جمعرات، 21 اپریل، 2016

چوں مرگ آید تبسم برلب اوست

چوں مرگ آید تبسم برلب اوست 


حضرت علامہ اقبال مقدر کے سکندر تھے۔ انہیں ہر طرح سے تاریخ میں اعلیٰ مقام حاصل ہوا۔ فکری و فنی پہلو میں ان کی مہارت نے اپنا لوہا منوایا تو نجی زندگی میں بھی وہ کم خوش قسمت نہ تھے۔ تاریخ کی ستم ظریفی ہے کہ فارسی کا عظیم شاعر فردوسی لاچارگی کی موت مرا، عطا ر جیسا عظیم فارسی شاعر معمولی سپاہی کی تلوار سے جاں بحق ہوا۔ جعفر زٹلی حق بات کہنے پر ہاتھی سے کچل دیا گیا۔ انشاء اللہ خاں جیسا شاندار شعر کہنے والا شاعر بھی شاہی عتاب کا نشانہ بنا۔ اس تناظر میں شاعر مشرق، حکیم الامت علامہ اقبال خوش قسمت رہے۔ ان کی علالت میں علاج اور تیمار داری ایسی شاہانہ تھی کہ بڑے بڑے بادشاہ بھی اس کی آرزو کرتے ہیں۔
شاعر مشرق، مصور پاکستان علامہ محمد اقبال آغاز شباب کے سوا کسی دور میں بھی صحیح معنوں میں تندرست و توانا نہیں رہے۔ حالانکہ علامہ اقبال کے خاندانی ”جینز“بہت عمدہ تھے،ان کے خاندان کے اکثر افراد دراز عمر رہے۔ ان کے والد نے 93 سال، والدہ نے پچھتر سال،بھائی اور بہن نے اسی سال سے زائد جبکہ بیٹے جاوید اقبال نے بھی نوے سال سے زیادہ عمر پائی۔ تاہم حضرت علامہ اکسٹھ سال چند ماہ کی عمر میں ہی داعی اجل کو لبیک کہہ گئے۔ اقبال کی کم عمری کی وجوہات میں ان کی کمزور طبیعت، تساہل پسندی، فشار اعصاب، تمباکو نوشی، بدپرہیزی اور کشتوں کا استعمال وغیرہ بیان کی جاتی ہیں۔ علامہ زندگی بھر مختلف بیماریوں کا شکار رہے۔ عوارض چشم، عوارض گردہ، نقرس، عوارض قلب، عوارض ریوہ، عوارض گوراشی، درد گلو، امراض دہان، ملیریا اور کم خوابی جیسی امراض کا ساتھ زندگی بھر رہا۔ علامہ اقبال نے اپنی بیماریوں کا تذکرہ خود بہت تفصیل سے کر رکھا ہے اور اپنی بیماریوں اور کیفیتوں کو خوب رقم کیا۔ ان کے مطبوعہ ساڑھے چودہ سو خطوط میں سے 251 خطوط میں ان کی بیماریوں کا ذکر ہے۔ علامہ کی آخری عمر کی کئی نظموں میں بھی اس کا تذکرہ ہے۔ مسلسل بیماریوں کے حملوں کے باوجود علامہ اقبال وبائی امراض اور ان کے حملوں میں محفوظ رہے۔ 1918ء میں لاہور میں جان لیوا انفلوائنزا کی وبا میں لاکھوں شہری لقمہئ اجل بن گئے پھر طاعون کی وبا کے وقت بھی علامہ کا مدافعتی نظام کامیاب رہااور وہ محفوظ رہے۔ 
علامہ اقبال علالت و علاج کے معاملے میں بھی خوش قسمت رہے اور انہیں وقت کے لحاظ سے بہترین طبی امداد میسر رہی۔ تیس سے زیادہ حکیموں اور ڈاکٹروں کے نام ان کے معا لجین کی فہرست میں نمایاں ہیں۔ ان معالجین میں مقامی اور غیر ملکی ماہرین جن میں برطانوی، جرمن اور فرانسیسی طبیب بھی شامل ہیں۔ حکیم عبدالوہاب انصاری المعروف حکیم نابینا دہلی، حکیم اجمل خاں، حکیم سید ضیاء الحسن بھوپال، حکیم سلطان محمود، حکیم محمد حسن قریشی، حکیم گورداس پور، حکیم سید زادہ، حکیم محمد افضل اور حکیم فقیر محمد کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر عبدالباسط انصاری، ڈاکٹر احمد بخش خاں بہادر، ڈاکٹر رحمان، ڈاکٹر بوس، ڈاکٹر حسن محمدحیات، ڈاکٹر مظفر علی، ڈاکٹر ڈک، ڈاکٹر یار محمد خاں، ڈاکٹر کرم، ڈاکٹر کرنل امر چند، ڈاکٹر کیپٹن الہٰی بخش، ڈاکٹر برج موہن ورما، ڈاکٹر عباس علی، ڈاکٹر ذیلنتر، ڈاکٹر محمد یوسف، ڈاکٹر متھرا داس، ڈاکٹر جمعیت سنگھ، ڈاکٹر عبدالقیوم کے نام نمایاں ہیں۔ ایام شباب سے ہی صحت کے حوالے سے مشکلات کا شکار رہنے والے علامہ کو زندگی کے آخری سالوں میں جس جان لیوا بیماری نے ان کو مبتلائے اذیت رکھا، وہ 1934 میں کھانسی اور زکام سے شروع ہوئی۔ سید نذیر نیازی کے مشہور مضمون ”آخری علالت“ کے مطابق 1934 میں 10 جنوری عید الفطر کا دن تھا وہ حسب معمول نماز کے لیے شاہی مسجد گئے،اس روز تیز اور ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔ علامہ عام لباس میں گئے تو وہاں مسجد کے کھلے صحن میں انہیں ٹھنڈ لگ گئی۔ واپس آگئے،سویاں کھائیں اور والد مرحوم کی تقلید میں دودھ کی بجائے دہی میں ملا کر کھائیں۔ حکیم فقیر محمد نے انہیں عرصہ سے دودھ اور ہر اس شے سے جو دودھ سے بنی ہو، سے پرہیز تجویز کر رکھا تھا یہ کھانے سے ان کا گلا بیٹھ گیا۔ علاج شروع ہوا مگر افاقہ نہ ہوا۔ فروری میں ایکسرے ہوا تو پتہ چلا کہ قلب کے اوپر رسولی بن رہی ہے۔ ڈاکٹر نے ریڈی ایشن علاج تجویز کیا مگر علامہ متفق نہ تھے انہوں نے حکیم نابینا سے رابطہ کیا اور ان کے علاج سے بہتری آئی۔ معاملات معمولی تبدیلیوں کے ساتھ چلتے رہے 1938 کے فروری میں دمہ کا دورہ ہوا۔ 30 مارچ کو ضعف قلبی سے غشی طاری ہو گئی۔ اپریل میں چہرے، پاؤں پر ورم ہو گیا، درد پشت اور درد شانہ کے عوارض شروع ہو گئے۔ 19 اپریل سے بلغم میں کسی قدر خون آنے لگا۔ ڈاکٹر جمعیت سنگھ نے مایوسی ظاہر کی۔ ڈاکٹر امیر چند پہنچ گئے اور ڈاکٹر عبدالقیوم کو ہدایات دے کر چلے گئے، دوائی کھائی تو علامہ کا جی متلانے لگا، اس پر خمیرہ گاؤ زبان عنبری کی خوراک لی تو طبعیت بحال ہوئی۔ 20 اپریل کو طبیعت زیادہ ناساز ہوئی تو ڈاکٹروں نے Mersalyl کا ٹیکہ لگانے کا فیصلہ کیا۔ اس ٹیکے سے پیشتر چونکہ ان دنوں ایمونیم کلورائیڈ دینا ضروری تھا تاکہ پیشاب کھل کر آجائے۔ ڈاکٹر عبدالقیوم نے دوائی تیار کی اور ذائقہ بدلنے کے لیے تھوڑا سا ”گلیسرینزا“ بھی ملا دیا۔ اس کے باوجود علامہ کو دوائی ناگوار لگی اور انہوں نے ناگواریت کا اظہار بھی کیا۔ صبح سے علامہ کی چارپائی جاوید منزل کے پورچ میں تھی رات ہوتے ہی خنکی ہونے لگی اور رات گئے علامہ نے چارپائی اندر لے جانے کا کہا۔علی بخش اور ڈاکٹر قیوم چارپائی ان کے کمرہ خاص میں لے گئے۔ چارپائی رکھ کر ڈاکٹر قیوم کمرے سے نکل کر باہر سستانے لگے۔ علامہ نے علی بخش کو کہا کہ میرے شانے دباؤ پھر بیٹھے بیٹھے پاؤں پھیلا لیے اور دل پر ہاتھ رکھ کر کہا، ”یا اللہ، یہاں درد ہے اس کے ساتھ ہی سر پیچھے کی طرف گرنے لگا،علی بخش نے سہارا دیا تو علامہ نے قبلہ رو ہو کر آنکھیں بند کر لیں اور پیدا کرنے والے کے دربار میں سرخرو ہو گئے۔ 21 اپریل 1938 ء بمطابق 19 صفر بروز جمعرات صبح سوا پانچ بجے علامہ نے جان جانِ آفریں کے سپرد کر دی۔ علی بخش نے گھبرا کر ڈاکٹر صاحب کو آواز دی۔ڈاکٹر عبدالقیوم دوڑتے ہوئے اندر پہنچے تو علامہ کی آنکھیں بند اور لبوں پر ہلکا سا تبسم سا تھا۔ اس وقت ہر طرف فجر کی اذانوں کی پر سطوت صدائیں گونج رہی تھیں پھر ڈاکٹر عبدالقیوم نے ہی ریڈیو والوں کو فون پر علامہ کے انتقال کی خبر دی۔ لوگ جوق در جوق جمع ہونا شروع ہو گئے۔ اخباروں نے خصوصی ضمیمے شائع کیے، سکول، کالج، عدالتیں سب ادارے بند رہے عبدالمجید سالکؔ کے بقول ”جاوید منزل اس بیوہ کی طرح نظر آرہی تھی جس کا سہاگ اجڑ گیا ہو“۔ چوہدری محمد حسین نے، راجہ حسن اختر اور ڈاکٹر مظفر الدین قریشی کے ہمراہ اقبال کو شاہی مسجد کے کسی حجرے میں دفن کرنے کی تجویز پیش کی۔ اس کے لیے سرکاری اجازت کی ضرورت تھی۔ پنجاب حکومت کے سربراہ سکندر حیات کلکتہ کے دورے پر تھے۔ میاں امیر الدین نے ٹیلی گراف کے ذریعے ان سے رابطہ کر کے اجازت طلب کی تو انہوں نے انکار کر دیا اور اسلامیہ کالج کے میدان میں تدفین کا کہا۔ لیکن علامہ کے دوست احباب ڈٹے رہے اور انہوں نے براہ راست صوبہ کے گورنر سر ہنری کریگ سے رابطہ کر کے دہلی سے اجازت منگوا لی اور مسجد شاہی کے بائیں جانب والے قطعہ زمین پر علامہ کی لحد کی تیاری شروع ہو گئی۔ علامہ کی رہائش گاہ پر عقید ت مندوں کی آمد پانچ بجے عصر تک جاری رہی پھر علامہ کا جنازہ جاوید منزل سے برآمد ہوا۔ جنازے کی چارپائی کے ساتھ لمبے لمبے بانس باندھ دیئے گئے تاکہ ہر شخص آسانی سے کندھا دے سکے، ہر مذہب، مسلک اور فکر کے لوگ ہجوم کی صو رت ساتھ ساتھ تھے۔ جنازہ قلعہ گوجر سنگھ اور خیابان فلیمنگ سے ہوتا ہوا، اسلامیہ کالج سے گذر کر قلعہ لاہور کے قریب پہنچا، پہلے حضوری باغ پھر شاہی مسجد کی سیڑھیوں کے قریب رکھ دیا گیا۔ 60 ہزار سے زیادہ کا ہجوم شام سات بجے شاہی مسجد کے صحن پہنچا اور وہاں جنازہ رکھ کر علامہ کے بڑے بھائی عطا محمد کا انتظار ہونے لگا جو سیالکوٹ سے نہیں پہنچ پائے تھے۔ ساڑھے آٹھ بجے مولانا غلام مرشد نے نماز جنازہ پڑھائی، اسی اثناء میں سیالکوٹ سے رشتہ دار پہنچ گئے۔ کہرام مچ گیا۔ عطا محمد روتے روتے مجمع کو ہٹاتے جاتے اور کہتے لوگو مجھے میرے بھائی کا چہرہ دیکھ لینے دو، اس نے کہا تھا اس کے چہرے پر مرنے کے بعد تبسم ہو گا ۔یقیناہو گا۔ علامہ نے خود کہا تھا کہ

