جمعرات، 4 دسمبر، 2014

روحانی تجربے کا بیان واقعتا مشکل ہے



باطنیت کا تجربہ ایک منفیانہ خصوصیت کا حامل ہوتا ہے جسے یہ تجربہ حاصل ہو جائے وہ اس کا اعتراف کرتا ہے کہ میں بیان نہیں کر سکتا کہ میں نے کیا محسوس کیا ہے …… سو اگر اس کیفیت کو بیان نہیں کیا جاسکتا تو وہ دوسرے تک منتقل بھی نہیں کیا جاسکتا۔ لہذٰا باطنی تجربہ اگر کوئی صداقت رکھتا ہے تو یہ صداقت صرف صاحب ِتجربہ کے کام آسکتی ہے کسی اور کے لیے اسے صداقت قرار نہیں دیا جاسکتا…… اسی لیے دوسرے لوگوں پر اس کی کوئی پابندی نہیں کہ وہ اس صداقت کو تسلیم کر لیں۔ یہ خالص جذباتی احساس کا نام ہے اور جذبات یکسر ذاتی اور گونگے ہوتے ہیں۔ جو کچھ بھی ایک شخص محسوس کرتا ہے وہ اس کا احساس کسی دوسرے میں پیدا نہیں کر سکتا تاوقتیکہ وہ دوسرا شخص خود ہی محسوس نہ کرے“ روحانیت کے ممتاز مغربی دانشور ولیم جیمز کے مذکورہ الفاظ مجھے گجرات کے دارالحکمت المیر ٹرسٹ لائبریری و مرکز تحقیق و تالیف میں علم دوست اور کتاب دوست شخصیت عارف علی میر ایڈووکیٹ کی سربراہی میں خطہئ یونان گجرات کے نامور اور حقیقت پسند عوام دوست دانشور، کالم نگار اور کامریڈ راہنما افتخار بھٹہ کی حج بیت اللہ کی سعادت کے بعد واپسی پر ان کے اعزاز میں منعقدہ ظہرانے میں شدت سے یاد آئے کہ جب حاضرین کے پر زور اصرار کے باوجود افتخار بھٹہ حج کے ذہنی و  باطنی تجربے پر روشنی ڈالنے میں پس و پیش سے کام لیتے رہے۔ افتخار بھٹہ نصف صدی سے زیادہ عرصے سے لیفٹ کے دانشور کی شناخت رکھتے ہیں، کامریڈ اور مارکسسٹ ہیں، ہمیشہ سائنسی فکر کے داعی اور انسانی فضیلت کے علمبردار رہے ہیں، روشن خیال، لبرل اور اقتصادی ترقی کے آرزو مند ہیں۔ کتاب، قلم، دانش اور عقل سے ان کا رشتہ بہت پختہ ہے۔ مارکسسٹوں کا خیال کارل مارکس کی ’داس کیپٹل‘ میں رقم ان الفاظ کا عکاس ہے کہ ”اخلاقیات، مذہب، مابعد الطبیعات اور اسی قسم کے دوسرے تصورات اپنا آزاد وجود کہیں نہیں رکھتے۔ ان کی نہ کوئی تاریخ ہے نہ نشوونما۔ مذہب انسانی ذہن کی پیداوار ہے، انسان مذہب کی پیداوار نہیں“۔ بائیں بازو کے نظریے پر پختہ یقین رکھنے والے افتخار بھٹہ کے حوالے سے چند ہفتے قبل جب یہ خبر آئی کہ وہ حج کی سعادت کے لیے گئے ہیں تو سوچنے بولنے اور لکھنے والے حلقوں میں بڑی چہ مگوئیاں ہوئیں۔ سوال ہونے لگا ہے کہ کوئی شخص پرانی دنیا کو ترک کیے بغیر نئی دنیا کیسے دریافت کر سکتا ہے۔ سب کو جستجو تھی کہ وہ واپس آئیں تو ان کے روحانی تجربے سے آگاہی ضرور حاصل کی جائے۔ 

