جمعرات، 29 جنوری، 2015

علوم ترجمہ اور تحقیق

علوم ترجمہ اور تحقیق 



تاریخ شاہد ہے کہ علمی اداروں کے تحقیقی جریدوں کا باقاعدہ آغاز سترہویں صدی میں ہوا جب 5 جنوری 1665ءکو "des Scavans" نامی جریدے کا اجراء،ہوا پھر اس کے بعد اگلے سال سے رائل سوسائٹی آف لندن کے فلسفیانہ علمی مقالات کی روداد مطبوعہ صورت میں منظر عام پر آنے لگی۔ تب سے علم و تحقیق کے پھیلاﺅ اور فروغ میں تحقیقی مجلوں کی اہمیت نمایاں ہونے لگی۔ اٹھارویں صدی سے اکڈیمک جرنلز کسی موضوع پر علمی مقالات کا اہم مآخذو منبع اور دانش و تحقیق کی تشہیر اور فروغ کا موثر ترین ذریعہ سمجھے جاتے ہیں اسی لیے دنیا بھر میں جامعات کے معیار کی شناخت ان کے تحقیقی جریدے ہوتے ہیں۔ تحقیق یونیورسٹیوں کا بنیادی وظیفہ ہوتا ہے جامعات تحقیق کی ثقافت کی علمبردار ہوتی ہیں جہاں تحقیق تجسس کی رسمی شکل اختیار کر لیتی ہے اور اساتذہ و محققین ذوق تجسس سے ہر وقت کسی مقصد کی ٹوہ میں مصروف عمل ہوتے ہیں ۔ Albert Szent Gyorgi نے کہا تھا کہ 
"Research is to see what every body else has seen, and to think what nobody else has thought"
یہ بات مجھے اس وقت خاص طور پر یاد آئی جب گذشتہ روز دانش گاہ گجرات کے مرکز السنہ و علوم ترجمہ (CeLTS) کے سربراہ پروفیسر غلام علی نے ”پاکستان جرنل آف لینگویجز اینڈ ٹرانسلیشن سٹڈیز“ کا نیا شمارہ برائے مطالعہ و تبصرہ پیش کیا اور سنٹر کی کارکردگی، مقاصد اور سکوپ پر خوب روشنی ڈالی۔ ان کی علمی گفتگو سے مجھے معلوم ہوا کہ Gregory Rabassa نے درست کہا تھا کہ 
Every act of Communication is an act of Translation
ترجمے کا شعبہ اقوام کی ترقی اور خوشحالی میں اہم ترین کردار کا حامل رہا ہے ۔ مسلمانوں کے شاندار ماضی کا بڑا حصہ تراجم کا مرہون منت ہے جس کے ذریعے یونانی حکمت اسلامی فکر کے ذریعے دنیا میں علوم کی ترقی کا سبب بنی۔ قوم سازی کے عمل اور کرہ ¿ ارض پر موجود اقوام عالم کے مابین ثقافتی مکالمے کے آغاز کے حوالے سے ترجمے کی اہمیت کا تقاضا ہے کہ اسے ادارہ جاتی سرپرستی حاصل ہو۔ یونیورسٹی آف گجرات میں ڈیڑھ، دو سال قبل علوم ترجمہ کے فروغ کے لیے ”دارالسنہ و علوم ترجمہ“ کے نام سے ایک الگ مرکز قائم کرنے کے پیچھے یہی سوچ کارفرما تھی۔ علوم ترجمہ دنیا میں ابھرتا ہوا شعبہ ¿ علم ہے ۔ اس کاتعلق ترجمے کے نظری، تشریحی اور اطلاقی مطالعے سے ہے ۔ پاکستان میں ترجمے کی قومی ، علاقائی اور عالمی اہمیت کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ آغاز سے ہی واضح تھا کہ اس مرکز کے پاس نمو اور ترقی کے بے پناہ مواقع موجود ہیں۔ تاہم انتہائی مختصر سے عرصے میں مضبوطی سے قدم جما لینا لائق تحسین ہے۔ اس مرکز نے قلیل مدت میں نہ صرف ”مترجم“ کے نام سے ایک میگزین جاری کیا بلکہ مرکز سے علوم ترجمہ کے حوالے سے پاکستان کے پہلے تحقیقی مجلے کا قابل تعریف آغاز بھی کیا ۔ جامعہ گجرات سے ”پاکستان مجلہ برائے السنہ و علوم ترجمہ“ کا اجراءپوری قوم کے لیے باعث افتخار ہے ۔ اس مجلے کے دو شمارے منظر عام پر آچکے ہیں انہیں دیکھ کر یہ یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ یہ معیاری تحقیقی مجلہ پاکستان میں عملی ترجمے اور شعبہ ¿ علوم ترجمہ میں تحقیق کے فروغ میں ثمر آور سبب ثابت ہو گا۔ ”پاکستان جرنل آف لینگویجز اینڈ ٹرانسلیشن سٹڈیز“ کے دوسرے شمارے کے آغاز میں ہی مدیر اعلیٰ پروفیسر ڈاکٹر ضیاءالقیوم شیخ الجامعہ گجرات نے اپنے پیغام میں واضح طور پر کہا ہے کہ کسی بھی یونیورسٹی کا بنیادی کام تحقیقی سرگرمیوں کا فروغ ہے۔ اور ان کے بیان میں تحقیق و تعلیم کی نمو و ترقی کا عزم خوب جھلک رہا ہے ۔ اس تحقیقی مجلے کے دوسرے شمارے میں سات اہم مقالے شامل ہیں۔ پہلا مقالہ لیبیا کے ممتاز محقق Dr Yousaf Elarmil کا ہے۔ جس میں لیبیا میں عربی زبان کے صوتیاتی یا حلقی تبادل کا regressiveاورprogressive ساﺅنڈ سیگمنٹ کے تناظر میں سنجیدہ مطالعہ کیا گیا ہے ۔ دوسرے مقالہ میں ایرانی سکالرDr Fahimeh Nasseriنے فارسی سفر نامے اور ابتدائی دور جدید کے ادب کو عصری سیاسی پس منظر میں پیش کرنے کی عمدہ سعی کی ہے اور بتایا ہے کہ اس دور کے سفر ناموں اور ادب کے عہدوار مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اگرچہ یورپی ممالک کو سلطنت عثمانیہ پر غلبہ پانے کے لیے ایران کی ضر ورت تھی اور اس ملک کے ساتھ تعلق سے انہیں تجارتی مفاد حاصل تھا تاہم انہوں نے ایران کو دبانے کے لیے اسے کم تر تصور کیا۔ تیسرا مقالہ سعودی عرب کے ماہر لسانیات Dr Mohmmad Al Zahravi کا ہے جس میں انہوں نے ماڈرن سٹینڈرڈ عربی کے منفی سابقوں، لاحقوں کی عمومی وضاحت کی ہے اور حجازی بول چال کی عربی کے منفی معنی کے حامل الفاظ کے مقابل اس صرفیاتی، صوتی یا شکلیاتی اثرات پر مرکوز مطالعہ ہے ۔ چوتھے مقالے میں یوکرائن کے Daria Moskvitina اور پاکستان کے ڈاکٹر قاسم بھگیو نے امریکی ڈرامہ نگار تھامس گاڈفرے کے المیہ ”پرنس آف پارتھیا “کے بطور ”امریکی ہیملٹ“ کے متون کا مطالعہ کیا ہے ۔ پانچویں مقالے میں پاکستانی متعلمین تلفظ کے حوالے سے لغوی استدلال کی تحریری اور زبانی کا ارشد محمود، ڈاکٹر محمد اقبال بٹ اور محمد عذیر نے تحقیقی مطالعہ کیا ہے ۔ تنزیلہ خاں اور معاونین نے پاکستان کی کثیر اللسان صورتحال میں دوسری زبانوں کی اجارہ داری کے مقابلے میں پنجابی زبان کی صورتحال کو واضح کرنے کی کوشش کی ہے ۔ آخری مقالہ میں ڈاکٹر نگہت شکور نے انگریزی کی گلوبل ٹرانسلیشن کے ذریعے انٹرنیشنل لینگوافرانکا کے درجہ دیے جانے کے نتیجے میں پیدا ہونے والی مقامی قومی زبانوں اور ثقافتوں کو غیر مستحکم کرنے میں ظاہری تضادات اور طریقوں کو بیان کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ ترجمہ ہی عالمگیریت کا حقیقی انفرا سٹرکچر ہے اور یہی مقامی اور عالمی رابطے میں ثالثی کا کردار ادا کرتا ہے ۔
