منگل، 6 اکتوبر، 2015

1958ءکے مارشل لا ءکا پس منظر اور وجوہات


1958ءکے مارشل لا ءکا پس منظر اور وجوہات 


ممتاز ماہر عمرانیات ایرک فروم کا کہنا ہے کہ آزادی کا حصول اور اس کے حصول کے بعد اس کو قائم رکھنا ایک دشوار طلب عمل اور کشمکش ہے بعض لوگ، بعض گروہ یا قومیں اس سے گھبرا کر اپنی آزادی اپنی رضاسے ایک شخص یا جماعت کے حوالے کر دیتے ہیں۔ اس طرح انھیں فیصلہ کرنے کی زحمت سے نجات مل جاتی ہے اور وہ حکم ماننے میں ایک گو نہ سکون محسوس کرتے ہیں۔ سات اکتوبر1958ءکو جب سکندر مرزا نے پاکستان میں اعلانیہ مارشل لا ¿ نافذ کرکے کمانڈر انچیف جنرل ایوب خاں کو چیف مارشل لا ¿ ایڈمنسٹریٹر نامزد کر دیا تو قوم نے بغیر کسی مزاحمت کے سرِ تسلیم خم کرنے میں سکون محسوس کیا اور بقول ایوب خان ملک میں مارشل لاءاتنی آسانی سے جاری ہو گیا جیسے کوئی بجلی کا بٹن دبا دے ۔
لیڈر خود غرض ، علماءمصلحت بیں ، عوام خوفزدہ اور راضی بر ضائے حاکم، دانشور خوشامدی اور ادارے کھوکھلے ہو جائیں تو مارشل لاو ¿ں کے لےے راستہ ہموار ہوتا چلا جاتا ہے پھر کوئی طالع آزما ملک کو غضبناک نگاہوں سے دیکھنے لگتا ہے۔مارشل لاءخود بخود نہیں آتا اسے لایا اور بُلایا جاتا ہے اور جب آجاتا ہے تو قیامت اس کے ہمرکاب آتی ہے۔ 
بیسویں صدی کے وسط میں بہت سے ممالک نے طویل اور صبر آزما جد و جہد کے بعد آزادی حاصل کی مگر کچھ ریاستوں کی جھولی میں یہ آزادی پکے ہوئے پھل کی طرح آ گری ۔ جس کی وجہ سے ان ریاستوں میں سیاسی خلاءپیدا ہوا۔ جس کی شدت میں اضافہ اقتصادی بحرانوں نے کیاممتاز ماہر دانشورEdward Luctwackکہتا ہے 
There was one thing that the new states lacked which they could neither make for themselves, nor obtain from abroad, and this was a genuine political community. 
بلاشبہ حقیقی پولیٹیکل کیمونٹی کے نہ ہونے سے نو آزادریاستوںنے کمزور ادارہ سازی کے ماحول میں سیاسی عمل شروع کیا جس کے نتیجے میں ان ریاستوں میں سیاسی راہنماو ¿ں کو Status Quoبدلنے کے لےے طاقت پر انحصار کرنا پڑا۔ 
عائشہ جلال نے 1958ءکے مارشل لاءکی وجوہات کا ذکر یوں کیا ہے کہ یہ اندرونی ، علاقائی اور بین الاقوامی اسباب کا باہمی عمل تھا کہ چالیس اور پچاس کی دہائی میں خصوصی طور پر امریکہ سے تعلقات استوار کےے گئے جن کی وجہ سے سیاسی جماعتوں اور سیاست دانوں کی حیثیت متاثر ہوئی۔ پاکستان کی ریاست ارتقائی حالت میں تھی لہٰذا توازن سول بیورو کریسی اور فوج کے حق میں ہو گیا۔۔۔۔غیر جمہوری اداروں کی بالا دستی ، اعلیٰ سول بیورو کریسی اور فوج کی متفقہ حکمت عملی کا نتیجہ تھی جس کے پیش ِ نظر سیاست دانوں کے اختلافات سے فائدہ اٹھایا گیا۔ اور ان قوتوں نے سوچی سمجھی سکیم کے تحت لندن اور واشنگٹن میں بین الاقوامی نظام کے مراکز سے اپنے ذاتی تعلقات کو استعمال کرکے پاکستان میں سیاسی نظام کو کمزور کیا آخری تجزےے کے طور پر عائشہ جلال کہتی ہیں کہ پاکستان میں پارلیمانی نظامِ حکومت کی ناکامی کی ذمہ داری سول بیوروکریٹس، فوجی افسروں، چیف جسٹس اور سیکولر و مذہبی سیاستدانوں سب پر عائد ہوتی ہے۔ عائشہ جلال کا تجزیہ بہت حد تک درست اور جامع ہے۔ اس کا خیال ہے کہ پاکستان کے جمہوری ملک نہ بن پانے اور مارشل لاءکے لےے فضا ہموار کرنے کے کام کا آغاز تو خود بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے بطور گورنر جنرل اختیارات کا منبع و مرکز بن کرکر دیاتھا۔ قائد اعظم محمد علی جناح کی قد آور شخصیت کی وجہ سے ان کی ذاتی اتھارٹی تقدس کی حد تک بلند و بالا تھی نیز یہ کہ انھیں بطو ر گورنر جنرل گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ1935اور انڈین انڈی پینڈنس ایکٹ1947کے تحت وسیع اختیارات بھی حاصل تھے۔ اس ایکٹ کے سیکشن9کے تحت ان کے بعد کے گورنر جنرلوں کو بھی وسیع اختیارات حاصل رہے اسی کے تحت وہ محض ایک فرمان سے آئین میں ترمیم کرسکتے تھے۔ تا ہم اس ایکٹ کے سیکشن9کے تحت گورنرجنرل کو تفویض کےے جانے والے ان لا محدود اختیارات کی حتمی حد ساڑھے سات ماہ تک تھی یعنی31مارچ1948ءکے بعد اس کی تنسیخ ہو جانا تھی مگر اس مدت کے خاتمے سے پہلے ہی اس میں ایک سال کی توسیع کر دی گئی اور پھر جناح کے بعد ان اختیارات کے استعمال نے ملک میں سیاسی تماشہ لگا دیا محمد علی جناح کا بطور گورنر جنرل کابینہ کا چناو ¿ اور کابینہ کی صدارت بھی کوئی احسن جمہوری روایت ثابت نہ ہوا۔ دوسرا یہ کہ ان کی طبیعت نا ساز رہتی تھی، چنانچہ ان کے انتظامی امور کا انحصار بیوروکریسی پررہا۔ ان کا گورنر جنرل کا منصب اور آئین ساز اسمبلی کی صدارت بیک وقت سنبھالنا ایک تندو تیز بحث ہے تا ہم منتخب حکومتوں کو برطرف کرنے کی روایت کا آغاز بھی ان ہی کی ہدایت پر سرحد اور سندھ کے گورنر وں نے ڈاکٹر خانصاحب اور محمد ایوب کھوڑو کی وزارتیں22اگست1947ءاور26اپریل1948کو برطرف کرکے کیا۔ خالد بن سعید پاکستان میں جمہوری نظام کی ناکامی کی جڑیں محمد علی جناح کی گورنر جنرل شپ میں دیکھتا ہے۔ 
پاکستان کے ابتدائی عشرے میں جمہوری نظام کی ناکامی کی ایک اوربڑی وجہ مسلم لیگ کا انحطاط بھی ہے۔ ڈاکٹر صفدر محمود کا کہنا ہے کہ جمہوری نظام کی ناکامی کے اسباب میں لیگ کی بدعنوانی، بحیثیت سیاسی ادارہ کمزوریاں اور جاگیرداروں کے مفادات سرفہرست ہیں دراصل مسلم لیگ ایک سیا سی جماعت سے زیادہ ایک سیاسی تحریک تھی اور اسکی قیادت کو آزادی اتفاق سے مل گئی۔ مسلم لیگ کا پاکستان کا حصول آزادی ہند کی جدو جہد کی ضمنی پیداوار تھا۔ مسلم لیگ نے توہمیشہ عوامی مزاحمت کی تحریکوں سے خود کو علیحٰدہ رکھا۔مسلم لیگ کی توانائی کا بڑا حصہ کانگرس کے دعوں کو جھٹلانے پر صرف ہوتا رہا ۔ قیام پاکستان کے بعد مسلم لیگ وہ کردار ادا نہ کر سکی جو بھارتی سیاست میں کانگریس نے کیا ۔ لارنس زائرنگ نے پاکستان میں پہلے مارشل لاءکو مسلم لیگ کے زوال سے در آنے والی ادارتی کمزوریوں سے منسلک کیاہے مسلم لیگ اپنی عوامی حمایت کو مستحکم پارٹی ڈھانچہ کی اصطلاحات میں ادارہ بندی میں تبدیل کرنے کے قابل بھی نہ تھی یعنی وہ پاکستان کے اقتصادی اور سیاسی مسائل کے حل کے لیے عوامی تائید کا حامل منشور تیار کرنے اور ایسی تربیت دینے کا انتظام نہیں کر سکی جس سے حکومتی اقتدارکے ڈھانچہ میں نمائندہ سیاسی حکومتوں کی قومیت کا تحفظ ہو سکتا۔ مزید یہ کہ مسلم لیگ پر پست ذہنی سطح کے جاگیرداروں اور زمینداروں کے غلبہ نے اسے اس قابل نہیں رہنے دیا تھا کہ وہ نئے ملک میں ایسا سیاسی ڈھانچہ تشکیل دے جس میں عوامی امنگوں کو تسلیم کیا جا سکتا۔لیکن جمہوری ناکامی کا واحد سبب مسلم لیگ کا انحطاط ہی نہیںتھا کیونکہ جدوجہد آزادی کے فیصلہ کن مرحلہ میں عارضی طور پر قومی دھارے میں شامل ہونے کے بعد مرکز گریز قوتیں ایک بار پھر اپنے راستے پر چل نکلی تھیں ۔ مرکز میں اختیارات کے ارتکاز کے لیے جب آہنی ہاتھ استعمال کیا گیا تو مرکز گریز قوتوں کو دوبارہ اُبھرنے کا موقع ملا اس حوالے سے محقق یونس صمد نے اپنی کتاب"A Nation in Turmoil"میں تفصیلی بحث کی ہے ۔ 
پاکستان کے پہلے عشرے میں جمہوری سیاست کی ناکامی محض بدعنوانی ، انتشار اور سیاسی بدنظمی کا نتیجہ نہیں تھی۔ آئی اے رحمان کا خیال ہے کہ اس کے اسباب بیوروکریسی کی روایات اور سیاسی کلچر کی پیچیدگیوںمیں پائے جاتے ہیںجو پاکستان کو نو آبادیاتی دور کی میراث میں ملے تھے ۔ بالخصوص فوج اور بیوروکریسی کا گٹھ جوڑ ۔ تقسیم ہند سے قبل بیوروکریسی اور فوج نوآبادیاتی طاقت کا موثر ترین ذریعہ تھے۔ان کا اہم ترین فریضہ مختلف مقامی طبقات کو محکوم بنانا اور اپنے نو آبادیاتی آقاو ¿ں کے آلہ کار کے طور پر قوم پرست جدوجہد کو کچلنا ہوتا تھا ۔آزادی کی جدوجہد کے دنوں میں وہ قوم پرست راہنماو ¿ں کی مخالف سمت میں ہوتے تھے مگر آزادی کے بعد وہی سیاسی راہنما جنہیں دبانا اور جن کی سرگرمیوں کو حکومتی حدود میں پابند رکھنا ان کا فرض ہوتا تھا وہ اب اقتدار کے ایوانوں تک پہنچ چکے تھے اور انھیں بظاہر فوج اور بیوروکریسی پر اختیار حاصل ہوگیا تھا ۔ لہذا ان کے درمیان لحاظ اور افہام و تفہیم پر مبنی ایک نئے تعلق کو قائم کرنا عصری ضرورت بن چکا تھا ۔ ا س ضرورت کو پورا کرنا اس لیے بھی ضروری تھا کہ پاکستان اور ہندوستان کو بہت طاقتور بیوروکریسی اور فوج ورثے میں ملی تھی جن کے مقابلے میں سیاسی جماعتوں کی حالت ابتر تھی۔ حمزہ علوی نے ایک فکر انگیز مضمون میں لکھا ہے کہ نو آبادیاتی تعمیر کی وجہ سے فوج ااور نوکر شاہی کے ادارے ضرورت سے زیادی ترقی کر گئے تھے۔ بہ نسبت زمیندار اور بوروژوائی حکمران طبقہ کے۔ چنانچہ فوج اور نوکر شاہی کا بالا دست طبقہ ریاست کے اندر دوسروں کی نسبت خود مختارانہ حیثیت کا مالک ہے بیوروکریسی نے سب سے زیادہ فائدہ محمد علی جناح کی قد آور شخصیت کا اٹھایا اور وزیراعظم سمیت سیاسی قیادت کو بالائے طاق رکھ کرگورنر جنرل محمد علی جناح سے رابطہ رکھا۔ جناح نے بھی غلام محمد وغیرہ کو وزارتوں میںعملی طور پر لاکر اپنی تعلقداری کی نوعیت کا اظہار کر دیا تھا۔ جناح کی ذات انتظامی اختیارات کا مرکز تھی مگر چونکہ وہ علیل تھے لہذا ان کے اختیارات کاانتظامی حوالے سے استعمال بیوروکریسی ہی کرتی تھی۔ قائد اعظم کے عہد میں ہی بیوروکریسی نے اقتدار اپنے شکنجے میںلے لیا اور پھر جناح کی وفات کے بعد یہ اور مضبوط ہوئی۔ سیکرٹری جنرل کے عہدے نے چوہدری محمد علی کے قد کاٹھ میں اضافہ کیا۔ لیاقت علی خاں کے قتل کے بعد بیوروکریسی سیاسی قیادت سے آزاد حیثیت اختیار کرتے ہوئے مرکز تک چھا چکی تھی ۔ بعد ازاں بیورو کریٹ غلام محمد گورنر جنرل کے اعلیٰ عہدے پر فائز ہوئے تو بیورو کریسی اور مضبوط ہوئی ۔ یہاں یہ سوال کیا جاسکتا ہے کہ بیوروکریسی نے اقتدار پر قبضہ کے لیے کونسا طریقہ اختیار کیا ۔ بظاہر کوئی انقلابی اقدام تو سامنے نہیں آیابلکہ یہ سب نوازئیدہ ریاست کو ممکنہ مشکلات سے نجات دلانے کے لیے بنیادی تبدیلیوںکے باعث ہوا ۔ بیوروکریسی نے یہ اختیا ر ایسا انہونا عہدہ تخلیق کر کے حاصل کیا جو گورنر جنرل کی معاونت کے لیے تخلیق کیا گیا۔ سیکرٹری جنرل کا عہدہ جناح کے حکم پر تخلیق ہوا ۔ کابینہ کی قرار داد کے ذریعے سیکرٹری جنرل کو تمام سیکرٹریوں اور فائلوں تک رسائی دے دی گئی پھر پلاننگ کمیٹی تشکیل دے دی گئی جو چوہدری محمد علی کی قیادت میں ایک متوازی کابینہ بن گئی۔ جب غلام محمد گورنر جنرل بنا تب اس نے سیکرٹری جنرل اور پلاننگ کمیٹی تحلیل کر دی کیونکہ بیوروکریسی اب خود ملک کے اعلیٰ ترین عہدے پر قابض ہو چکی تھی۔ اس بیوروکریٹ گورنر جنرل نے 4اکتوبر 1954ءکو اسمبلی تحلیل کر کے نظم و نسق خود سنبھال لیا ۔ حمزہ علوی کے خیال میں یہ پہلا موقع تھا کہ سیاسی قوتوں کو جبری طور پر اقتدار سے الگ کیا گیا ،یوں اسے پہلا انقلاب یعنی کو ڈیٹا (Coup deta)کہنا چاہیے۔ 
بیوروکریسی یہ کام اکیلے نہیں کر رہی تھی اس نے فوج کے ساتھ تعلقات استوارکر لیے تھے۔ جنرل ایوب خاں کو جو اہمیت کی منزلیں بہت تیزی سے طے کر رہے تھے فوج کے کمانڈر انچیف کے ساتھ وزارت ِ دفاع کا قلمدا ن بھی سونپ دیا گیا ۔اسی طرح ان کے دوست ا سکندر مرزا جو سیکرٹری دفاع تھے انھیں وزیر داخلہ بنا دیا گیا ،اس وزارت کو ”قابل ترین افرادکی وزارت “کہا گیا۔ یہ کابینہ فوج اور بیوروکریسی کی نمائندہ تھی، نہ کہ عوام کی ۔
