منگل، 30 جون، 2015

کب ظلمت حاضر سے جان چھوٹے گی


Photograph by: Zubair Amanat

پاکستان کے ”روغن دماغ“ مالیاتی جادوگروں نے نئے مالی سال کے لےے نیا میزانیہ پیش کر کے ایک بار پھر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔یہ بجٹ حکمرانوں کے سیاسی مقاصد کے حصول کا معاشی ذریعہ ہے۔ اس بجٹ کا غیر جانبدارانہ اور حقیقت پسندانہ جائزہ لیں تو واضح ہو جاتا ہے کہ روایتی مالیاتی فکر کا عکاس ہے۔ اس میں معاشی و سماجی تبدیلی یا انقلاب کی کوئی جھلک دکھائی نہیں دیتی۔ حکمرانوں نے اپنے ہمنوا طبقے کے مفادات کے تحفظ کی ذمہ داری خوب نبھائی ہے۔ امیرطبقے کے لےے بہت کچھ ہے۔ اس نظام معیشت نے حقیقت میں امیر کے امیر تر ہونے اور غریب کے غریب ترہوتے جانے کے عمل کو اور تیز کر دیا ہے۔ سادہ ترین اور مختصر الفاظ میں یہ بجٹ معاشی شعور اور سماجی ترقی کا ضامن ہونے کی بجائے مالیاتی ماہرین کی پہلے سے ٹیکس ادا کرنے والوں پر مزید بوجھ ڈالنے کی پالیسی اور غریبوں اور متوسط طبقے کی رہی سہی ہمت چوس لینے کی ماہرانہ چالوں کا مجموعہ ہے۔ بجٹ پر سب سے خوبصورت تبصرہ میرے ایک دوست نے خوب کیا کہ ”مرے کو مارے اسحا ق ڈار“اسی تبصرے نے مجھے بہت کچھ سوچنے پر مجبو ر کیا۔ 

پسماندگی اور غربت کے بڑھنے میں سرمایہ دارانہ تکنیکی مہارتوں کو بڑا دخل ہے۔ اس لےے بہت سے دانشوروںاورماہرین کا خیال ہے کہ پاکستان کے مالیاتی جادوگرسرمایہ، تکنیکی مہارت اور ترقیاتی نظریہ بھی درآمد کرکے ہی کام چلا رہے ہیںاور ان کے اعدادوشمار کے گورکھ دھندے کا پاکستان کے زمینی حقائق اور عوامی ترقی سے کوئی تعلق نہیں۔ مالیات اور اکاﺅنٹس کے ماہرین جب ملک کے عوام کے مقدر کے مالک بن جائیں تو حکمرانی مضبوط ہو سکتی ہے لیکن ریاست تحلیل ہو جاتی ہے۔ ملک کا پہلا بجٹ مشکل ترین معاشی حالات میں ایک ماہر معاشیات نے بنایا تھا تو اس نے ریاست کو درپیش خطرات کا ہوا کھڑا کرنے کی بجائے اپنے وژن سے خسارہ کے بغیر بجٹ پیش کیا تھا ۔لیکن جب سے وطن عزیز کی معاشی باگ ڈورمالیاتی ماہرین کے ہاتھوں میں آئی ہے ملک کو فیکٹری اور سیاست کو کاروبار سمجھ کر بجٹ سازی کی جانے لگی ہے۔ عوام محض شے بن کر رہ گئے ہیں۔ بجٹ میںانکو ”شہری“ کی بجائے نفع نقصان کے ترازو میں تولا جانے لگا ہے۔ کسی جمہوری اورفلاحی ریاست میں حکومت شہریوں کو آسانیاں فراہم کرنے کے عزم سے میزانےے بناتی ہے جن کا مقصد بنیادی انسانی ضرورتوں کے حوالے سے بجٹ بنانا ہے کیونکہ محض تیز رفتار ترقی عام لوگوں کی خوشحالی کا سبب نہیں بن سکتی۔
رابرٹ میکنامارا نے ستمبر1972ءمیں کہا تھا کہ ”ترقی پذیرممالک کی حکومتوں کے سامنے سب سے اہم کام یہ ہے کہ وہ اپنی ترقیاتی پالیسیوںکو اس طرح از سر نومرتب کریں کہ ان ممالک کے مفلس ترین لوگوںکے افلاس کا خاتمہ ہو سکے۔ یہ مقصدترقی کی مجموعی رفتارکوکم کےے بغیربھی حاصل ہو سکتا ہے۔ اس کے لےے ضروری ہے کہ ترقیاتی مقاصد کا تعین ہی بنیادی انسانی ضروریات کی اصطلاح میں کیا جائے یعنی یہ مقاصد ضروری انسانی غذا، مکان، صحت عامہ، خواندگی اور روزگار کی فراہمی پر مبنی ہوں۔ اس حکمت عملی کی وجہ سے خواہ معیشت کے چند ایسے شعبوں کی ترقی کی رفتار قدرے کم ہو جائے جن سے محض اُونچے طبقے کے لوگ ہی مستفید ہوتے ہیں۔ سماجی اورمعاشی حکمت عملی میں یہ انقلاب بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے اور اس کے بارے میں فیصلہ کرنا ترقی پذیر ممالک کا اپنا کام ہے۔ یہ بات ظاہر ہے کہ اس تبدیلی کے لےے عالی ہمتی اور بلند حوصلے کی ضرورت ہوگی۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اب اس کے سوا اور کوئی دانشمندانہ راہِ عمل نہیں ہے کہ زیادہ سے زیادہ سماجی انصاف کی پالیسیوں کو بروئے کار لایا جائے ۔ جب امراءکی تعداد محدود ہو اور غریب اتنی بڑی اکثریت میںہوں اور جب ان دونوں طبقوں کے درمیان تفاوت کم ہونے کے بجائے روز بروز بڑھتا جا رہا ہو تو جلد یا بدیر وہ وقت آ جاتا ہے جب بادل ِنخواستہ اس بات کا فیصلہ کرنا ہی پڑتا ہے کہ ضروری اصلاحات کے راستے کو اپنایا جائے یا بغاوت کے خطرے کو مول لیا جائے یہی سبب ہے کہ وہ پالیسیاں جن کا خصوصی مقصد یہ ہے کہ ترقی پذیر ممالک کے چالیس فیصد مفلس ترین لوگوں کی محرومیوں کو کم کیا جائے ، صرف کسی اُصول کی پیداوار ہی نہیں بلکہ دانشمندی کا تقاضا ہے۔ سماجی انصاف، اخلاقی فریضہ ہی نہیں بلکہ وقت کی اہم سیاسی ضرورت بھی ہے © ©۔ © ©“رابرٹ میکنارا ماراکی بات اپنی جگہ، ہمارے جیسے ممالک کا مسئلہ صرف یہ نہیں کہ ان پاس و سائل ، تکینک، مہارت، تنظیم ، ترقیاتی سوچ یا جدید اداروں کی کمی ہے یا یہ کہ ان کے عوامل میں ترقی کی کوئی خواہش موجود نہیں بلکہ اصل مسئلہ ہے عالمگیر سرمایہ دارانہ نظام اور اس کے مقامی حواری ان ممالک کا بد ترین استحصال کر رہے ہیں۔ عالمی سرمایہ دارانہ نظام کے یہ مقامی حواری، ممالک، اداروں اور افراد، ہر صورت میں موجود ہیں۔ انہیں غربت اور غربیوں سے کوئی غرض نہیں، دانشمندی ان کی ضرورت ہی نہیں ہے۔
غربت ان کی گفتگو اور اعداد وشمار میںمحض ”چسکے“ اور ”تڑکے“ کے طور پر نمایاں ہوتی ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ غربیت کی جانب جانے والا راستہ ان کی مالیاتی پالیسیوں میں عدم مساوات کی شاہراہ سے ہو کر گذرتا ہے۔انہیں بخوبی ادراک ہے کہ پیداوار کی کم شرح از خود غربت میں اضافے کا موجب نہیں بنتی بلکہ اصل عامل یا محرک آمدنی کی تقسیم ہے۔ہمارے ہاں غربت میں روز بروز اضافے کی وجہ بڑے پیمانے پر آمدنی کی تقسیم میں اور مجمو عی طورپر عدم مساوات ہے ۔ غربت میں اضافے کے کچھ حصوں کو سماجی پالیسی خاص طور پر ہاﺅسنگ ، تعلیم، ہیلتھ کیئر اور پبلک ہیلتھ سیکڑ میں ناکامی سے بھی منسوب کیا جا سکتاہے۔ جہاں کثیر آمدن والا گروپ ان سہولتوں کے حصول کے لےے مارکیٹ کے نرخ برداشت کر سکتا ہے، وہیں غریب کو ان تمام سہولتوںسے محروم ہونا پڑا کیونکہ وہ ان کے مارکیٹ نرخ برداشت نہیں کر سکتا۔ بلاشبہ غربت کے حوالے سے ہمارے حالات مسلسل خراب ہوتے رہے ہیں اس لےے کہ یہاں ترقی کے فوائد غریبوں تک نہیں پہنچے۔ یہاں امیر طبقے کی آمدن بڑھتی ہی گئی ہے جبکہ غریب غریب تر ہوتا گیا ہے۔ غریبوں کے لےے پبلک سروس کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں، مگر ہمارے ہاں ریاست اور حکومت مسلسل اپنی سماجی ذمہ داریوں سے پہلو تہی کی روش اپنائے ہوئے ہے۔ تعلیم، ہیلتھ کیئر اور صحت عامہ کے شعبوں میں سرکاری دلچسپی کم سے کم ہوتی گئی ہے۔ حالیہ بجٹ میں بھی حکمرانوں نے غریبوں سے سوتیلا سلوک جاری رکھا ہے۔ تجارت پیشہ سرمایہ دارانہ فکر کامظہر موجودہ بجٹ طبقات میںفاصلے بڑھانے کا سبب بنے گا۔ یہ بجٹ اپنے ظاہری اوصاف اور پوشیدہ کمالات کی وجہ سے کسی طرح بھی عوام دوست نہیں ہے اس میں عوام ، ملازمین اور غرباءکے گرد شکنجہ اورکس دیا گیا ہے ۔
المیہ یہ ہے کہ اس ملک کے غریب عوام سرمایہ داروں اور تاجروں سے عوام دوستی کی آس لگائے بیٹھے ہیں۔ حیرت ہے گذشتہ دو اڑھائی عشروں میں سب سے زیادہ بجٹ پیش کرنے والے وزیر خزانہ آج بھی معاشی تباہی، دیوالیہ پن، ناگفتہ بہ حالات کا پرانا راگ الاپ رہے ہیں۔ بجٹ سے ایک روز قبل گذشتہ بجٹ میں مقررہ تمام اہداف میں ناکامی کا اعتراف کرتے ہیں، یہ انکی وزارت اور حکومت کی ناکامی کامنہ بولتا ثبوت ہے کہ وہ اپنے ہی مقررکردہ اہداف حاصل نہیں کر سکے ، کیا اس کے بعد نئے سال کے لےے اہداف مقرر کرنے اور تمنائیں بانٹنے کا ”کاروبار“ سینہ تان کر کرنے کا جواز تھا؟ نئے سراب، نئے دکھ، نئے مسائل یہی تو اگلے سال کے خطاب کے محاسن ہوں گے۔
غریبوں کو ”عطار کے لونڈوں“ سے دوا مانگنے کی بجائے خود آگاہی کی ضرورت ہے۔ وقت پکار پکار کہ غریبوں کو کہہ رہا ہے کہ
ستم زدوں کی تگ و دو سے رات ٹوٹے گی
کلی حیات کی قتل گاہ سے پھوٹے گی
زمام آئے گی محنت کشوں کے ہاتھوں میں
تب ہی تو ظلمت حاضر سے جان چھوٹے گی
خا ک میں لتھڑے، اپنے خوابوں کے خون میں نہلائے ہوئے غریب پاکستانیوں کو خود اپنی حالت تبدیل کرنے اور خود اپنے انداز سے احساس ذلت کا شعور جگانے کا شعور پید اکرنے کی ضرورت ہے۔ اپنی بھٹکتی ہوئی اُمیدوںکو آرزﺅںکا گمان دینے کی ضرورت ہے۔ خوشحال مستقبل کے لےے روشنی کی ضرورتوں کو دوام بخشنے کی ضرورت ہے۔ روزو شب کی وحشتوں کا باب طویل ہوتا جا رہا ہے، حالات بتا رہے ہیں کہ آگے دھند اور پیچھے ریت ہے۔ غریبوں کے جذبات اور شعور کی گرمی سے ہی یہ یخ بستہ رات پگھل سکتی ہے۔ خواہشیں ذہن کی گونگی جسارتیں ہوتی ہیں، یہ مانگنے سے پوری نہیں ہو تیں۔ ہمیں انہیں ہواﺅں کے بادباںپر ہمتوں کے لہو سے لکھنا ہے۔ بصورت دیگر اپنی آرزو ¿ں کے لاشے اپنے کندھوں پر اُٹھائے اپنی آنے والی نسلوں کا مقدر سیاہ کرتے جانا ہے۔ آخر میں ضرورت سے زیادہ سمجھدار مالیاتی ماہرین اورحکمرانوں کو بس اتنا یاد دلانا ہے کہ میکس ویبر نے خوب کہا تھا کہ ”سیاست میں صرف دو ہی بڑے گناہ ہیں، حقیقت پسندی کا فقدان اور فیصلوں کے نتائج کی ذمہ داری قبول کرنے کا فقدان۔“ہماری سیاست و معیشت پر اس کے اثرات مرتب ہونا لازم ہے۔ 


