‏Gujrat لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏Gujrat لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعرات، 4 دسمبر، 2014

روحانی تجربے کا بیان واقعتا مشکل ہے



باطنیت کا تجربہ ایک منفیانہ خصوصیت کا حامل ہوتا ہے جسے یہ تجربہ حاصل ہو جائے وہ اس کا اعتراف کرتا ہے کہ میں بیان نہیں کر سکتا کہ میں نے کیا محسوس کیا ہے …… سو اگر اس کیفیت کو بیان نہیں کیا جاسکتا تو وہ دوسرے تک منتقل بھی نہیں کیا جاسکتا۔ لہذٰا باطنی تجربہ اگر کوئی صداقت رکھتا ہے تو یہ صداقت صرف صاحب ِتجربہ کے کام آسکتی ہے کسی اور کے لیے اسے صداقت قرار نہیں دیا جاسکتا…… اسی لیے دوسرے لوگوں پر اس کی کوئی پابندی نہیں کہ وہ اس صداقت کو تسلیم کر لیں۔ یہ خالص جذباتی احساس کا نام ہے اور جذبات یکسر ذاتی اور گونگے ہوتے ہیں۔ جو کچھ بھی ایک شخص محسوس کرتا ہے وہ اس کا احساس کسی دوسرے میں پیدا نہیں کر سکتا تاوقتیکہ وہ دوسرا شخص خود ہی محسوس نہ کرے“ روحانیت کے ممتاز مغربی دانشور ولیم جیمز کے مذکورہ الفاظ مجھے گجرات کے دارالحکمت المیر ٹرسٹ لائبریری و مرکز تحقیق و تالیف میں علم دوست اور کتاب دوست شخصیت عارف علی میر ایڈووکیٹ کی سربراہی میں خطہئ یونان گجرات کے نامور اور حقیقت پسند عوام دوست دانشور، کالم نگار اور کامریڈ راہنما افتخار بھٹہ کی حج بیت اللہ کی سعادت کے بعد واپسی پر ان کے اعزاز میں منعقدہ ظہرانے میں شدت سے یاد آئے کہ جب حاضرین کے پر زور اصرار کے باوجود افتخار بھٹہ حج کے ذہنی و  باطنی تجربے پر روشنی ڈالنے میں پس و پیش سے کام لیتے رہے۔ افتخار بھٹہ نصف صدی سے زیادہ عرصے سے لیفٹ کے دانشور کی شناخت رکھتے ہیں، کامریڈ اور مارکسسٹ ہیں، ہمیشہ سائنسی فکر کے داعی اور انسانی فضیلت کے علمبردار رہے ہیں، روشن خیال، لبرل اور اقتصادی ترقی کے آرزو مند ہیں۔ کتاب، قلم، دانش اور عقل سے ان کا رشتہ بہت پختہ ہے۔ مارکسسٹوں کا خیال کارل مارکس کی ’داس کیپٹل‘ میں رقم ان الفاظ کا عکاس ہے کہ ”اخلاقیات، مذہب، مابعد الطبیعات اور اسی قسم کے دوسرے تصورات اپنا آزاد وجود کہیں نہیں رکھتے۔ ان کی نہ کوئی تاریخ ہے نہ نشوونما۔ مذہب انسانی ذہن کی پیداوار ہے، انسان مذہب کی پیداوار نہیں“۔ بائیں بازو کے نظریے پر پختہ یقین رکھنے والے افتخار بھٹہ کے حوالے سے چند ہفتے قبل جب یہ خبر آئی کہ وہ حج کی سعادت کے لیے گئے ہیں تو سوچنے بولنے اور لکھنے والے حلقوں میں بڑی چہ مگوئیاں ہوئیں۔ سوال ہونے لگا ہے کہ کوئی شخص پرانی دنیا کو ترک کیے بغیر نئی دنیا کیسے دریافت کر سکتا ہے۔ سب کو جستجو تھی کہ وہ واپس آئیں تو ان کے روحانی تجربے سے آگاہی ضرور حاصل کی جائے۔ 

