منگل، 16 دسمبر، 2014

المیہ مشرقی پاکستان اور جرنیلوں کا کردار




دسمبر 1971ءمیں قائداعظم کے پاکستان کی تقسیم اور مشرقی پاکستان کے ”بنگلہ بدھو “(بنگال کا بھائی)کے بنگلہ دیش اور مغربی پاکستان کے ”قائد عوام “کے نئے پاکستان کی تخلیق جنوبی ایشیاءکی حالیہ تاریخ کا سبق آموز باب جبکہ ہماری ملی تاریخ کا اذیت ناک اور فوجی تاریخ کا عبرتناک سانحہ ہے ۔ تاریخ کے اوراق شاہد ہیں کہ سقوط مشرقی پاکستان چند جرنیلوں کی ہوس اقتدار کی وجہ سے فوجی قوت کے بل بوتے پر سیاسی امنگیں پوری کرنے کی ایسی ناکام داستان ہے جس نے ظہور پاکستان کے بعد قحط الرجال کی شکار قوم کے ہر شعبہ ، حیات میں زوال کی تصدیق کر دی ۔ قائداعظم کا پاکستان کئی برس پہلے مر چکا تھا لیکن اس کی تدفین کا کام 16 دسمبر 1971ءکو اس وقت مکمل ہو ا جب جنرل نیازی نے ہزاروں فوجیوں سمیت جنرل جگجیت سنگھ اروڑا کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے ، یہ پاکستان کے لئے ذلت و رسوائی اور بھارت کے لئے جشن منانے کا دن تھا ۔
جغرافیائی لحاظ سے وفاق پاکستان مشرقی و مغربی یونٹوں کے درمیان تقریباً گیارہ سو میل کے فاصلے کی وجہ سے دفاعی مشکلات کا شکار تھا چنانچہ جنوری 1955 میں جنرل محمد ایوب خاں نے دفاعی حکمت عملی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا۔ ” مشرقی پاکستان کا دفاع وہاں سے نہیں کیا جا سکتا اگر وہاں تمام فوجی طاقت بھی مجتمع کر دیں تو بھی اس کا دفاع ممکن نہیں اس لئے ہمیں مغربی پاکستان میں اپنی فوجی بنیاد مضبوط بنانا ہو گی اور عوام کو اس حقیقت کا اعتراف کر لینا چاہئے “۔ چنانچہ قیام پاکستان کے بعد دفاعی نا خداﺅں نے مسلح افواج کے بڑے حصے کو مغر بی پاکستان میں تعینات رکھا، بس ایک ڈویژن بھر فوج مشرقی پاکستان میں رکھی اس طرح دونوں اکائیوں میں مسلح افواج کی غیر منصفانہ تقسیم سے فوجی توازن کا پلڑا مغربی بازو کی طرف بہت زیادہ جھک گیا ۔ جنرل کمال متین کہتے ہیں کہ چونکہ اہمیت کا مرکز مغربی بازو میں تھا ، سیاسی و فوجی طاقت غیر بنگالیوں کے ہاتھوں مرتکز رہی لہذا دفاع کی یہ حکمت عملی قومی منصوبہ بندیوں میں بڑی مقبول ہوئی کہ مشرق کا دفاع مغرب سے ہو گا “۔ تخلیق پاکستان کے بعد پہلے عشرے میں ہی یہاں کے مقتدر طبقوں نے ریاستی سطح پر وفاق اور اتحاد کے اصولوں کو زبردست مرکز پسند سیاسی نظام کے ذریعے کچلا تو مشرقی پاکستان میں لسانی علاقائیت نیشنل ازم میں بدلنے لگی ۔ سول بیورو کریسی اور فوج نے بنگالی راہنماﺅں کی جانب سے سیاسی شرکت اور عدم مرکزیت کے مطالبات کو اپنے لئے خطرہ سمجھا اور اس کے تدارک کے لئے سخت انتظامی پالیسی وضع کی ۔ فریب خوردہ سیاسی حکمت عملی نے بنگالی اجنبیت کو فروغ دیا چنانچہ 1963ءمیں دسویں ڈویژن کے کمانڈر میجر جنرل خواجہ واحد الدین نے کہا کہ ” مرکزی حکومت کے کرنے کا کام صرف یہ ہے کہ تقسیم کے بعد سے مشرقی بازو میں کی جانے والی غلطیوں کو پہچانے اور تسلیم کرے اور پھر ہمدردی اور مفاہمت کے ساتھ مشرقی بازو کے مسائل حل کرنے کی کوشش کرے ،طاقت یا جبر کے اقدامات نہ صرف ناکام ہوں گے بلکہ وہاں پائی جانے والی ابتر سیاسی صورتحال میں مزید ابتری پھیلانے کا سبب بنیں گے “جی ایچ کیو کے دفاعی فلسفے کا پہلا امتحان 1965میں ہوا ۔ اس سترہ روزہ جنگ کے بعد ذوالفقار علی بھٹو نے قومی اسمبلی میں کہا کہ ” مشرقی پاکستان کو چین نے بچا لیا “۔ یہ کوئی معمولی بیان نہیں تھا اس نے بنگالی فکر میں انقلابی تبدیلیاں پیدا کر دیں ۔ بنگالی دانشور میزان الرحمن نے اپنی کتاب ”دی ایمر جنس آف بنگلہ دیش “میں تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ اس جنگ کا سب سے پہلا اور اہم ترین پہلو جغرافیائی دور ی اور مشرقی بازو کے غیر محفوظ ہونے کا احساس شدت سے ابھرا، تصادم کے سترہ دنوں میں مشرقی بازو کو معیشت اور دفاع کے معاملات میں اس کے حال پر چھوڑ دیا گیا وہاں محض ایک انفنٹری ڈویژن ایک ٹینک رجمنٹ اور کوریا کی جنگ کے بچے کھچے ایف۔ 86 امریکی طیاروں کا ایک سکوارڈن تھا جس کے مقابلے میں بھارت کی طاقتور فضائی قوت کا خطرہ ہر وقت موجود تھا“۔ اس سے مشرقی پاکستان میں علیحدہ اور مستقل دفاع کا مطالبہ سامنے آیا کیونکہ بصورت دیگر پاکستان سے اتحاد کا کوئی عملی فائدہ نہیں تھا، بے اطمینانی بے تابی میں تبدیل ہوتی رہی ۔ اسی جنگ میں جنرلوں کے ناقابل شکست ہونے کا بھرم ٹوٹا تو صوبائی خود مختاری کے لئے جدوجہد میں مصروف بنگالی کارکنوں کے حوصلے بلند ہو گئے چنانچہ 1966ءمیں اگر تلہ سازش کا سراغ لگا لیا گیا ۔ یہ محض افسانہ نہیں تھا بلکہ اس کی تصدیق مسٹر اشوک رائنا نے اپنی کتاب Inside Raw میں تفصیلی ذکر سے کی ہے ۔ جنگ کے بعد کساد بازاری کا ریلا آیا تو ریاستی وسائل کا رخ مزید مغربی پاکستان کی فوج کیطرف کر دیا گیا اس سے اقتصادی عدم توازن مزید بڑھا تو حالات کی نزاکت دیکھ کر دس سالہ جرنیلی اقتدار دوسرے جرنیل کو 25 مارچ1969ءکو منتقل کر دیا گیا۔ ہربرٹ فیلڈ مین کے لفظوں میں یحییٰ خاں وہ وارث تھا جسے دونوں صوبوں کے درمیان تعلقات کی میراث میں منفعت سے زیادہ قرضوں کا بوجھ ہے ۔ چہرہ بدل گیا مگر عوامی جمہوری نظام نہ آسکا ۔ایک جنرل نے 1956ءکا آئین منسوخ کیا تو دوسرے نے 1962ءکا کالعدم قرار دے دیا ۔ 1970ءکے انتخابات کا اعلان ہوتے ہی دونوں بازوﺅں کی جانب سے لعن طعن اور تنقید کی رسوا کن مہم شروع ہو گئی ۔ لارنس زائرنگ کے خیال میں اگر 1970ءکے الیکشن کے موقع پر کوئی دستور نافذ ہوتا تو اس کے نتائج آئینی حدود کے اندر رہتے اور ان سے کوئی خطرہ لاحق نہ ہو تا۔ مشرقی پاکستان پر نازل ہونے والی تمام آفتوں کا ذمہ دار مغربی پاکستان کو ٹھہرایا جانے لگا ۔ اسی اثناءمیں نومبر میں وہاں سمندری طوفان اور سیلاب آگیا فوج کے آئینی فرائض میں شامل ہے کہ وہ آفات، بلوﺅں یا ہنگاموں کی حالت میں مسائل سے نمٹنے کے لئے حکومت کی معاونت کرے۔ اس ہنگامی حالت میں مشرقی پاکستان کے گورنر ایڈمرل احسن اور مجیب الرحمن کے اصرار اور بار بار اپیلوں کے باوجود کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل یعقوب علی کی جانب سے کوئی خاص امداد نہ کی گئی۔ جب قوم اور فوج نے امداد میں لیت و لعل سے کام لیا اس وقت امریکی اور برطانوی ٹیمیں امدادی کام کے لئے مشرقی پاکستان پہنچ گئیں ۔ فوجی حکومت کی جانب سے امداد کی فراہمی میں ناکامی پر بنگالی غضب ناک ہو گئے۔ شیخ مجیب الرحمن نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ ہمارے مردوں کو دفن کرنے کی ذمہ داری برطانوی سپاہیوں کے ذمے آن پڑی ہے ۔ “ اس صورتحال میں ہونے والے انتخابات کے نتائج نے بہت سوں کو حیران کر دیا ۔ یہ انتخابات 1962ءکا دستور منسوخ ہونے کے بعد سیاسی و فوجی ٹولہ کے حکم پر کرائے گئے اور ان کا مقصد ایک نیا سیاسی نظام وضع کرنے کی بجائے ایوب خان کے سیاسی نظام کی توثیق کرنا تھا۔ چنانچہ جنرل اکبر نے جو پیشگوئی کی تھی وہ درست ثابت ہوئی تو قومی گاڑی کو مخالف سمتوں میں کھینچا جانے لگا ۔ یحییٰ خاں نے مجیب کو مستقبل کا وزیر اعظم کہہ کر اسے خوش کرنے کی کوشش کی لیکن مجیب یحییٰ کو صدر برقرار رکھ کر ممنون نہیں کرنا چاہتا تھا ۔ ہوس اقتدار کا مارا جنرل یحییٰ خان، مجیب سے مایوس ہو کر 18,17جنوری کو بطخوں کے شکار کے نام پر لاڑکانہ میں منتظر بھٹو کے پاس چلا گیا ۔ سیاسی حوالے سے یہ غیر شائستہ بات تھی کہ آئینی مذاکرات جیسے حساس موضوع پر یحییٰ خان نے بھٹو کی ذاتی میز بانی قبول کر لی ۔ 

ایک خیال یہ بھی ہے کہ پاکستان توڑنے کے حتمی منصوبے ایم ایم احمد پلان کی منظوری یہاں یحییٰ بھٹو ملاقات میں ہی دی گئی ۔ 1970کے انتخابات کے فوراً بعد بھٹو نے اپنے معاشی امور کے مشیر ایم ایم احمد اور پلاننگ کمیشن کے ڈپٹی چیئرمین قمر الاسلام کو حکم دیا کہ وہ ان کے لئے ایسی دستاویز تیار کریں جس سے یہ بات ثابت ہو سکے کہ مغربی پاکستان مشرقی پاکستان کے بغیر بھی خوشحال رہ سکتا ہے ۔ لاڑکانہ میں منظور ہونے والے اس منصوبے کا مقصد تھا مشرقی پاکستان کو وہاں پر کوئی متبادل حکومت قائم کئے بغیر چھوڑ دیا جائے یعنی جان بوجھ کر جنگ ہار دی جائے۔ انہی دنوںمیں بھارت نے جو مجیب کی مسلسل مدد کر رہا تھا دباﺅ ڈالنے کے لئے اپنی فوجیں سرحد پر جمع کر دیں ۔ یہ مجیب کے لئے واضح اشارہ تھا کہ وہ مرکز کے خلاف بغاوت کر دے ۔دوسری طرف گیارہ فروری کو بھٹو نے یحییٰ سے ملاقات کی اور اس سے اگلے روز پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے لاہور میں عوامی لیگ کے دفتر پر حملہ کر کے اس کا جھنڈا جلا دیا ۔ حالات خراب ہوئے تو جنرل یحییٰ خان نے دور رو زبعد اعلان کیا کہ قومی اسمبلی کا اجلاس 3 مارچ کو ڈھاکہ میں ہو گا ۔ بھٹو نے اس اعلان کو نا پسند کیااور 15 فروری کو لاہور میں بند کمرے میں سیاسی تعطل کو دور کرنے کا طریقہ تجویز کرتے ہوئے کہا کہ یا تو مشرقی پاکستان کو آزاد ہونے دیا جائے یا پھر مجیب الرحمن کو گرفتار کر لیا جائے، عوامی لیگ نے اس کی مذمت کی ۔ 20 فوری کو ایل ایف اومیں ایک ترمیم کے ذریعے اراکین اسمبلی کو اجلاس سے پہلے مستعفی ہونے کی اجازت دے کر بھٹو کا کام آسان کر دیا گیا انہی دنوں میجر جنرل عمر نے سیاستدانوں سے کہنا شروع کر دیا کہ وہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لئے ڈھاکہ نہ جائیں ۔ 22 فروری کو جنرل یحییٰ خان نے اسلام آباد میں صوبائی گورنروں کے ساتھ میٹنگ کی جس میں مشرقی کمان کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل یعقوب علی خاں بھی شامل ہوئے ۔ اسی کانفرنس میں فوجی کاروائی”بلٹز“ (یلغار) نامی منصوبہ منظور کیا گیا ۔ جنرل یعقوب کو کھلی چھٹی دے دی کہ اگر مجیب چھ نکات پر اپنے موقف پر تبدیلی نہ کرے تو وہ بلٹزکے منصوبے پر عمل کریں ۔ کانفرنس کے بعد جنرل یعقوب نے جنرل ہیڈ کوارٹر میں جنرل حمید سے ملاقات کی جنہوں نے حالات سے نمٹنے کے لئے اضافی بریگیڈ کی پیش کش کی ، جب بریگیڈ کے دو پلاٹون ڈھاکہ پہنچے تو مجیب پریشان ہو گیا ۔ جنرل حمید نے تیسری بٹالین بھی بھجوا دی ، انہی دنوں عوامی لیگ نے چھ نکات پر اپنے موقف میں تبدیلی پر جنرل یحییٰ خاں سے مشرقی پاکستان کا دورہ کرنے کی درخواست کی مگر اسے مسترد کر دیا گیا۔ اس طرح حالات پر قابو پانے کا اہم موقع ضائع کر دیا گیا۔ وائس ایڈمرل احسن نے زور دیا کہ صدر مجوزہ اقدام سے گریز کریںاس مشورہ کی پاداش میں انہیں گورنری سے سبکدوش کر دیا گیا ۔ 27فروری کو مجیب کو اجلاس کی نئی تاریخ کے ساتھ اجلاس ملتوی کرنے کی اطلاع دی گئی ۔ 
یکم مارچ کو قومی اسمبلی کا اجلاس ملتوی کر دیا گیا مگر نئی تاریخ کا اعلان نہیں کیاگیا، جی ڈبلیو چوہدری کے مطابق”اعلان کا مسودہ بھٹو اور جنرل پیرزادہ نے تیار کیا تھا اس ضمن میں یحییٰ خاں کی حیثیت ایک بے بس دستخط کنندہ کے سوا کچھ نہیں تھی“۔ صرف بھٹو اور قیوم خاں نے اسمبلی کے اجلاس کے التواءکا خیر مقدم کیا جبکہ عوامی لیگ نے اسے عوامی فیصلے کے خلاف سازش قرار دیا ۔التواءکے ساتھ ہی بنگالی ” ہم آزاد بنگال چاہتے ہیں “ کے نعرے لگاتے ہوئے گلیوںمیں نکل آئے مجیب نے متوازی حکومت قائم کر لی ۔ 3 مارچ کو صوبہ گیر ہڑتال نے مشرقی پاکستان کو مفلوج کر دیا حالات ابتر ہونے پر جنرل یعقوب علی نے 4 مارچ کو استعفیٰ دے دیا ۔ 1978ءمیں یحییٰ خاں نے بھٹو حکومت کی جانب سے عائد کردہ زباں بندی کے خاتمے پر تسلیم کیا تھا کہ یہ اجلاس انہوں نے بھٹو کے کہنے پر ملتوی کیا تھا ۔ 7 مارچ کو جنرل ٹکا خاں نے کمانڈر مشرقی چھاﺅنی، مارشل لاءایڈمنسٹریٹر اور گورنر مشرقی پاکستان کے فرائض سنبھالے چیف جسٹس ڈھاکہ ہائی کورٹ نے ان سے حلف لینے سے انکار کر دیا ۔ 6 مارچ کو یحییٰ خاں نے اعلان کیا کہ اجلاس 25 مارچ کو ہو گا مگر اس سے امن عامہ کا مسئلہ حل نہ ہو سکا۔ مجیب الرحمن نے چار شرائط پر شرکت کا اعلان کیا مگر معاملات طے نہ ہو سکے ۔ مشرقی پاکستان میں سول وار شروع ہو گئی، قتل و بربریت انتہاﺅں کو چھونے لگی مسلسل سیاسی محرومی نا سور بن کر بغاوت کی صورت پھوٹ پڑی۔ جنرل ٹکا نے آتے ہی ایک غلط قدم یہ اٹھایا کہ تمام غیر ملکی اخبار نویسوں ، رپورٹروں اور ٹی وی کے عملے کو ملک سے نکال دیا کئی کو مارا پیٹا ، وہ سب بھارت چلے گئے اس طرح ہم نے ابلاغیات کے غیر ملکی اداروں کی ہمدردی بھی کھو دی اور حالات کی تصویر کشی ہمارے مقاصد کے برعکس ہونے لگی ۔ 
15 مارچ کو جنرل یحییٰ خاں مسلح پنجابی دستے کی معیت میں ڈھاکہ پہنچے ۔جی ڈبلیو چوہدری کے مطابق پاکستان کی سا لمیت کے لئے یہ آخری کوشش ایسے جاں بلب مریض کو آکسیجن دینے کا عمل تھا جسے ڈاکٹر لا علاج قرار دے چکے ہوں ”آئین ٹالبوٹ کے لفظوں میں یحییٰ اور مجیب کے درمیان اعتماد کی سطح اتنی گر چکی تھی کہ ان کے درمیان اس موقع پر پہلی ملاقات بیڈ روم کے باتھ روم میں ہوئی کیونکہ عوامی لیگ کاراہنما ایوان صدر کے ڈرائنگ روم کو ”Bugged“ (جہاں خفیہ آلات لگے ہوں)سمجھتے تھے اور وہاں مذاکرات کے لئے تیار نہ تھا “۔ اس ملاقات میں مجیب کے مطالبات کے حوالے سے کچھ پیش رفت ہوئی ۔18 مارچ کو عدالتی کمیشن کا اعلان کیا گیا، 21مارچ کو بھٹو ساتھیوں کے ہمراہ ڈھاکہ پہنچے تو مجیب نے برہمی کا اظہار کیا ۔ ایوان صدر میں ملاقاتوں میں مسلسل پیش رفت ہو رہی تھی لیکن باہر ماحول خراب ہوتا چلا گیا ۔ چنانچہ 23 مارچ کو قرار داد لاہور کی 31سالگرہ کو وہاں ’یوم مزاحمت‘ کے طور پر منایا گیا ۔ سٹوڈنٹ ملیشیا نے بنگلہ دیش کے پرچم کے سائے تلے پریڈ کی مجیب الرحمن نے سلامی لی ۔دھان منڈی میں انکی رہائش گاہ کے آہنی گیٹ پر بنگلہ دیش کا جھنڈا کندہ کیا گیا ۔برطانیہ کے ڈپٹی ہائی کمیشن اور روسی قونصلیٹ نے بھی یہی جھنڈا لہرایا ۔کرنل عثمانی کو انقلابی فوج کا کمانڈر بنایا گیا جبکہ میجر جنرل (ر) مجید کی نگرانی میں سابق فوجی بھرتی کئے جانے لگے ۔ 23 مارچ کی شام کی چائے کے وقت آرمی کمان نے یحییٰ خاں کو مشورہ دیا کہ ملٹری ایکشن کا وقت آگیا ہے ۔ 
