جمعہ، 16 اکتوبر، 2015

قائد ملت نوابزادہ لیاقت علی خاں

 حیات و خدما ت

قائد اعظم کے دست ِراست پاکستان کے پہلے وزیر اعظم شہید ملت نوابزادہ لیاقت علی خاں کا شمار مجاہدین تحریک آزادی اور معماران وطن میں ہوتا ہے ۔ قیام پاکستان اور استحکام پاکستان کیلئے اس بطل ِجلیل کی ملی خدمات ہماری تاریخ کا ایک روشن باب ہے وہ ایک باصلاحیت، دیانتدار، محنتی، بے باک اور عہد ساز شخصیت تھے۔ 
انہوں نے یکم اکتوبر1896ءکو مشرقی بنگال کے ضلع کرنال میں ایک بڑے زمیندار نواب رستم خان کے گھر جنم لیا۔ پیدائش میں ان کا نمبر سجاد علی کے بعد دوسرا تھا۔ انکا خاندان جو مشہور بادشاہ نوشیروان عادل کی نسل سے متعلق ہونے کا دعویدار تھا۔ تقریباً پانچ سو سال قبل مغلیہ عہد میں ایران سے ہندوستان آیا تھا۔ انکی زمینیں صوبہ پنجاب اور اتر پردیش میں پھیلی ہوئی تھیں۔ برطانوی عہد میں لارڈ کنینگ نے لیاقت علی خان کے داد ا نواب احم علی خان کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے پنجاب کے چیف کمشنر کو ہدایت کی تھی کہ اسے اور اس کی اولاد کو ہمیشہ پانچ ہزار روپے کا مالیہ معاف کر دیا جائے اور دس ہزار روپے کی خلعت دی جائے انکے ہاں نواب کا خطاب پشتی تھا۔ جو انکے بڑے بھائی سجاد علی خان کو ملا۔ لیاقت علی خان کا بچپن زیادہ تریوپی میں ہی گذارجو اس وقت مسلم ثقافت کا بڑا مرکز تھا۔ ان کی تعلیم گھر پر ہی مکمل ہوئی تو وہ مزید تعلیم کیلئے محمڈن اینگلو اورئینٹل کالج علی گڑھ چلے گئے جہاں اسے انہوں نے1918ءمیں بی اے کا امتحان پاس کیا ۔اس وقت ان کے اہل خانہ ان کوانڈین سول سروس میں شامل کرانے کا خواب دیکھ کر رہے تھے۔ لیکن دوسری طرف لیاقت علی خان بھی مزید تعلیم کے حصول کے خواہشمند تھے۔ اس لئے1919ءمیں وہ قانون کی اعلیٰ تعلیم کیلئے انگلستان چلے گئے۔ جہاں1921ءمیں انہوں نے آکسفورڈ سے قانون کی ڈگری لی اور1922ءمیں بارایٹ لاءکیلئے انرٹمپل چلے گئے۔ آکسفورڈ میں نوجوان لیاقت علی خان انڈین مجلس کے زیر اہتمام سیاسی مباحثوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے رہے اور کچھ عرصہ تک اس مجلس کے خازن بھی رہے۔ 1923ءمیں وہ ہندوستان واپس آئے اور یو پی کے مقام منظر نگر میں مقیم ہو گئے۔ عملی سیاست میں بھی دلچسپی بڑھی تو اسی سال آل انڈیا مسلم لیگ میں شامل ہو گئے اور مئی1924ءمیں پہلی مرتبہ وہ مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس منعقدہ لاہور میں شریک ہوئے۔1927ءمیں سائمن کمیشن کے مسئلے پر مسلم لیگ دوواضع دھڑوںجناح لیگ اور شفیع لیگ لاہور میں تقسیم ہوئی تو وہ جناح لیگ کے ساتھ کھڑے رہے۔ وہ1926ءمیں یوپی کی لیجسلیٹو کونسل کے رکن منتخب ہوئے ۔لیاقت علی چونکہ ایک ملنسار اور وضع دار شخصیت تھے اسلئے تعلقات بنانا اور نبھانا خوب جانتے تھے۔ اس لےے مسلسل چودہ سال تک اپنی نشست پر کامیاب ہوتے رہے۔ اس دوران وہ چھ سال صوبائی مجلس قانون ساز کے ڈپٹی پریذیڈنٹ اور ڈیمو کریٹک پارٹی کے راہنما رہے۔ دسمبر1928ءمیں وہ نہرو رپورٹ پر بحث کیلئے کلکتہ میں منعقدہ نیشنل کانفرنس میں شریک مسلم لیگ وفد کے ممبر تھے۔اس وقت ہندو مسلم اتحاد کے سفیر محمد علی جناح سے گہری وابستگی کے باعث شروع میں ہندو مسلم اتحاد کے خواہشمند تھے لیکن نہرو رپورٹ اورہندوانتہا پسندوں کے دباﺅ پر اسکی منظوری سے وہ ہندوﺅں سے مایوس ہو گئے۔ 
1933ءمیں انہوں نے دوسری شادی کی اور اسی سال بیگم رعنا لیاقت کے ہمراہ یورپ چلے گئے اس دورے میں انہوں نے انگلستان میں تنظیم سازی اور سیاسی جماعتوں کے ڈھانچوںکا خصوصی مطالعہ کیا۔ لیاقت علی نے اترپردیش میں پہلے ہی ڈیمو کریٹک پارٹی کے نام سے گروپ بنا رکھا تھا اسکی تصدیق نواب احمد سعید خاں آف چھتاری جو فروری1929ءمیں لیاقت علی رعنا کے مہمان بھی رہے اپنی سوانح حیات” یاد ایام“ میں کرتے ہیں۔ 26اپریل1936ءکو بمبی ¿ سیشن میں مسلم لیگ کی تنظیم نو کے سلسلے میں محمد علی جناح کو صدر اور سر محمد یعقوب کی جگہ نوابزادہ لیاقت علی خاں کو آنریری سیکرٹری جنرل منتخب کیا گیا لیکن ڈاکٹر رفیق افضل کے مطابق صوبائی لیگ کے بعض راہنماﺅں سے اختلاف کی وجہ سے وہ جولائی1936ءمیں مسلم لیگ پارلیمانی بورڈ سے علیحدہ ہو گئے اور نواب احمد سعید خاں آف چھتاری کی نیشنل ایگر یکلچر سٹ پارٹی میں شامل ہو گئے۔ لیکن 1937ءکا انتخاب انہوں نے کسی پارٹی کے ٹکٹ سے نہیں لڑا تا۔ہم 2مارچ1938ءکوانہیں ایک سرکاری تجارتی وفد کے مشیر کی حیثیت سے سر ظفر اللہ خاں کی زیر قیادت لند ن بھیج دیا گیا۔ 1940ءمیں وہ پھر مرکزی اسمبلی کے رکن چنے گئے اور مسلم لیگ پارٹی کے ڈپٹی لیڈر بن گئے اب آپ کا شمار قائد اعظم کے معتمد ترین ساتھیوں میں ہونے لگا تھا اور قائد اعظم نے مسلم لیگ کونسل کو خطاب کرتے ہوئے لیاقت علی خاں کو اپنا دست وبازوقرار دیا تھا۔ دسمبر1943ءمیں آپ کو دوبارہ مسلم لیگ کا جنرل سیکرٹری منتخب کر لیاگیا۔ پھر1948ءمیں پاکستان مسلم لیگ کے قیام تک یہی فرائض سرانجام دیتے رہے آپ کی صلاحیتوں کا اصل امتحان1946ءمیں شروع ہوا جب آپ کو مسلم لیگ کی جانب سے وائسرائے کی کونسل میں شامل کیا گیا اور عبوری حکومت میں وزیر خزانہ بنا یا گیا ا س وقت عام خیال یہی تھا کہ وزارت خزانہ جیسی مشکل اور اہم ذمہ داری نبھانا کسی مسلمان یا نواب کے بس کا روگ نہیں چنانچہ اس بے بنیاد چیلنج کو قبول کرتے ہوئے لیاقت علی خان نے سماجی انصاف کے اصولوں پر مبنی جو تاریخ ساز بجٹ پیش کیا اسے غریب آدمی کا بجٹ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اس بجٹ سے ہندو سرمایہ دار حیران و پریشان رہ گئے اور اسکی مخالفت کرنے لگے ۔