 میرا یہ ماننا ہے کہ پروردگار نے حج کو ایک رسم نہیں، ایک قلبی واردات کے طور پر فرض قرار دیا ہے۔ مکہ و مدینہ وہ مقام ہیں جہاں جو جاتا ہے اس کو امان مل جاتی ہے۔ حج حقیقت میں ہجرت کا روحانی تجربہ ہے جس کے دوران انسان اپنے رب کیطرف یہ کہتے ہوئے پلٹتا ہے کہ اے رب العالمین! میری نماز، میری قربانی، میری زندگی سب کچھ تیرے لیے ہے۔ یہ تجربہ سب کو نہ سہی کچھ حاجیوں کو ضرور نصیب ہوتا ہے اور پھر ان کی زندگی ایمان، محبت، خیر، صداقت اور امن کی روحانی بنیادوں پر استوار ہو جاتی ہے۔ روحانی طور پر زندہ و بیدار شخص خدا کی تلاش میں ایمان، محبت، خیر، صداقت اور امن کی مسافرت پر نکلتا ہے۔ اس سفر کے مسافر افتخار بھٹہ کی واپسی پر اس روحانی تجربے کے بیان کے لیے عارف میر صاحب نے خصوصی نشست کا اہتمام کیا اور مجھے بھی شرکت کی دعوت دی تو میں بڑے اشتیاق سے شریک ہوا۔ محفل میں روحانیت سے خاص دلچسپی رکھنے والوں کی تعداد زیادہ تھی۔ درویش منش میاں خورشید احمد، پیر محمد آصف، نجم الحسن، ظفر علی سید، صوفی محمد سیف، عاشق حسین عظیمی خاص طور پر مدعو تھے،میزبان عارف علی میر نے بڑی چابکدستی سے محفل کو موضوع گفتگو دیتے ہوئے کہا کہ زندگی کو مستقل طور پر ایک ہی قالب میں محبوس رکھنا نا ممکن ہے، اس لیے مذہب کو بھی سائنس کی طرح بدلتے ہوئے تقاضوں کا لحاظ رکھنا ہو گا، مذہب کے اصول ابدی ہو سکتے ہیں لیکن ان کی تعبیرات تو حالات کے ساتھ بدلنی چاہئیں۔افتخار بھٹہ کا تجربہ اس سلسلے میں ہماری راہنمائی کر سکتا ہے۔ جواب میں خاموش بیٹھے بھٹہ صاحب اورساکت ہوگئے۔ اس پر نوجوان وکیل ندیم اللہ نے مہمان خصوصی کو بولنے پر اکسانے کے لیے اوسپنسکی کی بات دہرائی کہ جو مذہب سائنس کی تکذیب کرے اور جو سائنس مذہب کی تکذیب کرے، وہ دونوں باطل ہوتے ہیں۔ بھٹہ صاحب نے بھی اسی تجربے کے لیے حج پر جانے کا سوچا تھا؟ ہمیشہ بڑے تپاک سے بولنے والے افتخار بھٹہ جواب دینے کی بجائے کسی گہری سوچ میں کھو گئے ان کی آنکھیں ہی بند نہ تھیں ایسے لگا انہوں نے ہونٹ بھی سی لیے ہیں، ایسے میں متحرک خیال ساجد راٹھور نے بھٹہ صاحب کی جذباتی کیفیت کو سمجھتے ہوئے ان کے ساکن جذبات میں تلاطم پیدا کرنے کے لیے اپنے حصے کا کنکر پھینکنے سے گریز نہیں کیا اور کہا بھٹہ صاحب نے بائیں بازو کے زندگی بھر تجربے کے بعد نئی کروٹ لینے کا شعوری اور درست فیصلہ کیا ہے۔ ایک مقام پر کھڑے رہ کر وقت گذارتے رہنا زندگی نہیں۔ قدامت پسندی مذہب کی دنیا میں بھی اسی طرح بری ہے جس طرح انسانی زندگی کے اور شعبوں میں۔ اس سے انسانی انا کی قوت تخلیق تباہ ہو جاتی ہے اور نئے نئے روحانی تجربوں کا راستہ مسدود کر دیتی ہے۔ بھٹہ صاحب متحرک فکر کے شخص ہیں وہ زندگی کو ماضی کی زنجیروں میں جکڑے رکھنے کی بجائے اپنے زمانے کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے والے بیدار ذہن کے مالک ہیں۔ میں نے عرض کیا بھٹہ صاحب کی حالت دیکھ کر کہنا پڑ رہا ہے کہ جب نیکی نفع دینے لگتی ہے تو نفع نیکی پر ہنسنے لگتا ہے۔ میری بات جیسے بھٹہ صاحب کے سینے میں لگی ان کے ساکت جسم میں حرکت پیدا ہوئی اور وہ فوراً گویا ہوئے۔ جو میں نے دیکھا، جو میں نے محسوس کیا، وہ بیان کی طاقت نہیں رکھتا۔ میرا تجربہ باطنی ہے، اس سے میرا اندر روشن ہوا ہے یہ ظاہر کا تجربہ نہیں تھا۔ بس میری پیاس بجھ گئی، قرار آگیا ہے، اطمینان ہوا ہے۔ میرا تجربہ روشنی کی مانند ہے جو نظر آتا ہے بیان نہیں کیا جاسکتا۔میری جدید محبت قدیم ابدی دولت لے کر آئی ہے۔ شیخ صاحب کیا کہوں، وہاں بہت رونق ہے۔ کعبہ میں علم نہیں کیا کشش ہے، بس اس کو دیکھتے رہنے او رمن میں بسا لینے کو دل چاہتا ہے۔ مجھے زندگی میں یہ خواہش نہیں رہی کہ میں بڑا بزرگ، اللہ والا یا صوفی بن جاؤں، مجھے مراتب کی آرزو ہی نہیں۔ میرے خیال میں انسان ہونا بذات خود عظمت کی بات ہے۔ میری بس ایک ہی تمنا رہی کہ میرا رخ مثبت رہے، میں مثبت سوچوں۔ اللہ کی طرف اور اللہ کی مخلوق کی طرف۔ حج کی سعادت سے میری تمنا کو اثبات مل گیا ہے۔ ٹھنڈ پڑ گئی ہے، بولنے کی بجائے چپ رہنے کو جی کرتا ہے۔ میں نے یہی جانا ہے کہ شیطان کے ساز و سامان بہت مہنگے ہیں اور رحمان کے تحفے بے قیمت۔ افتحار بھٹہ بول رہے تھے تو ان کی زبان میں عقیدت و محبت کا ایسا اظہار تھا کہ محفل میں موجود نرم دل پگھلنے لگے۔ بھٹہ صاحب کہنے لگے میں نے خود کو یکجا کر کے دیرینہ خواہش کو تکمیل بخشی اور اپنی رفیقہئ حیات سے پرانا وعدہ نبھایا، وہاں پہنچا تو جلال دیکھ کر کرچی کرچی ہو گیا، میں نے عرض کیا حضور، پھولوں کی پتیاں بکھرتی ہیں، تو پھل ملتا ہے۔ بھٹہ صاحب نے ایک بار پھر سکوت کو توڑا اور کہا میں نے محسوس کیا کہ خدا منتظر ہے کہ اس کا معبد محبت سے تعمیر ہو، لیکن لوگ پتھر لے کر آتے ہیں۔ میری مخلوق خدا سے محبت اس کی خدمت اور انسان کی عظمت کے نظریے کو مزید تقویت ملی ہے۔ میں سنجیدگی سے افتخار بھٹہ کے روحانی تجربے کو سن ہی نہیں رہا تھا محسوس کرنے کی سعی بھی کر رہا تھا۔ مجھے لگا جو انسانی ذات کی قدر و قیمت جانتا ہے اس کے نزدیک سچ یہ ہے کہ انسان، خدا کے غیر متبدل مقاصد کے بروئے کار آنے میں ممدو معاون بن جائے اور موجودات عالم پر قدرت حاصل کر کے اس سے نئی نئی تخلیق، خدا اور بندے کی مشترکہ ذمہ داری قرار دے، اس سے زندگی اپنی انتہائی بلندیوں تک پہنچ جائے گی۔ سچا مذہب اور نظریہ صرف وہی ہے جو خدا اور بندے میں عمل تخلیق و اشتراک سے رفاقت و تعاون کا تعلق پیدا کر دے اور وحدت مقصد کی بنا پر تمام انسان ایک ہی نظام کے پرزے اور ایک ہی کل کے جزو بن جائیں۔ میرا خیال ہے کہ مذہب صرف خیال کرنے یا محسوس کرنے کی چیز نہیں، یہ تو انسانی زندگی سے مشہود کرنے کی چیز ہے۔ افتخار بھٹہ کے لیے حج کا سفر روحانی تجربہ ثابت ہوا، اس تجربہ نے انہیں انسانیت کی کئی جہتوں سے آشنا کیا۔ میرے ساتھی ان کے اس تجربے کے حوالے سے منطقی انداز میں سوال پر سوال کر رہے تھے مگر افتحار بھٹہ ٹھہر ٹھہر کر، نمناک آنکھوں، لرزتے ہونٹوں سے جواب دیتے اور پھر چپ ہو جاتے کہنے لگے بول نہیں سکتا مگر اس تجربے کو لکھ کر کتابی صورت میں سب کے سامنے پیش کروں گا مجھے اس کتاب کا شدت سے انتظار رہے گا تاہم اس نشست میں مجھے یہ بات سمجھ آگئی کہ ٹیگور نے کیوں لکھا تھا کہ ”ستارے نے کہا ”مجھے اپنا دیا جلانے دو، یہ بحث نہ کرو کہ اس سے اندھیرا دور ہو گا کہ نہیں“۔ 

ہفتہ، 8 نومبر، 2014

قوم کو جس سے شفا ہو، وہ دوا کون سی ہے


نظر آتے نہیں بے پردہ حقائق ان کو 
آنکھ جن کی ہوئی محکومی و تقلید سے کور 

عالم اسلام کے عصری و فکری منظر نامے پر جن مفکرین کے نام جگمگا رہے ہیں ان میں علامہ محمد اقبال کو مقام ناموری اور مسند امتیاز حاصل ہے۔ وہ ایک ایسی درخشاں و دانشمند فلسفی شخصیت ہیں جنہوں نے سماجِ انسانی میں اسلام کی بازور تہذیب و تمدن کا ہدیہ پیش کیا۔لطیف خیالات، فکری وسعت اور فہم و فراست کے سبب انہیں عظیم مفکرین اور راہنماؤں میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ شاعرانہ حسن تخیل اور فلسفیانہ ژرف نگاہی کے حسین امتزاج کا نام اقبال ہے۔ ان کی نظم و نثر کا ہر پہلوان کے جلوہئ ذہانت اور حکیمانہ بصیرت کا مظہر ہے۔اقبال سیاسی بیداری میں بھی بلندیوں پر تھے اور فلسفیانہ علمی تفکر میں بھی اس مقام ارجمند پر فائز ہیں کہ آج مغرب میں انہیں معاصر مفکر و فلسفی کہا جاتا ہے اور برگساں کا ہم پلہ سمجھا جاتا ہے۔ مسلمان دانشور انہیں اسلامی معاشرے کا ایک مصلح کہتے اورسمجھتے ہیں۔ ایسا مصلح جو نہ صرف مسلم معاشرے بلکہ سارے انسانی سماج اور خود اس معاشرے کی حالت پر جس میں وہ خود زندگی بسر کر رہا ہو، غور فکر کرتا اور اس کی نجات و بیداری اور آزادی کے لیے کوشا ں ہو۔ علامہ اقبال وہ نابغہ روزگار تھے جنکی مسیحا نفسی نے برصغیر کے مسلمانوں میں زندگی کی ایک نئی لہر دوڑا کر ان کی علمی خود داری کو بیدا ر کیا۔ 
اقبال تاریخ اسلام کے ایک ایسے موڑ پر اُبھر کر سامنے آئے جب مسلمان غلامی و انحطاط کے بعد پھر آزاد قوم بن کر اُبھرنے والے تھے اورانہیں تعمیر مستقبل کی ذمہ داریوں کے سنجیدہ چیلنجوں کا سامنا تھا۔ان چیلنجوں کی کوکھ سے کئی سوالات نے جنم لیا۔فکر اقبال درحقیقت انہی سوالوں کے جواب کی سعی کا نام ہے۔ ان کی ذات میں برصغیر پاک و ہند کی ملت اسلامیہ کی تاریخِ آزادی کے وہ سارے تقاضے مرتکز ہو گئے تھے جو شاہ ولی اللہ ؒکے دور سے بیسویں صدی کے اوائل تک کے زمانے پر محیط تھے۔ 1933ء میں ادارہئ معارف اسلامیہ کے پہلے اجلاس منعقدہ ہیلی ہال پنجاب یونیورسٹی میں خطبہ صدارت دیتے ہوئے علامہ اقبال نے کہا تھا کہ ”وقت کا تقاضا ہے کہ اب ہم فقہی جزئیات کی چھان بین کی بجائے ان اہم شعبہئ ہائے علم کی طرف متوجہ ہوں جو ہنوز محتاج تحقیق ہیں۔ ریاضیات، عمرانیات، طب اور طبیعات میں مسلمانوں کے شاندار کارنامے اب تک دنیا کے مختلف کتب خانوں میں مستور و پنہاں ہیں جن کے احیاء کی سخت ضرورت ہے۔“اقبال کہتے ہیں 

