سوموار، 27 اکتوبر، 2014

میاں صاحب عوام کا اعتماد بحال کیجئے

سترھویں صدی کے عرب مؤرخ الیوسی نے بہت خوبصورتی سے ایک کہانی بیان کی ہے جس کی مماثلتیں ہر سماج میں نظر آتی ہیں اور جو ہمیں جمہوریت کے نظریے کی بجائے اس کے اصل تجربے کے حوالے سے آشنائی و آگاہی فراہم کرتی ہے کہ جب ابن ابی مہلی نے مراکش پر قبضہ کیا تو اس کے کچھ پرانے ساتھی اسے مبارکباد دینے اور خراج تحسین پیش کرنے کے لیے اس کے پاس پہنچے لیکن جب وہ اس کے پاس کھڑے اسے ایک نئی سر زمین فتح کرنے پر مبارکباد دے رہے تھے تو ان میں شامل ایک شخص کچھ بھی نہ بولا،بلکہ چپ سادھے کھڑا رہا۔ جب سلطان نے اسے پوچھا کہ بھائی کیا بات ہے، آپ کیوں اتنے چپ چاپ کھڑے ہیں؟ تو وہ بولا، جہاں پناہ آپ بادشاہ وقت ہیں اگر جان کی امان بخشیں تو عرض کروں گا۔ بخشی ابن مہلی نے کہا ’بولو کیا بولتے ہو، کھیل کی بازی میں، فقیر بولا، کوئی دو سو افراد ایک گیند کے پیچھے بھاگتے ہیں اور اسے ایک دوسرے سے چھیننے کی کوشش کرتے ہیں اور انہیں یہ بھی خطرہ ہوتا ہے کہ کہیں چوٹ نہ لگ جائے یا زخم نہ آجائے، موت بھی ہو سکتی ہے اور یہ سب ایک گیند کی خاطر۔ اور اس ساری دھینگا مشتی کا نتیجہ کیا نکلتا ہے؟ کچھ بھی نہیں سوائے پریشانی اور تکلیف کے، اور اگر آپ گیند کو ہاتھ میں پکڑ کر دیکھیں تو پتہ چلے گا کہ اس میں چیتھڑوں کے سوا کچھ بھی نہیں۔ جب ابن ابی مہلی نے اس کی تمثیل سنی تو فوراً اس کے معانی بھانپ گیا اور رونے لگا، ہم دین پھیلانے کی نیت سے نکلے تھے، وہ بولا، مگر حیف! ہم تو گمراہی میں جا پڑے“۔ یہ درست ہے کہ اہل اقتدار کے ذہن سے یہ بات ہمیشہ نکل جاتی ہے کہ وہ کس مقصد کے لیے جدوجہد کر رہے تھے۔ حکومتوں کا چلن صراط مستقیم کی بجائے ”راہ گم کردہ“ ہوتا ہے۔ حکمران خادم بن کر آتے ہیں اور آقا بن کر حکمرانی کرتے ہیں۔ تاریخ شاہد ہے کہ وہ حکومتیں جن کا آغاز جوش و جذبے اور اعلیٰ آدرشوں سے ہوتا ہے، ان کی گاڑی ”بُری حکمرانی“ کی وجہ سے ناکامی سے دوچار ہوتی ہے۔ 
آج کل وطن عزیز کی حکمرانی کا بھی کچھ ایسا ہی حال ہے۔ جمہوریت کو عموماً ایک کامل و اکمل نظام کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جو خود ہی خود کو متوازن رکھتا ہے اور مفاد عامہ کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔ جمہوری حکمران جمہور کی بہتری کے لیے اقتدار حاصل کرتے ہیں اور اپنی بہتری کو نصب العین بنا لیتے ہیں۔ ہمارے ہاں حکمرانوں کے ذہنوں سے یہ بات نکل جاتی ہے کہ وہ کس مقصد کے لیے جدوجہد کا دعویٰ کرتے رہے ہیں۔