جمعرات، 20 نومبر، 2014

فیض احمد فیضؔ اور صحافت

فیض احمد فیضؔ اور صحافت  
شیخ عبدالرشید 



فیض احمد فیض ؔہماری تہذیبی حیات، ادبی و فکری تاریخ اور قلمی و صحافتی روایت کا زندہ اور روشن استعارہ ہیں۔ دانشور، شاعر، استاد، نقاد، مزدور انقلابی راہنما، مدیر و صحافی یہ سب ان کی ہشت پہلو شخصیت کے نمایاں پہلو ہیں۔ ان کی شاعری اور نثر ان کی ذات اور زمانے کا پتہ دیتی ہیں۔  اہل قلم شعوری و غیر شعوری طور پر زندگی سے خام مواد لے کر ایسی دنیا تخلیق کرتے ہیں جس کے معنی و اقدار ایک طرف اہل قلم کے حقیقی تجربے کو دوام بخشتے ہیں تو دوسری طرف زندگی میں خیر کا اضافہ کر کے خود زندگی کو تازہ دم کرتے ہیں۔ فیضؔصاحب کی ہمہ جہت شخصیت کا ہر پہلو اپنے اندر ایک زندگی لیے ہوئے ہے۔ بطور شاعر وہ عہد ساز شاعر کہلاتے ہیں لیکن ان کی شخصیت کے دوسرے پہلو بھی کم متاثر کن نہیں ہیں، وہ کئی طرح سے گلشن کا طرز بیاں نکھارتے رہے۔ ادب اور صحافت دونوں ہی ترجمان حیات ہیں، وہ اہلِ قلم جو کسی مقصد یا نظریے سے وابستہ اور کسی نصب العین کے لئے کوشاں ہوں وہ بالعموم دونوں شعبوں میں احترام اور اعتبار پیدا کر لیتے ہیں۔ فیض احمد فیضؔ بھی اسی قبیلے کے سرخیل ہیں۔ صحافت ان کی ذات کا ایک پہلو، نظریاتی جدوجہد کا ایک محاذ اور اظہار ذات کا اہم ذریعہ تھی۔ سچا قلمکار معاشرہ کے اجتماعی شعور کا آئینہ دار ہوتا ہے جو اسے اپنے احساسات سے باخبر بھی کرتا ہے اور اسے بدلتا بھی ہے۔ قلم کار ہر لمحہ کو، ہر واقعہ کو صحیح پس منظر میں سب سے پہلے سمجھ لینے کی صلاحیت اور قوت رکھتا ہے اور پھر اسے دوسروں تک پہنچانا اور دوسروں کو روشنی دکھانا اس کا فرض بن جاتا ہے۔ ژاں پال سارتر نے کہا تھا کہ ”ادیب لکھتا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اس نے یہ فرض سنبھال لیا ہے کہ اس دنیا میں جہاں آزادی کو ہر دم کھٹکا لگا رہتا ہے، آزادی کے نام کو، آزادی سے مخاطب ہونے کی سرگرمی کو جاوداں بنا دیا جائے“ بلا شبہ اہلِ قلم کو یہی فریضہ انجام دینا ہوتا ہے، فیض ؔ صاحب نے بھی سچے قلمکار کے طور پر انگلیاں خون دل میں ڈبو لیں اور ہر حلقہ زنجیر میں زباں رکھ دی۔ فیض نے خوب سے خوب ترکی جستجو میں بحرِ عقل و خرد میں غوطہ زن ہو کر غور و فکر کے بعد فلاح انسانیت کے لئے افکار تازہ کا علم بلند کیا اور اپنی شاعری اور صحافت کو سماجیات سے ہم رشتہ کر کے اپنے نصب العین کی جدوجہد کا ذریعہ بنایا۔ بطور ادبی مدیر اور صحافی بھی فیض صاحب پُرمسرت دنیا کی تخلیق کی خاطر صبر آزما اور پُر مصائب جستجو کے عمل سے گزرے اور فکر کو تخلیقی، جری، امن پسند اور جدت پسند بنانے کی ہر ممکن کوشش کی۔ 
یہ ایک دلچسپ امر ہے کہ محققین اور نقادوں نے اپنی تمام تر توجہ فیض کی شاعری پر ہی مرکوز رکھی اور انکی شخصیت کے دیگر پہلو ؤں بشمول صحافتی کردار کو نمایاں نہیں کیا گیا۔ یہ بھی درست ہے کہ بڑے لوگوں کی ہمہ گیر زندگی کا کوئی ایک پہلو دوسرے پہلوؤں پر غالب آجاتا ہے  اسی طرح فیض کی شاعری اتنی مقبول ہوئی کہ دیگر پہلو پس منظر میں چلے گئے۔ فیض صاحب کا صحافتی کردار تین ادوار پر مشتمل ہے۔ تقسیم ہند سے پہلے انہوں نے ’ادب لطیف‘کی ادارت کی تھی مگر عملی صحافت کا پہلا دور قیام پاکستان کے بعد ’پاکستان ٹائمز‘، ’امروز‘اور ’لیل و نہار‘کی ادارت کا ہے جو ایوب خاں کے مارشل لاء تک ہے دوسرا دور 1970ء اور 1971ء کا بحرانی زمانہ ہے جس میں وہ دوبارہ ’لیل و نہار‘سے منسلک ہوئے اورپھر تیسرے دورمیں بیروت سے شائع ہونے والے رسالے LOTUS کے مدیر ہوئے۔ فیض ؔ صاحب نے جس زمانے میں وادی صحافت میں قدم رکھا وہ بر صغیر میں انگریز عہد کے خلاف آزادی کی جنگ کا دور تھا۔ پہلی عالمگیر جنگ کے بعد آزادی کا شعور خاص طور پر نمایاں ہوا۔ تحریک خلافت اور تحریک عدم تعاون  نے بھی اس جدوجہد میں بڑا کردار ادا کیا۔ اسی دور میں اردو صحافت نے بھی نئی کروٹ لی اور علمی و ادبی صحافت کو فروغ حاصل ہوا۔ مولانا ابوالکلام آزادؔ، محمد علی جوہرؔ، حسرت موہانیؔ، مولانا ظفر علی خان، چراغ حسن حسرتؔ اور فیض احمد فیضؔ جیسے کہنہ مشق صحافیوں نے اردو میں ادبی صحافت کی بنیاد ڈالی۔ مذکورہ بالا تمام لوگوں میں قدرِ مشترک یہی تھی کہ یہ دنیائے ادب کے رخشندہ ستارے ہونے کے ساتھ ساتھ صحافت کی خاردار وادی کے مسافر بھی تھے۔  
1936ء میں انجمن ترقی پسند مصنفین ہندوستان نے ادب کو ملک میں بروئے کار آنے والے سماجی عوامل سے عملاً جوڑ دیا اور نظریاتی پرچارک کے لئے خاص طور پر مشاعرے منعقد کیے جاتے اور ترقی پسندوں کی تخلیقات شائع کرنے والے اخبارات اور رسائل کو بڑی دلچسپی سے تقسیم کیا جاتا۔ ہم خیالوں کو اکٹھا کرنے میں ادبی رسائل اہم کردار ادا کر رہے تھے۔ فیضؔ، کرشن چندر، احمد ندیم قاسمی، راجندر سنگھ بیدی اور اپندر ناتھ اشک کی تخلیقات بائیں بازو کی طرف جھکاؤ رکھنے والے ادبی رسالہ میں چھپنے لگی تھیں۔ ’ہمایوں‘ اور ’ادبی دنیا‘ کے بعد لاہور ہی سے 1937ء میں ایک اور رسالہ ’ادب لطیف‘انجمن ترقی پسند مصنفین ہندوستان کی پنجاب شاخ کے زیر اہتمام منظر عام پر آیا۔ فیض کو فوراً ’ادب لطیف‘کے کام اور رسالے کی مجلس ادارت میں شامل کر لیا گیا۔ جلد ہی انہوں نے صحافت کی باریکیوں سے آگاہی حاصل کر لی اور ادبی صحافت میں غیر معمولی صلاحیتوں کا مظاہرہ کر کے ادارت کو زندگی کا اہم جزو بنا لیا۔ اس حوالے سے مرزا ظفر الحسن، ’عہد طفلی سے عنفوان شباب تک‘ مشمولہ باتیں فیض سے ص21پر لکھتے ہیں کہ فیض کہتے ہیں:
”ادب لطیف کی ادارت کی پیش کش ہوئی تو دو تین برس اس میں کام کیا۔ اس زمانے میں لکھنے والوں کے دو بڑے گروہ تھے ایک ادب برائے ادب کا اور دوسرا ترقی پسند ادب کا۔ کئی برس تک ان دونوں کے درمیان بحثیں چلتی رہیں جس کی وجہ سے کافی مصروفیت رہی جو بجائے خود ایک بہت ہی دلچسپ اور تسکین دہ تجربہ تھا“ 

فیض صاحب 1939ء تک ’ادب لطیف‘سے وابستہ رہے اسی دوران ان کے اندر اعلیٰ تعلیم کا خواب انگڑائیاں لینے لگا تھا۔ مہ و سال آشنائی میں فیض صاحب کہتے ہیں کہ 
”میں نے 1939ء کے وسط میں مزید تعلیم کے لئے کیمبرج یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا تھا۔ ایک اطالوی بحری جہاز میں جگہ بھی مخصوص کروا لی تھی، ٹکٹ تک خرید لیا تھا، کپڑے بنوا لیے تھے،بس جہاز کی روانگی کا انتظار تھا، جہاز کے جانے میں ابھی کوئی دس دن باقی تھے جب خبر آئی کہ دوسری جنگ عظیم شروع ہو چکی ہے اور ملک سے باہر جانے کے تمام راستے بند ہو چکے ہیں“
اس کے بعد فیض ؔ صاحب لاہور آگئے اور ہیلے کالج آف کامرس میں انگریزی کے لیکچرر ہو گئے انہی دنوں کے حوالے سے فیضؔ خود لکھتے ہیں کہ
 ”جب تین طرف سے فاشسٹوں کا ریلا یعنی مشرق سے برما، مغرب سے شمالی افریقہ، اور شمال سے جنوبی روس کی طرف بڑھنے لگا اور اپنا دیس بھی اس سہ شاخہ یورش کی زد میں نظر آنے لگا تو میں نے ہندوستانی فوج میں ملازمت کرلی“۔ 
فیضؔ صاحب1942ء میں لڑکپن کے دوست میجر مجید ملک کے مشور ہ پر فوج میں کپتان ہو گئے اور ان کی خدمات نشر و اشاعت اور باشندگان ملک کے شعبے کو تفویض کی گئیں۔ ان کے ہمہ گیر فرائضِ منصبی میں مختلف محاذوں سے روزانہ وائرلیس پر موصول ہونے والی خبروں کو یکجا کر کے جنگی خبر نامے تیار کرنا، ان پر تبصرے لکھنا اور رائے عامہ کو ہموار کرنے کے لئے برقیوں سے لے کر اخبار و رسائل کی اشاعت تک کا کام شامل ہوتا تھا۔ فیض نے نشر و اشاعت و اطلاعات کا یہ کام اتنی قابلیت اور کامیابی سے کیا کہ 1943ء میں میجر اور 1944ء میں لیفٹینٹ کرنل کے عہدے پر ترقی پائی جنگ کے اختتام پر M.B.E یعنی رُکن مملکت برطانیہ کے خطاب سے سرفراز ہوئے۔ 