دیار عشق میں اپنا مقام پیدا کر
نیا زمانہ ہے نئے صبح و شام پیدا کر
پھر مزید راہنمائی کرتے ہیں کہ:

ہے وہی تیرے زمانے کا امام برحق
جو تجھے حاضر و موجود سے بیزار کرے
موت کے آئینے میں تجھ کو دکھا کر رخ دوست
زندگی تیرے لیے اور بھی دشوار کرے 

آج پاکستان کے مذہبی و معاشرتی اور سیاسی و اقتصادی حالات ہر درد مندمحب وطن کے لیے لمحہ فکریہ ہیں۔ پاکستان کی ریاست، نظام حکومت اور معاشرت طرح طرح کے سوالوں کی زد میں ہے۔ ہم تاریخ کے نازک موڑ پر کھڑے ہیں، ایسے زمانوں میں حقائق دھندلا جاتے ہیں، عوام اور راہنماؤں کے ہاتھ سے توازن کی ڈور چھوٹ جاتی ہے۔ ارتقاء کا چلن ایسا کٹھور ہے کہ جو اقوام اپنی ناک سے آگے نہ دیکھ پائیں انہیں دوسری غلطی کا موقع نہیں ملتا، لمحوں کی خطا صدیوں کی سزا وار ٹھہرتی ہے۔ لہٰذا احوال حیات میں انقلاب بپا کرنے کیلئے ہمیں میدان کار ِ زار میں اترنا ہو گا۔ ایسے میں فکری راہنمائی کے لیے ہمیں ایکبار پھر فکرِ اقبال کی روشنی درکا ر ہے کیونکہ جنوبی ایشیاء میں مسلمانوں کی سیاسی بیداری کا سب سے منور باب اقبال ہی ہے اور ان کی شاعری اور فکرکی چھاپ ہمارے ادب،ہماری ثقافت اور ہماری سیاست پر بہت گہری ہے۔ یہ امر بھی خوش آئند ہے کہ عہد جدید کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے اقبالیات بھی نئی انگڑائی لے رہی ہے۔ محمد سہیل عمر کے الفاظ میں ”اب اقبالیات بھی مستعار اقدار اور مانگے تانگے کے مسائل سامنے رکھ کر فکر اقبال میں سے ان کا معذرت خواہا نہ جواب ڈھونڈنے یا نیم فخریہ تقابل کرنے کے انفعالی رویے سے باہر نکلتی نظر آتی ہے۔ دوسرے شعبہ ہائے علوم کی طرح اس میں بھی اپنی راہ خود نکالنے اور اپنے مسائل خود متعین کرنے کی آرزو جنم لے رہی ہے اور ماضی میں اس کے فکری رویوں پر نظر کرتے ہوئے یہ تبدیلی خوش آئند اور مستقبل میں روشن امکانات کی اُمید کہی جا سکتی ہے“۔ روحِ عصر سے ہم آہنگ ہوتی ہوئی یہ فکر اقبال ہی ہماری اُمید ہے۔ علامہ نے ہی ہماری سوچ، ہمارے تہذیبی رویوں اور ہماری دینی تعبیرات اور سماجی و سیاسی فکر ی تناظر کو ایک نئی تعبیر فراہم کی ہے، یہی وجہ ہے ان کی معنویت ان کی زندگی میں بھی تھی، آج بھی ہے اورکل بھی رہے گی۔ علامہ اقبال ایک بصیر دانشور تھے، بصیرت تاریخ ساز ہوتی ہے۔ ایسے دانشور کے طرزِ فکر میں ایسے راز و نکات پوشیدہ ہوتے ہیں جوقوم کی راہنمائی میں سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ قوم کسی بصیر دانشور کی فکری بنیاد سے آگاہ ہو اور اس پر عمل پیرا ہونے کے لیے ٹھوس لائحہ عمل بنانے میں کامیاب ہو جائے تو وقت کا دھارا بدل جاتا ہے۔
مفکر پاکستان نے ہماری سوچ، ہمارے تہذیبی رویوں اور ہماری دینی تعبیرات، سیاسی اور سماجی فکر ی تناظر کوایک نئی تعبیر فراہم کی اور برادران ملت کو اس طریقہ کار سے آگاہ کیا جس کے ذریعے ان کے اسلاف قرون اولیٰ میں اپنے مسائل کا حل ڈھونڈا کرتے تھے۔ اجتہادی تجربات کو سامنے رکھ کر ہم ان مسائل کا حل دریافت کر سکتے ہیں جو عہدِ حاضر نے ہمارے سامنے رکھ دیئے ہیں۔ علامہ ا قبال نے تحریک پاکستان کو فکری و جذباتی بنیادیں فراہم کی تھیں، حصولِ پاکستان کے بعد ہمیں تعمیر پاکستان کے لیے فکر اقبال کو نئے سرے سے تلاش کرنے کی ضرورت تھی مگر ہم ایسا نہ کر سکے، اسی لیے ہم حقیقی پاکستان کی منزل مراد پر پہنچنے کی بجائے بھٹکتے رہے ہیں۔ آج حالات نئی کروٹ لے رہے ہیں، دوراہے پر کھڑی ریاست اور قوم کے لیے ضروری ہو گیا ہے کہ وہ اپنے مسائل کی تفہیم کے لیے فکر اقبال سے استفادہ کرے۔
فکری کشمکش اور ذہنی انتشار کے اس دور میں بحیثیت قوم ہم جن مسائل کاشکار ہیں ان میں ریاست،حکومت اور جمہوریت کے حوالے سے عصری مسائل کی تعبیر نو سب سے نمایاں ہے۔ قیام پاکستان کے بعد ضروری تھا کہ دانشورانِ قوم علامہ اقبال کے افکار کی ترجیحات کو از سر نو ترتیب دیتے اور ریاستی اُمور، حکومتی معا ملات اور معاشرتی اداروں کے حوالے سے مصورِپاکستان کے افکار کو اوّلین ترجیح دیتے اور انکی بنیاد پر اجتہاد کرتے، لیکن یہاں تو ساری قوم تحریک پاکستان کے متعلق پیام اقبال کے سحر میں مسحور ہو کر رہ گئی اور تعمیر پاکستان کے متعلق پیغام اقبال پر توجہ نہ دے سکی۔ مفکر ِپاکستان ہمہ جہت شخصیت اور کثیر الجہات نظریات کے مالک تھے، اُنہوں نے علم و فضل سے فکر اسلامی کے ارتقاء کو جمود سے بچانے کی شعوری سعی کی اور مسلمانوں کے معاشرتی و سیا سی نظام کو روح عصر کے تقاضوں کا سامنا کرنے کے قابل بنانے اور تضادات سے بچانے کی فکری جدوجہد کی۔ علامہ تخیل پسند نہیں بلکہ حقیقت پسند تھے اور عقلیت پسندی کے حامی بھی، بلندپایہئ شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک فلسفیانہ نظام رکھنے والے مفکر بھی تھے۔اسی لیے انہیں اس امر کا شدت سے احساس تھا کہ معاشرے کو متحرک رکھنے کے لیے ہر دم تازہ افکار و خیالات کی ضرورت رہتی ہے۔ آج بھی ریاست پاکستان کی بقا اور ترقی کا انحصار فکرِ اقبال کی جرأتمندانہ، دیانتدارانہ اور مجتہدانہ تعبیرپر منحصر ہے۔ 

قوم کو جس سے شفا ہو، وہ دوا کون سی ہے 
یہ چمن جس سے ہرا ہو، وہ صبا کون سی ہے 
قافلہ جس سے رواں ہو سوئے منزل اپنا 
ناقہ وہ کیا ہے، وہ آواز درا کون سی ہے 

جمعرات، 6 نومبر، 2014

نظام عدل و مساوات ہے نظام حسین


مجھ سے کہتی ہیں ستاروں کی ضیائیں ساغر
ایک بار اور زمانے میں حسین آئے گا 
پھر کہیں وقت کے زنداں کا فسوں ٹوٹے گا 
تب کہیں گردش ایام کو چین آئے گا 