تعلیم ، بجٹ اور میڈیا


قومی تعمیر نو میں یونیورسٹیاں اہم وسیلہ ہوتی ہیں۔ سیاسی ، معاشی اور تہذیبی استحکام کے لیے قوموں کو علوم و فنون کی ضرورت ہوتی ہے ۔ یونیورسٹیاں اس ضرورت کو پورا کرنے کا قومی فریضہ سر انجام دیتی ہیں۔ حقیقی یونیورسٹیاں معاشرے میں علم و دانش، مباحثے اورمکالمے کو فروغ دیتی ہیں تاکہ لوگ اپنے مسائل سے آگاہی اور انہیں حل کرنے میں لکیر کے فقیر نہ رہیں۔ اس طرح یونیورسٹیاں سماجی خدمت کے مختلف وسیلوں کو بروئے کار لاتے ہوئے سماجی ترقی کا سبب بنتی ہیں۔ ترقی کا پائیدار عمل مادی سطح پر اس وقت تک شروع نہیں ہو سکتا جب تک اس بستی کے لوگوں میں فکری تبدیلیاں رونما نہ ہوں۔ تاہم فکری راہنمائی کی ذمہ داری بہر حال یونیورسٹیوں کو ہی ادا کرنی ہے ۔ خوش قسمتی سے یونیورسٹی آف گجرات اپنے اس مثبت کردار سے بخوبی آشنا ہے اور اپنے وژنری قائد ڈاکٹر ضیاءالقیوم کی راہبری میں روایتی درس گاہ سے بڑھ کرقومی دانش گاہ کا فریضہ ادا کرنے کی ثمر آور سعی میں مصروف عمل ہے ۔ اس بات کا شدید احساس و نشاط گذشتہ دنوں علوم ترجمہ کے ممتاز دانشور استاد ڈاکٹر غلام علی کے ہمراہ یونیورسٹی آف گجرات کے مرکزی آڈیٹوریم میں ”تعلیم، بجٹ اور میڈیا“کے موضوع پر منعقدہ فکر انگیز اور پر مسرت سیمینار میں ہوا۔
صدر شعبہ ¿ ڈاکٹر زاہد یوسف کی ولولہ انگیز قیادت میں جامعہ گجرات کا سنٹر فار میڈیا اینڈ کمیونیکیشن سٹڈیز عصری تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے کے ناطے ایسی سنجیدہ فکری نشستوں کا اہتمام کرتا رہتا ہے جس میں دانشوروں، صحافیوں اور میڈیا کے زعماﺅں کو طالبعلموں کے روبرو بٹھا کر عصری مسائل پر نتیجہ خیز مکالمہ کیا جا سکے اور طالبعلموں کو ابلاغ عامہ کے ماہرین کو براہ راست سننے اور سمجھنے کا موقع فراہم کیا جا سکے ۔
بجٹ کی آمد کے بعد گلی محلوں سے پارلیمنٹ تک ہر جگہ اس پر مختلف حوالوں سے گفتگو جاری ہے مگر بجٹ میں تعلیم کے لیے مختص فنڈز و کردار پر سنجیدہ مکالمہ نہ میڈیا میں سننے کو ملا، نہ اخبارات میں پڑھنے کو، اس کمی کا ازالہ اس نشست میں ہوا جہاں پر مغز گفتگو نے کئی سوالوں کے جواب دینے کے ساتھ ساتھ بہت سے نئے سوالوں کو جنم دے کر حاضرین کو سوچنے کے لیے بہت کچھ دیا۔ سیمینار کا آغاز نقاش سعید کی تلاوت قرآن حکیم اور رضوانہ کوثر کے ہدیہ نعت سے ہوا تو فضا میں علمیت کے ساتھ ساتھ روحانیت اور سنجیدگی کا تاثر بھی بڑھ گیا ۔ ہیڈ آف دی ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹر زاہد یوسف نے کہا کہ ہمارے ہاں تعلیمی ترقی کی راہ میں بڑی بڑی فکری و عملی رکاوٹیں ہمیشہ کھڑی رہی ہیں۔ تعلیم کی حالت زار پر بہت بات ہو چکی مگر پھر بھی اس لیے کہ شاید کچھ ”توجہ دلاﺅ“ قسم کی فکری ، قلمی اور بیانہ کاوشیں کبھی رنگ لے ہی آئیںاور ہمیں سوچنے اور سوال کرنے پر مجبور کر دیں۔ اس لیے یہ فریضہ ادا کرنے کی سعی کی گئی ہے ۔ تعلیمی شعبے پر وہ قومیں زیادہ سے زیادہ خرچ کرتی ہیں جنہیں ترقی کی آرزو اور خوشحالی کی امنگ ہو ۔ مہمان مقرر جواں عزم اور روشن خیال اینکر پرسن (دنیا ٹی وی ) محمد اجمل جامی نے کہا کہ اکیسویں صدی میں تعلیمی شعور اور آگہی ناگذیر ہے۔ تعلیم ہمارے حکمرانوں کی ترجیحات میں کبھی شامل نہیں رہی۔ ہمارے حالات کا تقاضا تو یہ ہے کہ ہم تعلیم کو اپنی ترقی کا محو بنا لیں ۔ ہمارے ہاں تعلیمی بجٹ آج بھی دو فیصد کے گرد گھومتا ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ میڈیا کے ذریعے تعلیمی بجٹ کے حوالے سے عوامی شعور اجاگر کیا جائے اور تعلیم و ترقی کے تعلق کو مربوط بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے آگاہی پیدا کی جائے۔ ترقی کا شعور فکری تبدیلیوں کے ساتھ مشروط ہے۔ یونیورسٹی آف گجرات کی معنی خیز، پاکستانیت اور پاکستان کے تقاضوں سے ہم آہنگ جراتمندانہ کاوش ہے۔ سیمینار کے مہمان اعزازDGPR کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر محمد اسلم ڈوگر نے کہا کہ آج کے میڈیا کی دنیا میں صداقت، معروضیت، غیر جانبداری اور سنجیدگی کم ہوئی ہے ۔ میڈیا کے تعلیم جیسے اہم موضوع پر کردار کے حوالے سے آج کے سیمینار کے انعقاد پر منتظمین مبارکباد اور خراج تحسین کے مستحق ہیں۔ آج کے میڈیا کے مسائل و مفادات نے اس کے فرائض اور پیشہ وارانہ ذمہ داریوں پر غلبہ حاصل کر لیا ہے اور صحافت ذرا پیچھے رہ گئی ہے ۔ کوئی قوم اس وقت تک ترقی کا دعویٰ نہیں کر سکتی جب تک کہ وہ علمی ترقی کے اعلیٰ مدارج کو نہ چھو لے۔ آزادی اظہار ترقی یافتہ قوموں کا شیوہ ہے اور فرد کا بنیادی حق ہے۔ تعلیم سماجی شعور کا نام ہے۔ پاکستان میں تعلیم و صحت کے لیے بجٹ کو خاطر خواہ طور پر بڑھانے کی ضرورت ہے۔ سیمینار کے مہمان خصوصی سینئر تجزیہ کار اور CPNE کے صدر مجیب الرحمن شامی تھے۔ شامی صاحب کے نقطہ ¿ نظر سے اختلاف ہو سکتا ہے مگر ان کا شمار ان چند خو ش قسمت دانشور صحافیوں میں ہوتا ہے جن کو خدا نے لکھنے اور بولنے دونوں نعمتوں سے نوازا۔ وہ بولتے ہوئے بلا تکان دلائل در دلائل دیے جاتے ہیں۔ مہمان خصوصی مجیب الرحمن شامی نے کہا کہ پاکستان میں تعلیمی ترقی کے لیے میڈیا کا کردار بے پایاں اہمیت کا حامل ہے کسی بھی ملک کی سماجی اور معاشی ترقی کا انحصار اس بات پر ہے کہ اس ملک کے بجٹ کا کتنا حصہ تعلیمی شعبہ ¿ پر خرچ کیا جا رہا ہے ۔ اکیسویں صدی میڈیا کی صدی ہے ۔ ذرائع اطلاعات و نشریات برق رفتار بن چکے ہیں۔ میڈیا کی بنیادی ذمہ داری پاکستان کی تاریخ و مسائل کا صحیح ادراک کرنا اور اطلاعات کو عوام تک دیانتداری سے پہنچانا ہے۔ پاکستان وسائل سے مالا مال ملک ہے مگر حکومتی ناکامیاں ہمارے وسائل کو تباہ کر رہی ہیں۔ پاکستانی بجٹ میں تعلیم پر خرچ کی مد میں آہستگی سے اضافہ ہو رہا ہے ۔ تعلیم اب صوبائی معاملہ ہے۔ حکومت کو جلد بجٹ پر چار فیصد تک خرچ کرنا ہو گا ۔ جامعات اور تعلیمی اداروں کو صنعتوں کے ساتھ جڑنے کی ضرورت ہے ۔ صوبوں کو تعلیمی بجٹ میں اضافہ کرنا چاہیے۔ پاکستان میں ہر قسم کے وسائل موجود ہیں مگر سرکار اپنا حصہ وصول کرنے میں ناکام ہے۔ حکمرانوں کو خرچ کی رقم کم کرنے کی بجائے آمدن بڑھانے والے اعمال پر عمل پیرا ہونا چاہیے۔ میڈیا عوامی مسائل کے حوالے سے گفتگو کرتا ہے اسے تعلیم اور اس کی ترقی سے وابستہ مسائل پر اور زیادہ بات کرنا ہو گی ۔ جامعہ گجرات جیسی متحرک ، فعال اور شاندار یونیورسٹیاں ہی حقیقی جامعات ہیں۔ صدر محفل شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر ضیاءالقیوم نے کہا کہ تعلیمی ترقی کا حصول معاشرہ کی انقلابی کوششوں کے ذریعے ہی ممکن ہے ۔ تمام دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی معیشتوں کا انحصار علم و تعلیم کی ترقی کے ساتھ وابستہ ہے ۔ شومئی قسمت ہمارے ہاں مجموعی پیداوار کا بہت کم حصہ تعلیمی ترقی پر خرچ کیا جاتا ہے ۔ سیاسی جماعتیں تعلیمی ترقی کے لیے وسائل کی فراہمی کے اپنے اپنے منشور پر بھی عمل نہیں کر رہی رہیں۔ تعلیم پر اخراجات کو خرچ نہیں سرمایہ کاری سمجھا جانا چاہیے۔ تعلیمی نظام کو مربوط و مضبوط اور توانا ءبنانے کے لیے اور رائے عامہ کو ہموار کرنے کے لیے اپنا کردار پوری ذمہ داری سے ادا کرے۔ جامعات کو بھی سرکار پر انحصار کے ساتھ اپنے اپنے وسائل کو بڑھانے کے لیے انڈسٹری اکڈیمیا لنکجز کو عملی جامہ پہنانا ہو گا۔ جامعہ گجرات کے اینڈوومنٹ فنڈ کے بڑھانے کے لیے سول سوسائٹی، تاجر برادری ، مخیر حضرات اور اوورسیز پاکستانیوں کے تعاون کو وسعت دیں گے۔ میڈیا کے دانشوروں کا جامعہ گجرات آنا اور سنٹر فار میڈیا سٹڈیز کا وقت کے تقاضوں کے مطابق سنجیدہ موضوع پر علمی نشست کا اہتمام کرنا لائق تحسین ہے ۔
سیمینار میں ابلاغیات کے اساتذہ ڈاکٹر محمد ارشد، زاہد بلال، محترمہ ثوبیہ عابد، ڈاکٹر لبنیٰ ، رخسانہ ریاض، عمیر احمد ، منعم شہزاد سمیت ماہرین تعلیم، تعلیمی منتظمین ،اساتذہ، اور طالبعلموں کی بڑی تعداد نے شرکت کی ان کے فکر انگیز سوالات نے سیمینار کو حقیقی جہتوں کا پابند رکھا۔
ہمارے ملکی و قومی حالات کا تقاضا ہے کہ ہم تعلیم کو اپنی سب سے بڑی ترجیح بنا لیں۔ پوری قوم یک نکاتی ایجنڈا بنا لے کہ ہمیں پورے اخلاص سے انفرادی ، اجتماعی اور قومی وسائل کا بڑا حصہ صرف اور صرف تعلیم کے لیے وقف کرنا چاہیے۔ ہماری خوشحالی، ترقی اور سلامتی کی سب راہیں صرف تعلیم اور تعلیم ہی کھول سکتی ہے ۔ تعلیم سے بڑا پیداواری سیکٹر اور کوئی نہیں، اس کا ادراک ماہرین معاشیات کو بھی بخوبی ہے مگر ہمارے سرکاری و کاروباری مالیاتی ماہرین اس بارے میں تذبذب کا شکار ہیںجس کا اظہار ان کے اعداد و شمار کے سالانہ گورکھ دھندے سے ہر سال عیاں ہوتا ہے ۔ اپنے شہریوں کی تعلیم و صحت کا تحفظ و ترقی ریاست کی بنیادی ذمہ داریوں میں ہے ۔ بجٹ ریاست کے شہریوں کی ایسے ہی حوالوں سے خدمت کے لیے سالانہ میزانیے کا نام ہے جو حکمرانوں کے سیاسی منشور اور نصب العین کی تصویر پیش کرتا ہے ، اس تناظر میں صورتحال کسی طرح بھی قابل تحسین نہیں ہے۔ تعلیم کے لیے وقف بجٹ حکمرانوں کے انقلا بی نعروں قومی تقاضوں اور عوامی امنگوں سے کوئی تعلق نہیں رکھتا ۔ گذشتہ کئی سالوں سے سیاسی قائدین نے تعلیمی بجٹ کو انتخابی نعرے کے طور پر استعمال کیا ۔گذشتہ انتخابات میں کم و بیش تمام سیاسی جماعتوں نے تعلیمی بجٹ چار فیصد کرنے کا اعلان کیا تھا مگر تیسرا مسلسل بجٹ ہے حکمران جماعتیں اپنے ہی منشور کے مطابق عمل پیرا نہ ہو سکیں اور نہ ہی اپوزیشن نے اسے مخالفت برائے مخالفت کے پراپیگنڈے سے زیادہ اہمیت دی۔ اس صورتحال میں میڈیا کی بڑی ذمہ داری تعلیم کے بجٹ پر قومی جذبات کی عکاسی کرنا تھی۔ کہا جاتا ہے کہ کسی سماج یا ملک میں میڈیا جس آزادی ، ذمہ داری اور ایمانداری سے معلومات پہنچاتا ہے ویسا ہی ذمہ دار ذہن و کردار پروان چڑھتا ہے۔ قوم کے مزاج اور کردار کا اعلیٰ ترین اظہار میڈیا ہی کے ذریعے ہوتا ہے ۔ تاہم حالیہ بجٹ میں تعلیم کے لیے وقف وسائل اور قومی ضرورتوں میں جو تفاوت ہے میڈیا اس حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرتا دکھائی نہیں دیتا۔ کسی نے بھی کوئی تحقیقی رپورٹ نہ دکھائی نہ شائع کی۔ اس احساس کا علمی تجزیہ کرنے اور تعلیم اور بجٹ کے حوالے سے ذمہ دارانہ کردار ادا کرنے کے لیے میڈیا کو جگانے کے لیے یونیورسٹی آف گجرات کا یہ سیمینار قوم کے جذبات کا آئینہ دار تھا۔ ایسے مکالمے ، مباحثے کی ذمہ داری کا فریضہ ایک دانش گاہ ادا کر رہی ہو تو یہ بھی قوم کے لیے نوید مسرت سے کم نہیں کہ اب جامعہ گجرات سے ”ضیائے قیوم“ کے انوار سے نئی روشنی پھیلنے لگی ہے ۔ مکالمے و مباحثے کی یہی فضا ہمارے زندہ ہونے کا اعلان بھی ہے اور آنے والے دنوں میں قوم کی علمی اور عملی راہنمائی کے لیے یونیورسٹی آف گجرات کے اگواکار ہونے کے دعوے کی تصدیق بھی ۔ 


