‏Sheikh Abdul Rashid لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏Sheikh Abdul Rashid لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

منگل، 7 جولائی، 2015

لفظ جی اُٹھے تو، تو خوف سے مر جائے گا


”پاکستان ایک انوکھا ملک ہے۔ تضادات اور منافقت کا شاہکا ر۔ غیر ملکی حیران ہو جاتا ہے کہ یہ ملک کس دور میں سانس لے رہا ہے۔ بیسویں صدی میں یہ لوگ کیسے کیسے اوہام میں مبتلا ہیں۔ کس طرح کے طرزِ حیات کو اپنائے ہوئے ہیں۔ یہ لوگ جو جہالت اور لا علمی سے فائدہ اُٹھاتے ہیں، نہیں چاہتے کہ اس ملک سے جہالت ختم ہو، لیکن جہالت کے خلاف تقریریں کرتے ہیں، وہ اپنے ملک کے حالات کا شکوہ کرتے ملتے ہیں۔ جبکہ وہ خود یہ چاہتے ہیں کہ یہ انار کی برقرار رہے تاکہ استحصال جاری رہے۔ یہ لوگ فوج کے خلاف باتیں کرتے ہیں لیکن در پردہ وہ فوج کے ساتھ تعاون کر رہے ہوتے ہیں۔“
مذکورہ خیالات80کی دہائی میں پاکستان کے حوالے سے لکھی جانے والی غیر ملکیوں کی کتابوں میں سے مقبول کتاب "Breaking The Curfew:A Political Journey Through Pakistan"سے اخذ ہیں۔ یہ کتاب 1989میں شائع ہوئی جسے آکسفورڈ یونیورسٹی سے سیاسیات اور معاشیات کی اعلیٰ تعلیمافتہ صحافی اور عالمی شہرت یافتہ برطانوی جریدے”اکانومسٹ“ کی نمائندہ ایما ڈنکن نے رقم کیا۔ 1986ءمیں ایما ڈنکن کو اکانومسٹ نے جنوبی ایشیاءمیں اپنی کارسپانڈنٹ مقرر کیا۔اپنی اس کتاب میں اس نے پاکستان میں گذارے آٹھ ماہ کے دوران شب و روز کے مشاہدے، تجربے، تجزیے کو اپنے منفرد انداز میں قلمبند کیا تھا۔ مصنفہ نے بڑی گہرائی سے ہماری سیاست و معاشرت کا جائزہ لیا، ہماری قومی حیات کے بے شمار گوشوں کو تحقیقی و تنقیدی نظرسے پرکھا اور مکمل دیانتداری اور سچائی سے ان حوالوں پر فکر انگیز تبصرہ بھی کیا تھا۔ مسعود اشعر نے اس کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ” ایما ڈنکن نے اپنے عورت اور سفید چمڑی کا ہونے کا پورا فائدہ اُٹھایا، وہ ہر جگہ گئی اور ہر اس شخص سے ملی جو ہماری قومی زندگی میں کوئی حیثیت اور اہمیت رکھتا ہے ۔ عورت ہونے اور سفید چمڑی کا ہونے کی وجہ سے ہر شخص اس کے سامنے ننگا ہو گیا۔ لفظی معنی میں نہیں، اصطلاحی معنی میں۔ ویسے بعض معززین نے لفظی معنی میں ایسا کرنے کی کوشش کی جس کا اس نے کتاب میں بھانڈہ پھوڑ دیا۔ ایما کو عورت ہونے کا ایک اور فائدہ بھی ہوا۔ انسانی شخصیت کو سمجھنے کے لےے عورت کے پاس ایک چھٹی حس بھی ہوتی ہے۔ ہمارے تمام اہم اور قابل ذکر لوگوں کی ذات، شخصیت اور مزاج کے بارے میں ایما نے چند جملوں میں جو تصویر کھینچ دی ہے وہ شاید مرد لکھنے والے پوری کتاب میں بھی نہ کھینچ سکتے۔ ایما نے ہمارے سیاسی و سماجی کرداروں کو ہماری تاریخ کے تناظر میں سمجھنے کی کوشش کی اور اپنی بساط کے مطابق ہمیں سمجھانے کی جرا ¿ت بھی دکھائی۔ کتاب میں تاریخی تناظر اور مباحث میں مصنفہ نے کہیں کہیں ٹھوکر بھی کھائی۔ پاکستان کے قیام کی غایت غیر ملکی مصنفین اور محققین کو سمجھ میں نہیں آ سکتی کہ یہ محض تاریخی عوامل کی پیداوارنہیں بلکہ تاریخ کا حاصل تھا۔ خیر جدوجہد پاکستان تو اپنی جگہ ہم نے گذشتہ چھ سات عشروں میں پاکستان کے ساتھ جو کیا ہے وہ بھی غیر ملکی قلمکاروں کو چکرا کے رکھ دیتا ہے۔ 
ایما ڈنکن نے اپنی کتاب میں ہمارے سماج کی منافقت، سیاسی خود غرضی اور معاشی لوٹ کھسوٹ اور انفرادی و قومی بے حسی کا جو منظر دکھایا ہے وہ آج سے پچیس سال قبل جتنا درد ناک تھا، آج بھی اس سے بڑھ کر کربناک دکھائی دیتا ہے۔ 
اک عمرسے زخموں کا لہو چاٹ رہے ہیں 
ہم لوگ محبت کی سزا کاٹ رہے ہیں 
آج بھی اپنے اردگرد نظر دوڑائیں تو ہمارے لیڈ ر خود غرض، علماءمصلحت بین، دانشور خوشامدی، قلم کار ہرکارے، ادارے کھوکھلے، عوام راضی برضائے حاکم دکھائی دیتے ہیں اور سماج منافقت، ہوس، حسد، نفرت، جھوٹ ، دغا کے مجموعے کا نام سنائی دیتا ہے۔ ایما ڈنکن نے لکھا تھا کہ پاکستان کی سرزمین تضادات کا نمونہ پیش کرتی ہے۔ پاکستان کی حکومت میں مرکزی کردار ادا کرنے والے ایک رہنما نے مجھے بتایا کہ پاکستان ایک منافقت سے بھرا ملک ہے۔ یہاں دو قسم کی اقوام بستی ہیں۔ ایک وہ جن کی جڑیں اس سرزمین میں ہیں اور دوسری قوم وہ ہے جو نظریات اور آئیڈیلز میں بستی ہے۔ پاکستان کی بد قسمتی یہ رہی کہ ان دونوں میں شبہات اور فاصلہ بڑھتا چلا گیا ۔ پاکستان میں منافقت اور تضادات کا دوسرا سبب یہ رہا کہ یہاں طرزِ حکومت برطانوی رہا۔ قانون اور عدالتیں غرضیکہ سار ا ڈھانچہ انگریزوں نے تعمیر و قائم کیا تھا۔ آزادی کے بعد کی ضرورتوں کے تحت اس ڈھانچے میں جو بتدیلیاں رونما ہونی چاہئیں تھیں ان کی طرف کسی نے توجہ نہ دی۔ ایما نے مزید بتایا تھا کہ پاکستان میں رشوت چاروں طرف پھیلی ہوئی ہے۔ لوگ معمولی رقم کی رشوت لے کر حکومت اور ملک کو بڑا نقصان پہنچانے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔ اس رشوت نے بزنس ، صنعت اور ہر شعبے کو بری طرح متاثر کیا ہے۔سرکاری ملازمین اپنی اصل آمدنی سے کہیں زیادہ خرچ کرتے ہیں۔ ان کا رہن سہن اور طرز حیات ان کی اصل آمدنی سے میل نہیں کھاتا۔ ایک بینکر نے مجھے کہا ” یہ ایک مایوس کر دینے والا ملک ہے ۔“ ایک سیاستدان نے بتایا ” خود غرضی ہمارے ملک کی سب اچھائیوں کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے۔“ ایک ماہر معاشیات نے کہا” پاکستانی معاشرہ ایک ایسا معاشرہ ہے جو اپنے جرائم کے بارے میں بے حس ہو چکا ہے۔ “یہاں ہر شخص راتوں رات دولت مند بننا چاہتا ہے۔ یہ وہ طرز فکر ہے جس نے پاکستانی معاشرے کو جکڑ رکھا ہے۔ لوگوں کے امیر بننے کی آرزو میں مبتلا یہ معاشرہ ایسے لوگوں کو جنم دیتا ہے جو ان کی اس آرزو کا استحصال کرکے انہیں لوٹ سکے۔ ۔۔پاکستان میں ایک طرف بے حد غربت ہے اور دوسری طرف ناقابل یقین امارت۔ ۔۔یہاں لوگوں میں کتاب کے لےے محبت نہیں رہی، مطالعہ کا شوق بہت کم ہے۔کتابوں کی بجائے لوگ غیر ملکی اشیاءکی خریداری اور نمائش سے اپنی دولت مندی کا اظہار کرتے ہیں۔ 
ایما ڈنکن کی یہ کتاب میں نے 1989ءمیںقائد اعظم یونیورسٹی میں زمانہ طالب علمی میں پڑھی تھی اور پاکستانیت کے جذبات سے لبریز ہو کر کچھ نکات کو نشان زدہ کر لیا تھا کہ یہ سب میرے پاکستان کے متعلق جھوٹ ہے۔ آج ملک میں ایک بار پھر ادلتی بدلتی صداﺅں ، سیاسی و سماجی واقعات کی رنگا رنگی کے ایام میں یہ کتاب نظر آئی تو دیرینہ جذبات تازہ ہو گئے اور اس جدید تعلیم یافتہ ، مغربی صحافی اور غیرملکی لکھاری کی کہانی کو رد کرنے کے لےے قلم اٹھا لیا۔ میں نے نشان زدہ لائنوں کو دوبارہ پڑھا ان میں سے اکثر کا ذکر شروع میں کر چکا ہوں اور پوری دیانتداری سے کہہ رہا ہوں ایسا لگا جیسے ہمارے ہاں تاریخ کی حرکت تھم کر رہ گئی ہے اور ہم جامد سماج اور فکر ی جمود کے حامل جہنمیوں کی سی زندگی کی سزا کاٹ رہے ہیں۔ گذشتہ تین عشروں میں منافقت اور تضادات میں اضافہ ہو اہے ۔ ایما ڈنکن جس نتیجے پر پہنچی تھی ہم بھی دبے لفظوں میں اس کا رونا روتے رہتے ہیں۔ ا س کی کتاب پڑھ کر ماننا پڑتا ہے کہ ہم ریا کار ہیں، منافق ہیں ، ہماری ساری زندگی اپنے اپنے گرد جھوٹ، منافقت اور ہوس و بے ایمانی کا جالا بُننے اور تاننے میں گذر جاتی ہے۔ ہم نے نتیجہ اخذ کر رکھا ہے اور قلمی شہادتیں ایما نے پچیس سال قبل دے دی تھیں۔ مگر ہم ہیں کہ ہمارا ضمیر تا حال خوابیدہ ہے۔ ہم ترقی کرنے اورخوشحالی دیکھنے کا ارمان لےے ہوئے ہیں۔ کیا دنیا میں کسی منافق قوم ، بکھرتے سماج، تحلیل ہوتی ریاست اور خودغرض حکمرانوں کی قیادت میں ترقی کا کوئی زینہ طے ہو سکا ہے۔ ایما نے ہمیں آئینہ دکھا یا تھا۔ ہم تو اتنے بے حس ہیں کہ ہمیں آج تک خود احتسابی کا خیال نہیں آیا۔ میں نے لرزتے ہاتھوں سے لکھنا روک دیا ہے۔ ایما مجھے کہہ رہی ہے 
میں نے کاغذ پر سجائے ہیں جو تابوت نہ کھول 
لفظ جی اٹھے تو ، تو خوف سے مر جائے گا 


جمعرات، 2 جولائی، 2015

درددِل کے واسطے....


حضرت ابوذرؓ سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریم سے پوچھا، اے اللہ کے رسول، کون سا کام افضل ہے۔ آپ نے فرمایا، اللہ پر ایمان لانا اور اس کی راہ میں کوشش کرنا۔ حضرت ابو ذرؓ کہتے ہیں، میں نے پوچھا کون سا غلام آزاد کرنا افضل ہے؟ آپ نے فرمایا جو اپنے آقا کے نزدیک سب سے عمدہ اور دام میں سب سے اونچا ہو۔ ابو ذرؓ کہتے ہیں میں نے پوچھا اے اللہ کے رسول اگر میں کوئی بھی بھلا کام نہ کر سکوں؟ آپ نے فرمایا، لوگوں کو تم سے کوئی تکلیف نہ پہنچے۔ یہی تمہاری طرف سے تمہارے حق میں صدقہ قرار پائے گا“۔ 
بلا شبہ اسلام فلاح انسانیت کا ضامن ایک روحانی اور دنیاوی انقلاب تھا جس کی روح دوسروں کے لیے سلامتی، امن اور محبت کا ضامن ہونا ہے ۔ اسے ستم ظریفی کے علاوہ کیا کہیے کہ ہمارے ”عالموں“ نے اسے بند پانی کا تالاب بنا کر رکھ دیا ہے۔ اسلام عملی طور پر رحمت اللعالمین کی تحریک رحمة للعالمینی کا ہی نام ہے تاہم آج اس دین رحمت کے پیروکاروں کا رحمت و محبت سے تعلق کمزور ہو گیا ہے اور اس کمزوری نے محض عبادات کو ہی اسلام قرار دے رکھا ہے ۔ عبادات کی روح اور حقیقت و افادیت سے کوئی انکار نہیں، مگر یہ تسلیم و رضا جس بندگی کی تربیت کے لیے نظم کے طور پر فرض ہوئے وہ بندگی کہیں غائب ہو کر رہ گئی ہے، اور معاملات اور حسن معاملات جو دین کا غالب حصہ ہیں وہ ہماری تعلیمات اور عبادات کا حصہ نہیں رہیں۔ ہمارا دین اگر اسلام کے پانچ ستونوں نماز، روزہ، حج، زکوٰة اور کلمے تک محدود سمجھا جائے تویہ دین کی آفاقیت نہیں ہو گی کیونکہ دین اسلام کی بنیاد فلاح انسانیت پر رکھی گئی ہے۔ عبادات میں خشوع و خضوع سے زیادہ فقہ کے قواعد و ضوابط کارنگ غالب آ گیا ہے اور ہماری عبادات ظاہر داری کا ایک کھوکھلا مظاہرہ بن کر رہ گئی ہیں۔ کوئی مسلمانوں کو یہ بتانے اور سمجھانے کی کوشش ہی نہیں کرتا کہ کیایہ ستون محض ہوا میں کھڑے ہیںیا ان کی بھی کوئی بنیادیں ہیں۔ پھر ستون تو کسی عمارت کے نیچے بنائے جاتے ہیں۔ آخر وہ عمارت کیا ہے، جس کے یہ ستون ہیں؟ ہمارے ہاں نہ تو علم اور روح کا ذکر ہوتاہے جن کا کام ان ستونوں کی بنیادوں کا ہے اور نہ ہی ان ستونوں کے اُوپر استوار ہونے والی اسلام کی اس عمارت کا نقشہ کھینچا جاتا ہے جو ایمان، محبت، خیر، صداقت اور امن کے ایوانوں پر مشتمل ہے۔ دین کے پانچوں ستون وہ احکامات ہیںجن پرصدق دِل سے عمل کرنا ہر مسلمان کا فرض ہے۔ گستاخی معاف ! اسلام کے ان ستونوں پر معاملات کی ایک عمارت بھی ہے اور یہ ستون اس عمارت کے کھنڈرات نہیں ہیں۔ 
آج مسلمانوں کی حالت زار پر نظر ڈالیں تو یہ پانچوں ستون الگ الگ دائروں کی شکل میں نمایاں ہیں جن کا آپس میں کوئی تعلق دکھائی نہیں دیتا ہے اور نہ معاملات زندگی سے ۔اس طرح اسلام جیسا مکمل ضابطہ حیات جسے انسان اور انسانیت کو درپیش تمام معاملات حیات میں بہترین عملی راہنمائی مہیا کرنی تھی ، وہ اپنے پیروکاروں کو اس کی مثال نہیں بنا سکا۔ مسلمانوں کو عبادات کے ستونوں سے معاملات زندگی میں روشنی نہ ملی تو مسلمان صرف نام کا مسلمان بن کر رہ گئے اور آہستہ آہستہ ان عبادات سے بھی غافل اور بے پروا ہوتے چلے گئے ہیں۔ سادہ ترین مفہوم میں مسلمان کسی بھی معاشرے میں باعث رحمت انسان کا نام ہے۔ مسلمانوں کا رب رحمن و رحیم ہے، ان کا نبی رحمت للعالمین ہے اور اس کا قرآن تمام تر رحمت کا پیغام ہے۔ حدیث پاک ہے”لا یرحم اللہ من لا یرحم الناس“ یعنی جو انسانوں پر رحم نہیں کرتا اللہ تعالیٰ بھی اس پر رحم نہیں کرتے۔ اچھے مسلمان کی نشانی ہی یہ بتائی گئی ہے کہ جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے محفوظ رہیں۔ عبداللہ ابن عمر سے مروی ہے کہ اُنہوں نے کہا، نبی کے پاس ایک آدمی آیا، اس نے کہا اے اللہ کے رسول سب سے اچھا آدمی کون ہے؟ رسول اللہ نے جواب دیا، جو انسانوں کو نفع پہنچانے میں سب سے آگے ہو“۔ 
آج امت مسلمہ کو جس تعلیم اور عمل کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ ان کو یہی باور کرانا ہے کہ ان کا دین عبادات کے ستونوں پر سماج کی بہتری کی عمارت تعمیر کرتا ہے۔ حضرت نظام الدین اولیاءؒ فرمایا کرتے تھے کہ قیامت کے دن سب سے بڑا انعام اس کو ملے گا جس نے مسلمانوں اور عام انسانوں کی خوشی کے لےے کام کیا۔ زاہد خشک سے زیادہ مقام انسانوں سے محبت کرنے والوں کا ہے۔ سچا مسلمان اپنے سماج کا خیر خواہ ہوتا ہے وہ معاشرے کی بہتری کے لےے کوئی کسر اُٹھا نہیں رکھتا۔ وہ خوب جانتا ہے کہ اللہ تک پہنچنے کا راستہ اس کے انسانوں کے قلوب سے ہو کر جاتا ہے۔ حضرت بایزید بسطامی ؒ کا قول ہے کہ” جب میں عرش خداوندی کے نزدیک پہنچا اور دریافت کیا کہ اللہ کہا ں ہے ؟ جواب ملا کہ اللہ میاں کو اہل زمین کے شکستہ قلوب میں تلاش کرو۔ “ آج ہم اردگرد مجبورو مقہور اور حقدار و ضرورتمند لوگوں کے زخموں پر مرہم رکھنے سے زیادہ عمرہ پر جانے اور آنے کی خبروں پر خرچ کر دینے کو عبادت سمجھتے ہیں۔ اپنے گلی ، محلے اور شہر کے بے آسرا ، حاجت مندوں کی حاجت روا ئی کرنا کعبہ میں کھڑے ہو کر سیلفی بنانے سے کم لذت نہیں دیتا مگر اس کے احساس کے لےے جس ذوق جمال کی ضرورت ہے وہ آج کے مسلمان کا شیوہ کہاں۔۔۔۔ حضرت سری سقطی ؒ کا قول ہے حسن خلق یہ ہے کہ مخلوق خدا کو آزار نہ پہنچاﺅ اور لوگوں کی دی ہوئی تکالیف کو برداشت کرو۔ 
آج مسلمانوں کے لےے راہِ خیر یہی ہے کہ وہ باعث خیر بن جائیں۔ایک متحرک ، زندہ اور اجتہادی سماج کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کریں، حسن ِ عمل خلق عظیم ہے۔ حسن اخلاق ، دوسرے کے کام آنا اور معاشرتی معاملات میں حقوق العباد کا پورا کرنا بھی مسلمان کا خاصہ ہے۔ سماجی تعمیر و تطہیر میں صالح کردار مسلمان ہی حقیقی معنوں میں روح ایمانی کا حامل مسلمان ہے۔ انسانوں کو سکون و راحت پہنچانا، دوسروں کے کام آنا اور آسانیاں بانٹنا اگر باعث ثواب ہے تو دوسروں کی راہ میں روڑے اٹکانا، ان کے لےے مشکلات پید اکرنا، انہیں تکلیف پہنچانا عذاب ہے۔ حضرت خالد بن ولیدؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا رسول اللہ نے فرمایا”قیامت کے دن سب سے زیادہ عذاب اسے دیا جائے گا جس نے دنیا میں انسانوں کو سب سے زیادہ عذاب دیا ہو۔ “
عزیز الدین نسفی ؒ کتاب الانسان الکامل میں نصیحت کرتے ہوئے رقمطراز ہیں کہ ریاضت و عبادات نام و نمود کے لےے نہیں کرنی چاہےے۔درویش کو چاہےے کہ بقدر ضرورت عبادت کرے اور خدا شناسی کے بعد طہارت نفس حاصل کرے اور دوسروں کے لےے آزارجاں نہ بنے بلکہ راحت رساں بنے کہ انسان کی نجات اسی میں ہے۔ انسانوں کو راحت پہنچانا سب سے بڑی عبادت ہے ۔
اسلام حقیقت میں تمام ترانسانیت پسندی ،انسان دوستی اور حسن خلق ہے۔ جب انسان اخلاق وکردار میں کمال حاصل کر لیتا ہے تو خلیفہ ¿ خدا بن جاتا ہے۔ آج اسلام کے حرکی تصور اور سماجی روح کو سمجھنے اور سمجھانے کی ضرورت ہے۔ اسلام کی آفاقیت مسلمانوں سے زمین پر فساد کرنے والوں کی شناخت سے بچنے اور امن، انسانیت اور محبت کا پیغام عام کرنے کا تقاضا کر رہی ہے۔ کاش ہم مسلمان دین کے پانچ بنیادی ستونوں پر حسن اخلاق اور معاشرتی فلاح کی جو عمارت کھڑی ہے اس پر طرف بھی توجہ دیں۔ 


