منگل، 30 جون، 2015

کب ظلمت حاضر سے جان چھوٹے گی


Photograph by: Zubair Amanat

پاکستان کے ”روغن دماغ“ مالیاتی جادوگروں نے نئے مالی سال کے لےے نیا میزانیہ پیش کر کے ایک بار پھر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔یہ بجٹ حکمرانوں کے سیاسی مقاصد کے حصول کا معاشی ذریعہ ہے۔ اس بجٹ کا غیر جانبدارانہ اور حقیقت پسندانہ جائزہ لیں تو واضح ہو جاتا ہے کہ روایتی مالیاتی فکر کا عکاس ہے۔ اس میں معاشی و سماجی تبدیلی یا انقلاب کی کوئی جھلک دکھائی نہیں دیتی۔ حکمرانوں نے اپنے ہمنوا طبقے کے مفادات کے تحفظ کی ذمہ داری خوب نبھائی ہے۔ امیرطبقے کے لےے بہت کچھ ہے۔ اس نظام معیشت نے حقیقت میں امیر کے امیر تر ہونے اور غریب کے غریب ترہوتے جانے کے عمل کو اور تیز کر دیا ہے۔ سادہ ترین اور مختصر الفاظ میں یہ بجٹ معاشی شعور اور سماجی ترقی کا ضامن ہونے کی بجائے مالیاتی ماہرین کی پہلے سے ٹیکس ادا کرنے والوں پر مزید بوجھ ڈالنے کی پالیسی اور غریبوں اور متوسط طبقے کی رہی سہی ہمت چوس لینے کی ماہرانہ چالوں کا مجموعہ ہے۔ بجٹ پر سب سے خوبصورت تبصرہ میرے ایک دوست نے خوب کیا کہ ”مرے کو مارے اسحا ق ڈار“اسی تبصرے نے مجھے بہت کچھ سوچنے پر مجبو ر کیا۔ 

پسماندگی اور غربت کے بڑھنے میں سرمایہ دارانہ تکنیکی مہارتوں کو بڑا دخل ہے۔ اس لےے بہت سے دانشوروںاورماہرین کا خیال ہے کہ پاکستان کے مالیاتی جادوگرسرمایہ، تکنیکی مہارت اور ترقیاتی نظریہ بھی درآمد کرکے ہی کام چلا رہے ہیںاور ان کے اعدادوشمار کے گورکھ دھندے کا پاکستان کے زمینی حقائق اور عوامی ترقی سے کوئی تعلق نہیں۔ مالیات اور اکاﺅنٹس کے ماہرین جب ملک کے عوام کے مقدر کے مالک بن جائیں تو حکمرانی مضبوط ہو سکتی ہے لیکن ریاست تحلیل ہو جاتی ہے۔ ملک کا پہلا بجٹ مشکل ترین معاشی حالات میں ایک ماہر معاشیات نے بنایا تھا تو اس نے ریاست کو درپیش خطرات کا ہوا کھڑا کرنے کی بجائے اپنے وژن سے خسارہ کے بغیر بجٹ پیش کیا تھا ۔لیکن جب سے وطن عزیز کی معاشی باگ ڈورمالیاتی ماہرین کے ہاتھوں میں آئی ہے ملک کو فیکٹری اور سیاست کو کاروبار سمجھ کر بجٹ سازی کی جانے لگی ہے۔ عوام محض شے بن کر رہ گئے ہیں۔ بجٹ میںانکو ”شہری“ کی بجائے نفع نقصان کے ترازو میں تولا جانے لگا ہے۔ کسی جمہوری اورفلاحی ریاست میں حکومت شہریوں کو آسانیاں فراہم کرنے کے عزم سے میزانےے بناتی ہے جن کا مقصد بنیادی انسانی ضرورتوں کے حوالے سے بجٹ بنانا ہے کیونکہ محض تیز رفتار ترقی عام لوگوں کی خوشحالی کا سبب نہیں بن سکتی۔
رابرٹ میکنامارا نے ستمبر1972ءمیں کہا تھا کہ ”ترقی پذیرممالک کی حکومتوں کے سامنے سب سے اہم کام یہ ہے کہ وہ اپنی ترقیاتی پالیسیوںکو اس طرح از سر نومرتب کریں کہ ان ممالک کے مفلس ترین لوگوںکے افلاس کا خاتمہ ہو سکے۔ یہ مقصدترقی کی مجموعی رفتارکوکم کےے بغیربھی حاصل ہو سکتا ہے۔ اس کے لےے ضروری ہے کہ ترقیاتی مقاصد کا تعین ہی بنیادی انسانی ضروریات کی اصطلاح میں کیا جائے یعنی یہ مقاصد ضروری انسانی غذا، مکان، صحت عامہ، خواندگی اور روزگار کی فراہمی پر مبنی ہوں۔ اس حکمت عملی کی وجہ سے خواہ معیشت کے چند ایسے شعبوں کی ترقی کی رفتار قدرے کم ہو جائے جن سے محض اُونچے طبقے کے لوگ ہی مستفید ہوتے ہیں۔ سماجی اورمعاشی حکمت عملی میں یہ انقلاب بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے اور اس کے بارے میں فیصلہ کرنا ترقی پذیر ممالک کا اپنا کام ہے۔ یہ بات ظاہر ہے کہ اس تبدیلی کے لےے عالی ہمتی اور بلند حوصلے کی ضرورت ہوگی۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اب اس کے سوا اور کوئی دانشمندانہ راہِ عمل نہیں ہے کہ زیادہ سے زیادہ سماجی انصاف کی پالیسیوں کو بروئے کار لایا جائے ۔ جب امراءکی تعداد محدود ہو اور غریب اتنی بڑی اکثریت میںہوں اور جب ان دونوں طبقوں کے درمیان تفاوت کم ہونے کے بجائے روز بروز بڑھتا جا رہا ہو تو جلد یا بدیر وہ وقت آ جاتا ہے جب بادل ِنخواستہ اس بات کا فیصلہ کرنا ہی پڑتا ہے کہ ضروری اصلاحات کے راستے کو اپنایا جائے یا بغاوت کے خطرے کو مول لیا جائے یہی سبب ہے کہ وہ پالیسیاں جن کا خصوصی مقصد یہ ہے کہ ترقی پذیر ممالک کے چالیس فیصد مفلس ترین لوگوں کی محرومیوں کو کم کیا جائے ، صرف کسی اُصول کی پیداوار ہی نہیں بلکہ دانشمندی کا تقاضا ہے۔ سماجی انصاف، اخلاقی فریضہ ہی نہیں بلکہ وقت کی اہم سیاسی ضرورت بھی ہے © ©۔ © ©“رابرٹ میکنارا ماراکی بات اپنی جگہ، ہمارے جیسے ممالک کا مسئلہ صرف یہ نہیں کہ ان پاس و سائل ، تکینک، مہارت، تنظیم ، ترقیاتی سوچ یا جدید اداروں کی کمی ہے یا یہ کہ ان کے عوامل میں ترقی کی کوئی خواہش موجود نہیں بلکہ اصل مسئلہ ہے عالمگیر سرمایہ دارانہ نظام اور اس کے مقامی حواری ان ممالک کا بد ترین استحصال کر رہے ہیں۔ عالمی سرمایہ دارانہ نظام کے یہ مقامی حواری، ممالک، اداروں اور افراد، ہر صورت میں موجود ہیں۔ انہیں غربت اور غربیوں سے کوئی غرض نہیں، دانشمندی ان کی ضرورت ہی نہیں ہے۔
غربت ان کی گفتگو اور اعداد وشمار میںمحض ”چسکے“ اور ”تڑکے“ کے طور پر نمایاں ہوتی ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ غربیت کی جانب جانے والا راستہ ان کی مالیاتی پالیسیوں میں عدم مساوات کی شاہراہ سے ہو کر گذرتا ہے۔انہیں بخوبی ادراک ہے کہ پیداوار کی کم شرح از خود غربت میں اضافے کا موجب نہیں بنتی بلکہ اصل عامل یا محرک آمدنی کی تقسیم ہے۔ہمارے ہاں غربت میں روز بروز اضافے کی وجہ بڑے پیمانے پر آمدنی کی تقسیم میں اور مجمو عی طورپر عدم مساوات ہے ۔ غربت میں اضافے کے کچھ حصوں کو سماجی پالیسی خاص طور پر ہاﺅسنگ ، تعلیم، ہیلتھ کیئر اور پبلک ہیلتھ سیکڑ میں ناکامی سے بھی منسوب کیا جا سکتاہے۔ جہاں کثیر آمدن والا گروپ ان سہولتوں کے حصول کے لےے مارکیٹ کے نرخ برداشت کر سکتا ہے، وہیں غریب کو ان تمام سہولتوںسے محروم ہونا پڑا کیونکہ وہ ان کے مارکیٹ نرخ برداشت نہیں کر سکتا۔ بلاشبہ غربت کے حوالے سے ہمارے حالات مسلسل خراب ہوتے رہے ہیں اس لےے کہ یہاں ترقی کے فوائد غریبوں تک نہیں پہنچے۔ یہاں امیر طبقے کی آمدن بڑھتی ہی گئی ہے جبکہ غریب غریب تر ہوتا گیا ہے۔ غریبوں کے لےے پبلک سروس کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں، مگر ہمارے ہاں ریاست اور حکومت مسلسل اپنی سماجی ذمہ داریوں سے پہلو تہی کی روش اپنائے ہوئے ہے۔ تعلیم، ہیلتھ کیئر اور صحت عامہ کے شعبوں میں سرکاری دلچسپی کم سے کم ہوتی گئی ہے۔ حالیہ بجٹ میں بھی حکمرانوں نے غریبوں سے سوتیلا سلوک جاری رکھا ہے۔ تجارت پیشہ سرمایہ دارانہ فکر کامظہر موجودہ بجٹ طبقات میںفاصلے بڑھانے کا سبب بنے گا۔ یہ بجٹ اپنے ظاہری اوصاف اور پوشیدہ کمالات کی وجہ سے کسی طرح بھی عوام دوست نہیں ہے اس میں عوام ، ملازمین اور غرباءکے گرد شکنجہ اورکس دیا گیا ہے ۔
المیہ یہ ہے کہ اس ملک کے غریب عوام سرمایہ داروں اور تاجروں سے عوام دوستی کی آس لگائے بیٹھے ہیں۔ حیرت ہے گذشتہ دو اڑھائی عشروں میں سب سے زیادہ بجٹ پیش کرنے والے وزیر خزانہ آج بھی معاشی تباہی، دیوالیہ پن، ناگفتہ بہ حالات کا پرانا راگ الاپ رہے ہیں۔ بجٹ سے ایک روز قبل گذشتہ بجٹ میں مقررہ تمام اہداف میں ناکامی کا اعتراف کرتے ہیں، یہ انکی وزارت اور حکومت کی ناکامی کامنہ بولتا ثبوت ہے کہ وہ اپنے ہی مقررکردہ اہداف حاصل نہیں کر سکے ، کیا اس کے بعد نئے سال کے لےے اہداف مقرر کرنے اور تمنائیں بانٹنے کا ”کاروبار“ سینہ تان کر کرنے کا جواز تھا؟ نئے سراب، نئے دکھ، نئے مسائل یہی تو اگلے سال کے خطاب کے محاسن ہوں گے۔
غریبوں کو ”عطار کے لونڈوں“ سے دوا مانگنے کی بجائے خود آگاہی کی ضرورت ہے۔ وقت پکار پکار کہ غریبوں کو کہہ رہا ہے کہ
ستم زدوں کی تگ و دو سے رات ٹوٹے گی
کلی حیات کی قتل گاہ سے پھوٹے گی
زمام آئے گی محنت کشوں کے ہاتھوں میں
تب ہی تو ظلمت حاضر سے جان چھوٹے گی
خا ک میں لتھڑے، اپنے خوابوں کے خون میں نہلائے ہوئے غریب پاکستانیوں کو خود اپنی حالت تبدیل کرنے اور خود اپنے انداز سے احساس ذلت کا شعور جگانے کا شعور پید اکرنے کی ضرورت ہے۔ اپنی بھٹکتی ہوئی اُمیدوںکو آرزﺅںکا گمان دینے کی ضرورت ہے۔ خوشحال مستقبل کے لےے روشنی کی ضرورتوں کو دوام بخشنے کی ضرورت ہے۔ روزو شب کی وحشتوں کا باب طویل ہوتا جا رہا ہے، حالات بتا رہے ہیں کہ آگے دھند اور پیچھے ریت ہے۔ غریبوں کے جذبات اور شعور کی گرمی سے ہی یہ یخ بستہ رات پگھل سکتی ہے۔ خواہشیں ذہن کی گونگی جسارتیں ہوتی ہیں، یہ مانگنے سے پوری نہیں ہو تیں۔ ہمیں انہیں ہواﺅں کے بادباںپر ہمتوں کے لہو سے لکھنا ہے۔ بصورت دیگر اپنی آرزو ¿ں کے لاشے اپنے کندھوں پر اُٹھائے اپنی آنے والی نسلوں کا مقدر سیاہ کرتے جانا ہے۔ آخر میں ضرورت سے زیادہ سمجھدار مالیاتی ماہرین اورحکمرانوں کو بس اتنا یاد دلانا ہے کہ میکس ویبر نے خوب کہا تھا کہ ”سیاست میں صرف دو ہی بڑے گناہ ہیں، حقیقت پسندی کا فقدان اور فیصلوں کے نتائج کی ذمہ داری قبول کرنے کا فقدان۔“ہماری سیاست و معیشت پر اس کے اثرات مرتب ہونا لازم ہے۔