منگل، 2 دسمبر، 2014

ہوا نے بھید سبھی موسموں کے کھول دیے



ہوا نے بھید سبھی موسموں کے کھول دیے
نقاب الٹا تو سب بادشہ فقیر لگے

Dean Ingeنے لکھا تھا کہ ”آزاد لوگ جنگ کے زیادہ متمنی ہوتے ہیں اور جمہوریتیں، مطلق االعنان بادشاہوں سے زیادہ اپنے جذبات کی غلام“ یہ بات آج کل کے ”پاکستان“ پر پوری طرح صادق آتی ہے جہاں حکمرانوں کی روایتی سستی اور ’پی ٹی آئی‘ کی ضرورت سے زیادہ تیز رفتاری نے واہموں، وسوسوں اور ابہامات کا لنڈا بازار سجا دیا ہے۔ وطن عزیز میں جو کچھ ہو رہا ہے، ذاتی اغراض وباطنی خواہشات کے مارے ہوئے راہبروں کی ہوس اقتدار نے عدم استحکام کے جو گل کھلائے ہیں انھیں دیکھ کر اطالیہ کے معمار Cavourکی بات شدت سے یاد آتی ہے کہ ”اگر ہم وہی کچھ اپنی ذات کیلئے کریں جو کچھ ہم نے مملکت کیلئے کیا ہے تو ہم کتنے بڑے شیاطین کہلائیں“۔ اسی ”شیطانی سیاست“ کا نتیجہ ہے کہ ہمارے ہاں بے یقینی کا موسم چھا گیا ہے، راستے بے امان اور لوگ بدگمان ہو چکے ہیں۔ ایسے میں لوگ کس کا اعتبار کریں اور کیوں کریں۔کہا جاتا ہے کہ ایک مکمل جمہوریت بھی اس حد تک جمہوری نہیں ہو سکتی جس حدتک نظریہ جمہوریت اسے جمہوری بناتا ہے۔ ایسے میں ترقی پذیر ملک میں بلاشبہ جمہوریت مثالی نہیں ہے، گذشتہ اڑسٹھ سالوں میں عینیت پسندی کے تناظر میں کچھ نہیں ہوا۔ حکمرانوں کی غلطیوں کا دفاع بھی ممکن نہیں۔ یہاں فرشتوں کا سماج اور فرشتوں کی حکومت کا خواب پورا نہ ہوسکا۔ تنقید برائے تنقید کیلئے یہاں اتنا مواد ہے کہ سیاسی غلطیوں کا انسائیکلوپیڈیا لکھا جا سکتا ہے۔ اس تناظر میں ایک فرد واحد نے ایک گروہ اور ایک پارٹی نے  ”تبدیلی“ کا پر زور نعرہ بلند کیا۔ سادہ لوح عوام کیلئے اس میں بڑی کشش ہے، چنانچہ دھرنے اور یہ جلسہ سیاست شروع ہو گئی۔ اور پھر خانصاحب نے 30نومبر کو فیصلہ کن جنگ کا اعلان کیا، خانصاب کے 30نومبر کے جلسے کی تقریر میں پہلی نمایاں بات تو ان کا اعتراف شکست ہے۔ انہوں نے برملا اعلان کیا کہ ان کا پلان اے، اور پلان بی ناکام ہو گئے ہیں چنانچہ پلان سی کا اعلان کیا گیا اور ساتھ زور دے کر کہا کہ پلان سی کی ناکامی کے بعد پلان ڈی بھی تیار ہے، یعنی پلان سی کا اعلان کرتے ہوئے انھیں اس کی ناکامی کا پورا ادراک ہے۔ ان کی جذباتیت، پہ درپہ شکستوں کا نتیجہ ہے یا شکستیں بے مہار جذباتیت کا ثمرہیں، یہ تو کوئی ماہر نفسیات ہی بتا سکتا ہے۔تاہم یہ بات یاد رکھنے کی ہے یہ پلان انھیں کہیں ڈی گریڈ نہ کر دیں۔