محرم الحرام کا آغاز ہوتے ہی ملت اسلامیہ کا غم تازہ ہو جاتا ہے۔ہر وہ شخص جسے نبی رحمتؐ سے محبت اور اہل بیت سے تعلق ہے، ممکن نہیں کہ کربلا کی صبح قیامت اور عاشورہ کی بھیانک رات کی یاد اسے نہ تڑپائے۔ کوئی دل ایسا نہیں جو نواسہ رسولؐ کی شہادت عظیم پر نہ دُکھے، کوئی آنکھ اس پر آنسو بہائے بغیر نہیں رہ سکتی، کوئی باشعور اظہار غم کے بغیر نہیں رہ سکتا۔ ماہ محرم ہر سال کربلا کے غموں کی یاد ساتھ لے کر آتا ہے اس لیے گریہ و زاری، نالہ و ماتم فطری سچائی ہے۔ بلا شبہ امام عالی مقام اور ان کی عظیم قربانی کی یاد میں مجالس اور محافل کا اہتمام کرنا کار خیر ہے کیونکہ ان محفلوں کے ذریعے شہدائے کربلا کے فلسفہئ حیات و شہادت کی یاد دہانی کرانا مقصود ہے اور ان کے نقش قدم پر چلنے کی امنگ کو پیدا کرنا ہے۔  
تیرے لہو کی ہر اک بوند کہہ رہی ہے 
کہ تیرا خون کبھی رائیگاں نہ جائے گا 
جلائیں عزم و یقیں کی جو مشعلیں تو نے 
انہیں یزید کوئی بھی بجھا نہ پائے گا
حضرت امام حسینؓ کی اپنی زندگی عزم و استقلال، صبر و ثبات اور خیر وبرکت کا ایسا نمونہ تھی کہ وہ زندگی کے جس جس راستے سے گذرے اپنے پیچھے آنے والوں کے لیے روشنی کی کہکشاں چھوڑ گئے،پھر ان کی شہادت تو خود اسلام کی حیات ثانیہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ حضرت امام حسین ؓ نے جس مقصد کے لیے اور جس آن کے ساتھ اپنی جان جانِ آفریں کے سپرد کی اس کی مثال تاریخ عالم میں نہیں ملتی۔ اسی لیے شہدائے کربلا کا تذکرہ ہمیشہ خون میں ڈوبے ہوئے الفاظ اور نمناک آنکھوں سے کیا جاتا ہے۔ لیکن اس مقام پر ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ نالہ و ماتم اور آہ و بکا کس لیے ……؟ کیا امام عالی مقام نے ساتھیوں سمیت جانِ عزیز کی قربانی دے کر یہی سبق دیا تھا کہ ہم ہر سال چند روز سوگ منا کر، اہلِ بیت رسولؐ کے ساتھ عقیدت و محبت کا اظہار کریں یا پھر کربلا متقاضی ہے کہ مسلمانان عالم شہدائے کربلا کے نقش قدم پر چل کر حق کے لیے سینہ سپر رہیں اور باطل کو قدم نہ جمانے دیں۔ جیسا کہ پہلے عرض کیا کہ واقعہ کربلا پر اظہارِ غم فطری ہے لیکن یہ اظہار عقیدت محض ذاتی اور شخصی نوعیت کا ہے تو اس کی زیادہ اہمیت نہیں بلکہ کربلا کی تاریخ حق کی علمبرداری کے دعوے داروں سے کچھ اور تقاضا کر رہی ہے۔ سیدنا امام حسین ؓ  عظیم انسانی اقدار اور دینی قوت کے تحفظ کے لیے میدان کربلا میں جلوہ افروز ہوئے اور اپنی، اپنی اولاد اور ساتھیوں کی جانیں قربان کر کے حق کی اس جدوجہد کو جاوداں بنا گئے۔ سمجھنے کی بات یہ ہے کہ حضرت امام حسین کی شہادت کوئی شخصی واقعہ نہیں بلکہ شہادت حسینؓ اسلام کی اصل حقیقت ہے۔  
غریب و سادہ و رنگیں ہے داستانِ حرم 
نہایت اس کی حسینؓ، ابتدا ہے اسماعیل
واقعہ کربلا کی یاد تازہ کرنے کے ساتھ ساتھ، میرے خیال میں حضرت امام حسین ؓ کو سمجھنے کی زیادہ ضرورت ہے، وہ کیا تھے؟ کیوں لڑے اور کیوں شہید ہوئے؟ میرا خیال ہے کہ حسین شعور و آگہی کا نقش جادواں ہے، حسین ؓ حقیقتوں کا ایسا سیل بے کراں ہے جو مصلحتوں کے سارے خار و خس بہا کے لیے گیا، حسین ؓ اصولوں کا نام ہے، انصاف کا نام ہے، ظالم کے خلاف جہاد او رمظلوم کی قربانی کا نام ہے۔ اسوہئ حسین ؓ ہمیں سچائی اور نیکی کی منزل کا پتہ دیتا ہے اور دنیاوی مصلحتوں اور جاہ و حشم کی خاطر اصولوں سے روگردانی سے باز رکھتا ہے۔ محرم کا مہینہ ہمیں خود احتسابی کی دعوت دینے آتا ہے کہ کیا ہم نے شہادت امام عالی مقام سے استفادہ کیا ہے، کیا ہم نے حق و صداقت اور عدل و انصاف کو اپنی روز مرہ زندگی کا حصہ بنایا ہے، قومی اور اجتماعی زندگی میں ہم کہاں تک ضمیر کی آواز پر لبیک کہتے ہیں؟ اگر ہم اسوہئ حسینی پر عمل پیرا ہوتے تو کیا سماجی انصاف سے محروم ہوتے، سیاسی طور پر یتیم، معاشی طو ر پر محروم اور اخلاقی طور پر دیوالیہ ہوتے؟ اگر ہماری تاریخ میں کربلا کا واقعہ حقیقی معنوں میں ’زندہ‘ ہوتا تو کیا آج ہمارے ہاں، جبر و ستم کا رواج ہوتا،یا قبضہ مافیا کا راج ہوتا، مظلوم انصاف سے محروم اور ظالم مقتدر ہوتے؟ اگر حضرت امام حسین ؓکی سچ کے لیے شہادت کا پیغام ہم میں رائج ہوتا تو کیاہماری حیات مصلحتوں سے آلودہ ہوتی۔ امام عالی مقام کی شہادت کا چراغ صراط مستقیم کی مانند ہمارے لیے روشن ہے مگر ہم تو راہ بھٹکے ہوئے لوگ ہیں۔ہم نے دین اور روح دین کو بھی رسوم اور روایات کی بھینٹ چڑھا دیا ہے۔ شخصیت پرستی کا رواج عام ہو جائے تو درس کربلا کسے یاد رہ سکتا ہے۔ سید الشہداء نے کوفہ جاتے ہوئے راستے میں ”بیضہ“ کے مقام پر جو خطبہ دیا اس میں یہ بھی فرمایا کہ ”……میں حق بجانب ہوں کہ مجھے غیرت آئے۔ اور میں ان کی سرکشی اور بغاوت کو حق و عدل سے بدلنے کی کوشش کروں۔ وقت آگیا ہے کہ مومن حق کی راہ میں جان قربان کرنے کے لیے تیار ہو جائے۔ میں شہادت کی موت چاہتا ہوں، ظالموں کے ساتھ زندہ رہنا خود بہت بڑا جرم ہے۔ میری ذات تم لوگوں کے لیے نمونہ ہے“ اس خطبے کی گونج آج بھی موجود ہے اور ہمیں غیرت دلا رہی ہے اور ان مراحل سے گذرنے کی دعوت بھی دے رہی ہے جن سے شہدائے کربلا گذرے۔ کربلا میں جب چراغ گل کر کے جانے کی اجازت دی گئی تو بنو عقیل، مسلم بن عوسجہ، سعد بن عبداللہ حنفی، زہیر بن قیس و دیگر اٹھے اور مشن حسینؓ کا ساتھ دینے کا برملا اور جرأتمندانہ اعلان کیا۔ آج بھی پیغام حسین گونج رہا ہے  مگر عقیدت و محبت کے شور میں کوئی اس پیغام کربلا پر کان دھرنے کی جرات نہیں کر رہا۔ آج وطن عزیز اور ملت اسلامیہ کی حالت زار کے تناظر میں محرم کے قیامت خیز شب و روز ہم سے انہی جذبات، عزائم اور فدا کاری و جاں نثاری کا تقاضا کر رہے ہیں۔ روح عصر مطالبہ کر رہی ہے کہ ہم حسینی مشن کی تکمیل کے لیے کربلا کے سبق کو یاد کریں، دہرائیں اور اس پر عمل پیرا ہوں ہمیں یہ یاد بھی رکھنا ہے اور اس پر تدبر بھی کرنا ہے کہ محض نالہ و فغاں اور اظہارِ غم فدا کاری اور جاں نثاری کا بدل نہیں ہو سکتے۔ محبت حسین ؓ شعور حسینی کو عام کرنے کا تقاضا کر رہی ہے۔ حضرت امام حسین ؓ سے عقیدت و محبت کا حق وہی لوگ ادا کرتے ہیں اور کر سکتے ہیں جو سرفروشی اور جاں نثاری کے جذبات سے سرشار ہو کر اللہ کی راہ میں سب کچھ قربان کرنے کو ہی اپنی سعادت سمجھتے ہیں۔  
گماں تک نہ دلائے جو رخ بدلنے کا 
حسین ؓ نام ہے اس آرزو میں ڈھلنے کا 
کربلا میں شہداء نے انسانیت، حریت، آزادی اور ضمیر کی قوت کو نئے معنی بخشے۔ جب تک انسانیت سسکتی رہے گی، مظلوم انصاف سے محروم رہیں گے، ضمیر آزاد نہیں ہوں گے، حقیقی معنوں میں حریت کا چراغ روشن نہیں ہو گا، تب تک کربلا کا مشن جاری رہے گا اور ہمیں مشن حسینی میں اپنا حصہ ڈالنے کی دعوت دیتا رہے گا۔ کربلا میں حق و باطل کے دو نظریوں کا ٹکراؤ ہوا تھا۔ کربلا عظمت انسانی اور ظلم کے درمیاں نمایاں لکیر کا نام ہے۔ کربلا کی داستاں ہمیں درس دے رہی ہے کہ اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد۔ آئیے اسوہ حسینی کو مشعل راہ بنا کر انسانیت کی جنگ میں وقت کے یزیدوں کے سامنے سینہ سپر ہو جائیں، عدل و انصاف ہی عظمت انسانی کی کلید ہے۔  
جیو خدا کے لیے اور مرو خدا کے لیے  
حسین والو سنو ہے یہی پیام حسینؓ 
یہی ہے دین محمدؐ، یہی صراط ہدیٰ