25 اور 26 مارچ کی درمیانی شب جونہی جنرل یحییٰ خاں نے ڈھاکہ سے پرواز کی ، آپریشن سرچ لائٹ کے کوڈ نام سے کریک ڈاﺅن شروع ہو گیا، جنرل نیازی کے مطابق جنرل ٹکا نے سارے وسائل اس کاروائی میں جھونک دیئے جیسے وہ اپنے ہی گم کردہ راہ افراد سے نمٹنے کی بجائے کسی حملہ آور فوج کا مقابلہ کر رہا ہو ، یہ ملٹری ایکشن کھلی جارحیت کا ایک مظاہرہ تھا ۔ یہ بخار ا اور بغداد میں چنگیز خاں اور ہلاکو خاں یا جلیانوالہ باغ میں برطانوی جنرل ڈائر کے برپا کردہ قتل عام سے زیادہ بے درد تھا “۔ ابھی تک بنگالی فوجی دستوں نے بغاوت نہیں کی تھی ۔ڈھاکہ یونیورسٹی کے اقبال اور جگن ناتھ ہوسٹلوں پر فوج نے دھاوا بول دیا ۔سینکٹروں طلباءمارے گئے ۔فوج نے اپنی آتشیں قوت کا بھرپور استعمال پولیس ہیڈ کوارٹرز اور ایسٹ پاکستان رائفلز ہیڈ کوارٹر پر بھی کیا ۔ قتل عام نے ایسٹ بنگال رجمنٹ کو مشتعل کر دیا اور میجر ضیاءالرحمن کی قیادت میں بغاوت ہو گئی ۔جنرل ٹکا کو فرض سونپا گیا تھا کہ مسلح بنگالی یونٹوں کو تنہا کر یں اور بنگالی راہنماﺅں کو حفاظت میں لے لیں ۔ مگر ٹکا نے شہریوں کے قتل عام اور ایک زمین سوز حکمت عملی (scorched earth policy) پر عملدرآمد شروع کر دیا ۔ فوج کو حکم دیا کہ مجھے زمین کی ضرورت ہے ،افراد کی نہیں ۔ اس پر عمل کرنے کے بعد میجر جنرل فرمان نے اپنی ڈائری میں لکھا کہ مشرقی پاکستان کی سبز زمین کو سرخ کر دیا گیا مگر ناعاقبت اندیشوں کی پالیسی سے بنگالی آبادی کی حق خود داری کی خواہش معدوم ہونے کی بجائے مزید طاقتور ہو گئی ۔ ڈاکٹر صفدر کے بقول بعد کے واقعات نے ثابت کیا کہ مشرقی پاکستان میں فوجی اقدام نے دراصل متحدہ پاکستان کے خاتمے کا اعلان کیا ۔ بنگالی پاکستانی فوج کو قابض فوج کہنے لگے ۔ ملٹری ایکشن بذات خود کوئی مقصد نہیں ہوتا بلکہ کسی مقصد کے حصول کا ذریعہ ہوتا ہے ۔ لازم تھا کہ ملٹری ایکشن کو امن عامہ کی بحالی تک محدود رکھا جاتا ۔ پروفیسر غلام اعظم نے الزام لگایا کہ ٹکا خاں نے خالص فوجی انداز میں فیصلے کئے جس کے نتیجے میں عناد میں اضافہ ہوا ۔ فوجی اقدام سے مشرقی پاکستان میں معنی خیز سکوت ہوا مگر سول انتظامیہ کی تشکیل نو نا ممکن ہو گئی۔ حسن ظہیر ان پندرہ مغربی پاکستانی افسران میں سے تھے جو بعد میں ڈھاکہ گئے ۔ان کے اپنے الفاظ میں وہ 17 مئی کو ڈھاکہ ایئرپورٹ پر اس طرح اترے جیسے کسی غیر ملک سے آئے ہوں۔ “ سات ملین بنگالی بھارت فرار ہو گئے ۔اس بحران کو بین الاقوامی بنانے کے لئے تری پورہ کی پہاڑی ریاست میں نو لاکھ افراد جمع ہو گئے ۔ 17 اپریل کو کلکتہ میں بنگلہ دیش کی جلا وطن حکومت قائم کر دی گئی ۔ریڈیو آزاد بنگلہ کی نشریات ”خود مختارعوامی جمہوریہ بنگلہ دیش“ کے لئے کلور گھاٹ سے جاری ہو گئیں ۔عوامی لیگ کی بیشتر قیادت بھارت میں نئے پارٹی ہیڈ کوارٹر مجیب نگر پہنچ گئی ۔ پاکستان کو متحد رکھنے کی جرنیلی سیاست اور فوجی اقدامات ناکام رہے تویحییٰ خان نے عوامی لیگ کے اعتدال پسند اور انتہا پسند عناصر کے درمیان تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کی اور 1970ءکے انتخابات میں کامیاب ہونے والے 78افراد کو نا اہل قرار دے دیا اور مشرقی پاکستان کی قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر دوبارہ انتخابات کا اعلان کیا تو دائیں بازو کے وہ عناصر جو 70ءکے انتخابات میں بری طرح ہارے ، اب سیاسی مال غنیمت سے حصہ بٹورنے کے لئے جنرل یحییٰ خان کی بی ٹیم بننے لگے ۔ کئی حلقوں میں امیدوار مقابلے پر نہ آئے تو بڑی تعداد بلا مقابلہ کامیاب قرار دے دی گئی ۔ یہ سب کچھ ان دنوں میں ہوا جب جنگ کے سائے پھیلنے لگے تھے ۔ مکتی باہنی کی گوریلا کاروائیاںبھی جاری تھیں ۔ میجر جنرل خشونت سنگھ لکھتے ہیں کہ باغیوں کا مقابلہ کرتے ہوئے پاکستانی فوج بڑے دباﺅ میں آگئی ۔بیالیس ہزار با ضابطہ سپاہیوں کے ساتھ اسے پورے مشرقی پاکستان میں پھیلی ہوئی بغاوت سے نمٹنا تھا ۔ جانی نقصان بہت زیادہ ہوا 237 جونیئر افسران، 136 جونیئر کمیشنڈ افسران اور 3,559 دوسرے عہدیدار“۔ ایسی صورتحال میں پیشہ ور فوجی ماہرین کا خیال ہے کہ مئی جون میں وقت تھا کہ پاکستانی فوج جنگ کو باغیوں کے خلاف کاروائی کے لئے بھارتی سر زمین پر لے جاتی ۔میجر جنرل خشونت سنگھ رقمطراز ہیں کہ مئی 1971ءکے تقریباً خاتمے پر گوریلوںکے تعاقب اور بھارت میں ان کے اڈوں کو کچلنے کے لئے یحییٰ کے پاس مشرق میں بین الاقوامی سرحدیں پار کرنے کا پورا جواز موجود تھا اور اس کے پاس موقع تھا کہ وہ مغرب میں بھارت پر حملہ کرکے تصادم کو ایک بھرپور جنگ میں بدل دے، وہ بھارت کے لئے سب سے برے دن تھے ۔اس کی محفوظ فوجیں ملک کے اندرونی علاقوں میں پڑی ہوئی تھیں۔ اس کے پاس جنگی ساز و سامان اور سپاہیوں کی بے انتہا کمی تھی اور عوام کا ذہن فوری طور پر جنگ کے لئے تیار نہ تھا اگر یحییٰ نے اس موقع پر حملہ کر دیا ہوتا تو وہ موسم باراں شروع ہونے سے پہلے مغربی اور مشرقی دونوں محاذوں پر بڑے مفید نتائج حاصل کر سکتا تھا“۔ بہت صحیح لگتا ہے کہ ہم اچانک حملہ کر کے بھارت کو حیرت زدہ کر سکتے تھے۔ حیر ت جنگ کی کامیابی کی چابیوں میں سے ایک ہے ، اس وقت تک بھارت اور سوویت یونین کا معاہدہ بھی نہیں ہوا تھا ۔ ویسے بھی ہم مشرقی پاکستان میں غیر اعلانیہ جنگی صورتحال سے دوچار تھے ہماری فوج مسلسل آٹھ ماہ سے لڑ رہی تھی ۔اگست 1971ءمیں مغربی پاکستان سے سینئر فوجی ڈاکٹروں کی ایک ٹیم گئی اس نے فوجی حوالے سے دورہ مکمل کر کے آخر میں رپورٹ دی کہ ہمارے فوجی جنگی خستگی کی حالت کو پہنچ چکے ہیں اور اب مزید لڑائی کے لئے موزوں نہیں رہے انہیں واپس بلا کر چھٹی پر بھیج دیا جائے ۔ مگر ہوس اقتدار کے مارے پاکستانی جنرلوں کی توجہ فوجی تربیت، پالیسی اور سازو و سامان کی بجائے کرسی کے تحفظ کی خاطر اعلیٰ فوجی عہدوں پر ترقیوں اور فوج کے لئے مادی آسائشوں کی فراہمی پر مرکوز تھی ۔ اگست میں بھارت اور سوویت یونین کے درمیان دفاعی معاہدے کے جواب میں یحییٰ نے مجیب الرحمن کے خلاف خصوصی فوجی عدالت میں مقدمہ چلانے کا اعلان کیا ۔ ہنری کسنجر نے اس مقدمہ کو ایک مایوس آدمی کی طرف سے وحشیانہ اقدام قرار دیا تھا ۔ Sission & Rose کے مطابق ”اس اقدام نے یحییٰ خان کے ان فیصلوں کی کیٹلاگ مکمل کر دی جس نے پاکستان کی فوجی حکومت کو دنیا بھر سے الگ تھلک کر دیا تھا ۔ مقدمہ کی کاروائی ابھی مکمل نہ ہو سکی کہ پاک بھارت جنگ کا اعلان ہو گیا “۔ ایک طرف سیاست و اقتدار کے شوقین جرنیلوںنے بحران کے فیصلہ کن مہینوں میں کسی عسکری پیشہ واریت کا مظاہرہ نہ کیا تو دوسری جانب بھارت کے دفاعی تھنک ٹینک مستقبل کی پیش بندی کرنے لگے ۔مئی 1971ءمیں بھارتی انسٹی ٹیوٹ آف ڈیفنس سٹڈیز کے ڈائریکٹر سبرامینم نے یہ نظریہ پیش کیا کہ لاکھوں مہاجرین کو غیر معینہ مدت تک پالنے کی بجائے اقتصادی نقطہ نظر سے بہتر ہو گا کہ بنگلہ دیش کا مسئلہ جنگ سے حل کر دیا جائے اور پھر غیر اعلانیہ جنگ میں بھارت اپنے جوانوں کے جانی نقصان پر پریشان تھا ۔ جیسا کہ مرار جی ڈیسائی نے انکشاف کیا تھا کہ مسز گاندھی نے ہزار ہا بھارتی فوجیوں کو بغیر وردی کے مکتی باہنی کے نام سے بھیجا ۔ اپریل اور دسمبر 1971ءکے درمیان اس مہم میں پانچ ہزار بھارتی سپاہی مارے گئے اسی لئے چیف آف سٹاف گاندھی کے پاس گئے اور کہا یہ نہیں چلے گا ۔ اس بات کی اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ اس طرح ہلاک ہوں آپ انہیں یا تو ان کی بیرکوں میں واپس کر دیں یا صحیح طور پر مقابلہ کریں ۔ اس پس منظر میں بھارتی افواج کی براہ راست مداخلت شروع ہو گئی ۔ یحییٰ حکومت کی ناقص خارجہ پالیسی کی وجہ سے پاکستان تنہا رہ گیا تھادوسری طرف بھارت نے 9اگست 1971ءکو سوویت یونین کے ساتھ دوستی اور تعاون کے معاہدے پر دستخط کر دیئے ۔ روس نے چین کی سرحد پر اپنی فوجوں میں اضافہ کر دیا پھر بھارت کی طرف سے ٹینکوں، توپ خانے اور گاہے بگاہے فضائی طاقت کا استعمال اسکی فوجی مہم کو نئے مرحلے میں لا رہا تھا۔ جبکہ پاکستان کی جوابی کاروائی ابہام کا شکار تھی ، جنرل یحییٰ خان اور وزیر اعظم اندرا گاندھی کے طرز عمل میں زمین آسمان کا فرق تھا ۔ یحییٰ خان مارچ کے کریک ڈاﺅن کا اندازہ لگائے بغیر خانہ جنگی کی طرف چل پڑے تھے ۔ جبکہ اندرا گاندھی دانشمندی کے ساتھ ایک ایسا نادر موقع حاصل کرنے کےلئے تیار بیٹھی تھی جو بھارت کے فوجی مبصر سبرامنیم کے مطابق” پاکستان توڑنے کیلئے تھا “۔ 

اس المیے کا ایک اور دلچسپ پہلو یہ ہے کہ بھارت اور سوویت یونین کے درمیان دفاعی معاہدے کے سات روز بعد 16 اگست کو بھارتی کمانڈر انچیف جنرل مانک شا نے مشرقی پاکستان پر حملہ کرنے کے آپریشنل آرڈرز پر دستخط کر دیئے اور یہ پلان ایسٹرن کمان کے بھارتی کمانڈر کو روانہ کر دیا۔ بھارت کو معلوم تھا کہ مشرقی پاکستان پر حملہ کا جواب مغربی پاکستان سے دیا جائے گا ۔اس لئے جنرل مانک شا نے دو روز بعد18 اگست کو ویسٹرن کمان کے لئے بھی آپریشنل آرڈرز پر دستخط کئے اور سوویت یونین بھارت معاہدے اور جنرل مانک شا کے دونوں آپریشنل آرڈرز کی نقول 22 اگست کو راولپنڈی میں جی ایچ کیو کے متعلقہ حکام کی میزوں پر موجود تھیں پنجاب کے سابق گورنر اور آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) غلام جیلانی خاں نے بتایا تھا کہ چھ ستمبر کو انہوں نے خود یہ نقول جنرل آغا محمد یحییٰ خان قزلباش کو پیش کی تھیں ۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس وقت جی ایچ کیو کے اعلیٰ منصوبہ ساز وں نے اس پر غور و فکر کرنے کے بعد فیصلہ کیا کہ بھارت کا حملہ روکنے کے لئے ضروری ہے کہ پاکستان بھارت پر پہلے حملہ کرے اور اس کے لئے 16 اکتوبر کی تاریخ مقرر کی گئی اس دفاعی حملے کا پورا خاکہ تیار کر لیا گیا ۔اس منصوبہ کی تیاری کرنے والوں کو سو فیصد یقین تھا کہ بھارت کی فوجوں کے حرکت میں آنے تک پاکستان کی فوجیں بھارتی پنجاب اور ہریانہ سے آگے نکل چکی ہوں گی۔ بھارت کے آرمرڈ ڈویژن اور ریزرو فورس کے جھانسی سے روانہ ہونے سے پہلے ہی پاکستانی افواج کے nerve center کے قریب ہوں گی ۔ اس معاملے کا المناک پہلو یہ ہے کہ جی ایچ کیو کے Brain cellنے اس پلان پر نہ صرف عمل نہیں کیا بلکہ بھارتی حملے کی تفاصیل پورے 80 دن قبل موصول ہونے کے باوجو د کوئی دفاعی منصوبہ بندی نہیں کی ۔ لمحہ فکریہ ہے کہ ایسا کیوں ہوا؟ جنرل نیازی کے بقول ”بھارتی حملے کی اطلاع کے باوجود فوجی اقدام کے آٹھ مہینوں کے دوران نہ تو صدر ،نہ کمانڈر انچیف ،نہ کسی پرنسپل سٹاف آفیسر یعنی ایڈجوائنٹ جنرل، کوارٹر ماسٹر جنرل، یا ماسٹر جنرل آرڈی نینس نے ایک نے بھی ہمارے ہاں آنے کی تکلیف گوارا نہ کی ۔ جب پاکستان کی سا لمیت کی جنگ لڑی جا رہی تھی اس مرحلے پر بھی سی او ایس جنرل جمید اور سی جی ایس جنرل گل حسن کی آمد تو کجا ان لوگوں نے ٹیلی فون کرنا بھی گوارا نہ کیا ۔“ مشرقی کمانڈر کو خفیہ اطلاعات کے بارے میں بتایا تک نہ گیا ؟ کیا مشرقی پاکستان ” جی ایچ کیو “ کی ذمہ داری نہ تھا ؟ 
اگست کے آخر سے نومبر تک مشرقی پاکستان کے ہر حلقے میں بھارت نے بٹالین اور بریگیڈ کی سطح کے متعدد حملے کئے ۔نو مبر کا وسط حملے کے لئے انتہائی ساز گار تھا ، بارش کا موسم ختم ہو چکا تھا ۔مون سون گزرنے کے بعد زمینی فوجی نقل و حرکت کے لئے ہموار ہو چکی تھی ۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ نومبر کے آخر میں حملہ کرنے سے چینی حملے کے ممکنہ خطرے کا بندوبست بھی ہو گیا ۔ کیونکہ اس وقت تک سلسلہ کوہ کے در برف سے ڈھک چکے تھے۔ میجر جنرل فضیل مقیم کے مطابق بھارتی افواج نے 21,20 نومبر کی درمیانی شب جب چاندرات تھی اور صبح عید کا دن تھامشرقی پاکستان پر ہر طرف سے حملہ کر دیا ۔ میجر جنرل لچھمن سنگھ کے مطابق ”بھارت نے حملہ کرنے کے 22 نومبر”یوم مقررہ“کے طور پر کیا تھا لیکن انہوں نے عید کی وجہ سے ایک روز پہلے حملہ کر دیا ۔ کیونکہ یہ امید تھی کہ پاکستان فوجی عید منا رہے ہوں گے “۔ حملے کے فوری بعد مشرقی پاکستان کے چیف آف سٹاف نے جی ایچ کیو میںوائس چیف آف جنرل اسٹاف میجر جنرل قریشی کو اطلاع دی ۔ جنرل نیازی نے چیف آف جنرل اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل گل حسن سے بات کرنے کی کوشش کی لیکن وہ بھارتی اندازوں کے عین مطابق ” عید منانے لاہور گئے ہوئے تھے۔ اس نازک موقع پر صدر مملکت جنرل یحییٰ خان اور چیف آف آرمی سٹاف جنرل عبدالحمید بھی جی ایچ کیو میں نہیں تھے بلکہ وہ دونوں عید کے روز بظاہر فوجیوں سے ملنے سیالکوٹ گئے ہوئے تھے حقیقتاً وہ تیتر کا شکار کھیل رہے تھے عموماً عید کے روز کوئی بھی کمانڈر انچیف مسلمان فوجیوں سے ملنے نہیں جایا کرتا ۔ یہ بھی غور طلب ہے کہ بھارتی حملے کی خفیہ اطلاعات کے باوجود فوج کی اعلیٰ کمان بیک وقت جی ایچ کیو سے غائب کیوں تھی .... ؟ میجر جنرل فضل مقیم کے بقول جب صدر یحییٰ اور سی او ایس جنرل عبدالحمید دوپہر کے بعد واپس آئے تو تمام افسران ایئر فیلڈ پر ان کے منتظر تھے۔ جہاں سے انہیں ایم آئی آپریشن روم لایا گیا،وہاں بریفنگ کا اہتمام تھا ۔اس حساس لمحے پر بھی وفادار سی او ایس جنرل حمید نے صدر کو سستانے اور میٹنگ م ¶خر کرنے کا مشورہ دیا ،تاہم مختصر میٹنگ ہوئی ۔بریفنگ کے بعد صدر نے کہا کہ انہیں صورتحال پر غور کرنے کے لئے چند گھنٹے درکار ہیں اور کہا کہ شام ساڑھے چھ بجے ایوان صدر میں کانفرنس ہو گی اس میں سیکرٹری دفاع غیاث الدین جوسی او ایس کے دفاعی مشیر بھی تھے ،دفتر خارجہ کے ممتاز علوی اور سی جی ایس جنرل گل حسن کو اندر بلا لیا گیا ۔جبکہ ڈی جی ، آئی ایس آئی ، وائس چیف آف جنرل اسٹاف ، ڈی ایم او اور ڈی ایم آئی کو باہر انتظار کرنے کے لئے کہہ دیا گیا ۔اس کانفرنس میںحملے کی بات ہوئی تو فضل مقیم کے مطابق ایک عینی شاہد کا کہنا ہے " The President looked completely nonchalant, casual and almost unconcerned. At this short and non serious meeting, the President remarked, what can I do for East Pakistan ? I can only pray". ۔
