جمعہ، 7 نومبر، 2014

مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح قتل یا طبعی موت…………؟


”وہ اپنے عظیم بھائی کی ہو بہو تصویر تھیں۔ بلند و بالا قد، بہتر برس کی عمر میں بھی کشیدہ قامت، گلابی چہرہ، ستواں ناک، آنکھوں میں بلا کی چمک، ہر چیز کو ٹٹولتی ہوئی نظر، سفید بال، ماتھے پر جھریوں کی چُنٹ، آواز میں جلال و جمال، چال میں کمال، مزاج میں بڑے آدمیوں سا جلال، سرتاپا استقلال، رفتار میں سطوت، کردار میں عظمت، قائداعظم کی شخصیت کا آئینہ، صبا اور سنبل کی طرح نرم، رعد کی طرح گرم، بانی پاکستان کی نشانی، ایک حصار جس کے قریب سے حشمت کا احساس ہوتا ہے، جس کی دوری سے عقیدت نشوونما پاتی ہے۔ بھائی شہنشاہ بہن بے پناہ“۔ آغا شورش کاشمیری کے یہ الفاظ واقعتا محترمہ فاطمہ جناح کے کردار کے عکاس ہیں۔ وہ کردار جسے قوم کی ماں کا لقب لے کر سرخروئی نصیب ہوئی۔ایک ایسی بہن جس نے جدوجہد حصول پاکستان میں اپنی زندگی کو بھائی کی خدمت اور تحریک آزادی کے لیے وقف کر دیا۔ پھر قیام پاکستان اور بانی پاکستان کی وفات کے بعد اس نے جمہوریت اور ملک کے لیے آمریت کو للکار کر کردار کو جلا بخشی قوم کو مادر ملت کی صورت میں ایک نجات دہندہ ملا مگر سول اور فوجی بیوروکریسی نے وہ بھی چھین لیا۔ مشرقی پاکستان کے لوگ محترمہ فاطمہ جناح کو ”مکتی نیتا“ کے نام سے پکارنے لگے تھے مگر قوم کے نام نہاد نیتاؤں نے انہیں ایسے زخم دیے کہ وہ دلبرداشتہ ہو کر سیاست سے دور رہنے لگیں اور بالآخر 9 جولائی 1967ء کے دن اچانک ان کے انتقال کی خبر سے ملک بھر میں سناٹا چھا گیا۔ ان کی وفات کے دنوں میں اچانک انتقال پر کئی سوال اٹھے مگر بالآخر خاموشی ہو گئی۔ پھر کئی عشروں بعد 22 جولائی 2003ء بروز منگل کے اخبارات میں وزیر اعظم کے سینئر مشیر سید شریف الدین پیرزادہ کا بیان کئی افراد کے لیے حیران کن اور چونکا دینے والا تھا”مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کی وفات غیر طبعی تھی اور انہیں ان کے ایک ملازم نے ذاتی رنجش کی بناء پر قتل کیا تھا۔ وہ جلد اس پہلو کو بے نقاب کریں گے
حیرت اس بات پر ہے کہ حالات سے آگاہی کے باوجودسید شریف الدین پیرزادہ نے اس اہم قومی راز کو 36 سال تک کیوں چھپائے رکھا اور آج تک چھپائے ہوئے ہیں،حالانکہ سید شریف الدین پیرزادہ اس وقت وزیر خارجہ کے منصب پر فائز تھے،سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر مادر ملت کی موت غیر طبعی تھی تو انکے قریبی رشتہ داروں نے موقع پر زبان کھولنا کیوں گوارا نہیں کیا؟ یا پھر اس وقت کی ایوب خان حکومت، سید شریف الدین پیرزادہ جس کا حصہ تھے، نے اس غیر طبعی وفات کی حقیقی وجوہات معلوم کرنے کے لیے تحقیقات کیوں نہ کروائیں حالانکہ مرحومہ کے بھانجے اکبر پیر بھائی جی بمبئی سے پاکستان آئے تھے ……؟ 
