جمعہ، 6 مئی، 2016

سرشت بہار زندہ ہے

سرشت بہار زندہ ہے 


زندہ قومیں زندہ لوگوں کی قدر کرتی ہیں جبکہ مردہ قومیں مردوں کی پرستش کرتی ہیں۔ ماضی پرست قوم ہونے کے ناطے ہمارے ہاں ”عظمت رفتہ“ کا سحر اس قدر طاری ہے کہ ہمیں زندہ لوگوں میں کوئی بڑا آدمی نظر ہی نہیں آتا۔ ہم رشک کی بجائے حسد کرنے کے عادی ہیں۔ بت پرستی کے اس عالم میں زندہ لوگوں سے محبت کے اظہار، ان کی تعریف و تحسین کے لیے ان کے اعزاز میں منعقد ہونے والی پر وقار تقریب میں شرکت کی دعوت ملی تو مجھے حیرت ہوئی لیکن خوشی بھی ہوئی کہ ’سرشت بہار زندہ ہے“۔وطن عزیز کے قابل قدر ماہرین تعلیم اور اعلیٰ تعلیم  کے راہبر چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن ڈاکٹر مختار احمد،ایگزیکٹو ڈائریکٹر HEC ڈاکٹر ارشد علی، وائس چانسلر یونیورسٹی آف اینمل اینڈ ویٹرنری سائنسز ڈاکٹر طلعت نصیر پاشا اور گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد کے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد علی شاہ کو تعلیم، تدریس، تحقیق کے حوالے سے قومی خدمات پر حکومت پاکستان نے ستارہئ امتیاز اور تمغہئ امتیاز سے نوازا تو اعلیٰ تعلیم کے حلقوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی تھی۔ اس خوشی کے اجتماعی اظہار کے لیے وائس چانسلر یونیورسٹی آف گجرات پروفیسر ڈاکٹر ضیاء القیوم، وائس چانسلر علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد ڈاکٹر شاہد صدیقی اور شہید ذوالفقار علی بھٹو میڈیکل سائنسز یونیورسٹی اسلام آبادکے وائس چانسلر ڈاکٹر جاوید اکرم نے مشترکہ طو رپر ”شامِ اعزاز“ کی میزبانی کا اعلان کیا اور گذشتہ دنوں لاہور کے کیولری گراؤنڈ میں شاندار، باوقار اور علم پرور عشائیے کا اہتمام کر کے واضح کیا کہ صاحب علم او ربا عمل لوگ زندہ قومی ہیروز کی قدر کرتے ہیں۔کیونکہ عظیم دماغ دوسروں کے اثرات سے نہ خوفزدہ ہوتے ہیں اور نہ مرعوب بلکہ ان کے وجود کی وسعت کا انداز کرتے ہیں۔ 

