جمعہ، 5 دسمبر، 2014

مرد ناداں پہ کلام نرم و نازک بے اثر


حضرت عمرؓ کا ایک قول ہے، وہ اکثر اپنے اس قول کو دہرایا کرتے تھے ”اخوف ما اخاف علیکم اعجاب المرء برأیہ“ یعنی سب سے زیادہ میں جس چیز سے تمہارے بارے میں ڈرتا ہوں، وہ ہے آدمی کا اپنی رائے کو پسند کرنا۔ اپنی رائے ہی کو رائے سمجھنے کا مزاج ہلاکت کی بد ترین مثال ہے۔ مولانا وحید الدین خاں لکھتے ہیں کہ ”جس شخص کے اندر یہ مزاج پیدا ہو جائے وہ بس اپنے خیالات میں گم رہتا ہے، اس کو اپنے باہر کی صداقت کا علم نہیں ہوتا۔ وہ سمجھتا ہے کہ میں حق کی پیروی کر رہا ہوں، حالانکہ وہ صرف اپنی خواہشات کی پیروی کر رہا ہوتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ میں معاملہ کی سچائی تک پہنچ گیا ہوں حالانکہ وہ صرف اپنی ادھوری رائے میں بھٹک رہا ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اپنے ذہنی خول سے باہر نکلنا ہی نجات اور کامیابی کا آغاز ہے جو لوگ اپنے ذہنی خول سے نہ نکلیں ان کا ذہنی خول ان کے لیے قبرستان بن کر رہ جاتا ہے“ حضرت عمرؓ کا یہ قول اور اس پر مولانا وحید الدین کی تفہیم مجھے میرے گذشتہ کالم ”ہوا نے بھید سبھی موسموں کے کھول دیے“ پر لندن سے ایک دوست محمد االیاس کے مسلسل تبصروں کی بنا پر یادآئے۔ 
ہماری سماجی و سیاسی زندگی میں حالیہ تبدیلی کی جوشیلی تحریک کے پرستار حقیقت میں حضرت عمر ؓ کے اس قول کے عکاس ہیں۔ انہوں نے سرخ عینک لگائی ہے اور یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ دنیا صرف سرخ ہے۔ حالانکہ اس دنیا کے کئی اور رنگ ہیں جن کا ادراک انہیں صرف اس وجہ سے ہی نہیں ہو پا رہا کہ وہ آنکھوں کی بجائے عینک سے دیکھنے لگے ہیں، انہیں خانصاحب کی ذات میں مسیحا نظر آتا ہے اور جب کوئی کسی راہنما کی عقیدت میں گرفتار ہو کر اس کا بُت بنا لے تو صرف پوجا ہی کر سکتا ہے۔ 
عمران خاں کی موجودہ سیاسی تحریک ان کی مرضی کے نتائج نہیں دے رہی۔ ان کے جذبات محض کے عکاس سیاسی پلان باری باری ناکام ہو رہے ہیں اور جس کی وجہ سے وہ خود اقرار کرتے ہیں کہ ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔ مگر ان کے ”عقیدت مند“دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ ناکامی نہیں بلکہ دھیرے دھیرے آگے بڑھنے کا عمل ہے۔ محمد الیاس یہ بھی سوال کرتے ہیں کہ کیا آپ جواب دے سکتے ہیں کہ خانصاحب کو پلان اے، بی، سی کیوں دینا پڑا……؟ پھر خود ہی اس کا جواب بھی دے دیتے ہیں کہ شریف برادران کی خود سری اور اکڑ کی وجہ سے ایسا کرنا پڑا ہے۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ خان صاحب عمل کے سیاستدان نہیں رد عمل کے کھلاڑی ہیں۔ سیاست کے اچھے موسم میں بھی خانصاحب اقتدار کے ایوانوں تک نہ پہنچ سکے۔ عمران خاں کی ناکامیوں میں دوسروں کی اکڑ سے زیادہ ان کی اپنی ہٹ دھرمی اور نفرت کی سیاست عمل دخل ہے۔ ڈیل کارنیگی نے لکھا تھا کہ جب ہم اپنے دشمنوں سے نفرت کرتے ہیں تو ہم ان کو اپنے اوپر غلبہ دے دیتے ہیں۔ غلبہ اپنی نیند پر، اپنی اشتہاء اور اپنی خوشی پر،وہ خوشی  سے ناچیں اگر وہ جان لیں کہ وہ ہم کو کتنا زیادہ پریشان کر رہے ہیں۔ ہماری نفرت ان کو کچھ نقصان نہیں پہنچاتی البتہ وہ ہمارے دنوں اور راتوں کو جہنمی عذاب میں تبدیل کر رہی ہے۔ دوسروں سے نفرت کرنا خود اپنے آپ سے نفرت کرنا ہوتا ہے۔ خانصاحب کی شریف برادران سے عداوت نے ان کے اعصاب پر بوجھ ڈال رکھا ہے۔ وہ کچھ مثبت اور منطقی سوچنے کی بجائے اسی نفرت کا شکار ہو کر رہ گئے ہیں۔ ان کے اعلانات اور میلا نات سنجیدہ سوچ بچار کے بغیر نظر آتے ہیں۔ ابھی 30 نومبر کو انہوں نے ملک کو بند کرنے کا منصوبہ بنایا تو اس پر بھی تدبر و تفکر نہیں کیا۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں اگلے ہی دن تاریخوں کو تبدیل کرنا پڑا۔ اس سے قبل وہ ملکی معیشت کو ہنڈی کے ذریعے مضبوط کرنے کی حب الوطنی دکھا چکے ہیں۔ دراصل خاں صاحب سیاست میں فاسٹ باؤلر بننے کے لیے کوشاں رہے ہیں۔ چند سال قبل انہیں ”چوہدری برادران“ سے نفرت ہوئی تو انہیں لگا ملک کے سب سے کرپٹ راہنما یہی ہیں پھر ان کے اعصاب پر الطاف حسین چھا گئے، کچھ عرصہ پہلے وہ پرویز مشرف کی محبت میں گرفتار ہوئے اور ایک نشست کی بنیاد پر وزارت عظمیٰ نہ دینے کے مشرف کے غیر جمہوری فیصلے سے نالاں ہو گئے۔ ان کے سیاسی تدبر نے خوب جان لیا کہ شیخ رشید جیسے شخص کو تو وہ چوکیدار بھی نہ رکھیں مگر پھر انہی سے سیاسی محبت کی پینگیں بڑھا لیں۔ شیخ رشید اور خانصاحب میں شریف برادران سے نفرت کے علاوہ شاید ہی کوئی اور قدر مشترک ہو۔ ڈیڑھ، دو سال قبل جاوید ہاشمی جمہوریت کا سب سے بڑا استعارہ تھا مگر جب اس نے سازشی سیاست سے اختلاف کیا تو باغی سے داغی ہو گیا۔ عمران خاں کی سیاست نفرت کے سہارے چل رہی ہے۔ خان صاحب فاسٹ باؤلر رہے ہیں اور خوب جانتے ہیں کہ جب بھی فاسٹ باؤلر بے صبرا ہو تا ہے اس کی لائن لینتھ خراب ہو جاتی ہے اور مخالف ٹیم باؤلر کے اندھے زور کے باوجود آسانی سے اور زیادہ رنز بناتی ہے۔ عمران خاں کی بے صبری نے قوم کے تین چار ماہ ضائع کر دیے ہیں۔ وہ 14 اگست کے بعد آپے سے باہر ہو گئے اور مذاکرات کے ذریعے جمہوریت کے ارتقاء کے لیے اصلاحات کی کامیابی سمیٹنے کی بجائے وزیر اعظم کے استعفیٰ کی رٹ لگا بیٹھے۔ قادری صاحب کے دھرنے کے خاتمے کے بعد انہیں اپنی قدر و قیمت کا احساس ہوا تو پھر مذاکرات کی صدا لگانے لگے۔ کیا خان صاحب اپنے نفسیاتی مسائل کے ذریعے قوم اور ملک کے چار ماہ کے نقصان کو پورا کریں گے۔ اگر انہوں نے اچانک استعفیٰ کے مطالبے سے پیچھے ہٹنا ہی تھا تو جب جرگہ اور سارا ملک کہہ رہا تھا تب کیوں نہیں سوچا۔ اب عقل آہی گئی ہے تو کیا وہ تاریخ کے باب میں اپنے خلاف ایف آئی آر درج کروائیں گے۔ دھرنا کے بعد جو صورتحال بنتی گئی اس میں حقیقت پسندی سے کام لیا ہی نہیں گیا۔ ایلیٹ نے بڑے پتے کی بات کہہ رکھی ہے کہ اگر تم کسی گول چھید میں جا پڑو  تو تمہیں اپنے آپ کو گیند بنا لینا چاہیے۔ یہ زندگی میں کامیابی کے لیے نہایت قیمتی گر ہے۔ مگر خانصاحب کے چاہنے والے تو انہیں غلطی سے پاک فرشتہ سمجھتے ہیں۔ انکے آمرانہ مزاج کا ہی شاخسانہ ہے کہ جب بھی وہ ایسا کوئی غیر منطقی فیصلہ یا اعلان کرتے ہیں تو کوئی انہیں مشورہ دینے کی بھی جسارت نہیں کرتا۔ 
سب سمجھتے ہیں بات مطلب کی  
کس نے سمجھا بات کا مطلب  
حقیقت کبھی اتنی سادہ نہیں ہوتی جتنا ایک مخلص آدمی اسے سمجھ لیتا ہے۔ غلطی کرنا ایک وقتی فعل ہے مگر غلطی تسلیم نہ کرنا ابدی جرم ہے۔ ایسا کرنے والے اپنے ہاتھوں خود ہلاک ہو جاتے ہیں۔ غلطی نہ ماننا سب سے بڑی غلطی ہے اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جو شخص دوسرے کو مجرم ظاہر کرنا چاہتا ہے وہ خود اپنی نظر میں مجرم بن جاتا ہے۔ دانشمند وہ ہے جو ایک چیز اور دوسری چیز میں فرق کو جان سکے۔ حقیقت کی دنیا میں وہی کامیاب ہوتا ہے جو حقیقی مسئلے میں بر وقت فرق کر سکے اور حقیقی مسئلے پر پوری توجہ دیتے ہو غیر حقیقی مسئلے کو نظر انداز کر دے۔ خاں صاحب کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ شریف برادران کے نکل جانے سے نظام بہتر نہیں ہو گا۔ اس ملک میں شریف برادران کی کمی نہیں تاہم نظام میں بہتری آنے سے ایسے لوگ خود بخود باہر ہوتے جائیں گے۔ حضرت علیؓ کا ایک قول کہیں پرھا تھا کہ ”العاقل ھوالذی یصنع الشئی مواضعہ“ یعنی عقل مند وہ ہے جو چیز کو اس کی جگہ پر رکھ سکے۔ یہ دانشمند آدمی کی بڑی جامع تعریف ہے۔ معلومات یا الزامات ہر شخص کے پاس ہوتے ہیں مگر باتوں کو ان کی اصل حیثیت میں رکھ کر ان کی حقیقت کو سمجھنا بہت مشکل کام ہے اسی لیے فارسی کا ایک مقولہ کہ ”یک من علم راہ دہ من عقل می باید“ ایک من علم کے لیے دس من عقل چاہیے“۔ جذباتیت، ہٹ دھرمی، ضد اور نفرت کی سیاست کرنے والوں کو محبت اور دانش کی سیاست سے کیا غرض۔ ویسے بھی کہا جاتا ہے کہ 
مرد ناداں پہ کلام نرم و نازک بے اثر