نشان مرد مومن باتو گویم 
چو مرگ آید تبسم بر لب اوست

(مرد مومن کی علامت سے کہتا ہوں کہ جب اس پر موت آئے تو اس کے لبوں پر مسکراہٹ رہتی ہے) 

حکیم الامت کے جسد خاکی کو سوا دس بجے رات سپرد خاک کر دیا گیا۔ چند مہینوں بعد مزار کمیٹی بنا دی گئی جس نے فیصلہ کیا کہ مزار کی تعمیر کے لیے چندہ نہیں لیں گے۔ قیام پاکستان کے بعد وزیر خزانہ غلام محمد نے حکومت کی جانب سے مزار کی مدد کرنا چاہی تو کمیٹی نے قبول نہیں کیا۔ افغان حکومت نے اٹلی کے ماہرین فن سے مقبرہ کا نقشہ بنوا کر بھیجا، اسے بھی قبول نہیں کیا گیاکہ اس میں کیتھولک صنعتی فن تعمیر نظر آتا ہے اور آخر میں عالمی شہرت یافتہ ماہر فن تعمیر نواب زین یار بہادر جنگ سے نقشہ بنوایا گیا اور پھر پرشکوہ مقبرہ تعمیر ہوا۔ علامہ اقبال کا مقبرہ لاہور کی سرزمین پر صدیوں ”سجدہ گاہ صاحب نظراں“ رہے گا اقبال نے کہا تھا کہ  
زیارت گاہ اہل عزم و ہمت ہے لحد میری