نظام عدل و مساوات ہے نظام حسینؓ 

بدھ، 5 نومبر، 2014

خانصاحب پروفیسر قاضی فضلِ حق


برصغیر پاک و ہند کے ممتاز ماہر لسانیات، نامور محقق، مؤرخ اور بلند پایہ ادیب خانصاحب پروفیسر قاضی فضل حق کا شمار فارسی، عربی، اردو اور پنجابی زبانوں کے اکابر اساتذہ میں ہوتا ہے  ان کا تعلق خطہ یونان کی شہرت رکھنے والی سرزمین گجرات سے تھا۔ حکومت پنجاب کی ایک پرانی سول لسٹ کے مطابق تحصیل گجرات کے تھانہ کڑیانوالہ کے گاؤں حاجی والہ میں اگست 1887ء کو قاضی محمد دین کے ہاں پیدا ہوئے۔ قاضی محمد دین آبائی زمین کی کاشتکاری کے ساتھ ساتھ خاندانی روایت کے مطابق دینی و دنیاوی علوم کی تدریس بھی فی سبیل اللہ کرتے تھے۔ قاضی فضل حق کے آباء و اجداد مغلیہ عہد سے قاضی، امام، استاد، فقہیہ، مفتی، عارف و طبیب چلے آرہے تھے۔ خانصاحب کے اسلاف میں چھٹی پشت میں مشہور بزرگ حافظ جان محمد حاجی والہ میں گذرے ہیں وہ اورنگزیب عالمگیر کے معاصر تھے اور 90 سال کی عمر میں محمد شاہی عہد میں 1200ھ میں وفات پائی۔ و ہ پنجابی او راردو کے مسلمہ شاعر تھے۔ حافظ برخواردار نے قصہ یوسف زلیخا اور میاں محمد بخش نے سیف الملوک و بدیع الجمال میں قدیم شعراء کے ضمنی ذکر میں جان محمد کا تذکرہ کیا۔ قاضی فضل حق کے پڑدادا حافظ غلام احمد اور دادا قاضی علی احمد بھی اپنے عہد کے مشہور علماء کے طور پر جانے جاتے تھے۔ خانصاحب نے ابتدائی تعلیم حاجی والہ، پھانبڑہ، دہدرا، چک میراں، ملکی، اعوان شریف اور نواحی دیہات میں مقیم اپنے بزرگوں سے حاصل کی۔ پرائمری تعلیم کے بعد مڈل جلالپورجٹاں کے مشن سکول سے پاس کیا بعد ازاں میٹرک کے امتحان میں امتیازی نمبروں سے اسی سکول سے کامیابی حاصل کی۔ ان کے والد اپنے ہونہار بیٹے کو پٹواری بنانا چاہتے تھے مگر ان کے سکول کے استاد مولوی نیک عالم نے ان کی ذہانت و محنت دیکھ کر انہیں مزید تعلیم کے لیے لاہور جانے کا مشورہ دیا۔ قاضی صاحب کی اپنی خواہش بھی یہی تھی چنانچہ وہ پڑھنے کے لیے لاہور چلے گئے اور وہاں اسلامیہ کالج لاہور میں داخلہ لے لیا۔ میٹرک میں امتیازی نمبروں کے سبب انہیں وظیفہ بھی مل گیا۔ انٹرمیڈیٹ کے بعد اسی کالج سے انہوں نے دسمبر 1909ء میں پنجاب یونیورسٹی کا بی اے کا امتحان پاس کیا۔ 1912ء میں جامعہ پنجاب سے ایم اے عربی کی ڈگری حاصل کی۔ نیز اسی جامعہ سے فارسی میں منشی فاضل کا امتحان بھی پاس کر لیا۔ ایم اے عربی میں نمایاں حیثیت میں کامیابی پر انہیں میکلوڈ عریبک ریسرچ سکالر شپ ملا اور 1912ء میں عربی زبان و ادب پر تحقیق کے لیے بحیثیت ریسرچ ایسوسی ایٹ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ چلے گئے وہاں اس وقت جرمنی کے مشہور محقق  Dr. Juseph Horovitz موجود تھے انکی نگرانی میں عربی زبان و ادب پر تحقیق کی۔ اس دوران آپ نے عربی، عبرانی اور آسوری ادب کا مطالعہ بھی کیا۔ اس حوالے سے مغربی علماء و فضلاء کی دانش و تحقیق سے مستفید ہونے کے لیے جرمن اور فرانسیسی زبانوں کو سیکھ کر عبور حاصل کیا۔ اس دور میں عریبک سوسائٹی علی گڑھ سے منسلک صدر الدین اور محمد اکبر عادل سے بھی مراسم قائم ہوئے دونوں بعد میں کالج کے پرنسپل بھی بنے۔ جولائی 1913ء میں انہوں نے پراونشل ایجوکیشنل سروسز یعنی (P.E.S) کا امتحان پاس کیا اور پھر گورنمنٹ کالج راجشاہی (بنگال) میں عربی، فارسی اور اردو کے لیکچرر تعینات ہو گئے۔ اسی دور میں قاضی صاحب رائل ایشیاٹک سوسائٹی لندن کے ممبر منتخب ہوئے اور سوسائٹی کی طرف سے انہیں M.R.A.S (London) کا اعزاز دیا گیا۔ انہی دنوں آپ بنگال ایشیاٹک سوسائٹی کے رکن بھی بن گئے۔ بنگال میں قیام کے دوران ان کے خاص حلقہ احباب میں سر بذل الرحمن، سابق ڈائریکٹر پبلک انسٹرکٹر آسام  محمد عطاء الرحمن، سابق صدر شعبہئ فارسی ناگپور یونیورسٹی، ایم اے غنی اور ٹی اے عالم شامل تھے قاضی صاحب کے پوتے رجل حق محمود کے مطابق اس دوستی کی ایک وجہ علم و ادب کے مشترکہ مشاغل تھے تو دوسری وجہ ٹینس کا کھیل بھی تھا جس کے قاضی فضل حق اچھے کھلاڑی تھے۔ راجشاہی کالج کے قیام میں ہی انہوں نے بنگال میں قلمی کتابیں فروخت کرنے والوں سے عربی، فارسی، اردو، پنجابی کے بہت سے نایاب اور قیمتی قلمی نسخے خریدے تھے۔  
اس زمانے میں گورنمنٹ کالج لاہور میں فارسی کے جزوقتی استاد ہوا کرتے تھے۔ بیسویں صدی کے دوسرے عشرے کے شروع میں ہی کالج کے پرنسپل J. Stephenson نے باقاعدہ لیکچرر کی کمی کا احساس کرتے ہوئے دسمبر 1914ء میں قاضی فضل حق کو گورنمنٹ کالج لاہور میں فارسی کا پہلا مستقل لیکچرر متعین کیا۔ اس طرح وہ گورنمنٹ کالج  لاہور میں فارسی، عربی اور اردو کے استاد مقرر ہوئے۔ و ہ گورنمنٹ کالج لاہور میں فارسی کے پہلے باقاعدہ صدر شعبہئ بھی ہوئے اور 25 سال تک صدر شعبہئ رہے۔ گورنمنٹ کالج میں آپ کی تنخواہ کا ایک خاص گریڈ تھا جس کے مطابق صرف آپ کو تنخواہ ملی اور قاضی صاحب کے بعد یہ گریڈ ختم کر دیا گیا۔ پروفیسر قاضی فضل حق کالج سے مختلف انتظامی حیثیتوں سے بھی وابستہ رہے، ایک مرتبہ انہیں غیر مقامی کالج میں بطور پرنسپل بھی تعینات کیا گیا  مگر انہوں نے بطور استاد کام کرنے کو ترجیح دیتے ہوئے یہ پیش کش ٹھکرا دی، لاہور آنے کے بعد قاضی صاحب پنجاب ہسٹاریکل سوسائٹی کے رکن منتخب ہوئے۔ سوسائٹی کے ایک اجلاس میں پنڈت ہری کشن کول نے ایک مضمون ”نادر شاہ کی وار“ پڑھا جسے سن کر قاضی کو ”چٹھیاں دی وار“ مرتب کرنے کا خیال آیا۔ انہوں نے دور دراز دیہاتوں کا سفر کر کے اسے جمع کرنے کی سعی کی۔ اسی تلاش میں انہیں اپنے چچا قاضی نور الدین مرحوم کے کتب خانے سے شکستہ حالت میں وار کا ایک قلمی نسخہ مل گیا جس کے متن پر عالمانہ عرق ریزی کے بعد اس حوالے سے ایک انگریزی مضمون ”چٹھیاں دی پوڑی“ کے نام سے لکھا اور اسے 14 دسمبر 1916ء کو پنجاب ہسٹاریکل سوسائٹی لاہور کے اجلاس میں پڑھ کر اس وار کا اہل علم سے پہلی بار بھرپور تعارف کروایا۔
1917ء میں قاضی فضل حق وائسرائے ہند کے مامور کرنے پر ریاست بیکانیر بطور شاہی مہمان گئے۔ ریاست بیکانیر کے مہاراجے کی جانشینی کا مسئلہ در پیش تھا اس سلسلے میں مہاراجہ کے باپ کی وصیت قدیم فارسی اور شکستہ خط میں تھی اور برصغیر کے بڑے بڑے عالم اسے نہ پڑھ سکے تھے۔ پروفیسر قاضی فضل حق نے کمال مہارت سے یہ فریضہ بخوبی سر انجام دیا تو مہاراجہ نے ان کی بڑی قدر کی۔ 
