بدھ، 27 مئی، 2015

ابن مریم ہوا کرے کوئی



اسے حسن اتفاق کہیے یا کچھ اور میں شاہ ولی اللہؒ کا ” فیوض الحرمین “ میں یہ قول پڑھ رہا تھا کہ” میں ایسے دور میں ہوں جو جہالت ، تعصب ، خواہش نفس کی پیروی اور ہر شخص کا اپنی ناقص رائے پر اترانے کا دور ہے “ اِدھر بات ختم ہوئی اُدھر میرا دروازہ کھلا اور صدا گونجی ، بتائیے ناں پاکستان اور پاکستانیت کے وکیل صاحب ! یہاں تو جابروں کی خدائی اور جبر کا راج ہے، بدکار نفرتوں کی سیاہ نے تاریکیوں کے ہرکارے بلا رکھے ہیں، نگار جہاں کے سارے خواب زخم زخم ہیں، سلامتی کی ساری اُمیدیں نقش برآب ہیں،میں نے نظر اُٹھا کر دیکھا تو میرا دوست حسب معمول تلخی حیات کا جام نوش کیے ہوئے آپے سے باہر ہو رہا تھا۔ میں جانتا ہوں اس کے آباءنے ظہورِ پاکستان کے وقت مشرقی پنجاب میں اپنا کاروبار تیا گ دیا اور اپنے بچوں کے روشن مستقبل کے لیے قائد اعظم کے پاکستان میں آ گئے تھے۔ حُب الوطنی اسکی گُھٹی میں ہے، اس نے علم کے حصول میں ساری توانائیاں صرف کیں اور با عزت روزگار میرٹ پر حاصل کیا۔ وہ عمومی معنوں میں ایک اہم ادارے کی اہم انتظامی پوسٹ پر فائز ہے۔ فرض شناسی اور حُسن انتظام اس کی شہرت ہے تو دیانتداری اور رزقِ حلال اس کا نصب العین ۔ وہ گذشتہ چند سالوں سے سرکاری ادارے کی اکلوتی تنخواہ پر گذارہ کرتے کرتے ہلکان ہو گیا ہے ، مجھے علم ہے اس نے دیانتداری کے شوق میں اپنی اور اہل خانہ کی آرزوں، تمناﺅں اور خواہشوں کا ہمیشہ خون کیا ہے۔ وہ اپنے ارمانوں کے لاشے اپنے کندھے پر اُٹھاتا رہا اور فطرت سلیم کے باعث سب کو قناعت اور شکر کے لیکچر دیتا رہتا ہے۔ گذشتہ سالوں میں اس نے بچوں کی بیماری سے گھروں کے کرائے تک کے عذاب سہے مگر حوصلہ نہیں ہارا۔ آج میرا یہ محب وطن دوست میرے سامنے بے ہمتی، مایوسی اور نفرتوں کی کرچیوں میں بٹا پڑا تھا۔ اسکی گفتگو وطن عزیز میں لہو روتی صبحوں اور دھواں اُگلتی راتوں کا ماتم کر رہی تھی۔ میں نے اسے بٹھایا، پانی پلایا اور شاہ ولی اللہؒ کا مذکورہ قول سنایا تو وہ تو تلملا اُٹھا، جی شیخ صاحب ،میری رائے ناقص ہو سکتی ہے مگر قوم کو شاہ ولی اللہ ؒ کا کہا پورا سچ سنائیے، آدھا نہیں۔ حجة اللہ البالغہ میں شاہ صاحب نے اپنے عہد کا جوتجزیہ کیا ہے اس کی بازگشت میں آج دھرا نے آیا ہوں۔ شاہ ولی اللہؒ لکھتے ہیں ”یہ ٹیکس ہی ملک کی بربادی اور عوام کی بدحالی کا بہت بڑا سبب ہیں کیونکہ جو لوگ حکومت کی بات مانتے ہیں اور فرمانبرداری (ٹیکس دے کر ) دکھاتے ہیں ، وہ تو تباہ حال ہو رہے ہیں اور جو سرکش ہیں اور نادہندگان ، ان کے حوصلے بڑھتے رہتے ہیں۔ “میں نے اپنے دوست سے عرض کیا، جناب یہ تو غیر ملکی آقاﺅں کے حوالے سے ہے، اس نے پلٹ کر مجھے لاجواب کر دیا کہ ہمارے حکمرانوں میں اپنوں والی کون سی بات دکھائی دیتی ہے۔ یار میں گذشتہ چند سالوں میں ایمانداری سے تنخواہ پر گذارہ کرتے کرتے دس لاکھ سے زیادہ کا مقروض ہو گیا ہوں۔ گریڈ 20کی نوکری میں گھر کا چولہا جلانا مشکل ہوا ہوتا ہے۔ دیگر گھریلو ذمہ داریوں کے لےے بندوبست کیسے کروں۔اپنی زندگی تو جبرِ مسلسل کی طرح کاٹ لی  ہے ،کیااپنے بچوں کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ تعلیم سے بھی محروم رکھوں۔ ریاست جو صحت و تعلیم کی ضامن ہے وہ مالیاتی جادوگروں کی منصوبہ بندیوں کے بغیر عوامی انقلاب کے بغیر تحلیل ہو گئی ہے۔ ریاست میرے بچوں کو وقت کے مطابق صحت و تعلیم کی ضمانت نہیں دے رہی، سب کچھ نجی طور پر کرنا پڑتا ہے۔ حکمران اتنے کج فہم ہیں کہ خود تو ریاستی فرائض کی ادائیگی میں ناکام ہی نہیں تعلیم و صحت کے نجی مافیا پر بھی ان کا کوئی کنٹرول نہیں۔ میں اب تو اپنے بچوں کی فیسیوں کی ادائیگی سے بھی قاصر ہوں، میرا ماضی تو خود غرض حکمران مافیا نے چھین لیا، میراحال میرے اضطراب کی نذر ہو گیا ہے،کیا اب اپنا مستقبل بھی خود تباہ کر لوں۔ اپنے بچوں کو اچھی تعلیم بھی نہ دلواﺅں اور اگر اچھے سکولوں میں بھیجوں تو فیسیں کیا وزیر خزانہ ادا کریں گے؟ کچھ سوچا تھا کہ چلیں تنخواہیں اگر حالات کی مطابقت سے بڑھیں گی تو کچھ تکلیف میں کمی ہو گی مگر ایسا بھی نہیں۔ گذشتہ ایک ، ڈیڑھ عشرے کے سرکاری ملازمین کو ایڈہاک ریلیف کے نام پر ”زکوٰة“ دے کر ٹرخایا جا رہا ہے۔ ان اضافوں کو بنیادی تنخواہ میں شامل نہیں کیا جاتا، ہاﺅس رینٹ و دیگر الاﺅنسز وقت کے ساتھ بڑھنے کی بجائے جمود کا شکا ر کر دیے گئے۔ جب سے میاں نواز شریف کی حکومت ہے پے سکیلز کی تبدیلی یا نظر ثانی پر کمیٹیاں بنائی جا رہی ہیں مگر ان کی آراء و تجاویز پر کوئی عمل نہیں کر رہا ہے۔ سُنا ہے اس بار بھی مالیاتی جادوگروں نے سرکاری ملازمین کی آنکھوں میں دھول جھونک کر اُونٹ کے منہ میں زیرہ دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ شیخ صاحب یہاں تو ہمیں مرنے والی آسوں کا خون بہا تک نہیں ملتا، جن کو ملتا ہے ان کو بھی وقت پر نہیں ملتا ، محنت کا اجر مل بھی جائے تو ایسے ملتا ہے جیسے قرض کی رقم کوئی قسط قسط ہو جائے اورجو اصل ثواب ہے وہ پس نوشت ہو جائے۔ یہاں عوام کے گھروں میں صبح کا سورج نہیں نکلتا، نکلے بھی تو دیرسے نکلتا ہے۔ 

میں اپنے دوست کی باتیں سن کر سحر زدہ ہو گیا، پورا سچ، ایک سرکاری ملازم کیسے بولے، کیسے لکھے ؟میں سوچ رہا تھا جب حقدار کو حق وقت پر نہ ملے تو معاشرے کیسے زندہ رہ سکتے ہیں،حکمرانوں کے پاس دکھاوے کی معیشت کے لیے میٹرو بسوں کے منصوبے ہیں ، مگر ان پر بیٹھنے والوں کی اہلیت اور معیارِ زندگی کے لیے خزانہ خالی ہے
ابن مریم ہوا کرے کوئی 
میرے دکھ کی دوا کرے کوئی 
