جمعہ، 24 اکتوبر، 2014

طبلے کا شاعر: میاں نبی بخش کالروی

برصغیر پاک و ہند میں موسیقی کے نامور طبلہ نواز و پنجابی شاعر میاں نبی بخش 1840ء میں گجرات کے نواح میں جی ٹی روڈ پر واقع گاؤں کالرا میں پیدا ہوئے۔ میاں نبی بخش گائک اور مخترع بھی تھے۔ دنیائے موسیقی میں میاں نبی بخش کالرے والے کے نام شے شہرت حاصل کی۔ ان کے ننھیال کا تعلق موسیقی سے تھا اور ان کے گھرانے کے کئی افراد موسیقی سے وابستہ تھے جبکہ کالراپنواں میں ان کا ددھیال زمیندار گھرانہ تھا۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم گاؤں کے سکول سے ہی حاصل کی اور صرف دوجماعت پاس تھے۔ میاں صاحب کے ایک ماموں سارنگی نواز تھے جن سے متاثر ہو کر انہوں نے موسیقی میں دلچسپی لینا شروع کر دی۔ موسیقی سے ان کی گہری دلچسپی دیکھ کر ان کے ماموں نے انہیں موسیقی کی باقاعدہ تعلیم دینا شروع کی۔ شروع میں میاں نبی بخش نے پکھاوج سیکھنے میں زیاد شوق دکھایا مگر بعد ازاں وہ طبلہ بجانے کی طرف راغب ہو گئے۔ طبلہ سیکھنے کے لیے انہوں نے پنجاب گھرانے کے نامور استاد میاں فتح دین کی شاگردی اختیار کی۔ میاں فتح دین نے پکھاوج کو بند ہاتھوں سے بجانے کی روایت ڈالی۔ ان سے پہلے پکھاوج کھلے ہاتھوں سے بجایا جاتا تھا۔ موسیقی کے محقق، استاد،مصنف اور نامور کلاسیکی گائیک استاد بدرالزماں اپنی کتاب ”سرتال“ کے صفحات 437-38 پر میاں نبی بخش کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ”میاں فتح دین کے شاگردوں کی لڑی میں میاں نبی بخش کالرے والے، میاں میراں بخش گل والیے، میاں کرم الہیٰ، بابا بڈھے خاں اور استاد محمد طفیل نارووالیے نے بہت نام پیدا کیا“۔

شہباز علی اپنی کتاب ’سرسنسار‘ میں بیان کرتے ہیں کہ طبلہ نوازی میں پنجاب گھرانہ نمایاں اور منفرد مقام کا حامل ہے۔ میاں نبی بخش نے بھی اپنے استاد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے پنجاب گھرانہ کی طبلہ نوازی کو سجانے اور سنوارنے کا کام جاری رکھا۔ پنجاب گھرانے کا اپنا ایک اچھوتا اسلوب اور قرینہ ہے جو اسے طبلہ نوازی کے دیگر گھرانوں سے ممتاز کرتا ہے۔ اس گھرانے کے طبلہ نوازوں نے طبلے پر گت توڑا، ’پرن‘ یا’ریلا‘ زیادہ بجایا ہے اور یہی پنجاب گھرانے کی نمایاں خصوصیت ہے۔ گجرات کے میاں نبی بخش کو پنجاب کے طبلہ نوازوں نے ’طبلے کا شاعر‘ کا لقب دیا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ جس طرح ایک شاعر دوسرے شاعر سے مختلف ہوتا ہے اور اس میں اختراع کا مادہ ہوتا ہے۔ اسی طرح میاں صاحب نے بھی طبلے میں بہت سی نئی چیزیں اختراع کیں، مثلاً انہوں نے چار اور سات درجے کی گتیں بنائیں، تڑپات گت بنائی جو پہلے موجود نہ تھی، قاعدے اور پیش کاریاں بنائیں۔ ان کے بنائے ہوئے ایک قاعدہ کے بول ملاحظہ ہوں  
دھاتی دھا گھڑ نگ تٹ کٹ
تگ گھڑ نگ تٹ نگ تٹ کٹ               
