منگل، 7 جولائی، 2015

لفظ جی اُٹھے تو، تو خوف سے مر جائے گا


”پاکستان ایک انوکھا ملک ہے۔ تضادات اور منافقت کا شاہکا ر۔ غیر ملکی حیران ہو جاتا ہے کہ یہ ملک کس دور میں سانس لے رہا ہے۔ بیسویں صدی میں یہ لوگ کیسے کیسے اوہام میں مبتلا ہیں۔ کس طرح کے طرزِ حیات کو اپنائے ہوئے ہیں۔ یہ لوگ جو جہالت اور لا علمی سے فائدہ اُٹھاتے ہیں، نہیں چاہتے کہ اس ملک سے جہالت ختم ہو، لیکن جہالت کے خلاف تقریریں کرتے ہیں، وہ اپنے ملک کے حالات کا شکوہ کرتے ملتے ہیں۔ جبکہ وہ خود یہ چاہتے ہیں کہ یہ انار کی برقرار رہے تاکہ استحصال جاری رہے۔ یہ لوگ فوج کے خلاف باتیں کرتے ہیں لیکن در پردہ وہ فوج کے ساتھ تعاون کر رہے ہوتے ہیں۔“
مذکورہ خیالات80کی دہائی میں پاکستان کے حوالے سے لکھی جانے والی غیر ملکیوں کی کتابوں میں سے مقبول کتاب "Breaking The Curfew:A Political Journey Through Pakistan"سے اخذ ہیں۔ یہ کتاب 1989میں شائع ہوئی جسے آکسفورڈ یونیورسٹی سے سیاسیات اور معاشیات کی اعلیٰ تعلیمافتہ صحافی اور عالمی شہرت یافتہ برطانوی جریدے”اکانومسٹ“ کی نمائندہ ایما ڈنکن نے رقم کیا۔ 1986ءمیں ایما ڈنکن کو اکانومسٹ نے جنوبی ایشیاءمیں اپنی کارسپانڈنٹ مقرر کیا۔اپنی اس کتاب میں اس نے پاکستان میں گذارے آٹھ ماہ کے دوران شب و روز کے مشاہدے، تجربے، تجزیے کو اپنے منفرد انداز میں قلمبند کیا تھا۔ مصنفہ نے بڑی گہرائی سے ہماری سیاست و معاشرت کا جائزہ لیا، ہماری قومی حیات کے بے شمار گوشوں کو تحقیقی و تنقیدی نظرسے پرکھا اور مکمل دیانتداری اور سچائی سے ان حوالوں پر فکر انگیز تبصرہ بھی کیا تھا۔ مسعود اشعر نے اس کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ” ایما ڈنکن نے اپنے عورت اور سفید چمڑی کا ہونے کا پورا فائدہ اُٹھایا، وہ ہر جگہ گئی اور ہر اس شخص سے ملی جو ہماری قومی زندگی میں کوئی حیثیت اور اہمیت رکھتا ہے ۔ عورت ہونے اور سفید چمڑی کا ہونے کی وجہ سے ہر شخص اس کے سامنے ننگا ہو گیا۔ لفظی معنی میں نہیں، اصطلاحی معنی میں۔ ویسے بعض معززین نے لفظی معنی میں ایسا کرنے کی کوشش کی جس کا اس نے کتاب میں بھانڈہ پھوڑ دیا۔ ایما کو عورت ہونے کا ایک اور فائدہ بھی ہوا۔ انسانی شخصیت کو سمجھنے کے لےے عورت کے پاس ایک چھٹی حس بھی ہوتی ہے۔ ہمارے تمام اہم اور قابل ذکر لوگوں کی ذات، شخصیت اور مزاج کے بارے میں ایما نے چند جملوں میں جو تصویر کھینچ دی ہے وہ شاید مرد لکھنے والے پوری کتاب میں بھی نہ کھینچ سکتے۔ ایما نے ہمارے سیاسی و سماجی کرداروں کو ہماری تاریخ کے تناظر میں سمجھنے کی کوشش کی اور اپنی بساط کے مطابق ہمیں سمجھانے کی جرا ¿ت بھی دکھائی۔ کتاب میں تاریخی تناظر اور مباحث میں مصنفہ نے کہیں کہیں ٹھوکر بھی کھائی۔ پاکستان کے قیام کی غایت غیر ملکی مصنفین اور محققین کو سمجھ میں نہیں آ سکتی کہ یہ محض تاریخی عوامل کی پیداوارنہیں بلکہ تاریخ کا حاصل تھا۔ خیر جدوجہد پاکستان تو اپنی جگہ ہم نے گذشتہ چھ سات عشروں میں پاکستان کے ساتھ جو کیا ہے وہ بھی غیر ملکی قلمکاروں کو چکرا کے رکھ دیتا ہے۔ 
ایما ڈنکن نے اپنی کتاب میں ہمارے سماج کی منافقت، سیاسی خود غرضی اور معاشی لوٹ کھسوٹ اور انفرادی و قومی بے حسی کا جو منظر دکھایا ہے وہ آج سے پچیس سال قبل جتنا درد ناک تھا، آج بھی اس سے بڑھ کر کربناک دکھائی دیتا ہے۔ 
اک عمرسے زخموں کا لہو چاٹ رہے ہیں 
ہم لوگ محبت کی سزا کاٹ رہے ہیں 
آج بھی اپنے اردگرد نظر دوڑائیں تو ہمارے لیڈ ر خود غرض، علماءمصلحت بین، دانشور خوشامدی، قلم کار ہرکارے، ادارے کھوکھلے، عوام راضی برضائے حاکم دکھائی دیتے ہیں اور سماج منافقت، ہوس، حسد، نفرت، جھوٹ ، دغا کے مجموعے کا نام سنائی دیتا ہے۔ ایما ڈنکن نے لکھا تھا کہ پاکستان کی سرزمین تضادات کا نمونہ پیش کرتی ہے۔ پاکستان کی حکومت میں مرکزی کردار ادا کرنے والے ایک رہنما نے مجھے بتایا کہ پاکستان ایک منافقت سے بھرا ملک ہے۔ یہاں دو قسم کی اقوام بستی ہیں۔ ایک وہ جن کی جڑیں اس سرزمین میں ہیں اور دوسری قوم وہ ہے جو نظریات اور آئیڈیلز میں بستی ہے۔ پاکستان کی بد قسمتی یہ رہی کہ ان دونوں میں شبہات اور فاصلہ بڑھتا چلا گیا ۔ پاکستان میں منافقت اور تضادات کا دوسرا سبب یہ رہا کہ یہاں طرزِ حکومت برطانوی رہا۔ قانون اور عدالتیں غرضیکہ سار ا ڈھانچہ انگریزوں نے تعمیر و قائم کیا تھا۔ آزادی کے بعد کی ضرورتوں کے تحت اس ڈھانچے میں جو بتدیلیاں رونما ہونی چاہئیں تھیں ان کی طرف کسی نے توجہ نہ دی۔ ایما نے مزید بتایا تھا کہ پاکستان میں رشوت چاروں طرف پھیلی ہوئی ہے۔ لوگ معمولی رقم کی رشوت لے کر حکومت اور ملک کو بڑا نقصان پہنچانے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔ اس رشوت نے بزنس ، صنعت اور ہر شعبے کو بری طرح متاثر کیا ہے۔سرکاری ملازمین اپنی اصل آمدنی سے کہیں زیادہ خرچ کرتے ہیں۔ ان کا رہن سہن اور طرز حیات ان کی اصل آمدنی سے میل نہیں کھاتا۔ ایک بینکر نے مجھے کہا ” یہ ایک مایوس کر دینے والا ملک ہے ۔“ ایک سیاستدان نے بتایا ” خود غرضی ہمارے ملک کی سب اچھائیوں کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے۔