بدھ، 1 فروری، 2017

پہلا گجرات لٹریری فیسٹول

دوسری جنگ عظیم کے زمانے میں جب نازیوں نے پیرس پر قبضہ کرکے اپنے مخالف ادیبوں، دانشوروں اور مفکروں کو گرفتار کر لیا تو ان کے لیے سزا یہ تجویز کی گئی کہ سب کو الگ الگ کوٹھڑیوں میں بند کرکے ہر کوٹھڑی میں ایک لاؤڈ سپیکر لگا دیا گیا جس پر ان کے لیے خاص پروگرام نشر کیے جاتے تھے۔ ایسے پروگرام جن سے انہیں ذہنی اذیت پہنچے۔ وہ سن سکتے تھے، بول نہیں سکتے تھے، جواب نہیں دے سکتے تھے۔ کچھ عرصہ تک یہ پروگرام نشر ہوتے رہے لیکن جلد ہی ان پروگراموں کے لکھنے والے تھک گئے اور انہوں نے اس کی وجہ یہ بتائی کہ سننے والوں کا رد عمل معلوم ہوئے بغیر ان کا قلم جواب دے گیا ہے۔ آخر گونگوں کے لیے کب تک اور کیسے لکھا جا سکتا ہے؟ سوچ تو ردّعمل کی فضا میں آگے بڑھتی ہے۔ جب یہ رشتہ کمزور پڑ جائے تو فکر و خیال کے دروازے بند ہو جاتے ہیں۔ ہمارے لکھنے اور پڑھنے والے کے درمیان ابلاغ کمزور ہونے سے ہم زندگی کی ہر سطح پر ایک تھکا دینے والے بحران سے گزر رہے ہیں۔ زندگی میں ہم نے نصب العین اور معنویت کو گم کر دیا ہے۔ ہماری نئی نسل سرگرداں و پریشان ہے اور سماج برسات کے پانی کی طرح،نالیاں نہ ہونے کے باعث سٹرکوں پر مارا مارا پھر رہا ہے اور جدھر راستہ ملتا ہے، بہہ نکلتا ہے۔ فکری بحران اوربے معنویت کے ابھارنے سب سے زیادہ نقصان ادب وفن کا کیا ہے۔ شعر و ادب اور فنون لطیفہ کی تخلیقی قوتیں اس سے بجھ سی گئی ہیں۔ تخلیق و تحریر جیسی قدریں بے معنی ہو گئی ہیں۔ آج ہمارا ادب و فن مستقبل کے عقیدے سے محروم ہے اور ہمارے لکھنے والے کے پاس نئی نسلوں کو دینے کے لیے آنے والے زمانے کا کوئی خواب نہیں ہے۔ ایسی گھمبیر صورتحال میں وقت کا اہم ترین تقاضا ہے کہ ہماری یونیورسٹیاں آگے بڑھیں اور اہل قلم اور نسل نو کے درمیان ابلاغ کے فروغ کے لیے گفتگو اور مکالمے کا پلیٹ فارم فراہم کریں تاکہ اعلیٰ تعلیم کے مقاصد کا عملی سماجی اطلاق ممکن ہو سکے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے سنجیدہ فکر قائد ڈاکٹر مختار احمد کی فکری کاوشیں رنگ لانے لگی ہیں اور ہماری جامعات کے جوا ں عزم وائس چانسلرز نے متحرک کردار ادا کرنے کی ٹھان لی ہے۔ اسکی ایک مثال عصری چیلنجوں سے ہم آہنگ جدید تعلیمی و فکری وژن کے حامل یونیورسٹی آف گجرات کے خوش خیال وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ضیاء القیوم کی ہے انہوں نے قائدانہ بصیرت سے جامعہ گجرات کو دانش گاہ کی شناخت فراہم کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔ گزشتہ دنوں انہوں نے ایک تاریخ ساز ادبی روایت کے آغاز کا فریضہ سرانجام دیا اور سنحنوروں کی بستی کہلانے والے گجرات کو ”پہلے گجرات ادبی میلہ“ کی روشنی سے منور کرکے گجرات کی قدیم شناخت کی ”نشاۃِ ثانیہ“ کا آغاز کیا۔ اس زرخیز ادبی سرزمین نے نامور اہل قلم کو جنم دیا۔ فارسی شاعر غنیمت کنجاہی سے پنجابی کے نامور شاعر و محقق شریف کنجاہی تک ممتا ز شعراء، ناول نگاروں، کہانی کاروں اور نثر نگاروں نے اس دھرتی کامان بڑھایا۔ حضرت نوشہ گنج سے ڈاکٹر شاہین مفتی تک شعرو ادب کے ایسے ایسے بطل جلیل گجرات کی سرزمین سے فیض یاب ہوئے کہ سرسید احمد خاں نے گجرات کی علمی وتعلیمی خدمات کے اعتراف میں اسے ”خطہئ یونان“ کے لقب سے نوازا۔ ایسے ہی اہل علم و ادب کی خدمات کے اعتراف اور انہیں خراج تحسین پیش کرنے کے لیے شیخ الجامعہ نے نہ صرف محترمہ توشیبا سرور کی ادب دوستی کی معاونت سے یونیورسٹی آف گجرات میں بھرپور انداز میں پہلے گجرات لٹریری فیسٹیول کا اہتمام کیا بلکہ ببانگ دہل اسے سنحنوران گجرات کے نام بھی کیا۔ 

  

جامعہ گجرات کے ادب دوست کنسلٹنٹ حیدر معراج اور ڈائریکٹر سٹوڈنٹس سروسز سنٹر محمد یعقوب نے حیاتین لٹریری سوسائٹی کی ادبی روایات کو بخوبی آگے بڑھاتے ہوئے علامہ اقبال ہال کو ادبی جمالیات کے تقاضوں سے سجایا۔ ادیبوں اور فنکاروں کی آمد پر پُر جوش طالبعلموں نے والہانہ استقبال کیا۔ ڈاکٹر شیبا عالم نے میزبانی و نظامت کے فرائض بحسن و خوبی انجام دئیے۔ پہلا سیشن ”انتظار حسین کی یاد میں“ تھا۔ خراج تحسین پیش کرنے والوں میں دانشور لکھاری محترمہ کشور ناہید اور ڈاکٹر اصغر ندیم سید تھے۔ کشور ناہید نے کہا کہ سیاسی، سماجی اور ثقافتی حقیقتوں کا بیانیہ ہماری فکشن کا خاصاہے۔ انتظار حسین نے اپنے ناولوں اور افسانوں کے ذریعے سماج کو انسان دوستی کے تصور سے روشناس کرایا۔ اصغر ندیم سید کا کہنا تھا کہ انتظار حسین اردو میں کہانی کی روایت کے عظیم نمائندہ ادیب تھے اور وضعداری اور تہذیبی شخصیت کے حامل تھے۔ دوسرا سیشن ”کچھ عشق کیا، کچھ کام کیا“ فیض احمد فیض کی یادوں سے مہکا ہوا تھا۔ 


محترمہ سلیمہ ہاشمی نے اپنے خوشگوار انداز میں اپنے ”ابا“ فیض احمد فیض کی یادوں سے نوجوانوں کو متعارف کروایا۔ انہوں نے بیان کیا کہ فیض صاحب کو عوامی زندگی سے عشق تھا۔ وہ تیسری دنیا کے ادیبوں و شاعروں کو عوامی فلاح کی خاطر ایک پلیٹ فارم پر یکجا کرنا چاہتے تھے۔ ڈاکٹر عارفہ سیدہ کا کہنا تھا کہ فیض دھیمے مگر مضبوط لہجے کے شاعر تھے جنہوں نے عوامی موضوعات کو اپنے شعروں کا موضوع بناتے ہوئے غاصبوں کا مقابلہ کیا۔ اصغر ندیم سید کا کہنا تھا کہ فیض کی شاعری گہرے تاریخی شعور کی مظہر ہے وہ عوامی اقدار کے شاعر تھے۔ اگلا سیشن ”پاکستان میں تھیٹر اور ڈرامے کی روایت“ کے موضوع پر تھا۔ فن ڈرامہ سے وابستہ ممتاز فنکاروں نعیم طاہر اور سلمان شاہد نے فنی و تنقیدی جائزہ پیش کیا۔ نعیم طاہر نے واضح کیا کہ تھیٹراصلاً ایک طرز زندگی ہے جو ناظرین کو سماجی شعور و آگاہی بخشتاہے۔ سلمان شاہد نے ڈرامہ کے فن پرکمرشلائزیشن کے غلبے پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ حقیقت میں ڈرامہ تخلیق کاری میں نمایاں مقام کا حامل ہے۔ پھر باری تھی مزاح نگار عطاء الحق قاسمی کی جنہوں نے ”بزبان قاسمی“ میں اپنے لطیف بیان سے حاضرین کو ادبی چاشنی سے لطف اندوز کیا۔ اپنی یادوں کے مزاحیہ چراغ جلائے اور تحریروں کے اقتباسات پڑھ کر محفل کو زعفران کر دیا۔ آخری سیشن ”پاکستانی میڈیا اور اخلاقی ذمہ داریاں“ کے موضوع پر تھا جس میں فعال علم دوست توشیبا سرور اور معروف اینکر عبدالرؤف نے سنجیدہ انداز میں گفتگو کی۔ عبدالرؤف کا کہنا تھا کہ میڈیا کی تمام اصناف اور ادب کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔ ادب سے رابطہ توڑ کر ہمارا میڈیا زوا ل پذیر ہے۔ پاکستانی میڈیا کو سماجی تشکیل کے لیے ہر صورت اپنی اخلاقی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کی ضرورت ہے۔ ریٹنگ کے لیے سنسنی نے حدود کو متاثر کیا ہے۔ جامعہ گجرات کے وائس چانسلر ڈاکٹر ضیا ء القیوم نے اختتامی خطاب میں تمام شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ادب بنیاد ی طور پر ایک سماجی عمل ہے اور انسان کے سماجی رشتوں کا سب سے اہم مظہر بن کر قوم کی روح کے اظہار کا سب سے بڑا وسیلہ بن جاتا ہے۔ گجرات ادبی میلے کا مقصد ہی یہ تھا کہ سماج اور اس کے افراد کو ادب کی سطح پر ایک دوسرے کے تجربوں میں شمار ہونے کا موقع فراہم کرنے کی روایت کو مضبوط کیاجائے۔ تاکہ لکھنے والوں اور پڑھنے والوں کے درمیان قربت کے ذریعے نئے فہم و شعور سے آشنائی ممکن ہو سکے۔ ادب و فن غیر معمولی قوت کے ذریعے ہماری ہستی کو بیدار کرکے اسے عام شعور کا حصہ بنا دیتا ہے اور اس کے ذریعے ہم زندگی کے نئے معنی تلاش کرتے ہیں۔ 

اس ادبی میلے میں شرکاء بجا طور مسرور تھے کہ عشروں بعد گجرات میں ایسی ادبی محفل سجی تھی جو سنحن فہمی کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے کے ساتھ ساتھ سنحنوری کے فروغ کا علم بھی بلند کیے ہوئی تھی۔ منتظمین تحسین و مبارک کے حقدار ٹھہرے کہ انہوں نے ادب پروری کی شمع روشن کردی ہے جس کی روشنی میں نوجوان نیا شعور حاصل کریں گے۔ اسی شعور کے ذریعے قومیں بدلتی ہیں اور یہی نئی معنویت نوجوانوں میں قوت عمل اور خواہش عمل بیدار کرتی ہے۔ مارسل پر وست نے کہیں لکھا ہے کہ ”ہماری اصل زندگی ہماری نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔ ادب کا کام یہ ہے کہ وہ اسے ہمارے سامنے لائے اور اس طرح خود ہمیں ہم سے واقف کر دے۔“بلاشبہ اسی شعور کے ذریعے ہم ایک نیا جنم لیتے ہیں۔ گجرات لٹریری فیسٹیول کے مباحث نے عیاں کر دیا کہ ادبی رویے فکری رویوں کی نشاندہی کرتے ہیں اور لکھنے والوں کی ذمہ داری، فکری رویوں کی پاسداری سے ثابت ہوتی ہے۔ اللہ کرے ہم لکھنے والوں کو اپنے رد عمل سے نواز سکیں تاکہ وہ لکھتے رہیں۔ سوچتے رہیں کیونکہ ہم سوچتے ہیں، اسی لیے تو ہم ہیں۔ 

