جمعہ، 16 اکتوبر، 2015

سرسید احمد خاں:فہم نو کی ضرورت ہے


انیسویں صدی کے وسط میں ہماری قومی زندگی فشار اور بحران کے سنگم پر کھڑی تھی۔ راستے گم تھے اورر اہ نما مفقود! ان نازک حالات میں جس شخص نے اعتماد اور حوصلے کے چراغ جلائے، علی گڑھ جیسی اہم تحریک کی داغ بیل ڈالی اور پھر اس کی قیادت کے فرائض بھی انجام دیئے۔ اسے ہم سر سید احمد خاں کے نام سے یاد کرتے ہیں ۔ سر سید نے قومی زوال سے متاثر ہو کر قومی تعمیر کے لیے کمر باندھی تو زندگی کے بے شمار پہلو انہیں داغ داغ نظر آئے ۔ تہذیب و تمدن ، مذہب و معاشرت، سیاست و معیشت ، علم و ادب ، زبان اور تعلیم غرض کوئی پہلو ایسا نہ تھا جو اصلاح طلب نہ ہو ۔ ان میں سے ہر پہلو سر سید کی توجہ کا مرکز بنا اور انہوں نے ہر ایک پہلو میں زندگی کی نئی روح پھونکنے کی کوشش کی ۔ 
مولانا حالی اور سر سیدکے دوسرے معاصرین نے ان کے کام کو1857ءکے ہنگامہ رستا خیز اور برطانوی اقتدار کے قیام اور اس سے پیدا شدہ حالات کی روشنی میں ہی دیکھا ہے مگر آج ان کی وفات کے ایک سو تیرہ سال بعد بھی ان کے کام کو1857ءکے پس منظر میں دیکھنا ہی کافی سمجھا جاتا ہے حالانکہ سرسید دور جدید کے پہلے مسلمان تھے جس نے آنے والے زمانے کے ایجابی مزاج کا عکس اپنے آئینہ ادراک میں دیکھ لیا تھا اور اپنی ساری جدو جہد کا رُخ ہندوستان کی فلاح و بہبود، اسلام کی نئی تفسیر و تعبیر اور ایشیاءکے نفس ہائے رمیدہ کی باز یافت کی طرف موڑ دیا تھا۔ سر ہملٹن گب نے سر سید کی قائم کردہ درسگاہ کوFirst modernist organization of Indiaقرار دیا تھا۔ 
سر سید نے اپنی تحریک کے ذریعے بے زاری، مایوسی ، غلامی اور تقلید کی ز نجیروں میں جکڑے ہوئے لوگوں کو ایک نئی زندگی کی بشارت دی۔ ان کی آنکھوںمیں اعتماد اور حوصلے کی چمک پیدا کی ۔ سر سید کا خیال تھا کہ جب تک ہم اندھی تقلید کی زنجیروں کو نہ توڑیں گے اصلاح کا کوئی کام نتیجہ خیز ثابت نہ ہو گا ۔ اسی خیال کے پیش نظر زندگی اورادب میں عقلیت اور افادیت کا تصور پروان چڑھا۔ زندگی سے متعلق مسائل کو عقل کی روشنی میں دیکھنے اور پرکھنے کی کوشش شروع ہوئی ۔ اسی طرز فکر کے باعث ان پر کفر کے فتوے لگے لیکن ان کے کفر نے ایمان کے لیے نئے راستے کھول دیئے ۔ ہمارے معاشرے میں میں عمل اور حرکت کی ایک موج پیدا ہوئی۔ مشرق و مغرب کے امتزاج سے ایک نیا معاشرہ ابھرنے لگا۔ جدید اور قدیم کے مابین سر سید تحریک نے ایک پل کا کام کیا ۔ یہ بھی یاد رہے کہ تقلید سے پرہیز اور روایت شکنی پر زور دینے کے ساتھ انہیں اپنی اچھی روایات، عقاید اور تہذیبی ورثہ سے بھی دلی تعلق تھا۔ سرسید اور ان کے رفقاءکی جدوجہد کی تہہ میں فکر و نظر کے ساتھ گہرا انسانی ، علمی اور تاریخی شعور بھی کارفرما تھا جو اپنے مفید اور کار آمد ورثہ کو برقرار رکھتے ہوئے ، دوسروں سے اچھی اور مفید اقدار کو قبول کرنے پر اصرار کرتا تھا اور اسی تصور پر زندگی کی صحت مند تعمیر کرنا چاہتے تھے۔ 