جمعہ، 15 مئی، 2015

قومی وحدت میں میڈیا کا کردار



اکثر ترقی پذیر ممالک کی طرح پاکستان بھی قومی وحدت کے بحران کا شکار رہا ہے ۔ قدیم سماج اور جدید ریاست کے امتزاج کا حامل پاکستان ایک مرکب ملک اور ثقافتی تنوع کی حامل انتظامی وحدت ہے۔ اس قسم کی ریاستوں میں تعصبات کی موجودگی تعجب انگیز نہیں مگر ہمارے ہاں لمحہ فکریہ یہ ہے کہ یہاں تعصب نہ صرف حکومتوں اور عوامی اداروں میں دکھائی دیتا ہے بلکہ یہاں کے دانشوروں ، قلمکاروں، ماہرین عمرانیات و سماجیات اور میڈیا کو بھی اس میں فعال دلچسپی ہے ۔ قومی اکائی بہت سی متنوع انفرادیتوں کا مجموعہ ہوتی ہے ۔ تاریخ عالم میں بہت کم ہوا ہے کہ کوئی قوم ایک مذہب کی پیرو ہو ، ایک ہی نسل سے تعلق رکھتی ہو ، ایک ہی زبان ،ایک ہی لہجے میں بولتی ہو۔ لسانی و ثقافتی رنگا رنگی قومی وحدت کی طاقت ہوتی ہے ۔ قومی وحدت کا حقیقی مفہوم یہ نہیں کہ ہماری زبان ، ہماری نسل، ہمارا لباس ایک ہو بلکہ یہ ہے کہ ہمارا نصب العین، ہمارا منتہائے مقصود اور قومی سطح پر ہماری نفسیاتی فضا ایک ہو ۔ آزادی کے فوراً بعد ہمیں اس تنوع کا حقیقت پسندانہ تجزیہ ادراک کر لینا چاہیے تھا تاکہ تعمیر نو یا قومی ارتقاءکا آغاز ہو سکے مگر ایسا نہ ہوا ، ہمارے ارباب اختیار نے مذہب پر مبالغہ انگیز حد تک اصرار کر کے قومی وحدت مسلط کرنے کی بار ہا ناکام کوشش کی ۔ ایسی ہی غیر منطقی پالیسیوں کی وجہ سے آج تک ہم اپنے اپنے خول میں بیٹھے ایک دوسرے سے ہی چوکنے رہنے پر ساری توانائیاں صرف کیے ہوئے ہیں۔ ہمارے درمیان بے اعتمادی بلکہ بد اعتمادی کی فضا قائم ہے اور قومی وحدت کا تصور المناک حد تک مجروح ہوا ہے ۔ قومی وحدت کی فضا یوں تو متعدد عناصر سے قائم ہوتی ہے مگر اس حوالے سے آج معاشرے کا سب سے م ¶ثر عنصر ہمارامیڈیا ہے۔ اس لیے کہ صحافی سب کچھ ہونے کے ساتھ تہذیبی کارکن بھی ہوتا ہے اور تہذیب ذہنی کیفیات کی شائستگی کا نام ہے اور ذمہ دار میڈیا حکمت عملیوں کی تکنیکی وضاحت اور اعداد و شمار کے گورکھ دھندے سے ہی کام نہیں لیتا ، وہ دلوں کی بولی بھی بولتا ہے ۔ لوگ توقع کرتے ہیں کہ آزاد، ذمہ دار اور متحرک میڈیا قومی وحدت کے تصور کو مسلمہ حقیقت میں بدل سکتا ہے ۔آزاد میڈیا نے بے شمار تضادات کے باوجود امریکہ کو متحد رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے ۔ تعلیم و تبلیغ کے دوسرے ذرائع میں اتنی وسعت نہیں جتنی وسعت صحافت کی ہمہ گیری نے میڈیا کو دے دی ہے ۔ میڈیا کو بجا طور پر جمہوری اقدار کا محافظ، قانون کی سر بلندی کا حصار اور قومی ضمیر کا آئینہ دار گردانا جاتا ہے ۔ اب تو میڈیا نے خود کو ریاست کے چوتھے ستون کے طور پر بھی منوا لیا ہے۔ مقننہ قانون بناتی ہے، عدلیہ اس کی تشریح کرتی ہے، انتظامیہ اسے نافذ کرتی ہے اور میڈیا اس سارے عمل کے لیے رائے عامہ ہموار کرتا ہے ۔اسی اہمیت کے پیش نظر یونیورسٹی آف گجرات کے سنٹر فار میڈیا سٹڈیز نے عصری تقاضوں سے ہم آہنگ سیمینار بعنوان” قومی وحدت میں میڈیا کا کردار:ذمہ داریاں اور مشکلات“کا خصوصی اہتمام کیا۔ اور اس میں مہمان مقرر کے طور پر قلم و قرطاس اور فکر و خیال کی طاقت کو معاشرتی تطہیر اور قومی وحدت کے لیے وقف کرنے والے، صحافت میں پاکستانی طرز احساس کے نمائندہ، دھیمے لہجے میں تلخ سچائی بیان کرنے میں کمال رکھنے والے سینئر صحافی سجاد میر کو مدعو کیا ۔ سیمینار کی صدارت قائداعظم اور علامہ اقبال کے افکار سے روشن ضمیر کے حامل سچے اور سُچے پاکستانی، شیخ الجامعہ دانش گاہ گجرات پروفیسر ڈاکٹر ضیاءالقیوم نے کی۔ شعبہ ¿ ابلاغ عامہ کے سربراہ ڈاکٹر زاہد یوسف نے افتتاحی کلمات میں کہا کہ قومی وحدت قوموں کے نصب العین کا نام ہے اور ابلاغیات کے دور حاضر میں کئی میدانوں میں فیصلہ کن حیثیت حاصل ہے کیونکہ میڈیا عوامی رائے کو بنانے یا بگاڑنے کا کام سر انجام دے رہا ہے ۔ میڈیا مشکلات کے باوجود اپنا کردار ادا کر رہا ہے تاہم میڈیا کے ذمہ دارانہ کردار کو فروغ دینے کی اشد ضرورت ہے ۔ سینئر صحافی سجاد میر کا کہنا تھا کہ صحافت ایک ذمہ دارانہ پیشہ ہے ، سچا صحافی معاشرہ میں اعلیٰ شعور و اقدار کو فروغ دے کر قومی وحدت کے پُر وقار جذبہ کو پروان چڑھانے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے ۔ پاکستان کے قیام میں صحافیوں کی فکر و سعی نمایاں تھی۔ سر سید احمد خاں سے مولانا محمد علی جوہر تک صحافیوں نے پاکستانی طرز فکر کو فروغ دیا ، استحکام پاکستان کے لیے صحافیوں کو قومی ذمہ داریوں سے ہم آہنگ کردار ادا کرنا ہو گا ۔ میڈیا کا بنیادی فریضہ سماجی بیداری اور معاشرتی آگاہی پیدا کرنا اور قومی وحدت کے شعور کو بڑھاوا دینا ہے ۔عصر حاضر میں میڈیا سماج سازی سے قومی یکجہتی تک کے بہت سے کارنامے سر انجام دے رہا ہے۔ آزاد میڈیا وہ ہوتا ہے جو سچ کو بنیاد بنائے۔ میڈیا کی آزادی کے معنی میڈیا کی ذمہ داری کے ہیں۔ آج کل ابلاغی نظریہ جس طرح بنتا ہے یا خبر اور رپورٹ معرض وجود میں آتی ہے ، اس کے پس منظر میں جو قوتیں اور محرکات کار فرما ہوتے ہیں اور اس میں جو تکنیکی جبر مسلط ہوتا ہے اس نے میڈیا کے سارے مزاج کو بدل دیا ہے اور سچ ناپید ہو گیا ہے آج کمرشل ازم نے بزنس نیوز کو نیوز بزنس میںبدل دیا ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان تخلیقی صلاحیتوں سے مالا مال لوگوں کی سر زمین ہے لیکن بد قسمتی سے ہم عالمی شکنجوں میں جکڑی قوم بن چکے ہیں اور ہماری صحافت میں غیر ملکی کارپوریٹ سیکٹر کی کارفرمائیاں نمایاں ہیں۔ پاکستانی الیکٹرانک میڈیا بالخصوص ہندوستانی کارپوریٹ سیکٹر کی لڑائی کا میدان بنا ہوا ہے چنانچہ قومی وحدت میں ذمہ دارانہ کردار ادا نہیں کر پا رہا۔ اس شعبہ ¿ کی مشکلات اور ذمہ داریاں بھی بہت ہیں۔ ہمارے ہاں رد عمل کی کار گذاریوں نے جذباتیت اور انتہا پسندی کو بڑھایا جس نے قومی وحدت کو کمزور کیا ہے ۔ پروفیسر ڈاکٹر غلام علی ، ڈاکٹر ارشد علی، پروفیسر زاہد بلال، پروفیسر ثوبیہ عابد، ڈاکٹر لبنیٰ، ڈاکٹر محمد نواز، محمد عمیر اور ریڈیو صحافت سے وابستہ منعم شہزاد نے بھی فکر انگیز گفتگو کی اور کہا کہ پاکستانی میڈیا ارتقائی مراحل میں ہے اس لیے کئی ابہامات کا شکار ہے ۔ ڈویلپمنٹ جرنلزم سے لیس ہو کر میڈیا قوم اور عوام کی بہتر خدمت کر سکتا ہے ۔ صحافت عوامی شعور کی بیداری میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے ۔ قلم و نظر کے حامل ذمہ داران کا فرض ہے کہ وہ معاشرتی بہتری اور قومی وحدت کے لیے بھرپور کردار ادا کریں۔ مکالمے کے داعی اور دانشور استاد، پروفیسر ڈاکٹر ضیاءالقیوم وائس چانسلر یونیورسٹی آف گجرات نے صدارتی کلمات میں کہا کہ صحافت دراصل آزادی ¿ اظہار کا نام ہے ۔ آزاد مگر ذمہ دار میڈیا میں ہی سچ کی روایت کو پروان چڑھا کر پاکستان میں قومی یکجہتی کی بنیادوں کو مضبوط کیا جاسکتا ہے ۔ ایک سچا صحافی معاشرہ و قوم کے لیے دیدہ ¿ بینا کی حیثیت رکھتا ہے۔ میڈیا معاشرہ اور عوام کی سوچ کا آئینہ دار ہی نہیں ہوتا، اس کی راہنمائی کا فریضہ بھی سر انجام دیتا ہے۔ آج میڈیا معاشرتی سوچ کے دائروں کو متعین کرتا ہے چنانچہ کھرے اور سچے صحافیوں کی ذمہ داریاں بڑھ چکی ہیں۔ صاحب عمل اور پختہ عزم صحافی ہمارے لیے رول ماڈل ہیں۔ 1965ءکی جنگ کے ایام میں پاکستانی میڈیا کا کردار قومی تقاضوں سے ہم آہنگ تھا۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستانی آزاد میڈیا نے قوم کو آگاہی کی نئی جہتوں سے متعارف کروایا۔ اکتوبر 2005ءمیں آنے والے زلزلے کے وقت بھی پاکستانی میڈیا نے قومی یکجہتی کو فروغ دینے میں قابل تحسین کردار ادا کیا ۔ لیکن یہ بھی تلخ حقیقت ہے کہ ہمارے سما ج اور میڈیا کے درمیان کمرشل ازم نے ڈیرے لگا لیے ہیں۔ ضرورت سے زیادہ کمرشل ازم نے میڈیا کے قلم و بیان کی رعنائی ، زیبائی اور خوبصورتی کو متاثر کیا ہے ۔ صحافی کے لیے لازم ہے کہ وہ کلمہ ¿ حق کا علمبردار ہو۔ بریکنگ نیوز نے قومی وحدت سمیت بہت سے تصورات کو بریک کیا ہے ۔ میڈیا کو ذاتی ، گروہی، علاقائی مفادات سے بالا تر ہو کر پیشہ وارانہ ذمہ داریاں نبھانی اور قومی تقاضوں کو پورا کرنا چاہیے۔ جامعہ گجرات کے شعبہ ابلاغ عامہ کے ڈاکٹر زاہد یوسف نے درد مند پاکستانی ہونی کے ناطے جس سنجیدہ مکالمے کا آغاز کیا ہے اسے جاری رہنا چاہیے۔ سجاد میر جیسے تجربہ کار صحافیوں سے مستقبل کے صحافیوں کی گفتگو اور مکالمہ مثبت اور ثمر آور نتائج کا حامل ہو گا ۔ ڈاکٹر ضیاءالقیوم نے کمال سنجیدگی سے فکر انگیز بات کہی کہ سماجی ذمہ داری کے نظریہ صحافت نے میڈیا کے کاندھوں پر بڑی ذمہ داری ڈال دی ہے ۔ صحافت کو فلاح عامہ کا ضامن اور قومی امنگوں کا ترجمان ہونا چاہیے۔ جب تک صحافت سماج کے ساتھ نہیں ہو گی قومی وحدت سمیت بہتری کے امکانات کم رہیں گے ۔ 
یونیورسٹی آف گجرات اس وقت پاکستانیت کی حامل قومی دانش گاہ کا کردار جس وژن، درد مندی اور حب الوطنی سے ادا کر رہی ہے وہ قومی سطح پر مثالی اور خراج تحسین کا مستحق ہے۔ جواں عزم، دور اندیش اور وژنری قائد کے طور پر ڈاکٹر ضیاءالقیوم نے یونیورسٹی آف گجرات کو پاکستان کے روشن مستقبل کی ضامن دانش گاہ بنانے کے لیے جو متحرک، نتیجہ خیز اور دانشمندانہ علمی و تحقیقی فضاءقائم کی ہے وہی عصری قومی ضرورت اور روح عصر سے ہم آہنگ ہے ۔ حقیقت پسندانہ روشن خیال اور مستقبل شناس تعلیم و تدریس ہی قومی وحدت کی حقیقی ضامن ہے ۔ اسی کے ذریعے سچ اور سچائی پر مبنی صحافت و سیاست کو فروغ دیا جا سکتا ہے اور یہی قومی وحدت کی منزل کا پائیدار راستہ ہے ۔ 