گورنمنٹ کالج لاہور میں ملازمت کے ساتھ ہی کچھ عرصہ بعد قاضی صاحب پنجاب یونیورسٹی میں بھی لیکچر دینے لگے۔ یہ تعلق 1919 سے قبل ہی قائم ہو گیا جو ان کی وفات تک قائم رہا۔ وہ پنجاب یونیورسٹی کے فیلو تھے اور مختلف بورڈز اور فیکلٹیز کے ممبر تھے۔ ان کا پنجاب یونیورسٹی سے تعلق مختلف تعلیمی اور انتظامی حیثیتوں سے رہا۔ وہ اس جامعہ سے میٹرک، بی اے (آنرز) اور ایم اے کے ممتحن کی حیثیت سے بھی وابستہ رہے۔ قاضی صاحب بطور ممتحن بہار، بنگال، آسام، دہلی، علی گڑھ، الہٰ آباد، میسور اور حیدر آباد دکن کی یونیورسٹیوں کے ساتھ بھی کام کرتے رہے۔ گورنمنٹ کالج لاہور میں ان کی تبحر علمی کے چرچے تھے اور ہر کوئی انہیں محبت و احترام کی نگاہ سے دیکھتا تھا مگر ان کے خاص دوستوں میں پرنسپل پروفیسر گیرٹ، بعد میں پرنسپل بننے والے ڈاکٹر ڈنی کلف، اس وقت کے صدر شعبہئ عربی ڈاکٹر صدر الدین، صدر شعبہئ ہندی و سنسکرت پروفیسر گلبہار سنگھ، پروفیسر قاضی اسلم، پروفیسر احمد شاہ بخاری (پطرس) اور شعبہئ فارسی کے استاد صوفی تبسم شامل تھے۔ قاضی صاحب نصابی و تدریسی سرگرمیوں کے علاوہ ہم نصابی و غیر نصابی سرگرمیوں میں بھی بہت متحرک رہے۔ وہ کالج کی پرشین سوسائٹی کے صدر تھے۔ وہ علمی و ادبی سرگرمیوں کی سوسائٹی بزم سخن کے بھی سربراہ تھے۔ گورنمنٹ کالج کے مجلہ ”راوی“ سے بھی ان کا گہرا تعلق رہا۔ وہ ’راوی‘ کے نگران بھی رہے۔ اپریل 1932ء کے ’راوی‘ کا شمارہ جو ن م راشد کی زیر ادارت شائع ہوا تھا،اس شمارے کو خانصاحب پروفیسر قاضی فضل حق کے نام سے معنون کیا گیا۔بعد میں ”راوی“ کے ایک شمارے میں قاضی صاحب کے لیے خاص گوشہ بھی شائع ہوا۔ ’راوی‘ کا پنجابی حصہ گورمُکھی میں شائع ہوتا تھا،اس کا فارسی رسم الخط میں پنجابی حصہ یعنی شاہ مکھی میں یہ حصہ قاضی صاحب کی کوششوں سے شروع ہوا۔ محترم قاضی صاحب پنجابی سوسائٹی اور اس کی سرگرمیوں میں بھی فعال تھے اور مسلمان طالبعلموں کو پنجابی کی طرف راغب کرنے میں بڑی دلچسپی لیتے تھے۔ ان دنوں گورنمنٹ کالج لاہور میں ہندووں اور سکھوں کی اکثریت ہوتی تھی اور مسلمانوں کو صرف چالیس فیصد نشستیں ملتی تھیں۔ کالج میں مسلمان طلباء کے مفادات کے تحفظ کے لیے پروفیسر قاضی فضل حق کی کاوش سے ”مسلم مجلس“ کا قیام عمل میں آیا۔قاضی صاحب فلاحی کاموں میں بھی خاصی دلچسپی لیتے تھے اور سینٹ جان ایمبولینس سوسائٹی پنجاب برانچ کے عہدیدار تھے ان کی رفاعی خدمات کی وجہ سے گورنر پنجاب نے انہیں کئی اسناد اور اعزازات سے بھی نوازا۔ گورنمنٹ کالج میں بھی ایمبولینس کلب کے نام سے رفاعی سوسائٹی تھی۔ 1930 کے بعد جی سی کے ایمبولینس کلب کے انتظامات کی ذمہ داری بھی قاضی فضل حق کو سونپ دی گئی اور وہ اپنی وفات تک یہ ذمہ داریاں نبھاتے رہے۔ 
1925ء کے آغاز میں ڈاکٹر شانتی سروپ بھٹناگرڈی کی دعوت پر قاضی فضل حق نے سائنسی علوم کی ترویج کے لیے ”سوسائٹی فار پروموٹنگ سائنٹفک نالج (S.P.S) کی رکنیت لے لی۔ اس سوسائٹی کے زیر اہتمام اپریل 1925 میں ڈاکٹر شانتی سروپ کی ادارت میں اردو مجلہ ”روشنی“ شروع ہوا تو پروفیسر قاضی فضل حق اس کے اعزازی جوائنٹ ایڈیٹر مقرر ہوئے۔ پروفیسر قاضی صاحب انڈین اورینٹل کانفرنس کے رکن اور اس کی مجالس کے سرگرم ممبر ہوتے تھے۔ پنجاب یونیورسٹی اورینٹل کالج لاہور اور گورنمنٹ کالج لاہور میں پنجابی زبان و ادب سے متعلق جتنے اجلاس ہوئے قاضی صاحب ان کے منتظم تھے۔ علامہ محمد اقبال کی صدارت میں قائم ہونے والے ادارہئ معارف اسلامیہ کے بانی اراکین میں بھی قاضی فضل حق شامل تھے۔ اپریل 1933 کے پہلے اجلاس کے انعقاد میں بھی قاضی صاحب پیش پیش تھے۔ شیخ عبدالقادر، علامہ عبداللہ یوسف علی، ڈاکٹر بی اے قریشی، حافظ محمود شیرانی، ڈاکٹر محمد اقبال، ڈاکٹر خلیفہ شجاع الدین کے ہمراہ پروفیسر قاضی فضل حق استقبالیہ کمیٹی میں تھے۔ ادارہئ معارف اسلامیہ کے آئندہ اجلاس اپریل 1936ء میں قاضی صاحب نے ”پنجابی علم و ادب میں مسلمانوں کا حصہ“ کے عنوان سے مقالہ پڑھا اور ثابت کیا کہ پنجابی صرف سکھوں کی زبان نہیں بلکہ شروع سے ہی مسلمانوں نے اس زبان کی خدمت کی ہے۔ پروفیسر قاضی فضل حق انجمن حمایت اسلام سے بحیثیت اعزازی چیئرمین تالیف مطبع کمیٹی بھی کام کرتے رہے۔ انجمن کی اسلامیہ کالج کمیٹی کے ممبر تھے اور انجمن کی تعلیمی سرگرمیوں میں حصہ لیتے رہتے تھے۔ اس کے علاوہ پنجاب ایجوکیشنل کانفرنس، پنجاب مسلم ایجوکیشنل کانفرنس اور آل انڈیا مسلم ایجوکیشنل کانفرنس سے بھی ان کا مختلف انتظامی حیثیتوں میں تعلق رہا۔ وہ مسلمانوں کی تعلیم کے لیے بساط بھر کوشاں رہے۔ 
ان کی مطبوعات میں درسی کتب بھی شامل ہیں جن میں (۱) سرگذشت مرد خسیس (۲) سرگذشت حکیم نباتات، (۳) چٹھیاں دی وار، (۴) جٹ دی کرتوت، (۵) فارسی کی پہلی کتاب، (۶) فارسی کی دوسری کتاب (۷) فارسی کی تیسری کتاب، (۸) پرشین میٹریکولیشن گرائمر، (۹) سفینہئ ادب،ان کی زندگی میں ہی شائع ہوئیں۔ اس کے علاوہ ان کے درجنوں تحقیقی مقالے ادبی جرائد میں شائع ہوئے۔ فارسی کے علاوہ انہیں اردو اور پنجابی ادبیات سے بھی گہرا شغف تھا اور وہ ان زبانوں کے ادب کے حوالے سے تا دمِ مرگ مصروف تحقیق رہے۔ ان کی تحریروں کو ان کے بیٹے بذل حق محمود اور پوتے رجل حق محمود نے بڑی تندہی سے جمع کر کے شائع کروایا۔ قاضی فضل کی کتب میں  (۱) مقالات پروفیسر خانصاحب قاضی فضل حق، (۲) سخنواران برصغیر، (۳)پنجابی علم و ادب میں مسلمانوں کا حصہ (۴) سخنوران ایران، (۵) سخن وران ایرانِ نو، (۶)شعراء مثنوی سرا، (۷) روح نوین(۸) ہیست رومان کو چک (۹) نوفرہنگ شائع ہو کر نقادان اور قارئین سے داد و تحسین وصول کر چکی ہیں۔ 
پروفیسر قاضی فضل حق کی تعلیمی، علمی، تحقیقی اور ادبی خدمات اس قدر نمایاں تھیں کہ حکومت ہند کو بھی اس طرف توجہ دینا پڑی چنانچہ یکم جنوری 1933ء کو ہندوستان کی مرکزی حکومت نے ان کی علمی و ادبی خدمات کے اعتراف میں قاضی صاحب کو ”خان صاحب“ کا خطاب دیا۔ اس اعزاز پر ممتاز شاعر حفیظ ہوشیارپوری نے اردو اور فارسی میں قطعات تاریخ کہے تھے۔ مثلاً اردو قطعہ یوں تھا کہ 
خوشا فضل حق ہو گئے خانصاحب
خدا نے کی ہے ان پہ نظر عنایت 
حفیظ انتہائے طرب سے کہو تم 
جہاں میں ہوئے ہیں مشرف بہ عزت 
اس موقع پر تمام ہندوستان سے ان کے دوستوں، مداحوں اور معززین نے انہیں مبارکباد کے سینکڑوں خطوط لکھے۔ جبکہ لاہور کی میونسپل کمیٹی نے گورنمنٹ کالج لاہور کے نزیک جس سڑک پر انکا مکان تھا اس کا نام ”حق سٹریٹ“ رکھ دیا۔  
پروفیسر خانصاحب قاضی فضل حق زندگی بھر علم و ادب کی خدمت کرتے رہے اور ایک مقام ناموری حاصل کیا۔ صرف 52 برس کی عمر میں علیل ہوئے قسمت نے یاوری نہ کی اور مختصر علالت کے بعد ہی 30 جولائی 1939 یعنی 12 جمادی الثانی 1358ھ بروز اتوار لاہور میں انتقال کر گئے۔ مرنے سے قبل ہی انہوں نے وصیت کر رکھی تھی کہ انہیں بعد از وفات ان کے آبائی گاؤں موضع حاجی والہ (نزد کڑیانوالہ ضلع گجرات) میں والد قاضی محمد دین کے پہلو میں سپرد خاک کیا جائے۔ چنانچہ علم و ادب کی دنیا کا درخشندہ ستارہ، پاک و ہند میں اپنے علمی مرتبے کو منوا کر حاجی والہ ضلع گجرات میں آسودہئ خاک ہے۔ 