دوسری عالمگیر جنگ کے خاتمے کے بعد فیض فوجی ملازمت چھوڑنے کا سوچنے لگے، انہوں نے محکمہ تعلیم کو دوبارہ استادی لوٹانے کی درخواست بھی کی مگر قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ ایک روز اچانک انہیں ایک انگریزی روزنامے کی ادارت سنبھالنے کی دعوت ملی۔ ڈاکٹر ایوب مرزا کی کتاب ”فیض نامہ“ کے مطابق فیض خود اس کا ذکر یوں کرتے ہیں کہ: 
”ایک دن میاں افتخار الدین صاحب ہمارے پاس آئے اورکہا دیکھو ہم لاہور سے پاکستان ٹائمز کے نام سے انگریزی اخبار نکال رہے ہیں اور تمہارا نام چیف ایڈیٹری کے لیے طے پا گیا ہے۔ میں نے کہا میاں صاحب آپ کمال کر رہے ہیں میں نے صحافت میں کبھی قدم نہیں رکھا۔ بھلا اتنا بڑا پرچہ کیسے چلا سکتا ہوں؟ میرا سیدھا سادا سا جواب سن کرمیاں صاحب ناراض ہوئے اور کہا میں کوئی بے وقوف ہوں، تم نے مجھے جاہل سمجھاہے جو تمہارا نام تجویز کر آیا ہوں؟ اگر نا تجربہ کاری دلیل ہے تو فوج کا تمہیں کہاں تجربہ تھا؟ بس اب فوج سے ریلیز کی درخواست بھجوا دو، اور دو ماہ میں پرچہ سڑکوں  پر ہونا چاہئے“۔  
فیض صاحب نے میاں افتخار الدین کی پیش کش تھوڑے غور و فکر کے بعد قبول کر لی۔ ویسے بھی ایک ہزار روپے ماہانہ تنخواہ بری نہ تھی۔انہوں نے فوج سے مستعفی ہو کر اخباری ذمہ داریاں سنبھال لیں اور اس انہماک سے کام کیا کہ سونپی گئی ذمہ داری کے مطابق 4 فروری 1947ء کے دن ’پاکستان ٹائمز‘ کا شمارہ لاہور کی سڑکوں پر موجود تھا۔ شروع میں مدیر اعلیٰ کی مدد سے سینئر انگریز صحافی ’ڈیسمنڈینگ‘کا تقرر بھی کیا گیا جو صحافت و اشاعت کے کام کی باریکیوں سے فیض صاحب کو آشنا کر تاتھا مگر لُدمیلاوسیلئیوا کے مطابق فیضؔ نے جلد ہی فن صحافت میں مہارت حاصل کر لی اس انگریزمعاون کو خود ہی یہ احساس ہو گیا کہ بحیثیت اتالیق اس کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ ابتداء میں پاکستان ٹائمز اخبار سول اینڈ ملٹری گزٹ پریس میں چھپتا رہا مگر چند ماہ بعد پاکستان معرض وجود میں آگیا اور اسی دوران وہاں سے نکلنے والا اخبار ’ٹریبیون‘ بند ہو گیا تو PPL کے میاں افتخار الدین نے اس پریس کو بلڈنگ سمیت خرید لیا۔ فیض ؔصاحب نے اس اخبار کے لیے جو ٹیم منتخب کی وہ ان ہی کا حسن انتخاب ہو سکتا تھا مظہر علی خاں ان کے ساتھ جوائنٹ ایڈیٹر بنے تو زہیر صدیقی اور احمد علی خاں بھی ان کی ٹیم کا حصہ تھے۔ فیض کی یہ صحافتی ٹیم آگے چل کر ملکی صحافت کی نئی سمت متعین کرنے میں بھی معاون ثابت ہوئی۔ جدوجہد پاکستان کے فیصلہ کن مرحلے میں ’پاکستان ٹائمز‘جیسے روزنامے کے اجراء نے تحریک پاکستان کو تقویت پہنچائی۔ پھرحصول پاکستان کے بعد تعمیر وطن کے ابتدائی مراحل میں فیض صاحب کی زیر ادارت ’پاکستان ٹائمز‘نے زور شور سے حصہ لیا۔ مختصر سے عرصے میں ہی پاکستان ٹائمز کا شمارمؤقر اور ممتاز روزناموں میں ہونے لگا چنانچہ جلد ہی پروگریسو پیپرز لمیٹڈ کے زیر انتظام ’پاکستان ٹائمز‘کے مماثل اردو روزنامہ ’امروز‘کے نام سے 4 مارچ1948ء کو جاری کیا گیا۔ اس وقت ’پاکستان ٹائمز‘کو ایک سال مکمل ہو چکا تھا۔ ’امروز‘ جاری ہوا تو فیض صاحب اس کے بھی چیف ایڈیٹر ہو گئے۔ ’امروز‘کا پہلا اداریہ بھی انہی کا رقم کردہ ہے۔انہوں نے امروز کے ادارتی عملے میں مولانا چراغ حسن حسرت، پروفیسرمحمد سرور اور حامد علی خاں کو شامل کر لیا۔ 