جمعرات، 29 جنوری، 2015

علوم ترجمہ اور تحقیق

علوم ترجمہ اور تحقیق 



تاریخ شاہد ہے کہ علمی اداروں کے تحقیقی جریدوں کا باقاعدہ آغاز سترہویں صدی میں ہوا جب 5 جنوری 1665ءکو "des Scavans" نامی جریدے کا اجراء،ہوا پھر اس کے بعد اگلے سال سے رائل سوسائٹی آف لندن کے فلسفیانہ علمی مقالات کی روداد مطبوعہ صورت میں منظر عام پر آنے لگی۔ تب سے علم و تحقیق کے پھیلاﺅ اور فروغ میں تحقیقی مجلوں کی اہمیت نمایاں ہونے لگی۔ اٹھارویں صدی سے اکڈیمک جرنلز کسی موضوع پر علمی مقالات کا اہم مآخذو منبع اور دانش و تحقیق کی تشہیر اور فروغ کا موثر ترین ذریعہ سمجھے جاتے ہیں اسی لیے دنیا بھر میں جامعات کے معیار کی شناخت ان کے تحقیقی جریدے ہوتے ہیں۔ تحقیق یونیورسٹیوں کا بنیادی وظیفہ ہوتا ہے جامعات تحقیق کی ثقافت کی علمبردار ہوتی ہیں جہاں تحقیق تجسس کی رسمی شکل اختیار کر لیتی ہے اور اساتذہ و محققین ذوق تجسس سے ہر وقت کسی مقصد کی ٹوہ میں مصروف عمل ہوتے ہیں ۔ Albert Szent Gyorgi نے کہا تھا کہ 
"Research is to see what every body else has seen, and to think what nobody else has thought"
یہ بات مجھے اس وقت خاص طور پر یاد آئی جب گذشتہ روز دانش گاہ گجرات کے مرکز السنہ و علوم ترجمہ (CeLTS) کے سربراہ پروفیسر غلام علی نے ”پاکستان جرنل آف لینگویجز اینڈ ٹرانسلیشن سٹڈیز“ کا نیا شمارہ برائے مطالعہ و تبصرہ پیش کیا اور سنٹر کی کارکردگی، مقاصد اور سکوپ پر خوب روشنی ڈالی۔ ان کی علمی گفتگو سے مجھے معلوم ہوا کہ Gregory Rabassa نے درست کہا تھا کہ 
Every act of Communication is an act of Translation
ترجمے کا شعبہ اقوام کی ترقی اور خوشحالی میں اہم ترین کردار کا حامل رہا ہے ۔ مسلمانوں کے شاندار ماضی کا بڑا حصہ تراجم کا مرہون منت ہے جس کے ذریعے یونانی حکمت اسلامی فکر کے ذریعے دنیا میں علوم کی ترقی کا سبب بنی۔ قوم سازی کے عمل اور کرہ ¿ ارض پر موجود اقوام عالم کے مابین ثقافتی مکالمے کے آغاز کے حوالے سے ترجمے کی اہمیت کا تقاضا ہے کہ اسے ادارہ جاتی سرپرستی حاصل ہو۔ یونیورسٹی آف گجرات میں ڈیڑھ، دو سال قبل علوم ترجمہ کے فروغ کے لیے ”دارالسنہ و علوم ترجمہ“ کے نام سے ایک الگ مرکز قائم کرنے کے پیچھے یہی سوچ کارفرما تھی۔ علوم ترجمہ دنیا میں ابھرتا ہوا شعبہ ¿ علم ہے ۔ اس کاتعلق ترجمے کے نظری، تشریحی اور اطلاقی مطالعے سے ہے ۔ پاکستان میں ترجمے کی قومی ، علاقائی اور عالمی اہمیت کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ آغاز سے ہی واضح تھا کہ اس مرکز کے پاس نمو اور ترقی کے بے پناہ مواقع موجود ہیں۔ تاہم انتہائی مختصر سے عرصے میں مضبوطی سے قدم جما لینا لائق تحسین ہے۔ اس مرکز نے قلیل مدت میں نہ صرف ”مترجم“ کے نام سے ایک میگزین جاری کیا بلکہ مرکز سے علوم ترجمہ کے حوالے سے پاکستان کے پہلے تحقیقی مجلے کا قابل تعریف آغاز بھی کیا ۔ جامعہ گجرات سے ”پاکستان مجلہ برائے السنہ و علوم ترجمہ“ کا اجراءپوری قوم کے لیے باعث افتخار ہے ۔ اس مجلے کے دو شمارے منظر عام پر آچکے ہیں انہیں دیکھ کر یہ یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ یہ معیاری تحقیقی مجلہ پاکستان میں عملی ترجمے اور شعبہ ¿ علوم ترجمہ میں تحقیق کے فروغ میں ثمر آور سبب ثابت ہو گا۔ ”پاکستان جرنل آف لینگویجز اینڈ ٹرانسلیشن سٹڈیز“ کے دوسرے شمارے کے آغاز میں ہی مدیر اعلیٰ پروفیسر ڈاکٹر ضیاءالقیوم شیخ الجامعہ گجرات نے اپنے پیغام میں واضح طور پر کہا ہے کہ کسی بھی یونیورسٹی کا بنیادی کام تحقیقی سرگرمیوں کا فروغ ہے۔ اور ان کے بیان میں تحقیق و تعلیم کی نمو و ترقی کا عزم خوب جھلک رہا ہے ۔ اس تحقیقی مجلے کے دوسرے شمارے میں سات اہم مقالے شامل ہیں۔ پہلا مقالہ لیبیا کے ممتاز محقق Dr Yousaf Elarmil کا ہے۔ جس میں لیبیا میں عربی زبان کے صوتیاتی یا حلقی تبادل کا regressiveاورprogressive ساﺅنڈ سیگمنٹ کے تناظر میں سنجیدہ مطالعہ کیا گیا ہے ۔ دوسرے مقالہ میں ایرانی سکالرDr Fahimeh Nasseriنے فارسی سفر نامے اور ابتدائی دور جدید کے ادب کو عصری سیاسی پس منظر میں پیش کرنے کی عمدہ سعی کی ہے اور بتایا ہے کہ اس دور کے سفر ناموں اور ادب کے عہدوار مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اگرچہ یورپی ممالک کو سلطنت عثمانیہ پر غلبہ پانے کے لیے ایران کی ضر ورت تھی اور اس ملک کے ساتھ تعلق سے انہیں تجارتی مفاد حاصل تھا تاہم انہوں نے ایران کو دبانے کے لیے اسے کم تر تصور کیا۔ تیسرا مقالہ سعودی عرب کے ماہر لسانیات Dr Mohmmad Al Zahravi کا ہے جس میں انہوں نے ماڈرن سٹینڈرڈ عربی کے منفی سابقوں، لاحقوں کی عمومی وضاحت کی ہے اور حجازی بول چال کی عربی کے منفی معنی کے حامل الفاظ کے مقابل اس صرفیاتی، صوتی یا شکلیاتی اثرات پر مرکوز مطالعہ ہے ۔ چوتھے مقالے میں یوکرائن کے Daria Moskvitina اور پاکستان کے ڈاکٹر قاسم بھگیو نے امریکی ڈرامہ نگار تھامس گاڈفرے کے المیہ ”پرنس آف پارتھیا “کے بطور ”امریکی ہیملٹ“ کے متون کا مطالعہ کیا ہے ۔ پانچویں مقالے میں پاکستانی متعلمین تلفظ کے حوالے سے لغوی استدلال کی تحریری اور زبانی کا ارشد محمود، ڈاکٹر محمد اقبال بٹ اور محمد عذیر نے تحقیقی مطالعہ کیا ہے ۔ تنزیلہ خاں اور معاونین نے پاکستان کی کثیر اللسان صورتحال میں دوسری زبانوں کی اجارہ داری کے مقابلے میں پنجابی زبان کی صورتحال کو واضح کرنے کی کوشش کی ہے ۔ آخری مقالہ میں ڈاکٹر نگہت شکور نے انگریزی کی گلوبل ٹرانسلیشن کے ذریعے انٹرنیشنل لینگوافرانکا کے درجہ دیے جانے کے نتیجے میں پیدا ہونے والی مقامی قومی زبانوں اور ثقافتوں کو غیر مستحکم کرنے میں ظاہری تضادات اور طریقوں کو بیان کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ ترجمہ ہی عالمگیریت کا حقیقی انفرا سٹرکچر ہے اور یہی مقامی اور عالمی رابطے میں ثالثی کا کردار ادا کرتا ہے ۔
 مختصر یہ کہ مجلہ اپنے مواد کے حوالے سے عالمی معیار کا تحقیقی مجلہ ہے جس پر مجلس ادارت اور شعبہ علوم ترجمہ مبارکباد اور تحسین کے حقدار ہیں۔ جامعہ گجرات کے مرکز السنہ و علوم ترجمہ کے اس تحقیقی مجلہ نے شروع میں ہی مختلف ممالک کے محققین، ماہرین لسانیات اور لکھنے والوں کی توجہ حاصل کر لی ہے ۔ یہ مجلہ مقالوں کی اشاعت میں ہائر ایجوکیشن کمیشن کے وضع کردہ معیار اور ہدایات کو ملحوظ خاطر رکھتا ہے۔ یہ مجلہ اپنی Transdiscipilinary حیثیت کی وجہ سے لسانیات، ادب ، تقابلی ادب، مشین لرننگ اور علوم ترجمہ کے شعبوں میں ہونے والی جدید تحقیق کے موضوعات کو موضوع بحث بنا رہا ہے ۔ یہ بات نہ صرف مجلہ کے لیے بلکہ جامعہ گجرات کے لیے باعث فخر ہے ۔ کینیڈا کے Dr. Luis Von Flotow، یوکے پروفیسر Dr Susan Bassnett امریکہ کے Dr Gaytri C. Spivak جیسے عالمی شہرت کے حامل ماہرین لسانیات، مفکر اور نظریہ کار اس مجلے کی ریویو کمیٹی میں شامل ہیں۔ یہ امر بھی قابل توجہ ہے کہ اس مجلہ کے دوسرے شمارے میں ہی دنیا بھر کے مختلف ممالک کے مقالہ نگاروں کی تحقیقات شامل ہیں۔ یہ مجلہ اپنی بین العلوم شناخت کی وجہ سے زبان و ادب اور ثقافت کے میدانوں کی کی جانے والی تحقیق میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے ۔ پاکستان جیسے کثیر اللسانی ملک میں جہاں کم و بیش چھ بڑی اور 59 چھوٹی زبانیں بولی جاتی ہیں مگر جہاں انگریزی سرکاری زبان اور اردو قومی زبان کے طور پر سرکاری و نجی سطحوں پر بولی ، لکھی اور سمجھی جاتی ہیں لیکن تاحال ہم قومی اور عالمگیریت کی حامل زبان کا کردار قومی دھارے میں متعین نہیں کر سکے ۔ قومی زبانوں میں عصری تقاضوں سے ہم آہنگ ادب و تحریر کی کمی قومی لسانی پالیسی کی راہ میں حائل اہم رکاوٹ ہے ۔ اسی صورتحال میں یونیورسٹی آف گجرات کا شعبہ ¿ علوم ترجمہ جامعہ اور اس میں ہونے والی تحقیقی سرگرمیوں کے ذریعے مختلف زبانوں اور ثقافتوں کے درمیان مفید مکالمے کا مرکز بن کر قومی زبانوں اور علم کی ترسیل کا قومی مرکز بن سکتا ہے ۔ مرکز برائے السنہ و علوم ترجمہ دانش گاہ گجرات ترجمہ کاروں کو ترجمہ سے متعلق فلسفیانہ و فکری پس منظر سے آگاہ کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے اندر ترجمہ کی عملی مہارت میں بھی اضافہ کر رہا ہے ۔ سپریم کورٹ کی صوبائی لاءسیکرٹریوں کو جاری کردہ قوانین و قواعد و ضوابط کے اردو ترجمے کی ہدایات کی روشنی میں مرکزی اور صوبائی حکومتیں، آئین قانون اور عدالتی فیصلوں کے قومی زبان میں ترجمے کے لیے یونیورسٹی آف گجرات کے علوم ترجمہ کے مرکز سے اشتراک کر کے فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔ ایسے مراکز ہی پیشہ وارانہ اخلاقیات اور مہارتوں کے حامل مترجم فراہم کر سکتے ہیں۔ اگر حکومتیں اور جامعہ گجرات مل کر قومی قوانین کے اردو ترجمے کا فریضہ انجام دے دیں تو پاکستان کے آئین میں قومی زبان کا جو مسئلہ ہے وہ بھی حل ہو سکتا ہے ۔ 

اتوار، 18 جنوری، 2015

دانش گاہ گجرات میں نئے عہد کا آغاز



مشہور فلمسازEliseo Subiela'a کی کلاسےک اطالوی فلم "No Mires Para Abajo" یعنی ’حقارت سے مت دیکھو‘ کا اختتام Eloy کے ان تاثرات پر ہوتا ہے کہ ’سب سے اہم بات یہ تھی کہ میرے باپ نے میرا ہاتھ پکڑا او رکہا، اپنی ساری زندگی تم خدا حافظ کہتے رہو گے۔ اسے یوں نہ لینا کہ تم محبت کرنا چھوڑ دو‘۔ اکتوبر 2014کے وسط میں جب جامعہ گجرات کے ہر دلعزیز وائس چانسلر ڈاکٹر محمد نظام الدین کے اعزاز میں منعقدہ الوداعی تقریب ختم ہوئی تو اس کے بعد میں چوہدری اختر وڑائچ، فیصل اقبال، حسن رضا، علی حماد جعفری و دیگر دوست انہیں رخصت کرنے گھر تک گئے تو ہمیں ڈاکٹر نظام الدین نے کچھ ایسی ہی نصیحت کی تھی کہ خدا حافظ اپنی جگہ یونیورسٹی آف گجرات سے محبت جاری رہنی چاہیے۔ خدا حافظ اور خوش آمدید دونوں ناگذیر انسانی خاصے ہیں۔ تاہم جو ناگذیریت پر سوال نہیں اٹھاتے، وہ آغوش کائنات میں تسکین پاتے ہیں۔ خدا حافظ اور خوش آمدید کے بغیر یہ دنیا بھلا کوئی دنیا ہے ۔ اس کے بغیر تو یہ Saramago کی 'Death of Interval' میں متذکرہ دنیا کی طرح ہو گی جو لافانی ہوتے ہوئے بھی تباہی کے دہانے پر موجود ہے ۔ جی ہاں فقط ہیرا کلیٹس کے متقابل”مستقل تغیر پذیری“ کے فلسفے کے بغیر زینو کے ناخوشگوار، غیر ہموار، بدبودار فلسفے کی طرح.... میں گذشتہ ایک ماہ سے خیالات کی ایسی ہی مبہم کشمکش میں مبتلا ہوں۔ کئی دنوں سے فیصل اور حسن رضا اصرار کر رہے ہیں کہ شیخ صاحب ، جامعہ گجرات میں آنے والی نئی روشنی کا تحریری خیر مقدم کریں۔ 
2004ءمیں یونیورسٹی آف گجرات کا قیام عمل میں آیا تو قدرت اس پر مہربان تھی اس نے ابتداءہی سے ڈاکٹر امتیاز احمد چیمہ جیسے ماہر تعلیم کو اس کی قیادت سونپ کر اسے امتیاز بخشاپھر اس جامعہ کو ایک ایسے نظام کی ضرورت محسوس ہوئی جو اس امتیاز کو وجہ ¿ افتخار بنا دے۔ اس کے لیے 2006 ءمیں ڈاکٹر محمد نظام الدین فضل ربی بن کر آئے۔ 2014ءمیں ستارہ ¿ امتیاز کے حقدار ٹھہرنے والے نظام کی تفہیم کے وقت اس جامعہ کی زمام کار ڈاکٹر محمد فہیم ملک کے ہاتھوں میں چلی گئی۔ تفہیم جب تفریق میں بدلنے لگی تو قدرت اس یونیورسٹی پر ایک بار پھر مہربان ٹھہری اور نا امیدی کو امید میں بدلنے کے لیے ضیائے قیوم سے نوازا۔ 
یونیورسٹی آف گجرات کا مین کیمپس مغلیہ عہد کے جس صوفی دانشور حافظ حیات ؑکے نام سے منسوب ہے اس کی روحانی برکت ہی ہے کہ قدرت اس ادارے پر مہربان ہے۔ میرا لگ بھگ ایک عشرے کا تجربہ ہے کہ یہ یونیورسٹی درو دیوار اور اساتذہ و طلبہ کے اجسام کا ہی مجموعہ نہیں ہے ،اس کے جسم میں صوفیانہ علم و دانش کی روح بھی متحرک ہے اور جب جب مشکل پیش آتی ہے روحانی قوتیںاس ادارے کی ترقی کے لیے دیدہ و نادیدہ معاونت کا اہتمام کرتی ہیں اس جامعہ کی حالیہ قیادت کے چناﺅ میں بھی یہ حقیقت پنہاں نظر آتی ہے ۔ ڈاکٹر نظام الدین جیسی حلیم الطبع، وژنری شخصیت کے جانے کے بعد ادارے کے استحکام اور ترقی کے لیے ایسی پائیدار روشنی کی ضرورت تھی ۔ جو مرکز اختصاص فضیلت کی جانب سفر کی راہ کو صالح فکر و عمل سے منور کردے۔ ایسی ہی امید ، تمنا، آرزو اور ارمانوں کا گلدستہ لیے 18 دسمبر 2014 کی صبح ہم نے جواں عزم، خوش فکر اور خوش شکل ڈاکٹر ضیاءالقیوم کا بطور رئیس الجامعہ گجرات استقبال کیا ۔ پہلی ملاقات میں ان کی شخصیت و خیالات متاثر کن لگے۔ نفیس الطبع، خوش لباس ڈاکٹر ضیاءالقیوم کی گفتگو، تہذیب و شائستگی کی اقدار کی مہک لیے ہوئے تھی۔ ان کے الفاظ تصنوع، بناوٹ اور نمائش کی بجائے فکر و تدبر، عزم و حوصلہ اور کچھ کرنے کی لگن کے عکاس تھے ۔ بلا شبہ وہ عالی ظرف شخصیت کے حامل ، دانش گاہ گجرات کی علمی و ادبی اور تدریسی و تحقیقی روایات کے قابل قدر وارث دکھائی دے رہے تھے۔ سخنوروں کی بستی، بہادروں، محب وطنوں اور وفاﺅں کے امین مہمان نواز شہر گجرات میں آمد پر ہم دوستوں نے دل ہی دل میں انہیں خوش آمدید کہا۔ انہیں دیکھا، ان سے ملے تو جامعہ گجرات کے نئے وائس چانسلر کی حیثیت سے ڈاکٹر ضیاءالقیوم کی تعیناتی مثبت تبدیلی کی نئی فضاﺅںکے لیے ڈھارس بندھانے لگی اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے سارے ادارے میں امید کی ایک نئی لہر دوڑ گئی۔ 
ٹی ایس ایلیٹ نے اپنی مشہور نظم East Coker کا آغاز کچھ اس طرح سے کیا ہے کہ "In my beginning is my end"۔ ”یعنی میرے آغاز میں میرا اختتام ہے ۔ اسی طرح کی اور بھی مشہور کہاوتیں ہیں مثلاً ہر آغاز مشکل ہوتا ہے اور "Well begun is half done" ۔ جامعہ گجرات کے نئے وائس چانسلر ڈاکٹر ضیاءالقیوم کی پہلی باقاعدہ سینئر سٹاف میٹنگ میں ان کے فکر انگیز خطاب نے یہ ظاہر کیا کہ وہ باریک بیں سکالر، وژنری منتظم، تجربہ کار استاد، اور دل و دماغ کے امتزاج کی حامل بصیرت اور بصارت رکھنے والے سربراہ ¿ ادارہ اور سنجیدہ فکر ، پاکباز، مزاح کی حس رکھنے والے انسان ہیں۔ ان میں ایسا سب کچھ دکھائی دیتا ہے جو کسی بھی دانش گاہ کے سربراہ میں ہونا چاہیے۔ ایک ماہ کے عرصہ میں انہوں نے دھیمے انداز اور سلجھے مزاج سے جس طرح پھونک پھونک کر وسائل و مسائل کا ادراک حاصل کیا ہے وہ لائق تحسین ہے۔ میں یونیورسٹی آف گجرات کی انتظامیہ، اساتذہ اور طالبعلموں کی جانب سے یونیورسٹی آف گجرات کی باگ ڈور سنبھالنے پر دل کی اتھاہ گہرائیوں سے انہیں خوش آمدید کہتا ہوں۔ ہم سب نئی امنگوں اور توقعات کے ساتھ ان کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ میں یونیورسٹی آف گجرات اور سول سوسائٹی کی جانب سے انہیں بھرپور تعاون کا یقین دلاتا ہوں تاکہ وہ گجرات یونیورسٹی کو عالمی معیار کی یونیورسٹی بنانے کا فریضہ احسن طریقے سے سر انجام دے سکیں اور اس ادارے کو استحکام بخش کر قومی تقاضوں سے ہم آہنگ اعلیٰ تعلیم کا مرکز بنا سکیں۔ اس موقع پر یہ بات دہرانے میں بھی کوئی عار نہیں کہ اس جامعہ نے تحقیقی، تخلیقی اور جدت طرازی میں اپنا لوہا منوایا ہے۔ایک عشرے سے کم عرصے میں یہ جامعہ ملک کی ممتاز جامعات کی صف میں شامل ہو چکی ہے ۔ 20 ہزار سے زیادہ طالبعلموں کی حامل درس گاہ کے زیر انتظام 38 تعلیمی شعبے کام کر رہے ہیں۔ اس کا اپنا شاندار بنیادی ڈھانچہ ، چار رکن کالج، مختلف شہروں میں چار ذیلی کیمپس او رایک سو کے لگ بھگ ملحقہ کالجز ہیں۔ 43 کمپیوٹر لیبز، 57 سائنس لیبارٹریز اور بڑی مرکزی لائبریری بھی نمایاں ہیں۔ اس جامعہ نے کمیونٹی ڈویلپمنٹ کے ضمن میں ثقافتی ، تہذیبی، مذہبی ، فنی اور ادبی میدانوں میں سول سوسائٹی کے ساتھ مل کر مکالمے اور اجتہادی فکر کو خوب فروغ دیا ہے ۔ ایک سو کے قریب عالمی اور قومی کانفرنسوں، ورکشاپس، سیمینارز اور سمپوزیم کی میزبانی کی۔ تعلیم و ترقی کے اس قابل فخر حاصل کے باوجود مجھے رابرٹ براﺅننگ کی نظم "Rabbi Bin Ezra" کی آفاقی سطور یاد آرہی ہیں کہ "Grow old along with me! The best is yet to be" جی ہاں جو بہتر ہے وہ ابھی آنا ہے ۔ جامعہ گجرات اللہ کے فضل و کرم سے ایک ایسے مقام پر پہنچ چکی ہے جہاں ایک بہترین لائحہ عمل مرتب کر کے ،علمی مواد کو دستاویزی شکل دے کر ،نظم و ضبط کے قوانین کی نوک پلک سنوار کے نئی منزلوں کی طرف آگے بڑھ سکتی ہے ۔ پیشہ وارانہ ترقی او رنشوونما کے لیے مقابلے بازی کا رجحان پیدا کر کے عظمتوں کو اور زیادہ یقینی بنا سکتے ہیں۔ بلاشبہ بہترین طرز عمل، اخلاقی تربیت اور پیشہ وارانہ اخلاقیات کے فروغ سے ہم اپنی سر بلندی کا ہدف اور زیادہ شاندار طریقے سے حاصل کر سکتے ہیں ۔ انڈسٹری اور اکڈیمیا لنکجز کو ثمر آور بنا کر قومی معیشت و معاشرت میں حصہ ڈال سکتے ہیں۔ جامعہ گجرات کی انتظامیہ نے بنیادی ڈھانچہ قائم کیا اور متحرک علمی و تحقیقی عظمت کو فروغ دینے کا مقصد طالبعلموں کی علمی و فکری مہارت و تربیت سے حاصل کیا ۔ اس نصب العین کا فریضہ اب ایک درد مند دل رکھنے والے محب وطن استاد اور باصلاحیت منتظم کو سونپ دیا گیا ہے ۔ ٹی ایس ایلیٹ کی فلسفیانہ نظم "Brunt Norton" کی سطور میری بات کی تشریح کے لیے ضروری ہیں کہ ”حال اور ماضی دونوں ہی مستقبل میں موجود ہیں اور مستقبل ماضی میں پنہاں ہیں ۔ 
اس تناظر میں ڈاکٹر ضیاءالقیوم صاحب نے ایک بڑے میدان میں پاﺅں رکھے ہیں جو ان کے لیے بڑا چیلنج ہے تاہم ایک متحرک شخصیت کے مالک جانشین کے طور پر ان کی صلاحیتیں ایسی ہیں کہ وہ مشکلات کا حل تلاش کر سکیں گے۔ ان کی راہنمائی میں ہمارا ادارہ مستحکم سے مستحکم ہوتا جائے گا ۔ مجھے یقین ہے کہ خلوص نیت اور فضل ربی کے حامل ڈاکٹر ضیاءالقیوم کی قیادت میں یونیورسٹی آف گجرات کی علمی روایات مزید مضبوط ہوتی جائیں گی اور نئی اقدار پرانی اقدار سے جڑی رہیں گی اور ارتقاءتسلسل کا حامل ہو گا ۔ ہم سب پر امید ہیںکہ نئے وائس چانسلر صاحب کی دیانت ، صداقت ، میرٹ اور انصاف کے واضح تصور پر مبنی قیادت سے نئی راہوں او رمنزلوں کی تسخیر ہو گی اور پیشہ وارانہ عظمتوں کا حصول ممکن ہو سکے گا ۔ جامعہ کے قابل اعتماد سربراہ یقیناً یونیورسٹی کی ترقی اور سربلندی کے عمل کو تیز کرنے کے لیے حقیقت پسندانہ عملیت کا راستہ اپنائیں گے ۔ قوی امید ہے کہ ڈاکٹر ضیاءالقیوم صاحب کی ملنسار بردباری انکی ہمدردانہ فطرت، مسائل کو حل کرنے والے مزاج اور ترقی کے تصور پر مبنی فکر و عمل سے یونیورسٹی میں کام کرنے والوں کے درمیان پر جوش تعلق جنم لے گا اور کام کرنے اور کارکردگی دکھانے والا ماحول پیدا ہو گا یعنی ایک ایسا ماحول جس میں ہر کوئی اس مادر علمی کی بلندی اور عظمت میں اپنا بھرپور کردار ادا کرے گا۔ اس ادارہ نے ابھی طویل مسافت طے کرنی ہے اور یہ سفر ضیائے قیوم کی موجودگی میں آساں سے آساں تر ہو جائے گا۔ میں ڈاکٹر ضیاءالقیوم کا خطہ یونان کی شہرت رکھنے والے شہر گجرات میں خیر مقدم کرتے ہوئے کہنا چاہوں گا کہ کا رلائل نے اپنی تحریر 'Past and Present' میں کہا ہے کہ :۔ 
رحمت ہوئی اس شخص پر جسے اپنا کام مل گیا 
اسے چاہیے کہ وہ پھر کسی اور نعمت کا تقاضا نہ کرے 
ایک انگریز شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ :۔ 
Work apace, apace, apace
Honest labour bears a lovely face