میاں نبی بخش کالرا نے طبلہ سیکھنے کے بعد سب سے پہلے گجرات میں موسیقی کی درسگاہ قائم کی جہاں انہوں نے کئی سالوں تک شائقین کو طبلے کی تربیت دی اور پھر امرتسر منتقل ہو گئے اور وہاں موسیقی کی تعلیم کا سلسلہ شروع کر دیا۔ طبلے کی دنیا میں ناموری کمانے والے استاد کریم بخش پیرنہ  امرتسر میں ہی میاں صاحب کے شاگرد ہوئے۔ ان دنوں امرتسر میں سنگیت ساگر استائی بھائی لعل محمد کے نام کا ڈنکا بجتا تھا۔ وہیں دونوں گنی سنگیت کار ’ولی راولی می شناسد‘کے مصداق ایک دوسرے کے بہت قریب ہو گئے۔ امرتسر میں فضل دین، ہدایت و دیگر کو طبلے کی تربیت دی اور چند سالوں بعد ہی واپس گجرات آگئے اور دوبارہ یہیں طبلہ سکھانے لگے۔ گجرات کے مشہور بیرسٹر ایشر داس کا بیٹا ترلوک کپور بھی میاں نبی بخش کا شاگرد تھا۔ میاں صاحب کے نامور شاگرد وں میں استاد اللہ دتہ بہاری پوری، علی بخش ٹانڈے واسیا اور مہندر سنگھ بیدی نمایاں ہیں۔ میاں نبی بخش کالروی باکمال شخص تھے، انہوں نے بہت سے نئے راگ اختراع کرنے کے ساتھ ساتھ مروجہ راگوں کے استھائی انترے بھی تخلیق کیے اور اپنے تخلیق کردہ استھائی انتروں میں لفظ”عبدل“ بطور تخلص استعمال کیا، مثلاً راگ ’شدھ سارنگ“ کے بول دیکھیئے۔ 
استھائی: گاؤ سب گنین گائیں جگت تیرو 
انترا: تو ہی آو تو ہی انت، تیرو ہی سنسار
عبدل کی پربھو راکھو لاج اب 

پاکستان کے تمام بڑے گائکوں کو ان کے بنائے ہوئے استھائی انترے یاد تھے۔ میاں صاحب کے علم موسیقی سے جو نامور گائیک اور ساز نواز مستفید ہوئے ان میں استاد اللہ بخش حضروی، اعجاز حسین حضروی، ماسٹر محمد صادق پنڈی والے معتبر نام ہیں۔ 
کہا جاتا ہے کہ میاں نبی بخش کی اولاد نہیں تھی۔ گاؤں والوں نے ذکر کیا کہ کوئی اجنبی لاوارث بچے کو فروخت کرنے آیا ہے۔ آپ چاہیں تو یہ بچہ پرورش کے لیے آپ کو دے سکتے ہیں میاں صاحب نے اس بے آسرا بچے کو گود لے لیا۔ اس کا نام پیراندتہ چب تھا۔میاں صاحب نے اس کی پرورش اولاد کی طرح کی اور شروع ہی سے طبلے کی تعلیم دینا شروع کی۔ اس نے بھی پور ے ذوق اور شوق سے سیکھا اور محنت و ریاضت کی منزلیں طے کر کے نامور طبلہ نواز بن گیا۔ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میاں صاحب نے کوئی گت تیار کی اور اسے کہا بیٹا یاد کر لو، اس نے جواب میں یہ کہہ کر کہ یہ بھی کوئی گت ہے۔ کوئی دلچسپی ظاہر نہ کی۔ میاں صاحب نے پھر اسے یاد کرنے کو کہا تو اس نے کہا یہ بھی کوئی گت ہے میں اسے کیا یاد کروں۔ میاں نبی بخش نے پھر سمجھایا کہ میں نے یہ گت بڑی محنت سے تیار کی ہے اور میری خواہش ہے کہ تم اسے یاد کر لو، اس نے کہا یہ تو بیکار گت ہے،میرے یاد کرنے کے قابل نہیں۔ اس جواب پر میاں صاحب غصے اور جلال میں آگئے اور کہا بے مراد مجھ سے سیکھ کر، میری ہی بنائی گت کا مذاق اڑاتے ہو، بے مراد رہو، جاؤ تمہارے ہاتھ طبلہ بجانے کے قابل نہیں رہیں گے۔ کہتے ہیں کہ پھر اہل ِگجرات نے  دیکھا کہ استاد کی بدعا کے بعد پیراندتہ چب کا ذہنی توازن خراب ہو گیا وہ طبلہ بجانے کے قابل نہ رہا۔اور سالہا سال گجرات کی سڑکوں پر پاگلوں کی طرح پھرتا رہا۔ آخر کار گاؤں والوں کو رحم آیا اور وہ اسے میاں صاحب کے حضور لے گئے کہ اسے معاف کر دیں۔گاؤں کے لوگوں کے اصرار پر اسے معاف کر دیا گیا او رپھر کچھ عرصہ بعد پیراندتہ چب پھر طبلہ بجانے لگا۔ میاں نبی بخش کا اپنا پنجابی قطعہ ہے کہ 