فیض ؔصاحب کی انتھک محنت نے دونوں اخبارات کو شہر ت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔ ’پاکستان ٹائمز‘ اور ’امروز‘ کے حوالے، کبھی اختلافی نوٹ کے ساتھ ہی سہی نہ صرف پاکستانی اخبارات بلکہ غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے لئے بھی روز مرہ کا معمول بن گیا اور فیض ؔصاحب کا شمار پاکستان کے صف اول کے مدیروں اور صحافیوں میں ہونے لگا تھا۔ 1948ء میں پاکستان میں پریس کی آزادی پر پہلی ضرب اس وقت پڑی جب پنجاب کی حکومت نے ’سویرا‘، ’نقوش‘، اور ’ادب لطیف‘ ضبط کر لیے۔ یہی وہ وقت تھا جب ملکی پریس حکومت مخالف اور موافق دھڑوں میں تقسیم ہو چکا تھا۔ فیض کی زیر ادارت نکلنے والے اخباروں نے اس ضبطی پر سخت تنقید کی تو باغی اخباروں کی ضبطی کے ساتھ ہی باغی صحافیوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا۔ 1948ء میں ’امر وز‘ لاہور میں ایک خبر کی اشاعت پر فیض احمد فیضؔ کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کر دیئے گئے۔ اور انہیں لاہور کے ڈپٹی کمشنر ظفر الحسن کی عدالت میں طلب کیا گیا،انہوں نے پیرول یا شخصی ضمانت پر رہا کرنے کا عندیہ دیالیکن فیض صاحب نے انکار کر دیا۔ جب محمود علی قصوری کو ان کی گرفتاری کا علم ہوا تو وہ فوراً ان کی طرف سے پیروی کرنے عدالت پہنچے، فیض ؔصاحب نے انہیں بھی روک دیا۔ آخر کار خود عدالت نے فیض کی پیروی کے لئے وکیل مقرر کیا اور دلائل سننے کے بعد ’باعزت‘ طور پر رہا کر دیا۔ اگلے روز کے ’امروز‘ میں فیض صاحب کے دستخطوں کے ساتھ ایک سخت اداریہ شائع ہوا۔ یہ پی پی ایل کے اخباروں کی تاریخ میں پہلا اور آخری اداریہ تھا جو ان کے نام کے ساتھ شائع ہوا۔ دستخط کر کے انہوں نے اس سخت اداریے کی تمام تر ذمہ داری اپنے سر لے لی۔ 
فیض صاحب ہمیشہ آزادی صحافت کے لیے کوشاں رہے مثلاًماہنامہ ’جاوید‘ لاہور نے جس کے ایڈیٹر عارف عبدالمتین اور مالک نصیر انور تھے، مارچ 1949ء میں سعادت حسن منٹو کا افسانہ ’ٹھنڈا گوشت‘ شائع کیا۔ اس کی اشاعت کے ایک مہینے بعد پنجاب پریس برانچ حرکت میں آگئی اور اس رسالے کو ضبط کر لیاگیا پھر معاملہ پریس ایڈوائزری کمیٹی کے سامنے پیش کیا گیا جس کا اجلاس’پاکستان ٹائمز‘ کے دفتر میں ہوا۔ منٹو کے مطابق کنوینر فیض احمد فیضؔ کے علاوہ حمید نظامی، وقار انبالوی، ایف ڈبلیو بسٹین، امین الدین صحرائی، مولانا اختر علی خان، اور پولیس کی پریس برانچ کے چیف اس اجلاس میں شریک ہوئے فیض صاحب کے سوا تمام شرکاء نے منٹو کے خلاف گواہی دی۔ اپریل 1949ء میں ایسٹرن نیوز ٹرسٹ قائم کیا گیا جس نے رائٹر زسے پاکستان میں موجود یونٹ خرید لیے اس طرح APP وجود میں آئی جس کے مینیجنگ ٹرسٹی ملک تاج الدین تھے جبکہ دوسرے ٹرسٹیوں میں فیض احمد فیضؔ بھی شامل تھے۔  
1951ء میں راولپنڈی سازش کیس میں گرفتار ہوئے اور تقریباً چار سال تک عملی صحافت سے دور رہے۔ دوران اسیری ان کے گھریلو معاملات کا سہارا بھی صحافت ہی بنی۔ فیض کی گرفتاری کے بعد اخبار کے مدیر اعلیٰ کے عہدے پر ان کے ساتھی مظہر علی خاں مقرر ہوئے۔ انہوں نے ایلس فیض کو ’پاکستان ٹائمز‘میں خواتین اور بچوں کے صفحات کی مدیرہ کا کام سونپ دیا۔ ایلس نے 1962 ء تک یہ کام کیا۔ فیض صاحب بھی رہائی کے بعد واپس ’پاکستان ٹائمز‘ میں آگئے اور پہلے کی طرح مضامین اور اداریوں میں دو ٹوک انداز میں سرکاری سیاست کے خلاف آواز اٹھانے لگے اور حکومت کی داخلہ پالیسی کو عوام اور خارجہ پالیسی کو امریکہ نواز کہنے سے گھبرائے نہیں۔ پی پی ایل ہی کی طرف سے 20 جنوری 1957ء کو  ہفت روزہ ’لیل و نہار‘ لاہور سے جاری کیا گیا۔ اس پرچے کے ابتدائی شماروں پر فیض صاحب کا نام مدیر کے طور پر شائع ہوا لیکن چند ماہ بعد ان کا نام چیف ایڈیٹر اور سبط حسن کا نام مدیر کی حیثیت سے شائع ہونے لگا۔ فیض صاحب کی زیر ادارت پی پی ایل کے اخباروں اور رسائل نے ملکی صحافت میں اہم مقام حاصل کر لیا۔ ان پرچوں نے نہ صرف نئے صحافتی رجحانات متعارف کروائے بلکہ بیرونی دنیا میں بھی پاکستانی صحافت کا نام روشن کیا۔ لیکن ارباب اقتدار کو ان اخبارات کی بے باکی اور حق گوئی کبھی پسند نہ آئی۔ پھر ایوب خاں کے ’پر امن انقلاب‘کے ایک ہفتے کے اندر اندر صحافت کو پابندِ سلاسل کرنے کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ سب سے پہلے سیفٹی ایکٹ کے تحت پی پی ایل کے ’لیل و نہار‘کے سبط حسن اور چار دن بعد ’امروز‘کے ایڈیٹر احمد ندیم قاسمی کو گرفتار کر لیا گیا۔ ان دنوں ’پاکستان ٹائمز‘کے چیف ایڈیٹر فیض احمد فیضؔ، حفیظ جالندھری کے ہمراہ ایک ادبی کانفرنس میں شرکت کے لیے تاشقند گئے ہوئے تھے واپسی پر وہ بھی اپنے ساتھیوں کے پاس پہنچا دیے گئے۔ تینوں کو سیکیورٹی ایکٹ کے تحت گرفتار رکھا گیا اور جیل میں سی کلاس دی گئی پھر جسٹس ایم آر کیانی کے حکم پر اسیر ایڈیٹروں کو فروری 1959ء میں رہا کر دیا گیا۔ رہائی کے بعد ان کے سامنے روزگار کا مسئلہ آگیا کیونکہ پہلی بار جیل سے آئے تھے تو ’پاکستان ٹائمز‘کا ادارہ سلامت تھا مگر اب مارشل لاء کی حکومت نے اسے قبضے میں لے لیا تھا۔ حکومت نے انہیں اپنے چکر میں پھنسانا چاہا مگر وہ جھانسے میں نہ آئے فیض خود کہتے ہیں:  
”جیل سے رہائی کے تیسرے دن میرے ملازم نے بتایا کہ پولیس کی گاڑی آئی ہے۔ میں نے کہا پھر آگئے، دیکھا کہ نذیر رضوی ہیں،پوچھا کیا بات ہے؟ وہ کہنے لگے کہ میں آئی جی، سی آئی ڈی کی حیثیت سے یہاں نہیں آیا بلکہ تمہارے دوست کی حیثیت سے آیا ہوں، میں نے کہا بہت اچھی بات ہے، بتاؤ کیا بات ہے؟  نذیر رضوی کہنے لگے وہ جو اخبار سرکار نے لے لیا ہے آپ اس کے چیف ایڈیٹر بن جائیں۔ میں نے کہا بھاگ جاؤ“۔ 
نذیر رضوی کو بھگانے کے بعد فیض ؔصاحب نے کافی عرصہ صحافت سے الگ رہ کر گزارا۔ پھر جب یحییٰ خاں کی حکومت کے آغاز میں کراچی سے 22 فروری1970ء کو ’لیل و نہار‘ دوبارہ جاری ہوا تو فیض صاحب اس کے چیف ایڈیٹر مقرر ہوئے یہ رسالہ ڈیڑھ سال تک نکلتا رہا۔ نئے حالات میں فیض صاحب نے ’لیل و نہار‘ کا نیا مزاج بنایا اور خود اداریے لکھے، سیدہ برجیس بانو کے مطابق ’لیل و نہار‘میں تقریباً 139 اداریے فیض صاحب کے تحریر کردہ ہیں جن میں ملکی و غیر ملکی اہمیت کے بہت سے مسائل سے بحث کی گئی ہے۔ 1970 کے انتخابات میں انہوں نے زیادہ تر اداریوں میں الیکشن کی اہمیت، انتخابی مہم، سیاسی پارٹیوں کا منشور و کردار، مشرقی و مغربی پاکستان کے درمیان سیاسی رنجشیں جیسے مسائل کو موضوع بحث بنایا۔ 
بھٹو کا دورفیضؔصاحب کے لیے نسبتاًخوشگوار رہا اور وہ ثقافتی حوالے سے متحرک بھی رہے۔ تاہم ضیاء الحق کے مارشل لاء کے بعد 1978ء میں انہوں نے خود ساختہ جلا وطنی اختیار کر لی اور یہاں سے دہلی پھر ماسکو چلے گئے اور افروایشیائی ادیبوں کی چھٹی کانفرنس میں شرکت کے لئے انگولا گئے وہیں انہیں LOTUS کا مدیر چن لیا گیا اس طرح 1979ء میں فیض ؔصاحب ایلس جو ان کی سیکرٹری مقرر ہوئیں کے ہمراہ رسالے کے صد ر مقام بیروت چلے گئے۔ پروفیسر فتح محمد ملک’فلسطین اردو ادب میں‘، میں فیض کے حوالے سے رقمطراز ہیں کہ فیض صاحب کا کہنا ہے کہ:  