 میرا یہ ماننا ہے کہ پروردگار نے حج کو ایک رسم نہیں، ایک قلبی واردات کے طور پر فرض قرار دیا ہے۔ مکہ و مدینہ وہ مقام ہیں جہاں جو جاتا ہے اس کو امان مل جاتی ہے۔ حج حقیقت میں ہجرت کا روحانی تجربہ ہے جس کے دوران انسان اپنے رب کیطرف یہ کہتے ہوئے پلٹتا ہے کہ اے رب العالمین! میری نماز، میری قربانی، میری زندگی سب کچھ تیرے لیے ہے۔ یہ تجربہ سب کو نہ سہی کچھ حاجیوں کو ضرور نصیب ہوتا ہے اور پھر ان کی زندگی ایمان، محبت، خیر، صداقت اور امن کی روحانی بنیادوں پر استوار ہو جاتی ہے۔ روحانی طور پر زندہ و بیدار شخص خدا کی تلاش میں ایمان، محبت، خیر، صداقت اور امن کی مسافرت پر نکلتا ہے۔ اس سفر کے مسافر افتخار بھٹہ کی واپسی پر اس روحانی تجربے کے بیان کے لیے عارف میر صاحب نے خصوصی نشست کا اہتمام کیا اور مجھے بھی شرکت کی دعوت دی تو میں بڑے اشتیاق سے شریک ہوا۔ محفل میں روحانیت سے خاص دلچسپی رکھنے والوں کی تعداد زیادہ تھی۔ درویش منش میاں خورشید احمد، پیر محمد آصف، نجم الحسن، ظفر علی سید، صوفی محمد سیف، عاشق حسین عظیمی خاص طور پر مدعو تھے،میزبان عارف علی میر نے بڑی چابکدستی سے محفل کو موضوع گفتگو دیتے ہوئے کہا کہ زندگی کو مستقل طور پر ایک ہی قالب میں محبوس رکھنا نا ممکن ہے، اس لیے مذہب کو بھی سائنس کی طرح بدلتے ہوئے تقاضوں کا لحاظ رکھنا ہو گا، مذہب کے اصول ابدی ہو سکتے ہیں لیکن ان کی تعبیرات تو حالات کے ساتھ بدلنی چاہئیں۔افتخار بھٹہ کا تجربہ اس سلسلے میں ہماری راہنمائی کر سکتا ہے۔ جواب میں خاموش بیٹھے بھٹہ صاحب اورساکت ہوگئے۔ اس پر نوجوان وکیل ندیم اللہ نے مہمان خصوصی کو بولنے پر اکسانے کے لیے اوسپنسکی کی بات دہرائی کہ جو مذہب سائنس کی تکذیب کرے اور جو سائنس مذہب کی تکذیب کرے، وہ دونوں باطل ہوتے ہیں۔ بھٹہ صاحب نے بھی اسی تجربے کے لیے حج پر جانے کا سوچا تھا؟ ہمیشہ بڑے تپاک سے بولنے والے افتخار بھٹہ جواب دینے کی بجائے کسی گہری سوچ میں کھو گئے ان کی آنکھیں ہی بند نہ تھیں ایسے لگا انہوں نے ہونٹ بھی سی لیے ہیں، ایسے میں متحرک خیال ساجد راٹھور نے بھٹہ صاحب کی جذباتی کیفیت کو سمجھتے ہوئے ان کے ساکن جذبات میں تلاطم پیدا کرنے کے لیے اپنے حصے کا کنکر پھینکنے سے گریز نہیں کیا اور کہا بھٹہ صاحب نے بائیں بازو کے زندگی بھر تجربے کے بعد نئی کروٹ لینے کا شعوری اور درست فیصلہ کیا ہے۔ ایک مقام پر کھڑے رہ کر وقت گذارتے رہنا زندگی نہیں۔ قدامت پسندی مذہب کی دنیا میں بھی اسی طرح بری ہے جس طرح انسانی زندگی کے اور شعبوں میں۔ اس سے انسانی انا کی قوت تخلیق تباہ ہو جاتی ہے اور نئے نئے روحانی تجربوں کا راستہ مسدود کر دیتی ہے۔ بھٹہ صاحب متحرک فکر کے شخص ہیں وہ زندگی کو ماضی کی زنجیروں میں جکڑے رکھنے کی بجائے اپنے زمانے کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے والے بیدار ذہن کے مالک ہیں۔ میں نے عرض کیا بھٹہ صاحب کی حالت دیکھ کر کہنا پڑ رہا ہے کہ جب نیکی نفع دینے لگتی ہے تو نفع نیکی پر ہنسنے لگتا ہے۔ میری بات جیسے بھٹہ صاحب کے سینے میں لگی ان کے ساکت جسم میں حرکت پیدا ہوئی اور وہ فوراً گویا ہوئے۔ جو میں نے دیکھا، جو میں نے محسوس کیا، وہ بیان کی طاقت نہیں رکھتا۔ میرا تجربہ باطنی ہے، اس سے میرا اندر روشن ہوا ہے یہ ظاہر کا تجربہ نہیں تھا۔ بس میری پیاس بجھ گئی، قرار آگیا ہے، اطمینان ہوا ہے۔ میرا تجربہ روشنی کی مانند ہے جو نظر آتا ہے بیان نہیں کیا جاسکتا۔میری جدید محبت قدیم ابدی دولت لے کر آئی ہے۔ شیخ صاحب کیا کہوں، وہاں بہت رونق ہے۔ کعبہ میں علم نہیں کیا کشش ہے، بس اس کو دیکھتے رہنے او رمن میں بسا لینے کو دل چاہتا ہے۔ مجھے زندگی میں یہ خواہش نہیں رہی کہ میں بڑا بزرگ، اللہ والا یا صوفی بن جاؤں، مجھے مراتب کی آرزو ہی نہیں۔ میرے خیال میں انسان ہونا بذات خود عظمت کی بات ہے۔ میری بس ایک ہی تمنا رہی کہ میرا رخ مثبت رہے، میں مثبت سوچوں۔ اللہ کی طرف اور اللہ کی مخلوق کی طرف۔ حج کی سعادت سے میری تمنا کو اثبات مل گیا ہے۔ ٹھنڈ پڑ گئی ہے، بولنے کی بجائے چپ رہنے کو جی کرتا ہے۔ میں نے یہی جانا ہے کہ شیطان کے ساز و سامان بہت مہنگے ہیں اور رحمان کے تحفے بے قیمت۔ افتحار بھٹہ بول رہے تھے تو ان کی زبان میں عقیدت و محبت کا ایسا اظہار تھا کہ محفل میں موجود نرم دل پگھلنے لگے۔ بھٹہ صاحب کہنے لگے میں نے خود کو یکجا کر کے دیرینہ خواہش کو تکمیل بخشی اور اپنی رفیقہئ حیات سے پرانا وعدہ نبھایا، وہاں پہنچا تو جلال دیکھ کر کرچی کرچی ہو گیا، میں نے عرض کیا حضور، پھولوں کی پتیاں بکھرتی ہیں، تو پھل ملتا ہے۔ بھٹہ صاحب نے ایک بار پھر سکوت کو توڑا اور کہا میں نے محسوس کیا کہ خدا منتظر ہے کہ اس کا معبد محبت سے تعمیر ہو، لیکن لوگ پتھر لے کر آتے ہیں۔ میری مخلوق خدا سے محبت اس کی خدمت اور انسان کی عظمت کے نظریے کو مزید تقویت ملی ہے۔ میں سنجیدگی سے افتخار بھٹہ کے روحانی تجربے کو سن ہی نہیں رہا تھا محسوس کرنے کی سعی بھی کر رہا تھا۔ مجھے لگا جو انسانی ذات کی قدر و قیمت جانتا ہے اس کے نزدیک سچ یہ ہے کہ انسان، خدا کے غیر متبدل مقاصد کے بروئے کار آنے میں ممدو معاون بن جائے اور موجودات عالم پر قدرت حاصل کر کے اس سے نئی نئی تخلیق، خدا اور بندے کی مشترکہ ذمہ داری قرار دے، اس سے زندگی اپنی انتہائی بلندیوں تک پہنچ جائے گی۔ سچا مذہب اور نظریہ صرف وہی ہے جو خدا اور بندے میں عمل تخلیق و اشتراک سے رفاقت و تعاون کا تعلق پیدا کر دے اور وحدت مقصد کی بنا پر تمام انسان ایک ہی نظام کے پرزے اور ایک ہی کل کے جزو بن جائیں۔ میرا خیال ہے کہ مذہب صرف خیال کرنے یا محسوس کرنے کی چیز نہیں، یہ تو انسانی زندگی سے مشہود کرنے کی چیز ہے۔ افتخار بھٹہ کے لیے حج کا سفر روحانی تجربہ ثابت ہوا، اس تجربہ نے انہیں انسانیت کی کئی جہتوں سے آشنا کیا۔ میرے ساتھی ان کے اس تجربے کے حوالے سے منطقی انداز میں سوال پر سوال کر رہے تھے مگر افتحار بھٹہ ٹھہر ٹھہر کر، نمناک آنکھوں، لرزتے ہونٹوں سے جواب دیتے اور پھر چپ ہو جاتے کہنے لگے بول نہیں سکتا مگر اس تجربے کو لکھ کر کتابی صورت میں سب کے سامنے پیش کروں گا مجھے اس کتاب کا شدت سے انتظار رہے گا تاہم اس نشست میں مجھے یہ بات سمجھ آگئی کہ ٹیگور نے کیوں لکھا تھا کہ ”ستارے نے کہا ”مجھے اپنا دیا جلانے دو، یہ بحث نہ کرو کہ اس سے اندھیرا دور ہو گا کہ نہیں“۔