اللہ، مرشد، پیر استاد دا جس تے ہووے سایا
اس نوں گھاٹا کوئی نہ رہندا مولا نے فرمایا
باج ایہناں دے کوئی نہ چنگا  جو دنیا تے آیا 
جس نے بے پروائی کیتی اس نے گھاٹا پایا 
میاں صاحب اولاد نہ ہونے کی وجہ سے شاگردوں کو ہی اولاد سمجھتے تھے۔ اولاد کی خاطر انہوں نے دو شادیاں کیں لیکن اس نعمت سے محروم رہے۔ ان کے ماموں نے بعد میں انہیں تیسری شادی کے لیے راضی کیا۔ تیسری شادی کے موقع پر ان کے شاگردوں نے استاد کی بیوی کے لیے چالیس تولے سونا بطور نذر پیش کیا۔ اللہ کے فضل سے تیسری بیوی سے ان کے ہاں نرینہ اولاد پیدا ہوئی جس کا نام ارشاد علی رکھا گیا۔ خلیفہ ارشاد علی ریڈیو پاکستان راولپنڈی سے تین عشروں سے زیادہ عرصہ تک وابستہ رہے۔ میاں صاحب طبلہ کے ماہر اور صاحب علم تھے انہوں نے طبلے کے حوالے سے ایک کتاب ”پستک تال برن“ کے عنوان سے لکھی تھی مگر یہ کتاب ان کی زندگی میں شائع نہ ہو سکی اور نہ بعد میں۔ شہباز علی کے مطابق اس کا قلمی نسخہ ان کے بیٹے خلیفہ ارشاد علی کے پاس محفوظ ہے جو راولپنڈی میں رہائش پذیر ہیں۔
میاں نبی بخش کالروی طبلہ نواز ہونے کے ساتھ ساتھ پنجابی زبان میں شعر بھی کہتے تھے۔ پنجابی شاعری میں بھی وہ موسیقی کو ہی موضوع بناتے رہے اور شعروں میں موسیقی ہی کی نزاکت و لطافت اور شیرینی کو بیان کیا۔ ان کی پنجابی شاعری بھی موسیقی سے ان کے قلبی لگاؤ اور روحانی وابستگی کا کھلا اظہار ہے۔ میاں نبی بخش کالروی کہتے ہیں 
گاون کولوں جاہل ڈر دے گاون بڑا خزانہ
حوراں جنت دے وچ گاون رب دا روز ترانہ
اس ہستی وچ سوجھت نئیں جس دے وچ ویرانہ
علم موسیقی دی مس جس نوں اس دا مغز شاہانہ
ای طرح سر اور سنگیت سے لگاؤ کی آفاقیت کو یوں بیان کرتے ہیں  
راجے، سادھ، فقیر شہزادے ہرمن راگ سہاوے  
راگ سریلا، رس دے پتھر دل نوں موم بناوے 
جتھے راگ دا پہرہ ہووے غم چنتا نس جاوے
عشق حقیقی، علم موسیقی دے وچ نظری آوے 
میاں نبی بخش کے آخری سال لاہور میں گذرے، انہوں نے ہیرا منڈی میں ایک بیٹھک کرایہ پر لے کر طبلہ کی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا۔ یہ بیٹھک پہلے استاد برکت علی خاں صاحب کے پاس تھی جہاں وہ خود ریاض کرتے تھے۔زندگی کے آخری دو عشرے میاں نبی بخش نے لاہور میں ہی بسر کیے۔ ان کے ہونہار شاگرد پیراندتہ عرف گھاٹی نے بڑی عقیدت سے انہیں اپنے گھر رکھا۔ آخر کا ان کی طبیعت ناساز رہنے لگی اور وہ سو سال سے زاید کی عمر میں 5 مئی 1948 کو داعی اجل کو لبیک کہہ گئے اور وزیر آباد کے قریب دھونکل میں پیر مراد یا کے مزار کے ساتھ دفن ہوئے۔