جب یحییٰ خان نے یہ کہا کہ میں مشرقی پاکستان کے لئے دعا کے سوا کیا کر سکتا ہوں ؟ تو گویا اس نے خود کو مشرقی پاکستان سے علیحدہ کر لیا حالانکہ Breaking of Pakistan کے صفحہ 24 پر درج ہے کہ یحییٰ خان نے تسلیم کیا کہ پاکستان کے تمام فوجی کمانڈروں کی پختہ رائے تھی کہ پاکستان کا دفاع مغرب سے ہو گا ، اس طے شدہ نظریے کے مطابق ہماری ریزرو فوج کو فوراً مغربی محاذ پر جوابی حملہ کرنا چاہئے تھاجو نہیں کیا گیا ۔ کیا یہ 1947 سے 1971ءتک جی ایچ کیو کے پالیسی سازوں اور متحدہ پاکستان کے دفاع کے لئے بھاری بھر کم دفاعی بجٹ صرف کرنے کا مذاق نہیں اڑایا جا رہا تھا ؟ بھارت نے مربوط طریقے سے تیزی سے حملے کی منصوبہ بندی کی تھی ۔نیم فوجی دستوں سمیت اسکی حملہ آور فوج کی تعداد پانچ لاکھ تھی ۔اس کے علاوہ اسے اپنی پانچ لاکھ کی وہ فوج بھی دستیاب تھی جو چین کی سرحد پر تھی ۔ جنگی تاریخ میں شاید ہی کسی ایک لیفٹیننٹ جنرل نے اتنی بڑی فوج کی کمان کی ہو ۔ بھارت دو ہفتوں میں مقاصد حاصل کرنا چاہتا تھا ، جنرل اروڑا نے کہا تھا کہ وہ بارہ دن میں مشرقی پاکستان کو فتح کر لے گا ۔ میجر جنرل فضل مقیم کا خیال ہے کہ مغربی پاکستان میں ایک محدود کامیابی بھی مشرقی چھاﺅنی کو جنگ کی پروا کئے بغیرجنگ جاری رکھنے کے لئے پر امید بنا سکتی تھی لیکن ایسا نہیں ہوا “۔ نہ صرف یہ کہ مغرب سے حملہ نہیں کیا گیا بلکہ معاملے کو اقوام متحدہ میں بھی نہیں لے جایا گیا ۔ ایسا لگتا ہے کہ مشرقی پاکستان میں موجود مختصر سی فوج کو قربانی کا بکرا بنایا جا رہا تھا۔ سلامتی کونسل میں معاملہ اس لئے نہیں بھجوایا گیا کہ کوئی سیاسی تصفیہ نہ ہو جائے ، مغرب سے حملہ نہ کرکے بھارت کو پورے تیرہ دن دیئے گئے تاکہ جنرل اروڑہ بارہ دنوں میں کامیابی کا خواب پورا کر لے ۔ فوج میں نظم و ضبط کا فقدان اس المیے کو منطقی انجام کی طرف لے گیا جب قوم کی ناموس داﺅ پر لگی ہوئی تھی اس وقت بھی یہ جرنیل اپنی اپنی جھوٹی اناءکے خول میں قید رہے۔ جنرل نیازی کا کہنا ہے کہ ڈائریکٹر آف ملٹری آپریشنز بریگیڈیئر ریاض نے جنگ کی پوری مدت میں ایک بار بھی مجھ سے یا میرے اسٹاف آفیسرز سے بات نہیں کی ۔ جنرل کمال متین تو یہاں تک لکھتے ہیں کہ جب یہ جنگ لڑی جا رہی تھی ان دنوں چیف آف اسٹاف جنرل حمید اور انکے چیف آف جنرل اسٹاف جنرل گل حسن کی آپس میں بول چال ہی بند تھی اور نہ گل حسن کے تعلقات جی ایچ کیو کے دوسرے پرنسپل اسٹاف افسروں کے ساتھ خوشگوار تھے ۔ خود جنرل گل حسن اپنی یاداشتوں کے صفحہ299 پر رقمطراز ہیں کہ ” میں نہیں سمجھتا کہ جی ایچ کیو کبھی اتنا غیر موثر رہا جتنا وہ 1971 میں بھارت کے خلاف جنگ شروع ہونے سے چند مہینوں پہلے تھا ۔ فوج کے اعصابی مرکز میں احکام کی غیر موجودگی اور اتفاق و اتحاد کے فقدان نے ہم پر بڑے بے رحم تھپیڑے لگائے “ ۔ ان حالات میں فیصلے بر وقت کیسے ہو سکتے تھے ۔جب مغرب سے حملے کا وقت تھا تب کیا نہیں گیا مگر بعد میں 30 نومبر کو فیصلہ کر لیا کہ 3 دسمبر کو حملہ کریں گے اس وقت تک بہت تاخیر ہو چکی تھی ۔ اس جنگ میں بالخصوص فضائیہ اپنے سربراہ کے حکم کی تعمیل میں خاموش رہی ۔ بے وقت حملے کا نتیجہ یہ ہواکہ بھارت نے ہمیں جارح قرار دے دیا ۔ بھارت نے بارہ دنوں میں ہماری ہزاروں مربع میل زمین پر قبضہ کر لیا ۔ دوسری طرف مشرقی کمان کو یہ بتایا گیا کہ مغرب میں بھی بھارت نے ہم پر حملہ کر دیا ہے ۔ 12 دسمبر کو نا گفتہ بہ صورتحال میں جنرل گل حسن نے پشتو میں نیازی کو پیغام دیا کہ 13 دسمبر دوپہر امریکہ اور چین کی مدد آرہی ہے اگلے دن فون آیا کہ دوستوں کی مدد 48 گھنٹے کیلئے موخر ہو گئی ہے ۔ مشرقی کمان کو سی او ایس نے اشارہ دیا کہ یو این سیکورٹی کونسل اسی سیشن میں سیز فائر کروا رہی ہے ۔ اسی دوران جنرل کمال متین کے مطابق پاکستان نے 5 دسمبر کی روسی تجویز منظور نہ کرکے اپنی فوجوں کے مشرقی پاکستان سے با عزت انخلاءکا آخری موقع بھی گنوا دیا۔ سوویت تجویز میں ایک سیاسی تصفیے کے لئے کہا گیا تھا اسے چین نے ویٹو کر دیا۔اس وقت سوویت یونین واحد ملک تھا جو بھارت کو روک سکتا تھا ۔ پھر مسز گاندھی نے بھی 13 دسمبر کو اوتھانٹ جنرل سیکرٹری اقوام متحدہ کے نام خط میں فوجیں واپس بلانے کا عندہ دیا تھا اسے بھی صدر یحییٰ نے تسلیم نہیں کیا ، سفارتی محاذ پر ہم کسی کی بات مان نہیں رہے تھے اور کوئی ہماری بات سن نہیں رہاتھا۔ فوجی حوالے سے 1971ءکی جنگ میں فوج کے بڑے حصے نے حصہ ہی نہیں لیا ۔ حالات اس قدر دگرگوں تھے کہ راجھستان کی سرحد سے جو ڈیزرٹ آپریشن سی او ایس جنرل حمید نے کور کمانڈر سے مل کر شروع کروایا تھا وہ جنرل گل حسن نے اپنی ذمہ داری پر رکوا دیا اور تمام فوج کو بھارتی علاقے میں واپس آنے کا حکم دیا۔ چیف آف سٹاف اور چیف آف جنرل سٹاف جن کے دفاتر چند گز کے فاصلے پر تھے انہوں نے باہمی مشورہ اور بات چیت تک نہ کی ۔رفیق ڈوگر کے بقول ہاکی میچ میں بھی کسی کھلاڑی کی جگہ بدلنے کے لئے مینجر ، کوچ اور کپتان سے مشورہ لیتا ہے ۔ہماری سرحدوں کے دفاع کے ذمہ داروں نے وطن عزیز کے دفاع کو ہاکی میچ جتنی اہمیت بھی کیوں نہ دی ؟ 
