت کا ثبوت ہے۔  
مارٹن بیوبر یا کانٹ کے انسان کے بارے اٹھائے گئے فلسفیانہ سوالوں یا مباحث کے برعکس ہیشل نے ابتداء ہی میں واضح کر دیا کہ انسان کون ہے؟ کوئی سوال نہیں بلکہ ایک مسئلہ ہے۔ سوال تو کم علمی یا تجسس کی کوکھ سے جنم لیتا ہے لیکن مسئلہ ضرورت سے زیادہ جاننے اور علم میں محسوس ہونے والے داخلی تعارض سے پیدا ہوتا ہے۔ ہیشل تصور انسان کے تاریخی تناظر کا علمی جائزہ لیتا ہے۔ اور آخر میں مارٹن ہائیڈیگر اور وجودیت کے فکری پس منظر سے تعلق رکھنے والے مفکرین کے تصور انسان کو ہدف تنقید بناتا ہے۔ ان سے ہیشل کا اختلاف یہ ہے کہ یہ انسان کو بے نام، بے چہرہ اور بے حس وجود کا ایک پہلو قرار دیتا ہے۔ اس کے نزدیک انسان کا اہم مسئلہ اس کا ”ہونا“ نہیں اسکا ”جینا“ ہے۔ ہیشل انسان کا تعلق مردہ یا   لا تعلق ماورائیت سے جوڑنے کی بجائے ”خدا“ کی زندہ ماورائیت سے جوڑتا ہے اور اسے الوہی انداز میں جینے کی تعلیم دیتا ہے۔ عمیق نظروں سے مطالعہ کیا جائے تو ہیشل کا تصور انسان فلسفیانہ اور منطقی حوالے سے بھی اپنے معاصرین کے تصور انسان پر سبقت لے جاتا ہے۔ تاہم خود انسان کو اس حوالے سے غور و فکر کی ضرورت ہے۔ بیدل نے کیا خوب کہا تھا کہ دونوں عالم خاک ہوئے تب کہیں انسان کا نقش بنا۔ اے انسان، اے بہار نیستی اپنی قدر کو پہچان؟ ایسا ہی پیغام ہیشل کا ہے وہ لکھتا ہے ”کائنات تو مکمل ہو چکی ہے، لیکن شاہکار ابھی نامکمل ہے اور ابھی بھی تاریخ کے اندر تخلیق کیا جا رہا ہے۔ خدا کے عظیم تر منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے انسان کی ضرورت ہے…… زندگی،مٹی اور پارسائی وہ سانچہ ہے جس میں خدا تاریخ کی تشکیلِ جدید چاہتا ہے…… خدا رحمت اور پارسائی کا حکم دیتا ہے اور اس کا یہ حکم محض عبادت گاہوں میں ہی نہیں بلکہ تاریخ اور زمانے میں ہی بجا لایا جاسکتا ہے۔ خدائی مشن کی تکمیل انسان صرف تاریخ کے اندر ہی کر سکتا ہے“
یہ کتاب تشنہ ذہنوں کی پیاس بجھانے کے لیے نہیں بلکہ فکری اور روحانی تشنگی بڑھانے کے لیے ہے۔ ایسے میں جب دنیا ایک روحانی صحرا بن چکی ہے۔ انسان اس کرب سے نکلنے کے کسی راستے اور انسان ہونے کی کسی نئی معنویت کے متلاشی ہیں۔ کیا انبیاء کے پیغام کو زندہ رکھنے کے دعویداروں سے کسی مدد کی توقع کی جاسکتی ہے؟ یا پھر کسی موجود کو ”انسان“ کہلانے کے قابل کیا شے بناتی ہے؟ میں ہوں! مگر یہ ”میں“ کون ہے؟  اور ”ہونے“ سے کیا مراد ہے؟۔ مذہب کہاں مل سکتا ہے؟ ایسے ہی بہت سوال اس کتاب میں اٹھائے گئے تاکہ انسان فہمی کو کائنات کے وسیع تناظر میں پرکھا جا سکے۔ ایسے ہی بہت سے سوال جو آج کے دور کے انسان کو در پیش ہیں اور ہم سب کی توجہ کے طالب ہیں 
یہ کتاب پڑھتے ہوئے مجھے علامہ اقبال کے خطبات بہت یاد آئے۔ آج بھی ہمیں فہم انسان و مذہب کے لیے فکری تغیراور مذہبی افکار کی تشکیل جدید کی اشد ضرورت ہے۔ایسے میں اس کتاب کا اردو ترجمہ اور اس کا مطالعہ ایک اہم بات ہے۔ یہ کتاب مذکورہ مضامین کے حوالے سے پختہ فکر بحث میں معاون ہو سکتی ہے۔ ہیشل کے خیال میں بین المذاہب سرگرمی کی شرط اول ہی ایمان ہے۔ اہل مذاہب کو مکالمہ عقاید پر مباحثے کی نیت سے نہیں بلکہ ”الہٰیات عمق“ کی سطح پر کرنا چاہیے۔ ہیشل کے مباحث سے مذہبی فکر نو کی امید بھی جنم لیتی ہے۔ مذہبی اور فلسفیانہ موشگافیوں کی تاریخ سے آشنائی کے باوجود وہ مایوس آدمی نہیں تھا۔ وہ سچے اور کھرے مذہبی انسان کی طرح پُر امید شخص تھا۔ اس کی تحریروں کے مطالعے سے یہ بھی اخذ ہوتا ہے کہ مذہبی انسان کبھی مایوس نہیں ہوتا۔ امید ہی تغیر کی جان ہے،شاید اسی لیے وہائیٹ ہیڈ نے کہا تھا کہ ”زندگی کو مستقل طور پر ایک ہی قالب میں محبوس رکھنا نا ممکن ہے۔ اس لیے مذہب کو بھی سائنس کی طرح بدلتے ہوئے تقاضوں کا لحاظ رکھنا پڑے گا۔ اس کے اصول ابدی ہو سکتے ہیں۔ لیکن ان اصولوں کی تعبیرات تو حالات کے ساتھ بدلتی رہیں گی“۔