آئیے سید شریف الدین پیرزادہ کے بیان کی روشنی میں مادر ملت کی ناگہانی موت کے متنازعہ مسئلہ کا مختصر جائزہ لیں۔ محترمہ فاطمہ جناح 9 جولائی کو وفات سے ایک روز قبل 8 جولائی بروز ہفتہ شام ساڑھے چھ بجے حیدر آباد کے سابق وزیر اعظم میر لائق علی کی بیٹی کی تقریب میں شریک ہوئیں جولائی 1968 کے کراچی کے ہفت روزہ ”اخبار خواتین“ کے مطابق محترمہ فاطمہ جناح تقریباً پون گھنٹہ اس تقریب میں موجود رہیں مگر وہاں ایک گلاس پانی پینے کے علاوہ کچھ نہ کھایا اور ساڑھے سات بجے واپس ”قصرِ فاطمہ“ پہنچ گئیں اور آتے ہی اپنے ڈرائیور کو ہدایت دی کہ اگلی صبح اتوار کو کہیں جانا ہے  اس لیے چھٹی نہ کرنا“۔ پھر اپنے گھریلو ملازم سے سیب منگوا کر گھر کے لان میں بیٹھ کر کھائے اور جلد ہی پہلی منزل پر اپنی آرام گاہ میں چلی گئیں مادر ملت کا معمول تھا کہ وہ سرِ شام ہی تمام بیرونی دروازے بند کرا دیتی تھیں اور پھر رہائش گاہ کے تمام کمرے لاک کر کے چابیاں اپنے پاس رکھ لیتی تھیں اور اگلی صبح سات بجے کمرے کی کھڑکی سے چابیاں باورچی کی طرف پھینک دیتیں جو بیڈ ٹی تیار کر کے اخبارات کے ساتھ انہیں پہنچاتا تھا وہ دس بجے ناشتہ کرتی تھیں۔ 9 جولائی1967 (یکم ربیع الثانی 1387ھ)اتوار کی صبح حسب معمول انکے خانسامہ عبدالرؤف نے جسے چند روز پہلے ہی ملازم رکھا گیا تھا نے چابیاں پھینکنے کا انتظار کیا دیر ہونے پر آرام گاہ کا دروازہ کھٹکھٹایا مگر کوئی جواب نہ ملا اسی اثناء میں دھوبی انکے کپڑے لیکر آگیا دونوں نے آدھ گھنٹہ سے زیادہ انتظار کیا اس کے بعد انکی بہترین دوست لیڈی ہدایت اللہ جو قریب ہی رہائش پذیر تھیں کو مطلع کیا  وہ جلدی سے قصرِ فاطمہ آ گئیں دروازہ کھٹکھٹایا جو اندر سے بند تھا جہاں سے کوئی جواب نہیں آرہا تھا وہ بھی دروازہ نہ کھلنے پر پریشان تھیں بیگم نور الصباح نے ایک انٹر ویو میں کہا کہ اس وقت ایک نوکر آیا جسے مادر ملت نے چند دن پہلے نکال دیا تھا اور کہا کہ میرے پاس ایک چابی ہے جو شاید اس تالے کو لگ جائے نوکر نے چابی دی ”نوکر سلیم نے ڈبل چابی سے دروازہ کھولا تو فاطمہ جناح بستر پر ابدی نیند سو رہی تھیں۔ لیڈی ہدایت اللہ نے کمرے کو جوں کا توں بند کرا دیا اور گھر جا کر فوراً کمشنر کراچی سید دربار علی شاہ کو ٹیلی فون کیا۔ پھر کے ایچ خورشید اور انکی بھانجی شہر بانو کو اطلاع دی۔ لیڈی ہدایت اللہ دوربارہ قصر فاطمہ پہنچیں تو کمشنر کراچی اور ڈ ی آئی جی پولیس اے کے ترین پہنچ چکے تھے۔ محترمہ کی بھانجی شہر بانو اور کے ایچ خورشید بھی موقع پر آگئے کمرے کی کھڑکی تڑوا کر جب یہ لوگ اندر گئے تو موت کی نیند سوئی مادر ملت کے کمرے کی سمندر کی جانب کھلنے والی کھڑکی کھلی ہوئی تھی اور ایئر کنڈیشنڈ بند تھا جلد ہی ڈاکٹر کرنل ایم ایچ شاہ اور ڈاکٹر کرنل ایم جعفر کو بلوایا گیا انہوں نے معائنے کے بعد تصدیق کر دی کہ فاطمہ جناح کی وفات رات سوئے ہوئے حرکت قلب بند ہونے سے واقع ہوئی۔ 
10جولائی کے روزنامہ جنگ کراچی میں ڈاکٹروں کا اعلان شائع ہوا۔ 
اس کے باوجود 10 جولائی 1967 کو روزنامہ ”امروز“ لاہو رمیں میر لائق علی نے کہا کہ کل رات مادر ملت خوش و خرم تھیں، انہیں کسی قسم کی تکلیف نہ تھی۔  
