جمعہ، 24 اکتوبر، 2014

اقتصادی و سماجی ترقی اور ہمارے حکمران


زر انسان کی وہ تخلیق ہے جو خود انسان پر بھاری پڑ رہی ہے۔ ماہرین معیشت کو زندگی کا مادی چہرہ قرار دیتے ہیں کیونکہ جس طرح روپے کے زرد رخ پر انسانی خون لگا ہوا ہے،اس طرح زندگی کا مادی چہرہ بھی اس خون سے لت پت ہے۔ اس تناظر کے باوجود اقتصادیات اور مالیات کا علم ہی خود زندگی کو سمجھنے ا ور برتنے کے لیے ناگذیر ہے۔ آج زندگی سے متعلق ہر شے کو معاشی پیمانے سے ہی ماپا جاتا ہے، یہی وہ مستقل قدر ہے جسے ہر کوئی تسلیم کرتا ہے۔ افراد کی عزت و تکریم کی میزان معاشیات ہے تو اقوام کی قوت و اقتدار کا معیار بھی یہی اقتصادیات ہے۔ معاشی جدیدیت کا شکار ہونے والوں کی جدید اخلاقیات، معاشی و معاشرتی فوائد کو ہر دوسری چیز پر فوقیت دیتی ہے۔ اس صورتحال کا اطلاق پاکستان پر کر کے یہاں کی معاشی و معاشرتی مشکلات کا تجزیہ کیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ وطن عزیز کے اکثر مسائل کی جڑ معاشی عدم مساوات ہے،پاکستانی سماج کے اخلاقی دیوالیہ پن، فکری بانجھ پن اور معاشرتی تباہی کے اسباب کا باریک بینی سے تجزیہ کریں تو معاشی ناانصافی اور غربت ہی اسکی نمایاں وجوہات ہیں۔ 
پاکستان کے موجودہ مسائل میں دہشت گردی اور انتہا پسندی سب سے گھمبیرمسائل ہیں۔ تمام پاکستانی دہشت گردی و انتہا پسندی سے نجات کے آرزو مند ہیں۔ ان انسانیت دشمن مسائل سے نجات کے لیے سماجی و معاشی عدم مساوات ناگذیر ہے۔ بڑھتی ہوئی غربت ہمارے مسائل کا بڑا منبع ہے اور غربت کی طرف جانے والا راستہ بڑھتی ہوئی عدم مساوات کے راستے سے ہی ہو کر گزرتا ہے۔ غربت اپنے جال میں پھنسے لوگوں میں احساس محرومی اور سختی پیدا کرتی ہے تو عدم مساوات سے ناانصافی اور شکایت کا احساس تقویت حاصل کرتا ہے، اسی سے مایوسی اور غصے کو فروغ ملتا ہے جو سماجی و سیاسی عدم استحکام حتیٰ کہ تشدد کو جنم دیتا ہے۔ ہمارے ہاں معاشی عدم مساوات کا بڑا سبب مقامی، صوبائی اور قومی حکومتوں میں باقاعدہ اور منصفانہ عوامی نمائندگی کا نہ ہونا ہے۔ مفاد پرست گروہوں کے شکنجے عوامی سطح پر ناخواندگی اور شعور کی کمی کی وجہ سے مضبوط ہیں۔ لوگ استحصال اور نظام کی زیادتیوں کا شکارتو ہیں مگر اس کے خلاف آواز اٹھانے کی جرات سے بھی محروم ہیں۔یوں دکھائی دیتا ہے لوگوں نے مصائب کو مقدر تسلیم کر لیا ہے۔ وہ استحصال کرنے والوں سے لڑنے کی بجائے خود اپنے اندر ہی لڑتے رہتے ہیں۔ ہمارے عوام بجائے اس کے کہ متحد ہو جائیں اور ترقی و روزگار اور معاشی ڈھانچے کی بہتری کے مشترکہ مقاصد کے لیے کوشاں ہوں، اُلٹا آپس میں دوست و گریباں ہیں۔ پاکستان میں معاشی ترقی کی ناگفتہ بہ صورتحال اور ناقص نوعیت کی وجہ سے ذہنی امراض اور انتہا پسندی کو بڑھوتری حاصل ہو رہی ہے۔ ماہرین نفسیات درست طور پر نشاندہی کرتے ہیں کہ نا امیدی اور شدت پسندی میں گہرا تعلق ہے۔  
پاکستان میں معاشی و معاشرتی پالیسیاں مسلسل ناکامی سے دوچار ہیں۔ اس ناکامی کے اثرات کی تقسیم میں مساوات کو مد نظر نہیں رکھا گیا۔ غریبوں کے لیے پبلک سروس کی اہمیت خاص معنی رکھتی ہے مگر ہماری ریاست و حکومت نے اپنی سماجی ذمہ داری سے پہلو تہی کی روش اپنا رکھی ہے۔ یہ وہ بد قسمت ملک ہے جہاں سرکار پبلک مفادات کو کوئی اہمیت نہیں دیتی، یہاں کو ئی پبلک ٹرانسپورٹ نہیں، پبلک ہسپتالوں اور تعلیمی اداروں کی یتیمانہ حالت زار حکمرانوں کی عدم دلچسپی کا ماتم کر رہی ہے۔ ہمارے ہاں سماجی یکجہتی کے فقدان کی بڑی وجہ حکمرانوں کے ہاں عوام دوست ترقی کے تصور کا فقدان ہے۔ ترقیاتی منصوبہ کار اپنے منصوبے ایسے تیار کرتے ہیں اور ان پر ایسے علاقوں میں عمل در آمد کرواتے ہیں جہاں ان کا اپنا مفاد سب سے زیادہ ہو اور جمہوری ادارے سب لوگوں کے لیے یکساں حقوق کا اصول منوانے کے سلسلے میں بے اختیار ہیں۔ 