جمعرات، 28 مئی، 2015

بجٹ میں نے دیکھے ہیں سارے تیرے


سیاست کس ہنر مندی سے سچائی چھپاتی ہے 
جیسے سسکیوں کے زخم شہنائی چھپاتی ہے 


نئے بجٹ کی آمد آمد ہے ۔ سرکار ”عوامی خدمت“ کے منشور پر عمل پیرا ہونے کے لیے گذشتہ سال کی کامیابیوں کا ڈھنڈورا پیٹ رہی ہے اور لگ بھگ پانچ سو ارب کا مزید بوجھ عوام پر ڈالنے کے لیے وزارت خزانہ کے ماہرین نئی نئی تراکیب تلاش کرنے میں شب و روز مصروف ہیں۔ بجٹ سادہ ترین مفہوم میں سال بھر کا حکومتی میزانیہ ہوتا ہے ۔ اس میں آئندہ سال کے لیے حکومت کی مالی ضروریات کا تعین ہوتا ہے اور یہ اخراجات کیسے پورے کیے جائیں گے اس کے لیے اقدامات تجویز کیے جاتے ہیں۔ ریاست کا بنیادی وظیفہ اپنے شہریوں کی صحت، تعلیم، زندگی ، روزگار ، خوراک اور بنیادی ضرورتوں کا تحفظ ہے ۔ حکومت ریاست کے ان وظائف کی ترجمانی کے لیے بجٹ بناتی ہے تاکہ ان مقاصد کا حصول ممکن ہو۔ اس تناظر میں بجٹ ہر سال عوام کے لیے مزید آسانیوں، تحفظات اور حقوق کا ضامن ہونا چاہیے۔ لیکن وطن عزیز میں تو جیسے گنگا الٹ ہی بہتی ہے، ہر سال بجٹ کی آمد پر عوام پریشان اور پشیمان ہوتے ہیں اور بجٹ عوام کی خدمت و تحفظ اور خوشحالی کی ضمانت فراہم کرنے کی بجائے ان پر زیادہ سے زیادہ مالی بوجھ ڈالنے کی چالاکیوں کا نام بن کر رہ گیا۔ ایسی حکومت جو گذشتہ سال کے اہداف کے حصول میں ناکام رہتی ہے وہ اعداد و شمار کا جال بجھا کر عوام کو اگلے سال کے سراب کے دہانے پر لے جاتی ہے ۔ مالیاتی جادوگر ظلم کی نئی نئی اقسام کی دریافت سے فائدہ اٹھا کر کبھی بلا واسطہ اور کبھی بالواسطہ ٹیکس لگانے کو ہی کامیابی سمجھتے ہیں۔ بجٹ کے ایام میں وزارت خزانہ کے ماہرین بے مثال کامیابیوں کے دعوے کرتے ہیں، اعداد و شمار کا گورکھ دھندا عروج پر ہوتا ہے دایاں دکھا کر بائیں ہاتھ سے وار کرنے کی مہارت سے پورا فائدہ اٹھایا جاتا ہے ایسا صاف دکھائی دیتا ہے کہ :
شعبدہ بازوں نے پہنا ہے خطیبوں کا لباس
بولتا جہل ہے، بدنام خرد ہوتا ہے 
جس ترقی کی وسیع پیمانے پر تشہیر کی جاتی ہے ، اس کی حقیقی تصویر بہت بھیانک ہے ۔ اعداد و شمار کی مدد سے دکھائی جانے والی سماجی تبدیلیوں کی حقیقت بڑے پیمانے پر کی جانے والی وہ فریب کاری ہے جس کا پردہ اب چاک ہو رہا ہے ۔ یہ دیکھ کر بہت صدمہ ہوتا ہے کہ اعداد کے ہیر پھیر میں الجھی ترقی کے نتائج بہت کم مثبت نکلے ہیں۔ مثلاً معاشی ترقی روزگار کے نئے وسائل پیدا کرنے کا ذریعہ بننی چاہیے تھی لیکن مجموعی طور پر بے روزگاری میں اضافہ ہوا، حکمرانوں کی خوش بیانیاں اپنی جگہ مگر گذشتہ سالوں میں جی ڈی پی کے گروتھ ریٹ کے مقررہ ہدف حاصل نہیں کیے جا سکے ۔ پچھلے سال جی ڈی پی کے گروتھ ریٹ کا ہدف پانچ فیصد سے زیادہ رکھا گیا جو تا حال اڑھائی فیصد تک ہے۔ زراعت ، برآمدات کسی شعبے میں بھی امید کی شمع روشن نہ ہو سکی۔ حکمرانوں کی خوش بختی کہ عالمی منڈی میں پٹرول کی قیمتیں بہت کم ہوئیں۔ عالمی سطح پر معاشی حوالے سے کوئی بھونچال نہیں آیا، پھر بھی نئے بجٹ میں عوام کے لیے کسی خوشخبری کی توقع نہیں۔ انور مسعود نے خوب کہا تھا کہ
بجٹ میں نے دیکھے ہیں سارے تیرے
انوکھے انوکھے خسارے تیرے 
گرانی کی سوغات حاصل میرا 
محاصل تیرے ، گوشوارے تیرے 
تجھے کچھ غریبوں کی پرواہ نہیں
وڈیرے ہیں پیارے، دُلارے تیرے 
جیکب لیو نے کہا تھا کہ The budget is not just a collection of numbers, but an expression of our values and aspirations. اسی تناظر میں کہا جاسکتا ہے کہ ہماری بجٹ سازی کی تاریخ گواہ ہے کہ یہاں معاشی ترقی اور فروغ کے بے معنی اعداد و شمار نے قومی ثقافتی تشخص کو بھی بہت نقصان پہنچایا ہے۔ اس نے ملک میں جمہوری اور شخصی آزادیوں کی ضمانت فراہم کرنے کی بجائے انہیں پامال ہونے دیا اور یہ ترقی اپنے جوہر میں عوام دشمن ثابت ہوئی ہے۔ ایوب خاں کے سبز انقلاب میں اس نے بائیس گھرانے پیدا کیے جن کا ملکی دولت کے 80 فیصد وسائل پر قبضہ تھا۔ بس ترقی اتنی ہوئی ہے کہ اب یہ گھرانے بائیس سو یا تین ہزار ہو گئے ہوں گے۔
وہ ستم ڈھائے ، مرے شہر پہ زرداروں نے 
اپنے ہی دل سے نظر اوڑھ کے چادر گذری
ترقی کی تمام اصلاحات صرف امراءکی جھولی میں چلی جاتی ہیں اور عوام کی اکثریت اس سے محروم رہتی ہے اور سب سے بڑھ کر یہ ترقی زمینی وسائل کا بھی تیزی سے خاتمہ کر رہی ہے، اس نے ماحول کو بھی برباد کر کے رکھ دیا ۔ اپنے حقیقی کردار میں یہ ترقی مقامی اور قومی سطح پر عوام کے مفادات کی محافظ نہیں بن سکی ۔ محض سرمایے اور سرمایے دار پر انحصار کرنے والا معاشی ماڈل کامیاب ہو ہی نہیں سکتا جب تک اس کی جگہ عوام کی شرکت اور مرکزیت پر مبنی معاشی ماڈل نہیں اپنایا جائے گا خوشحالی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو گا ۔ انصاف پر مبنی پاکستان کا خواب صرف اسی صورت پورا ہو سکتا ہے کہ وسائل تک رسائی کے مساوی مواقع فراہم کیے جائیں۔
صحرا میں پھول اور گلستاں میں دھول ہے 
جو چیز ہے یہاں وہ خلاف اصول ہے 
ان اصولوں کو درست کرنے کے لیے عوام کو ہی بیدار ہونا ہو گا ۔ وطن عزیز میں وسائل کی کمی نہیں، وسائل کے غلط استعمال سے یہ ثمر آور نہیں ہو پاتے ۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہیں بڑھانے کا معاملہ ہو تو حکمران وسائل کی کمی کا رونا روتے ہیں حالانکہ انکے اللے تللوں پر عوام کا پیسہ بے دریغ بہایا جاتا ہے ۔ سیکورٹی، پروٹوکول اور دیگر معاملات پر حکمران طبقے پر اربوں روپے ضائع کر دیے جاتے ہیں محلوں میں رہنے والے بادشاہوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ عوام کے خادمین کے روپ ایسے نہیں ہوتے بلکہ حضرت عمر فاروق ؓ و خلافت راشدہ کی مثالیں تو ایمان کامل کے حامل طبقے کے لیے ہی ہو سکتی ہیں۔ تاہم ابھی حال ہی میں یوراگوئے کے سبکدوش ہونے والے صدر ہوزے موجیکا کی مثال ہی کافی ہے وہ پانچ سال تک صدر رہے اور انہوں نے 5 سالوں میں یورا گوئے کی معیشت کو بہتر اور مستحکم کیا ۔ مگر شاہی محلات میں سرکاری اخراجات پر محفلیں سجا کر نہیں۔ انہوں نے نہ ہی بڑی بڑی گاڑیوں میں بڑے بڑے قافلوں میں سفر کیا بلکہ صدارتی محل کی بجائے دارالحکومت کے نواح میں چھوٹے سے ایک منزلہ مکان میں رہائش پذیر تھے اور اپنی پرانی فوکسی میں سفر کرتے تھے۔ ہوزے کے بارے میں ہر کوئی جانتا ہے کہ وہ اپنے یوٹیلیٹی بلز ادا کرنے کے لیے سرکاری ملازم کو استعمال نہیں کرتے تھے اور ہر ماہ اپنے گھر سے پیدل نکل کر قریبی بنک کی قطار میں کھڑے ہو کر باری آنے پر بل جمع کرواتے تھے۔ ہوزے موجیکا جیسے حکمران ہی معاشی استحکام کی منزل پر پہنچتے ہیں۔ یہاں حکمرانوں اور ان کے اہل خانہ پر سالانہ جتنے اخراجات آتے ہیں وہ غریبوں پر لگائے جائیں تو پھر ہی یہاں ترقی اور خوشحالی کے پھول کھلیں گے ۔ حقیقت پسندانہ، منطقی اور خدمت کے جمہوری تصور پر مبنی بجٹ بنانا ہی وزارت خزانہ کی ذمہ داری ہے مگر طبقاتی سوچ کے علمبردار ، تاجروں کے محافظ اور امیروں کے نمائندہ حکمرانوں کی موجودگی میںپاک سر زمین سونا اگلتی رہے تب بھی عوام کی تقدیر نہیں بدل سکتی ۔ حکمرانوں کو ہوش کے ناخن لینے ہوں گے، عوامی خدمت اور عوامی شراکت کے تصور پر مبنی نظام حکمرانی اور بجٹ دینا ہو گا ۔ قوم کی مایوسی انتہا پر ہے۔ یہ کامل تباہی کا راستہ ہے یا پھر اپنا حق چھین کر آنے والی نسلوں کا مستقبل محفوظ بنانے کا سنہری موقع عوام کو سیاسی و سماجی بیداری اور ملی جذبے کے تحت حالات پر سنجیدہ غور کرنے کی ضرورت ہے ۔یہ سوال نہیں ہماری قوم کا نوحہ ہے اور میںاسی پر بات ختم کرنا چاہتا ہوںکہ اب ہر کسی کو سوچنا ہے۔
ان دمکتے ہوئے شہروں کی فراواں مخلوق
کیوں فقط مرنے کی حسرت میں جیا کرتی ہے 
یہ حسین کھیت پھٹا پڑتا ہے جو بن جن کا 
کس لیے ان میں فقط بھوک اُگا کرتی ہے 