 مختصر یہ کہ مجلہ اپنے مواد کے حوالے سے عالمی معیار کا تحقیقی مجلہ ہے جس پر مجلس ادارت اور شعبہ علوم ترجمہ مبارکباد اور تحسین کے حقدار ہیں۔ جامعہ گجرات کے مرکز السنہ و علوم ترجمہ کے اس تحقیقی مجلہ نے شروع میں ہی مختلف ممالک کے محققین، ماہرین لسانیات اور لکھنے والوں کی توجہ حاصل کر لی ہے ۔ یہ مجلہ مقالوں کی اشاعت میں ہائر ایجوکیشن کمیشن کے وضع کردہ معیار اور ہدایات کو ملحوظ خاطر رکھتا ہے۔ یہ مجلہ اپنی Transdiscipilinary حیثیت کی وجہ سے لسانیات، ادب ، تقابلی ادب، مشین لرننگ اور علوم ترجمہ کے شعبوں میں ہونے والی جدید تحقیق کے موضوعات کو موضوع بحث بنا رہا ہے ۔ یہ بات نہ صرف مجلہ کے لیے بلکہ جامعہ گجرات کے لیے باعث فخر ہے ۔ کینیڈا کے Dr. Luis Von Flotow، یوکے پروفیسر Dr Susan Bassnett امریکہ کے Dr Gaytri C. Spivak جیسے عالمی شہرت کے حامل ماہرین لسانیات، مفکر اور نظریہ کار اس مجلے کی ریویو کمیٹی میں شامل ہیں۔ یہ امر بھی قابل توجہ ہے کہ اس مجلہ کے دوسرے شمارے میں ہی دنیا بھر کے مختلف ممالک کے مقالہ نگاروں کی تحقیقات شامل ہیں۔ یہ مجلہ اپنی بین العلوم شناخت کی وجہ سے زبان و ادب اور ثقافت کے میدانوں کی کی جانے والی تحقیق میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے ۔ پاکستان جیسے کثیر اللسانی ملک میں جہاں کم و بیش چھ بڑی اور 59 چھوٹی زبانیں بولی جاتی ہیں مگر جہاں انگریزی سرکاری زبان اور اردو قومی زبان کے طور پر سرکاری و نجی سطحوں پر بولی ، لکھی اور سمجھی جاتی ہیں لیکن تاحال ہم قومی اور عالمگیریت کی حامل زبان کا کردار قومی دھارے میں متعین نہیں کر سکے ۔ قومی زبانوں میں عصری تقاضوں سے ہم آہنگ ادب و تحریر کی کمی قومی لسانی پالیسی کی راہ میں حائل اہم رکاوٹ ہے ۔ اسی صورتحال میں یونیورسٹی آف گجرات کا شعبہ ¿ علوم ترجمہ جامعہ اور اس میں ہونے والی تحقیقی سرگرمیوں کے ذریعے مختلف زبانوں اور ثقافتوں کے درمیان مفید مکالمے کا مرکز بن کر قومی زبانوں اور علم کی ترسیل کا قومی مرکز بن سکتا ہے ۔ مرکز برائے السنہ و علوم ترجمہ دانش گاہ گجرات ترجمہ کاروں کو ترجمہ سے متعلق فلسفیانہ و فکری پس منظر سے آگاہ کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے اندر ترجمہ کی عملی مہارت میں بھی اضافہ کر رہا ہے ۔ سپریم کورٹ کی صوبائی لاءسیکرٹریوں کو جاری کردہ قوانین و قواعد و ضوابط کے اردو ترجمے کی ہدایات کی روشنی میں مرکزی اور صوبائی حکومتیں، آئین قانون اور عدالتی فیصلوں کے قومی زبان میں ترجمے کے لیے یونیورسٹی آف گجرات کے علوم ترجمہ کے مرکز سے اشتراک کر کے فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔ ایسے مراکز ہی پیشہ وارانہ اخلاقیات اور مہارتوں کے حامل مترجم فراہم کر سکتے ہیں۔ اگر حکومتیں اور جامعہ گجرات مل کر قومی قوانین کے اردو ترجمے کا فریضہ انجام دے دیں تو پاکستان کے آئین میں قومی زبان کا جو مسئلہ ہے وہ بھی حل ہو سکتا ہے ۔