جمعرات، 6 نومبر، 2014

نظام عدل و مساوات ہے نظام حسین


مجھ سے کہتی ہیں ستاروں کی ضیائیں ساغر
ایک بار اور زمانے میں حسین آئے گا 
پھر کہیں وقت کے زنداں کا فسوں ٹوٹے گا 
تب کہیں گردش ایام کو چین آئے گا 

محرم الحرام کا آغاز ہوتے ہی ملت اسلامیہ کا غم تازہ ہو جاتا ہے۔ہر وہ شخص جسے نبی رحمتؐ سے محبت اور اہل بیت سے تعلق ہے، ممکن نہیں کہ کربلا کی صبح قیامت اور عاشورہ کی بھیانک رات کی یاد اسے نہ تڑپائے۔ کوئی دل ایسا نہیں جو نواسہ رسولؐ کی شہادت عظیم پر نہ دُکھے، کوئی آنکھ اس پر آنسو بہائے بغیر نہیں رہ سکتی، کوئی باشعور اظہار غم کے بغیر نہیں رہ سکتا۔ ماہ محرم ہر سال کربلا کے غموں کی یاد ساتھ لے کر آتا ہے اس لیے گریہ و زاری، نالہ و ماتم فطری سچائی ہے۔ بلا شبہ امام عالی مقام اور ان کی عظیم قربانی کی یاد میں مجالس اور محافل کا اہتمام کرنا کار خیر ہے کیونکہ ان محفلوں کے ذریعے شہدائے کربلا کے فلسفہئ حیات و شہادت کی یاد دہانی کرانا مقصود ہے اور ان کے نقش قدم پر چلنے کی امنگ کو پیدا کرنا ہے۔  
تیرے لہو کی ہر اک بوند کہہ رہی ہے 
کہ تیرا خون کبھی رائیگاں نہ جائے گا 
جلائیں عزم و یقیں کی جو مشعلیں تو نے 
انہیں یزید کوئی بھی بجھا نہ پائے گا
حضرت امام حسینؓ کی اپنی زندگی عزم و استقلال، صبر و ثبات اور خیر وبرکت کا ایسا نمونہ تھی کہ وہ زندگی کے جس جس راستے سے گذرے اپنے پیچھے آنے والوں کے لیے روشنی کی کہکشاں چھوڑ گئے،پھر ان کی شہادت تو خود اسلام کی حیات ثانیہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ حضرت امام حسین ؓ نے جس مقصد کے لیے اور جس آن کے ساتھ اپنی جان جانِ آفریں کے سپرد کی اس کی مثال تاریخ عالم میں نہیں ملتی۔ اسی لیے شہدائے کربلا کا تذکرہ ہمیشہ خون میں ڈوبے ہوئے الفاظ اور نمناک آنکھوں سے کیا جاتا ہے۔ لیکن اس مقام پر ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ نالہ و ماتم اور آہ و بکا کس لیے ……؟ کیا امام عالی مقام نے ساتھیوں سمیت جانِ عزیز کی قربانی دے کر یہی سبق دیا تھا کہ ہم ہر سال چند روز سوگ منا کر، اہلِ بیت رسولؐ کے ساتھ عقیدت و محبت کا اظہار کریں یا پھر کربلا متقاضی ہے کہ مسلمانان عالم شہدائے کربلا کے نقش قدم پر چل کر حق کے لیے سینہ سپر رہیں اور باطل کو قدم نہ جمانے دیں۔ جیسا کہ پہلے عرض کیا کہ واقعہ کربلا پر اظہارِ غم فطری ہے لیکن یہ اظہار عقیدت محض ذاتی اور شخصی نوعیت کا ہے تو اس کی زیادہ اہمیت نہیں بلکہ کربلا کی تاریخ حق کی علمبرداری کے دعوے داروں سے کچھ اور تقاضا کر رہی ہے۔ سیدنا امام حسین ؓ  عظیم انسانی اقدار اور دینی قوت کے تحفظ کے لیے میدان کربلا میں جلوہ افروز ہوئے اور اپنی، اپنی اولاد اور ساتھیوں کی جانیں قربان کر کے حق کی اس جدوجہد کو جاوداں بنا گئے۔ سمجھنے کی بات یہ ہے کہ حضرت امام حسین کی شہادت کوئی شخصی واقعہ نہیں بلکہ شہادت حسینؓ اسلام کی اصل حقیقت ہے۔  
غریب و سادہ و رنگیں ہے داستانِ حرم 
نہایت اس کی حسینؓ، ابتدا ہے اسماعیل
واقعہ کربلا کی یاد تازہ کرنے کے ساتھ ساتھ، میرے خیال میں حضرت امام حسین ؓ کو سمجھنے کی زیادہ ضرورت ہے، وہ کیا تھے؟ کیوں لڑے اور کیوں شہید ہوئے؟ میرا خیال ہے کہ حسین شعور و آگہی کا نقش جادواں ہے، حسین ؓ حقیقتوں کا ایسا سیل بے کراں ہے جو مصلحتوں کے سارے خار و خس بہا کے لیے گیا، حسین ؓ اصولوں کا نام ہے، انصاف کا نام ہے، ظالم کے خلاف جہاد او رمظلوم کی قربانی کا نام ہے۔ اسوہئ حسین ؓ ہمیں سچائی اور نیکی کی منزل کا پتہ دیتا ہے اور دنیاوی مصلحتوں اور جاہ و حشم کی خاطر اصولوں سے روگردانی سے باز رکھتا ہے۔ محرم کا مہینہ ہمیں خود احتسابی کی دعوت دینے آتا ہے کہ کیا ہم نے شہادت امام عالی مقام سے استفادہ کیا ہے، کیا ہم نے حق و صداقت اور عدل و انصاف کو اپنی روز مرہ زندگی کا حصہ بنایا ہے، قومی اور اجتماعی زندگی میں ہم کہاں تک ضمیر کی آواز پر لبیک کہتے ہیں؟ اگر ہم اسوہئ حسینی پر عمل پیرا ہوتے تو کیا سماجی انصاف سے محروم ہوتے، سیاسی طور پر یتیم، معاشی طو ر پر محروم اور اخلاقی طور پر دیوالیہ ہوتے؟ اگر ہماری تاریخ میں کربلا کا واقعہ حقیقی معنوں میں ’زندہ‘ ہوتا تو کیا آج ہمارے ہاں، جبر و ستم کا رواج ہوتا،یا قبضہ مافیا کا راج ہوتا، مظلوم انصاف سے محروم اور ظالم مقتدر ہوتے؟ اگر حضرت امام حسین ؓکی سچ کے لیے شہادت کا پیغام ہم میں رائج ہوتا تو کیاہماری حیات مصلحتوں سے آلودہ ہوتی۔ امام عالی مقام کی شہادت کا چراغ صراط مستقیم کی مانند ہمارے لیے روشن ہے مگر ہم تو راہ بھٹکے ہوئے لوگ ہیں۔ہم نے دین اور روح دین کو بھی رسوم اور روایات کی بھینٹ چڑھا دیا ہے۔ شخصیت پرستی کا رواج عام ہو جائے تو درس کربلا کسے یاد رہ سکتا ہے۔ سید الشہداء نے کوفہ جاتے ہوئے راستے میں ”بیضہ“ کے مقام پر جو خطبہ دیا اس میں یہ بھی فرمایا کہ ”……میں حق بجانب ہوں کہ مجھے غیرت آئے۔ اور میں ان کی سرکشی اور بغاوت کو حق و عدل سے بدلنے کی کوشش کروں۔ وقت آگیا ہے کہ مومن حق کی راہ میں جان قربان کرنے کے لیے تیار ہو جائے۔ میں شہادت کی موت چاہتا ہوں، ظالموں کے ساتھ زندہ رہنا خود بہت بڑا جرم ہے۔ میری ذات تم لوگوں کے لیے نمونہ ہے“ اس خطبے کی گونج آج بھی موجود ہے اور ہمیں غیرت دلا رہی ہے اور ان مراحل سے گذرنے کی دعوت بھی دے رہی ہے جن سے شہدائے کربلا گذرے۔ کربلا میں جب چراغ گل کر کے جانے کی اجازت دی گئی تو بنو عقیل، مسلم بن عوسجہ، سعد بن عبداللہ حنفی، زہیر بن قیس و دیگر اٹھے اور مشن حسینؓ کا ساتھ دینے کا برملا اور جرأتمندانہ اعلان کیا۔ آج بھی پیغام حسین گونج رہا ہے  مگر عقیدت و محبت کے شور میں کوئی اس پیغام کربلا پر کان دھرنے کی جرات نہیں کر رہا۔ آج وطن عزیز اور ملت اسلامیہ کی حالت زار کے تناظر میں محرم کے قیامت خیز شب و روز ہم سے انہی جذبات، عزائم اور فدا کاری و جاں نثاری کا تقاضا کر رہے ہیں۔ روح عصر مطالبہ کر رہی ہے کہ ہم حسینی مشن کی تکمیل کے لیے کربلا کے سبق کو یاد کریں، دہرائیں اور اس پر عمل پیرا ہوں ہمیں یہ یاد بھی رکھنا ہے اور اس پر تدبر بھی کرنا ہے کہ محض نالہ و فغاں اور اظہارِ غم فدا کاری اور جاں نثاری کا بدل نہیں ہو سکتے۔ محبت حسین ؓ شعور حسینی کو عام کرنے کا تقاضا کر رہی ہے۔ حضرت امام حسین ؓ سے عقیدت و محبت کا حق وہی لوگ ادا کرتے ہیں اور کر سکتے ہیں جو سرفروشی اور جاں نثاری کے جذبات سے سرشار ہو کر اللہ کی راہ میں سب کچھ قربان کرنے کو ہی اپنی سعادت سمجھتے ہیں۔  
گماں تک نہ دلائے جو رخ بدلنے کا 
حسین ؓ نام ہے اس آرزو میں ڈھلنے کا 
کربلا میں شہداء نے انسانیت، حریت، آزادی اور ضمیر کی قوت کو نئے معنی بخشے۔ جب تک انسانیت سسکتی رہے گی، مظلوم انصاف سے محروم رہیں گے، ضمیر آزاد نہیں ہوں گے، حقیقی معنوں میں حریت کا چراغ روشن نہیں ہو گا، تب تک کربلا کا مشن جاری رہے گا اور ہمیں مشن حسینی میں اپنا حصہ ڈالنے کی دعوت دیتا رہے گا۔ کربلا میں حق و باطل کے دو نظریوں کا ٹکراؤ ہوا تھا۔ کربلا عظمت انسانی اور ظلم کے درمیاں نمایاں لکیر کا نام ہے۔ کربلا کی داستاں ہمیں درس دے رہی ہے کہ اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد۔ آئیے اسوہ حسینی کو مشعل راہ بنا کر انسانیت کی جنگ میں وقت کے یزیدوں کے سامنے سینہ سپر ہو جائیں، عدل و انصاف ہی عظمت انسانی کی کلید ہے۔  
جیو خدا کے لیے اور مرو خدا کے لیے  
حسین والو سنو ہے یہی پیام حسینؓ 
یہی ہے دین محمدؐ، یہی صراط ہدیٰ

نظام عدل و مساوات ہے نظام حسینؓ