”جن دنوں ہم لندن میں مقیم تھے (1962-64)تو میں نے اس انجمن کے منتظم کو یہ تجویز لکھ کر بھیجی کہ اس تنظیم کا کوئی رسالہ بھی ہونا چاہئے جس میں مختلف ایشیائی اور افریقی ممالک کی ادبی تخلیقات کے تراجم چھپ سکیں۔ اس سلسلے میں سب سے پہلے بیروت اور اس کے بعد بغداد، قاہرہ، الجزائر وغیرہ جانا ہوا جس کی رپورٹ تو میں نے لکھ کر بھیج دی لیکن یہ تجویز برسوں کھٹائی میں پڑی رہی۔ آخر 1968ء میں قاہرہ سے جو انجمن کا صدر دفتر قرار پایا تھا، ایک سہ ماہی رسالہ ’لوٹس‘ کے نام سے چھپنا شروع ہوا۔ اس کے مدیر اعلیٰ ایک مصری ادیب اور صحافی یوسف السباعی چنے گئے جو انجمن کے جنرل سیکرٹری بھی تھے اور بعد میں صدر سادات کے وزیر ثقافت اور ان کے مشیر خاص بھی،جب سادات نے اسرائیل سے پینگیں بڑھانا شروع کیں تو یہ بھی یروشلم ان کے ساتھ گئے نتیجہ یہ ہوا ہے کہ کسی نے قبرص میں ان کا کام تمام کر دیا۔ اس دوران یہ رسالہ تو چھپتا رہا لیکن مدیر اعلیٰ کی جگہ خالی رہی کیونکہ انجمن کی جنرل کونسل کی منظوری لازمی تھی چنانچہ گذشتہ جون میں یہ اجلاس انگولا میں منعقد ہوا تو قرعہ فال بنام من دیوانہ زدند نکلا اور ساتھ ہی طے پایا کہ اس کا عربی ایڈیشن قاہرہ کی بجائے بیروت سے چھپے گا۔ انگولا سے واپسی پر معین نے تجویز کیا کہ بقیہ تفصیلات طے کرنے کے لئے ہم ان کے ساتھ بیروت چلیں“۔ 
اس طرح فیض صاحب کا نام ”لوٹس“ کے ایڈیٹر ان چیف کے طور پر چھپنے لگا۔ یہ رسالہ انگریزی کے علاوہ، فرانسیسی اور عربی زبان میں مشرقی جرمنی سے وہاں کی  Solidarity Committee of the German Democratic Republic کے زیر اہتمام شائع ہوتا تھا۔ فیض نے ’لوٹس‘کے لیے بھرپور اداریے لکھے اور ساتھ ہی ساتھ فلسطینی عوام کے مسائل سے گہری ہمدردی بھی ظاہر کی۔ 1982ء میں عرب اسرائیل جنگ کے دوران ایک گولہ ان کے مکان پر بھی گرا۔ خوش قسمتی سے وہ اور ایلس بچ گئے اور پھر ماسکو چلے گئے یہاں بھی انہوں نے لوٹس کے مدیر اعلیٰ کا کام کیا۔ 1983ء میں وہ وطن واپس آگئے۔ 
4 جنوری 1984ء کو ملک بھر میں ایپنک کی اپیل پر ”یوم آزادی صحافت“ منایا گیا کراچی میں پریس کلب نے ایک تقریب منعقد کی جس کے مہمان خصوصی فیض احمد فیضؔ تھے۔ پابندیاں عائد کرنے والے قوانین مثلاً سیفٹی ایکٹ کے خلاف صحافی برادری کی مسلسل جدوجہد کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے فیض احمد فیضؔ نے کہا کہ یہ جدوجہد پاکستان جتنی ہی پرانی ہے۔ انہوں نے یاد کیا کہ انہوں نے خود بھی ایسے قوانین کے خلاف آواز اٹھائی تھی اور اس کے نتائج کا سامنا کیا تھا۔ انہوں نے کہا پاکستان کے قیام کے بعد پابند کرنے والے ان قوانین کا نفاذ ہی شاید بیوروکریسی کی جانب سے پہلا غلط اقدام تھا۔ 
20 نومبر 1984ء کو فیض صاحبؔ انتقال کر گئے۔ اسی شام ریڈیو پاکستان نے ان کے حوالے سے ایک تعزیتی پروگرام نشر کیا۔ 22 نومبر کو روزنامہ ’حریت‘نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ریڈیو پاکستان نے سات سال سے انہیں بلیک لسٹ کر رکھا تھا فیض ؔ صاحب کو نہ کسی مشاعرے میں دعوت دی جاتی تھی اور نہ ان کی غزلیں ریڈیو اور ٹی وی پر گائی جاتی تھیں۔ پی ٹی وی کے مشہور پروگرام ”چہرے“ میں جس واحد معروف شخصیت کو شامل نہ کیا گیا تھا وہ فیضؔ تھے۔ 22 نومبر کو کراچی پریس کلب کے یادگاری اجلاس میں ریڈیو پاکستان اور پی ٹی وی اس عظیم شاعر اور صحافی کی موت کی خبر پر اپنے ”سنگ دلانہ سلوک“ کے باعث شدید تنقید کی زد میں آئے۔ 23نومبر کے روزنامہ ’ڈان‘ کے مطابق پروفیسر کرار حسین، ہاجرہ مسرور، اور سعیدہ گزدر نے ان کی موت کی خبر کو سرسری انداز میں نشر کرنے پر سرکاری ذرائع ابلاغ کی سخت مذمت کی۔ 24 نومبر کے ’پاکستان ٹائمز‘ میں اخبار کے ایک قاری نوازش علی خاں کا ایڈیٹر کی ڈاک میں خط چھپا جس میں نوازش علی نے لکھا کہ ”فیض کے انتقال اور تدفین کے بارے میں آپ کے اخبار کی رپورٹنگ مناسب، اگرچہ قدرے محتاط تھی۔ آخر فیض عظیم ترین معاصر شاعر ہونے کے علاوہ ’پاکستان ٹائمز‘ کے پہلے ایڈیٹر بھی رہے تھے۔ ان کی موت کے موقع پر تھوڑے بہت جذبے کا اظہار ایسی بے محل بات نہ ہوتی“۔ 