ایک پرولتاری مزاج کے حامل نوابزادے کے اس ”کارنامے“ کے سامنے آخر کار کانگریسی راہنماﺅں نے گھٹنے ٹیک دئےے اور کئی راہنماﺅں نے بادل ِنخواستہ تقسیم ہند کی حمایت شروع کر دی۔ قیام پاکستان کے بعد لارڈ ماﺅنٹ بیٹن کی خواہش کے برعکس جب قائد اعظم نے سربراہ ریاست کی حیثیت سے حلف اُٹھایا تو اپنے ساتھ بطور وزیر اعظم نوابزادہ لیاقت علی خان کا ہی انتخاب کیا بلاشبہ ابتداءمیں بابائے قوم خود ہی قوم اور حکومت کی راہنمائی فرماتے تھے۔ لیکن اس دور میں بھی انکے فیصلوں کو عملی جامہ پہنانے کی ذمہ داری وزیر اعظم ہی کی تھی لیکن صرف ایک سال بعد جب قائد اعظم قوم کو داغِ مفارقت دے گئے تو نوازئیدہ پاکستان کی بنیادیں ہل گئیں بھارت نے اس صورتحال کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے حیدر آباد دکن پر ہلہ بول دیا اس سے نوازئیدہ مملکت خداداد کے بارے میں لوگوں کے دلوں میں ہزاروں اندیشے اور خطرے جنم لینے لگے۔ ایس ایم اکرام کے بقول غیر ملکی مبصرین تو یہاں تک کہنے لگے کہ"With the builder's death the house that Jinnah built would collapse" یعنی معمار کی وفات سے وہ مکان جو جناح نے تعمیر کیا قائم نہیں رہ سکے گا۔ان تشویشناک حالا ت میں نوابزادہ لیاقت علی خان نے عزم و استقلا ل سے قوم کے آزردہ دلوں کو سنبھالا دینے اور لا تعداد مسائل کی الجھی ہوئی گھتیوں کو سلجھانے میں ناقابل فراموش کردار سرا نجام دیا ۔انہوں نے خود اعتمادی ، تندہی، لگن اور تدبر سے اندرون وبیرون ملک پاکستان کی ساکھ نہ صرف قائم رکھی بلکہ اس میں اضافہ کیا چوہدری محمد علی کے الفاظ میں"Liaqat Ali rose to unexpectedly great hights as the national leader"لیاقت علی کو جن مسائل کا سامنا تھا ان میں سرفہرست فرقہ وارانہ فسادات اور مہاجرین کی آباد کاری کا تھا آپ خود مہاجر کو نسل کے چیئرمین تھے اور شب و روز آباد کاری کے فرائض سرانجام دیتے رہے فرقہ وارانہ فسادات کی روک تھام کے لئے حکومت ہند اورلارڈ ماﺅنٹ بیٹن سے ملاقات کی نہرو کے ساتھ مل کر جرا ¿ت مندی سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا۔ فضا کو خوشگوار بنانے کے لئے گاندھی کی سمادھی پر پھول چڑھائے۔ پٹیل کی عیادت کی اور نہرو لیاقت پیکٹ کے لئے راہ ہموار کی ۔عبوری دور میں ہی لیاقت علی خان ثابت کر چکے تھے کہ وہ اقتصادی ومالیاتی امور سے کماحقہ‘ آگاہ ہیں۔ چنانچہ وزارت عظمی کا منصب سنبھالنے کے بعد آزاد معیشت کے لئے ملکی برآمدات پر زور دیا اور پہلے ہی سال بظاہر ناگفتہ بہ حالت اور اثاثوں کی غیر منصفانہ تقسیم اور روک کے باوجود متوازن بجٹ پیش کرکے مستحکم معاشی حالت کی نشاندہی کی۔ انہی کے دور میں اکتوبر1948ءمیں لاہور میں سکے ڈھالنے کے لئے ٹکسال قائم کیا گیا ۔اقتصادی حوالے سے انہیں ستمبر1949ءمیں ایک اور کڑے امتحان سے گزرنا پڑا جب برطانیہ سمیت کئی ممالک نے اپنی معاشی بدحالی کے باعث عالمی سطح پر اپنے سکے کی قیمت گرانے کا فیصلہ کیا لیکن پاکستان اور بھارت کے درمیان ڈیڑھ سال تک معاشی سردجنگ جاری رہی بالاخر25جنوری1951ءکو بھارت نے پاکستانی سکے کی نئی شرح تبادلہ کو تسلیم کر لیا انہی دنوں کوریا کی جنگ چھڑ جانے سے بھی پاکستان نے بھرپور فائدہ اُٹھایا۔ 