1947ءمیںتقسیم سے فوج کمزور ہوئی تھی نیزکمانڈر انچیف بھی برطانوی تھے لیکن 1951ءمیں ایوب خاں کے دوست ا سکندر مرزانے وزیر اعظم سے ایوب خان کوکمانڈر انچیف مقرر کروا لیا ۔ ایوب نہ تو سب سے سینئر تھے اور نہ ہی سب سے بہترین ۔ ایوب کی نامزدگی کے دنوں میں دوسینئر جرنیل اچانک ایک فضائی حادثے میں مارے گئے اس سے ایوب خاں صرف چار سالوں میں لیفیٹنٹ کرنل سے جنرل بن گئے۔ جنرل شیر علی کا کہنا ہے کہ اگر اس وقت لیفیٹینٹ جنرل افتخار کمانڈر انچیف بنتے تو آج پاکستان کی تاریخ مختلف ہوتی۔ ایوب خاں کے کمانڈر انچیف بننے سے ان کو ملنے والی ایکسٹینشن تک فوج اور بیوروکریسی کا گٹھ جوڑ نمایاں رہا اور یہی پہلے مارشل لاءکی اہم وجہ بھی بنا۔ ایوب خاں کے کمانڈر بننے کے بعد راولپنڈی سازش کیس سامنے آیا ۔ ایک جنرل نے اپنی سوانح عمری میںلکھا ہے کہ ایوب خاں نے اس سازش کا پتہ اپنی پسند کے لوگوں کوآگے لا نے کے لیے کیا۔اس سے وہ ایسے لوگوں کو آگے لانے میں کامیاب ہوا ، جو اس کے وفا دار تھے۔ راولپنڈی سازش کیس نے ایوب کو موقع فراہم کیا کہ وہ بیورو کریٹک زعماء، سکندر مرزا اور غلام محمد کے ساتھ قریبی تعلقات پیدا کریں ۔ یہ تعلق نہ صرف دوستی میں تبدیل ہوا بلکہ پاکستانی سیاست کی سمت کے تعین میںبھی کردار ادا کرتا رہا۔ستمبر 1953ءکے اواخر میں ، بری فوج کے کمانڈر انچیف ایوب خاں امریکی سول اور فوجی حکام سے ملاقات کے لیے امریکہ پہنچے۔ ان کے اس دورے سے پہلے امریکی بحری انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر نے 23 ستمبر 1953 کو امریکہ کے جوائنٹ چیف آف سٹاف کے چیئر مین ایڈمرل ڈبلیو راڈ فورڈ کو ایوب خان کا ایک ”خاکہ“ روانہ کیا جس میں لکھا کہ ”6 فٹ 2 انچ سے زیادہ طویل القامت اور 210 پا ¶نڈزکے وزن کے توانا جنرل ایوب خاں پاکستان ملٹری سروسز کے سب سے با اثر افسر ہیں۔ فوج پر ان کی گرفت بہت مضبوط ہے اور وہ زیادہ اور کم ہر دو قسم کی اہمیت کے فیصلے خود ہی کرتے ہیں کیونکہ وہاں سٹاف افسروں کو بہت کم اختیارات تفویض کیے جاتے ہیں۔ اگرچہ انہیں آفیسر کیڈر کا احترام حاصل ہے لیکن وہ اپنے ماتحتوں کے ساتھ درشتی اور سختی سے پیش آنے کا میلان رکھتے ہیں۔ ان کی شہرت یہ ہے کہ وہ خوب جانتے ہیں کہ کس شے کی جستجو کرنی چاہیے اور یہ کہ وہ نتائج پر زور دیتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ انہیں اپنے اور اپنی افواج پر بڑا اعتماد ہے ۔ ان کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ بہت زیادہ امریکہ نواز ہیں۔ جاہ و جلال کی بہت زیادہ ہوس اور سیاست کو اپنے فوجی کیریئر سے مخلوط کرنے کے میلان کو ان کی کمزوری سمجھا جاتا ہے ۔ 
فوج اور بیوروکریسی کے اس گٹھ جوڑ کو امریکی اشیر باد بھی حاصل رہی۔ دراصل آزادی کے بعد کے دور میں قومی بورژوا کی عدم موجودگی میں غیر ملکی تجارتی اور سرمایہ دار طبقے سامراجی دورجیسا کردار ادا کرتے رہے ہیں ۔ اس خطے میں امریکہ کی موجودگی اور مفادات نے بھی پاکستان میںآمرانہ قوتوں کو مضبوط کرنے میں اہم کردار اکیا ۔پاکستان نے شروع میں ہی امریکہ سے تعلقات کی کوششیں کیں تاہم ابتدائی سالوں میں امریکہ نے آنکھیں نہ ملائیں ۔ مارچ 1951ءمیں ایرانی تیل کی صنعت کی ڈاکٹر مصدق کے ہاتھوں نیشنلائزیشن نے امریکہ کے تیور بدلے۔ 