بدھ، 29 جون، 2016

”تاریخ لکھنوال“مختصر جائزہ




افریقی نژاد، برطانوی سیاہ فام سیاسی راہنما و صحافی مارکوس گیروے نے کہا تھا کہ:  
"A people without the knowledge  of their past 
history, origin and culture is like a tree without roots."
بلا شبہ تاریخ سماج کی اجتماعی یاداشت کا دوسرا نام ہے، اگر کسی قوم کو اس کی تاریخ سے نا آشنا رکھا جائے تو وہ اپنی شناخت سے بھی محروم رہتی ہے۔ ہر قوم، ملک، شہر، قصبوں، دیہاتوں، بستیوں اور آبادیوں کی اپنی ایک تاریخ ہوتی ہے۔ شہروں اور دیہاتوں میں واقع آثار قدیمہ، کھنڈرات، خستہ و شکستہ در و دیوار، گلیاں اور خانقاہیں سب اہم تاریخی مآخذ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ پاکستان بھی تا حال دیہاتوں کا ملک ہے، دیہات آج بھی ہماری تاریخ کی زندہ اور متحرک دستاویز ہیں لیکن اسے بدقسمتی کے سوا کیا کہیے کہ ہمارے ہاں علاقوں، دیہاتوں،لوگوں اور ان کی تاریخ کی طرف کسی کا دھیان ہی نہیں۔ قومی بے حسی کا دردناک اور عبرتناک پہلو یہ ہے کہ ہمارے لوگ اور دیہات کبھی سرکاری و غیر سرکاری توجہ کا مرکز رہے ہی نہیں۔ آپ وطن عزیز کے کسی گاؤں یا علاقے میں چلے جائیے، ہمارا تاریخی ورثہ سسک سسک کر ہماری اجتماعی غفلت کا نوحہ کہتا نظر آئے گا۔ حکمرانوں کو تو چھوڑیئے، ہمارے پروفیشنل مؤرخین کوبھی اس جانب توجہ کی توفیق نہیں ہوئی .اس عدم توجہ کا نتیجہ ہے کہ ہماری تاریخ و ثقافت کا بہت کچھ اوراق پارینہ بن چکا اور بہت کچھ مٹتا جا رہاہے یا پھر مٹایا جا رہا ہے؟ یہ سب کچھ ہمارے سامنے ہو رہا ہے، لیکن اس پر ہم میں سے کسی کی رگِ حمیت نہیں پھڑکتی۔ ہماری تاریخ مر رہی ہے ,اسے صرف ایک ہی صورت میں زندہ رکھا جا سکتا ہے کہ کوئی زندہ دل اس کی طرف متوجہ ہو، اور اسے قلمبند کر دے اور یہ عوامی اور دیہاتی تاریخ تصنیف و تالیف کی شکل میں منتقل ہو کر کتابی صورت میں سامنے آئے اور آنے والوں کے لیے محفوظ ہو جائے۔ ہماری حالت امریکی ناول نگار Chuck Palahniuk کے لفظوں میں کچھ یوں ہے کہ:
"We will be remembered more for what 
we destroy than what we create."
ایسے گھمبیر حالات میں جب ہمارے محققین و مؤرخین کے موضوعات صرف روزگار کی بہتری اور جلد شہرت کے لیے محدود اور مخصوص ہو کر رہ گئے ہیں صرف کوئی دیوانہ ہی دیہاتوں کی تاریخ کی طرف توجہ دے سکتا ہے۔ ویسے بھی پہلے مرحلے پر دیہاتوں میں بکھری پڑی تہذیب و تاریخ کو دیکھنے، سمجھنے اور لکھنے کے لیے ڈگری سے زیادہ بڑی شرط اسکی اہمیت کی ”بصیرت“ کا موجود ہونا ہے جو صرف عشق والوں میں ہی ہو سکتی ہے۔ گجرات کے تاریخی گاؤں اسلام گڑھ سے تعلق رکھنے والے رائے فصیح اللہ جرال علاقائی تاریخ سے محبت کرنے والے نوجوان ہیں۔ ادب، قلمکاروں اور قلمی نسخہ جات سے فصیح کو بچپن سے ہی عشق ہے، اسی نسبت سے انہیں تاریخ میں بھی دلچسپی پیدا ہوئی۔ وہ مآخذوں اور کتابوں سے تاریخ پڑھنے کے ساتھ ”بیانیہ تاریخ“ کے علمبردار اور مبلغ بھی ہیں اور بزرگوں کے سینوں میں مدفون تاریخ کو کھنگالنے کے  شوقین بھی۔ گجرات اور نواح کی علمی، ادبی اورصوفیانہ تاریخ کے حوالے سے ان کے مضامین اخبارات، ادبی جرائد اور تحقیقی جرنلز میں شائع ہوتے رہتے ہیں۔ گذشتہ دنوں ان کی مختصر کتاب یا کتابچہ ”تاریخ لکھنوال“ کے عنوان سے پاک کشمیر لائبریری اینڈ ریسرچ سنٹر اسلام گڑھ(جلالپورجٹاں) ضلع گجرات نے شائع کیا ہے۔ لکھنوال ضلع گجرات کا تاریخی گاؤں ہے اور اپنی تاریخی و ثقافتی جہتوں کی وجہ سے ملک بھر میں خاص شناخت کا حامل ہے۔ اسی صفحات پر مشتمل اس کتابچے میں پہلے سولہ صفحات کتابچے اور قلمکار کے تعارف پر مشتمل ہیں۔ اگلے 74 صفحات کو چار ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلا باب گجرات کی تاریخ کے حوالے سے لکھی جانے والی کتب میں درج لکھنوال کے احوال پر مبنی ہے جن میں 1849ء میں شائع ہونے والی گنیش داس وڈیرہ کی فارسی کتاب ”چہار باغ“، 1868 میں چھپنے والی مرزا محمد اعظم کی ”تواریخ گجرات“،  1977 میں منظر عام پر آنے والی شیخ کرامت اللہ کی کتاب ”آئینہ گجرات“ جلد اول، سمیت ایلیٹ کی دی کرانیکلز آف گجرات، اسحاق آشفتہ کی ”گجرات کی بات“                       ، ڈاکٹر احمد حسین قریشی قلعہ داری کی تاریخ ”ضلع گجرات“، ایم زمان کھوکھر کی ”گجرات کی روحانی شخصیات اور تباہ شدہ بستیاں“ اور یونیورسٹی آف گجرات کے شعبہئ تصنیف و تالیف کا شائع کردہ ”گجرات پیڈیا“ شامل ہیں۔فصیح جرال نے محنت کے ساتھ ان کتب میں سے تاریخ لکھنوال کے تذکرے و حوالے کو جمع کر کے اکٹھا کر دیا ہے اور پھر مقامی لوگوں سے انٹرویوز ”ملٹری گزٹ“ اور ریاست جموں و کشمیر کی تاریخ کی رپورٹوں میں سے لکھنوال کے سلہری خاندان کی بازگشت بھی رقم کی ہے اور ان حوالوں کے تناظر میں اپنی رائے کا برملا اظہار بھی کیا ہے۔ اسی باب کا ذیلی عنوان 1947ء سے قبل کا لکھنوال ہے۔ اس میں لکھنوال کے تاریخی مقامات، واقعات اور نمایاں ہندو مسلم شخصیات کا ذکر کیا گیا ہے۔ دیوان لچھمن داس صوبتی کی بیٹی کی شادی کا والہانہ تذکرہ بھی ہے۔ اور پھر عالمی ریاضی بورڈ کے سابق چیئرمین پروفیسر سائیں داس ہانڈہ، پنجاب یونیورسٹی کے سابق استاد شعبہئ تاریخ پروفیسر گنپت، حکیم تارا چند صوبتی کا بھی ذکر بھی موجود ہے۔ تقسیم ہند سے قبل لکھنوال میں ہندوؤں اور سکھوں کی بڑی تعداد رہائش پذیر تھی ان کی مقدس عبادت گاہوں کو بھی قابل ذکر سمجھا گیا ہے۔ باب دوئم میں قیام پاکستان سے قبل کی مسلم شخصیات اور اس دور کے واقعات رقم ہیں۔ امیر شاہ بگا سلطان سچیاری نوشاہی قادری اور ان کے مزار کا احوال، انیسویں صدی کے ممتاز ماہر تعلیم اور اس وقت کے انسپکٹر سکولز آف ضلع خوشاب چوہدری رحمت خاں وڑائچ، چوہدری علی بخش اور محترمہ غلام فاطمہ اور باکمال استاد چوہدری فیض سرور سلطان کا ذکر ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ ممتاز تجزیہ نگار، اینکر اور صحافی محترم سہیل وڑائچ بھی اسی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ چوہدری رحمت خان سہیل وڑائچ کے نانا تھے۔ چوہدری علی بخش اور محترمہ غلام فاطمہ ان کے دادا، دادی اور چوہدری فیض سرور سلطان ان کے والد تھے۔ لکھنوال طوائفوں کا گاؤں بھی کہلاتا ہے۔ فن موسیقی او راداکاری کے حوالے سے بھی بڑے بڑے نام اس گاؤں کے باسی تھے۔ کسی زمانے میں سُر سنگیت کے حوالے سے یہاں کی ’بلو‘ اور’تلو‘ نے خوب نام کمایا۔ پنوں اللہ وسائی، لکھی سردار بھی آوازوں کی ملکہ تھیں۔ پاکستان کی فلم انڈسٹری کو بھی اس گاؤں نے نامور لوگ دیئے ادادکارہ ممتاز، تصور خانم، گلوکار خلیل حیدر، سہیل رانا، ٹرپل ایس سسٹرزکا تعلق بھی اسی گاؤں سے تھا۔ تیسرے باب میں بھی متفرق شخصیات، واقعات اور تاریخ ہی کا بیان ہے۔ ممتاز ماہر تعلیم پروفیسر خورشید عالم بھٹی، خاکسار راہنما ظفر علی بھٹی، امام الدین سیالوی، مولوی محمد علی سمیت کئی نام درج ہیں۔ چوتھے باب میں روحانی شخصیات حضرت امیر شاہ سلطان، خواجہ محمد امام الدین گجراتی، خواجہ غلام فرید گجراتی، حضرت محمد گہنے خاں، پیر برہان الدین سہروردی کا تفصیلی تذکرہ ہے اور آخر میں مآخذوں اور کتب کی فہرست ہے۔ مجموعی طور پر معلوماتی کتابچہ ہے۔ 
تاہم اس مختصر کتاب کے مطالعے کے بعد تشفی نہیں ہوتی بلکہ تشنگی بڑھتی ہے۔ یہ احساس بھی پیدا ہوتا ہے کہ یہ کتاب بہت جلد بازی میں شائع کی گئی ہے۔ جمع شدہ مواد کو بھی مزید بہتر انداز میں پیش کیا جا سکتا تھا اور پھر لکھنوال کا نام سنتے ہی جن موضوعات سے دلچسپی پیدا ہوتی ہے ان کا تذکرہ بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس کتاب میں لکھنوال کی فنی اور ثقافتی جھلک نظر نہیں آتی۔ لکھنوال کے باسیوں کے امتیازی رہن سہن، رسوم و رواج، تعمیر و تزئین، عمارتوں، گلیوں، حویلیوں اور بالکونیوں اور ان کے ذریعے پنپنے والی ثقافت کے حوالے سے مزید کام کرنے اور لکھنے کی ضرورت تھی۔ فصیح جیسے جواں عزم سے ہی توقع کی جا سکتی ہے کہ اس کی کتاب کا دوسرا ایڈیشن مطلوبہ اضافوں کے ساتھ ہو گا۔ لکھنے کے لیے ضروری ہے کہ ماضی کو کریدنے کے ساتھ اسے سمجھ کر جہاں تک قدرت حاصل ہو سچائی کی روشنی میں لکھا جائے۔ رائے فصیح جرال اس کام پر مبارکباد کے مستحق ہیں اور ہمارا فریضہ ہے کہ ہم اس کے کام میں سے کیڑے نکالنے کی بجائے اس کی بھرپور حوصلہ افزائی کریں تاکہ یہ باہمت اور جذبے کا حامل لکھاری بہتر سے بہتر لکھتا جائے۔ فصیح جرال کو علاقے کی تاریخ سے عشق ہے اور وہ جذبے سے کام کرتا ہے۔ تھپکی اس لیے بھی ضروری ہے کہ جذبے کا حامل لکھاری ہی کچھ لکھ سکتا ہے۔ بیانیہ تاریخ کے حوالے سے مستند لکھاری برطانوی مؤرخہ اور تاریخ کی استاد  C.V Wedgwood درست کہتی ہیں کہ: 
"Without passion there might be no error, 
but without passion there would certainly 
be no history."