فیض صاحب محض تفننِ طبع کے لئے صحافت نہیں کرتے تھے بلکہ وہ فن صحافت کو سماجی ترقی کے لیے بروئے کار لانے کے خواہشمند صحافی تھے ان کے صحافتی نظریات کا اظہار روزنامہ ’امروز‘کے پہلے اداریے میں بھی نمایاں ہوا۔ فیضؔ 4 مارچ 1948ء کو لکھتے ہیں کہ
 ”پاکستان میں اور آسائشوں کی کمی ہو تو ہو اردو اخبارات کی کمی نہیں …… ہم نے ان اخبارات کی تعداد میں اضافہ کرنا کیوں ضروری سمجھا۔ ہمیں یہ کہنے میں کوئی تامل نہیں کہ کوئی ایسا اچھوتا مسئلہ ہمارے پیش نظر نہیں ہے۔ جو مسائل ہمارے سامنے ہیں وہی سب کے سامنے ہیں اگر کوئی بات ہے تو صرف اتنی کہ ہماری قوم اور ہمارے دیس کے لیے ان مسائل کی نوعیت اس نوع کی ہے کہ ان پر بحث اور ذکر، فکر اور محاسبہ کی بہت گنجائش باقی ہے اور ہمیشہ باقی رہے گی“۔
مزید لکھتے ہیں کہ 
”ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے پڑھنے والے اپنے دیس اور باقی دنیا کے حالات کا صحیح اور بے لاگ اندازہ کر سکیں اس کے لئے کسی خاص عقیدہ یا نقطعہ نظر کو ان پر ٹھونسنے کے لئے خبروں میں طمع اور رنگ سازی سے احتراز کیا جائے۔ ہمیں لازم ہے کہ ہر سیاسی و سماجی یا اقتصادی مسئلے کو ان ہی شاکر او ربے زباں عوام کی نظر سے دیکھیں جن کے مسائل لا تعداد ہیں۔ پاکستان کی حکومت ہماری قومی حکومت ہے اس لیے آج کل سب لکھنے والوں کو ایک دوہری سفارت سپرد ہے عوام کی سفارت  اور حکومت کی سفارت عوام کی مجالس میں“۔ 
فیض صاحب کے اداریوں کے رجحان اور میلان  سے واضح ہو جاتا ہے کہ ان کی صحافت بھی انکی شاعری کی طرح اپنے عہد کی ترجمان ہے عوامی مسائل کی ترجمانی کے ساتھ انہوں نے جماعتی سیاست پر بھی لکھا۔ان کی تحریروں میں بائیں بازو کی طرف جھکاؤ نظر آتا ہے تاہم وہ بے جا کسی کی حمایت کرنے کی بجائے ہمیشہ متوازن رائے دیتے۔ ان کے موضوعات میں تنوع نظر آتا ہے انہوں نے صحافت بالخصوص اردو صحافت کو سنجیدگی اور متانت کے علاوہ وقار و وجاہت بھی عطا کی،ساتھ ہی ساتھ طنز کی تیکھی کاٹ ان کے اداریوں کے مزے کو دوبالا کر دیتی تھی۔ ان کے اداریے ادبی چاشنی سے بھرپور ہوتے تھے انہوں نے ادبی علامات و استعارات کو سیاسی و سماجی پس منظر میں استعمال کر کے انہیں نئے معانی سے روشناس کرایا،اسی لئے وہ اپنے ہمصر مدیروں سے مختلف اور ممتاز ہو جاتے ہیں۔ 1970ء اور 1971ء  میں لیل و نہار کے اداریوں میں فیض مقتدر قوتوں کو وطن عزیز کے سیاسی بحران کے تناظر میں نوشتہ دیوار پڑھنے کی تنبیہ اور تلقین کرتے رہے مگر کسی نے ان کی باتوں پر کان نہ دھرے۔مختصراً یہ کہ فیض صاحب کے اداریے خردافروزی اور تحمل کا درس دیتے ہیں اور آج بھی صورتحال سے اتنے ہی متعلق  ہیں جتنا کے اولین اشاعت کے وقت تھے 
”فیض کی صحافت کے بارے میں انگریزی صحافت کی اہم شخصیت اور فیض کے ساتھی احمد علی خاں اپنے ایک مضمون ”فیض ایک صحافی“ میں لکھتے ہیں کہ:  