میاں محمد نواز شریف کی حکومت کا آغاز جس جوش و جذبے اور اعلیٰ آدرشوں سے ہوا تھا، سال، ڈیڑھ سال بعد ہی وہ جذبہ اور وہ آدرش دھندلا گئے ہیں۔ آج اس بات ے انکار ممکن نہیں کہ اندا زحکمرانی اور جمہور کے مفادات کے پس پشت چلے جانے سے حکومت کی ناکامی اور زوال کی صدائیں بلند ہونے لگی ہیں۔ عوامی فلاح و بہبود کے سارے عہد اور وعدے فراموش کر دیئے گئے ہیں۔ میاں صاحب  کی نیت و شرافت کا سوال نہیں۔ نیتوں کے بھید خدا جانتا ہے مگر جس طرح حکومت چلائی گئی اس سے کہیں نظر نہیں آتا کہ گڈ گورننس اور فلاح عامہ ان کا نصب العین ہے۔ اچھی چیز اور نیک کام کے لیے بار بار لڑنا پڑتا ہے۔اس کے لیے عزم صمیم کی ضرورت ہوتی ہے مگر حکمرانی کی کرسی کا نشہ اچھی سے اچھی نیتوں کے حامل حکمرانوں کو بہکا دیتا ہے۔ وزیر اعظم میاں نواز شریف سے قوم کو بہت توقعات وابستہ تھیں اور ہیں مگر انہوں نے عوامی اعتماد سے الیکشن جیت کر حکمرانی کا چوغہ پہنا تو پہلا کام یہ کیا کہ عوام سے دوری اختیار کی۔ پارلیمینٹ بالخصوص سینٹ میں آنا پسند نہیں کیا، مختلف اور مشکل مواقع پر بھی قوم کو اعتماد میں لینے کی کوشش نہیں کی۔ ان کا مختصر دور قوم کے لیے خوشی کا باعث نہ بن سکا۔ مہنگائی، بد نظمی اور لا قانونیت کا گراف بڑھتا ہی چلا گیا،اس سے عوام کے حکمرانوں پر اعتماد میں نمایاں کمی واقع ہوئی۔ مخالف سیاسی قوتوں نے ان کا سیاسی گھیراؤ کیا اور عوامی حمایت حاصل کرنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ اس ڈیڑھ سالہ دور میں صرف ایسے منصوبے متعارف کروائے گئے جن سے شہریوں کا کوئی فائدہ نہیں ہوا، کوئی تبدیلی نہیں آئی اور نہ انقلابی تصورات و آگہی نظر آئی۔ سیاستدانوں و سیاسی قوتوں کی بجائے بیوروکریٹس پر مرکز اور پنجاب میں حکومتی انحصار اتنا بڑھ گیا ہے کہ لوگ یہ کہنے لگے ہیں کہ اگر بیوروکریٹس کے ذریعے ہی حکومت چلانی ہے تو پھر ٹیکنو کریٹس کی حکومت ہی بہتر ہو گی۔ ’میکیاولی‘کی یہ بات میاں صاحب کے دور میں بہت سے لوگوں کو یاد آنے لگی ہے کہ ”اکثر اوقات وہ چیزیں جو حاکم کو زیادہ فائدہ دیتی ہیں اس کے شہر کو نقصان پہنچاتی ہیں جبکہ وہ چیزیں جو شہر کو فائدہ دیتی ہیں حاکم کو نقصان پہنچاتی ہیں“۔ ہماری سیاسی تاریخ کے حوالے سے Dean Inge کی یہ بات بھی توجہ کی طالب ہے کہ”آزاد لوگ جنگ کے زیادہ متمنی ہوتے ہیں اور جمہوریتیں مطلق العنان بادشاہوں سے زیادہ اپنے جذبات کی غلام“۔ 
