منگل، 25 نومبر، 2014

”سائنٹفک تحریریں“ ڈاکٹر اعجاز الرحمن درانی کی کتاب

 ایک جائزہ


ممتاز مؤرخ ایچ جی ویلز نے اپنے ایک مقالے”سائنس اور دنیا“ میں لکھا ہے کہ ”میں نے ایک ایسی قد آور دوربین دیکھی ہے جو ابھی زیر تعمیر ہی ہے۔ وہ مجھے نہایت کامیاب نظر آئی وہ میرے اعصاب پر مسلط ہو گئی۔ میں مہینوں اس کے متعلق سوچتا رہا۔ میں عزائم اور ادراک کے اس دیو قد شاہکار کی موجودگی میں کوتاہ قد نظر آیا۔ اس کے با وجود میں کہوں گا کہ دوربین بنانا اتنا ضرور ی نہیں، جتنا فلاحِ انسانیت کا خیال۔“ بلاشبہ سائنس نے روز بروز نئی نئی باتیں بتا کر انسان کے دل و دماغ میں ایک بے چینی اور تڑپ پید ا کر رکھی ہے۔جس کی بدولت آج انسان علم اور سمجھ کی منزل پر رواں دواں ہے تا ہم یہ سفر ابھی نا تما م ہے۔ اس صورت میں انسانی روح بے تابی کے ساتھ سائنس کے میدان میں آگے بڑھنا چاہتی ہے چنانچہ سائنسدان کوشاں ہیں کہ وہ علم کو ترقی دینے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائیں۔ سائنس کا دائرہ عمل علم اور آلات کی ترقی کے ساتھ ساتھ بہت پھیل گیا ہے۔ اب سائنس کا خاص طریقہ اور تحقیق کے نتائج و نظریات معیشت، معاشرت، سیاست بلکہ ہر فن اور ہنر پر استعمال کیے جاتے ہیں۔ دراصل سائنس کا صحیح مقام اب کائنات کی پیدائش یا تخلیق اور تسخیر سے لے کر انسان کی حقیقت اور اس کے تمام رازوں تک پہنچ جاتا ہے۔ سائنس علمی و عملی دونوں لحاظ سے زندگی کے عمل، قیام اور ترقی کے لیے لازمی امر کی حیثیت رکھتی ہے۔ سائنسدان اپنے علم ہی کے ذریعے خلقِ خدا کی خدمت کی کوئی نہ کوئی صورت نکال سکتا ہے۔ انسانی معاشرے کی بہتری، ترقی اور حفاظت کے لیے معاشی مسائل، دہشت گردی اور جمہوریت وغیرہ آج کے اہم ترمسائل ہیں۔ان مسائل کو سمجھنے اور حل کرنے کے لیے غور و فکر کرنا ہی حقیقی فرزندانِ انسانیت کا فریضہ ہے۔ 
خطہ یونان گجرات کے علمی و سماجی گھرانے کے فرزند سابق یوینورسٹی آف گجرات کے ڈائر یکٹر سائنسزڈاکٹر اعجاز الرحمن درانی سائنس کی ایک اہم شاخ طبیعات کے محقق و ماہر ہیں۔ وہ صرف طبیعات کے محقق ہی نہیں سائنسی اندازِ فکر کے حامل لکھاری بھی ہیں۔ لہٰذا عصرِ حاضر کے مادی اور سماجی مسائل کا سائنسی تجزیہ کرتے رہتے ہیں۔ وہ سنجیدہ فکرانسان،محنتی استاد اور دانشور ہیں۔ حال ہی میں ان کے شب و روز کے سائنسی تجربات اور فکری ریاضیت کے حامل تحقیقی مقالات کا مجموعہ منظر عام پر آیا ہے"Scientific Writings"کے نام سے انکی اسمِ بامسمٰی کتاب برطانیہ کے مشہور اشاعتی ادارےMelroseBooksنے شائع کی ہے۔160صفحات پر مشتمل اس کتاب میں ڈاکٹر اعجاز الرحمن درانی کے تجزباتی فکر کے حامل17دانشورانہ مقالہ جات شامل ہیں جن میں جدید فزکس کی نصابی اہمیت کے ساتھ ساتھ طبیعات کی معاشرتی افادیت کو بھی موضوع بنایا گیا ہے۔ کتاب فزکس کے مضمون پر مصنف کی مہارت کی مظہر ہے۔ موصوف نے موضوعات کے چناؤ اور تجزیے میں جدید نظریات و تصورات سے استفادہ کر کے واضع کیاہے کہ جتنا انسان کا تجربہ، عقل اور شعور بڑھتا جائے گا سائنس کا دائرہ اتنا ہی وسیع تر ہوتا جائے گا۔ 