ڈاکٹر جاوید اکرم کا گھر ان کے ذوق جمال کا عکاس تھا اور حسنِ انتظام ان کی انتظامی صلاحیتوں کا کھلا ثبوت کہ آنے والوں کے لیے شرکت بلا شبہ اعزاز سے کم نہ تھی۔تقریب اتنی پروقار تھی کہ پنجاب کی 35 جامعات کے سربراہان یہاں اپنی اپنی شریک حیات کے ساتھ اعتماد اور محبت سے کھنچے چلے آئے،ایسا لگ رہا تھا کہ اعلیٰ تعلیم محض ایک پیشہ نہیں اس سے وابستہ لوگ ایک فیملی ہیں۔ 
جامعات کے سربراہان کو داد دینے کے لیے ممتاز تجزیہ نگار و اینکر سہیل وڑائچ، سینئر صحافی سجاد میر، جوان فکر اینکر حبیب اکرم، تعلیم دوست کالم نگار نعیم مسعود، ڈی جی پی آر کے  ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر محمد اسلم ڈوگر، وفاقی پارلیمانی سیکرٹری برائے دفاع ایم این اے چوہدری جعفر اقبال اور وزیر اعلیٰ پنجاب کے مشیر صحت خواجہ سلمان رفیق بھی پیش پیش تھے۔ 
شیخ الجامعہ دانش گاہ گجرات  ڈاکٹر ضیاء القیوم جس گرمجوشی اور محبت سے مہمانوں کو ’جی آیاں نوں‘کہنے میں مصروف عمل تھے اسے دیکھ کر مجھے مدر ٹریسا کی یہ بات یاد آرہی تھی کہ ”اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ہم کس کو کتنا کم یا کتنا زیادہ دے رہے ہیں بلکہ فرق صرف اس بات سے پڑتا ہے کہ ہم جو کچھ دے رہے ہیں اس دینے میں ہماری محبت کس قدر شامل ہے“۔ 
ستارہئ امتیاز کے حامل مہمانان گرامی پنڈال میں آئے تو ایسے ہی تھا جیسے چپکے سے ویرانے میں بہار آ جائے۔ عالموں کی آمد سے شب بھی منور ہو گئی۔ جس کو بھی مبارک دی جاتی وہ عجز و انکساری کا پیکر بن جاتا۔اور برملا کہہ دیتا یہ میرا نہیں میرے شعبے کا اعزاز ہے، یہ ہائر ایجوکیشن کے لیے افتخار کی بات ہے۔ کارکردگی، محنت،ریاضت اور کاوش کے شجر پر پھل ضرور آتا ہے اور ایسے موقعوں پر لوگ ثمر دار درخت یافرد کی طرف اشارہ کر کے ضرور کہتے ہیں کہ 
؎  دانہ خاک میں مل کر گل و گلزار ہوتا ہے  
دانہ زمین کی تہہ دار گہرائیوں اور اندھے غاروں میں سفر کر کے کس طرح زمین کا سینہ چیر کر باہر آتا ہے، یہ دانہ ہی جانتا ہے مگر اس کی ذات میں اپنے آپ کو دکھانے اور ذات کااظہار کرنے کے لیے جس ہمت اور محنت کی ضرورت ہوتی ہے اس کا ہونا بے حد ضروری ہے۔ ڈاکٹر مختار احمد، ڈاکٹر ارشد علی، ڈاکٹر محمد علی شاہ یا ڈاکٹر طلعت نصیر پاشا کو تحقیق و تعلیم کے میدان میں کتنی جان مارنا پڑی اس کا اندازہ شاید دور بیٹھ کر نہیں کیا جاسکتا ہے اس کے باوجود یہ سارے تشکر و عاجزی کا جو مظاہرہ کر رہے تھے اس سے نوبل انعام دینے کی وہ تقریب ضرور یاد آرہی تھی جس میں عظیم امریکی ادیب ولیم فاکنر کو نوبل انعام ملا تھا، وہ اپنی بیٹی کے ساتھ انعام وصول کرنے سویڈن گیا تو اس نے کہا ”یہ انعام مجھے نہیں میرے کام کو دیا گیا ہے“اسی خیال سے میں آگے بڑھا مگر درویش منش چیئر مین HEC ڈاکٹر مختار احمد سے پوچھنے کی جسارت نہ کر سکا کہ آپ کو یہ ستارہئ امتیاز کیوں ملا……؟  بہت سے لوگ مصروف عمل ہیں تو پھر سرکاری انتخاب آپ کیوں؟ تاہم میں نے یہی سوال پاس بیٹھے محترم ڈاکٹر ضیاء القیوم سے ذرا بدل کر پوچھ لیا کہ ان لوگوں کی امتیازی صفت کیا ہے جو باقی لوگوں میں کم ہے۔ ان کی کونسی کرامت ہے کہ انہیں یہ اعزاز ملا ہے؟ ڈاکٹر ضیاء القیوم مسکرائے اور بولے کہ ایک عربی مقولہ ہے ”الاستقامۃ فوق الکرامۃ“ یعنی استقامت کرامت سے بھی اوپر ہے۔ یہ استقامت والے لوگ ہیں یہ کام اور محنت کرتے نہیں ہیں کئی عشروں سے کرتے ہی چلے آرہے ہیں۔ آدمی اگر استقلال کے ساتھ کام کرے تو وہ اس سے بھی زیادہ بڑی کامیابی حاصل کر لیتا ہے جو کوئی صاحب کرامت آدمی کرامت کے ذریعے حاصل کرتا ہے۔  میں ضیائے دانش گاہ گجرات کی بات سن کر چپ ہو گیا اور میرے ذہن میں بنجمن ڈزرائیلی کا یہ قول مچلنے لگا کہ ”زندگی میں سب سے زیادہ کامیاب شخص وہ ہے جو بہترین معلومات رکھتا ہو“۔  