منگل، 16 دسمبر، 2014

المیہ مشرقی پاکستان اور جرنیلوں کا کردار




دسمبر 1971ءمیں قائداعظم کے پاکستان کی تقسیم اور مشرقی پاکستان کے ”بنگلہ بدھو “(بنگال کا بھائی)کے بنگلہ دیش اور مغربی پاکستان کے ”قائد عوام “کے نئے پاکستان کی تخلیق جنوبی ایشیاءکی حالیہ تاریخ کا سبق آموز باب جبکہ ہماری ملی تاریخ کا اذیت ناک اور فوجی تاریخ کا عبرتناک سانحہ ہے ۔ تاریخ کے اوراق شاہد ہیں کہ سقوط مشرقی پاکستان چند جرنیلوں کی ہوس اقتدار کی وجہ سے فوجی قوت کے بل بوتے پر سیاسی امنگیں پوری کرنے کی ایسی ناکام داستان ہے جس نے ظہور پاکستان کے بعد قحط الرجال کی شکار قوم کے ہر شعبہ ، حیات میں زوال کی تصدیق کر دی ۔ قائداعظم کا پاکستان کئی برس پہلے مر چکا تھا لیکن اس کی تدفین کا کام 16 دسمبر 1971ءکو اس وقت مکمل ہو ا جب جنرل نیازی نے ہزاروں فوجیوں سمیت جنرل جگجیت سنگھ اروڑا کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے ، یہ پاکستان کے لئے ذلت و رسوائی اور بھارت کے لئے جشن منانے کا دن تھا ۔
جغرافیائی لحاظ سے وفاق پاکستان مشرقی و مغربی یونٹوں کے درمیان تقریباً گیارہ سو میل کے فاصلے کی وجہ سے دفاعی مشکلات کا شکار تھا چنانچہ جنوری 1955 میں جنرل محمد ایوب خاں نے دفاعی حکمت عملی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا۔ ” مشرقی پاکستان کا دفاع وہاں سے نہیں کیا جا سکتا اگر وہاں تمام فوجی طاقت بھی مجتمع کر دیں تو بھی اس کا دفاع ممکن نہیں اس لئے ہمیں مغربی پاکستان میں اپنی فوجی بنیاد مضبوط بنانا ہو گی اور عوام کو اس حقیقت کا اعتراف کر لینا چاہئے “۔ چنانچہ قیام پاکستان کے بعد دفاعی نا خداﺅں نے مسلح افواج کے بڑے حصے کو مغر بی پاکستان میں تعینات رکھا، بس ایک ڈویژن بھر فوج مشرقی پاکستان میں رکھی اس طرح دونوں اکائیوں میں مسلح افواج کی غیر منصفانہ تقسیم سے فوجی توازن کا پلڑا مغربی بازو کی طرف بہت زیادہ جھک گیا ۔ جنرل کمال متین کہتے ہیں کہ چونکہ اہمیت کا مرکز مغربی بازو میں تھا ، سیاسی و فوجی طاقت غیر بنگالیوں کے ہاتھوں مرتکز رہی لہذا دفاع کی یہ حکمت عملی قومی منصوبہ بندیوں میں بڑی مقبول ہوئی کہ مشرق کا دفاع مغرب سے ہو گا “۔ تخلیق پاکستان کے بعد پہلے عشرے میں ہی یہاں کے مقتدر طبقوں نے ریاستی سطح پر وفاق اور اتحاد کے اصولوں کو زبردست مرکز پسند سیاسی نظام کے ذریعے کچلا تو مشرقی پاکستان میں لسانی علاقائیت نیشنل ازم میں بدلنے لگی ۔ سول بیورو کریسی اور فوج نے بنگالی راہنماﺅں کی جانب سے سیاسی شرکت اور عدم مرکزیت کے مطالبات کو اپنے لئے خطرہ سمجھا اور اس کے تدارک کے لئے سخت انتظامی پالیسی وضع کی ۔ فریب خوردہ سیاسی حکمت عملی نے بنگالی اجنبیت کو فروغ دیا چنانچہ 1963ءمیں دسویں ڈویژن کے کمانڈر میجر جنرل خواجہ واحد الدین نے کہا کہ ” مرکزی حکومت کے کرنے کا کام صرف یہ ہے کہ تقسیم کے بعد سے مشرقی بازو میں کی جانے والی غلطیوں کو پہچانے اور تسلیم کرے اور پھر ہمدردی اور مفاہمت کے ساتھ مشرقی بازو کے مسائل حل کرنے کی کوشش کرے ،طاقت یا جبر کے اقدامات نہ صرف ناکام ہوں گے بلکہ وہاں پائی جانے والی ابتر سیاسی صورتحال میں مزید ابتری پھیلانے کا سبب بنیں گے “جی ایچ کیو کے دفاعی فلسفے کا پہلا امتحان 1965میں ہوا ۔ اس سترہ روزہ جنگ کے بعد ذوالفقار علی بھٹو نے قومی اسمبلی میں کہا کہ ” مشرقی پاکستان کو چین نے بچا لیا “۔ یہ کوئی معمولی بیان نہیں تھا اس نے بنگالی فکر میں انقلابی تبدیلیاں پیدا کر دیں ۔ بنگالی دانشور میزان الرحمن نے اپنی کتاب ”دی ایمر جنس آف بنگلہ دیش “میں تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ اس جنگ کا سب سے پہلا اور اہم ترین پہلو جغرافیائی دور ی اور مشرقی بازو کے غیر محفوظ ہونے کا احساس شدت سے ابھرا، تصادم کے سترہ دنوں میں مشرقی بازو کو معیشت اور دفاع کے معاملات میں اس کے حال پر چھوڑ دیا گیا وہاں محض ایک انفنٹری ڈویژن ایک ٹینک رجمنٹ اور کوریا کی جنگ کے بچے کھچے ایف۔ 86 امریکی طیاروں کا ایک سکوارڈن تھا جس کے مقابلے میں بھارت کی طاقتور فضائی قوت کا خطرہ ہر وقت موجود تھا“۔ اس سے مشرقی پاکستان میں علیحدہ اور مستقل دفاع کا مطالبہ سامنے آیا کیونکہ بصورت دیگر پاکستان سے اتحاد کا کوئی عملی فائدہ نہیں تھا، بے اطمینانی بے تابی میں تبدیل ہوتی رہی ۔ اسی جنگ میں جنرلوں کے ناقابل شکست ہونے کا بھرم ٹوٹا تو صوبائی خود مختاری کے لئے جدوجہد میں مصروف بنگالی کارکنوں کے حوصلے بلند ہو گئے چنانچہ 1966ءمیں اگر تلہ سازش کا سراغ لگا لیا گیا ۔ یہ محض افسانہ نہیں تھا بلکہ اس کی تصدیق مسٹر اشوک رائنا نے اپنی کتاب Inside Raw میں تفصیلی ذکر سے کی ہے ۔ جنگ کے بعد کساد بازاری کا ریلا آیا تو ریاستی وسائل کا رخ مزید مغربی پاکستان کی فوج کیطرف کر دیا گیا اس سے اقتصادی عدم توازن مزید بڑھا تو حالات کی نزاکت دیکھ کر دس سالہ جرنیلی اقتدار دوسرے جرنیل کو 25 مارچ1969ءکو منتقل کر دیا گیا۔ ہربرٹ فیلڈ مین کے لفظوں میں یحییٰ خاں وہ وارث تھا جسے دونوں صوبوں کے درمیان تعلقات کی میراث میں منفعت سے زیادہ قرضوں کا بوجھ ہے ۔ چہرہ بدل گیا مگر عوامی جمہوری نظام نہ آسکا ۔ایک جنرل نے 1956ءکا آئین منسوخ کیا تو دوسرے نے 1962ءکا کالعدم قرار دے دیا ۔ 1970ءکے انتخابات کا اعلان ہوتے ہی دونوں بازوﺅں کی جانب سے لعن طعن اور تنقید کی رسوا کن مہم شروع ہو گئی ۔ لارنس زائرنگ کے خیال میں اگر 1970ءکے الیکشن کے موقع پر کوئی دستور نافذ ہوتا تو اس کے نتائج آئینی حدود کے اندر رہتے اور ان سے کوئی خطرہ لاحق نہ ہو تا۔ مشرقی پاکستان پر نازل ہونے والی تمام آفتوں کا ذمہ دار مغربی پاکستان کو ٹھہرایا جانے لگا ۔ اسی اثناءمیں نومبر میں وہاں سمندری طوفان اور سیلاب آگیا فوج کے آئینی فرائض میں شامل ہے کہ وہ آفات، بلوﺅں یا ہنگاموں کی حالت میں مسائل سے نمٹنے کے لئے حکومت کی معاونت کرے۔ اس ہنگامی حالت میں مشرقی پاکستان کے گورنر ایڈمرل احسن اور مجیب الرحمن کے اصرار اور بار بار اپیلوں کے باوجود کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل یعقوب علی کی جانب سے کوئی خاص امداد نہ کی گئی۔ جب قوم اور فوج نے امداد میں لیت و لعل سے کام لیا اس وقت امریکی اور برطانوی ٹیمیں امدادی کام کے لئے مشرقی پاکستان پہنچ گئیں ۔ فوجی حکومت کی جانب سے امداد کی فراہمی میں ناکامی پر بنگالی غضب ناک ہو گئے۔ شیخ مجیب الرحمن نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ ہمارے مردوں کو دفن کرنے کی ذمہ داری برطانوی سپاہیوں کے ذمے آن پڑی ہے ۔ “ اس صورتحال میں ہونے والے انتخابات کے نتائج نے بہت سوں کو حیران کر دیا ۔ یہ انتخابات 1962ءکا دستور منسوخ ہونے کے بعد سیاسی و فوجی ٹولہ کے حکم پر کرائے گئے اور ان کا مقصد ایک نیا سیاسی نظام وضع کرنے کی بجائے ایوب خان کے سیاسی نظام کی توثیق کرنا تھا۔ چنانچہ جنرل اکبر نے جو پیشگوئی کی تھی وہ درست ثابت ہوئی تو قومی گاڑی کو مخالف سمتوں میں کھینچا جانے لگا ۔ یحییٰ خاں نے مجیب کو مستقبل کا وزیر اعظم کہہ کر اسے خوش کرنے کی کوشش کی لیکن مجیب یحییٰ کو صدر برقرار رکھ کر ممنون نہیں کرنا چاہتا تھا ۔ ہوس اقتدار کا مارا جنرل یحییٰ خان، مجیب سے مایوس ہو کر 18,17جنوری کو بطخوں کے شکار کے نام پر لاڑکانہ میں منتظر بھٹو کے پاس چلا گیا ۔ سیاسی حوالے سے یہ غیر شائستہ بات تھی کہ آئینی مذاکرات جیسے حساس موضوع پر یحییٰ خان نے بھٹو کی ذاتی میز بانی قبول کر لی ۔ 

