منگل، 5 مئی، 2015

مسلمان ....جاہل ،انتہا پسند یا علم دوست؟

مسلمان ....جاہل ،انتہا پسند یا علم دوست؟

Image Courtsey: MuslimHeritage.com (Ali Hasan Amro), page 89

مسلمان جاہل، بنیاد پرست اور دہشت گرد ہی کیوں ہوتے ہیں؟ یورپ اور امریکہ نے سائنس ،طب اور ٹیکنالوجی میں انسانوں کی حقیقی خدمت کی ہے ،مسلمان تو بس قتل کرتے ہیں، خون بہاتے ہیں، دھماکے کرتے ہیں.... یہی سچ ہے ناں بابا....؟ میرا بیٹا عبدالمعید سکول سے واپسی کے بعد مجھ پر سوال پر سوال داغے جا رہا تھا۔ میں نے بار ہا بتانے کی کوشش کی کہ نہیں بیٹا، مسلمان جاہل نہیں طلب علم سے مالا مال ہوتا ہے ، وہ بنیاد پرست نہیں صالح کردار اور روشن خیال کا حامل ہوتا ہے ۔ مسلمان پیغمبر رحمت کی تحریک رحمة للعالمینی کا علمبردار ہوتا ہے دہشت گرد نہیں۔ یورپ آج جس سائنس او رٹیکنالوجی پر نازاں ہے اس کی اساس اسلامی تعلیمات اور مسلمان دانشوروں کے علم و فکر نے ہی رکھی تھی ۔ عبدالمعید جو میری باتوں کا ہلکی طنزیہ مسکراہٹ سے انکار کر رہا تھا اچانک بول اٹھا نہیں ،بابا:”خطبے “کی ضرورت نہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ مسلمان تو ایک سوئی تک بنا نہیں سکے۔ آج میڈیکل سائنس میں جو حیرت انگیز ترقی ہوئی ہے اس نے مغرب کی انسانیت دوستی کو ہماری روح کا قراربنا دیا ہے ۔ میں نے اپنے بیٹے کے دلائل کو رد کرنے کی بجائے اسے بتانے اور سمجھانے کی کوشش کی کہ سائنس و ٹیکنالوجی کی ترقی کی ابتداءمیں مسلمانوں کا کردار بھی کم نہیں رہا۔ تاریخ گواہ ہے کہ مراکز صحت اور خیراتی ہسپتال سب سے پہلے عالم اسلام میں قائم کیے گئے۔ یہ ہسپتال بڑے وسیع و عریض تھے اور آج کے موجودہ ہسپتالوں کو بنیاد انہوں نے ہی فراہم کی ہے۔ منصوری ہسپتال جو قاہرہ میں تھا اس کا سالانہ خرچ دس لاکھ درہم تھا۔ نوری ہسپتال جو دمشق میں تھا اسے نورالدین الزنگی نے اس رقم سے قائم کیا تھا جو اس نے تاوان کے طور پر فرانس کے بادشاہ سے حاصل کی تھی۔ نویں صدی عیسوی میں جب مغربی ممالک میں ایک بھی ڈاکٹر نہ تھا اس وقت صرف بغداد میں 869 ڈاکٹر علاج معالجہ کرتے تھے۔ رازی اور ابن سینا کے مجسمے آج بھی پیرس اکیڈمی آف میڈیسن کی زینت بڑھا رہے ہیں ۔ پہلا ڈاکٹر جس نے ”دوران خون“ دریافت کیا وہ ابن النفیس تھا جس نے 1210ءمیں یہ دریافت کیا تھا۔ تیرھویں صدی میں دریافت ہونے والی دوران خون کے نظام سے مغرب والے 1924 ءمیں ایک اور مسلمان ڈاکٹر کے ذریعے ہی واقف ہوئے ورنہ یورپ والے تو صرف GALENکے نظام تک ہی محدود تھے۔ پہلا ڈاکٹر جس نے یہ دریافت کیا کہ پیدائش بچہ دانی کی حرکت سے وجود میں آتی ہے نہ کے بچے کی اپنی حرکات سے ، وہ ڈاکٹر علی ابن عباس تھا جو تیرھویں صدی میں ہو گزرا ہے ۔ پھوڑے اور گردن توڑ بخار کی تشخیص کے لیے ہم ابن سینا کے مرہون منت ہیں جو اس وقت سے آج تک ذرا نہیں بدلی۔ میں نے بیٹے کو مزید بتایا کہ ”الطبری“ وہ پہلا ڈاکٹر تھا جس نے طفیلی کیڑے کو شناخت کیا جس سے کھجلی اور جلد کی بیماری پیدا ہوتی ہے اس نے اس کا علاج بھی دریافت کیا۔ اندلس کا ابن زہر(Ibne Jassar) جو مغربی دنیا میں اوین زور کے نام سے جانا جاتا ہے ایک مسلمان سائنسدان تھا جس نے سب سے پہلے خشک اور تر ذات الجنب (Pleurisy) کی تشخیص کی، اس نے اس امر کا پتہ بھی لگایا کہ اس مرض کے مریض کو خون آور اور مصنوعی غذا فراہم کی جا سکتی ہے اور یہی پہلا شخص تھا جس نے سب سے پہلے پیٹ کے سرطان کی تشخیص کی ۔ مغرب کے شہنشاہMaxihilian نے جب یہ فرمان جاری کیا تھا کہ چیچک ایک خدائی عتاب اور سزا ہے اور جو اس بات پر یقین نہیں کرے گا اس پر کفر کا جرم عائد ہو گا اور سزا کے طور پر اس کے پاﺅں ٹھونک دیئے جائیں گے۔ ابن رشد اس سے دو صدیاں پہلے بتا چکا تھا کہ چیچک ایک چھوت کی بیماری ہے اور جسم سے اس کے زہر کو دور کیا جاسکتا ہے ۔ 
چیچک سے تحفظ کی دریافت مغرب میں اٹھارویں صدی میں ہوئی جبکہ مسلمان تیرھویں صدی میں یہ بات جان گئے تھے اور ایک مخصوص قسم کا مادہ (ویکسین) کے طور پر کلائی اور کہنی کے درمیان خراش ڈال کر لگایا کرتے تھے۔ اہل مغرب سولہویں صدی تک جذامیوں کو موت کے کیمپوں میں بھیج دیا کرتے تھے۔ ابن جسار نے جذام کی وجہ اور علاج پر نویں صدی میں کتاب لکھی تھی اور جذام کے مریضوں کا علاج خصوصی ہسپتالوں میں ہوتا تھا۔ مغرب والے تو طاعون کو عذاب سمجھتے تھے ابن حطیب نے غرناطہ میں چودہویں صدی میں تجربے و تحقیق ، طبی معائنے اور علامات کی بنیاد پر اس بات کا اظہار کر دیا تھا کہ یہ بیماری جسمانی رابطے سے پھیلتی ہے۔ عبدالمعید محو حیرت تھا اسے اس طرح دیکھ کر عبدالمقیت اور ننھی ارین فاطمہ بھی میرے ساتھ ساتھ تاریخ میں غوطہ زن ہو گئے۔ سناٹا طاری تھا میں نے جدید سکول کے طالبعلموں کو مزید بتایا کہ ابو القاسم نویں صدی میں اس سے واقف تھا کہ آپریشن کے وقت شریانوں کو کس طرح باندھا جاتا ہے اور وہ ٹانکے استعمال کرتے تھے جو آج بھی Fur Stich کہلاتے ہیں ۔ اسی طرح دو سوئیوں کے ٹانکے بھی استعمال کرتے تھے جو مغرب میں عربوں کے ذریعے چھ صدیوں بعد پہنچے۔ میں نے بتایا کہ مغرب نے سُن کرنے کی دوا اور بے ہوشی کی دوا 1844ءمیں دریافت کی تھی جبکہ نویں صدی عیسویں میں مسلمان ڈاکٹر خشک افیم میں ڈوبے ہوئے اسفنج استعمال کرتے تھے جنہیں موقع پر نم آلود کیا جاتا تھا اور مریض کی ناک پر رکھ دیا جاتا تھا۔ یہ تو طب کی باتیں ہیں۔ میرے بچے کھلی آنکھوں سے مجھے دیکھے جا رہے تھے۔ وہ کچھ کہنا چاہتے تھے مگر میں انہیں مزید حیران کرنا چاہتا تھا۔ میں نے کہا آج مغرب ہمیں جدید راکٹ ٹیکنالوجی سے مرعوب کیے جا رہا ہے اس کا آغاز بھی مسلمانوں نے کیا ۔ بارود کے ذریعے دھکیل کر نشانہ لگانے کا خیال سب سے پہلے چین میں پیدا ہوا ۔ 1332ءمیں پین کنگ کی لڑائی کے موقع پر منگولوں کے خلاف چینیوں کوکچھ ایسے تیروں کا سامناکرنا پڑا جو کسی دھماکہ خیز مادے کے ذریعے دھکیل کر پھینکے جاتے تھے اور وہ مادہ شورے سے تیار کیا گیا تھا ۔ منگول خان کبلائی نے ان ہتھیاروں کا استعمال چینیوں کی مزاحمت روکنے کے لیے کیا اور یہ سب کس کی مدد سے کیا ۔ ؟یہ بات ہمیں مسلمان مورخ راشد الدین کی تحریروں سے پتہ چلتی ہے کہ کبلائی خان کی درخواست پر ایک مسلمان انجینئر دمشق بال بک سے وہاں بھیجاگیا اور اس کے بیٹوں ابوبکر، ابراہیم محمد اور دیگر نے مل کر سات بڑی مشینیں بنائیں اور چینی شہر کامحاصرہ کیا ۔ مصری کمانڈر فخر الدین نے فرانسیسی فوج کے خلاف بھی دھماکہ خیز مادوں کا استعمال کیا تھا ۔ یورپ میں اندلس کے عربوں نے سب سے پہلے توپ کا استعمال کیا ۔ علم فلکیات، علم کیمیا، علم طب و دیگر سائنسی علوم میں بھی مسلمانوں کے کارہائے نمایاں قابل فخر ہیں ۔
میں بڑے دھڑلے سے باتیں کیے جارہا تھا کہ اچانک عبدالمعید نے ایک بار پھر مجھے لاجواب کر دیا۔ اس نے کہا بابا، اگر یہ سب کچھ سچ ہے تو پھرمیرے نصاب میں کیوں نہیں، میرے اساتذہ کیوں نہیں بتاتے، ہماری تاریخ کے اوراق میں ان باتوں کا ذکر کیوں نہیں؟ میرے پاس ان باتوں کا جواب نہیں تھا، ہمارے نصاب بنانے والے، ہمارے اساتذہ اور محکمہ تعلیم تاریخ کے یہ حقائق نئی نسل کو کیوں بتانا نہیں چاہتے ہیں ۔ یہ میرے بیٹے کا نہیں، آج کے ہر پڑھے لکھے نوجوان کا سوال ہے ....؟ جس کا جواب ہمیں بحیثیت قوم اور بحیثیت مسلمان دینا ہے ۔ تہذیبیں مٹتی رہتی ہیں ، تمدن دم توڑتے رہتے ہیں، لیکن ان کی ترقی پرور اور حیات افروز روایات ہمیشہ زندہ رہتی ہیں۔ ہمیں نئی نسل کو اسلام کی روشن خیالی، علم دوستی، تحقیق کے ذوق اور انسانیت دوست اخلاقیات سے آگاہ کرنا ہے تاکہ وہ ہمیں دہشت گرد کی بجائے علم دوست سمجھیں ۔ ہم جہلا کے وارث نہیں، علم و دانش کے علمبردار مسلمانوں کے وارث ہیں، ہمیں اپنی نسلوں کو اپنی تاریخ سے آگاہ کرنا ہے تاکہ وہ مستقبل میں ”صراط مستقیم“ پر چل سکیں۔