بدھ، 27 مئی، 2015

ابن مریم ہوا کرے کوئی



اسے حسن اتفاق کہیے یا کچھ اور میں شاہ ولی اللہؒ کا ” فیوض الحرمین “ میں یہ قول پڑھ رہا تھا کہ” میں ایسے دور میں ہوں جو جہالت ، تعصب ، خواہش نفس کی پیروی اور ہر شخص کا اپنی ناقص رائے پر اترانے کا دور ہے “ اِدھر بات ختم ہوئی اُدھر میرا دروازہ کھلا اور صدا گونجی ، بتائیے ناں پاکستان اور پاکستانیت کے وکیل صاحب ! یہاں تو جابروں کی خدائی اور جبر کا راج ہے، بدکار نفرتوں کی سیاہ نے تاریکیوں کے ہرکارے بلا رکھے ہیں، نگار جہاں کے سارے خواب زخم زخم ہیں، سلامتی کی ساری اُمیدیں نقش برآب ہیں،میں نے نظر اُٹھا کر دیکھا تو میرا دوست حسب معمول تلخی حیات کا جام نوش کیے ہوئے آپے سے باہر ہو رہا تھا۔ میں جانتا ہوں اس کے آباءنے ظہورِ پاکستان کے وقت مشرقی پنجاب میں اپنا کاروبار تیا گ دیا اور اپنے بچوں کے روشن مستقبل کے لیے قائد اعظم کے پاکستان میں آ گئے تھے۔ حُب الوطنی اسکی گُھٹی میں ہے، اس نے علم کے حصول میں ساری توانائیاں صرف کیں اور با عزت روزگار میرٹ پر حاصل کیا۔ وہ عمومی معنوں میں ایک اہم ادارے کی اہم انتظامی پوسٹ پر فائز ہے۔ فرض شناسی اور حُسن انتظام اس کی شہرت ہے تو دیانتداری اور رزقِ حلال اس کا نصب العین ۔ وہ گذشتہ چند سالوں سے سرکاری ادارے کی اکلوتی تنخواہ پر گذارہ کرتے کرتے ہلکان ہو گیا ہے ، مجھے علم ہے اس نے دیانتداری کے شوق میں اپنی اور اہل خانہ کی آرزوں، تمناﺅں اور خواہشوں کا ہمیشہ خون کیا ہے۔ وہ اپنے ارمانوں کے لاشے اپنے کندھے پر اُٹھاتا رہا اور فطرت سلیم کے باعث سب کو قناعت اور شکر کے لیکچر دیتا رہتا ہے۔ گذشتہ سالوں میں اس نے بچوں کی بیماری سے گھروں کے کرائے تک کے عذاب سہے مگر حوصلہ نہیں ہارا۔ آج میرا یہ محب وطن دوست میرے سامنے بے ہمتی، مایوسی اور نفرتوں کی کرچیوں میں بٹا پڑا تھا۔ اسکی گفتگو وطن عزیز میں لہو روتی صبحوں اور دھواں اُگلتی راتوں کا ماتم کر رہی تھی۔ میں نے اسے بٹھایا، پانی پلایا اور شاہ ولی اللہؒ کا مذکورہ قول سنایا تو وہ تو تلملا اُٹھا، جی شیخ صاحب ،میری رائے ناقص ہو سکتی ہے مگر قوم کو شاہ ولی اللہ ؒ کا کہا پورا سچ سنائیے، آدھا نہیں۔ حجة اللہ البالغہ میں شاہ صاحب نے اپنے عہد کا جوتجزیہ کیا ہے اس کی بازگشت میں آج دھرا نے آیا ہوں۔ شاہ ولی اللہؒ لکھتے ہیں ”یہ ٹیکس ہی ملک کی بربادی اور عوام کی بدحالی کا بہت بڑا سبب ہیں کیونکہ جو لوگ حکومت کی بات مانتے ہیں اور فرمانبرداری (ٹیکس دے کر ) دکھاتے ہیں ، وہ تو تباہ حال ہو رہے ہیں اور جو سرکش ہیں اور نادہندگان ، ان کے حوصلے بڑھتے رہتے ہیں۔ “میں نے اپنے دوست سے عرض کیا، جناب یہ تو غیر ملکی آقاﺅں کے حوالے سے ہے، اس نے پلٹ کر مجھے لاجواب کر دیا کہ ہمارے حکمرانوں میں اپنوں والی کون سی بات دکھائی دیتی ہے۔ یار میں گذشتہ چند سالوں میں ایمانداری سے تنخواہ پر گذارہ کرتے کرتے دس لاکھ سے زیادہ کا مقروض ہو گیا ہوں۔ گریڈ 20کی نوکری میں گھر کا چولہا جلانا مشکل ہوا ہوتا ہے۔ دیگر گھریلو ذمہ داریوں کے لےے بندوبست کیسے کروں۔اپنی زندگی تو جبرِ مسلسل کی طرح کاٹ لی  ہے ،کیااپنے بچوں کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ تعلیم سے بھی محروم رکھوں۔ ریاست جو صحت و تعلیم کی ضامن ہے وہ مالیاتی جادوگروں کی منصوبہ بندیوں کے بغیر عوامی انقلاب کے بغیر تحلیل ہو گئی ہے۔ ریاست میرے بچوں کو وقت کے مطابق صحت و تعلیم کی ضمانت نہیں دے رہی، سب کچھ نجی طور پر کرنا پڑتا ہے۔ حکمران اتنے کج فہم ہیں کہ خود تو ریاستی فرائض کی ادائیگی میں ناکام ہی نہیں تعلیم و صحت کے نجی مافیا پر بھی ان کا کوئی کنٹرول نہیں۔ میں اب تو اپنے بچوں کی فیسیوں کی ادائیگی سے بھی قاصر ہوں، میرا ماضی تو خود غرض حکمران مافیا نے چھین لیا، میراحال میرے اضطراب کی نذر ہو گیا ہے،کیا اب اپنا مستقبل بھی خود تباہ کر لوں۔ اپنے بچوں کو اچھی تعلیم بھی نہ دلواﺅں اور اگر اچھے سکولوں میں بھیجوں تو فیسیں کیا وزیر خزانہ ادا کریں گے؟ کچھ سوچا تھا کہ چلیں تنخواہیں اگر حالات کی مطابقت سے بڑھیں گی تو کچھ تکلیف میں کمی ہو گی مگر ایسا بھی نہیں۔ گذشتہ ایک ، ڈیڑھ عشرے کے سرکاری ملازمین کو ایڈہاک ریلیف کے نام پر ”زکوٰة“ دے کر ٹرخایا جا رہا ہے۔ ان اضافوں کو بنیادی تنخواہ میں شامل نہیں کیا جاتا، ہاﺅس رینٹ و دیگر الاﺅنسز وقت کے ساتھ بڑھنے کی بجائے جمود کا شکا ر کر دیے گئے۔ جب سے میاں نواز شریف کی حکومت ہے پے سکیلز کی تبدیلی یا نظر ثانی پر کمیٹیاں بنائی جا رہی ہیں مگر ان کی آراء و تجاویز پر کوئی عمل نہیں کر رہا ہے۔ سُنا ہے اس بار بھی مالیاتی جادوگروں نے سرکاری ملازمین کی آنکھوں میں دھول جھونک کر اُونٹ کے منہ میں زیرہ دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ شیخ صاحب یہاں تو ہمیں مرنے والی آسوں کا خون بہا تک نہیں ملتا، جن کو ملتا ہے ان کو بھی وقت پر نہیں ملتا ، محنت کا اجر مل بھی جائے تو ایسے ملتا ہے جیسے قرض کی رقم کوئی قسط قسط ہو جائے اورجو اصل ثواب ہے وہ پس نوشت ہو جائے۔ یہاں عوام کے گھروں میں صبح کا سورج نہیں نکلتا، نکلے بھی تو دیرسے نکلتا ہے۔ 