ایک خیال یہ بھی ہے کہ پاکستان توڑنے کے حتمی منصوبے ایم ایم احمد پلان کی منظوری یہاں یحییٰ بھٹو ملاقات میں ہی دی گئی ۔ 1970کے انتخابات کے فوراً بعد بھٹو نے اپنے معاشی امور کے مشیر ایم ایم احمد اور پلاننگ کمیشن کے ڈپٹی چیئرمین قمر الاسلام کو حکم دیا کہ وہ ان کے لئے ایسی دستاویز تیار کریں جس سے یہ بات ثابت ہو سکے کہ مغربی پاکستان مشرقی پاکستان کے بغیر بھی خوشحال رہ سکتا ہے ۔ لاڑکانہ میں منظور ہونے والے اس منصوبے کا مقصد تھا مشرقی پاکستان کو وہاں پر کوئی متبادل حکومت قائم کئے بغیر چھوڑ دیا جائے یعنی جان بوجھ کر جنگ ہار دی جائے۔ انہی دنوںمیں بھارت نے جو مجیب کی مسلسل مدد کر رہا تھا دباﺅ ڈالنے کے لئے اپنی فوجیں سرحد پر جمع کر دیں ۔ یہ مجیب کے لئے واضح اشارہ تھا کہ وہ مرکز کے خلاف بغاوت کر دے ۔دوسری طرف گیارہ فروری کو بھٹو نے یحییٰ سے ملاقات کی اور اس سے اگلے روز پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے لاہور میں عوامی لیگ کے دفتر پر حملہ کر کے اس کا جھنڈا جلا دیا ۔ حالات خراب ہوئے تو جنرل یحییٰ خان نے دور رو زبعد اعلان کیا کہ قومی اسمبلی کا اجلاس 3 مارچ کو ڈھاکہ میں ہو گا ۔ بھٹو نے اس اعلان کو نا پسند کیااور 15 فروری کو لاہور میں بند کمرے میں سیاسی تعطل کو دور کرنے کا طریقہ تجویز کرتے ہوئے کہا کہ یا تو مشرقی پاکستان کو آزاد ہونے دیا جائے یا پھر مجیب الرحمن کو گرفتار کر لیا جائے، عوامی لیگ نے اس کی مذمت کی ۔ 20 فوری کو ایل ایف اومیں ایک ترمیم کے ذریعے اراکین اسمبلی کو اجلاس سے پہلے مستعفی ہونے کی اجازت دے کر بھٹو کا کام آسان کر دیا گیا انہی دنوں میجر جنرل عمر نے سیاستدانوں سے کہنا شروع کر دیا کہ وہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لئے ڈھاکہ نہ جائیں ۔ 22 فروری کو جنرل یحییٰ خان نے اسلام آباد میں صوبائی گورنروں کے ساتھ میٹنگ کی جس میں مشرقی کمان کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل یعقوب علی خاں بھی شامل ہوئے ۔ اسی کانفرنس میں فوجی کاروائی”بلٹز“ (یلغار) نامی منصوبہ منظور کیا گیا ۔ جنرل یعقوب کو کھلی چھٹی دے دی کہ اگر مجیب چھ نکات پر اپنے موقف پر تبدیلی نہ کرے تو وہ بلٹزکے منصوبے پر عمل کریں ۔ کانفرنس کے بعد جنرل یعقوب نے جنرل ہیڈ کوارٹر میں جنرل حمید سے ملاقات کی جنہوں نے حالات سے نمٹنے کے لئے اضافی بریگیڈ کی پیش کش کی ، جب بریگیڈ کے دو پلاٹون ڈھاکہ پہنچے تو مجیب پریشان ہو گیا ۔ جنرل حمید نے تیسری بٹالین بھی بھجوا دی ، انہی دنوں عوامی لیگ نے چھ نکات پر اپنے موقف میں تبدیلی پر جنرل یحییٰ خاں سے مشرقی پاکستان کا دورہ کرنے کی درخواست کی مگر اسے مسترد کر دیا گیا۔ اس طرح حالات پر قابو پانے کا اہم موقع ضائع کر دیا گیا۔ وائس ایڈمرل احسن نے زور دیا کہ صدر مجوزہ اقدام سے گریز کریںاس مشورہ کی پاداش میں انہیں گورنری سے سبکدوش کر دیا گیا ۔ 27فروری کو مجیب کو اجلاس کی نئی تاریخ کے ساتھ اجلاس ملتوی کرنے کی اطلاع دی گئی ۔ 
یکم مارچ کو قومی اسمبلی کا اجلاس ملتوی کر دیا گیا مگر نئی تاریخ کا اعلان نہیں کیاگیا، جی ڈبلیو چوہدری کے مطابق”اعلان کا مسودہ بھٹو اور جنرل پیرزادہ نے تیار کیا تھا اس ضمن میں یحییٰ خاں کی حیثیت ایک بے بس دستخط کنندہ کے سوا کچھ نہیں تھی“۔ صرف بھٹو اور قیوم خاں نے اسمبلی کے اجلاس کے التواءکا خیر مقدم کیا جبکہ عوامی لیگ نے اسے عوامی فیصلے کے خلاف سازش قرار دیا ۔التواءکے ساتھ ہی بنگالی ” ہم آزاد بنگال چاہتے ہیں “ کے نعرے لگاتے ہوئے گلیوںمیں نکل آئے مجیب نے متوازی حکومت قائم کر لی ۔ 3 مارچ کو صوبہ گیر ہڑتال نے مشرقی پاکستان کو مفلوج کر دیا حالات ابتر ہونے پر جنرل یعقوب علی نے 4 مارچ کو استعفیٰ دے دیا ۔ 1978ءمیں یحییٰ خاں نے بھٹو حکومت کی جانب سے عائد کردہ زباں بندی کے خاتمے پر تسلیم کیا تھا کہ یہ اجلاس انہوں نے بھٹو کے کہنے پر ملتوی کیا تھا ۔ 7 مارچ کو جنرل ٹکا خاں نے کمانڈر مشرقی چھاﺅنی، مارشل لاءایڈمنسٹریٹر اور گورنر مشرقی پاکستان کے فرائض سنبھالے چیف جسٹس ڈھاکہ ہائی کورٹ نے ان سے حلف لینے سے انکار کر دیا ۔ 6 مارچ کو یحییٰ خاں نے اعلان کیا کہ اجلاس 25 مارچ کو ہو گا مگر اس سے امن عامہ کا مسئلہ حل نہ ہو سکا۔ مجیب الرحمن نے چار شرائط پر شرکت کا اعلان کیا مگر معاملات طے نہ ہو سکے ۔ مشرقی پاکستان میں سول وار شروع ہو گئی، قتل و بربریت انتہاﺅں کو چھونے لگی مسلسل سیاسی محرومی نا سور بن کر بغاوت کی صورت پھوٹ پڑی۔ جنرل ٹکا نے آتے ہی ایک غلط قدم یہ اٹھایا کہ تمام غیر ملکی اخبار نویسوں ، رپورٹروں اور ٹی وی کے عملے کو ملک سے نکال دیا کئی کو مارا پیٹا ، وہ سب بھارت چلے گئے اس طرح ہم نے ابلاغیات کے غیر ملکی اداروں کی ہمدردی بھی کھو دی اور حالات کی تصویر کشی ہمارے مقاصد کے برعکس ہونے لگی ۔ 
15 مارچ کو جنرل یحییٰ خاں مسلح پنجابی دستے کی معیت میں ڈھاکہ پہنچے ۔جی ڈبلیو چوہدری کے مطابق پاکستان کی سا لمیت کے لئے یہ آخری کوشش ایسے جاں بلب مریض کو آکسیجن دینے کا عمل تھا جسے ڈاکٹر لا علاج قرار دے چکے ہوں ”آئین ٹالبوٹ کے لفظوں میں یحییٰ اور مجیب کے درمیان اعتماد کی سطح اتنی گر چکی تھی کہ ان کے درمیان اس موقع پر پہلی ملاقات بیڈ روم کے باتھ روم میں ہوئی کیونکہ عوامی لیگ کاراہنما ایوان صدر کے ڈرائنگ روم کو ”Bugged“ (جہاں خفیہ آلات لگے ہوں)سمجھتے تھے اور وہاں مذاکرات کے لئے تیار نہ تھا “۔ اس ملاقات میں مجیب کے مطالبات کے حوالے سے کچھ پیش رفت ہوئی ۔18 مارچ کو عدالتی کمیشن کا اعلان کیا گیا، 21مارچ کو بھٹو ساتھیوں کے ہمراہ ڈھاکہ پہنچے تو مجیب نے برہمی کا اظہار کیا ۔ ایوان صدر میں ملاقاتوں میں مسلسل پیش رفت ہو رہی تھی لیکن باہر ماحول خراب ہوتا چلا گیا ۔ چنانچہ 23 مارچ کو قرار داد لاہور کی 31سالگرہ کو وہاں ’یوم مزاحمت‘ کے طور پر منایا گیا ۔ سٹوڈنٹ ملیشیا نے بنگلہ دیش کے پرچم کے سائے تلے پریڈ کی مجیب الرحمن نے سلامی لی ۔دھان منڈی میں انکی رہائش گاہ کے آہنی گیٹ پر بنگلہ دیش کا جھنڈا کندہ کیا گیا ۔برطانیہ کے ڈپٹی ہائی کمیشن اور روسی قونصلیٹ نے بھی یہی جھنڈا لہرایا ۔کرنل عثمانی کو انقلابی فوج کا کمانڈر بنایا گیا جبکہ میجر جنرل (ر) مجید کی نگرانی میں سابق فوجی بھرتی کئے جانے لگے ۔ 23 مارچ کی شام کی چائے کے وقت آرمی کمان نے یحییٰ خاں کو مشورہ دیا کہ ملٹری ایکشن کا وقت آگیا ہے ۔ 
25 اور 26 مارچ کی درمیانی شب جونہی جنرل یحییٰ خاں نے ڈھاکہ سے پرواز کی ، آپریشن سرچ لائٹ کے کوڈ نام سے کریک ڈاﺅن شروع ہو گیا، جنرل نیازی کے مطابق جنرل ٹکا نے سارے وسائل اس کاروائی میں جھونک دیئے جیسے وہ اپنے ہی گم کردہ راہ افراد سے نمٹنے کی بجائے کسی حملہ آور فوج کا مقابلہ کر رہا ہو ، یہ ملٹری ایکشن کھلی جارحیت کا ایک مظاہرہ تھا ۔ یہ بخار ا اور بغداد میں چنگیز خاں اور ہلاکو خاں یا جلیانوالہ باغ میں برطانوی جنرل ڈائر کے برپا کردہ قتل عام سے زیادہ بے درد تھا “۔ ابھی تک بنگالی فوجی دستوں نے بغاوت نہیں کی تھی ۔ڈھاکہ یونیورسٹی کے اقبال اور جگن ناتھ ہوسٹلوں پر فوج نے دھاوا بول دیا ۔سینکٹروں طلباءمارے گئے ۔فوج نے اپنی آتشیں قوت کا بھرپور استعمال پولیس ہیڈ کوارٹرز اور ایسٹ پاکستان رائفلز ہیڈ کوارٹر پر بھی کیا ۔ قتل عام نے ایسٹ بنگال رجمنٹ کو مشتعل کر دیا اور میجر ضیاءالرحمن کی قیادت میں بغاوت ہو گئی ۔جنرل ٹکا کو فرض سونپا گیا تھا کہ مسلح بنگالی یونٹوں کو تنہا کر یں اور بنگالی راہنماﺅں کو حفاظت میں لے لیں ۔ مگر ٹکا نے شہریوں کے قتل عام اور ایک زمین سوز حکمت عملی (scorched earth policy) پر عملدرآمد شروع کر دیا ۔ فوج کو حکم دیا کہ مجھے زمین کی ضرورت ہے ،افراد کی نہیں ۔ اس پر عمل کرنے کے بعد میجر جنرل فرمان نے اپنی ڈائری میں لکھا کہ مشرقی پاکستان کی سبز زمین کو سرخ کر دیا گیا مگر ناعاقبت اندیشوں کی پالیسی سے بنگالی آبادی کی حق خود داری کی خواہش معدوم ہونے کی بجائے مزید طاقتور ہو گئی ۔ ڈاکٹر صفدر کے بقول بعد کے واقعات نے ثابت کیا کہ مشرقی پاکستان میں فوجی اقدام نے دراصل متحدہ پاکستان کے خاتمے کا اعلان کیا ۔ بنگالی پاکستانی فوج کو قابض فوج کہنے لگے ۔ ملٹری ایکشن بذات خود کوئی مقصد نہیں ہوتا بلکہ کسی مقصد کے حصول کا ذریعہ ہوتا ہے ۔ لازم تھا کہ ملٹری ایکشن کو امن عامہ کی بحالی تک محدود رکھا جاتا ۔ پروفیسر غلام اعظم نے الزام لگایا کہ ٹکا خاں نے خالص فوجی انداز میں فیصلے کئے جس کے نتیجے میں عناد میں اضافہ ہوا ۔ فوجی اقدام سے مشرقی پاکستان میں معنی خیز سکوت ہوا مگر سول انتظامیہ کی تشکیل نو نا ممکن ہو گئی۔ حسن ظہیر ان پندرہ مغربی پاکستانی افسران میں سے تھے جو بعد میں ڈھاکہ گئے ۔ان کے اپنے الفاظ میں وہ 17 مئی کو ڈھاکہ ایئرپورٹ پر اس طرح اترے جیسے کسی غیر ملک سے آئے ہوں۔ “ سات ملین بنگالی بھارت فرار ہو گئے ۔اس بحران کو بین الاقوامی بنانے کے لئے تری پورہ کی پہاڑی ریاست میں نو لاکھ افراد جمع ہو گئے ۔ 17 اپریل کو کلکتہ میں بنگلہ دیش کی جلا وطن حکومت قائم کر دی گئی ۔ریڈیو آزاد بنگلہ کی نشریات ”خود مختارعوامی جمہوریہ بنگلہ دیش“ کے لئے کلور گھاٹ سے جاری ہو گئیں ۔عوامی لیگ کی بیشتر قیادت بھارت میں نئے پارٹی ہیڈ کوارٹر مجیب نگر پہنچ گئی ۔ پاکستان کو متحد رکھنے کی جرنیلی سیاست اور فوجی اقدامات ناکام رہے تویحییٰ خان نے عوامی لیگ کے اعتدال پسند اور انتہا پسند عناصر کے درمیان تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کی اور 1970ءکے انتخابات میں کامیاب ہونے والے 78افراد کو نا اہل قرار دے دیا اور مشرقی پاکستان کی قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر دوبارہ انتخابات کا اعلان کیا تو دائیں بازو کے وہ عناصر جو 70ءکے انتخابات میں بری طرح ہارے ، اب سیاسی مال غنیمت سے حصہ بٹورنے کے لئے جنرل یحییٰ خان کی بی ٹیم بننے لگے ۔ کئی حلقوں میں امیدوار مقابلے پر نہ آئے تو بڑی تعداد بلا مقابلہ کامیاب قرار دے دی گئی ۔ یہ سب کچھ ان دنوں میں ہوا جب جنگ کے سائے پھیلنے لگے تھے ۔ مکتی باہنی کی گوریلا کاروائیاںبھی جاری تھیں ۔ میجر جنرل خشونت سنگھ لکھتے ہیں کہ باغیوں کا مقابلہ کرتے ہوئے پاکستانی فوج بڑے دباﺅ میں آگئی ۔بیالیس ہزار با ضابطہ سپاہیوں کے ساتھ اسے پورے مشرقی پاکستان میں پھیلی ہوئی بغاوت سے نمٹنا تھا ۔ جانی نقصان بہت زیادہ ہوا 237 جونیئر افسران، 136 جونیئر کمیشنڈ افسران اور 3,559 دوسرے عہدیدار“۔ ایسی صورتحال میں پیشہ ور فوجی ماہرین کا خیال ہے کہ مئی جون میں وقت تھا کہ پاکستانی فوج جنگ کو باغیوں کے خلاف کاروائی کے لئے بھارتی سر زمین پر لے جاتی ۔میجر جنرل خشونت سنگھ رقمطراز ہیں کہ مئی 1971ءکے تقریباً خاتمے پر گوریلوںکے تعاقب اور بھارت میں ان کے اڈوں کو کچلنے کے لئے یحییٰ کے پاس مشرق میں بین الاقوامی سرحدیں پار کرنے کا پورا جواز موجود تھا اور اس کے پاس موقع تھا کہ وہ مغرب میں بھارت پر حملہ کرکے تصادم کو ایک بھرپور جنگ میں بدل دے، وہ بھارت کے لئے سب سے برے دن تھے ۔اس کی محفوظ فوجیں ملک کے اندرونی علاقوں میں پڑی ہوئی تھیں۔ اس کے پاس جنگی ساز و سامان اور سپاہیوں کی بے انتہا کمی تھی اور عوام کا ذہن فوری طور پر جنگ کے لئے تیار نہ تھا اگر یحییٰ نے اس موقع پر حملہ کر دیا ہوتا تو وہ موسم باراں شروع ہونے سے پہلے مغربی اور مشرقی دونوں محاذوں پر بڑے مفید نتائج حاصل کر سکتا تھا“۔ بہت صحیح لگتا ہے کہ ہم اچانک حملہ کر کے بھارت کو حیرت زدہ کر سکتے تھے۔ حیر ت جنگ کی کامیابی کی چابیوں میں سے ایک ہے ، اس وقت تک بھارت اور سوویت یونین کا معاہدہ بھی نہیں ہوا تھا ۔ ویسے بھی ہم مشرقی پاکستان میں غیر اعلانیہ جنگی صورتحال سے دوچار تھے ہماری فوج مسلسل آٹھ ماہ سے لڑ رہی تھی ۔اگست 1971ءمیں مغربی پاکستان سے سینئر فوجی ڈاکٹروں کی ایک ٹیم گئی اس نے فوجی حوالے سے دورہ مکمل کر کے آخر میں رپورٹ دی کہ ہمارے فوجی جنگی خستگی کی حالت کو پہنچ چکے ہیں اور اب مزید لڑائی کے لئے موزوں نہیں رہے انہیں واپس بلا کر چھٹی پر بھیج دیا جائے ۔ مگر ہوس اقتدار کے مارے پاکستانی جنرلوں کی توجہ فوجی تربیت، پالیسی اور سازو و سامان کی بجائے کرسی کے تحفظ کی خاطر اعلیٰ فوجی عہدوں پر ترقیوں اور فوج کے لئے مادی آسائشوں کی فراہمی پر مرکوز تھی ۔ اگست میں بھارت اور سوویت یونین کے درمیان دفاعی معاہدے کے جواب میں یحییٰ نے مجیب الرحمن کے خلاف خصوصی فوجی عدالت میں مقدمہ چلانے کا اعلان کیا ۔ ہنری کسنجر نے اس مقدمہ کو ایک مایوس آدمی کی طرف سے وحشیانہ اقدام قرار دیا تھا ۔ Sission & Rose کے مطابق ”اس اقدام نے یحییٰ خان کے ان فیصلوں کی کیٹلاگ مکمل کر دی جس نے پاکستان کی فوجی حکومت کو دنیا بھر سے الگ تھلک کر دیا تھا ۔ مقدمہ کی کاروائی ابھی مکمل نہ ہو سکی کہ پاک بھارت جنگ کا اعلان ہو گیا “۔ ایک طرف سیاست و اقتدار کے شوقین جرنیلوںنے بحران کے فیصلہ کن مہینوں میں کسی عسکری پیشہ واریت کا مظاہرہ نہ کیا تو دوسری جانب بھارت کے دفاعی تھنک ٹینک مستقبل کی پیش بندی کرنے لگے ۔مئی 1971ءمیں بھارتی انسٹی ٹیوٹ آف ڈیفنس سٹڈیز کے ڈائریکٹر سبرامینم نے یہ نظریہ پیش کیا کہ لاکھوں مہاجرین کو غیر معینہ مدت تک پالنے کی بجائے اقتصادی نقطہ نظر سے بہتر ہو گا کہ بنگلہ دیش کا مسئلہ جنگ سے حل کر دیا جائے اور پھر غیر اعلانیہ جنگ میں بھارت اپنے جوانوں کے جانی نقصان پر پریشان تھا ۔ جیسا کہ مرار جی ڈیسائی نے انکشاف کیا تھا کہ مسز گاندھی نے ہزار ہا بھارتی فوجیوں کو بغیر وردی کے مکتی باہنی کے نام سے بھیجا ۔ اپریل اور دسمبر 1971ءکے درمیان اس مہم میں پانچ ہزار بھارتی سپاہی مارے گئے اسی لئے چیف آف سٹاف گاندھی کے پاس گئے اور کہا یہ نہیں چلے گا ۔ اس بات کی اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ اس طرح ہلاک ہوں آپ انہیں یا تو ان کی بیرکوں میں واپس کر دیں یا صحیح طور پر مقابلہ کریں ۔ اس پس منظر میں بھارتی افواج کی براہ راست مداخلت شروع ہو گئی ۔ یحییٰ حکومت کی ناقص خارجہ پالیسی کی وجہ سے پاکستان تنہا رہ گیا تھادوسری طرف بھارت نے 9اگست 1971ءکو سوویت یونین کے ساتھ دوستی اور تعاون کے معاہدے پر دستخط کر دیئے ۔ روس نے چین کی سرحد پر اپنی فوجوں میں اضافہ کر دیا پھر بھارت کی طرف سے ٹینکوں، توپ خانے اور گاہے بگاہے فضائی طاقت کا استعمال اسکی فوجی مہم کو نئے مرحلے میں لا رہا تھا۔ جبکہ پاکستان کی جوابی کاروائی ابہام کا شکار تھی ، جنرل یحییٰ خان اور وزیر اعظم اندرا گاندھی کے طرز عمل میں زمین آسمان کا فرق تھا ۔ یحییٰ خان مارچ کے کریک ڈاﺅن کا اندازہ لگائے بغیر خانہ جنگی کی طرف چل پڑے تھے ۔ جبکہ اندرا گاندھی دانشمندی کے ساتھ ایک ایسا نادر موقع حاصل کرنے کےلئے تیار بیٹھی تھی جو بھارت کے فوجی مبصر سبرامنیم کے مطابق” پاکستان توڑنے کیلئے تھا “۔ 