اس صورتحال میں وزیراعظم میاں نواز شریف سے امید ہے کہ وہ حالات کا منطقی اور حقیقت پسندانہ جائزہ لیں اور عوامی اعتماد کی بحالی کے لیے ہر ممکن سعی کریں۔ چین کے مشہور فلسفی کنفیوشس سے کسی نے بہترین طرز حکومت کے بارے میں پوچھا تو اس نے کہا بہترین طرز حکومت کے لیے تین لوازم ہیں (۱) خوراک کی افراط (۲) طاقتور فوج (۳)حکام پر عوام کا اعتماد۔ پوچھنے والے نے کہا کہ اگر یہ تینوں بر وقت میسر نہ آسکیں تو پھر ……؟ کنفیوشس نے کہا کہ فوج کے بغیر گذارہ ہو جائے گا، پوچھنے والے نے پھر کہا کہ اگر باقی دو میں سے بھی ایک میسر آئے تو تب کس کا ہونا اشد ضروری ہے؟  کنفیوشس نے جواب دیا خوراک کی قلت ہو گی تو بھی کسی نہ کسی طرح گذر ہو ہی جائے گا لیکن اگر عوام کا اعتماد حکام پر سے اٹھ جائے تو حکومت اور ملک کی تباہی و بربادی یقینی ہے۔ اس کا خیال تھا کہ حکمران مثالی اخلاق کے مالک ہوں تاکہ عوام ان کے نقش قدم پر چل سکے۔ کنفیوشس کی نظر میں اخلاقیات کی زمین تیار کیے بغیر کوئی حکومت خواہ کتنی ہی کوشش کرے بد نظمی سے محفوظ نہیں رہ سکتی۔ یونانی مفکر سولن نے اس حوالے سے بہت پتے کی بات کہی ہے کہ ”اچھی مملکت وہ ہے جس میں عوام حکام کے تابع ہوں اور حکام قانون کے تابع“ ہمارے ہاں اس  بات کا آدھا سچ ہے کہ عوام تو حکام کے تابع ہیں مگر حکمران……؟
کسی خاص حکومت کو جانچنے کے لیے ہمیں صرف یہ دیکھ لینا ہی کافی ہوتا ہے کہ اس نے یہ وظائف ورثے میں ملنے والے حالات میں کتنے اچھے طریقے سے انجام دیئے ہیں اور کیا اس نے ورثے میں ملنے والے مالی، انسانی، سماجی اور قدرتی سرمائے کو نمو دی ہے یا کہ اس میں ناکام رہی ہے۔ میاں صاحب وطن عزیز کو گھمبیر مسائل سے نکالنے کے لیے کسی ٹھوس لائحہ عمل کی ضرورت ہے۔ کابینہ کا احتساب درست اقدام ہے لیکن قوم یہ بھی جاننا چاہتی ہے کہ اس ڈیڑھ سال میں وزیر اعظم کی کارکردگی کیا رہی ہے؟ عوام سے ان کا تعلق کمزور ہوا ہے یا مضبوط……؟حالات گواہ ہیں کہ ”انجمن ستائش باہمی“ سے باہر حکومت اور عوام کا رشتہ اگر کمزور نہیں ہوا تو مضبوط بھی نہیں ہوا۔ قدرت نے آپ کو موقع دیا ہے، عوام سے رشتہ مضبوط کریں عوام کے اعتماد کو بحال کرنے کے لیے نظر آنے والے اور ثمر آور کام سر انجام دیں۔ وقت تیزی سے گذر رہا ہے مگر حکمرانی سست رفتاری کی عکاس ہے۔ بیر ٹولٹ بریخت نے کہا تھا کہ ”چیزیں کب تک چلتی ہیں؟ جب تک وہ مکمل نہیں ہو جاتیں، کیونکہ جب تک ان پر کام ہوتا رہتا ہے وہ خراب نہیں ہوتیں“۔  میاں صاحب عوام کے اعتماد کی بحالی کے لیے بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