جمعرات، 28 مئی، 2015

بجٹ میں نے دیکھے ہیں سارے تیرے


سیاست کس ہنر مندی سے سچائی چھپاتی ہے 
جیسے سسکیوں کے زخم شہنائی چھپاتی ہے 


نئے بجٹ کی آمد آمد ہے ۔ سرکار ”عوامی خدمت“ کے منشور پر عمل پیرا ہونے کے لیے گذشتہ سال کی کامیابیوں کا ڈھنڈورا پیٹ رہی ہے اور لگ بھگ پانچ سو ارب کا مزید بوجھ عوام پر ڈالنے کے لیے وزارت خزانہ کے ماہرین نئی نئی تراکیب تلاش کرنے میں شب و روز مصروف ہیں۔ بجٹ سادہ ترین مفہوم میں سال بھر کا حکومتی میزانیہ ہوتا ہے ۔ اس میں آئندہ سال کے لیے حکومت کی مالی ضروریات کا تعین ہوتا ہے اور یہ اخراجات کیسے پورے کیے جائیں گے اس کے لیے اقدامات تجویز کیے جاتے ہیں۔ ریاست کا بنیادی وظیفہ اپنے شہریوں کی صحت، تعلیم، زندگی ، روزگار ، خوراک اور بنیادی ضرورتوں کا تحفظ ہے ۔ حکومت ریاست کے ان وظائف کی ترجمانی کے لیے بجٹ بناتی ہے تاکہ ان مقاصد کا حصول ممکن ہو۔ اس تناظر میں بجٹ ہر سال عوام کے لیے مزید آسانیوں، تحفظات اور حقوق کا ضامن ہونا چاہیے۔ لیکن وطن عزیز میں تو جیسے گنگا الٹ ہی بہتی ہے، ہر سال بجٹ کی آمد پر عوام پریشان اور پشیمان ہوتے ہیں اور بجٹ عوام کی خدمت و تحفظ اور خوشحالی کی ضمانت فراہم کرنے کی بجائے ان پر زیادہ سے زیادہ مالی بوجھ ڈالنے کی چالاکیوں کا نام بن کر رہ گیا۔ ایسی حکومت جو گذشتہ سال کے اہداف کے حصول میں ناکام رہتی ہے وہ اعداد و شمار کا جال بجھا کر عوام کو اگلے سال کے سراب کے دہانے پر لے جاتی ہے ۔ مالیاتی جادوگر ظلم کی نئی نئی اقسام کی دریافت سے فائدہ اٹھا کر کبھی بلا واسطہ اور کبھی بالواسطہ ٹیکس لگانے کو ہی کامیابی سمجھتے ہیں۔ بجٹ کے ایام میں وزارت خزانہ کے ماہرین بے مثال کامیابیوں کے دعوے کرتے ہیں، اعداد و شمار کا گورکھ دھندا عروج پر ہوتا ہے دایاں دکھا کر بائیں ہاتھ سے وار کرنے کی مہارت سے پورا فائدہ اٹھایا جاتا ہے ایسا صاف دکھائی دیتا ہے کہ :
شعبدہ بازوں نے پہنا ہے خطیبوں کا لباس
بولتا جہل ہے، بدنام خرد ہوتا ہے 
جس ترقی کی وسیع پیمانے پر تشہیر کی جاتی ہے ، اس کی حقیقی تصویر بہت بھیانک ہے ۔ اعداد و شمار کی مدد سے دکھائی جانے والی سماجی تبدیلیوں کی حقیقت بڑے پیمانے پر کی جانے والی وہ فریب کاری ہے جس کا پردہ اب چاک ہو رہا ہے ۔ یہ دیکھ کر بہت صدمہ ہوتا ہے کہ اعداد کے ہیر پھیر میں الجھی ترقی کے نتائج بہت کم مثبت نکلے ہیں۔ مثلاً معاشی ترقی روزگار کے نئے وسائل پیدا کرنے کا ذریعہ بننی چاہیے تھی لیکن مجموعی طور پر بے روزگاری میں اضافہ ہوا، حکمرانوں کی خوش بیانیاں اپنی جگہ مگر گذشتہ سالوں میں جی ڈی پی کے گروتھ ریٹ کے مقررہ ہدف حاصل نہیں کیے جا سکے ۔ پچھلے سال جی ڈی پی کے گروتھ ریٹ کا ہدف پانچ فیصد سے زیادہ رکھا گیا جو تا حال اڑھائی فیصد تک ہے۔ زراعت ، برآمدات کسی شعبے میں بھی امید کی شمع روشن نہ ہو سکی۔ حکمرانوں کی خوش بختی کہ عالمی منڈی میں پٹرول کی قیمتیں بہت کم ہوئیں۔ عالمی سطح پر معاشی حوالے سے کوئی بھونچال نہیں آیا، پھر بھی نئے بجٹ میں عوام کے لیے کسی خوشخبری کی توقع نہیں۔ انور مسعود نے خوب کہا تھا کہ
بجٹ میں نے دیکھے ہیں سارے تیرے
انوکھے انوکھے خسارے تیرے 
گرانی کی سوغات حاصل میرا 
محاصل تیرے ، گوشوارے تیرے 
تجھے کچھ غریبوں کی پرواہ نہیں
وڈیرے ہیں پیارے، دُلارے تیرے 
جیکب لیو نے کہا تھا کہ The budget is not just a collection of numbers, but an expression of our values and aspirations. اسی تناظر میں کہا جاسکتا ہے کہ ہماری بجٹ سازی کی تاریخ گواہ ہے کہ یہاں معاشی ترقی اور فروغ کے بے معنی اعداد و شمار نے قومی ثقافتی تشخص کو بھی بہت نقصان پہنچایا ہے۔ اس نے ملک میں جمہوری اور شخصی آزادیوں کی ضمانت فراہم کرنے کی بجائے انہیں پامال ہونے دیا اور یہ ترقی اپنے جوہر میں عوام دشمن ثابت ہوئی ہے۔ ایوب خاں کے سبز انقلاب میں اس نے بائیس گھرانے پیدا کیے جن کا ملکی دولت کے 80 فیصد وسائل پر قبضہ تھا۔ بس ترقی اتنی ہوئی ہے کہ اب یہ گھرانے بائیس سو یا تین ہزار ہو گئے ہوں گے۔
وہ ستم ڈھائے ، مرے شہر پہ زرداروں نے 
اپنے ہی دل سے نظر اوڑھ کے چادر گذری
ترقی کی تمام اصلاحات صرف امراءکی جھولی میں چلی جاتی ہیں اور عوام کی اکثریت اس سے محروم رہتی ہے اور سب سے بڑھ کر یہ ترقی زمینی وسائل کا بھی تیزی سے خاتمہ کر رہی ہے، اس نے ماحول کو بھی برباد کر کے رکھ دیا ۔ اپنے حقیقی کردار میں یہ ترقی مقامی اور قومی سطح پر عوام کے مفادات کی محافظ نہیں بن سکی ۔ محض سرمایے اور سرمایے دار پر انحصار کرنے والا معاشی ماڈل کامیاب ہو ہی نہیں سکتا جب تک اس کی جگہ عوام کی شرکت اور مرکزیت پر مبنی معاشی ماڈل نہیں اپنایا جائے گا خوشحالی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو گا ۔ انصاف پر مبنی پاکستان کا خواب صرف اسی صورت پورا ہو سکتا ہے کہ وسائل تک رسائی کے مساوی مواقع فراہم کیے جائیں۔
صحرا میں پھول اور گلستاں میں دھول ہے 
جو چیز ہے یہاں وہ خلاف اصول ہے 
