جمعہ، 3 جون، 2016

”تخلیقی اقلیت“کا خواب



تاریخ گواہ ہے کہ اقوام و ادیان کے عروج و زوال کی ذمہ داری عمومی طور پر حکمرانوں،قائدین اور مذہبی راہنماؤں کے کندھوں پر ہی ہوتی ہے لیکن ایک سنجیدہ پہلو یہ بھی ہے کہ جیسے جیسے تعلیم اور شعور بڑھتا ہے اس سے عوام میں ایک ایسا طبقہ ابھرتا ہے جو عوامی مسائل پر سنجیدگی سے غور کرتا ہے اور اس ضمن میں اپنی رائے کا بھی اظہار کرتا ہے۔ یہ طبقہ اہل فکر کا ہوتا ہے۔عزم صمیم کا حامل یہ طبقہ سماجی نا قدری، بار بار مایوسیوں اور بعض اوقات ملامت کا ہدف بننے کے باوجودتفکرو مکالمے کا عمل جاری رکھتا ہے۔تہذیبوں کے عروج و زوال کا مورخ ٹائن بی گہرے مطالعے اور تجزیے کے بعد اہل فکر کے ایسے طبقے کو بہت اہمیت دیتا ہے اور اسے تہذیب میں کار آمد ”تخلیقی اقلیت“ قرار دیتے ہوئے تہذیبی و سماجی زندگی کے ارتقا کے لیے لازمی گردانتا  ہے۔ بلاشبہ یہ وہ اقلیت ہوتی ہے جو قوم کو فوڈ فار تھاٹ فراہم کرتی ہے اور افکار تازہ کی علمبردارہوتی ہے۔اس طبقے کے افکار کی جدلیت سے نئے افکار جنم لیتے ہیں اور یوں معاشرے کے پیچیدہ اور روز افزوں مسائل کے حل کی تلاش کا عمل شروع ہوتا ہے۔زوال پذیر معاشروں میں اہل فکر کی ضرورت اور ذمہ داریاں مزید بڑھ جاتی ہیں۔ یہ بات میرے لیے خوشگوار حیرت کا موجب بنی ہوئی ہے کہ پاکستان کے دور افتادہ قصبہ کڑیانوالہ میں اہل فکر کا ”تھنکرز فورم“اپنے کردار سے نہ صرف آگاہ ہے بلکہ سماجی ارتقاء میں اپنا فعال کردار ادا کر رہا ہے،تعلیم،خدمت،رضا کاریت اور مکالمہ یہ وہ پہلو ہیں جو ”تھنکرز فورم“اور ”کئیرز پاکستان“دہمتھل کے سماج سدھار نصب العین کے اصل اہداف ہیں۔ گزشتہ چند ہفتوں سے اہل فکر کے اس طبقے نے علاقہ میں مذہبی ہم آہنگی اور مساجد کے مرکزی کردار کے فروغ کے لیے آئمہ مساجد اور علمائے دین کے ساتھ مکالمے کی مؤثر روایت کو رواج دیا ہے۔ مجھے ان کی کئی نشستوں میں شرکت کا موقع ملا۔ میں ان کی مثبت فکر اور سنجیدہ عمل کا مداح ہو گیا ہوں۔ گذشتہ دنوں بھی مجھے جواں عزم اور خیال افروز اعمال کے حامل تھنکرز فورم کے راہنما عاطف رزاق بٹ کی جانب سے مختلف الخیال علماء اور مساجد کمیٹیوں کے کار پردازان سے گفتگو کی دعوت ملی تو تمام تر مصروفیات کے باوجود میرے دل نے جانے کے لیے حامی بھر لی۔ مکالمے میں اسلامی علوم کے پی ایچ ڈی سکالرز،علماء، اساتذہ،سول سوسائٹی،صحافیوں اور نوجوانوں پر مشتمل حاضرین موجود تھے۔علامہ رضا المصطفیٰ نے کمال بلاغت سے مقاصد کا تعارف کروایا اور پچھلی نشستوں کا خلاصہ پیش کیا کہ اصل مقصد گلی محلوں میں موجود مساجد کو فعال کر کے دینی مراکز بنانا ہے جہاں عبادت و خدمت کا توازن قائم ہو۔دین کا معاشرتی پہلوہمارے اعمال و افکار سے محو ہو گیا ہے۔ ہمیں سماج سازی میں اسلامی معاشرے کی تشکیل کے اصولوں کو متعارف کروانا ہے۔صاحبزادہ علامہ حامد فاروق نے علمی انداز میں آئمہ اور مساجد کے معاشرتی کردار پر روشنی ڈالی اور کہا کہ آئمہ اور خطیب حضرات پر ساری ذمہ داری نہیں ڈالی جا سکتی،یہ اجتماعی دانش کا متقاضی معاملہ ہے۔ہمیں فروعی معاملات پر الجھاؤ کو بڑھانے کی بجائے سلجھاؤ کا پیغام دینا ہے اس کے لیے فکری مکالمہ اور ابلاغ ناگزیر ہے۔
