منگل، 3 مئی، 2016

قوانین کا اُردو ترجمہ:نفاذِ اُردو کی جانب اہم قدم


کوئی قوم اپنے نظام عدل اور معاشرتی انصاف کے تصور کو اس وقت تک بامعنی اور مفید نہیں بنا سکتی جب تک عام آدمی اپنے حقوق کے شعور اور اپنے فرائض کے فہم سے پوری طرح ہمکنار نہیں ہو جاتا۔ چونکہ پاکستانی قوانین کی زبان انگریزی رہی ہے اس لیے کم تعلیم یافتہ افراد کے لیے قانون کا فہم ہمیشہ ہی ناممکن رہا ہے۔ سابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس جواد ایس خواجہ نے اُردو کے بطور قومی زبان نفاذ کے حوالے سے اپنے فیصلے میں اس کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ”عدالتی کاروائی کی سماعت میں اکثر یہ احساس شدت سے ہوتا ہے کہ کئی دہائیوں کی محنت شاقہ اور کئی بے نوا نسلوں کی کاوشوں کے باوجود آج بھی انگریزی ہمارے ہاں بہت ہی کم لوگوں کی زبان ہے اور اکثر فاضل وکلاء اور جج صاحبان بھی اس میں اتنی مہارت نہیں رکھتے جتنی کہ درکار ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ آئین اور قانون کے نسبتاً سادہ نکتے بھی پیچیدہ اور ناقابل فہم ہو جاتے ہیں۔ یہ فنی پیچیدگی تو اپنی جگہ مگر آئین کے آرٹیکل251کے عدم نفاذ کا ایک پہلو اس سے بھی کہیں زیادہ تشویشناک ہے۔ ہمارا آئین پاکستان کے عوام کی اس خواہش کا عکاس ہے کہ وہ خود پر لاگو ہونے والے تمام قانونی ضوابط اور اپنے آئینی حقوق کی بابت صادر کیے گئے فیصلوں کو براہِ راست سمجھنا چاہتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ حکمران جب ان سے مخاطب ہوں تو ایک پرائی زبان میں نہیں بلکہ قومی یا صوبائی زبان میں گفتگو کریں۔ یہ نہ صرف عزت نفس کا معاملہ ہے بلکہ ان کے بنیادی حقوق میں شامل ہے اور دستور کا تقاضا بھی ہے ایک غیر ملکی زبان میں لوگوں پر حکم صادر کرنا محض اتفاق نہیں، یہ سامراجیت کا ایک پرانا اور آزمودہ نسخہ ہے“۔ عدالت عظمیٰ پاکستان نے اپنے تاریخ ساز فیصلے کے ذریعے اُردو کے بطور قومی زبان نافذ العمل کرنے کے احکامات جاری کیے تو حکومتِ پنجاب نے خادم اعلیٰ میاں شہباز شریف کی قیادت میں بروقت قد م اُٹھاتے ہوئے، قانون تک عام آدمی کی رسائی کے لیے قوانین کے اُردو ترجمے کا فیصلہ کیا،چنانچہ حکومت پنجاب کی وزرات قانون و پارلیمانی اُمور نے فیصلہ کیا کہ قوانین کامعیاری، درست اور قابل فہم ترجمہ کروایا جائے۔ سیکرٹری قانون و پارلیمانی اُمور ڈاکٹرابو الحسن نجمی جیسے زیرک، مستعد اور محنتی شخص نے اس کام کو انجام دینے کے لیے گہری دلچسپی اور لگن کا اظہار کیا۔ ان کی ٹیم ایڈیشنل سیکرٹری فضل عباس رانا اور ڈپٹی سیکرٹری طارق علی نے تگ و دو اور کھری کاوشوں سے اس کا انتظام مکمل کیا اور پھر ایک ٹینڈر کے ذریعے اس کام کی تکمیل کے لیے میرٹ اور صرف میرٹ پر قرعہ فال یونیورسٹی آف گجرات کے نام نکلا۔ قوانین کے اُردو ترجمے کے لیے پہلے پندرہ ہزار صفحات پر کام کے آغازکے لیے جامعہ گجرات کے مرکز السنہ و علوم ترجمہ اور شعبہئ قانون کے درمیان قومی تقاضے کے حامل معاہدے پر دستخطوں کی پُروقار تقریب دانش گاہ گجرات کے قائد اعظم آڈیٹوریم میں منعقدہوئی۔ تقریب میں وائس چانسلر ڈاکٹر ضیاء القیوم، سیکرٹری قانون پنجاب ڈاکٹر سید ابوالحسن نجمی، ہائر ایجوکیشن کمیشن اسلام آباد کے ڈائریکٹر ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ ڈاکٹر محمد لطیف، اکادمی ادبیات پاکستان کے چیئرمین ڈاکٹر قاسم بھگیو، سنیئر صحافی سجاد میر، حبیب اکرم اور ڈاکٹر اسلم ڈوگر، کمشنر انکم ٹیکس لاہور خالد محمود خاں، مشینی ترجمہ کے ماہر ڈاکٹر سرمد حسین، نامور سفارت کار و مترجم توحید احمد، مرزا حامد بیگ، ڈاکٹر سعادت سعید،ڈائریکٹر لاء فیڈرل لاء منسٹری شیربابر خاں سمیت ادب، صحافت، سیاست اور قانون کے شعبے سے تعلق رکھنے والے ماہرین کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ سول سوسائٹی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات بھی شرکاء میں شامل تھیں۔ صدر مرکز السنہ و علوم ترجمہ جامعہ گجرات نے دھیمے مزاج سے پختہ عزم کا اظہار اور معاہدے کی تفصیلات جس طرح بیان کیں اس سے واضح تھا کہ ترجمے کا کام جذبے اور عشق کا کام ہے بلاشبہ محنت اور محبت کے امتزاج کی حامل ریاضت ہی ڈاکٹر غلام علی اور ان کے مترجمین کی ٹیم کا نمایاں وصف ہے۔ شیخ الجامعہ گجرات پروفیسر ڈاکٹر ضیاء القیوم نے برملا اعلان کیا کہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ اس عظیم قومی خدمت کی ادائیگی کے لیے قرعہئ فال جامعہ گجرات کے نام نکلا ہے۔ قوانین کے اُردو ترجمے کی ذمہ داری سونپے جانا حکومت پنجاب کی جانب سے اعتماد کا اظہار ہے۔ یہ جامعہ اپنی قومی، سماجی اور علمی ذمہ داریوں سے پوری طرح آشنا ہے۔ ڈاکٹر ضیاء القیوم نے مزید وضاحت کی کہ ہم جامعات کے سماجی کردار کے حوالے سے ایک واضح تصور رکھتے ہیں۔ جامعات ہی وہ ادارے ہیں جہاں قوموں کی تقدیر کے فیصلے ہوتے ہیں۔ ڈاکٹرمحمد لطیف نے زور دیا کہ قوانین کو ہمیشہ عوام ہی کی زبان میں مدون ہونا چاہیے۔چیئرمین اکادمی ادبیات اسلام آباد ڈاکٹر قاسم بھگیونے فراخدلی سے جامعہ گجرات کے مرکز السنہ و علوم ترجمہ کو ہر ممکن سہولیات فراہم کرنے کی حامی بھری۔دانشورصحافی سجاد میر نے کہا کہ اپنی زبان سے دوری دراصل حقائق پر پردہ ڈالنے کا نام ہے۔ ترجمہ عظمت و توقیر کا نام ہے۔ حبیب اکرم کا کہنا تھا کہ عدالتی فیصلوں اور قوانین کے قومی زبان میں معیاری تراجم وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ ڈاکٹر سرمد حسین نے وضاحت کی کہ ترجمہ مشکل اور تخلیقی کام ہے قوانین کے اُردو ترجمہ کے سلسلے میں تقریباً دس لاکھ الفاظ کا ترجمہ کیا جائے گا اس کے لیے مشینی ترجمہ کی مدد ضروری ہے۔ 
ڈاکٹر سید ابو الحسن نجمی سیکرٹری لاء پنجاب نے اس موقع پر کہا کہ قوانین کے اطلاق کے لیے عوامی شعور ضروری امر ہے او ر عوامی شعور اسی وقت پروان چڑھتا ہے جب قوانین کی تدوین عوام الناس کی اپنی زبان میں ہو۔ قوانین کا قومی زبان میں ترجمہ ایک مقدس فریضہ ہے۔ قوانین کے تراجم میں معیار اور ترجمہ کا یکساں ہونا ضروری ہے۔ قوانین کے ترجمہ کے سلسلہ میں یونیورسٹی آف گجرات کے سربراہ ڈاکٹر ضیاء القیوم اورسربراہ مرکز السنہ و علوم ترجمہ ڈاکٹر غلام علی اور ان کی ٹیم کی نیک نیتی، حب الوطنی، قومی زبان سے محبت اور اس کارِ خیر کے لیے سنجیدہ کاوشیں لائق تحسین ہیں۔ شعبہئ قانون پنجاب نے ترجمے کے لیے جامعہ گجرات کے جس مرکز  CeLTSکا انتخاب کیا اس کا خاص وصف یہی ہے کہ یہ پاکستان میں علوم ترجمہ کا پہلا مرکز ہے جہاں علوم ترجمہ کے حوالے سے بی ایس اور ایم فل سطح کی تعلیم دی جاتی ہے۔ اس سے قبل یہ کئی معیاری تراجم کر چکا ہے۔ اس مرکز سے بین الاقوامی معیار کا تحقیقی جریدہPJLTSشائع ہوتا ہے جو HECکا منظور شدہ ہے۔ اسی شعبے سے کثیر الکسانی مجلہ ”مترجم“ بھی شائع ہوتا ہے۔ ایسے ہی کئی کارنامے مختصر مدت میں اس مرکز کے ماتھے پر سجے ہیں۔ مختصر مگر کارکردگی سے بھری تاریخ کے حاملCeLTSجامعہ گجرات کو حکومت پنجاب نے کھلے مقابلے میں ترجمے کے لیے موزوں ترین ادارہ قرار دیا ہے۔ گوئٹے نے کہا تھا کہ جملہ اُمور عالم میں جو سرگرمیاں سب سے زیادہ اہمیت کی حامل اور قدروقیمت رکھتی ہیں، ان میں ترجمہ بھی شامل ہے۔تقریب کے آخر میں جامعہ گجرات اور حکومت پنجاب کے شعبہئ قانون و پارلیمانی اُمور کے درمیان معاہدے کی دستاویزات پر دستخط کیے گئے۔ وائس چانسلر یونیورسٹی آف گجرات ڈاکٹر ضیاء القیوم اور سیکرٹری قانون ڈاکٹر سید ابوالحسن نجمی نے دستخط کیے، دستاویزات کا تبادلہ ہوا تو حاضرین کی خوشی بھی دیدنی تھی۔ 
تاریخ گواہ ہے کہ یورپ میں ایک عرصے تک کلیسائی عدالتوں کا راج رہا جہاں شرع و قانون کا بیان صرف لاطینی زبان میں ہوتا تھا جو راہبوں اور شہزادوں کے سوا کسی کی زبان نہیں تھی۔ برصغیر میں آریاؤں نے قانون کو سنکرت کے حصار میں محدود کر دیا۔ انگریزوں کے غلبے کے بعد لارڈ میکالے کی تہذیب دشمن سوچ کے زیر سایہ ہماری مقامی اور قومی زبان کی تحقیر کا نیا دورشروع ہوا اور آج تک مسلط ہے۔ انگریزی زبان نے طبقاتی تفریق کی نئی خلیج پیدا کی۔ تا ہم آئین پاکستان جو ہمارے سیاسی اور تہذیبی شعور کا علمبردار ہے، اس کے آرٹیکل251اور آرٹیکل28میں محکمومانہ سوچ کو خیر باد کہہ دیا گیا۔ اس سلسلے میں اُردو کے قومی زبان کے طور پر نفاذ کے لیے عدالت عظمیٰ کا فیصلہ بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ عدالت نے شعبہ ئ ترجمہ بھی قائم کیا ہے۔ مختصراً یہی کہ یہ ہماری پسند یا نا پسند کا معاملہ نہیں اور نہ ہی ہماری تن آسانی کا بلکہ یہ آئینی حکم ہے کہ اُردو کو بطور سرکاری زبان یقینی بنایا جائے اور صوبائی زبانوں کی ترویج کی جائے۔ میری بلکہ پوری قوم کی دُعائیں یونیورسٹی آف گجرات کے ساتھ ہیں جس نے اس آئینی تقاضے کی تکمیل کے لیے قومی دانش گاہ کا فریضہ ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ شعبہ علوم ترجمہ اس قوم کے تہذیبی، سیاسی اور قانونی شعور کی نشاۃ ثانیہ کے لیے قابل فخر کام کر رہا ہے۔ قوانین کا اُردوترجمہ ہمارے آئین  اورپاکستان کے عوام کی اس خواہش کا عکاس ہے کہ وہ خود پر لاگو ہونے والے تمام قانونی ضوابط اور اپنے آئینی حقوق کی بابت صادر کیے گئے فیصلوں کو براہِ راست سمجھنا چاہتے ہیں۔ قوانین کا اُردو ترجمہ عوام کی منشاء کا اظہار ہے۔