جمعرات، 23 جون، 2016

روزہ، پیروی د ین کا ایک اہم تقاضا ہے



حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت کہ فرمان نبویؐ ہے کہ آدمی بظاہر نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج و عمرہ کا عمل کرتا ہے۔ حتیٰ کہ آپؐ نے تمام اعمال ِخیر کا ذکر کیا۔ پھر حضور نبی رحمتؐ نے فرمایا، مگر قیامت کے دن وہ صرف عقل کے بقدر اس کا بدلہ پائے گا۔ اس حدیث نبویؐ میں عقل کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ عقل سے مراد فہم و شعور ہے۔ اس کے معنی یہ ہوئے کہ آدمی ذکر و عبادت کے اعمال تو کرتا ہے مگر ان اعمال کا اجر ان کے فارم یا کمیت کے اعتبار سے نہیں ملتا بلکہ عمل کی روح کے اعتبار سے دیا جاتا ہے۔ آدمی نے جس درجہ شعور کے ساتھ عبادت کی ہو گی اسی درجہ شعور کے اعتبار سے اس کے عمل کا انعام مقرر کیا جائے گا۔ مثال کے طور پر ایک آدمی عبادت کرتا ہے لیکن قرآن حکیم کے مطابق سہو یعنی غیر حاضر دماغی سے عبادت کرتا ہے تو وہ عبادتی افعال تو کر رہا ہوتا ہے لیکن عقل و شعور کے اعتبار سے وہ حالتِ غفلت میں ہوتا ہے۔ رسم عبادت ادا کرنے والا ایسا آدمی صرف غیر مطلوب عبادت کرتا ہے۔ ذکر و عبادت کی مطلوب اور حقیقی صورت وہ ہے جب عبادت کرنے والے کا وہ حال ہو جائے جیسا قرآن مجید کی سورہ انفعال میں ہے کہ خدا کی یاد سے اس کا دل دہل اُٹھے یا سورۃ الزمر کے لفظوں میں اسکے جسم کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں ایسا آدمی ہی زندہ اور حرکی شعور کے ساتھ عبادت کا عمل کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے یہاں بڑے بڑے انعامات اس کو دئیے جائیں گے جس نے زندہ شعور کے ساتھ ذکر وعبادت کا عمل کیا۔ 
ماہِ صیام ہے اس میں روزہ ہی کو لے لیں۔ سورۃ بقرہئ میں ہے کہ تم پر روزے فرض کیے گئے تاکہ تم متقی بن سکو۔ یعنی روزہ اس لیے رکھاجائے کہ پرہیز گار بنا یا جا سکے۔ اس حکم قرآن سے ایک بات واضح ہوئی کہ جو روزہ نہیں رکھتا وہ ہدایت یافتہ نہیں ہو سکتا۔ جتنی عبادتیں ہیں ان میں ہم کچھ نہ کچھ کرتے ہیں، نماز پڑھتے ہیں، حج کرتے ہیں تو وہ نیکی میں شمار ہوتا ہے۔ جتنی عبادتیں ہم پر فرض ہیں ان سب کا تعلق نیکو کاری سے ہے سوائے روزے کے۔ کیونکہ روزہ نیکو کاری سے آگے پرہیز گاری میں آتاہے۔ روزہ کچھ کرنے کا نام نہیں بلکہ کچھ چیزوں سے رُک جانے کا نام ہے۔ روزہ روح و جسم میں سال بھر میں پیدا ہو جانے والے فسادی عناصر کے خاتمہ کے لیے اینٹی بائیو ٹک ہے یہ گناہوں سے بچنے کے لیے سالانہ ویکسینیشن ہے۔ یہ تربیتی کو رس ہے متقی بننے کے لیے۔ یہ محض بھوک، پیاس کی سالانہ رسم نہیں ہے۔ آپ نے سرکس میں دیکھا ہو گا کہ شیر جیسا خونحوار جانور کس طرح مالک کے اشاروں پر آگ کے پہیوں میں سے گذر جاتا ہے۔ گلی محلوں میں لوگ ریچھ کو لیے پھرتے ہیں یہ درندہ مالک کے اشاروں پر ناچتا ہے۔ سدھانے سے، تربیت سے درندہ فرمانبردار ہو جاتا ہے۔ لیکن کبھی آپ نے سوچا درندوں کو سدھایا کیسے جاتا ہے کہ وہ فرمان برداربن جاتے ہیں۔ معلوم کرنے پر پتہ چلے گا کہ سدھانے والا پہلے ان جانوروں کو بھوکا رکھتا ہے اور بھوک میں سدھاتا ہے۔ بھوک اور فرمانبرداری لازم و ملزوم ہیں یعنی فرمانبرداری آپ نے اختیار کرنی ہے۔ متقی بننا ہے تو بھوک و پیاس کے بغیر ممکن نہیں۔اسی لیے تمام اُمتوں پر روزے فرض کیے گئے لیکن یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ اس تربیتی کورس میں بھوک و پیاس تربیت کا ذریعہ ہے مقصد نہیں۔ اس کے ذریعے بھوک و پیاس کے تجربے سے گزارنا مقصود ہے تاکہ تربیت کی جا سکے اور یہ اخلاقی ڈسپلن و ضبط کا سالانہ تربیتی پروگرام ہے۔ اللہ کی رضا کے لیے اپنی خواہشوں پر روک لگانا ہی پرہیز گاری ہے۔ اسلام اور ایمان کے معنی بھی یہی ہیں کہ آدمی خدا کی منع کی ہوئی چیزوں سے رُک جائے۔ روزہ ہر سال یہی سبق یاد دلانے کے لیے فرض کیا گیا ہے۔ بلاشبہ وہ نیکی بڑی معتبر ہے جس کا رب کے سوا کوئی گواہ نہ ہو۔ روزے کے اعلیٰ درجے کو حاصل کرنے کے لیے آدمی کو چاہیے کہ وہ شعوری طور پر اپنے آپ کو غیر متعلق چیزوں میں مشغول ہونے سے بچائے۔ 
روزہ میں آدمی کو خود عائد پابندی کی وجہ سے بھوک و پیاس کے تجربے سے گذرناہے تاکہ تقویٰ کے معیار کو پا سکے۔ لیکن ہم رمضان میں پہلے سے زیادہ کھاتے ہیں،ہماری خوراک بڑھ جاتی ہے کچھ لوگ کہتے ہیں اس لیے کہ حدیث ہے کہ رمضان میں مومن کا رزق بڑھا دیا جاتا ہے۔ بس اسی آڑ میں ہم کھائے جاتے ہیں۔ حالانکہ یہ روح رمضان کے خلاف ہے۔ کیونکہ اس حدیث میں رزق بڑھنے سے مراد خوراک میں اضافہ نہیں ہے، روزے کا تو مقصد ہی بھوک و افلاس کا تجربہ کرنا ہے روزے تو پہلی اُمتوں پر بھی فرض ہوئے۔ حضرت آدمؑ پر بھی فرض ہوئے ان کے دور میں تو خوراک ایسی تھی ہی نہیں صرف پھل کھائے جاتے تھے۔ 
رزق بڑھنے کے روحانی معنی معرفت میں اضافہ کے معنوں میں ہے۔ قانون فطرت ہے کہ انسان کو جب شاک پہنچتا ہے تو اس کا دماغ متحرک ہو جاتا ہے۔ جب ہمیں بھوک لگتی ہے تو ہمارے تمام حواس بیدار ہو جاتے ہیں۔ تخیل کی بے پناہ قوت پیدا ہو جاتی ہے۔ بڑی بڑی باتیں سامنے آتی ہیں، انکشاف ہوتے ہیں۔ بھوک و پیاس کا تجربہ دراصل انسان کی تخلیقی فکر بڑھانے کے لیے ہے۔ اس سے انسان کی روحانی غذا میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ حضرت آدم ؑ کوجنت ملی تو باغات کے ہجوم میں اسے ایک پھل کھانے سے روک دیا گیا۔ آدم ؑنے یہ پابندی خود پر عائد کر لی۔ یعنی وہ جنت میں حالت روزہ میں تھے مگر اُنہوں نے جب یہ پابندی توڑی تو جنت سے نکال دئیے گئے۔ یہ واقعہ آج بھی پیغام دیتا ہے کہ جو اللہ کی لگائی ہوئی روک پر رُک جائے گا وہی جنت میں جائے گا۔ جو روکنے پر بھی نہیں رُکے گا، پرہیز گار نہیں ہوگا، نافرمان ہو گا، جنت اسکے لیے نہیں ہے۔ 
روزہ رکھتے ہوئے ہم شعوری طور پر اس کا فہم بھی رکھتے ہیں۔ کیا ہماری بھوک و پیاس کسی تخلیقی فکر کو جنم دیتی ہے۔ ہمارا احساس بیدار ہوتا ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہمارا قلب اطاعت و فرمابنرداری کی طرف مائل ہوتا ہے۔ فرمان نبوی ؐ ہے کہ اللہ کے نزدیک صرف وہ روزہ مقبول ہے جو ایمان و احتساب کے جذبے کے ساتھ رکھا جائے۔ حدیث ہے کہ تم میں سے کوئی روزہ سے ہو تو بدکلامی اور فضول گوئی نہ کرے۔ نہ شور و شر کرے۔ کوئی اگر اس کو گالی دے اور لڑنے اور جھگڑنے پر آمادہ ہو تو یہ کہہ دے کہ میں روزے سے ہوں۔ 
حضرت ابوعبیدہؓ سے روایت ہے کہ حضورؐ نے فرمایا روزہ ڈھال ہے جب تک اس کو پھاڑ نہ دیا جائے۔ وسط میں سوال آیا، کس سے پھاڑ دے۔ ارشاد ہوا، ”جھوٹ یا غیبت سے“ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ روزہ رکھتے ہوئے یہ یاد رکھیں کہ اس تربیتی کورس سے مجھے سال بھر غلط کاریوں سے بچنا ہے، وعدہ خلافی نہیں کرنی، ناجائز منافع نہیں کمانا، کسی کا حق نہیں مارنا، کسی کا رزق نہیں چھیننا، کوئی لڑے بھی تو اس سے لڑائی نہیں کرنی۔ فرض دیانتداری سے ادا کرناہے۔ مجھے ماہِ صیام میں اپنا عزم اور حوصلہ مستحکم کرنا ہے تاکہ میں سارا سال نیکیوں کے موسم بہار کی مہک پھیلاتا رہوں۔ عام طور پر ہمارا روزہ محض دن بھر کی بھوک و پیاس کا نام بن کررہ جاتا ہے،کیونکہ یہ رسم بن کر رہ گیا ہے اس میں ہمارے شعور کا عمل دخل نہیں ہوتا۔ ہمیں سمجھنا ہوگا کہ اس ماہ کے تربیتی کورس کے ثمرات سارے سال پر محیط ہونے چاہئیں۔ اگر ہم تربیتی کورس مکمل کرنے کے دعوے کے باوجود سال بھر اس پر عمل پیرا ہونے میں نا کام رہیں تو کیا کسی فیل ہو جانے والے کو انعام سے نوازا جا سکتا ہے؟
عرض یہ ہے کہ ہمیں اپنی ریاضت و عبادت کو اپنے شعور کا حصہ بنانا ہے۔ فکرو اجتہاد سے۔ قرآن حکیم میں اللہ تعالیٰ نے مطیع و فرمانبردار بندوں کی صفت یہ بیان کی ہے کہ وہ آیات الٰہیہ کی کورانہ تقلید نہیں کرتے۔ یعنی وہ ان پر حکیمانہ غور کرتے ہیں۔ سورۃ الاسراء میں ہے کہ اورجو کوئی اس دنیا میں اندھا رہا، وہ آخرت میں اندھا رہے گا۔ اور راستے سے یک قلم بھٹکا ہوا۔ ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے ہاں روح عبادت سے آشنائی کے لیے کوئی ذہنی بیداری کا درس نہیں دیتا ہے۔ کوئی ادارہ یا تحریک نہیں جو art of thinkingفن تفکّر کی روشنی میں ہماری فکر ی راہنمائی کرے۔ کوئی قرآنی پیغام عام نہیں کرتا کہ تم تفکر نہیں کرتے، عقل سے کام نہیں لیتے۔ انعام اور اجر کے لیے لازم ہے کہ ہماری عبادت میں ہمارا شعوری حصہ بھی ہو۔ 
علامہ ابن القیم ؒنے روزہ کے اسرار و مقاصد پر یوں روشنی ڈالی ہے کہ ”روزہ جوارح ظاہری اور قوائے باطنی کی حفاظت میں بڑی تاثیر رکھتا ہے۔ فاسد مادہ کے جمع ہو جانے سے انسان میں جو خرابیاں پیدا ہو جاتی ہیں اس سے وہ اس کی حفاظت کرتا ہے،جو چیزیں مانع صحت ہیں ان کو خارج کر دیتا ہے اور اعضاء و جوارح میں جو خرابیاں ہواوہوس کے نتیجہ میں ظاہر ہوتی رہتی ہیں و ہ اس سے دفع ہوتی ہیں، و ہ صحت کے لیے مفید اور تقویٰ کی زندگی اختیار کرنے میں بہت ممدو معاون ہے۔“