اس المیے کا ایک اور دلچسپ پہلو یہ ہے کہ بھارت اور سوویت یونین کے درمیان دفاعی معاہدے کے سات روز بعد 16 اگست کو بھارتی کمانڈر انچیف جنرل مانک شا نے مشرقی پاکستان پر حملہ کرنے کے آپریشنل آرڈرز پر دستخط کر دیئے اور یہ پلان ایسٹرن کمان کے بھارتی کمانڈر کو روانہ کر دیا۔ بھارت کو معلوم تھا کہ مشرقی پاکستان پر حملہ کا جواب مغربی پاکستان سے دیا جائے گا ۔اس لئے جنرل مانک شا نے دو روز بعد18 اگست کو ویسٹرن کمان کے لئے بھی آپریشنل آرڈرز پر دستخط کئے اور سوویت یونین بھارت معاہدے اور جنرل مانک شا کے دونوں آپریشنل آرڈرز کی نقول 22 اگست کو راولپنڈی میں جی ایچ کیو کے متعلقہ حکام کی میزوں پر موجود تھیں پنجاب کے سابق گورنر اور آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) غلام جیلانی خاں نے بتایا تھا کہ چھ ستمبر کو انہوں نے خود یہ نقول جنرل آغا محمد یحییٰ خان قزلباش کو پیش کی تھیں ۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس وقت جی ایچ کیو کے اعلیٰ منصوبہ ساز وں نے اس پر غور و فکر کرنے کے بعد فیصلہ کیا کہ بھارت کا حملہ روکنے کے لئے ضروری ہے کہ پاکستان بھارت پر پہلے حملہ کرے اور اس کے لئے 16 اکتوبر کی تاریخ مقرر کی گئی اس دفاعی حملے کا پورا خاکہ تیار کر لیا گیا ۔اس منصوبہ کی تیاری کرنے والوں کو سو فیصد یقین تھا کہ بھارت کی فوجوں کے حرکت میں آنے تک پاکستان کی فوجیں بھارتی پنجاب اور ہریانہ سے آگے نکل چکی ہوں گی۔ بھارت کے آرمرڈ ڈویژن اور ریزرو فورس کے جھانسی سے روانہ ہونے سے پہلے ہی پاکستانی افواج کے nerve center کے قریب ہوں گی ۔ اس معاملے کا المناک پہلو یہ ہے کہ جی ایچ کیو کے Brain cellنے اس پلان پر نہ صرف عمل نہیں کیا بلکہ بھارتی حملے کی تفاصیل پورے 80 دن قبل موصول ہونے کے باوجو د کوئی دفاعی منصوبہ بندی نہیں کی ۔ لمحہ فکریہ ہے کہ ایسا کیوں ہوا؟ جنرل نیازی کے بقول ”بھارتی حملے کی اطلاع کے باوجود فوجی اقدام کے آٹھ مہینوں کے دوران نہ تو صدر ،نہ کمانڈر انچیف ،نہ کسی پرنسپل سٹاف آفیسر یعنی ایڈجوائنٹ جنرل، کوارٹر ماسٹر جنرل، یا ماسٹر جنرل آرڈی نینس نے ایک نے بھی ہمارے ہاں آنے کی تکلیف گوارا نہ کی ۔ جب پاکستان کی سا لمیت کی جنگ لڑی جا رہی تھی اس مرحلے پر بھی سی او ایس جنرل جمید اور سی جی ایس جنرل گل حسن کی آمد تو کجا ان لوگوں نے ٹیلی فون کرنا بھی گوارا نہ کیا ۔“ مشرقی کمانڈر کو خفیہ اطلاعات کے بارے میں بتایا تک نہ گیا ؟ کیا مشرقی پاکستان ” جی ایچ کیو “ کی ذمہ داری نہ تھا ؟ 
اگست کے آخر سے نومبر تک مشرقی پاکستان کے ہر حلقے میں بھارت نے بٹالین اور بریگیڈ کی سطح کے متعدد حملے کئے ۔نو مبر کا وسط حملے کے لئے انتہائی ساز گار تھا ، بارش کا موسم ختم ہو چکا تھا ۔مون سون گزرنے کے بعد زمینی فوجی نقل و حرکت کے لئے ہموار ہو چکی تھی ۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ نومبر کے آخر میں حملہ کرنے سے چینی حملے کے ممکنہ خطرے کا بندوبست بھی ہو گیا ۔ کیونکہ اس وقت تک سلسلہ کوہ کے در برف سے ڈھک چکے تھے۔ میجر جنرل فضیل مقیم کے مطابق بھارتی افواج نے 21,20 نومبر کی درمیانی شب جب چاندرات تھی اور صبح عید کا دن تھامشرقی پاکستان پر ہر طرف سے حملہ کر دیا ۔ میجر جنرل لچھمن سنگھ کے مطابق ”بھارت نے حملہ کرنے کے 22 نومبر”یوم مقررہ“کے طور پر کیا تھا لیکن انہوں نے عید کی وجہ سے ایک روز پہلے حملہ کر دیا ۔ کیونکہ یہ امید تھی کہ پاکستان فوجی عید منا رہے ہوں گے “۔ حملے کے فوری بعد مشرقی پاکستان کے چیف آف سٹاف نے جی ایچ کیو میںوائس چیف آف جنرل اسٹاف میجر جنرل قریشی کو اطلاع دی ۔ جنرل نیازی نے چیف آف جنرل اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل گل حسن سے بات کرنے کی کوشش کی لیکن وہ بھارتی اندازوں کے عین مطابق ” عید منانے لاہور گئے ہوئے تھے۔ اس نازک موقع پر صدر مملکت جنرل یحییٰ خان اور چیف آف آرمی سٹاف جنرل عبدالحمید بھی جی ایچ کیو میں نہیں تھے بلکہ وہ دونوں عید کے روز بظاہر فوجیوں سے ملنے سیالکوٹ گئے ہوئے تھے حقیقتاً وہ تیتر کا شکار کھیل رہے تھے عموماً عید کے روز کوئی بھی کمانڈر انچیف مسلمان فوجیوں سے ملنے نہیں جایا کرتا ۔ یہ بھی غور طلب ہے کہ بھارتی حملے کی خفیہ اطلاعات کے باوجود فوج کی اعلیٰ کمان بیک وقت جی ایچ کیو سے غائب کیوں تھی .... ؟ میجر جنرل فضل مقیم کے بقول جب صدر یحییٰ اور سی او ایس جنرل عبدالحمید دوپہر کے بعد واپس آئے تو تمام افسران ایئر فیلڈ پر ان کے منتظر تھے۔ جہاں سے انہیں ایم آئی آپریشن روم لایا گیا،وہاں بریفنگ کا اہتمام تھا ۔اس حساس لمحے پر بھی وفادار سی او ایس جنرل حمید نے صدر کو سستانے اور میٹنگ م ¶خر کرنے کا مشورہ دیا ،تاہم مختصر میٹنگ ہوئی ۔بریفنگ کے بعد صدر نے کہا کہ انہیں صورتحال پر غور کرنے کے لئے چند گھنٹے درکار ہیں اور کہا کہ شام ساڑھے چھ بجے ایوان صدر میں کانفرنس ہو گی اس میں سیکرٹری دفاع غیاث الدین جوسی او ایس کے دفاعی مشیر بھی تھے ،دفتر خارجہ کے ممتاز علوی اور سی جی ایس جنرل گل حسن کو اندر بلا لیا گیا ۔جبکہ ڈی جی ، آئی ایس آئی ، وائس چیف آف جنرل اسٹاف ، ڈی ایم او اور ڈی ایم آئی کو باہر انتظار کرنے کے لئے کہہ دیا گیا ۔اس کانفرنس میںحملے کی بات ہوئی تو فضل مقیم کے مطابق ایک عینی شاہد کا کہنا ہے " The President looked completely nonchalant, casual and almost unconcerned. At this short and non serious meeting, the President remarked, what can I do for East Pakistan ? I can only pray". ۔
جب یحییٰ خان نے یہ کہا کہ میں مشرقی پاکستان کے لئے دعا کے سوا کیا کر سکتا ہوں ؟ تو گویا اس نے خود کو مشرقی پاکستان سے علیحدہ کر لیا حالانکہ Breaking of Pakistan کے صفحہ 24 پر درج ہے کہ یحییٰ خان نے تسلیم کیا کہ پاکستان کے تمام فوجی کمانڈروں کی پختہ رائے تھی کہ پاکستان کا دفاع مغرب سے ہو گا ، اس طے شدہ نظریے کے مطابق ہماری ریزرو فوج کو فوراً مغربی محاذ پر جوابی حملہ کرنا چاہئے تھاجو نہیں کیا گیا ۔ کیا یہ 1947 سے 1971ءتک جی ایچ کیو کے پالیسی سازوں اور متحدہ پاکستان کے دفاع کے لئے بھاری بھر کم دفاعی بجٹ صرف کرنے کا مذاق نہیں اڑایا جا رہا تھا ؟ بھارت نے مربوط طریقے سے تیزی سے حملے کی منصوبہ بندی کی تھی ۔نیم فوجی دستوں سمیت اسکی حملہ آور فوج کی تعداد پانچ لاکھ تھی ۔اس کے علاوہ اسے اپنی پانچ لاکھ کی وہ فوج بھی دستیاب تھی جو چین کی سرحد پر تھی ۔ جنگی تاریخ میں شاید ہی کسی ایک لیفٹیننٹ جنرل نے اتنی بڑی فوج کی کمان کی ہو ۔ بھارت دو ہفتوں میں مقاصد حاصل کرنا چاہتا تھا ، جنرل اروڑا نے کہا تھا کہ وہ بارہ دن میں مشرقی پاکستان کو فتح کر لے گا ۔ میجر جنرل فضل مقیم کا خیال ہے کہ مغربی پاکستان میں ایک محدود کامیابی بھی مشرقی چھاﺅنی کو جنگ کی پروا کئے بغیرجنگ جاری رکھنے کے لئے پر امید بنا سکتی تھی لیکن ایسا نہیں ہوا “۔ نہ صرف یہ کہ مغرب سے حملہ نہیں کیا گیا بلکہ معاملے کو اقوام متحدہ میں بھی نہیں لے جایا گیا ۔ ایسا لگتا ہے کہ مشرقی پاکستان میں موجود مختصر سی فوج کو قربانی کا بکرا بنایا جا رہا تھا۔ سلامتی کونسل میں معاملہ اس لئے نہیں بھجوایا گیا کہ کوئی سیاسی تصفیہ نہ ہو جائے ، مغرب سے حملہ نہ کرکے بھارت کو پورے تیرہ دن دیئے گئے تاکہ جنرل اروڑہ بارہ دنوں میں کامیابی کا خواب پورا کر لے ۔ فوج میں نظم و ضبط کا فقدان اس المیے کو منطقی انجام کی طرف لے گیا جب قوم کی ناموس داﺅ پر لگی ہوئی تھی اس وقت بھی یہ جرنیل اپنی اپنی جھوٹی اناءکے خول میں قید رہے۔ جنرل نیازی کا کہنا ہے کہ ڈائریکٹر آف ملٹری آپریشنز بریگیڈیئر ریاض نے جنگ کی پوری مدت میں ایک بار بھی مجھ سے یا میرے اسٹاف آفیسرز سے بات نہیں کی ۔ جنرل کمال متین تو یہاں تک لکھتے ہیں کہ جب یہ جنگ لڑی جا رہی تھی ان دنوں چیف آف اسٹاف جنرل حمید اور انکے چیف آف جنرل اسٹاف جنرل گل حسن کی آپس میں بول چال ہی بند تھی اور نہ گل حسن کے تعلقات جی ایچ کیو کے دوسرے پرنسپل اسٹاف افسروں کے ساتھ خوشگوار تھے ۔ خود جنرل گل حسن اپنی یاداشتوں کے صفحہ299 پر رقمطراز ہیں کہ ” میں نہیں سمجھتا کہ جی ایچ کیو کبھی اتنا غیر موثر رہا جتنا وہ 1971 میں بھارت کے خلاف جنگ شروع ہونے سے چند مہینوں پہلے تھا ۔ فوج کے اعصابی مرکز میں احکام کی غیر موجودگی اور اتفاق و اتحاد کے فقدان نے ہم پر بڑے بے رحم تھپیڑے لگائے “ ۔ ان حالات میں فیصلے بر وقت کیسے ہو سکتے تھے ۔جب مغرب سے حملے کا وقت تھا تب کیا نہیں گیا مگر بعد میں 30 نومبر کو فیصلہ کر لیا کہ 3 دسمبر کو حملہ کریں گے اس وقت تک بہت تاخیر ہو چکی تھی ۔ اس جنگ میں بالخصوص فضائیہ اپنے سربراہ کے حکم کی تعمیل میں خاموش رہی ۔ بے وقت حملے کا نتیجہ یہ ہواکہ بھارت نے ہمیں جارح قرار دے دیا ۔ بھارت نے بارہ دنوں میں ہماری ہزاروں مربع میل زمین پر قبضہ کر لیا ۔ دوسری طرف مشرقی کمان کو یہ بتایا گیا کہ مغرب میں بھی بھارت نے ہم پر حملہ کر دیا ہے ۔ 12 دسمبر کو نا گفتہ بہ صورتحال میں جنرل گل حسن نے پشتو میں نیازی کو پیغام دیا کہ 13 دسمبر دوپہر امریکہ اور چین کی مدد آرہی ہے اگلے دن فون آیا کہ دوستوں کی مدد 48 گھنٹے کیلئے موخر ہو گئی ہے ۔ مشرقی کمان کو سی او ایس نے اشارہ دیا کہ یو این سیکورٹی کونسل اسی سیشن میں سیز فائر کروا رہی ہے ۔ اسی دوران جنرل کمال متین کے مطابق پاکستان نے 5 دسمبر کی روسی تجویز منظور نہ کرکے اپنی فوجوں کے مشرقی پاکستان سے با عزت انخلاءکا آخری موقع بھی گنوا دیا۔ سوویت تجویز میں ایک سیاسی تصفیے کے لئے کہا گیا تھا اسے چین نے ویٹو کر دیا۔اس وقت سوویت یونین واحد ملک تھا جو بھارت کو روک سکتا تھا ۔ پھر مسز گاندھی نے بھی 13 دسمبر کو اوتھانٹ جنرل سیکرٹری اقوام متحدہ کے نام خط میں فوجیں واپس بلانے کا عندہ دیا تھا اسے بھی صدر یحییٰ نے تسلیم نہیں کیا ، سفارتی محاذ پر ہم کسی کی بات مان نہیں رہے تھے اور کوئی ہماری بات سن نہیں رہاتھا۔ فوجی حوالے سے 1971ءکی جنگ میں فوج کے بڑے حصے نے حصہ ہی نہیں لیا ۔ حالات اس قدر دگرگوں تھے کہ راجھستان کی سرحد سے جو ڈیزرٹ آپریشن سی او ایس جنرل حمید نے کور کمانڈر سے مل کر شروع کروایا تھا وہ جنرل گل حسن نے اپنی ذمہ داری پر رکوا دیا اور تمام فوج کو بھارتی علاقے میں واپس آنے کا حکم دیا۔ چیف آف سٹاف اور چیف آف جنرل سٹاف جن کے دفاتر چند گز کے فاصلے پر تھے انہوں نے باہمی مشورہ اور بات چیت تک نہ کی ۔رفیق ڈوگر کے بقول ہاکی میچ میں بھی کسی کھلاڑی کی جگہ بدلنے کے لئے مینجر ، کوچ اور کپتان سے مشورہ لیتا ہے ۔ہماری سرحدوں کے دفاع کے ذمہ داروں نے وطن عزیز کے دفاع کو ہاکی میچ جتنی اہمیت بھی کیوں نہ دی ؟ 
اس دوران جنگ بندی کے جو بھی مواقع آئے اعلیٰ کمان نے گنوا دیئے ۔جنرل یحییٰ اور انکا ساتھی ٹولہ حالات کو ایم ایم احمد پلان کے مطابق چلا رہا تھا ۔ آخر کار بھٹو کواعلیٰ وفد کے ہمراہ نیو یارک بھجوا دیا گیاوہ چند گھنٹوں کا سفر 3 دن میں کر کے اپنی دلچسپی ظاہر کر رہے تھے۔ وہ کابل اور تہران سے ہوتے ہوئے فرینکفرٹ گئے ۔راستے میں لندن میں مشرقی پاکستان کے چیف سیکرٹری مظفر حسین کی بیوی سے ملاقات کی اور انہیں کہا کہ اب وہ بہت دنوں تک اپنے شوہر سے نہیں مل پائے گی جسکا واضح مطلب ہتھیار ڈالنا اور جنگی قیدی بن جانا تھا ۔ وہ وہاں سے نیو یارک گئے روسی قرار داد کا وقت آیا تو انہیں نزلہ ہو گیا جبکہ یحییٰ خان کے بقول انہوں نے اتنی پی لی کہ ہوش نہ رہا ۔ بہر حال اگلے روز انہوں نے بھرپور جذباتی تقریر کے بعد پولینڈ کی قرارداد کا مسودہ یہ کہہ کر پھاڑ ڈالا کہ آپ اپنی سلامتی کونسل اپنے پاس رکھیں ۔بھٹو کی اقوام متحدہ میں اداکاری میدان جنگ پراثر انداز نہ ہو سکی۔ 14 دسمبر کو بھارتی فضائیہ نے گورنر ہاﺅس پر بمباری کی ۔ گورنر اور اسکے ساتھی مستعفی ہو کر ریڈ کراس کے زیر سایہ انٹر کانٹی نینٹل ہوٹل میں چلے گئے اسی روز چیف آف آرمی سٹاف کے سیکرٹری کا سگنل جاتا ہے کہ جنگ روکنے کی کوشش کی جائے ۔ 14 دسمبر کو جنرل نیازی کے بقول انہوں نے تصدیق کے لئے ایوان صدر فون کیا تو جنرل حمید نے کہا کہ صدر یحییٰ غسل خانے میں ہیں وہ غسل خانے میں نہیں تھے زیادہ پی کر ہوش میں نہیں تھے ۔تب ائر مارشل رحیم سے بھی بات ہوئی تو وہ بھی نشے میں معلوم ہوئے انہوں نے صدر کے حکم کی اطاعت کا کہا “ اور پھر امریکن قونصل جنرل کے ذریعے جنرل مانک شا کا مشروط پیغام آیا جسے جی ایچ کیو نے منظور کر لیا۔ حالات خراب دیکھ کر یحییٰ خان کے ان دنوں نامزد وزیر اعظم نور الامین نے ہفت روزہ زندگی 24 تا 30 جنوری 1972ءکو انٹر ویو میں بتایا کہ وہ پندرہ دسمبر کو غیر معمولی رنج و غم کی حالت میں صدر سے ملاقات کے لئے گئے تو دیکھ کر حیران رہ گئے کہ یحییٰ خان جنرل حمید کے ساتھ شراب نوشی میں مصروف مزے لے رہے تھے جنگ کے بارے استفسارپر یحییٰ نے ان سے کہا کہ ہم مجبور ہیں مگر جنگ جاری رہے گی ۔ “ اگلے روز فوج نے مشرقی پاکستان میں ہتھیار ڈال دیئے اور کہا گیا کہ 93 ہزار فوجیوں نے ہتھیار ڈال دیئے۔ یہ کیسے کمانڈر اور حکمران تھے جنہیں اپنی فوج کے صحیح اعداد و شمار تک معلوم نہ تھے ۔حقیقتاً مشرقی محاذ پر فوجیوں کی تعداد صرف 34 ہزار تھی رینجرز ، اسکاﺅٹس ملیشیاءاور سول پولیس ملا کر گیارہ ہزار بنتی تھی اس طرح کل 45 ہزار تعداد تھی ۔اگر بحری ، فضائی دستوں کے لوگوں اور ان تمام لوگوں کو بھی شامل کر لیا جائے جنہیں وردی اور مفت راشن کا استحقاق تھا تب بھی یہ تعداد 55 ہزار بنتی ہے بقیہ سول لوگ، عورتیں اور بچے تھے مگر حمودالرحمن کمیشن سمیت ہم آج تک یہی کہتے ہیں کہ ہمارے چھیانوے ہزار فوجیوں نے ہتھیار ڈال دیئے ،یہ کیسا مذاق کیا جارہا تھا۔ پھر کوئی یہ تسلیم نہیں کرتا کہ ہتھیارپھینکنے کے احکامات کس نے دیے اور کیوں دیے، ہماری تاریخ میں آج تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ ہتھیار ڈالنے کا حکم کس نے دیا ، نہ یحییٰ نے تسلیم کیا نہ کوئی اور جنرل ماننے کے لئے تیار ہے ۔ ملک میں مارشل لاءتھا ، ملک کا صدر چیف مارشل لاءایڈمنسٹریٹر اور فوجوں کا سپریم کمانڈر تھا صوبوں میں جنرل حکمران تھے جنہوں نے ساری عمر میدان جنگ میں گزاری مگر جب جنگ شروع ہوئی تو کمانڈر انچیف کا حکم فضائیہ کا سربراہ نہیں مانتا، سی او ایس کا آپریشن سی جی ایس منسوخ کر دیتا ہے ، تحفظ وطن کے لئے سٹرائیک آپریشن تیرہ روز تک شروع ہی نہیں ہو پاتا، ملک دو ٹکڑے ہو جاتا ہے ،بچے کھچے پاکستان کے بڑے حصے پر بھی بھارت قبضہ کر لیتا ہے اور جنرل صاحبان کو یہ تک معلوم نہیں کہ وہ آرڈر کون دیتا تھا ، وہ آرڈروں کی تعمیل بھی کرتے رہے اور ملک ٹوٹنے کا تماشہ بھی دیکھتے رہے ۔ انہوں نے مشرقی پاکستان کا دفاع مغربی پاکستان سے کرنے کی حکمت عملی بنائی اور مغربی پاکستان بچانے کے لئے مشرقی پاکستان کو الگ کر دیا ، کیا تاریخ ایسی پیشہ وارانہ مہارت، دفاع وطن ، حب الوطنی اور مدہوش کمان کی کوئی اور مثال بھی پیش کر سکتی ہے ۔ دسمبر 1971 میں بے حس جرنیلوں کی پیشہ وارانہ قابلیت کا پول کھل گیا ۔حب الوطنی سے زیادہ ہوس اقتدار ان کے اعصاب پر سوار رہی ، اتنا بڑا سانحہ ہو گیا مگر افسوس یہ کہ اس المیے کے ذمہ داران سقوط مشرقی پاکستان کے بعد بھی ترقی پر ترقی پاتے رہے ۔ فوج سے ریٹائر ہوئے تو پرانی ہوس اقتدار ان میں سے کئی جرنیلوں کو عملی سیاست میں لے آئی ۔ سانحہ مشرقی پاکستان کی تہہ در تہہ وجوہات میں سے اہم ترین وجہ پاکستان کے فوجی جرنیلوں کی پیشہ وارانہ فرائض سے غفلت برت کر سیاسی چسکے پورے کرنے کی ہوس تھی ۔ جب تک پاکستان میں فوج کا سیاسی کردار محدود یا ختم نہیں ہو گا وفاق پاکستان خطرات کی زد میں رہے گا ۔ 