بیگم نور الصباح نے لیڈی ہدایت اللہ کے حوالے سے کہا کہ ”جب دروازہ کھولا گیا تو مرحومہ کے ڈریسنگ روم کا دروازہ بھی کھلاہوا تھا جو کہ فاطمہ ہمیشہ رات کو بند کر کے سوتی تھیں، گیلری کا دروازہ بھی کھلا تھا اندر جھانکا تو فاطمہ جناح پلنگ کے اوپر ترچھی پڑئیں ہوئی تھیں اور ان کا ایک ہاتھ گلے کے پاس تھا۔ اسی طرح، محترمہ فاطمہ جناح کے صدارتی انتخاب میں الیکشن ایجنٹ اور کونسل مسلم لیگ کے رہنما حسن اے شیخ ممتاز قانون دان جو وفات کے وقت کابل میں تھے اور خبر سنتے ہی واپس وطن پہنچے، انہوں نے 1969ء کی انتخابی مہم میں فاطمہ جناح کے قتل کا انکشاف کیا اور پھر اگست 1971ء  میں حکومت وقت سے تحقیقات کا مطالبہ کیا ان کے خیال میں محترمہ فاطمہ جناح کا گلا گھونٹ کر قتل کیا گیا۔ 8 اگست 1971 کو جسٹس پارٹی کے سربراہ میاں منظر بشیر نے جو مادر ملت میموریل کے کنوینر تھے انہوں نے روزنامہ جسارت کے ذریعے حکومت سے تحقیقات کے لیے ٹربیونل قائم کرنے کا مطالبہ کیا۔ اسی روزنامہ نے ”مادرِ ملت کا قتل“ ایک اداریہ لکھا۔ اس حوالے سے 1971ء میں حیرت انگیز انکشافات اس وقت سامنے آئے جب غسالوں کے انٹر ویو سامنے آئے 16 اگست 1971ء کو غسال 67 سالہ شیخ ہدایت حسین عرف حاجی کلو کے مطابق، مجھے مسلم چانڈیو نے تجہیز و تکفین کی تیاری کی ہدایت کی، میں نے تینوں غسالوں کو ساتھ لیا اور ضروری سامان لیکر قصر فاطمہ پہنچ گیا اس وقت رات تھی، غسالوں فاطمہ سید، فاطمہ قاسم اور فاطمہ بائی بچو کے ساتھ کفن تیار کرنے لگا۔ غسل کے دوران معلوم ہواکہ مادر ملت کے جسم پر گہرے زخم ہیں جگہ جگہ چوٹ کے نشان ہیں غسالوں نے احتجاج کرنا چاہا لیکن کچھ لوگوں نے کہا خاموشی اختیار کی جائے“۔ غسالہ سیدہ فاطمہ ظفر نے بتایا”جب میں خواب گاہ میں داخل ہوئی تو لاش سے دور ایک کرسی پر ایک خاتون بیٹھی تھی جو غمگین اور پریشان تھی۔ وہ فاطمہ جناح کی بھانجی بیگم رضا چانڈیو تھیں قریب ہی اصفہانی کھڑے تھے لاش مسہری پر پڑی ہوئی تھی اور اس کے گرد برف کی سلیں رکھی ہوئی تھیں جب میں نے غسل کے لیے میت کا جائزہ لیا تو میری روح لرز گئی مادرِ ملت کی گردن پر چار انچ سے لمبا زخم تھا جس پر ٹانکے لگے ہوئے تھے ان کے گھٹنے پر بھی زخم تھا دایاں رخسار سوجھا ہوا تھا اور جسم نیلا ہو کر اکڑ گیا تھا ان کی چادر اور لباس خون میں لت پت تھا اور خون کے خشک دھبوں سے کپڑا سخت ہو گیا تھا اس پر میں نے منہ کھولنا چاہا تو مجھے سختی سے منع کر دیا گیا۔ خون آلود کپڑے میں گھر لے گئی۔ انتقال کے تین دن بعد میں نے خواب میں فاطمہ جناح کو دیکھا وہ مجھ سے پوچھ رہی تھیں کہ ”فاطمہ تو نے بھی تک نہیں بتایا“ اسی طرح ایک اور غسالہ فاطمہ بائی بچو نے فاطمہ جناح کے جسم پر زخموں کی تصدیق کی مزید بتایا کہ مادر ملت کے پیٹ میں ایک معین سوراخ تھا جس سے متعفن پانی بہہ رہا تھا ان کے جسم پر جگہ جگہ چوٹ کے نیل پڑے ہوئے تھے ایسا معلوم ہوتا تھا کہ جیسے انہیں کسی نے زد و کوب کیا ہو (بحوالہ نوائے وقت 16 اگست 1971) 
تیسری غسالہ فاطمہ قاسم نے بھی ان تفصیلات کی تصدیق کی۔ ان بیان کردہ معلومات کی روشنی میں خیال کی جاتا ہے کہ فاطمہ جناح کو قتل کیا گیا مذکورہ بالا’حقائق‘ سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے: محترمہ فاطمہ جناح قیمتی زیورات کا شوق رکھتی تھیں اس لیے شادی کی تقریب میں جانے کے بعد کوئی نا معلوم ڈاکو پہلے سے ہی کمرے میں گھس گیا ہو گا اور اس لیے حملہ آور ہوا ہوگا۔ یہ قیاس بھی ہوسکتا ہے کہ مادرِ ملت اصول پسند اور ذرا غصے والی تھیں انہوں نے کسی ملازم کو نوکری سے نکال دیا ہوا گا، اس پر ان کے ملازم نے ذاتی رنجش پر انہیں قتل کر دیا ہو گا۔ جیسا کہ بیگم نور الصباح نے ایک ملازم کو نکالنے اور چابی فراہم کرنے کا حوالہ دیا ہے ایسے ملازم ہی گھریلو حالات سے آگاہ ہوتے ہیں۔  
