جمعرات، 2 جولائی، 2015

درددِل کے واسطے....


حضرت ابوذرؓ سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریم سے پوچھا، اے اللہ کے رسول، کون سا کام افضل ہے۔ آپ نے فرمایا، اللہ پر ایمان لانا اور اس کی راہ میں کوشش کرنا۔ حضرت ابو ذرؓ کہتے ہیں، میں نے پوچھا کون سا غلام آزاد کرنا افضل ہے؟ آپ نے فرمایا جو اپنے آقا کے نزدیک سب سے عمدہ اور دام میں سب سے اونچا ہو۔ ابو ذرؓ کہتے ہیں میں نے پوچھا اے اللہ کے رسول اگر میں کوئی بھی بھلا کام نہ کر سکوں؟ آپ نے فرمایا، لوگوں کو تم سے کوئی تکلیف نہ پہنچے۔ یہی تمہاری طرف سے تمہارے حق میں صدقہ قرار پائے گا“۔ 
بلا شبہ اسلام فلاح انسانیت کا ضامن ایک روحانی اور دنیاوی انقلاب تھا جس کی روح دوسروں کے لیے سلامتی، امن اور محبت کا ضامن ہونا ہے ۔ اسے ستم ظریفی کے علاوہ کیا کہیے کہ ہمارے ”عالموں“ نے اسے بند پانی کا تالاب بنا کر رکھ دیا ہے۔ اسلام عملی طور پر رحمت اللعالمین کی تحریک رحمة للعالمینی کا ہی نام ہے تاہم آج اس دین رحمت کے پیروکاروں کا رحمت و محبت سے تعلق کمزور ہو گیا ہے اور اس کمزوری نے محض عبادات کو ہی اسلام قرار دے رکھا ہے ۔ عبادات کی روح اور حقیقت و افادیت سے کوئی انکار نہیں، مگر یہ تسلیم و رضا جس بندگی کی تربیت کے لیے نظم کے طور پر فرض ہوئے وہ بندگی کہیں غائب ہو کر رہ گئی ہے، اور معاملات اور حسن معاملات جو دین کا غالب حصہ ہیں وہ ہماری تعلیمات اور عبادات کا حصہ نہیں رہیں۔ ہمارا دین اگر اسلام کے پانچ ستونوں نماز، روزہ، حج، زکوٰة اور کلمے تک محدود سمجھا جائے تویہ دین کی آفاقیت نہیں ہو گی کیونکہ دین اسلام کی بنیاد فلاح انسانیت پر رکھی گئی ہے۔ عبادات میں خشوع و خضوع سے زیادہ فقہ کے قواعد و ضوابط کارنگ غالب آ گیا ہے اور ہماری عبادات ظاہر داری کا ایک کھوکھلا مظاہرہ بن کر رہ گئی ہیں۔ کوئی مسلمانوں کو یہ بتانے اور سمجھانے کی کوشش ہی نہیں کرتا کہ کیایہ ستون محض ہوا میں کھڑے ہیںیا ان کی بھی کوئی بنیادیں ہیں۔ پھر ستون تو کسی عمارت کے نیچے بنائے جاتے ہیں۔ آخر وہ عمارت کیا ہے، جس کے یہ ستون ہیں؟ ہمارے ہاں نہ تو علم اور روح کا ذکر ہوتاہے جن کا کام ان ستونوں کی بنیادوں کا ہے اور نہ ہی ان ستونوں کے اُوپر استوار ہونے والی اسلام کی اس عمارت کا نقشہ کھینچا جاتا ہے جو ایمان، محبت، خیر، صداقت اور امن کے ایوانوں پر مشتمل ہے۔ دین کے پانچوں ستون وہ احکامات ہیںجن پرصدق دِل سے عمل کرنا ہر مسلمان کا فرض ہے۔ گستاخی معاف ! اسلام کے ان ستونوں پر معاملات کی ایک عمارت بھی ہے اور یہ ستون اس عمارت کے کھنڈرات نہیں ہیں۔ 
آج مسلمانوں کی حالت زار پر نظر ڈالیں تو یہ پانچوں ستون الگ الگ دائروں کی شکل میں نمایاں ہیں جن کا آپس میں کوئی تعلق دکھائی نہیں دیتا ہے اور نہ معاملات زندگی سے ۔اس طرح اسلام جیسا مکمل ضابطہ حیات جسے انسان اور انسانیت کو درپیش تمام معاملات حیات میں بہترین عملی راہنمائی مہیا کرنی تھی ، وہ اپنے پیروکاروں کو اس کی مثال نہیں بنا سکا۔ مسلمانوں کو عبادات کے ستونوں سے معاملات زندگی میں روشنی نہ ملی تو مسلمان صرف نام کا مسلمان بن کر رہ گئے اور آہستہ آہستہ ان عبادات سے بھی غافل اور بے پروا ہوتے چلے گئے ہیں۔ سادہ ترین مفہوم میں مسلمان کسی بھی معاشرے میں باعث رحمت انسان کا نام ہے۔ مسلمانوں کا رب رحمن و رحیم ہے، ان کا نبی رحمت للعالمین ہے اور اس کا قرآن تمام تر رحمت کا پیغام ہے۔ حدیث پاک ہے”لا یرحم اللہ من لا یرحم الناس“ یعنی جو انسانوں پر رحم نہیں کرتا اللہ تعالیٰ بھی اس پر رحم نہیں کرتے۔ اچھے مسلمان کی نشانی ہی یہ بتائی گئی ہے کہ جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے محفوظ رہیں۔ عبداللہ ابن عمر سے مروی ہے کہ اُنہوں نے کہا، نبی کے پاس ایک آدمی آیا، اس نے کہا اے اللہ کے رسول سب سے اچھا آدمی کون ہے؟ رسول اللہ نے جواب دیا، جو انسانوں کو نفع پہنچانے میں سب سے آگے ہو“۔ 