جمعہ، 24 اکتوبر، 2014

طبلے کا شاعر: میاں نبی بخش کالروی

برصغیر پاک و ہند میں موسیقی کے نامور طبلہ نواز و پنجابی شاعر میاں نبی بخش 1840ء میں گجرات کے نواح میں جی ٹی روڈ پر واقع گاؤں کالرا میں پیدا ہوئے۔ میاں نبی بخش گائک اور مخترع بھی تھے۔ دنیائے موسیقی میں میاں نبی بخش کالرے والے کے نام شے شہرت حاصل کی۔ ان کے ننھیال کا تعلق موسیقی سے تھا اور ان کے گھرانے کے کئی افراد موسیقی سے وابستہ تھے جبکہ کالراپنواں میں ان کا ددھیال زمیندار گھرانہ تھا۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم گاؤں کے سکول سے ہی حاصل کی اور صرف دوجماعت پاس تھے۔ میاں صاحب کے ایک ماموں سارنگی نواز تھے جن سے متاثر ہو کر انہوں نے موسیقی میں دلچسپی لینا شروع کر دی۔ موسیقی سے ان کی گہری دلچسپی دیکھ کر ان کے ماموں نے انہیں موسیقی کی باقاعدہ تعلیم دینا شروع کی۔ شروع میں میاں نبی بخش نے پکھاوج سیکھنے میں زیاد شوق دکھایا مگر بعد ازاں وہ طبلہ بجانے کی طرف راغب ہو گئے۔ طبلہ سیکھنے کے لیے انہوں نے پنجاب گھرانے کے نامور استاد میاں فتح دین کی شاگردی اختیار کی۔ میاں فتح دین نے پکھاوج کو بند ہاتھوں سے بجانے کی روایت ڈالی۔ ان سے پہلے پکھاوج کھلے ہاتھوں سے بجایا جاتا تھا۔ موسیقی کے محقق، استاد،مصنف اور نامور کلاسیکی گائیک استاد بدرالزماں اپنی کتاب ”سرتال“ کے صفحات 437-38 پر میاں نبی بخش کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ”میاں فتح دین کے شاگردوں کی لڑی میں میاں نبی بخش کالرے والے، میاں میراں بخش گل والیے، میاں کرم الہیٰ، بابا بڈھے خاں اور استاد محمد طفیل نارووالیے نے بہت نام پیدا کیا“۔

شہباز علی اپنی کتاب ’سرسنسار‘ میں بیان کرتے ہیں کہ طبلہ نوازی میں پنجاب گھرانہ نمایاں اور منفرد مقام کا حامل ہے۔ میاں نبی بخش نے بھی اپنے استاد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے پنجاب گھرانہ کی طبلہ نوازی کو سجانے اور سنوارنے کا کام جاری رکھا۔ پنجاب گھرانے کا اپنا ایک اچھوتا اسلوب اور قرینہ ہے جو اسے طبلہ نوازی کے دیگر گھرانوں سے ممتاز کرتا ہے۔ اس گھرانے کے طبلہ نوازوں نے طبلے پر گت توڑا، ’پرن‘ یا’ریلا‘ زیادہ بجایا ہے اور یہی پنجاب گھرانے کی نمایاں خصوصیت ہے۔ گجرات کے میاں نبی بخش کو پنجاب کے طبلہ نوازوں نے ’طبلے کا شاعر‘ کا لقب دیا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ جس طرح ایک شاعر دوسرے شاعر سے مختلف ہوتا ہے اور اس میں اختراع کا مادہ ہوتا ہے۔ اسی طرح میاں صاحب نے بھی طبلے میں بہت سی نئی چیزیں اختراع کیں، مثلاً انہوں نے چار اور سات درجے کی گتیں بنائیں، تڑپات گت بنائی جو پہلے موجود نہ تھی، قاعدے اور پیش کاریاں بنائیں۔ ان کے بنائے ہوئے ایک قاعدہ کے بول ملاحظہ ہوں  
دھاتی دھا گھڑ نگ تٹ کٹ
تگ گھڑ نگ تٹ نگ تٹ کٹ               
میاں نبی بخش کالرا نے طبلہ سیکھنے کے بعد سب سے پہلے گجرات میں موسیقی کی درسگاہ قائم کی جہاں انہوں نے کئی سالوں تک شائقین کو طبلے کی تربیت دی اور پھر امرتسر منتقل ہو گئے اور وہاں موسیقی کی تعلیم کا سلسلہ شروع کر دیا۔ طبلے کی دنیا میں ناموری کمانے والے استاد کریم بخش پیرنہ  امرتسر میں ہی میاں صاحب کے شاگرد ہوئے۔ ان دنوں امرتسر میں سنگیت ساگر استائی بھائی لعل محمد کے نام کا ڈنکا بجتا تھا۔ وہیں دونوں گنی سنگیت کار ’ولی راولی می شناسد‘کے مصداق ایک دوسرے کے بہت قریب ہو گئے۔ امرتسر میں فضل دین، ہدایت و دیگر کو طبلے کی تربیت دی اور چند سالوں بعد ہی واپس گجرات آگئے اور دوبارہ یہیں طبلہ سکھانے لگے۔ گجرات کے مشہور بیرسٹر ایشر داس کا بیٹا ترلوک کپور بھی میاں نبی بخش کا شاگرد تھا۔ میاں صاحب کے نامور شاگرد وں میں استاد اللہ دتہ بہاری پوری، علی بخش ٹانڈے واسیا اور مہندر سنگھ بیدی نمایاں ہیں۔ میاں نبی بخش کالروی باکمال شخص تھے، انہوں نے بہت سے نئے راگ اختراع کرنے کے ساتھ ساتھ مروجہ راگوں کے استھائی انترے بھی تخلیق کیے اور اپنے تخلیق کردہ استھائی انتروں میں لفظ”عبدل“ بطور تخلص استعمال کیا، مثلاً راگ ’شدھ سارنگ“ کے بول دیکھیئے۔ 
استھائی: گاؤ سب گنین گائیں جگت تیرو 
انترا: تو ہی آو تو ہی انت، تیرو ہی سنسار
عبدل کی پربھو راکھو لاج اب 