نومبر1949ءمیں نیشنل بنک آف پاکستان قائم کیا گیا۔ اسی سال کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت کے لئے سب سے پہلا سٹاک ایکسچینج کراچی میں قائم کیا گیا ۔1950ءپاکستان انڈسٹریل ڈویلپمنٹ کارپوریشن قائم کی گئی جس کا مقصد پبلک سیکٹر میں صنعتیں قائم کرنے کے بعد ان کو پرائیویٹ سیکٹر میں منتقل کرنا تھا۔کونسل آف سائنٹفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ کا قیام بھی عمل میں لایا گیا۔ تیل کی تلاش شروع ہوئی جس کی وجہ سے سوئی گیس دریافت ہوئی ۔وارسک پراجیکٹ اور کرنافلی پراجیکٹ پر توجہ دی گئی سیلاب کی تباہ کاریوں کی روک تھام کے لئے 1950ءمیں فلڈ کمیشن قائم کیا ۔اسکی سفارشات کے مطابق قانون قومی آفات پاس کیا گیا جسکے تحت فلڈ ریلیف کمیشن قائم کیا جا سکتا ہے۔ اسی کمیشن کے فوجی ممبران کی تجویز پر بمبانوالہ بیدیاں کینال تعمیر کی گئی اس نہرنے1965ءکی پاک بھارت جنگ میں لاہور کی حفاظت کے سلسلے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ 
اس کے باوجود لیاقت علی خان کے کچھ ناقدین معترض ہیں کہ کو وزیر اعظم نے دستور ساز اسمبلی میں واضع اکثریت کے باوجود دستور سازی کے معاملے میں غیر ضروری تساہل سے کام لیالیکن معترفین بھول جاتے ہیں کہ قائد اعظم کی رحلت، مہاجرین کا سیل ،رواں مسئلہ کشمیر، سرحدوں پر ہندوستانی فوج کا اجتماع ایسی حقیقتیں تھیں جس سے انکی تمام تر توجہ قومی استحکام پر مرکوز رہی، اسکے باوجود12مارچ1949ءکو قرار دادمقاصد منظور کرائی جسکی بنیاد پر دستور بنناتھااگلے ہی روز بنیادی اُصولوں کی کمیٹی کا قیام عمل میں لایا گیا جس نے اگلے سال عبوری رپورٹ پیش کی اس پر نکتہ چینی شروع ہوئی تو اس پر بحث ملتوی کراد دی اور پھر انکی جان لے لی گئی۔ 
اسکے باوجود یہ کہا جا سکتا ہے کہ انکے دور میں مسلم لیگ اور حکومتی پارٹی تنزل کا شکار ہو گئی مگر انہوں نے بطور وزیر اعظم اور صدرپاکستان مسلم لیگ اس طرف مناسب توجہ نہ دی اسی بناءپر تمام صوبوں میں بھی مسلم لیگی قائدین اور ارباب اقتدار دست و گربیان رہے مگر اس نازک صورتحال میں وزیر اعظم خود کو مفادات کی جنگ اور ان صوبائی جھگڑوں سے بالا تر نہ رکھ سکے۔ اس سے انکی ذات ہدف تنقید بنی ڈاکٹر مظفر احمد چوہدری کا کہنا ہے کہ ”انکا تعلق پاکستان کے کسی صوبہ سے نہ تھا لہٰذا انہیں سیاسی حمایت حاصل کرنے کے لئے مختلف صوبوں کو وزرائے اعلیٰ کے تعاون کا سہارا لینا پڑتا تھا اور اس غرض کے لئے انہوں نے متعد د باراصولوں کی قربانی دی۔ لیاقت علی کے عہد میں خارجہ پالیسی نے بھی واضع شکل اختیار کرنا شروع کر دی تھی۔ بھارت کے ساتھ تنازعات کو پر امن طریقے سے طے کرنے کے لےے اقدامات، سا لمیت پاکستان کے تحفظ کے لئے دستور کی تلاش اوراسلامی کے ساتھ خوشگوار تعلقات کو فروغ حاصل ہوا۔ لیکن مشتاق احمد نے اپنی کتاب ” گورنمنٹ اینڈ پالٹکس ان پاکستان“ میں لیاقت دور کی خارجہ پالیسی کو ہدف تنقید بنایا ہے کہ ابتداءمیں انکی پالیسی غیر جانبدارانہ تھی اور پاکستان کسی بھی بین الاقوامی گروہ میں یا بلاک میں شامل ہونا نہیں چاہتا تھا۔ لیکن روس کی دعوت پر ماسکو نہ جانا اور ٹرومین کی دعوت پر امریکہ چلے جانا غیر جانبداری کے دعوﺅں کے سر ا سر منافی تھا۔ بعد ازاں اس غلطی کی وجہ سے وزیر اعظم کو شہید کر دیا گیا۔ 
قائد ملت لیاقت علی خان16اکتوبر1951ءکو راولپنڈی کے موجودہ لیاقت باغ میں عوام کے ایک بڑے اجتماع کو خطاب کرنے آئے اور ڈائس پر جونہی انہوں نے تقریر شروع کی اور ابھی برادارن ملت ہی کہا کہ سید اکبر نامی ایک پٹھان نے انہیں گولیوں کا نشانہ بنالیا وہ کلمہ طیبہ ادا کرتے ہوئے نیچے گر پڑے اور انکی روح پرواز کرنے لگی آخری وقت انکی زبان پر یہی الفاظ تھے کہ خدا پاکستان کی حفاظت کرے ۔ وزیر اعظم کی شہادت کا واقعہ ایک گہری سازش کا نتیجہ تھا۔ اگر ہم شہیدملت لیاقت علی کی حیات و خدمات کا تجزیہ کریں اور انکی بشری کوتاہیوں اور ملی خدمات کو ترازو میں رکھیں تو شریف النفس وزیر اعظم کی خدمات کا پلڑا بھاری رہے گا۔ سید نور احمد ”مارشل لاءسے مارشل لاءتک“ میں لکھتے ہیں کہ انکی بعض پالیسیوں سے اختلاف ممکن ہے لیکن امر واقع یہ ہے کہ قائد اعظم کی طرح لیاقت علی خان نے بھی پاکستان ہی کو اپنا سرمایہ، اپنا خاندان اور اپنا سب کچھ سمجھا۔ انہوں نے نہ کوئی بنک بیلنس جمع کیا ،نہ اپنے لئے اور نہ اپنے خاندان کے لےے کوئی منفعت حاصل کرنے کی کوشش کی وہ اقتدار کو قوم کی امانت سمجھتے رہے قائد اعظم کے بعد ملک کی قیادت اور خدمت کے لئے انکی موجودگی بلاشبہ عوام کا حوصلہ بلند رکھنے کا باعث ثابت ہوئی۔ انکی کابینہ کے ایک اہم وزیر چوہدری نذیر احمد خاں رقمطراز ہیں کہ لیاقت علی خان ایک سچے ،محب وطن، بے لالچ قابل اور گہری سوچ و بچارکے مالک تھے انہوں نے قائد اعظم کے بعد جس طرح اس نوازئیدہ مملکت کو سنبھالا وہ انہی کا حصہ ہے۔ جبکہ مشتاق احمد نے انکی شہادت کو عظیم المیہ قرار دیتے ہوئے یوں تبصرہ کیا تھا کہ 
The Assassination of Liaqat was a mortal blow to to the young state, how grim was the tragedy, became more obvious by the events that followed his death....his premature exit from the scene marked a turning point in political history of Pakistan. 

٭٭٭٭٭