ان اصولوں کو درست کرنے کے لیے عوام کو ہی بیدار ہونا ہو گا ۔ وطن عزیز میں وسائل کی کمی نہیں، وسائل کے غلط استعمال سے یہ ثمر آور نہیں ہو پاتے ۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہیں بڑھانے کا معاملہ ہو تو حکمران وسائل کی کمی کا رونا روتے ہیں حالانکہ انکے اللے تللوں پر عوام کا پیسہ بے دریغ بہایا جاتا ہے ۔ سیکورٹی، پروٹوکول اور دیگر معاملات پر حکمران طبقے پر اربوں روپے ضائع کر دیے جاتے ہیں محلوں میں رہنے والے بادشاہوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ عوام کے خادمین کے روپ ایسے نہیں ہوتے بلکہ حضرت عمر فاروق ؓ و خلافت راشدہ کی مثالیں تو ایمان کامل کے حامل طبقے کے لیے ہی ہو سکتی ہیں۔ تاہم ابھی حال ہی میں یوراگوئے کے سبکدوش ہونے والے صدر ہوزے موجیکا کی مثال ہی کافی ہے وہ پانچ سال تک صدر رہے اور انہوں نے 5 سالوں میں یورا گوئے کی معیشت کو بہتر اور مستحکم کیا ۔ مگر شاہی محلات میں سرکاری اخراجات پر محفلیں سجا کر نہیں۔ انہوں نے نہ ہی بڑی بڑی گاڑیوں میں بڑے بڑے قافلوں میں سفر کیا بلکہ صدارتی محل کی بجائے دارالحکومت کے نواح میں چھوٹے سے ایک منزلہ مکان میں رہائش پذیر تھے اور اپنی پرانی فوکسی میں سفر کرتے تھے۔ ہوزے کے بارے میں ہر کوئی جانتا ہے کہ وہ اپنے یوٹیلیٹی بلز ادا کرنے کے لیے سرکاری ملازم کو استعمال نہیں کرتے تھے اور ہر ماہ اپنے گھر سے پیدل نکل کر قریبی بنک کی قطار میں کھڑے ہو کر باری آنے پر بل جمع کرواتے تھے۔ ہوزے موجیکا جیسے حکمران ہی معاشی استحکام کی منزل پر پہنچتے ہیں۔ یہاں حکمرانوں اور ان کے اہل خانہ پر سالانہ جتنے اخراجات آتے ہیں وہ غریبوں پر لگائے جائیں تو پھر ہی یہاں ترقی اور خوشحالی کے پھول کھلیں گے ۔ حقیقت پسندانہ، منطقی اور خدمت کے جمہوری تصور پر مبنی بجٹ بنانا ہی وزارت خزانہ کی ذمہ داری ہے مگر طبقاتی سوچ کے علمبردار ، تاجروں کے محافظ اور امیروں کے نمائندہ حکمرانوں کی موجودگی میںپاک سر زمین سونا اگلتی رہے تب بھی عوام کی تقدیر نہیں بدل سکتی ۔ حکمرانوں کو ہوش کے ناخن لینے ہوں گے، عوامی خدمت اور عوامی شراکت کے تصور پر مبنی نظام حکمرانی اور بجٹ دینا ہو گا ۔ قوم کی مایوسی انتہا پر ہے۔ یہ کامل تباہی کا راستہ ہے یا پھر اپنا حق چھین کر آنے والی نسلوں کا مستقبل محفوظ بنانے کا سنہری موقع عوام کو سیاسی و سماجی بیداری اور ملی جذبے کے تحت حالات پر سنجیدہ غور کرنے کی ضرورت ہے ۔یہ سوال نہیں ہماری قوم کا نوحہ ہے اور میںاسی پر بات ختم کرنا چاہتا ہوںکہ اب ہر کسی کو سوچنا ہے۔
ان دمکتے ہوئے شہروں کی فراواں مخلوق
کیوں فقط مرنے کی حسرت میں جیا کرتی ہے 
یہ حسین کھیت پھٹا پڑتا ہے جو بن جن کا 
کس لیے ان میں فقط بھوک اُگا کرتی ہے