سوموار، 13 جون، 2016

انسان کون ہے۔۔۔؟


کہاجاتا ہے کہ جن دنوں روسی ناول نگار گوگول پیٹرز برگ میں بے کاری کے دن گزار رہا تھا۔ پشکن کی سفارش پر اسے یونیورسٹی میں لیکچرر کی نوکری مل گئی۔ مگر وہاں گوگول ایک لیکچر دے کر بھاگ گیا اور دوبارہ یونیورسٹی نہیں گیا۔ پشکن نے وجہ پوچھی تو کہنے لگا”جتنا مجھے آتا تھا میں نے پڑھا دیا۔ اب میرے پاس کہنے کو کچھ نہیں، وہاں جا کر طالبعلموں کو کیا پڑھاؤں گا۔“ میں نے بھی علمی ذوق کے حامل اورکتاب دوستی کے پیامبر دانشور دوست پروفیسر میاں انعام الرحمن سے اپنی کم مائیگی اور نالائقی کا تذکرہ کیا اور پڑھنے لکھنے سے معذرت چاہی۔ مگر کیا کیا جائے کہ میاں صاحب مبالغہ کی حد تک ”بابرکت“ شخص ہیں اور حلقہئ یاراں میں ان کا شمار ایسے افراد میں ہوتا ہے کہ جن سے کسی بھی نشست و گفتگو کے بعد علمی تشنگی بڑھ جاتی ہے وہ جب بھی گوجرانوالہ سے تشریف لاتے ہیں، کتابوں کی باتیں کرتے ہیں اور کتب بینی کا درس دیتے ہیں۔ گذشتہ دنوں آئے اور بڑی محبت سے عالمی شہرت یافتہ یہودی مذہبی و روحانی سکالر ابراہام جوشو اہیشل کی کتابWho is Man?کا اُردو ترجمہ عنایت کیا، اور اپنے مخصوص علمی انداز بیاں سے کتاب، صاحب کتاب اور مترجمین کا تعارف بھی کروایا اور مجھے کتاب پڑھنے کی ”دعا“ بھی دی۔ میں نے کتاب لی،شکریہ ادا کیا اور پھرمیری نظر ٹائٹل پر ہی ٹھہر گئی ”انسان کون ہے؟“ اور دیگر تحریریں، تقدیم و ترجمہ، قیصر شہزاد، عاصم بخشی۔ سادہ مگر بامعنی ٹائٹل ایک راسخ العقیدہ روحانی عالم کی انسان بارے سوچنے اور فکر کرنے کی جسارت کا عکاس دکھائی دیا۔ میں نے ورق اُلٹنے شروع کیے اور پھرمیری بے قراری سطر سطر بڑھتی گئی۔صفحہ نمبر366پر پہنچا تو لگا ابھی تو شروع کیا تھا۔ فکر، تجزیے، روحانیت سے بھرپور تحریر اور محبت،محنت کے امتزاج سے قابل فہم ترجمہ نے مزہ دو آتشہ کر دیا۔”انسان بیک وقت باقی نامیاتی فطرت کا حصہ بھی ہے اور روح الہٰی کے لا متناہی فیضان کا بھی۔ دائرہ وجود میں ایک اقلیت ہوتے ہوئے اس کا مقام خدا اور درندوں کے درمیان کہیں ہے۔ تنہا رہنے کی صلاحیت سے محروم ہونے کے باعث اسے ان دونوں میں سے کسی ایک سے مل جانا ہو گا“۔
والٹیر نے کہا تھا کہ خدا نے انسان کو اپنی صورت پر بنایا تھا اور انسان نے اس کے جواب میں خدا کو اپنی صورت کے مطابق بنا لیا۔ جی ہاں!خدا، کائنات اور انسان کی تثلیت میں انسان کی اہمیت مسلم ہے۔ قرآن مجید ”والناس“ پر ختم ہوتا ہے اور انسان کے معنی آنکھ کی پتلی کے بھی ہیں۔ گویا انسان کائنات کی آنکھ ہے جس کا نورحق ہے کہ خدا کا عرفان اور کائنات کی پہچان انسان کے وجود سے ہی وابستہ ہے۔ اس یہودی روحانی عالم کے قلم و فکر میں بھی ہمیں خدا انسان کی تلاش میں نظر آتا ہے۔375صفحات پر مشتمل اس کتاب کو مکتبہئ اشارات اسلام آباد نے شائع کیا ہے۔ فلسفے کے استاد ڈاکٹر قیصر شہزاد اور ڈاکٹر عاصم بخشی نے اسے اُردو کے قالب میں ڈھالا ہے۔ دونوں مترجمین نے بیسویں صدی کے اہم دانشوروں کی اہم تحریروں کو اُردو میں منتقل کرنے کے جس کارِخیر کا آغاز کیا تھا یہ کتاب اس کی اہم کڑی ہے۔ اس کتاب میں ابراہام جوشوا ہیشل کی کتاب ”انسان کون ہے؟“ اور ان کی مختلف کتابوں سے منتخب کردہ گیارہ مزید اجزاء کا ترجمہ کرکے کتاب میں شامل کیا گیا ہے۔ ہیشل کے فراہم کردہ حواشی آخر میں دئیے گئے ہیں جبکہ مترجمین کے توضیحی تبصرے فٹ نوٹس میں ساتھ ساتھ موجود ہیں۔ کتاب کے آخر میں ہیشل کی تحریروں اور انکی فکر پر کیے گئے تحریری کام کی مختصر کتابیات کی فہرست بھی دی گئی ہے۔ فہرست میں پہلے حصے میں ہیشل کی تحریروں کی فہرست ہے جبکہ دوسرے حصے میں ہیشل کے حوالے سے لکھی جانے والی چودہ تحریروں کی فہرست دی گئی ہے۔ ڈاکٹر قیصر شہزاد نے کمال مہارت سے26صفحات کے جامع مقدمہ میں مصنف، اسکی شخصیت اور فکر کا بھرپور تعارف کروایا ہے۔ یہ مقدمہ جہاں ہیشل کی فکر و خدمات کا بھرپور احاطہ کرتا ہے وہیں ڈاکٹر قیصر شہزاد جیسے فلسفے کے استاد کی فکری و قلمی مہارت کا عکاس بھی ہے۔ آخر میں ڈاکٹر عاصم بخشی نے تجزیاتی انداز میں مطالعہئ ہیشل کے حوالے سے چند معنی خیز گذارشات بھی رقم کی ہیں۔اُردو کتاب کی ایک اور خاص بات یہ ہے کہ پیش لفظ مصنف کی بیٹی سوزانہ ہیشل نے لکھا ہے جو خود ڈار ٹماؤتھ کالج امریکہ میں شعبہئ مذاہب کی پروفیسر ہیں اور لکھتی ہیں کہ ”میرے والد نے ایک ایسے ماحول میں درس و تدریس کے فرائض انجام دئیے جہاں مسلمان علماء کے ساتھ ان کے بہت کم روابط ہو سکے۔ البتہ وہ عربی زبان سے واقف تھے اور انہوں نے ازمنہ وسطیٰ کے یہودی اور مسلمان فلسفیوں پر کام بھی کیا۔ موسیٰ ابن میمون کی سوانح لکھتے ہوئے انہوں نے اسلام کا ذکر مدح و توصیف کے ساتھ کیا اور اسکے توحید قطعی کے نظریہ اور ہر طرح کے شرک کی مخالفت پر کھل کر تعریف کی۔ یہ جان کر ان کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ ہوتا کہ انکی تحریریں پاکستان کے مسلمان قارئین تک پہنچ رہی ہیں اور مجھے معلوم ہے کہ وہ اپنے مسلم قارئین سے مل کر بہت خوش ہوتے“۔ وہ مزید لکھتی ہیں کہ ”تاریخ کے دائرے میں ایک ایسا کام کر جانا جو مراد خداوندی کی تکمیل کا راستہ ہموار کرے۔ تاریخ کے تاریک اور خطرناک زمانہ حال میں، جب کہ ایمان و مذہب کو کئی طرح کی تحریفات کا سامنا ہے،یہ اہم کتاب اردو میں سامنے لائی جا رہی ہے۔“
