جمعرات، 13 نومبر، 2014

ترقی کا سفر یا تنزلی کا……؟


بڑھتی ہوئی مادی خواہشات کی تسکین کے لیے کشمکش زندگی نے یہ حقیقت ہماری نظروں سے اوجھل کر دی ہے کہ حیات انسانی کا سرچشمہ مادی کے علاوہ روحانی بھی ہے۔ ہمیں کامیابی چونکہ سائنس نے عطا کی ہے اس لیے آج ہم سائنس کی پرستش اسی طرح کرنے لگے ہیں جس طرح ہمارے بزرگ جادو، ٹونے کی پوجا کیا کرتے تھے۔ یہ روش دراصل اس زندگی سے فرار کی راہ ہے جس میں انسانی خودی اپنے استحکام کے لیے ضبط نفس کی متقاضی تھی اور ضبط نفس یقیناً ایک مشقت طلب مرحلہ ہے۔ ہوا یہ ہے کہ جس قدر ہماری مادی ترقی بڑھتی گئی ہے خودی کی محبوبیت کم ہوتی چلی گئی۔ یہ ہے ہمارے عہد کی حقیقی ناکامی کی اصل وجہ۔ خوشحالی اس قدر فروزاں ہے کہ عیش و عشرت کے ساماں وافر موجود ہیں لیکن انسان ہے کہ بے حد مضطرب، غیر مطمئن اور بے قرار ہے۔ آج حضرت انسان کی بے چینی دیکھ کر یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ تخلیق کی قوت محرکہ کبھی مستقل طور پر ایسے نظریہ کو سینے سے نہیں لگائے رکھ سکتی جو انسانی ذات کو محض مادہ کی نمو قرار دے۔ ایسے نظریے اور تصورات کے حامل افراد اور قومیں صرف خسارے کا شکار رہتی ہیں۔ میں سوشل ویلفیئر آرگنائزیشن کڑیانوالہ کے تھنکر فورم پر عاطف رزاق بٹ کے سوال کا جواب دینے کی کوشش کر رہا تھا کہ کیا آج ہم ترقی کے سفر پر ہیں یا تنزلی کے؟ میں بول رہا تھا کہ ڈاکٹر شمشاد احمد شاہین نے کہا آج انسان ترقی کرتے ہوئے آسمانوں کو تسخیر کر رہا ہے ترقی اور کیا ہو سکتی ہے؟۔ میں نے عرض کیا انسان اگر بادلوں سے اونچی اڑان بھرنے لگ جائے تو اس کے معنی یہ نہیں ہوتے کہ انسانیت کی سطح بھی اتنی ہی بلند ہو گئی ہے۔ انسانی معاملات اس سے بھی کہیں گہرے ہوتے ہیں۔ قوت، تہذیب، کلچر بے معنی چیزیں ہیں اگر ان کے ساتھ اخلاقی برائیاں شامل ہوں۔ انسانی دنیا کی قدرت کو ماپنے کا درست پیمانہ اخلاقی پیمانہ ہی ہے۔ وہ نظام تہذیب جس میں حق و صداقت کو عادتاً نظر انداز کر دیا جائے بالآخر تباہ ہو کر ہی دم لیتا ہے۔ نا انصافی سے کوئی فرد کیسی ہی کامیابی حاصل کر لے مگر وہ اجتماعی نظام جس کا وہ حصہ ہے اور وہ سماج جو اس ناانصافی کے ثمرات سے نفع اندوز ہو، اس نا انصافی کی وجہ انجام کار برباد ہو جاتا ہے۔کہتے ہیں کہ قانون فطرت کے اٹل قانون کے مطابق گناہ کی اُجرت موت ہے۔  