میں اپنے دوست کی باتیں سن کر سحر زدہ ہو گیا، پورا سچ، ایک سرکاری ملازم کیسے بولے، کیسے لکھے ؟میں سوچ رہا تھا جب حقدار کو حق وقت پر نہ ملے تو معاشرے کیسے زندہ رہ سکتے ہیں،حکمرانوں کے پاس دکھاوے کی معیشت کے لیے میٹرو بسوں کے منصوبے ہیں ، مگر ان پر بیٹھنے والوں کی اہلیت اور معیارِ زندگی کے لیے خزانہ خالی ہے
ابن مریم ہوا کرے کوئی 
میرے دکھ کی دوا کرے کوئی 
سنا ہے وزیر خزانہ اسحا ق ڈار صاحب جون کے پہلے ہفتے میں44کھرب روپے کا بجٹ پیش کریں گے، اس میں سرمایہ داروں، صنعتکاروں، جاگیرداروں کے لیے تو سب کچھ ہو گا کہ یہ ان کے کاروباری و طبقاتی ساتھی ہیں، ٹرخایا جائے گا تو صرف سرکاری ملازمین کو، ہر سال "ایپکا" سٹرکوں پر رسوا ہوتی ہے مگر کوئی سننے والا نہیں، کیا وزیر اعظم صاحب کے سینے میں دل نہیں یا اس پر مہر لگ چکی ہے کہ غریبوں اور ملازموں کی کوئی صدا ان تک نہیں پہنچ پاتی، حکمرانوں کی مسلسل بے حسی نے اس معاشرے کو ریوڑ میں بدل دیا ہے ، متوسط طبقہ ختم ہو گیا ہے، امیر بے حس اور غریب احساس انسانیت سے محروم ہوتے جا رہے ہیں۔ نہ کسی میں شعور مدنیت بچا ہے نہ احساس وطن رہا ہے۔ معاشرت سے عاری معیشت کی چکی میں پستے پاکستانی دنیا بھر میں تماشہ بن کر رہ گئے ہیں۔ منافع خور حکمرانوں نے ریاست اور حکومت کا فرق مٹا کر ملک کو فیکٹری اور سیاست کو تجارت بنا کر رکھ دیا ہے۔ تمام قربانیاں عوام دیں ، تمام دکھ عوام جھیلیں، تنخواہیں اور الاﺅنسز جب چاہیں اور جتنے چاہیں پارلیمنٹیرینزکے بڑھیں۔ کیا ریاست اور کیا حکومت ۔۔۔بازیچہ اطفال معراج ہنر ٹھہرے ہیں ۔ کہیں فساد خلق کی سازش ،تو کہیں فروغ فتویٰ کی یورش، خستہ خالی میں گذرتے شادماں خواب و خیال، رسمِ آوارہ خرامی سے چھلکتے ماہ و سال۔۔۔کیا اس ملک میں اب حال کی نوحہ گری میں مبتلا بیمار دل، بھٹکتی آرزﺅں کی کرچیاں، عمر کی ریگ ِرواں پر مٹتے قدموں کے نشاں، جان بلب اُمیدیں، رائیگانی کا ملال، خزاں ہی خزاں رہ گئی ہے ۔بُری حکمرانی نے میرے دوست جیسے محب وطنوں اور سچے مسلمانوں کو بھی کمزور کر دیا ہے۔ زورآور کی خدائی اور نادار کا رُتبہ کم ہو گا تو پاکستانیت دم توڑے گی ہی ناں۔۔۔ یہاں اب سفاک شکاریوں کی طاقت اور معصوم ہرنوں کی بے بسی کا میدان سجا ہوا ہے۔ میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار سے گذارش کروں گا کہ جناب عالی! سرکاری ملازمین کے حالات بدلے بغیر کسی مثبت تبدیلی کے نعرے کو حقیقت میں نہیں بدلا جا سکتا۔ سرکاری ملازمین پچھلے کئی سالوں سے تنخواہوں کے معاملے میں بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بھی خاموش ہیں۔ براہِ کرم ان کے پے سکیلوں پر نظر ثانی کریں، ان کے معیارِ زندگی پر توجہ دیں، ان کی تنخواہوں کو عصری معیشت سے ہم آہنگ کریں لیکن میرے جیسے قلمکار کے لفظوں میں اتنی طاقت کہاں کے وزارتِ خزانہ اور حکمرانوں کے ایوانوں تک پہنچ سکیں۔ میں اپنی بات اپنے دوست کی سنائی ہوئی کسی درد مند دِل رکھنے والے شاعر کی نظم پر کرتا ہوں
خزاں گذیدہ ہے گلشن، کوئی بہار نہیں 
خوشی کا رنگ یہاں، کوئی پائیدار نہیں 
ہیں اتنے گھاﺅ کہ ان کا کوئی شمار نہیں 
ترازو کوئی نہیں اور باٹ کوئی نہیں 
وہ کون ہے جو یہاں، اس زمین کے سینے پر 
غموں کی فصل اُگاتا ہے، رنج بانٹتا ہے؟

جمعہ، 22 مئی، 2015

اسلام اور سماج: جامعات کا کردار



اقوام کے سفرِ تاریخ میں ہر مرحلے پر کوئی نہ کوئی سوال ایسا ہوتا ہے جس سے محدود تناظر میں ہی سہی پوری معنویت اور اس کی سمتِ سفر وابستہ ہوتی ہے ۔ تاریخ دراصل ایسے ہی سوالوں کی دریافت ، ان کے درست جواب کی تلاش یا ان سے انحراف کرنے کی کوشش کا ایک مسلسل رزمیہ ہے۔ سوالوں کی انسانی کائنات میں یہ درمیدگی ہی دراصل انسانی معنویت کو زمانے کے دھارے میں یا مختلف مکانی تہذیبوں کے سانچے میں دریافت کرتے جانے یا اسے برقرار رکھنے کی صورت ہے ۔آج پوری امت کے سامنے یہ سوال کھڑا ہے کہ کیا سماج کی نصب العینی حرکت اور اس کے مقصود سے صرف ِنظر کر کے مظاہر کا مطالعہ اس کا کوئی فہم پیدا کر سکتا ہے ؟ ہمارے ہاں اسلام اور سماج کے مختلف پہلو ¶ں پر مناظرہ تو بہت ہو چکا، ضرورت اس امر کی ہے کہ اس سوال کے جواب کی تلاش کے لیے سنجیدہ مکالمے کا آغاز ہو سکے۔ مسلمانوں کے علمی تجربے اور اہل مغرب کے علمی کارناموں سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ علم جس معاشرتی روایت میں جنم لیتا ہے وہ بالعموم اس کے دائرے سے باہر نہیں ہوتا، اس لیے لازم ہے کہ علوم کو اسلام کے سماجی تناظر میں بھی دیکھا جائے اور یہ تحقیق کی جائے کہ اس صورت میں ان کی موجودہ ہیئت پر کیا اثر پڑتا ہے۔ اسلام اور سماج کا علمی جائزہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ انسان اس حد تک فطرتاً عمرانی الطبع ہے کہ بغیر سماج کے نہ تو وجود میں آسکتا ہے نہ باقی رہ سکتا ہے اور نہ ترقی کر سکتا ہے ۔ 
یونیورسٹیوں کا نصب العین موجودہ علم کی ترسیل، نئے علم کی تحقیق اور تجزیاتی و تخلیقی قوتوں کی آبیاری ہوتا ہے ۔ جامعات سماجی ترقی یا اس کے فقدان اور مجموعی طور پر معاشرے کی خواہشات ، مایوسیوں، تنازعات، طبقاتی ہیئت اور عمومی ذہنی ساخت کا پیمانہ ہوتی ہیں ۔ لیکن اسے بدقسمتی کے سوا کیا کہیے کہ ہماری یونیورسٹیوں میںیہ وظیفہ خال خال ہی انجام دیا جاتا ہے ۔ سائنسی تحقیق ہو یا فلسفیانہ، سماجی یا سیاسی مسائل ،ہمارے ہاں ان پر سنجیدہ مباحث کم یاب ہیں۔ ہماری دانش گاہیں حربی ثقافت و سماجی مسائل کی تربیت گاہوں میں بدل کر فکری بانجھ پن کا شکار ہیں۔ تاہم سنگلاخ صحراﺅں میں کہیں کہیں کوئی نخلستان بھی مل جاتا ہے جس کی ایک نمایاں مثال یونیورسٹی آف گجرات ہے ۔ اس کے شیخ الجامعہ ڈاکٹر ضیاءالقیوم جیسے لوگوں کو خدا سلامت رکھے کہ ان کے ساتھ مل کر آدمی سوچتا ہے اور شکر کرتا ہے کہ کم از کم اسے اہل خیر سے ایک نسبت و نیاز تو حاصل ہے۔ ایسے ہی لوگ کسی نہ کسی درجے پر اسلامی سماج کی حقیقی روح کے مظاہر ہیں۔ ایسے پختہ فکر اور حسنِ عمل کے امتزاج کے حامل وائس چانسلر کا ”خطہ ¿یونان“ کی شہرت رکھنے والی سخنوروں کی بستی گجرات کے لیے ایک مثبت تہذیبی تجربہ ہے۔ انہوں نے علم و فکر اور تحقیق و دانش کے متوازن نظام تدریس و تعلیم سے جامعہ گجرات کو قومی امنگوں اور علمی آرزوں کی حامل دانش گاہ بنانے کا تہیہ کر رکھا ہے اور اس سفر میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھے ہوئے۔ دنیا بھر میں قدیم اور جدید جامعات اسی لیے فکر و علم کا مرکز رہی ہیں کہ ان میں آزادی فکر و اظہار کو خاص اہمیت دی جاتی ہے، اسی آزاد فضا میں علم و آگہی کا چراغ روشن ہوتا ہے ۔ سب سے اہم قومی تقاضا اور عصری چیلنج یہی ہے کہ ہماری جامعات کو معاشرتی ترقی کے اداروں کے طور پر ابھرنا ہے ۔ اس بات کا شدید احساس جامعہ گجرات میں ”اسلام اور سماج: جامعات کا کردار“ کے موضوع پر منعقدہ علمی و فکری کانفرنس میں شرکت کر کے ہوا۔ رئیس الجامعہ کی راہنمائی اور فعال کردار کے حامل دانشور اساتذہ ڈاکٹر غلام علی، ڈاکٹر زاہد یوسف اور ڈاکٹر محمد نواز کی قیادت میں منعقدہ اس قومی کانفرنس میں حساس موضوع پر گفتگو کرنے والے سنجیدہ طبع دانشور وںکا اجتماع تھا۔ کلیدی خطبہ میں شریعہ ایپلٹ کورٹ کے جسٹس امریکہ و ملائیشیا سمیت دنیا بھر کے ممتاز عالمی اداروں میں تدریس و تحقیق کا وسیع تجربہ رکھنے والے اسلامی نظریاتی کونسل کے سابق چیئر مین ڈاکٹر خالد مسعود نے کہا کہ اسلامی معاشرہ کی تشکیل تفہیم و تعبیر میں علم نے ہمیشہ بنیادی کردار ادا کیا ہے ۔علم ہی وہ کنجی ہے جو ہمارے لیے دینی و دنیاوی ترقی کے تمام قفل کھول سکتی ہے ۔مسلمانوں نے ترک علم کی راہوں پر چل کر جو نقصانات اٹھائے ہیں انہیں فراموش کر کے روح عصر سے ہم آہنگی کا طریقہ اپنایا جائے تو دور حاضر میں اسلام کے نظریہ ¿ علم کے حوالے سے جامعات کا کردار روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتا ہے ۔ پچھلی دو صدیوں میں حفظ دین کی بہت کوششیں ہوئیں مگر دین کی اجتہادی روح کو کچل کر دین کی آفاقیت سے دوری ہی اختیار کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ جامعات اپنے علمی کردار کے ذریعے پاکستان میں سماجی ترقی کے عمل کو تیز کرتے ہوئے ایک خوشحال اور پر امن قوم کی تشکیل میں مددگار ہو سکتی ہیں، ادارہ تحقیقات اسلامی ، اسلام آباد کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر محمد ضیاءالحق نے کہا کہ پاکستان تمام مسلم امہ کی امیدوں کا مرکز ہے طلباءو طالبات کی نوجوان نسل ہمارے مستقبل کی امین ہے جامعات اپنے سماجی کردار کو نبھاہتے ہوئے نئی نسل کی بہتر تعلیم و تربیت سے معاشرتی تبدیلی برپا کر سکتی ہیں۔ قومیں اس وقت تباہ ہو جاتی ہیں جب وہ مسائل سے پہلو تہی برتتی ہیں۔ پاکستان کا دستور اسلامی اور جمہوری ہے ۔مٹھی بھر انتہا پسندوں اور دہشت گردوں کو یہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ اسلام کے نمائندہ بن کر اپنے طریقے سے اسکی تفہیم و تشریح کریں۔ یونیورسٹیوں کے اساتذہ و طالبعلموں نے معاشرہ کی تقدیر کو بدلنا ہے ہمیں دین و سیاست کو مدغم کرنے کی بجائے مختلف طبقات فکر کے مابین ایک صحت مند مکالمہ کو ترویج دینے کی ضرورت ہے اور جامعات یہ ذمہ داری بخوبی نبھا سکتی ہیں۔ ممتاز دانشور و کالم نگار خورشید ندیم نے کہا سماجی بدلاﺅ میں جامعات کی اثر پذیری آج ایک اہم سوال بن چکا ہے۔ جامعات اصلاً ارتقائے فکر کے ادارے ہیں یہی ادارے نوجوان نسل کی ذہنی و فکری آبیاری کا فریضہ سر انجام دیتے ہیں اور علم کی تشکیل کر کے علم کا معیار مقرر کرتے ہیں۔ جب تک جامعات سماج میں اپنا کردار واضح کرنے کے قابل نہیں ہوتیں معاشرہ میں فکری قیادت کا بحران رہے گا ۔ علامہ رضاءالدین صدیقی کا کہنا تھا کہ اسلامی معاشرہ وحدت انسانیت کا درس دیتا ہے ہمیں انفرادی اور اجتماعی سطح پر رویوں میں تبدیلی لا نے کی ضرورت ہے ۔ مسلمان کا شیوہ ہے کہ وہ وقت سے پیچھے نہیں وقت سے آگے چلے ۔ مسلم معاشرہ کا مزاج کار ِ خیر کی تبلیغ ہے۔ علم ، عشق اور بصیرت سچے مسلمان کا طرہ ¿ امتیاز ہے ۔ ڈاکٹر سفیر اعوان نے کہا کہ جامعات کے کردار کو اجاگر کیے بغیر ہم سماجی ترقی کا خواب نہیں دیکھ سکتے ۔ انہوں نے ٹائن بی کے حوالے دیتے ہوئے کہا کہ معاشرتی ارتقاءو ترقی کا عمل ایک تخلیقی اقلیت کی بدولت جاری رہتا ہے ۔ پروفیسر احمد ندیم اسلامی معاشرہ کی تشکیلی بنیادوں پر جامع گفتگو کی اور کہا کہ جامعیت اور اعتدال اسلامی معاشرہ کے دو اہم عناصر ہیں، مسلم سماج میں وسعت نظر اور وسعت قلب پائی جاتی ہے مگر ہم صرف خشک ظاہریت کا شکار ہو کر مختلف مسائل کا شکار ہو گئے ہیں آج کا دور تلواروں کی جنگ کانہیں بیانیہ کی جنگ کاہے ۔پاکستانی سماج فہم کے بحران کا شکار ہو کر عدم اطمینانی کا لقمہ بنا ہوا ہے ۔ عقل مذہب سے متصادم نہیں بلکہ ایک جاری و ساری اصول ہے پاکستانی سماج میں مکالمہ کی ناگذیر ضرورت ہے ۔ کانفرنس کے چیئرپرسن ڈاکٹر ضیاءالقیوم نے منتظمین کو خراج تحسین پیش کیا کہ اہم موضوع پر کانفرنس منعقد کروائی اور کہا کہ جامعات کا اصل کام طلباءو طالبات کی سوچ، فکر اور شخصیت کی تعمیر ہے ۔ تحقیق و تجسس کے نئے تناظر میں جامعات میں اسلام اور سماج کے حوالہ سے بحث و مکالمہ کا آغاز پاکستانی سماج کو نئی رفعتوں سے آشنا کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔ جدید تعلیم یافتہ افراد اور عام لوگوں میں جو تفاوت فکر پائی جاتی ہے اس کا واحد حل ان کے درمیان بامعنی مکالمہ ہے ۔ مغربی جامعات میں اسلام کے سماجی پہلوﺅں کا مطالعہ مخصوص تناظر میں ہو رہا ہے ۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہماری اپنی جامعات بھی نظری بحثوں تک محدو رہنے کی بجائے اسلامی فکر کے اطلاقی پہلووں پر بھی توجہ دیں، ہمیں مجتہدانہ بصیرت کی اشد ضرورت ہے ۔ لازم ہے کہ ہمارے معاشرے میں موجود مذہبی علوم کے ماہرین اور جامعات کے اساتذہ اور طلباءکے درمیان ابلاغ کو موثر بنایا جائے اور با معنی مکالمے کے عملِ مسلسل کو یقینی بناتے ہوئے اسلام اور سماج کے تعلق پر ایسے بیانیے تشکیل دیے جائیں جو ہمارے معاشروں میں موجودہ انتہا پسندی اور نفرت کا خاتمہ کرتے ہوئے م وثر اور بامعنی مکالمہ شروع کر سکیں۔ یونیورسٹی آف گجرات نے اس مکالمے کا آغاز کر کے اپنی ذمہ داری نبھائی ہے تاہم یہ سلسلہ جاری رہے گا تب ہی ثمر آور ہو گا کہ