جدید مادی سائنس میں کوانٹم فزکس کا غلبہ ہے۔ کوانٹم فزکس کی بدولت ایٹم کو اس کی   بے شمار تفصیلات کے ساتھ اتنی اچھی طرح سمجھا جاتا ہے کہ اب اس کی صداقت میں کوئی شک نہیں ہے۔ جو ں جوں بصری، ریڈیائی، ایکس شعائی، کائناتی شعائی مشاہدات کیے جا رہے ہیں، توں توں معلوم شدہ طبیعاتی اصولوں کی صحت پر اعتبار بڑھتا جا رہا ہے۔ تا ہم کوانٹم نے جو فلسفیانہ مسائل چھیڑے ہیں وہ بہت اہم، لیکن تکنیکی اور مشکل ہیں۔ کوانٹم فزکس سے پہلے دنیا کو بالکل پیش گوئی سمجھا جاتا تھا۔ ماضی کے واقعات حال کا تعین کرتے تھے اس تیقن کی نفی اتنی پریشان کن تھی کہ آئن سٹائن کو کہنا پڑا”خدا کائنات کے ساتھ پانسے کا کھیل نہیں کھیلتا“۔ اور اس نے کوانٹم میکانیات کی مخالفت کی۔ آئن سٹائن کے بلند مقام کے باوجود اس کے معاصرین نے ان سے اختلاف کیا۔ کوانٹم فزکس نے ہمیں یہ تسلیم کرنے پر مجبور کر دیا کہ حقیقت کے بارے میں ہمارا موجودہ تصور بہت سادہ ہے۔ مشاہدے کے عمل نے بعض امکانات کو حقیقت بننے پر مجبور کر دیا اور دیگر امکانات کو حقیقت کے زمرے سے خارج کر دیا۔ اگر یہ صحیح ہے تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ مشاہدہ کس کے ذریعے اور کس کا؟ نوبل انعام یافتہ ماہرِ طبیعات یوجین پی وگنر کے مطابق یہ سوال ناگذیر طور پر انسانی شعور کو کائنات کی موجودہ حالت کا تعین کرنے والے عامل کی حیثیت سے سامنے لاتا ہے۔ گو طبیعات کی یہ تفیسر منتازعہ ہے تا ہم اس سے وجود اور حقیقت کے مسائل پر موجودہ سوچ کا اندازہ ہوتا ہے۔ پُرکشش اور دلچسپ کوانٹم فزکس کائنات کے ُاس رُخ کی طرف کھڑکی کھولتی ہے جو ہماری عام قوت ِمشاہدہ کی پہنچ سے باہر ہے۔”کوپن ہاگن“ تشریح کا دعویٰ ہے کہ کوانٹم میکانیات ان تمام صورتوں سے پنٹ سکتی ہے جو چند حقیقی یا ضربی تجربات کے تصورات سے متعلق ہوں۔ 
کوانٹم فزکس اور کوانٹم میکانیات کے قدری تصورات کی روشنی میں ہی ڈاکٹر اعجاز الرحمن درانی نے زندگی کے مادی اور غیر مادی مسائل کا تجزیہ کیا ہے مصنف کی ”سائنٹفک تحریروں میں اضافیت، کشش ِثقل سے الیکٹرو میگنٹ ازم، کلاسیکل فزکس، تخلیق ِکائنات، ریاضیاتی فزکس، سائنسی انقلاب جیسے نیچرل سائنس کے موضوعات ہیں تو ساتھ ہی ساتھ عصر حاضر کے نمایاں سیاسی، سماجی و معاشی مسائل کا تحقیقی مطالعہ بھی کیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ معاشیات کی مختصر تاریخ، سٹاک مارکیٹ میں تشویش و ندامت، دہشت گردی کی سائنسی وضاحت، نیوکلیئر ٹیررازم کے اثرات، دہشت گردی کے خاتمے کے لیے فزکس کا نسخہ، نئی جمہوریت کے لیے اتفاقِ رائے بذریعہ کوانٹم پارلیمنٹ، مونا لیزا کی ناقابل بیان مسکراہٹ اور کوانٹم مکینکس جیسے عنوانات بھی شامل ہیں۔ جدید عمرانی مسائل کا طبیعاتی تجزیہ کر کے مصنف نے سماجی طبیعات کے فروغ میں اپنا حصہ ڈالا ہے اور ثابت کیا ہے کہ سائنس انسان کی جملہ ضروریات سے تعلق رکھتی ہے۔ آج طبیعاتی علوم کا دائرہ عمل اتنا پھیل گیا ہے کہ طبیعات کے مخصوص مظاہر اور تحقیق کے نتیجے اور نظر یے معیشت، معاشرت، سیاست بلکہ آرٹ پر بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔ سائنس کے سچے طالبعلم کا مطالعہ واضح کرتا ہے کہ اس کا علم محض کتابوں تک محدود نہیں ہوتا بلکہ وہ خود مشاہدے اور تجربے کی بناء پر انسان زندگی کے لیے سازگار معاونات و ممدات کو کرۂ ِ ارض پر کار فرما دیکھتا ہے۔ 
ڈاکٹر اعجاز الرحمن درانی کے مقالات وسعت مطالعہ، تنقیدی رویے، سائنسی تجزیے اور سائنٹفک فکر کے عکاس ہیں۔ میں انھیں انکی اس کتاب پر مبارکباد دیتا ہوں اور توقع کرتا ہوں کہ انکی تحریری سائنس کے طالبعلموں کے لیے بالعموم اور طبیعات میں دلچسپی رکھنے والوں کے لیے بالخصوص مشعلِ راہ ثابت ہونگی اور وہ خود ”سماجی طبیعات“ کے جدید تصورات کی روشنی میں مادی و غیر مادی، سائنسی و سماجی مسائل کے حل کے لیے تحقیق، تدریس اور تحریر کا یہ سلسلہ جاری رکھیں گے۔