عصر حاضر کی تیز رفتار مادی ترقی کی دوڑ میں انسانیت سسکنے لگی ہے، اس کا نصب العین اس کے سوا کچھ نہیں کہ انسانی فطرت کے محض مادی گوشے کے تقاضوں کی تسکین کا سامان فراہم کیا جائے۔ یہ نصب العین خود ایک فریب ہے اس لیے کہ یہ جس قدر انسانی ضروریات پوری کر سکتا ہے اس سے زیادہ مصنوعی ضروریات کو پیدا کردیتا ہے۔ اس زمانے کے انسان نے نہ صرف اپنی ذہنی کاوشوں کو مشینوں کی ایجاد اور ساخت کے لیے وقف کر رکھا ہے بلکہ وہ خود رفتہ رفتہ مشین بن کر رہ گیا ہے۔یہ نئی نئی ایجادات جن کا شمار دن بدن بڑھتا جا رہا ہے بڑی خطرناک ہیں، کیونکہ یہ ان قوتوں کو بروئے کار لا رہی ہیں جس کی حقیقت کا علم ان انسانوں کو نہیں جو انہیں استعمال کرتے ہیں۔ فرانسیسی مفکر Rone Guenon نے بڑے پتے کی بات کہی تھی کہ ”جو لوگ مادہ کی وحشی قوتوں کو بے لگام چھوڑ دیتے ہیں وہ خود ان ہی قوتوں کے ہاتھوں تباہ ہو جاتے ہیں۔ دور حاضرہ میں مادی قوانین کو کھلا چھوڑ دیا گیا ہے جس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ مادہ اس انسان کو برباد کر دے گا جو خود مادہ سے بلند ہوئے بغیر مادہ کی تسخیر چاہتا ہے۔ اس لیے کچھ بعید نہیں کہ موجودہ دنیا خود ان ہی ایجادات کے ہاتھوں تباہ ہو جائے“۔ ہم آج جس بے چینی و اضطراب، خلفشار و پریشانی، بے سکونی اور فقدانِ مسرت کے جہنم میں گرفتار ہیں اس کا احاطہ کرتے ہوئے علامہ اقبال نے اپنے خطبات میں لکھا تھا کہ”یہ انسان اپنے فکر کی دنیا میں خود اپنی ذات کے خلاف ستیزہ کار رہتا ہے اور سیاسی دنیا میں دوسروں کے خلاف نبرد آزما۔ وہ نہ اپنی کف بردہاں سرکشی کو ضبط میں لا سکتا ہے اور نہ ہی ہوس زر پرستی کے استفسار کی تسکین کا سامان فراہم کر سکتا ہے۔ یہی وہ چیزیں ہیں جو اس کے تمام بلند مقاصد کو ایک ایک کر کے ہلاک کر رہی ہیں اور ایسی کیفیت پیدا کر رہی ہیں کہ وہ زندگی کے ہاتھوں بیزار ہے۔ وہ نگاہ فریب مناظر میں جذب ہو کر اپنی ذات کی گہرائیوں سے یکسر منقطع ہو چکا ہے۔ اس کی منظم مادہ پرستی کے میدان میں اس کی توانائی پر فالج گر چکا ہے، جسے ہکسلے کی نگاہ نے بھانپا اور اس پر اظہار تاسف کیا تھا“۔  
بلا شبہ اگر آج دنیا کی روحانی و اخلاقی حالت کا کھرا تجزیہ کیا جائے تو ہمیں ہکسلے کے اس نتیجہ سے اتفاق کرنا پڑتا ہے کہ ترقی کے مسلمہ معیار کے مطابق اس دور کی ترقی، ترقی نہیں تنزلی ہے۔ ہمارے عہد میں جس چیز کی کمی ہے وہ انسانی خودی ہے جس کی نمو مادہ اور روح دونوں میں ہونی چاہیے۔ انسان مادی کامرانیوں کے سیلاب میں ڈوب گیا ہے، پریشان اور الجھاؤ کا شکار ہے کہ اس کی ذات مادہ سے بلند نہیں ہو سکی بلکہ مادہ کے اندر ڈوبی ہوئی ہے۔ انسان کا اضطراب اس لیے ہے کہ اس کا تحت الشعور یہ چاہتا ہے کہ وہ ثابت کر دے کہ وہ مادہ سے جن چیزوں کی تخلیق کرتا ہے، خود ان سے کچھ بیش بہا ہے۔ وہ مادی کاریگری کو بحال رکھنا چاہتا ہے اس لیے کہ یہ اس کی قوت تخلیق کی مدد کے لیے ضروری ہے لیکن اس کے ساتھ وہ یہ بھی چاہتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو مادیت سے بلند لے جائے اور اس کی ذات کا اندازہ اس کی مادی تخلیق سے نہ لگایا جائے بلکہ اس سے کہ وہ خود کیا ہے؟ مادی اور سائنسی ترقی ہمیں یہ تو سکھا رہی ہے کہ ذرائع پر قدرت کیسے حاصل کی جائے لیکن مقاصد کے متعلق کچھ نہیں بتا رہی۔ یہ بتانے کے لیے شاید سائنس کو ابھی ایک نشاۃ ثانیہ کی ضرورت ہے لہذا اس کا مقصد اس کے سوا اور کچھ نہیں رہتا کہ انسان اپنے ذاتی مقاصد کے حصول اور خواہشات کی تسکین کے پیچھے لگا رہے۔ آج ہماری تباہی کی وجہ بڑے بڑے مجرم نہیں ہیں جن سے ہم لرزاں ہیں اور نہ ہی ہمارا افلاس جس سے ہم نادم ہیں۔ اس تباہی کا حقیقی سبب وہ معاشرتی نظام ہے جو منافقت اور فریب کی بنیادوں پر قائم ہے اور طرفہ تماشہ یہ قانون کہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس……
ہم ترقی کی راہ پر ہیں یا تنزلی کی ……؟ یہ سوال دلچسپ ہے۔سادہ الفاظ میں لفظ ترقی بذات خود اس حقیقت کا آئینہ دار ہے کہ اس کے لیے ایک سمت کا ہونا ضروری ہے۔ اگر ہم سمت کے حوالے سے تشکیک کا شکار ہوں تو ساری ترقی بے معنی ہے۔ واضح سمت اس وقت تک ممکن نہیں ہو سکتی جب تک منزل کا علم نہ ہو۔ جب ہم یہ کہیں کہ ہمارا زمانہ ترقی کا زمانہ ہے تو یہ گفتگو یکسر بے معنی ہوتی ہے۔ جب تک پہلے یہ تعین نہ کر لیا جائے کہ وہ نصب العین کیا ہے جس کی طرف ہمارا زمانہ ترقی کرتا ہوا بڑھ رہا ہے اور نصب العین کا متعین کرنا مادہ یا سائنس کے بس کی بات نہیں۔ اس لیے سائنٹفک ایجادات کا نام ترقی رکھا ہی نہیں جا سکتا۔ اسی بنا پر سی ایم جوڈ نے عصر حاضر کے انحطاط کی وجہ صرف ایک بتائی تھی کہ ”ترک مقصد“۔ یقین کی بنیاد پر نصب العین کا تعین او رمنزل کے حصول کی خاص سمت میں جدو جہد ہی ترقی کہلاتی ہے۔ آج اگر ایسا ہی ہے تو پھر تو ہم ترقی کی راہ پر گامزن ہیں، بصورت دیگر بے سکونی ہمارا مقدر بنا رہے گا۔ میں ترقی اور تنزلی کے حوالے سے کوئی نتیجہ اخذ کرنے کی بجائے اپنی بات کو علامہ اقبال کی کتاب ’پیام مشرق‘ کے دیباچہ کے اقتباس پر ختم کرنا چاہتا ہوں کہ، ”لیکن حقیقت یہ ہے کہ اقوام عالم کا باطنی اضطراب جس کی اہمیت کا صحیح اندازہ ہم محض اس لیے نہیں لگا سکتے کہ خود اضطراب سے متاثر ہیں۔ ایک بہت بڑے روحانی اور تمدنی انقلاب کا پیش خیمہ ہے۔ یورپ کی جنگ عظیم ایک قیامت تھی جس نے پرانی دنیا کے نظام کو قریباً ہر پہلو سے فنا کر دیا ہے اور اب تہذیب و تمدن کی خاکستر سے فطرتاً، زندگی کی گہرائیوں میں ایک نیا آدم اور اس کے رہنے کے لیے ایک نئی دنیا تعمیر کر رہی ہے۔ جس کا ایک دھندلا سا خاکہ حکیم آئن سٹائن اور برگساں کی تصانیف میں ملتا ہے“۔ اس عہد بے یقین میں میرے جیساکم علم یہ فیصلہ نہیں کر سکتا کہ انسان ترقی کے سفر میں ہے یا تنزلی کے……؟۔ تاہم اس بارے یں سب کو سوچنے کی دعوت ضرورت دے سکتا ہے کہ ہم یہ جاننے کی سعی ضرور کریں کہ حاصلات کے پہاڑ تلے دب جانے کو ترقی کہا جاتا ہے یا تنزلی؟ سوچیے ضرور……؟