اتوار، 18 جنوری، 2015

دانش گاہ گجرات میں نئے عہد کا آغاز



مشہور فلمسازEliseo Subiela'a کی کلاسےک اطالوی فلم "No Mires Para Abajo" یعنی ’حقارت سے مت دیکھو‘ کا اختتام Eloy کے ان تاثرات پر ہوتا ہے کہ ’سب سے اہم بات یہ تھی کہ میرے باپ نے میرا ہاتھ پکڑا او رکہا، اپنی ساری زندگی تم خدا حافظ کہتے رہو گے۔ اسے یوں نہ لینا کہ تم محبت کرنا چھوڑ دو‘۔ اکتوبر 2014کے وسط میں جب جامعہ گجرات کے ہر دلعزیز وائس چانسلر ڈاکٹر محمد نظام الدین کے اعزاز میں منعقدہ الوداعی تقریب ختم ہوئی تو اس کے بعد میں چوہدری اختر وڑائچ، فیصل اقبال، حسن رضا، علی حماد جعفری و دیگر دوست انہیں رخصت کرنے گھر تک گئے تو ہمیں ڈاکٹر نظام الدین نے کچھ ایسی ہی نصیحت کی تھی کہ خدا حافظ اپنی جگہ یونیورسٹی آف گجرات سے محبت جاری رہنی چاہیے۔ خدا حافظ اور خوش آمدید دونوں ناگذیر انسانی خاصے ہیں۔ تاہم جو ناگذیریت پر سوال نہیں اٹھاتے، وہ آغوش کائنات میں تسکین پاتے ہیں۔ خدا حافظ اور خوش آمدید کے بغیر یہ دنیا بھلا کوئی دنیا ہے ۔ اس کے بغیر تو یہ Saramago کی 'Death of Interval' میں متذکرہ دنیا کی طرح ہو گی جو لافانی ہوتے ہوئے بھی تباہی کے دہانے پر موجود ہے ۔ جی ہاں فقط ہیرا کلیٹس کے متقابل”مستقل تغیر پذیری“ کے فلسفے کے بغیر زینو کے ناخوشگوار، غیر ہموار، بدبودار فلسفے کی طرح.... میں گذشتہ ایک ماہ سے خیالات کی ایسی ہی مبہم کشمکش میں مبتلا ہوں۔ کئی دنوں سے فیصل اور حسن رضا اصرار کر رہے ہیں کہ شیخ صاحب ، جامعہ گجرات میں آنے والی نئی روشنی کا تحریری خیر مقدم کریں۔ 
2004ءمیں یونیورسٹی آف گجرات کا قیام عمل میں آیا تو قدرت اس پر مہربان تھی اس نے ابتداءہی سے ڈاکٹر امتیاز احمد چیمہ جیسے ماہر تعلیم کو اس کی قیادت سونپ کر اسے امتیاز بخشاپھر اس جامعہ کو ایک ایسے نظام کی ضرورت محسوس ہوئی جو اس امتیاز کو وجہ ¿ افتخار بنا دے۔ اس کے لیے 2006 ءمیں ڈاکٹر محمد نظام الدین فضل ربی بن کر آئے۔ 2014ءمیں ستارہ ¿ امتیاز کے حقدار ٹھہرنے والے نظام کی تفہیم کے وقت اس جامعہ کی زمام کار ڈاکٹر محمد فہیم ملک کے ہاتھوں میں چلی گئی۔ تفہیم جب تفریق میں بدلنے لگی تو قدرت اس یونیورسٹی پر ایک بار پھر مہربان ٹھہری اور نا امیدی کو امید میں بدلنے کے لیے ضیائے قیوم سے نوازا۔ 
یونیورسٹی آف گجرات کا مین کیمپس مغلیہ عہد کے جس صوفی دانشور حافظ حیات ؑکے نام سے منسوب ہے اس کی روحانی برکت ہی ہے کہ قدرت اس ادارے پر مہربان ہے۔ میرا لگ بھگ ایک عشرے کا تجربہ ہے کہ یہ یونیورسٹی درو دیوار اور اساتذہ و طلبہ کے اجسام کا ہی مجموعہ نہیں ہے ،اس کے جسم میں صوفیانہ علم و دانش کی روح بھی متحرک ہے اور جب جب مشکل پیش آتی ہے روحانی قوتیںاس ادارے کی ترقی کے لیے دیدہ و نادیدہ معاونت کا اہتمام کرتی ہیں اس جامعہ کی حالیہ قیادت کے چناﺅ میں بھی یہ حقیقت پنہاں نظر آتی ہے ۔ ڈاکٹر نظام الدین جیسی حلیم الطبع، وژنری شخصیت کے جانے کے بعد ادارے کے استحکام اور ترقی کے لیے ایسی پائیدار روشنی کی ضرورت تھی ۔ جو مرکز اختصاص فضیلت کی جانب سفر کی راہ کو صالح فکر و عمل سے منور کردے۔ ایسی ہی امید ، تمنا، آرزو اور ارمانوں کا گلدستہ لیے 18 دسمبر 2014 کی صبح ہم نے جواں عزم، خوش فکر اور خوش شکل ڈاکٹر ضیاءالقیوم کا بطور رئیس الجامعہ گجرات استقبال کیا ۔ پہلی ملاقات میں ان کی شخصیت و خیالات متاثر کن لگے۔ نفیس الطبع، خوش لباس ڈاکٹر ضیاءالقیوم کی گفتگو، تہذیب و شائستگی کی اقدار کی مہک لیے ہوئے تھی۔ ان کے الفاظ تصنوع، بناوٹ اور نمائش کی بجائے فکر و تدبر، عزم و حوصلہ اور کچھ کرنے کی لگن کے عکاس تھے ۔ بلا شبہ وہ عالی ظرف شخصیت کے حامل ، دانش گاہ گجرات کی علمی و ادبی اور تدریسی و تحقیقی روایات کے قابل قدر وارث دکھائی دے رہے تھے۔ سخنوروں کی بستی، بہادروں، محب وطنوں اور وفاﺅں کے امین مہمان نواز شہر گجرات میں آمد پر ہم دوستوں نے دل ہی دل میں انہیں خوش آمدید کہا۔ انہیں دیکھا، ان سے ملے تو جامعہ گجرات کے نئے وائس چانسلر کی حیثیت سے ڈاکٹر ضیاءالقیوم کی تعیناتی مثبت تبدیلی کی نئی فضاﺅںکے لیے ڈھارس بندھانے لگی اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے سارے ادارے میں امید کی ایک نئی لہر دوڑ گئی۔ 
ٹی ایس ایلیٹ نے اپنی مشہور نظم East Coker کا آغاز کچھ اس طرح سے کیا ہے کہ "In my beginning is my end"۔ ”یعنی میرے آغاز میں میرا اختتام ہے ۔ اسی طرح کی اور بھی مشہور کہاوتیں ہیں مثلاً ہر آغاز مشکل ہوتا ہے اور "Well begun is half done" ۔ جامعہ گجرات کے نئے وائس چانسلر ڈاکٹر ضیاءالقیوم کی پہلی باقاعدہ سینئر سٹاف میٹنگ میں ان کے فکر انگیز خطاب نے یہ ظاہر کیا کہ وہ باریک بیں سکالر، وژنری منتظم، تجربہ کار استاد، اور دل و دماغ کے امتزاج کی حامل بصیرت اور بصارت رکھنے والے سربراہ ¿ ادارہ اور سنجیدہ فکر ، پاکباز، مزاح کی حس رکھنے والے انسان ہیں۔ ان میں ایسا سب کچھ دکھائی دیتا ہے جو کسی بھی دانش گاہ کے سربراہ میں ہونا چاہیے۔ ایک ماہ کے عرصہ میں انہوں نے دھیمے انداز اور سلجھے مزاج سے جس طرح پھونک پھونک کر وسائل و مسائل کا ادراک حاصل کیا ہے وہ لائق تحسین ہے۔ میں یونیورسٹی آف گجرات کی انتظامیہ، اساتذہ اور طالبعلموں کی جانب سے یونیورسٹی آف گجرات کی باگ ڈور سنبھالنے پر دل کی اتھاہ گہرائیوں سے انہیں خوش آمدید کہتا ہوں۔ ہم سب نئی امنگوں اور توقعات کے ساتھ ان کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ میں یونیورسٹی آف گجرات اور سول سوسائٹی کی جانب سے انہیں بھرپور تعاون کا یقین دلاتا ہوں تاکہ وہ گجرات یونیورسٹی کو عالمی معیار کی یونیورسٹی بنانے کا فریضہ احسن طریقے سے سر انجام دے سکیں اور اس ادارے کو استحکام بخش کر قومی تقاضوں سے ہم آہنگ اعلیٰ تعلیم کا مرکز بنا سکیں۔ اس موقع پر یہ بات دہرانے میں بھی کوئی عار نہیں کہ اس جامعہ نے تحقیقی، تخلیقی اور جدت طرازی میں اپنا لوہا منوایا ہے۔ایک عشرے سے کم عرصے میں یہ جامعہ ملک کی ممتاز جامعات کی صف میں شامل ہو چکی ہے ۔ 20 ہزار سے زیادہ طالبعلموں کی حامل درس گاہ کے زیر انتظام 38 تعلیمی شعبے کام کر رہے ہیں۔ اس کا اپنا شاندار بنیادی ڈھانچہ ، چار رکن کالج، مختلف شہروں میں چار ذیلی کیمپس او رایک سو کے لگ بھگ ملحقہ کالجز ہیں۔ 43 کمپیوٹر لیبز، 57 سائنس لیبارٹریز اور بڑی مرکزی لائبریری بھی نمایاں ہیں۔ اس جامعہ نے کمیونٹی ڈویلپمنٹ کے ضمن میں ثقافتی ، تہذیبی، مذہبی ، فنی اور ادبی میدانوں میں سول سوسائٹی کے ساتھ مل کر مکالمے اور اجتہادی فکر کو خوب فروغ دیا ہے ۔ ایک سو کے قریب عالمی اور قومی کانفرنسوں، ورکشاپس، سیمینارز اور سمپوزیم کی میزبانی کی۔ تعلیم و ترقی کے اس قابل فخر حاصل کے باوجود مجھے رابرٹ براﺅننگ کی نظم "Rabbi Bin Ezra" کی آفاقی سطور یاد آرہی ہیں کہ "Grow old along with me! The best is yet to be" جی ہاں جو بہتر ہے وہ ابھی آنا ہے ۔ جامعہ گجرات اللہ کے فضل و کرم سے ایک ایسے مقام پر پہنچ چکی ہے جہاں ایک بہترین لائحہ عمل مرتب کر کے ،علمی مواد کو دستاویزی شکل دے کر ،نظم و ضبط کے قوانین کی نوک پلک سنوار کے نئی منزلوں کی طرف آگے بڑھ سکتی ہے ۔ پیشہ وارانہ ترقی او رنشوونما کے لیے مقابلے بازی کا رجحان پیدا کر کے عظمتوں کو اور زیادہ یقینی بنا سکتے ہیں۔ بلاشبہ بہترین طرز عمل، اخلاقی تربیت اور پیشہ وارانہ اخلاقیات کے فروغ سے ہم اپنی سر بلندی کا ہدف اور زیادہ شاندار طریقے سے حاصل کر سکتے ہیں ۔ انڈسٹری اور اکڈیمیا لنکجز کو ثمر آور بنا کر قومی معیشت و معاشرت میں حصہ ڈال سکتے ہیں۔ جامعہ گجرات کی انتظامیہ نے بنیادی ڈھانچہ قائم کیا اور متحرک علمی و تحقیقی عظمت کو فروغ دینے کا مقصد طالبعلموں کی علمی و فکری مہارت و تربیت سے حاصل کیا ۔ اس نصب العین کا فریضہ اب ایک درد مند دل رکھنے والے محب وطن استاد اور باصلاحیت منتظم کو سونپ دیا گیا ہے ۔ ٹی ایس ایلیٹ کی فلسفیانہ نظم "Brunt Norton" کی سطور میری بات کی تشریح کے لیے ضروری ہیں کہ ”حال اور ماضی دونوں ہی مستقبل میں موجود ہیں اور مستقبل ماضی میں پنہاں ہیں ۔ 
اس تناظر میں ڈاکٹر ضیاءالقیوم صاحب نے ایک بڑے میدان میں پاﺅں رکھے ہیں جو ان کے لیے بڑا چیلنج ہے تاہم ایک متحرک شخصیت کے مالک جانشین کے طور پر ان کی صلاحیتیں ایسی ہیں کہ وہ مشکلات کا حل تلاش کر سکیں گے۔ ان کی راہنمائی میں ہمارا ادارہ مستحکم سے مستحکم ہوتا جائے گا ۔ مجھے یقین ہے کہ خلوص نیت اور فضل ربی کے حامل ڈاکٹر ضیاءالقیوم کی قیادت میں یونیورسٹی آف گجرات کی علمی روایات مزید مضبوط ہوتی جائیں گی اور نئی اقدار پرانی اقدار سے جڑی رہیں گی اور ارتقاءتسلسل کا حامل ہو گا ۔ ہم سب پر امید ہیںکہ نئے وائس چانسلر صاحب کی دیانت ، صداقت ، میرٹ اور انصاف کے واضح تصور پر مبنی قیادت سے نئی راہوں او رمنزلوں کی تسخیر ہو گی اور پیشہ وارانہ عظمتوں کا حصول ممکن ہو سکے گا ۔ جامعہ کے قابل اعتماد سربراہ یقیناً یونیورسٹی کی ترقی اور سربلندی کے عمل کو تیز کرنے کے لیے حقیقت پسندانہ عملیت کا راستہ اپنائیں گے ۔ قوی امید ہے کہ ڈاکٹر ضیاءالقیوم صاحب کی ملنسار بردباری انکی ہمدردانہ فطرت، مسائل کو حل کرنے والے مزاج اور ترقی کے تصور پر مبنی فکر و عمل سے یونیورسٹی میں کام کرنے والوں کے درمیان پر جوش تعلق جنم لے گا اور کام کرنے اور کارکردگی دکھانے والا ماحول پیدا ہو گا یعنی ایک ایسا ماحول جس میں ہر کوئی اس مادر علمی کی بلندی اور عظمت میں اپنا بھرپور کردار ادا کرے گا۔ اس ادارہ نے ابھی طویل مسافت طے کرنی ہے اور یہ سفر ضیائے قیوم کی موجودگی میں آساں سے آساں تر ہو جائے گا۔ میں ڈاکٹر ضیاءالقیوم کا خطہ یونان کی شہرت رکھنے والے شہر گجرات میں خیر مقدم کرتے ہوئے کہنا چاہوں گا کہ کا رلائل نے اپنی تحریر 'Past and Present' میں کہا ہے کہ :۔ 
رحمت ہوئی اس شخص پر جسے اپنا کام مل گیا 
اسے چاہیے کہ وہ پھر کسی اور نعمت کا تقاضا نہ کرے 
ایک انگریز شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ :۔ 
Work apace, apace, apace
Honest labour bears a lovely face