سوموار، 27 اکتوبر، 2014

مسٹر جناح سے قائداعظم تک



قائد اعظم محمد علی جناح جنوبی ایشیا کی ملت اسلامیہ کی جدوجہد آزادی کی آخری سربرآوردہ شخصیت تھے جسے ان کی ذات میں نقطعہ عروج حاصل ہوا۔ برصغیر میں مسلمانوں کے اقتدار کے زوال کے نوے ہی برس بعد انہوں نے یہ اقتدار غاصبوں کے ہاتھوں سے چھین کر مسلمانوں کے سپرد کر دیا، اور اس کا نام پاکستان قرار پایا۔بانی پاکستان ہمارے لیے مثالی رہبر کا درجہ رکھتے ہیں۔ ان کی ذات اور صفات کے تمام گوشے قوم کیلئے مینارہئ نور ہیں۔ بابائے قوم کی زندگی کے ارتقاء کی کہانی میں محمد علی جینا سے ایم اے جناح اور مسٹر جناح سے قائداعظم کا سفر بھی ان کی حیات کا اہم باب ہے، جس سے نسل نو کو آگاہ رکھنا اہم قومی تقاضا ہے۔
بابائے قوم کی سوانح حیات سے عیاں ہوتا ہے کہ قائداعظم محمد علی جناح کے والد ’جنا پونجا‘ کھالوں کی تجارت کرتے تھے۔ وہ دبلے پتلے آدمی تھے۔ قائد اعظم کا نام محمد علی اور باپ کے نام کی مناسبت سے ’جنا‘ ان کے نام کا جزو تھا یعنی محمد علی جنا۔ سندھ مدرستہ الاسلام کراچی اور چرچ مشن ہائی سکول کراچی کے ریکارڈ میں ان کا یہی نام ہے۔ پونجا جنا لمبے اور دبلے پتلے تھے اس لئے جنا ان کا نام پڑ گیا،جناکے معنی گجراتی زبان میں دبلے پتلے کے ہیں۔ اردو میں ایسا ہی ایک لفظ استعمال ہوتا جھنا‘ مثلاً جھنا کپڑا یا ململ یعنی ایسا کپڑا جس کے تار پور ذرا دور دور ہوں۔1915-16ئتک کے اردو اخبارات میں ان کانام محمد علی جنا یا محمد علی جینا ہی ملتا ہے۔ تب یہی ان کا اصلی نام تھا۔ قائد اعظم کی وفات پر رسالہ ’معارف‘ اعظم گڑھ میں جو مضمون سید سلیمان ندوی نے لکھا اس میں بھی انہوں نے سرخی ”قائد اعظم محمد علی جیناؒ‘ کی ہی جمائی تھی۔ اس مضمون میں سید سلیمان ندوی نے یہ واقعہ بھی رقم کیا کہ”جب 1916ء میں لکھنو میں کانگریس اور مسلم لیگ کے اجلاس ہوئے تھے اور وہ پہلی مرتبہ مسلم لیگ کے صدر کی حیثیت سے مسلمانوں میں ظاہر ہوئے۔ مہا راجہ محمود آباد کی سر کردگی میں لکھنؤ نے ان کا شاندار استقبال کیا تھا۔ اس وقت یہ نظم موزوں ہوئی تھی۔ اس نظم میں سید سلیمان ندوی نے آخری شعر میں یوں تذکرہ کیاہے کہ 
ہر مریض قوم کے جینے کی ہے کچھ کچھ امید
ڈاکٹر اس کا اگر  ”مسٹر علی جینا“ رہا
1916میں لکھی جانے والی اس نظم میں سید سلیمان ندوی نے قائد اعظم کا نام اسی طرح لکھا جس طرح وہ اس زمانے میں بولا اور لکھا جاتا تھا۔ڈاکٹر جمیل جالبی اپنے ایک مضمون میں اس مشکل میں تھے کہ اگر 1916تک لفظ جنا یا جینا محمد علی کے نام کا جزو تھا تو یہ جناح کب اور کیسے بنا؟  اس مشکل کو بھی سید سلیمان ندوی نے ہی آسان کیا۔ مولانا حسرت موہانی کی وفات پر لکھے گئے مضمون میں سید صاحب لکھتے ہیں کہ  ”شاید لوگوں کیلئے یہ بات اچنبھے کی معلوم ہو گی کہ قائد اعظم مرحوم کے نام کا آخری جزو اس وقت تک ”جینا“ تھا جس کے معنی گجراتی میں ”ننھے“ کے ہیں۔ 1916ء میں جب وہ لکھنؤمسلم لیگ کے صدر کی حیثیت سے آئے تو سید جالب دہلوی مرحوم جو ان دنوں مہاراجہ صاحب محمود آباد کے اخبار ’ہمدم‘ کے ایڈیٹر تھے۔ ان کی ذہانت نے اسے ”جناح“ بنا دیا۔جس کے بعد وہ ایسا مشہور ہوا کہ اس نے اصل کی جگہ لے لی اور پھر اردو اور انگریزی اخبارات میں جنا یا جینا کی بجائے ”جناح“ عام طور پر استعمال ہونے لگا اور خود قائد اعظم نے اس لفظ کی معنویت کو دیکھتے ہوئے اسے اپنا لیا اور انگریزی میں حرف ”H“ کا اضافہ کر لیا۔