ترجمے سے محبت کرنے والے مترجمین کی یہ کاوش یاد دلاتی ہے کہ یورپ نے اپنی نشاۃ ثانیہ کے دوران ترجمہ کاری کے ذریعے ہی یونانی اور اسلامی فکر و فلسفہ، فکری تحریکوں، سماجی رویوں، تاریخ و سیاست اور سائنس و طب سے متعلقہ صدیوں پر مبنی علمی و فکری ورثہ کو اپنے ہاں منتقل کیا۔ یہ بات بجا طور پر کہی جا سکتی ہے کہ ترجمہ کاری کا فن نہ ہوتا تو شاید مختلف علوم ارتقائے انسانیت میں کردار ادا کرنے سے محروم رہتے۔ تھیالوجی جیسے خشک موضوع سے تعلق رکھنے والی کتاب کا ترجمہ مشکل کام ہے،تاہم اس کتاب کے مطالعے سے واضح ہوتا ہے کہ مترجمین ادراک رکھتے ہیں کہ ترجمے میں الفاظ کا صحیح استعمال بڑی اہمیت رکھتا ہے، اگر مترجم ایسا کرنے میں ناکام رہے تو مرکزی خیال، مجموعی تاثر اور خیال کی شدت تینوں متاثر ہو سکتے ہیں۔ ڈاکٹر قیصر شہزاد اور ڈاکٹر عاصم بخشی کی کاوش قابل تحسین ہے کہ مترجمین لفظوں کے سیاق و سباق سے آشنائی کی بدولت رواں، قابل فہم اور با مقصد ترجمہ کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔ ڈاکٹر عاصم بخشی کے اپنے الفاظ میں ”شاعرانہ، صوفیانہ، فلسفیانہ اور ادبی روایت کی امین، اردو جیسی ایک نسبتاًجدید زبان میں ہیشل کا ترجمہ شاید ہمیں کچھ ایسے نئے اور نادر زاویے کھولنے میں مدد دے جن سے مغربی جدیدیت سے متاثر مشرقی ذہن نہ صرف اپنی روایت کا تازہ احیاء کر سکے بلکہ تہذیبی روایتوں کا ملاپ بھی ممکن ہو، یہ اس لیے بھی اہم ہے کہ شاید اب ہم تاریخ کے اس نازک موڑ پر کھڑے ہیں جہاں تہذیبی روایتوں کے دم توڑتے معرکوں سے زیادہ ہمیں انسان اور ایک عالمگیر ابھرتی تہذیب کی راہ متعین کرانے کی ضرورت ہے“۔ 
کتاب کے کل بارہ ابواب میں سے تین ابواب کا ترجمہ ڈاکٹر قیصر شہزاد نے کیا ہے جن میں ”نبی کس طرح کا انسان ہوتا ہے؟“، ”انسان کون ہے؟“ اور ”ہم مل کر کیا کر سکتے ہیں؟۔“جبکہ نو ابواب، ”دعا بطور نظام حیات“، ”الہٰیات عمق“، ”تین نکاتِ آغاز“، ”ارفع“، ”سرّ“، ”ایک وجودیاتی مفروضہ“، ”انفعال خداوندی“، ”مذہب: آزاد معاشرے میں“، ”ابن میمون کے آخری ایام“، کا ترجمہ ڈاکٹر عاصم بخشی نے کیا ہے۔خوبی یہ ہے کہ دوران مطالعہ یہ کم مواقع پر کھٹکتا ہے کہ مختلف ابواب کا ترجمہ مختلف قلمکاروں کی سعی ہے۔ یہ دونوں مترجمین کی قلمی یکجہتی اور فکری محبت کا ثبوت ہے۔  
مارٹن بیوبر یا کانٹ کے انسان کے بارے اٹھائے گئے فلسفیانہ سوالوں یا مباحث کے برعکس ہیشل نے ابتداء ہی میں واضح کر دیا کہ انسان کون ہے؟ کوئی سوال نہیں بلکہ ایک مسئلہ ہے۔ سوال تو کم علمی یا تجسس کی کوکھ سے جنم لیتا ہے لیکن مسئلہ ضرورت سے زیادہ جاننے اور علم میں محسوس ہونے والے داخلی تعارض سے پیدا ہوتا ہے۔ ہیشل تصور انسان کے تاریخی تناظر کا علمی جائزہ لیتا ہے۔ اور آخر میں مارٹن ہائیڈیگر اور وجودیت کے فکری پس منظر سے تعلق رکھنے والے مفکرین کے تصور انسان کو ہدف تنقید بناتا ہے۔ ان سے ہیشل کا اختلاف یہ ہے کہ یہ انسان کو بے نام، بے چہرہ اور بے حس وجود کا ایک پہلو قرار دیتا ہے۔ اس کے نزدیک انسان کا اہم مسئلہ اس کا ”ہونا“ نہیں اسکا ”جینا“ ہے۔ ہیشل انسان کا تعلق مردہ یا   لا تعلق ماورائیت سے جوڑنے کی بجائے ”خدا“ کی زندہ ماورائیت سے جوڑتا ہے اور اسے الوہی انداز میں جینے کی تعلیم دیتا ہے۔ عمیق نظروں سے مطالعہ کیا جائے تو ہیشل کا تصور انسان فلسفیانہ اور منطقی حوالے سے بھی اپنے معاصرین کے تصور انسان پر سبقت لے جاتا ہے۔ تاہم خود انسان کو اس حوالے سے غور و فکر کی ضرورت ہے۔ بیدل نے کیا خوب کہا تھا کہ دونوں عالم خاک ہوئے تب کہیں انسان کا نقش بنا۔ اے انسان، اے بہار نیستی اپنی قدر کو پہچان؟ ایسا ہی پیغام ہیشل کا ہے وہ لکھتا ہے ”کائنات تو مکمل ہو چکی ہے، لیکن شاہکار ابھی نامکمل ہے اور ابھی بھی تاریخ کے اندر تخلیق کیا جا رہا ہے۔ خدا کے عظیم تر منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے انسان کی ضرورت ہے…… زندگی،مٹی اور پارسائی وہ سانچہ ہے جس میں خدا تاریخ کی تشکیلِ جدید چاہتا ہے…… خدا رحمت اور پارسائی کا حکم دیتا ہے اور اس کا یہ حکم محض عبادت گاہوں میں ہی نہیں بلکہ تاریخ اور زمانے میں ہی بجا لایا جاسکتا ہے۔ خدائی مشن کی تکمیل انسان صرف تاریخ کے اندر ہی کر سکتا ہے“
یہ کتاب تشنہ ذہنوں کی پیاس بجھانے کے لیے نہیں بلکہ فکری اور روحانی تشنگی بڑھانے کے لیے ہے۔ ایسے میں جب دنیا ایک روحانی صحرا بن چکی ہے۔ انسان اس کرب سے نکلنے کے کسی راستے اور انسان ہونے کی کسی نئی معنویت کے متلاشی ہیں۔ کیا انبیاء کے پیغام کو زندہ رکھنے کے دعویداروں سے کسی مدد کی توقع کی جاسکتی ہے؟ یا پھر کسی موجود کو ”انسان“ کہلانے کے قابل کیا شے بناتی ہے؟ میں ہوں! مگر یہ ”میں“ کون ہے؟  اور ”ہونے“ سے کیا مراد ہے؟۔ مذہب کہاں مل سکتا ہے؟ ایسے ہی بہت سوال اس کتاب میں اٹھائے گئے تاکہ انسان فہمی کو کائنات کے وسیع تناظر میں پرکھا جا سکے۔ ایسے ہی بہت سے سوال جو آج کے دور کے انسان کو در پیش ہیں اور ہم سب کی توجہ کے طالب ہیں 
یہ کتاب پڑھتے ہوئے مجھے علامہ اقبال کے خطبات بہت یاد آئے۔ آج بھی ہمیں فہم انسان و مذہب کے لیے فکری تغیراور مذہبی افکار کی تشکیل جدید کی اشد ضرورت ہے۔ایسے میں اس کتاب کا اردو ترجمہ اور اس کا مطالعہ ایک اہم بات ہے۔ یہ کتاب مذکورہ مضامین کے حوالے سے پختہ فکر بحث میں معاون ہو سکتی ہے۔ ہیشل کے خیال میں بین المذاہب سرگرمی کی شرط اول ہی ایمان ہے۔ اہل مذاہب کو مکالمہ عقاید پر مباحثے کی نیت سے نہیں بلکہ ”الہٰیات عمق“ کی سطح پر کرنا چاہیے۔ ہیشل کے مباحث سے مذہبی فکر نو کی امید بھی جنم لیتی ہے۔ مذہبی اور فلسفیانہ موشگافیوں کی تاریخ سے آشنائی کے باوجود وہ مایوس آدمی نہیں تھا۔ وہ سچے اور کھرے مذہبی انسان کی طرح پُر امید شخص تھا۔ اس کی تحریروں کے مطالعے سے یہ بھی اخذ ہوتا ہے کہ مذہبی انسان کبھی مایوس نہیں ہوتا۔ امید ہی تغیر کی جان ہے،شاید اسی لیے وہائیٹ ہیڈ نے کہا تھا کہ ”زندگی کو مستقل طور پر ایک ہی قالب میں محبوس رکھنا نا ممکن ہے۔ اس لیے مذہب کو بھی سائنس کی طرح بدلتے ہوئے تقاضوں کا لحاظ رکھنا پڑے گا۔ اس کے اصول ابدی ہو سکتے ہیں۔ لیکن ان اصولوں کی تعبیرات تو حالات کے ساتھ بدلتی رہیں گی“۔  