پت جھڑکی ہر ٹہنی لہو نشاں ہے 
اور انسانی معاشرہ جنگل نہیں کہ
خزاں کے بعد بہار کی آمد یقینی ہو 
انسانی اجتماع میں گل کا نصاب مقرر ہو 
جسے ادا کیے بغیر 
بہار کا امکان روشن نہیں ہوتا 


جمعہ، 15 مئی، 2015

قومی وحدت میں میڈیا کا کردار



اکثر ترقی پذیر ممالک کی طرح پاکستان بھی قومی وحدت کے بحران کا شکار رہا ہے ۔ قدیم سماج اور جدید ریاست کے امتزاج کا حامل پاکستان ایک مرکب ملک اور ثقافتی تنوع کی حامل انتظامی وحدت ہے۔ اس قسم کی ریاستوں میں تعصبات کی موجودگی تعجب انگیز نہیں مگر ہمارے ہاں لمحہ فکریہ یہ ہے کہ یہاں تعصب نہ صرف حکومتوں اور عوامی اداروں میں دکھائی دیتا ہے بلکہ یہاں کے دانشوروں ، قلمکاروں، ماہرین عمرانیات و سماجیات اور میڈیا کو بھی اس میں فعال دلچسپی ہے ۔ قومی اکائی بہت سی متنوع انفرادیتوں کا مجموعہ ہوتی ہے ۔ تاریخ عالم میں بہت کم ہوا ہے کہ کوئی قوم ایک مذہب کی پیرو ہو ، ایک ہی نسل سے تعلق رکھتی ہو ، ایک ہی زبان ،ایک ہی لہجے میں بولتی ہو۔ لسانی و ثقافتی رنگا رنگی قومی وحدت کی طاقت ہوتی ہے ۔ قومی وحدت کا حقیقی مفہوم یہ نہیں کہ ہماری زبان ، ہماری نسل، ہمارا لباس ایک ہو بلکہ یہ ہے کہ ہمارا نصب العین، ہمارا منتہائے مقصود اور قومی سطح پر ہماری نفسیاتی فضا ایک ہو ۔ آزادی کے فوراً بعد ہمیں اس تنوع کا حقیقت پسندانہ تجزیہ ادراک کر لینا چاہیے تھا تاکہ تعمیر نو یا قومی ارتقاءکا آغاز ہو سکے مگر ایسا نہ ہوا ، ہمارے ارباب اختیار نے مذہب پر مبالغہ انگیز حد تک اصرار کر کے قومی وحدت مسلط کرنے کی بار ہا ناکام کوشش کی ۔ ایسی ہی غیر منطقی پالیسیوں کی وجہ سے آج تک ہم اپنے اپنے خول میں بیٹھے ایک دوسرے سے ہی چوکنے رہنے پر ساری توانائیاں صرف کیے ہوئے ہیں۔ ہمارے درمیان بے اعتمادی بلکہ بد اعتمادی کی فضا قائم ہے اور قومی وحدت کا تصور المناک حد تک مجروح ہوا ہے ۔ قومی وحدت کی فضا یوں تو متعدد عناصر سے قائم ہوتی ہے مگر اس حوالے سے آج معاشرے کا سب سے م ¶ثر عنصر ہمارامیڈیا ہے۔ اس لیے کہ صحافی سب کچھ ہونے کے ساتھ تہذیبی کارکن بھی ہوتا ہے اور تہذیب ذہنی کیفیات کی شائستگی کا نام ہے اور ذمہ دار میڈیا حکمت عملیوں کی تکنیکی وضاحت اور اعداد و شمار کے گورکھ دھندے سے ہی کام نہیں لیتا ، وہ دلوں کی بولی بھی بولتا ہے ۔ لوگ توقع کرتے ہیں کہ آزاد، ذمہ دار اور متحرک میڈیا قومی وحدت کے تصور کو مسلمہ حقیقت میں بدل سکتا ہے ۔آزاد میڈیا نے بے شمار تضادات کے باوجود امریکہ کو متحد رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے ۔ تعلیم و تبلیغ کے دوسرے ذرائع میں اتنی وسعت نہیں جتنی وسعت صحافت کی ہمہ گیری نے میڈیا کو دے دی ہے ۔ میڈیا کو بجا طور پر جمہوری اقدار کا محافظ، قانون کی سر بلندی کا حصار اور قومی ضمیر کا آئینہ دار گردانا جاتا ہے ۔ اب تو میڈیا نے خود کو ریاست کے چوتھے ستون کے طور پر بھی منوا لیا ہے۔ مقننہ قانون بناتی ہے، عدلیہ اس کی تشریح کرتی ہے، انتظامیہ اسے نافذ کرتی ہے اور میڈیا اس سارے عمل کے لیے رائے عامہ ہموار کرتا ہے ۔اسی اہمیت کے پیش نظر یونیورسٹی آف گجرات کے سنٹر فار میڈیا سٹڈیز نے عصری تقاضوں سے ہم آہنگ سیمینار بعنوان” قومی وحدت میں میڈیا کا کردار:ذمہ داریاں اور مشکلات“کا خصوصی اہتمام کیا۔ اور اس میں مہمان مقرر کے طور پر قلم و قرطاس اور فکر و خیال کی طاقت کو معاشرتی تطہیر اور قومی وحدت کے لیے وقف کرنے والے، صحافت میں پاکستانی طرز احساس کے نمائندہ، دھیمے لہجے میں تلخ سچائی بیان کرنے میں کمال رکھنے والے سینئر صحافی سجاد میر کو مدعو کیا ۔ سیمینار کی صدارت قائداعظم اور علامہ اقبال کے افکار سے روشن ضمیر کے حامل سچے اور سُچے پاکستانی، شیخ الجامعہ دانش گاہ گجرات پروفیسر ڈاکٹر ضیاءالقیوم نے کی۔ شعبہ ¿ ابلاغ عامہ کے سربراہ ڈاکٹر زاہد یوسف نے افتتاحی کلمات میں کہا کہ قومی وحدت قوموں کے نصب العین کا نام ہے اور ابلاغیات کے دور حاضر میں کئی میدانوں میں فیصلہ کن حیثیت حاصل ہے کیونکہ میڈیا عوامی رائے کو بنانے یا بگاڑنے کا کام سر انجام دے رہا ہے ۔ میڈیا مشکلات کے باوجود اپنا کردار ادا کر رہا ہے تاہم میڈیا کے ذمہ دارانہ کردار کو فروغ دینے کی اشد ضرورت ہے ۔ سینئر صحافی سجاد میر کا کہنا تھا کہ صحافت ایک ذمہ دارانہ پیشہ ہے ، سچا صحافی معاشرہ میں اعلیٰ شعور و اقدار کو فروغ دے کر قومی وحدت کے پُر وقار جذبہ کو پروان چڑھانے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے ۔ پاکستان کے قیام میں صحافیوں کی فکر و سعی نمایاں تھی۔ سر سید احمد خاں سے مولانا محمد علی جوہر تک صحافیوں نے پاکستانی طرز فکر کو فروغ دیا ، استحکام پاکستان کے لیے صحافیوں کو قومی ذمہ داریوں سے ہم آہنگ کردار ادا کرنا ہو گا ۔ میڈیا کا بنیادی فریضہ سماجی بیداری اور معاشرتی آگاہی پیدا کرنا اور قومی وحدت کے شعور کو بڑھاوا دینا ہے ۔عصر حاضر میں میڈیا سماج سازی سے قومی یکجہتی تک کے بہت سے کارنامے سر انجام دے رہا ہے۔ آزاد میڈیا وہ ہوتا ہے جو سچ کو بنیاد بنائے۔ میڈیا کی آزادی کے معنی میڈیا کی ذمہ داری کے ہیں۔ آج کل ابلاغی نظریہ جس طرح بنتا ہے یا خبر اور رپورٹ معرض وجود میں آتی ہے ، اس کے پس منظر میں جو قوتیں اور محرکات کار فرما ہوتے ہیں اور اس میں جو تکنیکی جبر مسلط ہوتا ہے اس نے میڈیا کے سارے مزاج کو بدل دیا ہے اور سچ ناپید ہو گیا ہے آج کمرشل ازم نے بزنس نیوز کو نیوز بزنس میںبدل دیا ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان تخلیقی صلاحیتوں سے مالا مال لوگوں کی سر زمین ہے لیکن بد قسمتی سے ہم عالمی شکنجوں میں جکڑی قوم بن چکے ہیں اور ہماری صحافت میں غیر ملکی کارپوریٹ سیکٹر کی کارفرمائیاں نمایاں ہیں۔ پاکستانی الیکٹرانک میڈیا بالخصوص ہندوستانی کارپوریٹ سیکٹر کی لڑائی کا میدان بنا ہوا ہے چنانچہ قومی وحدت میں ذمہ دارانہ کردار ادا نہیں کر پا رہا۔ اس شعبہ ¿ کی مشکلات اور ذمہ داریاں بھی بہت ہیں۔ ہمارے ہاں رد عمل کی کار گذاریوں نے جذباتیت اور انتہا پسندی کو بڑھایا جس نے قومی وحدت کو کمزور کیا ہے ۔ پروفیسر ڈاکٹر غلام علی ، ڈاکٹر ارشد علی، پروفیسر زاہد بلال، پروفیسر ثوبیہ عابد، ڈاکٹر لبنیٰ، ڈاکٹر محمد نواز، محمد عمیر اور ریڈیو صحافت سے وابستہ منعم شہزاد نے بھی فکر انگیز گفتگو کی اور کہا کہ پاکستانی میڈیا ارتقائی مراحل میں ہے اس لیے کئی ابہامات کا شکار ہے ۔ ڈویلپمنٹ جرنلزم سے لیس ہو کر میڈیا قوم اور عوام کی بہتر خدمت کر سکتا ہے ۔ صحافت عوامی شعور کی بیداری میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے ۔ قلم و نظر کے حامل ذمہ داران کا فرض ہے کہ وہ معاشرتی بہتری اور قومی وحدت کے لیے بھرپور کردار ادا کریں۔ مکالمے کے داعی اور دانشور استاد، پروفیسر ڈاکٹر ضیاءالقیوم وائس چانسلر یونیورسٹی آف گجرات نے صدارتی کلمات میں کہا کہ صحافت دراصل آزادی ¿ اظہار کا نام ہے ۔ آزاد مگر ذمہ دار میڈیا میں ہی سچ کی روایت کو پروان چڑھا کر پاکستان میں قومی یکجہتی کی بنیادوں کو مضبوط کیا جاسکتا ہے ۔ ایک سچا صحافی معاشرہ و قوم کے لیے دیدہ ¿ بینا کی حیثیت رکھتا ہے۔ میڈیا معاشرہ اور عوام کی سوچ کا آئینہ دار ہی نہیں ہوتا، اس کی راہنمائی کا فریضہ بھی سر انجام دیتا ہے۔ آج میڈیا معاشرتی سوچ کے دائروں کو متعین کرتا ہے چنانچہ کھرے اور سچے صحافیوں کی ذمہ داریاں بڑھ چکی ہیں۔ صاحب عمل اور پختہ عزم صحافی ہمارے لیے رول ماڈل ہیں۔ 1965ءکی جنگ کے ایام میں پاکستانی میڈیا کا کردار قومی تقاضوں سے ہم آہنگ تھا۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستانی آزاد میڈیا نے قوم کو آگاہی کی نئی جہتوں سے متعارف کروایا۔ اکتوبر 2005ءمیں آنے والے زلزلے کے وقت بھی پاکستانی میڈیا نے قومی یکجہتی کو فروغ دینے میں قابل تحسین کردار ادا کیا ۔ لیکن یہ بھی تلخ حقیقت ہے کہ ہمارے سما ج اور میڈیا کے درمیان کمرشل ازم نے ڈیرے لگا لیے ہیں۔ ضرورت سے زیادہ کمرشل ازم نے میڈیا کے قلم و بیان کی رعنائی ، زیبائی اور خوبصورتی کو متاثر کیا ہے ۔ صحافی کے لیے لازم ہے کہ وہ کلمہ ¿ حق کا علمبردار ہو۔ بریکنگ نیوز نے قومی وحدت سمیت بہت سے تصورات کو بریک کیا ہے ۔ میڈیا کو ذاتی ، گروہی، علاقائی مفادات سے بالا تر ہو کر پیشہ وارانہ ذمہ داریاں نبھانی اور قومی تقاضوں کو پورا کرنا چاہیے۔ جامعہ گجرات کے شعبہ ابلاغ عامہ کے ڈاکٹر زاہد یوسف نے درد مند پاکستانی ہونی کے ناطے جس سنجیدہ مکالمے کا آغاز کیا ہے اسے جاری رہنا چاہیے۔ سجاد میر جیسے تجربہ کار صحافیوں سے مستقبل کے صحافیوں کی گفتگو اور مکالمہ مثبت اور ثمر آور نتائج کا حامل ہو گا ۔ ڈاکٹر ضیاءالقیوم نے کمال سنجیدگی سے فکر انگیز بات کہی کہ سماجی ذمہ داری کے نظریہ صحافت نے میڈیا کے کاندھوں پر بڑی ذمہ داری ڈال دی ہے ۔ صحافت کو فلاح عامہ کا ضامن اور قومی امنگوں کا ترجمان ہونا چاہیے۔ جب تک صحافت سماج کے ساتھ نہیں ہو گی قومی وحدت سمیت بہتری کے امکانات کم رہیں گے ۔ 
یونیورسٹی آف گجرات اس وقت پاکستانیت کی حامل قومی دانش گاہ کا کردار جس وژن، درد مندی اور حب الوطنی سے ادا کر رہی ہے وہ قومی سطح پر مثالی اور خراج تحسین کا مستحق ہے۔ جواں عزم، دور اندیش اور وژنری قائد کے طور پر ڈاکٹر ضیاءالقیوم نے یونیورسٹی آف گجرات کو پاکستان کے روشن مستقبل کی ضامن دانش گاہ بنانے کے لیے جو متحرک، نتیجہ خیز اور دانشمندانہ علمی و تحقیقی فضاءقائم کی ہے وہی عصری قومی ضرورت اور روح عصر سے ہم آہنگ ہے ۔ حقیقت پسندانہ روشن خیال اور مستقبل شناس تعلیم و تدریس ہی قومی وحدت کی حقیقی ضامن ہے ۔ اسی کے ذریعے سچ اور سچائی پر مبنی صحافت و سیاست کو فروغ دیا جا سکتا ہے اور یہی قومی وحدت کی منزل کا پائیدار راستہ ہے ۔