پروفیسر شعیب عارف نے مساجد کے بطور کمیونٹی سنٹر کردار کا حوالہ دیا اور کہا کہ جب تک آئمہ مساجد سماجی رابطہ کار کا کردار ادانہیں کریں گے یہ کام ممکن نہیں۔ نبی رحمت ﷺ خود لوگوں کی عیادت کرتے، ان کے معاملات میں شریک ہوتے تھے۔ جب تک آئمہ مساجد سماج سے دور رہیں گے تب تک اس ادارے کے مثبت اثرات سے سماج محروم رہے گا۔ امریکہ سے آئے ہوئے عالم دین علامہ بشارت شازی نے کہاکہ یورپ و امریکہ میں مساجد حقیقی معنوں میں کمیونٹی سنٹر کا کردار ادا کر رہی ہیں۔ جب تک حاکم مسجد سے منسلک رہے مسجد مرکز رہی تاہم ا ب بھی مسجد کو متحرک کرنے کیلئے حکمرانوں کی توجہ کی ضرورت ہے۔ قاری محمد عیسیٰ، علامہ ادریس جلالی،ذاکر رضا شاہ، قاری رحمت اور علامہ شہباز احمد و دیگر کا بھی ایسا ہی خیال کہ مسلکی اختلاف کی فضا نے بھی مساجد سے دوری میں کردار ادا کیا ہے۔ میں نے بصد احترام عرض کیا کہ مسالک و مشارب کا اختلاف صبح قیامت تک رہے گا، تاہم مسالک اور طریق کار کے اختلاف کے با وجود ہدف اور منزل ایک ہو سکتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں تعبیر کے اختلاف کے باوجود اس میں مضمر حقیقت ایک ہو سکتی ہے۔ اتحاد نام ہی اختلاف کے باوجود متحد ہونے کا ہے۔ مختلف اسباب سے لوگوں میں طرح طرح کے اختلاف پیدا ہو جاتے ہیں۔ کسی بھی تدبیر سے اختلاف کا کلی خاتمہ ممکن نہیں۔ ہمیں ایسی باتوں کے تذکرے کو معمول بناناہے جس میں اتفاق ہے۔ وحی اللہ کی روشنی میں تشکیل پانے والا معاشرہ روشن خیال اور اعتدال پسند معاشرہ ہوتا ہے۔ نبی رحمت ﷺ نے اپنے کردار و عمل کے ذریعے اتباع وحی میں بالفعل ایسا ہی معاشرہ تشکیل دیا جو افراط و تفریط میں بٹے ہوئے انسانوں کیلئے انتہائی پر کشش تھا۔
ہم میں سے ہر ایک کو اپنے اپنے دائرے میں رہتے ہوئے قرآن و ایمان کے انوارات کو پھیلانے کی کوشش کرنی چاہئے اور اپنی توانائیوں کو دوسروں کے ساتھ جھگڑے میں خرچ نہیں کرنا چاہیے۔ اگر ہم کسی سے اتفاق نہ کر سکیں تو کم از کم ہمیں اختلاف کی آگ بھڑکانے سے تو گریز کرنا چاہئے۔ ہمیں نہ صرف مسلمانوں کے ساتھ جھگڑنے، ان پر تنقید کرنے اور ان کی عیب جوئی سے مکمل اجتناب کرنا چاہئے بلکہ ہمیں ہر اچھا کام کرنے والے کی تحسین کرنے اور ہر کلمہ گو سے تعاون کرنے کی سعی کرنے چاہئے۔ ابو سعید ابوالخیر ؒ کا قول ہے کہ خلق خدا کی جس میں بھلائی نہ ہو وہ کام خدا کو بھی پسند نہیں۔ اسلام کے پانچ ستونوں نماز، روزہ، کلمہ، زکوٰۃ، حج کا تذکرہ بہت ہوتا ہے۔ ریاضت و تفکر سے واضح ہوتا ہے کہ یہ محض ستون نہیں ان پر خلق خدا کی خدمت کی عمارت تعمیر ہوتی ہے ان سب کا مقصد انسانوں کی بہتری اور بخشش ہے۔ حضرت بایزیدبسطامی ؒ کا قول ہے کہ ”جب میں عرش خدا وندی کے نزدیک پہنچا اور دریافت کیا، اللہ کہاں ہے؟ جواب ملا کہ اللہ میاں کو اہل زمیں کے شکستہ قلوب میں تلاش کرو“۔آئیے مل کر دین کی خدمت خلق کے جذبے کو فروغ دیں تاکہ اخوت و بھائی چارہ پروان چڑھے۔ پروفیسر تنویر احمد نوید نے کہاکہ حضرت سری سقطی ؒ کا کہنا ہے کہ ”حسن خلق یہ ہے کی مخلوق خدا کو آزار نہ پہنچاؤ اور لوگوں کی دی ہوئی تکالیف کو برداشت کرو“۔ ڈاکٹر شمشاد احمد شاہین کا کہنا تھا کہ فیصلہ کر لینا بہت اہم سہی مگر فیصلہ اس وقت تک ایک آرزو ہی رہے گا جب تک اس پر عمل نہ ہو، یہاں بیٹھے علماء اور سول سو سائٹی کے نمائندے اپنی اپنی بساط بھر کوشش سے عملی آغاز کریں تا کہ نتیجہ بھی نکل سکے۔ سوشل ورکر چوہدری جاوید اعظم کہنے لگے کہ اللہ تعالیٰ کبھی اس شخص کو ہدایت سے محروم نہیں رکھتا جو اس کیلئے انکسار، صبر، اعتماد اور استقلال سے کوشش کرتا ہے۔ وہ ہمیں بھٹک جانے کی ڈھیل بھی اسی لیے دیتا ہے کہ ہم گمراہی سے اور اچھی طرح واقف ہو جائیں اور اپنی نیتوں کا امتحان دے سکیں، ہو سکتا ہے کہ کامیابی دم آخر تک حاصل نہ ہو یا ایسی صورت یا موقع پر نصیب ہو جس کا وہم و گمان بھی نہ تھا۔ 
میں حاضرین کی باتیں سن رہا تھا اور ان کے شوق اور جسارت کی داد دے رہا تھا۔ میں نے عاطف رزاق سے پوچھا کہ آخر اس کارِ خیر کے لیے مکالمے اور مباحثے کی ضرورت کیا ہے؟ توا س نے کمال تدبر سے جواب دیا کہ جھگڑوں کا آغاز بھی چونکہ انسانی دل و دماغ میں ہوتا ہے اس لیے امن وخدمت کی فصلیں بھی انسان کے قلب و دماغ میں ہی بونی چاہئیں“۔ میرا خیال ہے کہ ایک آزاد اور متحرک سماج کی عظمت میرے حقِ آزادی کے شعور اور میرے آزاد ہونے کی قابلیت میں نہیں بلکہ میرے ساتھی انسان کے حقِ آزادی کے شعور و فہم اور اس کی آزاد ہونے کی قابلیت میں بھی ہے۔ عبادات ہستی کی بے وقعتی کے خلاف رد عمل ہیں۔ عبادات صرف فرد کو اپنے سے منسلک سے نہیں کرتیں بلکہ اسے حتمی رشتوں میں زندگی کا احساس بھی عطا کرتی ہیں۔ عبادات دانش و بصیرت سے جنم لیتی ہیں یہ انسان کو اس طرح اکیلے کھڑا ہونا سکھاتی ہیں کہ وہ تنہا نہ ہو۔ آج عبادات کا حقیقی مفہوم متعارف کروانا، مساجد کو حقیقی عبادت گاہ کے تصور سے جوڑنے کی کوشش کرنا اور سماج کو انسانی اخوّت کے مذہب کے پیغام کی یاد دہانی کروانا یقینا اہل فکر کا کام ہے اور لائق تحسین بھی ہے۔ نوجوانوں کے اس فکری گروہ کا مثبت کردار دیکھ کر مجھے حسن عبدالحکیم کی کتاب King of the Castleکے مقدمے کی یہ سطور یاد آگئیں کہ ”ایک منظم اور صالح انسانی معاشرہ ان لوگوں سے کبھی تعمیر نہیں ہو سکتا جو ایسے معاشرے کی تخلیق کو اپنا بنیادی مقصد بنا لیتے ہیں۔۔۔ایک اچھامعاشرہ صرف ان افعال افکار اور محسوسات کی ضمنی پیداوار کے طور پر اُبھر سکتا ہے جن کا ہدف انسانی زندگی کے حوادث سے ماوراہو،جن کا مقصد دارالخلد ہو۔“ اس علاقہ کے جوانوں کی تخلیقی اقلیت نے بھی ایسا ہی خواب دیکھا ہے۔دُعا ہے کہ یہ جلد سے جلد تعبیر حاصل کرے۔ اس کے لیے پروردگار نے جنہیں حرکت کی توفیق دی ہے انہیں استقلال بھی عطا کرے۔ (آمین)