جمعہ، 3 جون، 2016

”تخلیقی اقلیت“کا خواب



تاریخ گواہ ہے کہ اقوام و ادیان کے عروج و زوال کی ذمہ داری عمومی طور پر حکمرانوں،قائدین اور مذہبی راہنماؤں کے کندھوں پر ہی ہوتی ہے لیکن ایک سنجیدہ پہلو یہ بھی ہے کہ جیسے جیسے تعلیم اور شعور بڑھتا ہے اس سے عوام میں ایک ایسا طبقہ ابھرتا ہے جو عوامی مسائل پر سنجیدگی سے غور کرتا ہے اور اس ضمن میں اپنی رائے کا بھی اظہار کرتا ہے۔ یہ طبقہ اہل فکر کا ہوتا ہے۔عزم صمیم کا حامل یہ طبقہ سماجی نا قدری، بار بار مایوسیوں اور بعض اوقات ملامت کا ہدف بننے کے باوجودتفکرو مکالمے کا عمل جاری رکھتا ہے۔تہذیبوں کے عروج و زوال کا مورخ ٹائن بی گہرے مطالعے اور تجزیے کے بعد اہل فکر کے ایسے طبقے کو بہت اہمیت دیتا ہے اور اسے تہذیب میں کار آمد ”تخلیقی اقلیت“ قرار دیتے ہوئے تہذیبی و سماجی زندگی کے ارتقا کے لیے لازمی گردانتا  ہے۔ بلاشبہ یہ وہ اقلیت ہوتی ہے جو قوم کو فوڈ فار تھاٹ فراہم کرتی ہے اور افکار تازہ کی علمبردارہوتی ہے۔اس طبقے کے افکار کی جدلیت سے نئے افکار جنم لیتے ہیں اور یوں معاشرے کے پیچیدہ اور روز افزوں مسائل کے حل کی تلاش کا عمل شروع ہوتا ہے۔زوال پذیر معاشروں میں اہل فکر کی ضرورت اور ذمہ داریاں مزید بڑھ جاتی ہیں۔ یہ بات میرے لیے خوشگوار حیرت کا موجب بنی ہوئی ہے کہ پاکستان کے دور افتادہ قصبہ کڑیانوالہ میں اہل فکر کا ”تھنکرز فورم“اپنے کردار سے نہ صرف آگاہ ہے بلکہ سماجی ارتقاء میں اپنا فعال کردار ادا کر رہا ہے،تعلیم،خدمت،رضا کاریت اور مکالمہ یہ وہ پہلو ہیں جو ”تھنکرز فورم“اور ”کئیرز پاکستان“دہمتھل کے سماج سدھار نصب العین کے اصل اہداف ہیں۔ گزشتہ چند ہفتوں سے اہل فکر کے اس طبقے نے علاقہ میں مذہبی ہم آہنگی اور مساجد کے مرکزی کردار کے فروغ کے لیے آئمہ مساجد اور علمائے دین کے ساتھ مکالمے کی مؤثر روایت کو رواج دیا ہے۔ مجھے ان کی کئی نشستوں میں شرکت کا موقع ملا۔ میں ان کی مثبت فکر اور سنجیدہ عمل کا مداح ہو گیا ہوں۔ گذشتہ دنوں بھی مجھے جواں عزم اور خیال افروز اعمال کے حامل تھنکرز فورم کے راہنما عاطف رزاق بٹ کی جانب سے مختلف الخیال علماء اور مساجد کمیٹیوں کے کار پردازان سے گفتگو کی دعوت ملی تو تمام تر مصروفیات کے باوجود میرے دل نے جانے کے لیے حامی بھر لی۔ مکالمے میں اسلامی علوم کے پی ایچ ڈی سکالرز،علماء، اساتذہ،سول سوسائٹی،صحافیوں اور نوجوانوں پر مشتمل حاضرین موجود تھے۔علامہ رضا المصطفیٰ نے کمال بلاغت سے مقاصد کا تعارف کروایا اور پچھلی نشستوں کا خلاصہ پیش کیا کہ اصل مقصد گلی محلوں میں موجود مساجد کو فعال کر کے دینی مراکز بنانا ہے جہاں عبادت و خدمت کا توازن قائم ہو۔دین کا معاشرتی پہلوہمارے اعمال و افکار سے محو ہو گیا ہے۔ ہمیں سماج سازی میں اسلامی معاشرے کی تشکیل کے اصولوں کو متعارف کروانا ہے۔صاحبزادہ علامہ حامد فاروق نے علمی انداز میں آئمہ اور مساجد کے معاشرتی کردار پر روشنی ڈالی اور کہا کہ آئمہ اور خطیب حضرات پر ساری ذمہ داری نہیں ڈالی جا سکتی،یہ اجتماعی دانش کا متقاضی معاملہ ہے۔ہمیں فروعی معاملات پر الجھاؤ کو بڑھانے کی بجائے سلجھاؤ کا پیغام دینا ہے اس کے لیے فکری مکالمہ اور ابلاغ ناگزیر ہے۔
پروفیسر شعیب عارف نے مساجد کے بطور کمیونٹی سنٹر کردار کا حوالہ دیا اور کہا کہ جب تک آئمہ مساجد سماجی رابطہ کار کا کردار ادانہیں کریں گے یہ کام ممکن نہیں۔ نبی رحمت ﷺ خود لوگوں کی عیادت کرتے، ان کے معاملات میں شریک ہوتے تھے۔ جب تک آئمہ مساجد سماج سے دور رہیں گے تب تک اس ادارے کے مثبت اثرات سے سماج محروم رہے گا۔ امریکہ سے آئے ہوئے عالم دین علامہ بشارت شازی نے کہاکہ یورپ و امریکہ میں مساجد حقیقی معنوں میں کمیونٹی سنٹر کا کردار ادا کر رہی ہیں۔ جب تک حاکم مسجد سے منسلک رہے مسجد مرکز رہی تاہم ا ب بھی مسجد کو متحرک کرنے کیلئے حکمرانوں کی توجہ کی ضرورت ہے۔ قاری محمد عیسیٰ، علامہ ادریس جلالی،ذاکر رضا شاہ، قاری رحمت اور علامہ شہباز احمد و دیگر کا بھی ایسا ہی خیال کہ مسلکی اختلاف کی فضا نے بھی مساجد سے دوری میں کردار ادا کیا ہے۔ میں نے بصد احترام عرض کیا کہ مسالک و مشارب کا اختلاف صبح قیامت تک رہے گا، تاہم مسالک اور طریق کار کے اختلاف کے با وجود ہدف اور منزل ایک ہو سکتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں تعبیر کے اختلاف کے باوجود اس میں مضمر حقیقت ایک ہو سکتی ہے۔ اتحاد نام ہی اختلاف کے باوجود متحد ہونے کا ہے۔ مختلف اسباب سے لوگوں میں طرح طرح کے اختلاف پیدا ہو جاتے ہیں۔ کسی بھی تدبیر سے اختلاف کا کلی خاتمہ ممکن نہیں۔ ہمیں ایسی باتوں کے تذکرے کو معمول بناناہے جس میں اتفاق ہے۔ وحی اللہ کی روشنی میں تشکیل پانے والا معاشرہ روشن خیال اور اعتدال پسند معاشرہ ہوتا ہے۔ نبی رحمت ﷺ نے اپنے کردار و عمل کے ذریعے اتباع وحی میں بالفعل ایسا ہی معاشرہ تشکیل دیا جو افراط و تفریط میں بٹے ہوئے انسانوں کیلئے انتہائی پر کشش تھا۔
ہم میں سے ہر ایک کو اپنے اپنے دائرے میں رہتے ہوئے قرآن و ایمان کے انوارات کو پھیلانے کی کوشش کرنی چاہئے اور اپنی توانائیوں کو دوسروں کے ساتھ جھگڑے میں خرچ نہیں کرنا چاہیے۔ اگر ہم کسی سے اتفاق نہ کر سکیں تو کم از کم ہمیں اختلاف کی آگ بھڑکانے سے تو گریز کرنا چاہئے۔ ہمیں نہ صرف مسلمانوں کے ساتھ جھگڑنے، ان پر تنقید کرنے اور ان کی عیب جوئی سے مکمل اجتناب کرنا چاہئے بلکہ ہمیں ہر اچھا کام کرنے والے کی تحسین کرنے اور ہر کلمہ گو سے تعاون کرنے کی سعی کرنے چاہئے۔ ابو سعید ابوالخیر ؒ کا قول ہے کہ خلق خدا کی جس میں بھلائی نہ ہو وہ کام خدا کو بھی پسند نہیں۔ اسلام کے پانچ ستونوں نماز، روزہ، کلمہ، زکوٰۃ، حج کا تذکرہ بہت ہوتا ہے۔ ریاضت و تفکر سے واضح ہوتا ہے کہ یہ محض ستون نہیں ان پر خلق خدا کی خدمت کی عمارت تعمیر ہوتی ہے ان سب کا مقصد انسانوں کی بہتری اور بخشش ہے۔ حضرت بایزیدبسطامی ؒ کا قول ہے کہ ”جب میں عرش خدا وندی کے نزدیک پہنچا اور دریافت کیا، اللہ کہاں ہے؟ جواب ملا کہ اللہ میاں کو اہل زمیں کے شکستہ قلوب میں تلاش کرو“۔آئیے مل کر دین کی خدمت خلق کے جذبے کو فروغ دیں تاکہ اخوت و بھائی چارہ پروان چڑھے۔ پروفیسر تنویر احمد نوید نے کہاکہ حضرت سری سقطی ؒ کا کہنا ہے کہ ”حسن خلق یہ ہے کی مخلوق خدا کو آزار نہ پہنچاؤ اور لوگوں کی دی ہوئی تکالیف کو برداشت کرو“۔ ڈاکٹر شمشاد احمد شاہین کا کہنا تھا کہ فیصلہ کر لینا بہت اہم سہی مگر فیصلہ اس وقت تک ایک آرزو ہی رہے گا جب تک اس پر عمل نہ ہو، یہاں بیٹھے علماء اور سول سو سائٹی کے نمائندے اپنی اپنی بساط بھر کوشش سے عملی آغاز کریں تا کہ نتیجہ بھی نکل سکے۔ سوشل ورکر چوہدری جاوید اعظم کہنے لگے کہ اللہ تعالیٰ کبھی اس شخص کو ہدایت سے محروم نہیں رکھتا جو اس کیلئے انکسار، صبر، اعتماد اور استقلال سے کوشش کرتا ہے۔ وہ ہمیں بھٹک جانے کی ڈھیل بھی اسی لیے دیتا ہے کہ ہم گمراہی سے اور اچھی طرح واقف ہو جائیں اور اپنی نیتوں کا امتحان دے سکیں، ہو سکتا ہے کہ کامیابی دم آخر تک حاصل نہ ہو یا ایسی صورت یا موقع پر نصیب ہو جس کا وہم و گمان بھی نہ تھا۔ 
میں حاضرین کی باتیں سن رہا تھا اور ان کے شوق اور جسارت کی داد دے رہا تھا۔ میں نے عاطف رزاق سے پوچھا کہ آخر اس کارِ خیر کے لیے مکالمے اور مباحثے کی ضرورت کیا ہے؟ توا س نے کمال تدبر سے جواب دیا کہ جھگڑوں کا آغاز بھی چونکہ انسانی دل و دماغ میں ہوتا ہے اس لیے امن وخدمت کی فصلیں بھی انسان کے قلب و دماغ میں ہی بونی چاہئیں“۔ میرا خیال ہے کہ ایک آزاد اور متحرک سماج کی عظمت میرے حقِ آزادی کے شعور اور میرے آزاد ہونے کی قابلیت میں نہیں بلکہ میرے ساتھی انسان کے حقِ آزادی کے شعور و فہم اور اس کی آزاد ہونے کی قابلیت میں بھی ہے۔ عبادات ہستی کی بے وقعتی کے خلاف رد عمل ہیں۔ عبادات صرف فرد کو اپنے سے منسلک سے نہیں کرتیں بلکہ اسے حتمی رشتوں میں زندگی کا احساس بھی عطا کرتی ہیں۔ عبادات دانش و بصیرت سے جنم لیتی ہیں یہ انسان کو اس طرح اکیلے کھڑا ہونا سکھاتی ہیں کہ وہ تنہا نہ ہو۔ آج عبادات کا حقیقی مفہوم متعارف کروانا، مساجد کو حقیقی عبادت گاہ کے تصور سے جوڑنے کی کوشش کرنا اور سماج کو انسانی اخوّت کے مذہب کے پیغام کی یاد دہانی کروانا یقینا اہل فکر کا کام ہے اور لائق تحسین بھی ہے۔ نوجوانوں کے اس فکری گروہ کا مثبت کردار دیکھ کر مجھے حسن عبدالحکیم کی کتاب King of the Castleکے مقدمے کی یہ سطور یاد آگئیں کہ ”ایک منظم اور صالح انسانی معاشرہ ان لوگوں سے کبھی تعمیر نہیں ہو سکتا جو ایسے معاشرے کی تخلیق کو اپنا بنیادی مقصد بنا لیتے ہیں۔۔۔ایک اچھامعاشرہ صرف ان افعال افکار اور محسوسات کی ضمنی پیداوار کے طور پر اُبھر سکتا ہے جن کا ہدف انسانی زندگی کے حوادث سے ماوراہو،جن کا مقصد دارالخلد ہو۔“ اس علاقہ کے جوانوں کی تخلیقی اقلیت نے بھی ایسا ہی خواب دیکھا ہے۔دُعا ہے کہ یہ جلد سے جلد تعبیر حاصل کرے۔ اس کے لیے پروردگار نے جنہیں حرکت کی توفیق دی ہے انہیں استقلال بھی عطا کرے۔ (آمین)