1952ءکے بعد پاکستان امریکہ کی سرپرستی میں آگیا۔ امریکہ کا معاشی مفاد فوجی سازو سامان کی فروخت سے وابستہ رہا۔ چنانچہ امریکی تعلقات کی وجہ سے پاکستان کا انحصار فوج پر بڑھا۔ امریکہ فوجی امداد نے پاکستان کو سیاسی حوالے سے بھی مضبوط کیا اورپاکستان کی دفاعی معاہدوں میں شرکت ممکن ہوئی۔ مور ¿خین کا اتفاق ہے کہ پاکستان میں ملٹری بیوروکریسی کو تقویت ملنے کی بڑی وجہ سرد جنگ کا ماحول تھا۔ امریکی سمجھتے تھے کہ ملٹری بیوروکریسی پاکستان میں ایک مضبوط مرکزی نظام قائم کر سکتی ہے۔ 3اکتوبر1953ءکو پاکستانی فوج کے کمانڈر انچیف نے امریکہ کا غیر رسمی دورہ کیا جو کابینہ کی رسمی منظوری کے بغیر تھا اس دورے میں امریکی زعماو ¿ں اور پاکستانی فوج کے تعلقات کا آغاز ہوا۔ امریکہ Containment Policyکے زیر اثر دفاعی حصار قائم کرنا ضروری سمجھتا تھا۔ اس کے لےے ترکی اور پاکستان کو دفاعی لائن کے طور پر استعمال کرنا اس کا مقصد تھا۔ اس مقصدکے لےے یہاں موجود مضبوط فوجی و نوکر شاہی گٹھ جوڑ کو مضبوط کر کے اس نےOligarachyقائم کرنا بہتر سمجھا تا کہ ساز باز میں آسانی رہے۔ امریکی مفاد کے لےے پاکستان میں جمہوری قوتوں اور اداروں کو کمزور بنایا گیا۔ پاکستان اور ترکی میں فوج اس کے لےے یہ سب کرنے کو تیار تھی۔ فوج اور امریکہ کے تعلقات اس نوعیت کے ہو گئے تھے کہ انہی دنوں بریگیڈیرغلام جیلانی کو امریکہ میں ملٹری اتاشی لگایا گیا تو امریکہ بھیجتے وقت کمانڈر انچیف جنرل ایوب نے انھیںبلا کر ہدایات دیں کہ تمھاری بنیادی ذمہ داری پنٹا گون کے ساتھ ملٹری ایڈ کے تعلقات استوار کرنا ہے تم ان امریکیوں سے براہ راست ڈیل کرنا اور پاکستانی سفیر کو اعتماد میں نہ لینا۔ شیریں طاہر خیلی کے مطابق جنرل ایوب خاں نے © ©”مناسب قیمت پر امریکہ سے ایسی ڈیل کی کوشش کی جس کے مطابق پاکستان مغر ب کے اتحادی کا کردار ادا کر سکے۔ امریکی تعاون حاصل کرنے کے لےے ایوب خاں اس حد تک چلے گئے کہ انہوں نے ایک امریکی اہلکار کو یہ تک کہہ دیا کہ 
"Our Army can be your Army if you want"اس بات کا حوالہDenis Kuksنے بھی دیا ہے ۔ مغربی پاکستان میں امریکی اشیر باد سے قائم ہونے والے نظام کی acceptenceموجود تھی کیونکہ یہاں کی مذہبی، جاگیردارانہ اور کمزور سیاسی قوتیں شراکت ِ اقتدار کے مزے لوٹنے کے لےے ہر قیمت چکانے کو تیار تھیں لیکن مشرقی پاکستان میں اس منصوبے کو مشکلات کا سامنا تھاچنانچہ جب یہی مشکلات آئینی بحران کے ساتھ ظاہر ہوئیں تو مشرقی و مغربی کا بحران شدت اختیار کر گیا جو بعد ازاں1971ءمیں منطقی انجام کو پہنچا۔ اس پس منظر میں1958ءکا مارشل لا ءامریکہ، مغربی پاکستان کے کمزور سیاستدانوں ،بیورو کریسی اور فوج کے مفادات کا ترجمان تھا جبکہ پاکستان کے عوام اور مشرقی پاکستان اس کےVictimتھے۔