“ ایک ماہر معاشیات نے کہا” پاکستانی معاشرہ ایک ایسا معاشرہ ہے جو اپنے جرائم کے بارے میں بے حس ہو چکا ہے۔ “یہاں ہر شخص راتوں رات دولت مند بننا چاہتا ہے۔ یہ وہ طرز فکر ہے جس نے پاکستانی معاشرے کو جکڑ رکھا ہے۔ لوگوں کے امیر بننے کی آرزو میں مبتلا یہ معاشرہ ایسے لوگوں کو جنم دیتا ہے جو ان کی اس آرزو کا استحصال کرکے انہیں لوٹ سکے۔ ۔۔پاکستان میں ایک طرف بے حد غربت ہے اور دوسری طرف ناقابل یقین امارت۔ ۔۔یہاں لوگوں میں کتاب کے لےے محبت نہیں رہی، مطالعہ کا شوق بہت کم ہے۔کتابوں کی بجائے لوگ غیر ملکی اشیاءکی خریداری اور نمائش سے اپنی دولت مندی کا اظہار کرتے ہیں۔ 
ایما ڈنکن کی یہ کتاب میں نے 1989ءمیںقائد اعظم یونیورسٹی میں زمانہ طالب علمی میں پڑھی تھی اور پاکستانیت کے جذبات سے لبریز ہو کر کچھ نکات کو نشان زدہ کر لیا تھا کہ یہ سب میرے پاکستان کے متعلق جھوٹ ہے۔ آج ملک میں ایک بار پھر ادلتی بدلتی صداﺅں ، سیاسی و سماجی واقعات کی رنگا رنگی کے ایام میں یہ کتاب نظر آئی تو دیرینہ جذبات تازہ ہو گئے اور اس جدید تعلیم یافتہ ، مغربی صحافی اور غیرملکی لکھاری کی کہانی کو رد کرنے کے لےے قلم اٹھا لیا۔ میں نے نشان زدہ لائنوں کو دوبارہ پڑھا ان میں سے اکثر کا ذکر شروع میں کر چکا ہوں اور پوری دیانتداری سے کہہ رہا ہوں ایسا لگا جیسے ہمارے ہاں تاریخ کی حرکت تھم کر رہ گئی ہے اور ہم جامد سماج اور فکر ی جمود کے حامل جہنمیوں کی سی زندگی کی سزا کاٹ رہے ہیں۔ گذشتہ تین عشروں میں منافقت اور تضادات میں اضافہ ہو اہے ۔ ایما ڈنکن جس نتیجے پر پہنچی تھی ہم بھی دبے لفظوں میں اس کا رونا روتے رہتے ہیں۔ ا س کی کتاب پڑھ کر ماننا پڑتا ہے کہ ہم ریا کار ہیں، منافق ہیں ، ہماری ساری زندگی اپنے اپنے گرد جھوٹ، منافقت اور ہوس و بے ایمانی کا جالا بُننے اور تاننے میں گذر جاتی ہے۔ ہم نے نتیجہ اخذ کر رکھا ہے اور قلمی شہادتیں ایما نے پچیس سال قبل دے دی تھیں۔ مگر ہم ہیں کہ ہمارا ضمیر تا حال خوابیدہ ہے۔ ہم ترقی کرنے اورخوشحالی دیکھنے کا ارمان لےے ہوئے ہیں۔ کیا دنیا میں کسی منافق قوم ، بکھرتے سماج، تحلیل ہوتی ریاست اور خودغرض حکمرانوں کی قیادت میں ترقی کا کوئی زینہ طے ہو سکا ہے۔ ایما نے ہمیں آئینہ دکھا یا تھا۔ ہم تو اتنے بے حس ہیں کہ ہمیں آج تک خود احتسابی کا خیال نہیں آیا۔ میں نے لرزتے ہاتھوں سے لکھنا روک دیا ہے۔ ایما مجھے کہہ رہی ہے 
میں نے کاغذ پر سجائے ہیں جو تابوت نہ کھول 
لفظ جی اٹھے تو ، تو خوف سے مر جائے گا