آج امت مسلمہ کو جس تعلیم اور عمل کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ ان کو یہی باور کرانا ہے کہ ان کا دین عبادات کے ستونوں پر سماج کی بہتری کی عمارت تعمیر کرتا ہے۔ حضرت نظام الدین اولیاءؒ فرمایا کرتے تھے کہ قیامت کے دن سب سے بڑا انعام اس کو ملے گا جس نے مسلمانوں اور عام انسانوں کی خوشی کے لےے کام کیا۔ زاہد خشک سے زیادہ مقام انسانوں سے محبت کرنے والوں کا ہے۔ سچا مسلمان اپنے سماج کا خیر خواہ ہوتا ہے وہ معاشرے کی بہتری کے لےے کوئی کسر اُٹھا نہیں رکھتا۔ وہ خوب جانتا ہے کہ اللہ تک پہنچنے کا راستہ اس کے انسانوں کے قلوب سے ہو کر جاتا ہے۔ حضرت بایزید بسطامی ؒ کا قول ہے کہ” جب میں عرش خداوندی کے نزدیک پہنچا اور دریافت کیا کہ اللہ کہا ں ہے ؟ جواب ملا کہ اللہ میاں کو اہل زمین کے شکستہ قلوب میں تلاش کرو۔ “ آج ہم اردگرد مجبورو مقہور اور حقدار و ضرورتمند لوگوں کے زخموں پر مرہم رکھنے سے زیادہ عمرہ پر جانے اور آنے کی خبروں پر خرچ کر دینے کو عبادت سمجھتے ہیں۔ اپنے گلی ، محلے اور شہر کے بے آسرا ، حاجت مندوں کی حاجت روا ئی کرنا کعبہ میں کھڑے ہو کر سیلفی بنانے سے کم لذت نہیں دیتا مگر اس کے احساس کے لےے جس ذوق جمال کی ضرورت ہے وہ آج کے مسلمان کا شیوہ کہاں۔۔۔۔ حضرت سری سقطی ؒ کا قول ہے حسن خلق یہ ہے کہ مخلوق خدا کو آزار نہ پہنچاﺅ اور لوگوں کی دی ہوئی تکالیف کو برداشت کرو۔ 
آج مسلمانوں کے لےے راہِ خیر یہی ہے کہ وہ باعث خیر بن جائیں۔ایک متحرک ، زندہ اور اجتہادی سماج کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کریں، حسن ِ عمل خلق عظیم ہے۔ حسن اخلاق ، دوسرے کے کام آنا اور معاشرتی معاملات میں حقوق العباد کا پورا کرنا بھی مسلمان کا خاصہ ہے۔ سماجی تعمیر و تطہیر میں صالح کردار مسلمان ہی حقیقی معنوں میں روح ایمانی کا حامل مسلمان ہے۔ انسانوں کو سکون و راحت پہنچانا، دوسروں کے کام آنا اور آسانیاں بانٹنا اگر باعث ثواب ہے تو دوسروں کی راہ میں روڑے اٹکانا، ان کے لےے مشکلات پید اکرنا، انہیں تکلیف پہنچانا عذاب ہے۔ حضرت خالد بن ولیدؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا رسول اللہ نے فرمایا”قیامت کے دن سب سے زیادہ عذاب اسے دیا جائے گا جس نے دنیا میں انسانوں کو سب سے زیادہ عذاب دیا ہو۔ “
عزیز الدین نسفی ؒ کتاب الانسان الکامل میں نصیحت کرتے ہوئے رقمطراز ہیں کہ ریاضت و عبادات نام و نمود کے لےے نہیں کرنی چاہےے۔درویش کو چاہےے کہ بقدر ضرورت عبادت کرے اور خدا شناسی کے بعد طہارت نفس حاصل کرے اور دوسروں کے لےے آزارجاں نہ بنے بلکہ راحت رساں بنے کہ انسان کی نجات اسی میں ہے۔ انسانوں کو راحت پہنچانا سب سے بڑی عبادت ہے ۔
اسلام حقیقت میں تمام ترانسانیت پسندی ،انسان دوستی اور حسن خلق ہے۔ جب انسان اخلاق وکردار میں کمال حاصل کر لیتا ہے تو خلیفہ ¿ خدا بن جاتا ہے۔ آج اسلام کے حرکی تصور اور سماجی روح کو سمجھنے اور سمجھانے کی ضرورت ہے۔ اسلام کی آفاقیت مسلمانوں سے زمین پر فساد کرنے والوں کی شناخت سے بچنے اور امن، انسانیت اور محبت کا پیغام عام کرنے کا تقاضا کر رہی ہے۔ کاش ہم مسلمان دین کے پانچ بنیادی ستونوں پر حسن اخلاق اور معاشرتی فلاح کی جو عمارت کھڑی ہے اس پر طرف بھی توجہ دیں۔