تاہم اس وفات کا ایک اور پہلو یہ بھی ہے کہ محترمہ کے کئی رفقاء نے اسے طبعی موت قرار دیا ہے ان کی نیت اور محترمہ سے عقیدت میں شک نہیں کیا جاسکتا۔ کے ایچ خورشید نے 24 دسمبر 1977ء کو ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ”محترمہ فاطمہ جناح کی موت قدرتی تھی اور بڑھاپے کی بناء پر ان کی گردن پر جھریوں کے نشان تھے یہ غلط ہے کہ گلا گھوٹنے سے انکی گردن پر کوئی نشان تھے“ ایم ابو الحسن اصفہانی نے 14 جنوری 1976ء کو آغا حسن ہمدانی کو دیے انٹرویو میں یہ کہا کہ محترمہ کی موت قدرتی طور پر واقع ہوئی تھی کیوں کہ میں نے دونوں ڈاکٹروں کرنل جعفر اور کرنل ایم ایچ شاہ سے علیحدہ علیحدہ ان کی وفات سے متعلق پوچھا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ موت قدرتی واقع ہوئی ہے“۔ 
قائداعظم کے ایک اہم ساتھی مطلوب الحسن سید نے بھی انٹر ویو میں بتایا تھا کہ ”میر لائق علی خان کی بیٹی کی شادی کی دعوت میں محترمہ فاطمہ جناح نے ملاقات میں بتایا تھا کہ ”ان کا دل ڈوب رہا ہے“ اسی وجہ سے انکی موت واقع ہوئی“ یہ تمام بیانات ان رہنماؤں کے ہیں جو انکی وفات کی اطلاع کے بعد فوراً قصر فاطمہ پہنچے۔ مگر اب ایک بار پھر سید شریف الدین پیرزادہ نے جو کہ وفات کے وقت اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شریک تھے، اطلاع ملنے پر جنازہ کے روز دوپہر بارہ بجے ہوائی اڈہ سے سیدھے مزار قائد پر پہنچے اور وہاں سب سے پہلے جنازہ کو کندھا دیا۔ انہوں نے ”قصر فاطمہ“کی ”خواب گاہ“ میں بستر پر بکھرا خون کیسے دیکھ لیا اور اگر انہیں معلوم ہو چکا تھا تو وہ وفاقی وزیر تھے اس معاملے میں کوئی پیش رفت اس وقت کیوں نہ کی؟ اگر وہ جانتے تھے تو یہ راز اسی وقت قوم کو کیوں نہ بتلایا؟ کیا وزارت کا ’مزہ‘ محترمہ کے قتل کی حقیقت سے زیادہ اہم تھا۔ کیا یہ مادرِ ملت سے محبت کے تقاضے پورے کرتا ہے کہ جب ”قاتل“ تھے یا تھا اس وقت خاموش رہو اور اب ضمیر کا بوجھ ہلکا کر کے ”مزید شہرت“ حاصل کرو۔ بہرحال اب بھی وہ سیاسی مصلحتوں کو بالائے طاق رکھ کر گرہ کھول دیں گے تو یہ کسی مورخ کے لیے تو فائدہ مند ہو گا لیکن کیا اس سے مادر ملت کی روح کو چین ملے گا……؟ بہتر تھا جب یکم اگست 1967ء کو صدر مملکت محمد ایوب خان کے ہمراہ پیرزادہ صاحب نے فاطمہ جناح کی قبر پر پھولوں کی چادر چڑھائی تھی اس وقت یہ راز افشاں کر دیتے۔
اب بھی قوم توقع رکھتی ہے سید شریف الدین پیرزادہ صرف ”قتل“ سے متعلق ڈرامائی انکشاف کرنے کے ساتھ ساتھ ان وجوہات کا ذکر بھی ضرور کریں گے جن کی وجہ تک یہ راز اتنے سالوں تک انہوں نے سینے میں چھپائے رکھا۔ شریف الدین پیر زادہ جیسے افراد کے آدھے سچ نے پہلے ہی اس قوم پر ابہامات کی بارش کر رکھی ہے۔ شریف الدین پیرزادہ سے قوم توقع رکھتی ہے کہ وہ اب عمر کے آخری حصے میں کسی وقت تو پورا سچ بول کر تاریخ کا قرض ادا کریں تاکہ قوم مادر ملت کی وفات کے اسباب کو صحیح طور پر جان سکے۔