سنا ہے وزیر خزانہ اسحا ق ڈار صاحب جون کے پہلے ہفتے میں44کھرب روپے کا بجٹ پیش کریں گے، اس میں سرمایہ داروں، صنعتکاروں، جاگیرداروں کے لیے تو سب کچھ ہو گا کہ یہ ان کے کاروباری و طبقاتی ساتھی ہیں، ٹرخایا جائے گا تو صرف سرکاری ملازمین کو، ہر سال "ایپکا" سٹرکوں پر رسوا ہوتی ہے مگر کوئی سننے والا نہیں، کیا وزیر اعظم صاحب کے سینے میں دل نہیں یا اس پر مہر لگ چکی ہے کہ غریبوں اور ملازموں کی کوئی صدا ان تک نہیں پہنچ پاتی، حکمرانوں کی مسلسل بے حسی نے اس معاشرے کو ریوڑ میں بدل دیا ہے ، متوسط طبقہ ختم ہو گیا ہے، امیر بے حس اور غریب احساس انسانیت سے محروم ہوتے جا رہے ہیں۔ نہ کسی میں شعور مدنیت بچا ہے نہ احساس وطن رہا ہے۔ معاشرت سے عاری معیشت کی چکی میں پستے پاکستانی دنیا بھر میں تماشہ بن کر رہ گئے ہیں۔ منافع خور حکمرانوں نے ریاست اور حکومت کا فرق مٹا کر ملک کو فیکٹری اور سیاست کو تجارت بنا کر رکھ دیا ہے۔ تمام قربانیاں عوام دیں ، تمام دکھ عوام جھیلیں، تنخواہیں اور الاﺅنسز جب چاہیں اور جتنے چاہیں پارلیمنٹیرینزکے بڑھیں۔ کیا ریاست اور کیا حکومت ۔۔۔بازیچہ اطفال معراج ہنر ٹھہرے ہیں ۔ کہیں فساد خلق کی سازش ،تو کہیں فروغ فتویٰ کی یورش، خستہ خالی میں گذرتے شادماں خواب و خیال، رسمِ آوارہ خرامی سے چھلکتے ماہ و سال۔۔۔کیا اس ملک میں اب حال کی نوحہ گری میں مبتلا بیمار دل، بھٹکتی آرزﺅں کی کرچیاں، عمر کی ریگ ِرواں پر مٹتے قدموں کے نشاں، جان بلب اُمیدیں، رائیگانی کا ملال، خزاں ہی خزاں رہ گئی ہے ۔بُری حکمرانی نے میرے دوست جیسے محب وطنوں اور سچے مسلمانوں کو بھی کمزور کر دیا ہے۔ زورآور کی خدائی اور نادار کا رُتبہ کم ہو گا تو پاکستانیت دم توڑے گی ہی ناں۔۔۔ یہاں اب سفاک شکاریوں کی طاقت اور معصوم ہرنوں کی بے بسی کا میدان سجا ہوا ہے۔ میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار سے گذارش کروں گا کہ جناب عالی! سرکاری ملازمین کے حالات بدلے بغیر کسی مثبت تبدیلی کے نعرے کو حقیقت میں نہیں بدلا جا سکتا۔ سرکاری ملازمین پچھلے کئی سالوں سے تنخواہوں کے معاملے میں بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بھی خاموش ہیں۔ براہِ کرم ان کے پے سکیلوں پر نظر ثانی کریں، ان کے معیارِ زندگی پر توجہ دیں، ان کی تنخواہوں کو عصری معیشت سے ہم آہنگ کریں لیکن میرے جیسے قلمکار کے لفظوں میں اتنی طاقت کہاں کے وزارتِ خزانہ اور حکمرانوں کے ایوانوں تک پہنچ سکیں۔ میں اپنی بات اپنے دوست کی سنائی ہوئی کسی درد مند دِل رکھنے والے شاعر کی نظم پر کرتا ہوں
خزاں گذیدہ ہے گلشن، کوئی بہار نہیں 
خوشی کا رنگ یہاں، کوئی پائیدار نہیں 
ہیں اتنے گھاﺅ کہ ان کا کوئی شمار نہیں 
ترازو کوئی نہیں اور باٹ کوئی نہیں 
وہ کون ہے جو یہاں، اس زمین کے سینے پر 
غموں کی فصل اُگاتا ہے، رنج بانٹتا ہے؟