سوموار، 16 مئی، 2016

فلاح معاشرہ اور مساجد و آئمہ مساجد کا کردار

فلاح معاشرہ اور مساجد و آئمہ مساجد کا کردار 



ہمارا دین رحمت جس ضابطہ حیات کی دعوت دیتا ہے اس میں اجتماعی فوز و فلاح کا راز مضمر ہے اور ایک ایسے خدا پرست معاشرے کا داعی ہے جس کے افراد ایک خالق و مالک کے رشتے سے باہم اخوت و محبت رکھتے ہیں، ان کی پوری زندگی انتہائی نظم و ضبط اور کامل اطاعت کا مظہر ہو اور اس میں انتشار، افتراق، بے ترتیبی کا گذر نہ ہو، اس کے رکوع و سجود بھی انہی صفات کے حامل ہوں اور تمام شعبہئ ہائے حیات میں بھی یکجہتی کا مظاہرہ دکھائی دے۔ 
اسلام کے تصور مدنیت میں لوگوں کے شعور کی تربیت اسی اساس پر ہے کہ عبادت صرف دعا اور مناجات تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کی معنویت زندگی کے ہر شعبے پر محیط ہے۔ اس تناظر میں سماج میں مسجد کے مقام کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ محض مقام صلوٰۃ نہیں ہے بلکہ اسلامی ریاست کا دارالامارت بھی ہے اور اس کا منبر مقام وعظ و تذکیر ہی نہیں بلکہ ریاستی پالیسی کے اعلانات کی سرکاری جگہ ہے۔ اسلام کا یہ امتیازی وصف ہے کہ اس نے مساجدکی تقدیس و حرمت کو وسیع معنویت عطا کی ہے اور انہیں اس نظام حیات کی تربیت گاہ قرار دیا ہے جو دین و دنیا دونوں پر محیط ہے۔ تھنکرز فورم کڑیانوالہ کے سماجی راہنما عاطف رزاق بٹ اور کیئرز پاکستان دہمتھل کے سرپرست پروفیسرتنویر احمد نوید سماج سدھار کے لیے ہر لمحہ متحرک رہتے ہیں اور اس کار خیر کے لیے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے۔ علاقے میں اسلامی بھائی چارے کا فروغ ان کے مشن کی نمایاں ترجیح ہے انہوں نے بڑی جہاندیدگی سے ”فلاح معاشرہ میں مساجد اور آئمہ مساجد کا کردار“ کے موضوع پر چراغ اعظم ٹرسٹ بھنگرانوالہ کے اشتراک سے مکالمے کی فکر انگیز محفل کا اہتمام کیا اور خلوص نیت سے علاقہ کے ممتاز علمائے دین اور آئمہ مساجد جو مختلف مسالک سے تعلق رکھتے تھے ان کو مدعو کیا۔ مکالمے میں مجھ نا چیز سمیت، جامعہ گجرات کے پروفیسر ڈاکٹر غلام علی کو بھی شرکت کی دعوت دی۔ اتوار 15 مئی کے روز امریکہ میں مقیم دانشور جاوید اعظم چوہدری کی میزبانی میں مکالمے کی محفل میں شرکت خوشگوار حیرت کا موجب بنی۔میزبان چوہدری جاوید اعظم نے تعارفی کلمات میں واضح کیا کہ مسلمانوں کی اجتماعی زندگی میں مسجد کا رول کلیدی رہا ہے۔ رسول اللہ ؐاور اصحاب رسولؐ کی زندگی میں مسجد دینی، سماجی اور سیاسی تمام قسم کی مثبت اور تعمیری سرگرمیوں کا مرکز ہوتی تھی مگر آج کل محلوں میں مساجد جزیرے بن کر رہ گئی ہیں۔ ان کو آباد کرنا اور معاشرے سے جوڑنا لازمی ہے۔ میں نے عرض کیا ابتدائے اسلام میں نبی کریم ؐ امام بھی تھے اور خطیب بھی اور اسی طرح خلفائے راشدین، امراء و قائدین سب امامت و خطابت کے منصب پر فائز ہوا کرتے تھے۔ اس لیے کسی مسجد کے امام و خطیب کے لیے علم و اخلاق کے اعتبار سے مضبوط ہونا معاشرہ کی فلاح کے لیے ناگذیر ہے۔ چونکہ امام و خطیب ہی کے ذریعے مسجد اپنا روحانی، ثقافتی اور سماجی کردار ادا کرتی ہے اس لیے ان کی حیثیت مسجدوں کے ستون اور معمار کی سی ہوتی ہے۔ 
مسجد مسلمانوں کی انفرادی و اجتماعی زندگی کا ایسا مرکز و محور ہے جہاں سے ان کے تمام مذہبی، اخلاقی، اصلاحی، تعلیمی، تمدنی، ثقافتی، تہذیبی، سیاسی اور اجتماعی امور کی راہنمائی ہوتی ہے اور ہونی چاہیے۔ مسجد دین کی ہمہ گیر یت اور جامعیت کو مستحکم کرنے والے ادارے کی حیثیت کی حامل ہے۔ مسجد مسلمانوں کے درمیان اخوت و بھائی چارے کے رشتے کو مضبوط کرنے کے لیے ثمر آور کردار کی ضامن ہے۔ قرون اولیٰ میں مسجد کی حیثیت دارالخلافہ سے لے کر غرباء و مساکین کی قیام گاہ تک تھی۔ یہیں ان کی تعلیم و تربیت ہوتی اور یہیں سے دوسری قوموں کے ساتھ تعلقات کے اطوار طے ہوتے تھے۔ یہ خلیفہ کا مسکن اور معاہدات کی جگہ تھی۔ اجتماعی کاموں کی منصوبہ بندی اور مفاد عامہ کی فلاح کی پالیسیاں مسجد میں ہی تشکیل پاتی تھیں۔ جب تک سماج میں مسجد کو یہ مقام حاصل رہا، مسلمان امت واحدہ رہے لیکن جیسے جیسے سماج اور مسجد میں فاصلہ بڑھتا گیا، نظم ختم ہوتا گیا، انتشار، فرقہ واریت اور دین سے دوری بھی بڑھتی گئی۔ مساجد ہی تعلیم و تربیت کا مرکز ہوتی تھیں۔ جامعہ الازھر پہلے ایک مسجد ہی تھی اور اپنے کردار سے جامعہ میں تبدیل ہو گئی۔ اس سے مسلم سماج پر مسجد کے اثرات کا اندازہ ہو جاتا ہے۔ اس کے اثرات کم ہونے کی وجہ سے مسلم سماج کو بہت نقصان اٹھانا پڑا۔ مسجد کا سب سے اہم کام مسلمانوں میں اجتماعیت کا قیام اور اسے پائیدار بنانا تھا مگر ہمارے ہاں مسجدیں مسلکی کش مکش کے مراکز بن کر رہ گئی ہیں۔ آج جب ہم ہر لحاظ سے نشاۃ ثانیہ کا خواب دیکھ رہے ہیں تو لازم ہے کہ مسجد کو مسلم سماج سے مطلوب سطح پر جوڑ دیا جائے۔ مسلمانوں کی فکر سازی اور سماجی اصلاح دونوں کام مسجد سے لیے جا سکتے ہیں مسجد کی انتظامیہ اور اس کا امام صحیح شعور سے بہر ہ ور ہو جائے تو مسجد امت مسلمہ کے لیے ایک فکر ساز ادارے یعنی تھنک ٹینک کا کام کر سکتی ہے۔ ایسے ہی جیسے شروع میں نبی کریم ؐ نے مسجد کو مقام و مرکزیت دی تھی۔ معاشرے کی اصلاح کے لیے مسجد کو مرکز بنانے سے بہت سے تنازعے، فتنے اور فروعات ختم ہو جائیں گے۔ یقین مانیں مسجد کو اپنا حقیقی مقام مل جائے تو سماج سے بڑے مسائل ختم کیے جا سکتے ہیں۔ 
عصری منظر نامے پر نظر دوڑائیں تو عیاں ہوتا ہے کہ غیر مسلم معاشروں میں موجود اقلیتی مسلمانوں کی مساجد مسلم اکثریتی معاشرے کی مساجد سے زیادہ فعال اور بھرپور کردار ادا کر رہی ہیں۔ یہ مساجد اسلامک سنٹرز کا کردار ادا کر رہی ہیں۔ اپنی مساجد کو آباد اور فعال کرنے کے لیے ہمیں انہیں جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہو گا تاکہ لوگوں کی توجہ کا مرکز بن سکیں۔ لوگ اس طرف دلچسپی لیں گے، اس طرف آئیں گے تو ہی اصلاح اور فلاح کی تربیت ممکن ہو گی۔ ہماری مساجد میں خواتین کا داخلہ بند کر کے 52 فیصد مسلمانوں کو ویسے ہی لا تعلق کر دیا گیا ہے۔ اس حوالے سے ہمیں مجتہدانہ فکر سے کام لینا ہو گا۔ بچوں کی تعلیم و تربیت کے لیے مساجد کے ساتھ کمیونٹی سنٹرز ہونا ضروری ہے۔ تاکہ لوگ وہاں آئیں اپنی اپنی دلچسپی کے کاموں میں مشغول رہنے کے ساتھ ساتھ نماز پنجگانہ بھی خشوع و خضوع سے ادا کریں۔ مساجد میں کتب خانوں کی ثقافت متعارف کروانی پڑے گی۔ جدید ٹیکنالوجی کا استعمال وقت کا اہم تقاضا ہے۔ ہم ایئر کنڈیشنر تو مساجد میں لگا لیتے ہیں، ڈیجیٹل لائبریری قائم نہیں کرتے۔ہمیں مساجد کے فلاحی کردار کو بحال کرنے کے لیے مختلف فلاحی تنظیموں کے تعاون سے مسجدوں میں رضا کار ڈاکٹر اور فرسٹ ایڈ کی فراہمی ممکن بنانی ہو گی۔ محلہ داروں میں آگاہی مہم متعارف کروانی ہو گی۔ مساجد میں ریفریشر کورسز شروع کروانے ہوں گے۔ نمازیوں اور مسجد آنے والوں میں باہمی بھائی چارگی سے ایک دوسرے سے تعاون اور امداد کو پروان چڑھانا ہو گا۔ صرف مسجد کے لیے چندہ مانگنے کی بجائے غریب اور مستحق اہل محلہ کی مدد کے لیے متحرک کردار ادا کرنا ہو گا۔ مسجد کے ساتھ ہم بزرگ شہریوں کے بیٹھنے، اخبار پڑھنے کی سہولت وغیرہ کا انتظام کردیں تو مسجد میں آنے کا رجحان بڑھ جائے گا۔ مسجدوں میں ان موضوعات پر گفتگو کو عام کرنا جن پر ملت اسلامیہ متحد ہے۔ مسلمان اللہ کے سپاہی ہیں جن کا مرکز اور چھاؤ نی مسجد ہے۔ آئمہ مساجد کو مل بیٹھ کر اپنی اپنی مسجد کو آباد کرنے کے لیے زمینی حقائق،عصری چیلنجوں اور مستقبل کی مشکلات کے ادراک کے پیش نظر باہمی اتفاق سے لائحہ عمل ترتیب دینا ہے اور امام و راہبر کا فریضہ ادا کرنا ہے۔مختلف مسالک سے تعلق رکھنے والے علامہ رضا المصطفیٰ، قاری محمد عیسیٰ، قاری محمد نعیم، قاری غلام نبی، حافظ محمد الیاس، قاری ذوالفقار جلالی، قاری غلام محمد، قاری ساجد وٹو اور مذہبی سیاسی شخصیت فیاض شاہد بٹ سمیت شرکاء نے کمال محبت و شفقت سے میری گفتگو کو سنا اور مثبت انداز میں میری بات کو آگے بڑھایا۔ ڈاکٹر غلام علی نے جدید علوم کے تقاضوں اور دینی ہم آہنگی کے ثمرات سے آگاہ کیا اور برداشت، رواداری،تحمل اور تحرک کو نصب العین بنانے کی ترغیب دی اور خطبوں کو جوش کی بجائے ہوش سے ترتیب دینے کی استدعا کی۔ اس مکالمے میں شریک ہر فرد خلوص نیت سے اتفاق و اتحاد کا داعی نظر آرہا تھا۔ مکالمے کی ایسی کاوشیں ہی افہام و تفہیم سے اسلام کی حقیقی روح کے تعارف کے لیے نا گذیر ہیں۔ منتظمین و میزبان جزائے خیر کے حقدار ہیں۔ مکالمے میں شریک مختلف الخیال علماء کی شرکت اور تحمل و تدبر قابل تحسین تھا۔ ہر ایک نے ایک دوسرے محلے کی مساجد میں جانے کا اعادہ کیا۔  
مسلکی اور گروہی تضادات میں بٹے معاشرے میں مساجد اور آئمہ مساجد کے فعال کردار سے ہی نمٹا جا سکتا ہے۔ مسجد کے کردار کو بحیثیت ادارہ فروغ دے کر مقاصد حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ مساجد کو امت مسلمہ کی یکجائی کا مرکز و محور بنا کر ہی آگے بڑھا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے کسی مسیحا کا انتظار کرنے کی بجائے ہمیں اپنی مدد آپ کے تحت آگے بڑھنا ہے اور اپنی اپنی بساط کے مطابق علاقائی اور مقامی سطح پر اقدامات کرنے ہیں۔ سماج میں نیک لوگوں کی کمی نہیں،انہیں اعتماد دینے اور حوصلہ دینے کی ضرورت ہے۔مسجد کا سماجی کردار وسیع ہو گا تو امامت کے ادارے کی اہمیت بھی بڑھے گی اور مسجد کے امام کو ”دو رکعت کا امام“ سمجھنے کے رویے میں تبدیلی پیدا ہو گی اور پھر سماجی علوم کے حامل علوم دین سے بہرہ مند با صلاحیت اور زرخیز فکر علما وفضلا امامت کی طرف آئیں گے۔ جن سے عوام کی دینی و سماجی ذہن سازی ہو سکے گی۔ مساجد اور آئمہ کے کردار سے ہماری مدنی اور تہذیبی زندگی میں اسلام کی روح نظر آنے لگے گی۔ 

جمعہ، 6 مئی، 2016

سرشت بہار زندہ ہے

سرشت بہار زندہ ہے 


زندہ قومیں زندہ لوگوں کی قدر کرتی ہیں جبکہ مردہ قومیں مردوں کی پرستش کرتی ہیں۔ ماضی پرست قوم ہونے کے ناطے ہمارے ہاں ”عظمت رفتہ“ کا سحر اس قدر طاری ہے کہ ہمیں زندہ لوگوں میں کوئی بڑا آدمی نظر ہی نہیں آتا۔ ہم رشک کی بجائے حسد کرنے کے عادی ہیں۔ بت پرستی کے اس عالم میں زندہ لوگوں سے محبت کے اظہار، ان کی تعریف و تحسین کے لیے ان کے اعزاز میں منعقد ہونے والی پر وقار تقریب میں شرکت کی دعوت ملی تو مجھے حیرت ہوئی لیکن خوشی بھی ہوئی کہ ’سرشت بہار زندہ ہے“۔وطن عزیز کے قابل قدر ماہرین تعلیم اور اعلیٰ تعلیم  کے راہبر چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن ڈاکٹر مختار احمد،ایگزیکٹو ڈائریکٹر HEC ڈاکٹر ارشد علی، وائس چانسلر یونیورسٹی آف اینمل اینڈ ویٹرنری سائنسز ڈاکٹر طلعت نصیر پاشا اور گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد کے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد علی شاہ کو تعلیم، تدریس، تحقیق کے حوالے سے قومی خدمات پر حکومت پاکستان نے ستارہئ امتیاز اور تمغہئ امتیاز سے نوازا تو اعلیٰ تعلیم کے حلقوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی تھی۔ اس خوشی کے اجتماعی اظہار کے لیے وائس چانسلر یونیورسٹی آف گجرات پروفیسر ڈاکٹر ضیاء القیوم، وائس چانسلر علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد ڈاکٹر شاہد صدیقی اور شہید ذوالفقار علی بھٹو میڈیکل سائنسز یونیورسٹی اسلام آبادکے وائس چانسلر ڈاکٹر جاوید اکرم نے مشترکہ طو رپر ”شامِ اعزاز“ کی میزبانی کا اعلان کیا اور گذشتہ دنوں لاہور کے کیولری گراؤنڈ میں شاندار، باوقار اور علم پرور عشائیے کا اہتمام کر کے واضح کیا کہ صاحب علم او ربا عمل لوگ زندہ قومی ہیروز کی قدر کرتے ہیں۔کیونکہ عظیم دماغ دوسروں کے اثرات سے نہ خوفزدہ ہوتے ہیں اور نہ مرعوب بلکہ ان کے وجود کی وسعت کا انداز کرتے ہیں۔ 