”فیض صاحب نے صحافت کے میدان میں اس وقت قدم رکھا جب ملکی صحافت ایک نئے دور میں داخل ہو رہی تھی۔ تقسیم سے سال بھر پہلے تک برصغیر پاک و ہند میں، جہاں کئی کثیر الاشاعت انگریزی روزنامے کانگریس کے ہم نوا تھے وہاں صرف تین قابل ذکر انگریزی روزنامے تحریک پاکستان کے حامی تھے۔ ڈان دہلی سے نکلتا تھا جبکہ اسٹار آف انڈیا اور مارننگ نیوز کلکتے سے نکلتے تھے۔ان دنوں اس علاقے میں جواب پاکستان کہلاتا ہے انگریزی کے چار قابل ذکر روزنامے تھے۔ ’ٹریبیون‘اور ’سول اینڈ ملٹری گزٹ‘لاہور سے شائع ہوتے تھے جبکہ ’سندھ آبزرور‘ اور ’ڈیلی گزٹ‘کراچی سے نکلتے تھے۔ یہ چاروں اخبار غیر مسلموں کے ہاتھوں میں تھے اور ان میں سے کوئی بھی تحریک پاکستان کا حامی نہ تھا۔ 1947ء میں میاں افتخار الدین نے ’پاکستان ٹائمز‘کی بنیاد ڈالی تو دو کام بیک وقت انجام دیئے، ایک تو تحریک پاکستان جو نازک موڑ پر پہنچ چکی تھی کو تقویت پہنچائی اور دوسرے نوزائیدہ مملکت کی آئندہ صحافت کی سمت اور معیار کا نشان بھی بنا دیا۔ لفظ پاکستان کے شیدائی پہلے تو اس کے نام پر ہی جھو م اٹھے اور پھر بہت جلد اس اخبار کے صحافتی معیار، وقار اور متین انداز سے متاثر ہونے لگے۔ فیض صاحب نے جب اس کی ادارت کا بوجھ سنبھالا تو وہ اس کی ذمہ داری کے لئے نئے تھے لیکن ان میں اس کام کی بنیادی صلاحیتیں موجود تھیں۔ علمی لیاقت، سیاسی ادراک، تاریخ کا شعور، معاشرے کے مسائل کا علم، ادب پر گہری نظر اور اچھی نثر (انگریزی و اردو) کا سلیقہ اور اپنی تمام صلاحیتوں سے انہوں نے پورا پورا فائدہ اٹھایا۔ ان کے اداریے سلاست، شگفتگی اور ادبیت کے باعث ابتداء ہی سے مقبول ہوئے۔ ملک کے سیاسی مسائل پر فیض صاحب کے اداریے وسیع حلقے میں پڑھے اور پسند کیے جاتے تھے“۔  
ان کے ایک اور دوست اور صحافی حمید اختر اپنے مضمون ’فیض شخصیت کی چند جھلکیاں‘ میں ان کی اداریہ نویسی کے حوالے سے یوں رقمطراز ہیں کہ: 
”وہ اپنے اداریے بالعموم شام کی محفلوں کے اختتام پر پریس میں کمپوزیٹروں کے برابر بیٹھ کر لکھتے تھے۔ موضوع کا انتخاب تو ہمیشہ صبح کو ہی ہوجاتا تھا لیکن پریس والوں کو اداریہ رات کے دس گیارہ بجے سے قبل کبھی نہیں ملتا تھا۔ پاکستان ٹائمز کے عملے کا خیال تھا کہ وہ کام کو آخری وقت تک ٹالتے رہتے تھے۔ میرے خیال میں یہ رائے درست نہیں۔ اصل میں وہ دن بھر اپنے موضوع کے متعلق سوچتے رہتے تھے اور اس دوران غائب دماغی کے مظاہرے بھی کرتے رہتے تھے۔ دن بھر یا شام کو ملنے والے یا محفل میں ساتھ بیٹھنے والے انہیں غیر حاضر پاتے تو شاعر سمجھ کر معاف کر دیتے۔ جبکہ حقیقتاً وہ آخری وقت تک اپنے اداریے کے متعلق سوچتے رہتے تھے۔“
 سید سبط حسن جو دنیائے صحافت میں ان کے رفیق خاص رہے وہ ’سخن در سخن‘ میں فیض صاحب کی صحافتی خدمات کے متعلق یوں بیان کرتے ہیں کہ: 
”فیض صاحب نے دس گیارہ سال اخبار نویسی کی۔ پاکستان کی صحافت کی تاریخ میں ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی  انہوں نے اخبار نویسی بڑے آن بان سے کی۔ انہوں نے ضمیر کے خلاف کبھی ایک حرف بھی نہ لکھا۔ بلکہ امن، آزادی اور جمہوریت کی ہمیشہ حمایت کی۔ اقتدار کی جانب سے شہری آزادیوں پر جب کبھی حملہ ہوا تو فیض صاحب نے بے دھڑک اس کی مذمت کی اور جس حلقے، گروہ، جماعت یا فرد سے بے انصافی کی گئی انہوں نے اس کی وکالت کی۔فیض صاحب کے اداریے اپنی حق گوئی کی ہی بدولت مقبول نہ تھے بلکہ وہ نہایت دلچسپ ادبی شہ پارے بھی ہوتے تھے جن کو دوست اور دشمن سب لطف لے کر پڑھتے تھے“۔
اپنی بات کوفیض احمد فیض ؔکی اردو صحافت نامی کتاب کی صنفہ سیدہ برجیس بانو کے اس تجزیے پر ختم کرتا ہوں کہ 
”فیض صاحب صحافیوں کی اس چھوٹی سی جماعت سے تعلق رکھتے تھے جس نے ملکی صحافت کا رُخ اور اقدار متعین کرنے، صحافتی اخلاق کا ایک معیار بنانے اور اس کی ترقی کے لئے راستہ صاف کرنے میں نمایاں خدمات انجام دیں اور مستقبل کا مؤرخ تاریخ ِصحافت مرتب کرتے وقت فیض کا نام آزاد اور با مقصد صحافت کو فروغ دینے والے صحافی کی حیثیت سے نظر انداز نہیں کر سکے گا“۔