سوموار، 3 نومبر، 2014

کیاہم تیزی سے ترقی کی جانب گامزن ہیں ……؟


27 اکتوبر 2014 کو وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے بین الاقوامی سرمایہ کاری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ”ملک تیزی سے ترقی کی جانب گامزن ہے“۔ میرے لیے یہ بات چونکا دینے والی ہے، کیونکہ ترقی سے مراد کسی بھی معاشرے میں بسنے والوں کے معیار زندگی میں ہونے والی بہتری ہے جس سے براہ راست ہر فرد کی کیفیت حیات اور راحت الوجود کے درجات میں اضافہ ہوتا ہے۔ ترقی کسی نعرے کی گونج نہیں اور نہ ہی اعداد و شمار کا مطلق گورکھ دھندا۔ اسی لیے پاکستان میں ترقی کے حوالے سے سرکاری تشہیر کے نتائج الٹے ہی نکلتے ہیں۔ حکومتی مالیاتی جادوگروں کے تیار کردہ اعداد و شمار اور اشاریے اپنی جگہ مگرحقیقت یہ ہے کہ پاکستانیوں کی معاشی و سماجی صورتحال بد سے بد تر ہوتی جا رہی ہے۔حیرت ہے کہ بے روزگاری، غربت اور جہالت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور ملک ترقی کی جانب بھی گامزن ہے۔ یہ ایک کھلا تضاد ہے۔ ترقی سادہ ترین مفہوم میں معاشی کتب کے اشاریوں میں اضافے کا نام نہیں بلکہ شہریوں کی حالت زار میں بہتری کو کہا جاتا ہے۔ صحت و تعلیم کی سرکاری سہولتوں کا فقدان بڑھتا جا رہا ہے، مہنگائی کا جن بے قابو ہے، تحفظ کا سوال بے معنی ہو کر رہ گیا ہے، اس تناظر میں کیسے تسلیم کیا جائے کہ ملک ترقی کی جانب گامزن ہے،ترقی حقیقی معنوں میں صرف اور صرف پائیدار ترقی ہوتی ہے یا پھر تنزل۔ 
ترقی زور دار نعرہ نہیں او رنہ ہی یہ اقتصادیات و مالیات کی جذباتی تشریح اور فہم ہے۔ یہ انسان کی داخلی اور روحانی ثروت مندی یا درویشانہ قناعت کا نام بھی نہیں بلکہ اس کے لیے ہر فرد کو تین وقت کی روٹی، ایک چھت، دوا کی خوراک، کتاب و قلم اور تن ڈھانپنے کے لیے کپڑوں کو ممکن بنانا ضروری ہے۔ آج کے دور میں ترقی کے معنی یہ بھی ہیں کہ انسان کو صاف ماحول میں سانس لینے کے حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ لوگوں کو دہشت گردی اور لاقانونیت سے تحفظ فراہم کر کے پر امن اور استحصال سے پاک معاشرے کی ضمانت کا نام ترقی ہے۔ وطن عزیز میں گذشتہ 67 سالوں سے ترقی اور تبدیلی کے تمام فیصلے اوپر سے نیچے کی جانب جبری مسلط ہوتے رہے ہیں۔ سرکاری ماہرین مالیات و معاشیات اپنی پیشہ وارانہ مہارت سے ایسی تصویر دکھاتے ہیں کہ حقیقی اور پائیدار ترقی کا تصور اعداد و شمار کی گرمی سے تحلیل ہو جاتا ہے پھر اشرافیہ بڑی چابکدستی سے میڈیا کے ذریعے یہ بھی باور کرواتی ہے کہ حکمران عوامی ترقی اور فلاح و بہبودکے لیے ہی سب کچھ کر رہے ہیں۔ حکومت اشتہارات کے ذریعے جس ترقی کی وسیع پیمانے پر تشہیر کرتی ہے اس کی حقیقی تصویر بہت بھیانک ہے۔ نندی پور پاور پلانٹ کا دکھ ابھی پرانا نہیں ہوا۔ الفاظ کے ہیر پھیر اور اعداد و شمار کی معاونت سے معاشی و سماجی تبدیلیوں کے دعوے دراصل بڑے پیمانے پر ہونے والی فریب کاری ہے جس کا پردہ اب چاک ہو چکا۔ اسی فریب کاری کی وجہ سے ہمارے ہاں ترقیاتی پروگراموں اور ترقی کے نتائج مثبت کی بجائے منفی نکلتے ہیں۔ حکمرانوں کے معاشی ترقی کے دعوے سچے ہیں تو پھر ملک میں روزگار کے نئے وسائل کیوں پیدا نہیں ہو رہے……؟۔ المیہ تو یہ ہے کہ معاشی ابتری اور سماجی بہتری کے ابہام نے ہمارے تہذیبی و ثقافتی تشخص کو بھی مجروح کر کے رکھ دیا ہے۔ ہماری ترقی کے کھوکھلے دعووں نے جمہوری اور شخصی آزادیوں کی ضمانت فراہم کرنے کی بجائے انہیں بے دردی سے پامال کیا ہے۔ یہ مصنوعی ترقی کے نعرے اپنی روح میں عوام دشمن ثابت ہو رہے ہیں۔ وطن عزیز میں ترقی کے تمام حاصلات امیر طبقے کی تجوریوں میں بند ہو کر رہ جاتے ہیں اور بیچارے محروم اور معصوم عوام منہ تکتے رہ جاتے ہیں۔
اب وقت آگیا کہ ترقی کے پرانے تصورات کو خیر باد کہہ کر تبدیلی کو قریب لانے کی سنجیدہ کوشش کی جائے۔ پائیدار ترقی معاشی اور معاشرتی عمل میں نچلی سطح پر عوام کی شرکت کے بغیر ممکن نہیں، سماجی انصاف کا حصول اور غربت کا خاتمہ اس کے لازمی جزو ہیں۔ پاکستان کے معروضی حقائق اور عصری مسائل تقاضا کر رہے ہیں کہ یہاں فرد سب سے نچلی سطح سے سب سے اوپر والی سطح تک اپنے بارے میں ہونے والے فیصلوں میں خود شریک ہو اور یہ سب تقاضے اور ساری ضرورتیں آپس میں جڑی ہوئی او رمربوط ہوں۔اس وقت ہمیں ایک ایسی حقیقی تبدیلی درکار ہے جو انسانوں کو کامیابی سے ہمکنار کرے، جو پر امن ہو اور عام غریب آدمی کے مفاد کو پیش نظر رکھ کر عمل میں لائی جائے، اس عمل میں عام آدمی کو شریک بھی کیا جائے۔ پاکستان اور پاکستانیوں کے روشن مستقبل کے لیے معاشی، تجارتی اور سماجی پالیسیوں کی تفہیمِ نو کی ضرورت ہے۔ سیاسی و اقتصادی دانش کو بروئے کار لا کر تجزیہ کیا جائے تو واضح ہو گا کہ ہمارے سماج میں مسئلہ روٹی، کپڑا اور مکان کا ہو یا صاف پانی،صاف ہوا، فضا کا، علم کے حصول کا حق ہو یا زرعی اصلاحات کا، ایسے تمام تلخ مسائل اور سوالات کا منبع و مآخذ مقتدر اشرافیہ کے ہاتھوں یرغمال بنی گلیاں ہیں جو عوام کو عوامی معاملات میں شریک ہونے کے حق سے محروم رکھتی ہیں۔  
محب وطن ماہرین معاشیات بجا طور پر کہتے ہیں کہ جب تک سرمائے پر انحصار رکھنے والے معاشی ماڈل کی جگہ عوام کی شرکت اور مرکزیت پر مبنی معاشی ماڈل نہیں اپنایا جائے گا، پاکستانیوں کا مستقبل بدستور خطرے میں پڑا رہے گا۔ ہماری بڑھتی ہوئی غربت کی حقیقی وجہ معاشی منصوبہ بندی کا عشروں پرانا وہ انداز او رنمونہ ہے جسے مقتدر طبقے نے مستقل طور پر اپنا رکھا ہے۔ اقتصادیات کے ماہرین سمجھتے ہیں اور سمجھاتے بھی ہیں کہ مسئلہ یہ نہیں ہے کہ ملک کی پیداواری قوت میں کمی آئی ہے بلکہ ہمارے پیداواری ڈھانچے کی نوعیت ہی ایسی ہے کہ اس سے غربت کا خاتمہ ممکن نہیں۔ یہ بڑی تلخ حقیقت ہے کہ مروجہ پیداواری نظام کے تحت پیداوار بڑھانے کی جس قدر کوشش کی جائے گی، غربت میں اسی قدر اضافہ ہو گا۔ کئی دانشور تجویز کرتے ہیں کہ پرانے پیداواری ڈھانچے کو تبدیل کر کے نئے تصور کو رائج کیا جائے تاکہ زمین، سرمایہ اور مزدور منڈیوں سے تلاش کرنے کی بجائے خود لوگوں میں سے حاصل کیے جائیں تاکہ حکومت اور لوگوں کا رشتہ سرپرست اور زیردست کا نہ ہو بلکہ ایسے خود مختار عوامی ادارے وجود میں آئیں جو فعال سرگرمیوں کا مظاہرہ کر سکیں۔ لیکن اسے بدقسمتی کے سوا کیا کہیے کہ ناعاقبت اندیش حکمرانوں کی ”انتظامی جمہوریت“ کے تصور سے نوکر شاہی کا شکنجہ اور مضبوط ہو رہا ہے اور بیوروکریسی فیصلوں کو اوپر سے نیچے جبراً منتقل کررہی ہے۔ ہماری انتظامی اشرافیہ کا ذہن بھی تاحال نوآبادیاتی زمانے کی یادگار ہے یعنی بیوروکریسی عوام کی خدمت کی بجائے ان پر حکمرانی کے تصور میں ہی زندہ ہے۔ انتظامی طاقت اور مالی و سائل کے حامل سرمایہ دار طبقے نے اختیار و اقتدار پر قبضہ جما کر ہم جیسے زیر دستوں کو غیر انسانی انداز میں غربت کے جہنم میں دھکیل دیا ہے۔  
ہمارے حکمران ہمیں بنیادی سہولتیں فراہم کرنے میں بھی ناکام رہے ہیں۔ اس صورتحال میں میرے دوست اور سیاسیات کے استاد پروفیسر میاں انعام الرحمن درست طور پر کہتے ہیں کہ ہمیں سماج کو اپنی مدد آپ کے اصول کے تحت زندہ اور متحرک رکھنا ہے بلا شبہ ملک کی ناگفتہ بہ صورتحال تقاضا کر رہی ہے کہ یہاں کم از کم حقیقی سول سوسائٹی کا قیام ممکن بنا یا جائے۔ سول سوسائٹی کا خواب ایک جدید تعلیم یافتہ، سماجی انصاف پر مبنی انسان دوست اور عوام دوست معاشرے کا خواب ہے۔ اس کے لیے ہر شہری کو اپنے حصے کا کردار ادا کرنا چاہیے۔ سول سوسائٹی کے قیام کا خواب عوم کی شرکت پر مبنی منصوبہ بندی کے بغیر شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ سماجی بہبود کے موجودہ ناقص نظام پر مزید انحصار نہیں کیا جاسکتا۔ اس کے لیے ایک مضبوط، اجتماعی دانش کا نمائندہ مقامی حکومتوں کا نظام متعارف کروانا عصری مطالبہ بھی ہے اور حکمرانوں کا فرض بھی۔ مقامی حکومتوں کے نظام کے ذریعے ہی حقیقی تبدیلی اور پائیدار ترقی کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ موجود نظام میں احتساب کے فقدان اور مالی بد عنوانیوں کے سوالات نے اس پر سے لوگوں کا اعتماد ختم کر دیا ہے وہ متبادل تلاش کرنے لگے ہیں۔ اس لیے میری حکمرانوں سے گذارش ہے کہ غربت و پسماندگی ختم کرنے اور ملک و قوم کو سچے معنوں میں ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے حکومت آگے آئے اور خود کو شفاف احتسابی عمل کے لیے پیش کر کے عوامی اعتماد بحال کرے۔ بصورت دیگر غربت کے خاتمے اور پائیدار ترقی کا سپنا چکنا چور ہو جائے گا۔