جمعہ، 22 مئی، 2015

اسلام اور سماج: جامعات کا کردار



اقوام کے سفرِ تاریخ میں ہر مرحلے پر کوئی نہ کوئی سوال ایسا ہوتا ہے جس سے محدود تناظر میں ہی سہی پوری معنویت اور اس کی سمتِ سفر وابستہ ہوتی ہے ۔ تاریخ دراصل ایسے ہی سوالوں کی دریافت ، ان کے درست جواب کی تلاش یا ان سے انحراف کرنے کی کوشش کا ایک مسلسل رزمیہ ہے۔ سوالوں کی انسانی کائنات میں یہ درمیدگی ہی دراصل انسانی معنویت کو زمانے کے دھارے میں یا مختلف مکانی تہذیبوں کے سانچے میں دریافت کرتے جانے یا اسے برقرار رکھنے کی صورت ہے ۔آج پوری امت کے سامنے یہ سوال کھڑا ہے کہ کیا سماج کی نصب العینی حرکت اور اس کے مقصود سے صرف ِنظر کر کے مظاہر کا مطالعہ اس کا کوئی فہم پیدا کر سکتا ہے ؟ ہمارے ہاں اسلام اور سماج کے مختلف پہلو ¶ں پر مناظرہ تو بہت ہو چکا، ضرورت اس امر کی ہے کہ اس سوال کے جواب کی تلاش کے لیے سنجیدہ مکالمے کا آغاز ہو سکے۔ مسلمانوں کے علمی تجربے اور اہل مغرب کے علمی کارناموں سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ علم جس معاشرتی روایت میں جنم لیتا ہے وہ بالعموم اس کے دائرے سے باہر نہیں ہوتا، اس لیے لازم ہے کہ علوم کو اسلام کے سماجی تناظر میں بھی دیکھا جائے اور یہ تحقیق کی جائے کہ اس صورت میں ان کی موجودہ ہیئت پر کیا اثر پڑتا ہے۔ اسلام اور سماج کا علمی جائزہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ انسان اس حد تک فطرتاً عمرانی الطبع ہے کہ بغیر سماج کے نہ تو وجود میں آسکتا ہے نہ باقی رہ سکتا ہے اور نہ ترقی کر سکتا ہے ۔ 
یونیورسٹیوں کا نصب العین موجودہ علم کی ترسیل، نئے علم کی تحقیق اور تجزیاتی و تخلیقی قوتوں کی آبیاری ہوتا ہے ۔ جامعات سماجی ترقی یا اس کے فقدان اور مجموعی طور پر معاشرے کی خواہشات ، مایوسیوں، تنازعات، طبقاتی ہیئت اور عمومی ذہنی ساخت کا پیمانہ ہوتی ہیں ۔ لیکن اسے بدقسمتی کے سوا کیا کہیے کہ ہماری یونیورسٹیوں میںیہ وظیفہ خال خال ہی انجام دیا جاتا ہے ۔ سائنسی تحقیق ہو یا فلسفیانہ، سماجی یا سیاسی مسائل ،ہمارے ہاں ان پر سنجیدہ مباحث کم یاب ہیں۔ ہماری دانش گاہیں حربی ثقافت و سماجی مسائل کی تربیت گاہوں میں بدل کر فکری بانجھ پن کا شکار ہیں۔ تاہم سنگلاخ صحراﺅں میں کہیں کہیں کوئی نخلستان بھی مل جاتا ہے جس کی ایک نمایاں مثال یونیورسٹی آف گجرات ہے ۔ اس کے شیخ الجامعہ ڈاکٹر ضیاءالقیوم جیسے لوگوں کو خدا سلامت رکھے کہ ان کے ساتھ مل کر آدمی سوچتا ہے اور شکر کرتا ہے کہ کم از کم اسے اہل خیر سے ایک نسبت و نیاز تو حاصل ہے۔ ایسے ہی لوگ کسی نہ کسی درجے پر اسلامی سماج کی حقیقی روح کے مظاہر ہیں۔ ایسے پختہ فکر اور حسنِ عمل کے امتزاج کے حامل وائس چانسلر کا ”خطہ ¿یونان“ کی شہرت رکھنے والی سخنوروں کی بستی گجرات کے لیے ایک مثبت تہذیبی تجربہ ہے۔ انہوں نے علم و فکر اور تحقیق و دانش کے متوازن نظام تدریس و تعلیم سے جامعہ گجرات کو قومی امنگوں اور علمی آرزوں کی حامل دانش گاہ بنانے کا تہیہ کر رکھا ہے اور اس سفر میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھے ہوئے۔ دنیا بھر میں قدیم اور جدید جامعات اسی لیے فکر و علم کا مرکز رہی ہیں کہ ان میں آزادی فکر و اظہار کو خاص اہمیت دی جاتی ہے، اسی آزاد فضا میں علم و آگہی کا چراغ روشن ہوتا ہے ۔ سب سے اہم قومی تقاضا اور عصری چیلنج یہی ہے کہ ہماری جامعات کو معاشرتی ترقی کے اداروں کے طور پر ابھرنا ہے ۔ اس بات کا شدید احساس جامعہ گجرات میں ”اسلام اور سماج: جامعات کا کردار“ کے موضوع پر منعقدہ علمی و فکری کانفرنس میں شرکت کر کے ہوا۔ رئیس الجامعہ کی راہنمائی اور فعال کردار کے حامل دانشور اساتذہ ڈاکٹر غلام علی، ڈاکٹر زاہد یوسف اور ڈاکٹر محمد نواز کی قیادت میں منعقدہ اس قومی کانفرنس میں حساس موضوع پر گفتگو کرنے والے سنجیدہ طبع دانشور وںکا اجتماع تھا۔ کلیدی خطبہ میں شریعہ ایپلٹ کورٹ کے جسٹس امریکہ و ملائیشیا سمیت دنیا بھر کے ممتاز عالمی اداروں میں تدریس و تحقیق کا وسیع تجربہ رکھنے والے اسلامی نظریاتی کونسل کے سابق چیئر مین ڈاکٹر خالد مسعود نے کہا کہ اسلامی معاشرہ کی تشکیل تفہیم و تعبیر میں علم نے ہمیشہ بنیادی کردار ادا کیا ہے ۔علم ہی وہ کنجی ہے جو ہمارے لیے دینی و دنیاوی ترقی کے تمام قفل کھول سکتی ہے ۔مسلمانوں نے ترک علم کی راہوں پر چل کر جو نقصانات اٹھائے ہیں انہیں فراموش کر کے روح عصر سے ہم آہنگی کا طریقہ اپنایا جائے تو دور حاضر میں اسلام کے نظریہ ¿ علم کے حوالے سے جامعات کا کردار روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتا ہے ۔ پچھلی دو صدیوں میں حفظ دین کی بہت کوششیں ہوئیں مگر دین کی اجتہادی روح کو کچل کر دین کی آفاقیت سے دوری ہی اختیار کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ جامعات اپنے علمی کردار کے ذریعے پاکستان میں سماجی ترقی کے عمل کو تیز کرتے ہوئے ایک خوشحال اور پر امن قوم کی تشکیل میں مددگار ہو سکتی ہیں، ادارہ تحقیقات اسلامی ، اسلام آباد کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر محمد ضیاءالحق نے کہا کہ پاکستان تمام مسلم امہ کی امیدوں کا مرکز ہے طلباءو طالبات کی نوجوان نسل ہمارے مستقبل کی امین ہے جامعات اپنے سماجی کردار کو نبھاہتے ہوئے نئی نسل کی بہتر تعلیم و تربیت سے معاشرتی تبدیلی برپا کر سکتی ہیں۔ قومیں اس وقت تباہ ہو جاتی ہیں جب وہ مسائل سے پہلو تہی برتتی ہیں۔ پاکستان کا دستور اسلامی اور جمہوری ہے ۔مٹھی بھر انتہا پسندوں اور دہشت گردوں کو یہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ اسلام کے نمائندہ بن کر اپنے طریقے سے اسکی تفہیم و تشریح کریں۔ یونیورسٹیوں کے اساتذہ و طالبعلموں نے معاشرہ کی تقدیر کو بدلنا ہے ہمیں دین و سیاست کو مدغم کرنے کی بجائے مختلف طبقات فکر کے مابین ایک صحت مند مکالمہ کو ترویج دینے کی ضرورت ہے اور جامعات یہ ذمہ داری بخوبی نبھا سکتی ہیں۔ ممتاز دانشور و کالم نگار خورشید ندیم نے کہا سماجی بدلاﺅ میں جامعات کی اثر پذیری آج ایک اہم سوال بن چکا ہے۔ جامعات اصلاً ارتقائے فکر کے ادارے ہیں یہی ادارے نوجوان نسل کی ذہنی و فکری آبیاری کا فریضہ سر انجام دیتے ہیں اور علم کی تشکیل کر کے علم کا معیار مقرر کرتے ہیں۔ جب تک جامعات سماج میں اپنا کردار واضح کرنے کے قابل نہیں ہوتیں معاشرہ میں فکری قیادت کا بحران رہے گا ۔ علامہ رضاءالدین صدیقی کا کہنا تھا کہ اسلامی معاشرہ وحدت انسانیت کا درس دیتا ہے ہمیں انفرادی اور اجتماعی سطح پر رویوں میں تبدیلی لا نے کی ضرورت ہے ۔ مسلمان کا شیوہ ہے کہ وہ وقت سے پیچھے نہیں وقت سے آگے چلے ۔ مسلم معاشرہ کا مزاج کار ِ خیر کی تبلیغ ہے۔ علم ، عشق اور بصیرت سچے مسلمان کا طرہ ¿ امتیاز ہے ۔ ڈاکٹر سفیر اعوان نے کہا کہ جامعات کے کردار کو اجاگر کیے بغیر ہم سماجی ترقی کا خواب نہیں دیکھ سکتے ۔ انہوں نے ٹائن بی کے حوالے دیتے ہوئے کہا کہ معاشرتی ارتقاءو ترقی کا عمل ایک تخلیقی اقلیت کی بدولت جاری رہتا ہے ۔ پروفیسر احمد ندیم اسلامی معاشرہ کی تشکیلی بنیادوں پر جامع گفتگو کی اور کہا کہ جامعیت اور اعتدال اسلامی معاشرہ کے دو اہم عناصر ہیں، مسلم سماج میں وسعت نظر اور وسعت قلب پائی جاتی ہے مگر ہم صرف خشک ظاہریت کا شکار ہو کر مختلف مسائل کا شکار ہو گئے ہیں آج کا دور تلواروں کی جنگ کانہیں بیانیہ کی جنگ کاہے ۔پاکستانی سماج فہم کے بحران کا شکار ہو کر عدم اطمینانی کا لقمہ بنا ہوا ہے ۔ عقل مذہب سے متصادم نہیں بلکہ ایک جاری و ساری اصول ہے پاکستانی سماج میں مکالمہ کی ناگذیر ضرورت ہے ۔ کانفرنس کے چیئرپرسن ڈاکٹر ضیاءالقیوم نے منتظمین کو خراج تحسین پیش کیا کہ اہم موضوع پر کانفرنس منعقد کروائی اور کہا کہ جامعات کا اصل کام طلباءو طالبات کی سوچ، فکر اور شخصیت کی تعمیر ہے ۔ تحقیق و تجسس کے نئے تناظر میں جامعات میں اسلام اور سماج کے حوالہ سے بحث و مکالمہ کا آغاز پاکستانی سماج کو نئی رفعتوں سے آشنا کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔ جدید تعلیم یافتہ افراد اور عام لوگوں میں جو تفاوت فکر پائی جاتی ہے اس کا واحد حل ان کے درمیان بامعنی مکالمہ ہے ۔ مغربی جامعات میں اسلام کے سماجی پہلوﺅں کا مطالعہ مخصوص تناظر میں ہو رہا ہے ۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہماری اپنی جامعات بھی نظری بحثوں تک محدو رہنے کی بجائے اسلامی فکر کے اطلاقی پہلووں پر بھی توجہ دیں، ہمیں مجتہدانہ بصیرت کی اشد ضرورت ہے ۔ لازم ہے کہ ہمارے معاشرے میں موجود مذہبی علوم کے ماہرین اور جامعات کے اساتذہ اور طلباءکے درمیان ابلاغ کو موثر بنایا جائے اور با معنی مکالمے کے عملِ مسلسل کو یقینی بناتے ہوئے اسلام اور سماج کے تعلق پر ایسے بیانیے تشکیل دیے جائیں جو ہمارے معاشروں میں موجودہ انتہا پسندی اور نفرت کا خاتمہ کرتے ہوئے م وثر اور بامعنی مکالمہ شروع کر سکیں۔ یونیورسٹی آف گجرات نے اس مکالمے کا آغاز کر کے اپنی ذمہ داری نبھائی ہے تاہم یہ سلسلہ جاری رہے گا تب ہی ثمر آور ہو گا کہ

پت جھڑکی ہر ٹہنی لہو نشاں ہے 
اور انسانی معاشرہ جنگل نہیں کہ
خزاں کے بعد بہار کی آمد یقینی ہو 
انسانی اجتماع میں گل کا نصاب مقرر ہو 
جسے ادا کیے بغیر 
بہار کا امکان روشن نہیں ہوتا