اس دوران جنگ بندی کے جو بھی مواقع آئے اعلیٰ کمان نے گنوا دیئے ۔جنرل یحییٰ اور انکا ساتھی ٹولہ حالات کو ایم ایم احمد پلان کے مطابق چلا رہا تھا ۔ آخر کار بھٹو کواعلیٰ وفد کے ہمراہ نیو یارک بھجوا دیا گیاوہ چند گھنٹوں کا سفر 3 دن میں کر کے اپنی دلچسپی ظاہر کر رہے تھے۔ وہ کابل اور تہران سے ہوتے ہوئے فرینکفرٹ گئے ۔راستے میں لندن میں مشرقی پاکستان کے چیف سیکرٹری مظفر حسین کی بیوی سے ملاقات کی اور انہیں کہا کہ اب وہ بہت دنوں تک اپنے شوہر سے نہیں مل پائے گی جسکا واضح مطلب ہتھیار ڈالنا اور جنگی قیدی بن جانا تھا ۔ وہ وہاں سے نیو یارک گئے روسی قرار داد کا وقت آیا تو انہیں نزلہ ہو گیا جبکہ یحییٰ خان کے بقول انہوں نے اتنی پی لی کہ ہوش نہ رہا ۔ بہر حال اگلے روز انہوں نے بھرپور جذباتی تقریر کے بعد پولینڈ کی قرارداد کا مسودہ یہ کہہ کر پھاڑ ڈالا کہ آپ اپنی سلامتی کونسل اپنے پاس رکھیں ۔بھٹو کی اقوام متحدہ میں اداکاری میدان جنگ پراثر انداز نہ ہو سکی۔ 14 دسمبر کو بھارتی فضائیہ نے گورنر ہاﺅس پر بمباری کی ۔ گورنر اور اسکے ساتھی مستعفی ہو کر ریڈ کراس کے زیر سایہ انٹر کانٹی نینٹل ہوٹل میں چلے گئے اسی روز چیف آف آرمی سٹاف کے سیکرٹری کا سگنل جاتا ہے کہ جنگ روکنے کی کوشش کی جائے ۔ 14 دسمبر کو جنرل نیازی کے بقول انہوں نے تصدیق کے لئے ایوان صدر فون کیا تو جنرل حمید نے کہا کہ صدر یحییٰ غسل خانے میں ہیں وہ غسل خانے میں نہیں تھے زیادہ پی کر ہوش میں نہیں تھے ۔تب ائر مارشل رحیم سے بھی بات ہوئی تو وہ بھی نشے میں معلوم ہوئے انہوں نے صدر کے حکم کی اطاعت کا کہا “ اور پھر امریکن قونصل جنرل کے ذریعے جنرل مانک شا کا مشروط پیغام آیا جسے جی ایچ کیو نے منظور کر لیا۔ حالات خراب دیکھ کر یحییٰ خان کے ان دنوں نامزد وزیر اعظم نور الامین نے ہفت روزہ زندگی 24 تا 30 جنوری 1972ءکو انٹر ویو میں بتایا کہ وہ پندرہ دسمبر کو غیر معمولی رنج و غم کی حالت میں صدر سے ملاقات کے لئے گئے تو دیکھ کر حیران رہ گئے کہ یحییٰ خان جنرل حمید کے ساتھ شراب نوشی میں مصروف مزے لے رہے تھے جنگ کے بارے استفسارپر یحییٰ نے ان سے کہا کہ ہم مجبور ہیں مگر جنگ جاری رہے گی ۔ “ اگلے روز فوج نے مشرقی پاکستان میں ہتھیار ڈال دیئے اور کہا گیا کہ 93 ہزار فوجیوں نے ہتھیار ڈال دیئے۔ یہ کیسے کمانڈر اور حکمران تھے جنہیں اپنی فوج کے صحیح اعداد و شمار تک معلوم نہ تھے ۔حقیقتاً مشرقی محاذ پر فوجیوں کی تعداد صرف 34 ہزار تھی رینجرز ، اسکاﺅٹس ملیشیاءاور سول پولیس ملا کر گیارہ ہزار بنتی تھی اس طرح کل 45 ہزار تعداد تھی ۔اگر بحری ، فضائی دستوں کے لوگوں اور ان تمام لوگوں کو بھی شامل کر لیا جائے جنہیں وردی اور مفت راشن کا استحقاق تھا تب بھی یہ تعداد 55 ہزار بنتی ہے بقیہ سول لوگ، عورتیں اور بچے تھے مگر حمودالرحمن کمیشن سمیت ہم آج تک یہی کہتے ہیں کہ ہمارے چھیانوے ہزار فوجیوں نے ہتھیار ڈال دیئے ،یہ کیسا مذاق کیا جارہا تھا۔ پھر کوئی یہ تسلیم نہیں کرتا کہ ہتھیارپھینکنے کے احکامات کس نے دیے اور کیوں دیے، ہماری تاریخ میں آج تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ ہتھیار ڈالنے کا حکم کس نے دیا ، نہ یحییٰ نے تسلیم کیا نہ کوئی اور جنرل ماننے کے لئے تیار ہے ۔ ملک میں مارشل لاءتھا ، ملک کا صدر چیف مارشل لاءایڈمنسٹریٹر اور فوجوں کا سپریم کمانڈر تھا صوبوں میں جنرل حکمران تھے جنہوں نے ساری عمر میدان جنگ میں گزاری مگر جب جنگ شروع ہوئی تو کمانڈر انچیف کا حکم فضائیہ کا سربراہ نہیں مانتا، سی او ایس کا آپریشن سی جی ایس منسوخ کر دیتا ہے ، تحفظ وطن کے لئے سٹرائیک آپریشن تیرہ روز تک شروع ہی نہیں ہو پاتا، ملک دو ٹکڑے ہو جاتا ہے ،بچے کھچے پاکستان کے بڑے حصے پر بھی بھارت قبضہ کر لیتا ہے اور جنرل صاحبان کو یہ تک معلوم نہیں کہ وہ آرڈر کون دیتا تھا ، وہ آرڈروں کی تعمیل بھی کرتے رہے اور ملک ٹوٹنے کا تماشہ بھی دیکھتے رہے ۔ انہوں نے مشرقی پاکستان کا دفاع مغربی پاکستان سے کرنے کی حکمت عملی بنائی اور مغربی پاکستان بچانے کے لئے مشرقی پاکستان کو الگ کر دیا ، کیا تاریخ ایسی پیشہ وارانہ مہارت، دفاع وطن ، حب الوطنی اور مدہوش کمان کی کوئی اور مثال بھی پیش کر سکتی ہے ۔ دسمبر 1971 میں بے حس جرنیلوں کی پیشہ وارانہ قابلیت کا پول کھل گیا ۔حب الوطنی سے زیادہ ہوس اقتدار ان کے اعصاب پر سوار رہی ، اتنا بڑا سانحہ ہو گیا مگر افسوس یہ کہ اس المیے کے ذمہ داران سقوط مشرقی پاکستان کے بعد بھی ترقی پر ترقی پاتے رہے ۔ فوج سے ریٹائر ہوئے تو پرانی ہوس اقتدار ان میں سے کئی جرنیلوں کو عملی سیاست میں لے آئی ۔ سانحہ مشرقی پاکستان کی تہہ در تہہ وجوہات میں سے اہم ترین وجہ پاکستان کے فوجی جرنیلوں کی پیشہ وارانہ فرائض سے غفلت برت کر سیاسی چسکے پورے کرنے کی ہوس تھی ۔ جب تک پاکستان میں فوج کا سیاسی کردار محدود یا ختم نہیں ہو گا وفاق پاکستان خطرات کی زد میں رہے گا ۔