جمعہ، 12 دسمبر، 2014

جوش کو ہوش کے تابع رکھنا ضروری ہے



ایک عربی شاعر نے کہا تھا کہ 
و اذا الحبیب اتی بذنب واحد
جاء ت محاسنہ بالف شفیع

یعنی اور جب محبوب سے کوئی برائی ظاہر ہوتی ہے تو اس کی خوبیاں ہزار سفارشی بن کر سامنے آجاتی ہیں۔ عام طور پر بھی یہی دیکھا گیا ہے کہ آدمی کسی سے محبت کرتا ہو تو اسکے عیبوں پر بھی اس کے محاسن کا غلبہ ہی نظر آتا ہے اور خامیاں غائب ہو جاتی ہیں۔ اس کے برعکس اگر کسی سے نفرت ہو جائے تو اس کی خوبیاں بھی اس کی برائیاں ہی نظر آنے لگتی ہیں۔ درحقیقت جو اپنی محبت اور نفرت سے اوپر اٹھ کر کسی شخص کے بارے میں رائے قائم نہیں کر سکتا، وہ سچ سے محروم رہتا ہے۔ بس اتنی سی بات امریکہ میں مقیم اپنے ایک انجینئر بھتیجے کو بتانی ہے۔ ایاز طفیل شیخ امریکہ سے پڑھا ہے اس لیے معلوم نہیں وہ ہم ٹاٹ سکولوں سے پڑھنے کی سعادت حاصل کرنے والوں کو سوچنے والا سمجھتا بھی ہے یا نہیں ……وہ قادری صاحب کے انقلاب اور خان صاحب کی تبدیلی کا بڑا وکیل ہے۔ اسے حق حاصل ہے کہ وہ اپنی رائے رکھے۔ مجھے ایاز شیخ کی رائے اور لندن سے محمد الیاس سمیت بیرون ممالک سے بہت سے دوستوں کی آراء ملتی رہتی ہیں۔ دیار غیر میں محنت اور ہمت سے مقام بنانے والے ایسے پاکستانی بڑے محب وطن ہیں، وہ پاکستان سے محبت کے تقاضوں کے مطابق اسے امریکہ، برطانیہ، یورپ کی طرح دیکھنے کے آرزو مند ہیں جو لائق ستائش جذبہ ہے مگر ان کی جذباتیت اپنی جگہ اور پاکستان کے زمینی حقائق اپنی جگہ ہیں۔اوورسیز پاکستانی نوجوانوں کی بڑی تعداد پوری نیک نیتی اور جوش سے پاکستان میں تبدیلی کی تحریک کی حامی ہے اور تبدیلی کے لیے عمران خاں کی حمایتی بھی۔ 
عمران خاں نے پاکستان میں جوش اور صرف جوش کی سیاست کے ایسے باب کو رقم کیا ہے جس کے بارے میں بہتر فیصلہ تاریخ ہی کر سکتی ہے۔ تاہم چند خوبیوں کے ساتھ ساتھ اس تبدیلی کی تحریک کے پس منظر اور پیش منظر میں پنہاں خامیوں کا ادراک بھی پاکستانیت کا تقاضا ہے۔ کئی لوگ عمران خان کے پرکشش نعروں کے اسیر نہیں اور وہ حقیقت پسندانہ تجزیے کی بنا پر خانصاحب سے اختلاف کی جسارت بھی کرتے ہیں کیونکہ جب کوئی صداقت لازمی ہو تو بھی تجزیے کے ذریعے اس کی منطق تلاش کرنی چاہیے۔ جب بھی کوئی لکھنے اور سوچنے والا ایسے کرتا ہے تو تبدیلی کے علمبردار خم ٹھونک کر اسے تبدیلی دشمن ثابت کرنے پر زور لگانا شروع کر دیتے ہیں، عمران خاں کے حامیوں کا جذباتی پہلو اتنا متفقہ ہے کہ ان تمام کی منطق، انداز، لہجہ اور آہنگ سب کچھ مشترک نظر آتا ہے۔ ان کا رد عمل اتنا یکسانیت کا حامل ہوتا ہے کہ یوں محسوس ہوتا ہے سب ایک ہی طرح سوچتے ہیں۔ اس صورتحال میں والٹر لپ مین کا یہ قول ہماری راہنمائی کرتا ہے کہ ”جہاں سارے لوگ ایک ڈھنگ سے سوچتے ہیں وہاں کوئی بھی شخص زیادہ سوچنے والا نہیں ہو گا“۔ خان صاحب اور ان کے سارے عقیدتمند اگر یکساں نہ سوچتے تو یہ پارٹی بڑے مثبت کردار کی حامل پارٹی بن جاتی ہے۔ خان صاحب کو بار بار اپنے ہی اعلانات اور بیانات سے پیچھے نہ ہٹنا پڑتا۔ وہ عقیدتمندوں کی ہاں کو رائے سمجھنے کی بجائے حقیقی معنوں میں مشاورت سے کام لیتے۔ خان صاحب رائے کے غیر جمہوری تصور کے حامل خود پسند فرد ہیں۔ وہ جو رائے بناتے ہیں اور جس طرح بناتے ہیں اس میں تفکر، تدبر اور عقل کی کمی واضح دکھائی دیتی ہے۔ وہ معاملات کے حوالے سے یا تو بہت جلدی کر دیتے ہیں یا ہمیشہ تاخیر، عمران خاں کی رائے انکی شخصیت کی آئینہ دار کم اور ان کی شخصیت ان کی رائے کی عکاس زیادہ بنتی جا رہی ہے۔ وہ بے صبرے ہو رہے ہیں اس بے صبری میں ان کی رائے ان کے جذبات کے زیر اثر آگئی ہے ان کی ذہانت کے زیر سایہ نہیں رہی۔ ہربرٹ اسپنسر نے کہا تھا کہ:
"Opinion is ultimately determined by the feelings and not by intellect."
یعنی آدمی جو رائے بناتا ہے وہ بالآخر احساسات کے زیر اثر بنتی ہے نہ کہ عقل کے تحت۔ انسان کی یہی کمزوری اس کو حقیقت پسندی تک پہنچنے سے روکتی ہے۔ عمران خان اور ان کے پرستار منطقی یا حقیقت پسندانہ ہم آہنگی کی بجائے جذبات اور احساسات کی بنیاد پر جڑے دکھائی دیتے ہیں۔ ذاتی اور نجی تعلقات کے حوالے سے یہ تعلق کمزور نہیں، تاہم قومی امور میں قیادت اور راہبری کے تقاضوں پر پورا نہیں اترتا۔ برادرم شیخ ایاز کی جذباتی وابستگی اپنی جگہ مگرحُب الوطنی کے تقاضے کچھ اور بھی ہیں۔ وہ جب بھی خان صاحب کی فکر و عمل کا جائزہ لیتے ہیں تو محبت اور عقیدت سے اور جب خانصاحب کے مخالفین کا ذکر کرتے ہیں تو ان کے الفاظ سے صرف اور صرف نفرت مترشع ہوتی ہے۔ یہ انداز نظر روشن مستقبل کا ضامن نہیں ہو سکتا، حالات کا تقاضا ہے کہ ہم صرف جوش کی زرہ سے باہر نکل کر ہوش مندی سے تجزیہ کر کے آگے بڑھیں۔ ولیم میک فی نے بتا رکھا ہے کہ The world belongs to the enthusiast who keep cool"۔ یعنی یہ دنیا اس پر جوش شخص کے لیے ہے جو اپنے آپ کو ٹھنڈا رکھے۔ خاں صاحب اور پرستاروں کو جوش کی طاقت کو ہوش کے تابع کر کے پائیدار تبدیلی کے قابل ایجنڈے کے بارے میں سوچنا ہو گا۔ جوش، جوش اور صرف جوش آخر میں تھکا دینے کے علاوہ کوئی ثمر نہیں دیتا۔ پاکستانیت کی اصل ضرورت یہ نہیں کہ اقتدار ایک ہاتھ سے نکال کر دوسرے ہاتھ میں تھما دیا جائے بلکہ گہرے غور و حوض سے قابل عمل مثبت اور ثمر آور پالیسیاں تشکیل دی جائیں۔ اصلاحات کے ذریعے بغیر قومی نقصان کے آگے اور بہتری کی طرف بڑھا جائے۔ خان صاحب نے سیاست میں جتنے سال صرف کیے ہیں اور جو انداز اپنایا ہے وہ دیکھ کر میرا ایک دوست عاطف رزاق بٹ اکثر تبصرہ کرتا ہے کہ تجربہ ہماری عقل کو بڑھاتا ہے مگر ہماری غلطیوں کو کم نہیں کرتا۔ 
خان صاحب کے پر جوش پلان اے، بی ناکام ہوئے، پلان سی ناکام ہونے کے قریب ہے اور پلان ڈی ان کی مایوسیوں کی کوکھ سے جنم لے گا۔ جسے کسی صورت ملکی مفاد میں نہیں سمجھا جاسکتا۔ خان صاحب کی آواز تا حال اونچی او رنعرے بلند ہیں تاہم تھکن اور مایوسی ان کے چہرے اور انداز سے عیاں ہو رہی ہے۔ وہ ہار ماننے والے نہیں حالانکہ مدبر آدمی ہار کر جیت جانے کی طاقت رکھتا ہے۔ تحریک انصاف کو ایک بار پھر وزیر اعظم کے استعفے سے پیچھے ہٹنا پڑا ہے۔ انتخابات میں دھاندلی بلاشبہ ادھورا سچ ہے۔ اس ملک کی تاریخ میں انتخابی عمل اتنا شفاف ہے ہی نہیں۔ ریاست اور اس کے ادارے سماج کے عکاس ہوتے ہیں۔ سماجی سطح پر ہم منافقت، جھوٹ اور ذاتی مفاد کے اسیر ہو کر رہ گئے ہیں۔ اس سماج کو بدلنے کے لیے بہت کچھ کرنا باقی ہے، سماج منصفانہ مزاج کا حامل ہو جائے تو مقتدر لوگ فرشتے ہی ہو جاتے ہیں۔ اب خان صاحب کو کسی ایمپائر کا انتظار کرنے، کسی دھرنا اتحادی پر یقین کرنے کی بجائے وطن عزیز میں دور رس نتائج کی حامل اصلاحات کے لیے سمجھداری سے مذاکرات کرنے چاہئیں۔ مارو، جلادو اور جل جاؤ والے مایوس لوگوں کے پاس گنوانے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ خاں صاحب بھی اپنے پلانوں کی پہ در پہ ناکامیوں پر مایوس نظر آنے لگے ہیں اور مایوس آدمی کا المیہ یہ ہے کہ انہیں ہر موقع کے اندر مشکل نظر آتی ہے۔ 
فرانسس بیکن کا قول ہے کہ "Before you attempt consider what you can perform"
جب بھی تم کوئی اقدام کرو، اس سے پہلے سوچ لو، تم کیا کچھ کر سکتے ہو۔ بلاشبہ معرفت کہیں اور نہیں بلکہ صرف اور صرف شعور میں جلوہ گر ہوتی ہے۔ عمران خاں کا حالیہ تجربہ یہ واضح کرتا ہے کہ آدمی کو قابل عمل دائرہ میں عمل کرنا چاہیے۔ ناقابل عمل دائرہ میں کام کرنا ناکامی کے خندق میں چھلانگ لگانا ہے۔ جو لوگ ناقابل عمل دائرہ میں کام کریں اور پھر جب ناکام ہو ں تو حالات کی شکایت لے کر بیٹھ جائیں وہ درحقیقت دوسروں کی شکایت نہیں کرتے بلکہ خود اپنی نادانی کا اعلان کر رہے ہوتے ہیں۔ مایوسی میں مرنے والے کی ساری زندگی بیکار جاتی ہے۔ خانصاحب کے چاہنے والوں کو اس موقع پر اندھے جذبات کی تقلید کی بجائے اپنے کھرے تجزیے اور روح عصر سے ہم آہنگ محبت کا اظہار کرنا چاہیے۔ ہیجان خیزی کے اس دور میں ہمیں اس احساس کو اجاگر کرنا ہے کہ ایسی فضا جہاں تصورات اور افکار کو پنپنے اور پھلنے پھولنے کے آزادانہ مواقع حاصل ہوں۔ یہی احسا س حقیقی تبدیلی اور اس کے استحکام کا سبب بنے گا۔  