ڈاکٹر جاوید اکرم اور ڈاکٹر شاہد صدیقی نے اپنے اپنے انداز میں مہمانوں کو مبارکباد دی اور کہا کہ ایسی تقریبات کو اعلیٰ تعلیم کے غیر رسمی تعلقات سے تعبیر کرنا چاہیے جہاں نئی روایات جنم لیتی ہیں۔ محترم سہیل وڑائچ نے کہا کہ یہ تقریب دیگر سربراہان جامعات کے لیے بھی امید افزاء ہے اور پھر غیر رسمی ماحول میں اعلیٰ تعلیم کے تعمیری و تطہیری پہلوؤں پر کھل کر گفتگو نئے اعزازات کے لیے راستہ ہموار کرنے کا موجب ہو گی۔ سینئر صحافی سجاد میر نے مبارکباد دی اور کہا کہ اتنے بڑے بڑے عالموں، محققوں بلکہ استادوں کے استادوں کی محفل میں آنا خوشی کی بات ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہماری تحقیق کو جدت و اختراع کے ساتھ ساتھ قومی تقاضوں سے ہم آہنگ بھی ہونا چاہیے۔ اینکر حبیب اکرم نے کہا کہ میں نے تو دوران تعلیم مشکل سے اپنے وائس چانسلر کو قریب سے دیکھا تھا جبکہ آج اتنے زیادہ وائس چانسلرز کی موجودگی میں خوش اور حیران ہوں او رموقع غنیمت جان کر چیئر مین HEC سے گذارش کروں گا کہ قومی زبان کے نفاذ کے لیے اعلیٰ تعلیم میں قومی زبان کے کردار پر بھی بھرپور کام کیا جائے۔ تمغہئ امتیاز کے حامل ڈاکٹر محمد علی شاہ تعلیم و تحقیق کے حوالے سے بات کر رہے تھے تو عیاں ہو رہا تھا کہ دنیا کے اعزازات اس پر جوش شخص پر واری واری جاتے ہیں جو اپنے آپ کو ٹھنڈ ااور متوازن رکھتا ہے۔ ڈاکٹر محمد علی شاہ کی سائنسی تحقیق کی گرمی کو ان کی صوفیاء کے کلام سے محبت ٹھنڈا رکھتی ہے،وہ مٹی کی خوشبو سے رچی بسی پاکستانی فکر کے علمبردار ہیں وہ کامل درویش کی طرح شکریہ ادا کر رہے تھے۔ البرٹ آئن سٹائن سے اس کے عظیم اور ناقابل فراموش کارناموں کے بارے میں کسی نے پوچھاتو اس نے ایک ہی بات کہی تھی کہ وہ ہمیشہ دوسروں کا شکریہ ادا کرتا ہے۔ وہ دن میں کئی کئی مرتبہ اظہار محبت کرتا تھا اسی لیے زندگی نے بھی اپنے تمام راز آئن سٹائن پرافشاکردیئے۔ ڈاکٹر محمد علی شاہ کی یہ خوبی آئن سٹائن سے ہی مماثلت رکھتی ہے۔ ڈاکٹر مختار احمد اپنی درویشی اور شیریں گفتگو اور متانت کے باعث جانِ محفل نظر آرہے تھے۔ ہر ایک ان کے گرد جمع ہو کر ان سے دعائیں ضرور لیتا۔ کہتے ہیں کہ خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروق ؓنے ایک بار فرمایا،وہ ایک آدمی کی تلاش میں تھے جس کو کسی مقام کا حاکم بنا سکیں، انہوں نے کہا کہ میں ایک ایسا آدمی چاہتا ہوں کہ جب وہ کسی گروہ میں امیر ہو تو وہ ان میں انہی کے ایک شخص کی طرح رہے، او رجب وہ امیر نہ ہو تو ان کے درمیان امیر کی طرح بنا ہو، یعنی اس آدمی کے اندر ایسے اخلاقی اوصاف ہوں کہ عہدہ کے بغیر وہ لوگوں کے درمیان عزت و احترام کا درجہ حاصل کر لے، مگر اسی کے ساتھ وہ اتنا بے نفس ہو کہ اسے عہدہ پر بٹھا دیا جائے تو اس کے اندر بڑائی کا احساس پیدا نہ ہو، اس کے باوجود لوگوں کے درمیان عام آدمی کی طرح رہے۔ اچھے عہدیدار کی اس سے بہتر تعریف نہیں ہو سکتی۔ اسی تعریب کا کرشمہ میں نے اس شامِ اعزاز میں دیکھا۔ مجھے لگا کہ اختیار کو مختار سے نسبت یونہی نہیں ہو گئی، فضّلِ ربی ضرور ہے اور بے وجہ بھی نہیں ہے وہ بلا شبہ ستاروں کی اس محفل میں چودھویں کے چاندکی طرح تھے۔ 
مجھے خوشی ہے کہ جس لمحہ ان اعزازات پانے والی ہستیوں کی ستائش کی جا رہی تھی،میں لفظوں کی مالا لیے ان کے ساتھ کھڑا تھا اور دل ہی دل میں دعا کر رہا تھا کہ رب العالمین! امتیاز کے حامل ان ماہرین تعلیم کی روح اور دل کو سکون و راحت نصیب کرے۔ 
یہ تقریب ’ہیروورشپ‘کی نہیں تاریخی شعور کی عکاس تھی۔تاریخی شعور ہی ہے کہ جس میں ماضی اور حال کا وجدان دونوں شامل ہیں۔ تاریخی شعور انسان کو اپنے عہد کے ساتھ سانس لیتے انسانوں کی ہڈیوں میں موجود محبت کے ذروں کو لفظ اور احترام میں سمو دینے کا حوصلہ بخشتا ہے اور یہی فکر ہمیں اپنے ہم عصروں، وقت اور زمانے کا احساس دلاتی ہے اور پھر لوگ اور گروہ حسد کرنے کی بجائے رشک کرنے کی راہ پر بامراد ٹھہرتے ہیں۔ یہ شامِ اعزاز نوید دے رہی تھی کہ اعلیٰ تعلیم کی اگواکاری کا فریضہ تاریخی شعورکے حامل رشک کرنے والے مثبت فکر لوگوں کے کاندھوں پر ہے جو اس قوم کے لیے روشن مستقبل کی ضامن اچھی خبر ہے۔