ڈاکٹر جاوید اکرم کا گھر ان کے ذوق جمال کا عکاس تھا اور حسنِ انتظام ان کی انتظامی صلاحیتوں کا کھلا ثبوت کہ آنے والوں کے لیے شرکت بلا شبہ اعزاز سے کم نہ تھی۔تقریب اتنی پروقار تھی کہ پنجاب کی 35 جامعات کے سربراہان یہاں اپنی اپنی شریک حیات کے ساتھ اعتماد اور محبت سے کھنچے چلے آئے،ایسا لگ رہا تھا کہ اعلیٰ تعلیم محض ایک پیشہ نہیں اس سے وابستہ لوگ ایک فیملی ہیں۔ 
جامعات کے سربراہان کو داد دینے کے لیے ممتاز تجزیہ نگار و اینکر سہیل وڑائچ، سینئر صحافی سجاد میر، جوان فکر اینکر حبیب اکرم، تعلیم دوست کالم نگار نعیم مسعود، ڈی جی پی آر کے  ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر محمد اسلم ڈوگر، وفاقی پارلیمانی سیکرٹری برائے دفاع ایم این اے چوہدری جعفر اقبال اور وزیر اعلیٰ پنجاب کے مشیر صحت خواجہ سلمان رفیق بھی پیش پیش تھے۔ 
شیخ الجامعہ دانش گاہ گجرات  ڈاکٹر ضیاء القیوم جس گرمجوشی اور محبت سے مہمانوں کو ’جی آیاں نوں‘کہنے میں مصروف عمل تھے اسے دیکھ کر مجھے مدر ٹریسا کی یہ بات یاد آرہی تھی کہ ”اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ہم کس کو کتنا کم یا کتنا زیادہ دے رہے ہیں بلکہ فرق صرف اس بات سے پڑتا ہے کہ ہم جو کچھ دے رہے ہیں اس دینے میں ہماری محبت کس قدر شامل ہے“۔ 
ستارہئ امتیاز کے حامل مہمانان گرامی پنڈال میں آئے تو ایسے ہی تھا جیسے چپکے سے ویرانے میں بہار آ جائے۔ عالموں کی آمد سے شب بھی منور ہو گئی۔ جس کو بھی مبارک دی جاتی وہ عجز و انکساری کا پیکر بن جاتا۔اور برملا کہہ دیتا یہ میرا نہیں میرے شعبے کا اعزاز ہے، یہ ہائر ایجوکیشن کے لیے افتخار کی بات ہے۔ کارکردگی، محنت،ریاضت اور کاوش کے شجر پر پھل ضرور آتا ہے اور ایسے موقعوں پر لوگ ثمر دار درخت یافرد کی طرف اشارہ کر کے ضرور کہتے ہیں کہ 
؎  دانہ خاک میں مل کر گل و گلزار ہوتا ہے  
دانہ زمین کی تہہ دار گہرائیوں اور اندھے غاروں میں سفر کر کے کس طرح زمین کا سینہ چیر کر باہر آتا ہے، یہ دانہ ہی جانتا ہے مگر اس کی ذات میں اپنے آپ کو دکھانے اور ذات کااظہار کرنے کے لیے جس ہمت اور محنت کی ضرورت ہوتی ہے اس کا ہونا بے حد ضروری ہے۔ ڈاکٹر مختار احمد، ڈاکٹر ارشد علی، ڈاکٹر محمد علی شاہ یا ڈاکٹر طلعت نصیر پاشا کو تحقیق و تعلیم کے میدان میں کتنی جان مارنا پڑی اس کا اندازہ شاید دور بیٹھ کر نہیں کیا جاسکتا ہے اس کے باوجود یہ سارے تشکر و عاجزی کا جو مظاہرہ کر رہے تھے اس سے نوبل انعام دینے کی وہ تقریب ضرور یاد آرہی تھی جس میں عظیم امریکی ادیب ولیم فاکنر کو نوبل انعام ملا تھا، وہ اپنی بیٹی کے ساتھ انعام وصول کرنے سویڈن گیا تو اس نے کہا ”یہ انعام مجھے نہیں میرے کام کو دیا گیا ہے“اسی خیال سے میں آگے بڑھا مگر درویش منش چیئر مین HEC ڈاکٹر مختار احمد سے پوچھنے کی جسارت نہ کر سکا کہ آپ کو یہ ستارہئ امتیاز کیوں ملا……؟  بہت سے لوگ مصروف عمل ہیں تو پھر سرکاری انتخاب آپ کیوں؟ تاہم میں نے یہی سوال پاس بیٹھے محترم ڈاکٹر ضیاء القیوم سے ذرا بدل کر پوچھ لیا کہ ان لوگوں کی امتیازی صفت کیا ہے جو باقی لوگوں میں کم ہے۔ ان کی کونسی کرامت ہے کہ انہیں یہ اعزاز ملا ہے؟ ڈاکٹر ضیاء القیوم مسکرائے اور بولے کہ ایک عربی مقولہ ہے ”الاستقامۃ فوق الکرامۃ“ یعنی استقامت کرامت سے بھی اوپر ہے۔ یہ استقامت والے لوگ ہیں یہ کام اور محنت کرتے نہیں ہیں کئی عشروں سے کرتے ہی چلے آرہے ہیں۔ آدمی اگر استقلال کے ساتھ کام کرے تو وہ اس سے بھی زیادہ بڑی کامیابی حاصل کر لیتا ہے جو کوئی صاحب کرامت آدمی کرامت کے ذریعے حاصل کرتا ہے۔  میں ضیائے دانش گاہ گجرات کی بات سن کر چپ ہو گیا اور میرے ذہن میں بنجمن ڈزرائیلی کا یہ قول مچلنے لگا کہ ”زندگی میں سب سے زیادہ کامیاب شخص وہ ہے جو بہترین معلومات رکھتا ہو“۔  

ڈاکٹر جاوید اکرم اور ڈاکٹر شاہد صدیقی نے اپنے اپنے انداز میں مہمانوں کو مبارکباد دی اور کہا کہ ایسی تقریبات کو اعلیٰ تعلیم کے غیر رسمی تعلقات سے تعبیر کرنا چاہیے جہاں نئی روایات جنم لیتی ہیں۔ محترم سہیل وڑائچ نے کہا کہ یہ تقریب دیگر سربراہان جامعات کے لیے بھی امید افزاء ہے اور پھر غیر رسمی ماحول میں اعلیٰ تعلیم کے تعمیری و تطہیری پہلوؤں پر کھل کر گفتگو نئے اعزازات کے لیے راستہ ہموار کرنے کا موجب ہو گی۔ سینئر صحافی سجاد میر نے مبارکباد دی اور کہا کہ اتنے بڑے بڑے عالموں، محققوں بلکہ استادوں کے استادوں کی محفل میں آنا خوشی کی بات ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہماری تحقیق کو جدت و اختراع کے ساتھ ساتھ قومی تقاضوں سے ہم آہنگ بھی ہونا چاہیے۔ اینکر حبیب اکرم نے کہا کہ میں نے تو دوران تعلیم مشکل سے اپنے وائس چانسلر کو قریب سے دیکھا تھا جبکہ آج اتنے زیادہ وائس چانسلرز کی موجودگی میں خوش اور حیران ہوں او رموقع غنیمت جان کر چیئر مین HEC سے گذارش کروں گا کہ قومی زبان کے نفاذ کے لیے اعلیٰ تعلیم میں قومی زبان کے کردار پر بھی بھرپور کام کیا جائے۔ تمغہئ امتیاز کے حامل ڈاکٹر محمد علی شاہ تعلیم و تحقیق کے حوالے سے بات کر رہے تھے تو عیاں ہو رہا تھا کہ دنیا کے اعزازات اس پر جوش شخص پر واری واری جاتے ہیں جو اپنے آپ کو ٹھنڈ ااور متوازن رکھتا ہے۔ ڈاکٹر محمد علی شاہ کی سائنسی تحقیق کی گرمی کو ان کی صوفیاء کے کلام سے محبت ٹھنڈا رکھتی ہے،وہ مٹی کی خوشبو سے رچی بسی پاکستانی فکر کے علمبردار ہیں وہ کامل درویش کی طرح شکریہ ادا کر رہے تھے۔ البرٹ آئن سٹائن سے اس کے عظیم اور ناقابل فراموش کارناموں کے بارے میں کسی نے پوچھاتو اس نے ایک ہی بات کہی تھی کہ وہ ہمیشہ دوسروں کا شکریہ ادا کرتا ہے۔ وہ دن میں کئی کئی مرتبہ اظہار محبت کرتا تھا اسی لیے زندگی نے بھی اپنے تمام راز آئن سٹائن پرافشاکردیئے۔ ڈاکٹر محمد علی شاہ کی یہ خوبی آئن سٹائن سے ہی مماثلت رکھتی ہے۔ ڈاکٹر مختار احمد اپنی درویشی اور شیریں گفتگو اور متانت کے باعث جانِ محفل نظر آرہے تھے۔ ہر ایک ان کے گرد جمع ہو کر ان سے دعائیں ضرور لیتا۔ کہتے ہیں کہ خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروق ؓنے ایک بار فرمایا،وہ ایک آدمی کی تلاش میں تھے جس کو کسی مقام کا حاکم بنا سکیں، انہوں نے کہا کہ میں ایک ایسا آدمی چاہتا ہوں کہ جب وہ کسی گروہ میں امیر ہو تو وہ ان میں انہی کے ایک شخص کی طرح رہے، او رجب وہ امیر نہ ہو تو ان کے درمیان امیر کی طرح بنا ہو، یعنی اس آدمی کے اندر ایسے اخلاقی اوصاف ہوں کہ عہدہ کے بغیر وہ لوگوں کے درمیان عزت و احترام کا درجہ حاصل کر لے، مگر اسی کے ساتھ وہ اتنا بے نفس ہو کہ اسے عہدہ پر بٹھا دیا جائے تو اس کے اندر بڑائی کا احساس پیدا نہ ہو، اس کے باوجود لوگوں کے درمیان عام آدمی کی طرح رہے۔ اچھے عہدیدار کی اس سے بہتر تعریف نہیں ہو سکتی۔ اسی تعریب کا کرشمہ میں نے اس شامِ اعزاز میں دیکھا۔ مجھے لگا کہ اختیار کو مختار سے نسبت یونہی نہیں ہو گئی، فضّلِ ربی ضرور ہے اور بے وجہ بھی نہیں ہے وہ بلا شبہ ستاروں کی اس محفل میں چودھویں کے چاندکی طرح تھے۔ 
مجھے خوشی ہے کہ جس لمحہ ان اعزازات پانے والی ہستیوں کی ستائش کی جا رہی تھی،میں لفظوں کی مالا لیے ان کے ساتھ کھڑا تھا اور دل ہی دل میں دعا کر رہا تھا کہ رب العالمین! امتیاز کے حامل ان ماہرین تعلیم کی روح اور دل کو سکون و راحت نصیب کرے۔ 
یہ تقریب ’ہیروورشپ‘کی نہیں تاریخی شعور کی عکاس تھی۔تاریخی شعور ہی ہے کہ جس میں ماضی اور حال کا وجدان دونوں شامل ہیں۔ تاریخی شعور انسان کو اپنے عہد کے ساتھ سانس لیتے انسانوں کی ہڈیوں میں موجود محبت کے ذروں کو لفظ اور احترام میں سمو دینے کا حوصلہ بخشتا ہے اور یہی فکر ہمیں اپنے ہم عصروں، وقت اور زمانے کا احساس دلاتی ہے اور پھر لوگ اور گروہ حسد کرنے کی بجائے رشک کرنے کی راہ پر بامراد ٹھہرتے ہیں۔ یہ شامِ اعزاز نوید دے رہی تھی کہ اعلیٰ تعلیم کی اگواکاری کا فریضہ تاریخی شعورکے حامل رشک کرنے والے مثبت فکر لوگوں کے کاندھوں پر ہے جو اس قوم کے لیے روشن مستقبل کی ضامن اچھی خبر ہے۔