پاکستان کے تمام بڑے گائکوں کو ان کے بنائے ہوئے استھائی انترے یاد تھے۔ میاں صاحب کے علم موسیقی سے جو نامور گائیک اور ساز نواز مستفید ہوئے ان میں استاد اللہ بخش حضروی، اعجاز حسین حضروی، ماسٹر محمد صادق پنڈی والے معتبر نام ہیں۔ 
کہا جاتا ہے کہ میاں نبی بخش کی اولاد نہیں تھی۔ گاؤں والوں نے ذکر کیا کہ کوئی اجنبی لاوارث بچے کو فروخت کرنے آیا ہے۔ آپ چاہیں تو یہ بچہ پرورش کے لیے آپ کو دے سکتے ہیں میاں صاحب نے اس بے آسرا بچے کو گود لے لیا۔ اس کا نام پیراندتہ چب تھا۔میاں صاحب نے اس کی پرورش اولاد کی طرح کی اور شروع ہی سے طبلے کی تعلیم دینا شروع کی۔ اس نے بھی پور ے ذوق اور شوق سے سیکھا اور محنت و ریاضت کی منزلیں طے کر کے نامور طبلہ نواز بن گیا۔ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میاں صاحب نے کوئی گت تیار کی اور اسے کہا بیٹا یاد کر لو، اس نے جواب میں یہ کہہ کر کہ یہ بھی کوئی گت ہے۔ کوئی دلچسپی ظاہر نہ کی۔ میاں صاحب نے پھر اسے یاد کرنے کو کہا تو اس نے کہا یہ بھی کوئی گت ہے میں اسے کیا یاد کروں۔ میاں نبی بخش نے پھر سمجھایا کہ میں نے یہ گت بڑی محنت سے تیار کی ہے اور میری خواہش ہے کہ تم اسے یاد کر لو، اس نے کہا یہ تو بیکار گت ہے،میرے یاد کرنے کے قابل نہیں۔ اس جواب پر میاں صاحب غصے اور جلال میں آگئے اور کہا بے مراد مجھ سے سیکھ کر، میری ہی بنائی گت کا مذاق اڑاتے ہو، بے مراد رہو، جاؤ تمہارے ہاتھ طبلہ بجانے کے قابل نہیں رہیں گے۔ کہتے ہیں کہ پھر اہل ِگجرات نے  دیکھا کہ استاد کی بدعا کے بعد پیراندتہ چب کا ذہنی توازن خراب ہو گیا وہ طبلہ بجانے کے قابل نہ رہا۔اور سالہا سال گجرات کی سڑکوں پر پاگلوں کی طرح پھرتا رہا۔ آخر کار گاؤں والوں کو رحم آیا اور وہ اسے میاں صاحب کے حضور لے گئے کہ اسے معاف کر دیں۔گاؤں کے لوگوں کے اصرار پر اسے معاف کر دیا گیا او رپھر کچھ عرصہ بعد پیراندتہ چب پھر طبلہ بجانے لگا۔ میاں نبی بخش کا اپنا پنجابی قطعہ ہے کہ 
اللہ، مرشد، پیر استاد دا جس تے ہووے سایا
اس نوں گھاٹا کوئی نہ رہندا مولا نے فرمایا
باج ایہناں دے کوئی نہ چنگا  جو دنیا تے آیا 
جس نے بے پروائی کیتی اس نے گھاٹا پایا 
میاں صاحب اولاد نہ ہونے کی وجہ سے شاگردوں کو ہی اولاد سمجھتے تھے۔ اولاد کی خاطر انہوں نے دو شادیاں کیں لیکن اس نعمت سے محروم رہے۔ ان کے ماموں نے بعد میں انہیں تیسری شادی کے لیے راضی کیا۔ تیسری شادی کے موقع پر ان کے شاگردوں نے استاد کی بیوی کے لیے چالیس تولے سونا بطور نذر پیش کیا۔ اللہ کے فضل سے تیسری بیوی سے ان کے ہاں نرینہ اولاد پیدا ہوئی جس کا نام ارشاد علی رکھا گیا۔ خلیفہ ارشاد علی ریڈیو پاکستان راولپنڈی سے تین عشروں سے زیادہ عرصہ تک وابستہ رہے۔ میاں صاحب طبلہ کے ماہر اور صاحب علم تھے انہوں نے طبلے کے حوالے سے ایک کتاب ”پستک تال برن“ کے عنوان سے لکھی تھی مگر یہ کتاب ان کی زندگی میں شائع نہ ہو سکی اور نہ بعد میں۔ شہباز علی کے مطابق اس کا قلمی نسخہ ان کے بیٹے خلیفہ ارشاد علی کے پاس محفوظ ہے جو راولپنڈی میں رہائش پذیر ہیں۔
میاں نبی بخش کالروی طبلہ نواز ہونے کے ساتھ ساتھ پنجابی زبان میں شعر بھی کہتے تھے۔ پنجابی شاعری میں بھی وہ موسیقی کو ہی موضوع بناتے رہے اور شعروں میں موسیقی ہی کی نزاکت و لطافت اور شیرینی کو بیان کیا۔ ان کی پنجابی شاعری بھی موسیقی سے ان کے قلبی لگاؤ اور روحانی وابستگی کا کھلا اظہار ہے۔ میاں نبی بخش کالروی کہتے ہیں 
گاون کولوں جاہل ڈر دے گاون بڑا خزانہ
حوراں جنت دے وچ گاون رب دا روز ترانہ
اس ہستی وچ سوجھت نئیں جس دے وچ ویرانہ
علم موسیقی دی مس جس نوں اس دا مغز شاہانہ
ای طرح سر اور سنگیت سے لگاؤ کی آفاقیت کو یوں بیان کرتے ہیں  
راجے، سادھ، فقیر شہزادے ہرمن راگ سہاوے  
راگ سریلا، رس دے پتھر دل نوں موم بناوے 
جتھے راگ دا پہرہ ہووے غم چنتا نس جاوے
عشق حقیقی، علم موسیقی دے وچ نظری آوے 
میاں نبی بخش کے آخری سال لاہور میں گذرے، انہوں نے ہیرا منڈی میں ایک بیٹھک کرایہ پر لے کر طبلہ کی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا۔ یہ بیٹھک پہلے استاد برکت علی خاں صاحب کے پاس تھی جہاں وہ خود ریاض کرتے تھے۔زندگی کے آخری دو عشرے میاں نبی بخش نے لاہور میں ہی بسر کیے۔ ان کے ہونہار شاگرد پیراندتہ عرف گھاٹی نے بڑی عقیدت سے انہیں اپنے گھر رکھا۔ آخر کا ان کی طبیعت ناساز رہنے لگی اور وہ سو سال سے زاید کی عمر میں 5 مئی 1948 کو داعی اجل کو لبیک کہہ گئے اور وزیر آباد کے قریب دھونکل میں پیر مراد یا کے مزار کے ساتھ دفن ہوئے۔