پاکستان میں لوگوں کے معاشی و سماجی حالات مستحکم نہیں ہیں اور بہت سے مسائل کا سامنا عوام کو یعنی نچلے اور نچلے متوسط طبقہ کے لوگوں کو کرنا پڑتا ہے۔ معاشی تنزلی لوگوں کی عزست نفس کو کچل رہی ہے۔ زندہ اقوام میں خود داری اور کسی حد تک فخر ہر فرد کے لیے لازم ہے۔ ہمارے سماج میں معاشی نا انصافی نے لوگوں کی خود داری اور تفاخر کو سب سے پہلے ختم کیا ہے۔ جب کوئی شخص نہ حل ہونے والے مسائل کا سامنا کرتا ہے، خود کو شکست خوردہ محسوس کرتا ہے اور نا امیدی کا شکار ہو جاتا ہے تو حکومت یا نجی شعبے کی طرف سے ایسی کوئی جگہ فراہم نہیں کی گئی جہاں وہ ہمدردی اور مدد کیلئے جاسکے۔ بڑھتی ہوئی غربت لوگوں کو خودکشی پر مجبور کر رہی ہے، مہنگائی نے زندگی کو ناممکن بنا دیا ہے۔ یہ بات پہلے کبھی اتنی سچ نہیں تھی تاہم اب تو بھرپور سچ ہے کہ متوسط طبقے کا بڑا حصہ، پورے کا پورا نچلا متوسط طبقہ اور نچلا طبقہ زندگی کی بنیادی ضرورتیں خریدنے کے قابل بھی نہیں رہا۔ مہنگائی کا بوجھ سرمایہ داروں، قانون سازوں اور بالا دست طبقوں پر اثر انداز نہیں ہوتا، صرف اور صرف عوام کو ہی اس کا بوجھ سہنا پڑتا ہے۔ بے روزگاری بڑھتی جارہی ہے۔ بڑے کنبوں میں خاندان کے تما افراد کو کمانا پڑتا ہے اور کسی قسم کے تحفظ کے انتظامات یا بے روزگاری کی مراعات موجود نہیں ہیں۔یہ وہ سازگار حالات ہیں جس میں وہ لوگ اپنا سب کچھ کھو چکے ہیں اور خود اپنی تباہی کے راستے پر چل چکے ہیں انھیں آسانی سے انتہا پسندی کے راستے پر لایا جا سکتا ہے بلکہ لایا جا رہا ہے۔
پاکستان نے عالمی سربراہ اجلاس کے اعلامیہ برائے سماجی ترقی پر دستخط کر رکھے ہیں اور اس کے تحت غربت میں کمی، ضروریات کے مطابق تعلیم کے فروغ تا کہ ترجیحی بنیادوں پر ملازمتوں کی فراہمی کو یقینی بنایا جاسکے، سماجی یکجہتی اور انسانی حقوق کے احترام کو رواج دینے، عورتوں اور مردوں کے درمیان برابری کے حصول اور سب کیلئے برابری کی بنیادوں پر معیاری تعلیم کی فراہمی کیلئے اقدامات کرنے کا پابند ہے۔ پاکستان نے سماجی ڈھانچے کی تربیت تو کی پالیسیوں، سماجی ترقی کے اہداف کو یقینی بنانے، بین الاقوامی تعاون اور سماجی ترقی کے ڈھانچے کو مضبوط بنانے کا وعدہ بھی کیا ہے۔ ان میں سے کوئی بھی وعدہ پورا نہیں کیا گیا۔ درحقیقت کئی سماجی و اقتصادی شعبوں میں بہتری کی بجائے خرابی واقع ہوئی ہے۔ قوم وزیراعظم میاں نواز شریف اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار سے پوچھ رہی ہے کہ کیا صرف آئی ایم ایف سے کیے گئے عوام دشمن معاہدوں کی پاسداری ہی حکومتی فریضہ ہے؟ کیا عالمی سربراہی اجلاس کے اعلامیہ برائے سماجی ترقی جیسے معاہدوں اور وعدوں پر عملدرآمد کسی اور کی ذمہ داری ہے؟ حکمران ہوش کے ناخن لیں۔ ان کے خود مرکزیت کا شکار ضمیر پر صرف اتنی دستک دیتا ہوں کہ معاشی و معاشرتی ناہمواریاں ننگِ انسانیت ہیں، ان کے خاتمے میں ہی انسانیت کی نشونما کا راز پوشیدہ ہے۔ تمام زرداروں کر اپنے چہروں پر لگا انسانی خون صاف کرنا ہوگاقبل اس کے قوم ان کے چہرے ہی نوچ لے۔