پاکستان میں پہلے عشرے کی جمہوریت کی ناکامی کا بڑا سبب ریاستی ساخت بھی تھی۔ اس ریاست کا قیام وارتقاءاور سماج جمہوریت کے پھلنے پھولنے کے لےے زیادہ زرخیز نہ تھا۔ ساتھ ہی ساتھ اس کی سیاسی قیادت باہر سے تھی۔ یو پی /سی پی کی قیادت بھی مقامی لوگوں ، ان کے کلچر ، روایات اور ضرورت سے آشنانہ تھی چنانچہ وہ سیاسی و سماجی مسائل پر قابو پانے کی بجائے غلطی پر غلطی کرتی چلی گئی۔ جب قائد اعظم اور لیاقت علی خاں کے بعد حالاتSon of the soilکو سنبھالناپڑے تو انکی نا تجربہ کاری آڑے آئی۔ 
یہی وہ مسائل تھے جس کے باعث ابتدائی عشرے کا پاکستان خالد بن سعید کے الفاظ میں ہابس کی ریاست کا منظر پیش کر رہا تھا۔ خالد بن سعید لکھتا ہے کہ © ©”پاکستان 1951ءسے 1958ءتک کے درمیانی عرصے کے دوران ہابس کی ریاست کے جیسا تھا جو کہ فطرت کی ہو بہو عکاسی کرتی نظر آتی ہے جہاں پرہر سیاسی یا صوبائی گروہ دوسرے گروہوں سے دست و گریباں ہوتا ہے۔اس عرصے میں یہاں تسلسل کے ساتھ اقتدار کے لےے رسہ کشی جا ری رہی ۔پاکستان کو اس ازارِ ضرر رساں سے نجات چاہےے تھی اور مارشل لا ء ہی اس ملک کو تباہی کے دہانے سے واپس لا سکتا تھا جس کے نفاذ سے امن و امان اور عوامی بھلائی کو تلوار کی نوک پر ممکن بنایا گیا۔ © ©“
مذکورہ بالا حالات نے نہ صرف 1958ءکے مارشل لاءکے منصوبے کی تکمیل کو ممکن بنایا بلکہ آنے والے مارشل لاو ¿ں کو بھی بنیاد فراہم کی۔ پاکستان میں ہمیشہ کے لےے حاکمیت غیر جمہوری کا کردار معرضِ وجود میں آ گیا۔ یہ وجوہات نہ صرف پہلے مارشل لاءکا سبب بنیں بلکہ آج بھی کسی نہ کسی طرح ریاست میں نمایاں نظر آتی ہیں ان اسباب کی موجودگی میں مور ¿خین کے لیے تحقیق کا موضوع یہ نہیں کہ پاکستان میں مارشل لاءکب کب لگا بلکہ ان کے سامنے چیلنج یہ ہے کہ جب جب مارشل لاءنہیں لگا تو اس کی وجوہات کیا تھیں ۔
رئیس امروہی مرحوم نے پاکستان میں پہلے مارشل لاءکا قطعہ تاریخ کچھ یوں کہا تھا کہ 
دیار پاک میں ہے کار فرما بحمد اللہ پاکستان کی فوج 
نظر آتا ہے ملت کا ستارہ بالآخر مائل صد عظمت و اوج
وہاں ہیں امن ساحل کے نظارے جہاں سیل بلا ہے موج در موج
گرفت پنجہ ¿ افواج کا سال 
نہیں جز ’پنجہ‘ فوج ظفر موج
 (۸۷۳۱)

اکتوبر 1958 کے مارشل لاءکے نفاذ کے بعد سرکاری ریڈیو و اخبارات مسلسل فوج کی مدح سرائی میں مصروف تھے اور قوم کو تصویر کا من پسند رخ دکھانے میں مصروف عمل تھے لیکن برہنہ آمریت کے اس دور میں ایک نحیف و نزار آواز جو قانون کی حکمرانی اور آزادی اظہار کے حق میں بلند ہوئی وہ مغربی پاکستان کے ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ایم آر کیانی کی تھی۔ ان کی ایک تقریر جو 11 دسمبر 1958 کو کراچی بار ایسوسی ایشن سے تھی انہوں نے کہا کہ مارشل لاءکا نفاذ سب سے بڑی آفت ہے جو کسی قوم پر نازل ہوتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بد نصیبی تنہا نہیں آتی اس کے ساتھ فوجی دستے بھی ہوتے ہیں لیکن اس بار تو پوری فوج اس کے ساتھ ہے ۔