خان صاحب نے مختلف شہروں کو بند کرنے اور پھر پاکستان کی تاریخ کے عبرتناک دن 16دسمبر کو پورا پاکستان بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ویسے عمران خاں کے مشیروں کے قربان جائیے کہ ہمیشہ تاریخوں کے انتخاب میں انہوں نے خاں صاحب کو رسوا کروایا ہے، پہلے پاکستان کی آزادی کے جشن کے رنگ میں بھنگ ڈالنے کی سعی کی اور اب سقوط مشرقی پاکستان کی تاریخ، تاریخیں دینے والوں کی ذہنی و فکری نفسیات کا طائرانہ جائزہ بھی عیاں کرتا ہے کہ وہ تاریخ سے بدلہ لینے کی دیرینہ آرزو کوخان صاحب کے ذریعے پورا کرنے کی سعی کر رہے ہیں، خاکم بدہن 16دسمبر کو پاکستان کو ”بند‘‘ کرنے کی کوشش سعی ناتمام کی تکمیل کے ارمان کی عکاس ہے۔الامان، الحفیظ، خانصاحب سیاست کو کھیل مت بنائیے، کرکٹ فوبیا کا شکار قوم پہلے ہی انٹرٹینمنٹ انڈسٹری کی زلفوں کی اسیر ہے جبکہ سیاست سنجیدہ فکری کی طالب ہے۔ عمرانی طرز سیاست کے بغور جائزہ سے جیمز میڈیسن کی بات یاد آجاتی ہے جو اس نے امریکی انقلاب کے وقت متنبہ کرتے ہوئے کہی تھی کہ وطن میں آزادی پر مسلط کی جانے والی زنجیریں ہمیشہ ان ہتھیاروں سے تیار کی جاتی ہیں جو حقیقی جھوٹ موٹ یا تصوراتی خارجی خطرات کیلئے تیار کی جاتی ہیں، خان صاحب کی فکر اور سیاست تضادات کا مجموعہ بن کر رہ گئی ہے۔ وہ سرمایہ داروں، وڈیروں اور گدی نشینوں کے کندھوں پر کھڑے ہو کر جمہوریت کی اذان دیتے ہیں۔ ان کے ذاتی اخلاق کا گھر شیشے کا ہے جس میں بیٹھ کر وہ دوسروں پر پتھر پھینکتے ہیں۔ سیاست میں ذاتی اور سیاسی اخلاق ہم معنی ہوتے ہیں۔ عمران خاں دوسروں کے ماضی کا تذکرہ اور اپنے مستقبل کی بات کرتے ہیں۔ خانصاحب کو رسل کی یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ سیاسی اخلاق کے بغیر قومیں تباہ ہو جاتی ہیں اور ذاتی اخلاق کے بغیر ان کا وجود بے معنی ہوتا ہے اس لیے ایک اچھی دنیا کیلئے سیاسی اور پرائیویٹ اخلاق دونوں کی ضرورت ہے۔ 
خان صاحب نے ضد اور ہٹ دھرمی کی سیاست کے ذریعے پاکستان میں موجود سیاسی و سماجی نا انصافیوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے نوجوان نسل کو سہانے خواب دکھا کر جذباتی سے ہیجانی بنادیا ہے۔ انتخابی اصلاحات، پائیدار معیشت او سماجی انصاف کی حامل جمہوریت ہر پاکستانی کا خواب ہے۔خان صاحب نے حقیقی اپوزیشن کا کردار ادا کرنے کی بجائے کھلنڈری اپوزیشن کا کردار ادا کر کے سنجیدہ حلقوں کو مایوس کیا ہے۔ میرے جیسے لوگ توقع کر رہے تھے کہ 30نومبر کو خانصاحب ”دھرنا سیاست“ کے ساتھ ساتھ سنجیدگی کا مظاہرہ کریں گے اور جس مغرب کی وہ مثالیں دے دے کر نہیں تھکتے، وہاں کے آداب سیاست کو ملحوظ رکھتے ہوئے میاں نواز شریف کی حکومت کا حقیقی احتساب کریں گے۔ اور جمہوری روایات کو پختگی بخشنے کے لیے ”شیڈو کیبنٹ“ کا اعلان کر دیں گے اور جن وزراء کو طعنے دیتے رہتے ہیں ان کی کارکردگی کا پول کھولنے کے لیے متبادل پالیسیاں دیں گے۔ معاشی اور سماجی تبدیلی کا حقیقی ایجنڈا دیں گے۔ پختہ فکری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملکی ترقی اور استحکام کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کرنے کا اعلان کریں گے۔ کہا جاتا ہے کہ سیاست کا دار و مدار بظاہر متناقص صداقتوں پر ہوتا ہے۔ عمران خاں کا سیاسی فہم ابھی مزیر تدبر و تفکر کا متقاضی ہے۔ عمران خاں عینیت پسند ہیں اور فیصلوں کے وقت اس کے نتائج پر غور کم ہی کرتے ہیں۔ سیاسی و عمرانی مفکر میکس ویبر نے کہہ رکھا ہے کہ سیاست میں صرف دو ہی بڑے گناہ ہیں۔ حقیقت پسندی کا فقدان اور فیصلوں کے نتائج کی ذمہ داری قبول کرنے کا فقدان۔ خان صاحب واہموں کے جنگل میں خواہشوں کے رستے پر رواں دواں ہیں اور بھلا بیٹھے ہیں کہ ارمانوں کے موسم میں بس حسرتوں کا شمار ہی ہوپاتا ہے۔ عمران خاں سیاست کے میدان میں افلاطون کی مثالیت پسندی کے علمبردار ہیں اور ”خان بادشاہ“ کے تصور کے اسیربھی حالانکہ ممتاز مؤرخ والپول نے تاریخ کا یہ سبق رقم کر رکھا ہے کہ ”نیک آدمی کبھی کسی بڑی سلطنت کو بچا نہیں سکتے“۔ 
خان صاحب حقیقت پسندی کا تقاضا ہے کہ کسی خاص حکومت کو جانچنے کے لیے ہمیں یہ دیکھنا پڑتا ہے کہ اس نے یہ وظائف ورثے میں ملنے والے حالات میں کتنے اچھے  طریقے سے سر انجام دیئے ہیں۔ جرمن شاعر ہولدر لین نے بڑے پتے کی بات کہہ رکھی ہے کہ ”جو چیز ریاست کو دوزخ ارضی بناتی ہے وہ یہ ہے کہ انسان اسے جنت بنانے کی کوشش کرتا ہے“ خان صاحب پاکستان کو دنیاوی ریاست بن لینے دیں۔ آپ کی سیاست نے سارے راز افشاں کر دیے ہیں، ہٹ دھرمی، ضد اور صرف اپنی پسند کے سچ کو یونیورسل سچ بنا کر پیش کرنا زمینی حقیقتوں سے نا آشنائی ہے۔ عمران خان کی سیاست نے نظری حوالے سے کچھ ”مثبت اثرات“بھی مرتب کیے ہوں گے مگر ان کی کہانی کنٹینر پر اور،عدالتوں میں اور ہوتی ہے۔ روشن مستقبل کا خواب دکھاتے ہوئے خان صاحب نے جتنے اندھے یو ٹرن لیے ہیں وہ کسی کج فہمی سے کم نہیں ہیں۔ میاں برادران سے انکی ذاتی عداوت دیرینہ اور اپنی جگہ مگر شیخ رشید جیسے مفاد پرست سے وقتی محبت بھی بڑے سوالوں کو جنم دے رہی ہے۔ میاں صاحب کے جن ادوار کو خانصاحب پاکستان کی بد قسمتی قرار دیتے ہیں شیخ رشید اِن ادوار میں کچن کیبنٹ میں تھے اور حکومت اور میاں برادران کے ترجمان بھی۔ آج کل خان صاحب اور شیخ رشید میں یگانگت شکستوں کی کہانی کی وجہ سے ہے۔ شکست خوردہ انسان اور شکست خوردہ ذہنیت کبھی مثبت سوچ نہیں سکتی، اچھا بول نہیں سکتی۔ عمران خاں کی کنٹینر سیاست کے بعد بس اتنا کہنا ہے کہ 
ہوا نے بھید سبھی موسموں کے کھول دیے 
شہادتوں کا ہر اک نقش منحرف نکلا
رح بشر سے جو پردہ ہٹا تو جھولے میں 
وہی چہرہ تھا جو صبح ازل کو دیکھا تھا