آج وطن عزیز جن سماجی و فکری مسائل کا شکار ہے اس کے تدارک کے لیے بھی ہمیں ایسی ہی ہمہ جہت ، روشن خیال اور منطقی تحریک کی ضرورت ہے ۔ آج سر سید ہم سے پوچھ رہے ہیں کہ کیا ہم نے اپنی ذات سے بلند ہو کر اخلاص اور محبت سے اپنی تہذیب کا عرفان حاصل کرنے کی کوشش کی ؟ اور کیا ہم نے ان کی طرح فراخدلی اور رواداری کے ساتھ ، جذباتیت سے بلند ہو کر اپنی زندگی کے راستے متعین کیے ہیں ؟ اور کیا ہم نے اس تہذیبی بحران پر جس سے آج ہم دوچار ہیں اس طرح حاوی ہونے کی کوشش کی جس کی مثال ہمیں سر سید کے عمل میں ملتی ہے ؟ 
سر سید کے سماجی اور تہذیبی تصورات اگرچہ ہمارے معاشرے میں غیر محسوس طور پر نفاد کر گئے تھے لیکن ان کا شعوری اور تفصیلی جائزہ بھی ابھی نہیںلیا گیا ؟ تعلیم کے بارے میں ان کے تصورات کی افادیت آج بھی موجود ہے مگر ان کو باضابطہ مطالعہ کے بعد مرتب شکل دینے کی آج بھی اشد ضرورت ہے ۔ 
علامہ اقبال نے بہت پہلے کہا تھا کہ ”مسلمانان ایشیا اب تک سرسید احمد خاں کی ذہنی کاوش کو سمجھنے کے قابل نہ ہو سکے“ انہوں نے مزید کہا کہ ”اس حقیقت کا انکشاف مجھ پر ہوا کہ سرسید کی نگاہ ایسے وسیع و عریض اُمور پر جمی ہوئی تھی جن کا تعلق مسلمانان ایشیاءکے مذہب اور سیاست سے تھا۔ پس مسلم ایشیاءنے اب تک ان کی شخصیت کی حقیقی عظمت کا اندازہ نہیں کیا۔ مولانا ابوالکلام آزاد نے بھی سرسید احمد خاں کی شخصیت کو عالم اسلام کے وسیع فکری پس منظر میں دیکھا اور ”وکیل “ کے ایک ادارےے میں لکھا تھا کہ ”جو آواز آج سے تیس چالیس برس پیشتر اس اسلامی دور کے آخری مجدد کی زبانی سرزمین ہند سے بلند ہوئی تھی آج مصر، استنبول اور خود ہندوستان کے ہر روشن خیال اور تعلیمافتہ شخص کی زبان پر ہے ۔ مولانا ابوالکلام نے علی گڑھ کے ایک کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ”اگر ہندو اور مسلمانوں نے سر سید کی رائے کی روح کو سمجھا ہوتا اور اس کی پیروی کی ہوتی تو آج ملک کی تاریخ کا دوسرا رُخ ہوتا۔ بلاشبہ سرسید کے کارنامے ترکی کے مدحت پاشااور فواد پاشا، ایران کے حجةالاسلام شیخ ہادی نجم آبادی، مصر کے مصطفےٰ کامل، تیونس کے خیر الدین پاشا، الجیریا کے امیر عبدالقادر، طرابلس کے امام محمد سنوسی، افغانستان کے سید جمال الدین افغانی اور روس کے مفتی عالم جان کے کارناموں کے ساتھ مطالعہ کا مطالبہ کرتے ہیں۔ 
اگر اقبال، گب اور آزاد کے دئےے ہوئے معیار اور سرسید کی جدوجہد و مساعی کے جملہ پہلو ہمارے پیش نظر رہتے تو سرسید کی حیرت انگیز ہمہ گیری اور اس کے دوررس اثرات کا عظیم الشان میدان نظروں کے سامنے آجاتا لیکن ہم نے ہمیشہ محدود دائروں میں سرسید کی عظمت کو تلاش کرنے کی کوشش کی اور بقول اقبال 
اس مردخدا سے کوئی نسبت نہیں تجھ کو 
تو بندہ آفاق ہے، وہ صاحب آفاق
حقیقت یہ ہے کہ سر سید کی فکر اور ان کی جدو جہد وسعی کی نوعیت کو سمجھنے کے لےے پاک و ہند، عالم اسلام اور ایشیا تینوں کے پس منظر سامنے ہونے چائییں۔ آج پاکستانی معاشرہ جس عدم برداشت، قنوطیت، فتویٰ بازی اور تاریخی نرگیست کا شکارہے اس کا ایک علاج سر سید احمد خاں جیسے مصلح و مدبرراہنما کی حقیقت پسندانہ روشن خیالی کا فروغ بھی ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم سرسید کے افکار و خدمات کی فہم نو حاصل کرکے آنے والے دنوں کو ان کی لو سے منور کریں تاکہ معاشرے سے جہالت، مایوسی اور فکری پسماندگی کا خاتمہ ہو، ہمیں ایک اور سر سید کی ضرورت ہے۔