انتظار حسین اپنے ایک مضمون ”مسٹر جناح اور قائد اعظم“میں لکھتے ہیں کہ قائد اعظم محمد علی جناح سے پہلے ایک شخصیت گذری ہے جو ہندوستان کی سیاست میں مسٹر جناح کے نام سے مشہور تھی۔ ہماری آج کی قومی زندگی میں مسٹر جناح ایک فراموش شدہ شخصیت ہیں۔ لیکن انھیں یاد کر کے ہم اس غیر معمولی واقعہ کو سمجھ سکتے ہیں کہ ایک ہی ذات سے کیونکر دو ایسی شخصیتوں نے جنم لیا جو ایک دوسرے کی ضد میں پہچانی جاتی ہیں۔“ مسٹر محمد علی جناح جدیدیت کے حامل شخص، روشن خیال، حقوق انسانی کے علمبردار اور ہندو مسلم اتحاد کے سفیر تھے مگر ہندوستان کی گرما گرم سیاسی فضا میں کانگریس کے بھرے اجلاس میں گاندھی سے اختلاف کرنے والی اکیلی توانا آواز بھی تھی۔ اسی لمحہ انہوں نے کانگریس کو سلام کیا۔ متحدہ ہندوستانی قومیت کے حوالے سے ان کے اندر اس طرح شکست و ریخت ہوئی کہ ان کی اپنی بھی شکست و ریخت ہو گئی۔ بیزاری اور  مایوسی کا تھوڑا زمانہ لندن میں گزارا، پھر واپس آئے تو بدلے ہوئے آدمی تھے۔ انتظار حسین کے لفظوں میں یوں سمجھئے کہ اس ذات میں ققنس کی روایت دہرائی گئی۔ ایک شخصیت اپنے تجربوں کی آگ میں جل کر خاک ہوگئی۔ پھر اس خاکستر سے ایک نیا آدمی نمودار ہوا۔ اس نئے آدمی کے اعلان کے ساتھ مسلمانوں کی سیاست میں ایک نئی سمت نمودار ہوئی۔ اس کے ساتھ مسٹر جناح تاریخ کا حصہ بن گئے اور قائد اعظم محمد علی جناح  نے ظہور کیا۔“ 
محققین اور مؤر خین کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے کہ مسٹر جناح کو سب سے پہلے قائد اعظم کے لقب سے کب اور کہاں نوازا گیا۔ اوراق تاریخ کا مطالعہ واضح کرتا ہے کہ یہ لقب انہیں مطالبہ پاکستان یا قرارداد لاہور سے قبل ہی مل چکا تھا۔ ”سیاست ملیہ“ کے مصنف محمد امین زبیری کے مطابق 7 دسبر 1936ء کو جمعیت علمائے ہند کے راہنما مولانا احمد سعید دہلوی نے مراد آباد کی جامع مسجد میں ایک وعظ کیا جس میں مسٹر جناح کی نسبت کہا ”آج مسلمانوں میں سیاست کو سمجھنے والا اس سے بہتر کوئی شخص نہیں، لہٰذامسلمانوں کے قائد اعظم ہونے کے بجا طور پر وہ مستحق ہیں“ قائد اعظم کے سوانح نگار پروفیسر شریف المجاہد نے اپنی کتاب میں مطلوب الحسن سید کے حوالے سے بتایا ہے کہ آل انڈیا مسلم لیگ لکھنؤ سیشن 15تا 18اکتوبر 1937لال باغ میں ہوا۔ اس میں مولانا ظفر علی خان نے کہا کہ ”ہمارے قائد محمد علی جناح، بلکہ میں یہ کہوں گا کہ ہمارے قائد اعظم محمد علی جناح۔۔۔۔“ منیر احمد منیر کی تحقیق کے مطابق 3جنوری 1938ء کی اشاعت میں کلکتہ کے اردو روزنامہ ”عصر جدید“ نے لکھا۔ ”گیا میں مسلمانان ہند کا قائد اعظم“۔ آل انڈیا مسلم لیگ کے سابق آفس سیکرٹری سید شمس الحسن اپنی تالیف ”صرف مسٹر جناح‘ میں لکھتے ہیں ”اگرچہ قائد کسی قسم کے اعزاز کو ناپسند کرتے تھے، لیکن جب بر صغیر کے مسلمانوں نے انھیں قائد اعظم کے خطاب سے پکارا تو وہ انھیں اس امر سے نہ روک سکے۔ یہ خطاب پہلے پہل شروع 1938ء میں مولانا مظہرالدین نے اپنے سہ روزہ ”الامان“ دہلی میں استعمال کیا جو فوراً ہی مقبول ہو گیا۔“ اسی طرح ملا واحدی کا خیال ہے کہ قائد اعظم کا خطاب سب سے پہلے خواجہ حسن نظامی نے دیا۔ آل انڈیا مسلم لیگ کے سابق جائنٹ سیکرٹری حسین ملک نے ایک انٹر ویو میں ”آتش فشاں“ کو بتایا کہ ”1938میں دہلی میں ایک جلسہ ہوا جلسے کے بعد جلوس نکالا گیا۔ قائد اعظم بگھی میں سوار ہوئے۔ دہلی مسلم لیگ کے صدرشیخ شجاع الحق ان کے ساتھ بیٹھے تھے اور میں سامنے والی سیٹ پر۔۔۔ دہلی کی فضا اللہ اکبر  اور زندہ باد کے نعروں سے معمور تھی۔ مختلف بازاروں سے ہوتا ہوا جلوس دریبا بازار میں سے گذر رہا تھا کہ قائد اعظم زندہ باد کا نعرہ بلند ہوا، پھر یہ نعرہ مسلسل بلند ہونے لگا۔ یہ پہلا موقع تھا جب انھیں قائد اعظم کے لقب سے پکارا گیا۔اس کے بعد مسٹر جناح کسی نے پکارا ہی نہیں۔ منیر احمد منیر کے مطابق محمد علی جناح واحد لیڈر نہیں تھے جن کو قائد اعظم کے لقب سے نوازا گیا بلکہ مولا نا ابوالکلام آزاد، مہاتما گاندھی، مولانا محمد علی جوہر، ترک قوم کے بانی کمال اتا ترک، کشمیری راہنما شیخ عبداللہ، مفتی اعظم فلسطین امین الحسینی، سعودی عرب کے بانی سلطان عبدالعزیز ابن سعود کیلئے قائد اعظم کا سابقہ استعمال کیا گیا مگر کسی کے ساتھ نہ جچا نہ چل سکا۔مگر یہ لفظ قائد اعظم، محمد علی جناح کی تکمیل، تجسیم، ترصیح اور سراپا بن گیا۔ اور پھر قیام پاکستان کے بعد یہ نام سرکاری حیثیت اختیار کر گیا۔
بطل جلیل کے نا م کا یہ ارتقاء بڑا معنی خیز ہے۔ یہ قائد اعظم محمد علی جناح کی زندگی کے مختلف ادوار کی تشریح بھی کرتا ہے۔ تاریخ کے صفحات پر نظر ڈالیں تو سمجھ آتا ہے کہ یہ محض جنا یا جینا سے جناح اور مسٹر جناح سے قائد اعظم کے نام کی تبدیلی نہیں تھی۔ یہ زاویہ نظر، انداز فکر اور فلسفہ حیات کی تبدیلی اور ارتقاء نظر آتا ہے محمد علی جینا سے قائد اعظم تک کا سفر ہندوستان کی تہذیبی و سیاسی تبدیلیوں کا سفر بھی ہے یہ مشاہدے اور تجربے کے ذریعے ذات کی تبدیلی تھی۔ ہندو مسلم اتحاد کے سفیر مسٹر جناح کا بطور قائد اعظم نیا جنم بر صغیر میں پوری قوم کا ایک نیا جنم ثابت ہوا جو ظہور پاکستان کا سبب بنا۔ پاکستان کے استحکام اور روشن مستقبل کیلئے مسٹر جناح سے قائد اعظم کے سفر کو سمجھنا تاریخ کے سفر میں معاون و مفید ہو سکتا ہے۔ انتظار حسین ہی کے الفاظ میں مسٹر جناح اور قائد اعظم دو شخص نہیں تھے بلکہ ایک شخص تھا۔ میں مسٹر جناح کو فراموش کر کے قائد اعظم محمد علی جناح کو نہیں سمجھ سکتا۔ بس اسی طرح میں مسلمانوں کی پچھلی تحریکوں کو فراموش کر کے تحریک پاکستان کو نہیں سمجھ سکتا۔