جمعہ، 5 دسمبر، 2014

مرد ناداں پہ کلام نرم و نازک بے اثر


حضرت عمرؓ کا ایک قول ہے، وہ اکثر اپنے اس قول کو دہرایا کرتے تھے ”اخوف ما اخاف علیکم اعجاب المرء برأیہ“ یعنی سب سے زیادہ میں جس چیز سے تمہارے بارے میں ڈرتا ہوں، وہ ہے آدمی کا اپنی رائے کو پسند کرنا۔ اپنی رائے ہی کو رائے سمجھنے کا مزاج ہلاکت کی بد ترین مثال ہے۔ مولانا وحید الدین خاں لکھتے ہیں کہ ”جس شخص کے اندر یہ مزاج پیدا ہو جائے وہ بس اپنے خیالات میں گم رہتا ہے، اس کو اپنے باہر کی صداقت کا علم نہیں ہوتا۔ وہ سمجھتا ہے کہ میں حق کی پیروی کر رہا ہوں، حالانکہ وہ صرف اپنی خواہشات کی پیروی کر رہا ہوتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ میں معاملہ کی سچائی تک پہنچ گیا ہوں حالانکہ وہ صرف اپنی ادھوری رائے میں بھٹک رہا ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اپنے ذہنی خول سے باہر نکلنا ہی نجات اور کامیابی کا آغاز ہے جو لوگ اپنے ذہنی خول سے نہ نکلیں ان کا ذہنی خول ان کے لیے قبرستان بن کر رہ جاتا ہے“ حضرت عمرؓ کا یہ قول اور اس پر مولانا وحید الدین کی تفہیم مجھے میرے گذشتہ کالم ”ہوا نے بھید سبھی موسموں کے کھول دیے“ پر لندن سے ایک دوست محمد االیاس کے مسلسل تبصروں کی بنا پر یادآئے۔ 
ہماری سماجی و سیاسی زندگی میں حالیہ تبدیلی کی جوشیلی تحریک کے پرستار حقیقت میں حضرت عمر ؓ کے اس قول کے عکاس ہیں۔ انہوں نے سرخ عینک لگائی ہے اور یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ دنیا صرف سرخ ہے۔ حالانکہ اس دنیا کے کئی اور رنگ ہیں جن کا ادراک انہیں صرف اس وجہ سے ہی نہیں ہو پا رہا کہ وہ آنکھوں کی بجائے عینک سے دیکھنے لگے ہیں، انہیں خانصاحب کی ذات میں مسیحا نظر آتا ہے اور جب کوئی کسی راہنما کی عقیدت میں گرفتار ہو کر اس کا بُت بنا لے تو صرف پوجا ہی کر سکتا ہے۔ 
عمران خاں کی موجودہ سیاسی تحریک ان کی مرضی کے نتائج نہیں دے رہی۔ ان کے جذبات محض کے عکاس سیاسی پلان باری باری ناکام ہو رہے ہیں اور جس کی وجہ سے وہ خود اقرار کرتے ہیں کہ ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔ مگر ان کے ”عقیدت مند“دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ ناکامی نہیں بلکہ دھیرے دھیرے آگے بڑھنے کا عمل ہے۔ محمد الیاس یہ بھی سوال کرتے ہیں کہ کیا آپ جواب دے سکتے ہیں کہ خانصاحب کو پلان اے، بی، سی کیوں دینا پڑا……؟ پھر خود ہی اس کا جواب بھی دے دیتے ہیں کہ شریف برادران کی خود سری اور اکڑ کی وجہ سے ایسا کرنا پڑا ہے۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ خان صاحب عمل کے سیاستدان نہیں رد عمل کے کھلاڑی ہیں۔ سیاست کے اچھے موسم میں بھی خانصاحب اقتدار کے ایوانوں تک نہ پہنچ سکے۔ عمران خاں کی ناکامیوں میں دوسروں کی اکڑ سے زیادہ ان کی اپنی ہٹ دھرمی اور نفرت کی سیاست عمل دخل ہے۔ ڈیل کارنیگی نے لکھا تھا کہ جب ہم اپنے دشمنوں سے نفرت کرتے ہیں تو ہم ان کو اپنے اوپر غلبہ دے دیتے ہیں۔ غلبہ اپنی نیند پر، اپنی اشتہاء اور اپنی خوشی پر،وہ خوشی  سے ناچیں اگر وہ جان لیں کہ وہ ہم کو کتنا زیادہ پریشان کر رہے ہیں۔ ہماری نفرت ان کو کچھ نقصان نہیں پہنچاتی البتہ وہ ہمارے دنوں اور راتوں کو جہنمی عذاب میں تبدیل کر رہی ہے۔ دوسروں سے نفرت کرنا خود اپنے آپ سے نفرت کرنا ہوتا ہے۔ خانصاحب کی شریف برادران سے عداوت نے ان کے اعصاب پر بوجھ ڈال رکھا ہے۔ وہ کچھ مثبت اور منطقی سوچنے کی بجائے اسی نفرت کا شکار ہو کر رہ گئے ہیں۔ ان کے اعلانات اور میلا نات سنجیدہ سوچ بچار کے بغیر نظر آتے ہیں۔ ابھی 30 نومبر کو انہوں نے ملک کو بند کرنے کا منصوبہ بنایا تو اس پر بھی تدبر و تفکر نہیں کیا۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں اگلے ہی دن تاریخوں کو تبدیل کرنا پڑا۔ اس سے قبل وہ ملکی معیشت کو ہنڈی کے ذریعے مضبوط کرنے کی حب الوطنی دکھا چکے ہیں۔ دراصل خاں صاحب سیاست میں فاسٹ باؤلر بننے کے لیے کوشاں رہے ہیں۔ چند سال قبل انہیں ”چوہدری برادران“ سے نفرت ہوئی تو انہیں لگا ملک کے سب سے کرپٹ راہنما یہی ہیں پھر ان کے اعصاب پر الطاف حسین چھا گئے، کچھ عرصہ پہلے وہ پرویز مشرف کی محبت میں گرفتار ہوئے اور ایک نشست کی بنیاد پر وزارت عظمیٰ نہ دینے کے مشرف کے غیر جمہوری فیصلے سے نالاں ہو گئے۔ ان کے سیاسی تدبر نے خوب جان لیا کہ شیخ رشید جیسے شخص کو تو وہ چوکیدار بھی نہ رکھیں مگر پھر انہی سے سیاسی محبت کی پینگیں بڑھا لیں۔ شیخ رشید اور خانصاحب میں شریف برادران سے نفرت کے علاوہ شاید ہی کوئی اور قدر مشترک ہو۔ ڈیڑھ، دو سال قبل جاوید ہاشمی جمہوریت کا سب سے بڑا استعارہ تھا مگر جب اس نے سازشی سیاست سے اختلاف کیا تو باغی سے داغی ہو گیا۔ عمران خاں کی سیاست نفرت کے سہارے چل رہی ہے۔ خان صاحب فاسٹ باؤلر رہے ہیں اور خوب جانتے ہیں کہ جب بھی فاسٹ باؤلر بے صبرا ہو تا ہے اس کی لائن لینتھ خراب ہو جاتی ہے اور مخالف ٹیم باؤلر کے اندھے زور کے باوجود آسانی سے اور زیادہ رنز بناتی ہے۔ عمران خاں کی بے صبری نے قوم کے تین چار ماہ ضائع کر دیے ہیں۔ وہ 14 اگست کے بعد آپے سے باہر ہو گئے اور مذاکرات کے ذریعے جمہوریت کے ارتقاء کے لیے اصلاحات کی کامیابی سمیٹنے کی بجائے وزیر اعظم کے استعفیٰ کی رٹ لگا بیٹھے۔ قادری صاحب کے دھرنے کے خاتمے کے بعد انہیں اپنی قدر و قیمت کا احساس ہوا تو پھر مذاکرات کی صدا لگانے لگے۔ کیا خان صاحب اپنے نفسیاتی مسائل کے ذریعے قوم اور ملک کے چار ماہ کے نقصان کو پورا کریں گے۔ اگر انہوں نے اچانک استعفیٰ کے مطالبے سے پیچھے ہٹنا ہی تھا تو جب جرگہ اور سارا ملک کہہ رہا تھا تب کیوں نہیں سوچا۔ اب عقل آہی گئی ہے تو کیا وہ تاریخ کے باب میں اپنے خلاف ایف آئی آر درج کروائیں گے۔ دھرنا کے بعد جو صورتحال بنتی گئی اس میں حقیقت پسندی سے کام لیا ہی نہیں گیا۔ ایلیٹ نے بڑے پتے کی بات کہہ رکھی ہے کہ اگر تم کسی گول چھید میں جا پڑو  تو تمہیں اپنے آپ کو گیند بنا لینا چاہیے۔ یہ زندگی میں کامیابی کے لیے نہایت قیمتی گر ہے۔ مگر خانصاحب کے چاہنے والے تو انہیں غلطی سے پاک فرشتہ سمجھتے ہیں۔ انکے آمرانہ مزاج کا ہی شاخسانہ ہے کہ جب بھی وہ ایسا کوئی غیر منطقی فیصلہ یا اعلان کرتے ہیں تو کوئی انہیں مشورہ دینے کی بھی جسارت نہیں کرتا۔ 
سب سمجھتے ہیں بات مطلب کی  
کس نے سمجھا بات کا مطلب  
حقیقت کبھی اتنی سادہ نہیں ہوتی جتنا ایک مخلص آدمی اسے سمجھ لیتا ہے۔ غلطی کرنا ایک وقتی فعل ہے مگر غلطی تسلیم نہ کرنا ابدی جرم ہے۔ ایسا کرنے والے اپنے ہاتھوں خود ہلاک ہو جاتے ہیں۔ غلطی نہ ماننا سب سے بڑی غلطی ہے اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جو شخص دوسرے کو مجرم ظاہر کرنا چاہتا ہے وہ خود اپنی نظر میں مجرم بن جاتا ہے۔ دانشمند وہ ہے جو ایک چیز اور دوسری چیز میں فرق کو جان سکے۔ حقیقت کی دنیا میں وہی کامیاب ہوتا ہے جو حقیقی مسئلے میں بر وقت فرق کر سکے اور حقیقی مسئلے پر پوری توجہ دیتے ہو غیر حقیقی مسئلے کو نظر انداز کر دے۔ خاں صاحب کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ شریف برادران کے نکل جانے سے نظام بہتر نہیں ہو گا۔ اس ملک میں شریف برادران کی کمی نہیں تاہم نظام میں بہتری آنے سے ایسے لوگ خود بخود باہر ہوتے جائیں گے۔ حضرت علیؓ کا ایک قول کہیں پرھا تھا کہ ”العاقل ھوالذی یصنع الشئی مواضعہ“ یعنی عقل مند وہ ہے جو چیز کو اس کی جگہ پر رکھ سکے۔ یہ دانشمند آدمی کی بڑی جامع تعریف ہے۔ معلومات یا الزامات ہر شخص کے پاس ہوتے ہیں مگر باتوں کو ان کی اصل حیثیت میں رکھ کر ان کی حقیقت کو سمجھنا بہت مشکل کام ہے اسی لیے فارسی کا ایک مقولہ کہ ”یک من علم راہ دہ من عقل می باید“ ایک من علم کے لیے دس من عقل چاہیے“۔ جذباتیت، ہٹ دھرمی، ضد اور نفرت کی سیاست کرنے والوں کو محبت اور دانش کی سیاست سے کیا غرض۔ ویسے بھی کہا جاتا ہے کہ 
مرد ناداں پہ کلام نرم و نازک بے اثر 

جمعرات، 4 دسمبر، 2014

روحانی تجربے کا بیان واقعتا مشکل ہے



باطنیت کا تجربہ ایک منفیانہ خصوصیت کا حامل ہوتا ہے جسے یہ تجربہ حاصل ہو جائے وہ اس کا اعتراف کرتا ہے کہ میں بیان نہیں کر سکتا کہ میں نے کیا محسوس کیا ہے …… سو اگر اس کیفیت کو بیان نہیں کیا جاسکتا تو وہ دوسرے تک منتقل بھی نہیں کیا جاسکتا۔ لہذٰا باطنی تجربہ اگر کوئی صداقت رکھتا ہے تو یہ صداقت صرف صاحب ِتجربہ کے کام آسکتی ہے کسی اور کے لیے اسے صداقت قرار نہیں دیا جاسکتا…… اسی لیے دوسرے لوگوں پر اس کی کوئی پابندی نہیں کہ وہ اس صداقت کو تسلیم کر لیں۔ یہ خالص جذباتی احساس کا نام ہے اور جذبات یکسر ذاتی اور گونگے ہوتے ہیں۔ جو کچھ بھی ایک شخص محسوس کرتا ہے وہ اس کا احساس کسی دوسرے میں پیدا نہیں کر سکتا تاوقتیکہ وہ دوسرا شخص خود ہی محسوس نہ کرے“ روحانیت کے ممتاز مغربی دانشور ولیم جیمز کے مذکورہ الفاظ مجھے گجرات کے دارالحکمت المیر ٹرسٹ لائبریری و مرکز تحقیق و تالیف میں علم دوست اور کتاب دوست شخصیت عارف علی میر ایڈووکیٹ کی سربراہی میں خطہئ یونان گجرات کے نامور اور حقیقت پسند عوام دوست دانشور، کالم نگار اور کامریڈ راہنما افتخار بھٹہ کی حج بیت اللہ کی سعادت کے بعد واپسی پر ان کے اعزاز میں منعقدہ ظہرانے میں شدت سے یاد آئے کہ جب حاضرین کے پر زور اصرار کے باوجود افتخار بھٹہ حج کے ذہنی و  باطنی تجربے پر روشنی ڈالنے میں پس و پیش سے کام لیتے رہے۔ افتخار بھٹہ نصف صدی سے زیادہ عرصے سے لیفٹ کے دانشور کی شناخت رکھتے ہیں، کامریڈ اور مارکسسٹ ہیں، ہمیشہ سائنسی فکر کے داعی اور انسانی فضیلت کے علمبردار رہے ہیں، روشن خیال، لبرل اور اقتصادی ترقی کے آرزو مند ہیں۔ کتاب، قلم، دانش اور عقل سے ان کا رشتہ بہت پختہ ہے۔ مارکسسٹوں کا خیال کارل مارکس کی ’داس کیپٹل‘ میں رقم ان الفاظ کا عکاس ہے کہ ”اخلاقیات، مذہب، مابعد الطبیعات اور اسی قسم کے دوسرے تصورات اپنا آزاد وجود کہیں نہیں رکھتے۔ ان کی نہ کوئی تاریخ ہے نہ نشوونما۔ مذہب انسانی ذہن کی پیداوار ہے، انسان مذہب کی پیداوار نہیں“۔ بائیں بازو کے نظریے پر پختہ یقین رکھنے والے افتخار بھٹہ کے حوالے سے چند ہفتے قبل جب یہ خبر آئی کہ وہ حج کی سعادت کے لیے گئے ہیں تو سوچنے بولنے اور لکھنے والے حلقوں میں بڑی چہ مگوئیاں ہوئیں۔ سوال ہونے لگا ہے کہ کوئی شخص پرانی دنیا کو ترک کیے بغیر نئی دنیا کیسے دریافت کر سکتا ہے۔ سب کو جستجو تھی کہ وہ واپس آئیں تو ان کے روحانی تجربے سے آگاہی ضرور حاصل کی جائے۔ 

 میرا یہ ماننا ہے کہ پروردگار نے حج کو ایک رسم نہیں، ایک قلبی واردات کے طور پر فرض قرار دیا ہے۔ مکہ و مدینہ وہ مقام ہیں جہاں جو جاتا ہے اس کو امان مل جاتی ہے۔ حج حقیقت میں ہجرت کا روحانی تجربہ ہے جس کے دوران انسان اپنے رب کیطرف یہ کہتے ہوئے پلٹتا ہے کہ اے رب العالمین! میری نماز، میری قربانی، میری زندگی سب کچھ تیرے لیے ہے۔ یہ تجربہ سب کو نہ سہی کچھ حاجیوں کو ضرور نصیب ہوتا ہے اور پھر ان کی زندگی ایمان، محبت، خیر، صداقت اور امن کی روحانی بنیادوں پر استوار ہو جاتی ہے۔ روحانی طور پر زندہ و بیدار شخص خدا کی تلاش میں ایمان، محبت، خیر، صداقت اور امن کی مسافرت پر نکلتا ہے۔ اس سفر کے مسافر افتخار بھٹہ کی واپسی پر اس روحانی تجربے کے بیان کے لیے عارف میر صاحب نے خصوصی نشست کا اہتمام کیا اور مجھے بھی شرکت کی دعوت دی تو میں بڑے اشتیاق سے شریک ہوا۔ محفل میں روحانیت سے خاص دلچسپی رکھنے والوں کی تعداد زیادہ تھی۔ درویش منش میاں خورشید احمد، پیر محمد آصف، نجم الحسن، ظفر علی سید، صوفی محمد سیف، عاشق حسین عظیمی خاص طور پر مدعو تھے،میزبان عارف علی میر نے بڑی چابکدستی سے محفل کو موضوع گفتگو دیتے ہوئے کہا کہ زندگی کو مستقل طور پر ایک ہی قالب میں محبوس رکھنا نا ممکن ہے، اس لیے مذہب کو بھی سائنس کی طرح بدلتے ہوئے تقاضوں کا لحاظ رکھنا ہو گا، مذہب کے اصول ابدی ہو سکتے ہیں لیکن ان کی تعبیرات تو حالات کے ساتھ بدلنی چاہئیں۔افتخار بھٹہ کا تجربہ اس سلسلے میں ہماری راہنمائی کر سکتا ہے۔ جواب میں خاموش بیٹھے بھٹہ صاحب اورساکت ہوگئے۔ اس پر نوجوان وکیل ندیم اللہ نے مہمان خصوصی کو بولنے پر اکسانے کے لیے اوسپنسکی کی بات دہرائی کہ جو مذہب سائنس کی تکذیب کرے اور جو سائنس مذہب کی تکذیب کرے، وہ دونوں باطل ہوتے ہیں۔ بھٹہ صاحب نے بھی اسی تجربے کے لیے حج پر جانے کا سوچا تھا؟ ہمیشہ بڑے تپاک سے بولنے والے افتخار بھٹہ جواب دینے کی بجائے کسی گہری سوچ میں کھو گئے ان کی آنکھیں ہی بند نہ تھیں ایسے لگا انہوں نے ہونٹ بھی سی لیے ہیں، ایسے میں متحرک خیال ساجد راٹھور نے بھٹہ صاحب کی جذباتی کیفیت کو سمجھتے ہوئے ان کے ساکن جذبات میں تلاطم پیدا کرنے کے لیے اپنے حصے کا کنکر پھینکنے سے گریز نہیں کیا اور کہا بھٹہ صاحب نے بائیں بازو کے زندگی بھر تجربے کے بعد نئی کروٹ لینے کا شعوری اور درست فیصلہ کیا ہے۔ ایک مقام پر کھڑے رہ کر وقت گذارتے رہنا زندگی نہیں۔ قدامت پسندی مذہب کی دنیا میں بھی اسی طرح بری ہے جس طرح انسانی زندگی کے اور شعبوں میں۔ اس سے انسانی انا کی قوت تخلیق تباہ ہو جاتی ہے اور نئے نئے روحانی تجربوں کا راستہ مسدود کر دیتی ہے۔ بھٹہ صاحب متحرک فکر کے شخص ہیں وہ زندگی کو ماضی کی زنجیروں میں جکڑے رکھنے کی بجائے اپنے زمانے کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے والے بیدار ذہن کے مالک ہیں۔ میں نے عرض کیا بھٹہ صاحب کی حالت دیکھ کر کہنا پڑ رہا ہے کہ جب نیکی نفع دینے لگتی ہے تو نفع نیکی پر ہنسنے لگتا ہے۔ میری بات جیسے بھٹہ صاحب کے سینے میں لگی ان کے ساکت جسم میں حرکت پیدا ہوئی اور وہ فوراً گویا ہوئے۔ جو میں نے دیکھا، جو میں نے محسوس کیا، وہ بیان کی طاقت نہیں رکھتا۔ میرا تجربہ باطنی ہے، اس سے میرا اندر روشن ہوا ہے یہ ظاہر کا تجربہ نہیں تھا۔ بس میری پیاس بجھ گئی، قرار آگیا ہے، اطمینان ہوا ہے۔ میرا تجربہ روشنی کی مانند ہے جو نظر آتا ہے بیان نہیں کیا جاسکتا۔میری جدید محبت قدیم ابدی دولت لے کر آئی ہے۔ شیخ صاحب کیا کہوں، وہاں بہت رونق ہے۔ کعبہ میں علم نہیں کیا کشش ہے، بس اس کو دیکھتے رہنے او رمن میں بسا لینے کو دل چاہتا ہے۔ مجھے زندگی میں یہ خواہش نہیں رہی کہ میں بڑا بزرگ، اللہ والا یا صوفی بن جاؤں، مجھے مراتب کی آرزو ہی نہیں۔ میرے خیال میں انسان ہونا بذات خود عظمت کی بات ہے۔ میری بس ایک ہی تمنا رہی کہ میرا رخ مثبت رہے، میں مثبت سوچوں۔ اللہ کی طرف اور اللہ کی مخلوق کی طرف۔ حج کی سعادت سے میری تمنا کو اثبات مل گیا ہے۔ ٹھنڈ پڑ گئی ہے، بولنے کی بجائے چپ رہنے کو جی کرتا ہے۔ میں نے یہی جانا ہے کہ شیطان کے ساز و سامان بہت مہنگے ہیں اور رحمان کے تحفے بے قیمت۔ افتحار بھٹہ بول رہے تھے تو ان کی زبان میں عقیدت و محبت کا ایسا اظہار تھا کہ محفل میں موجود نرم دل پگھلنے لگے۔ بھٹہ صاحب کہنے لگے میں نے خود کو یکجا کر کے دیرینہ خواہش کو تکمیل بخشی اور اپنی رفیقہئ حیات سے پرانا وعدہ نبھایا، وہاں پہنچا تو جلال دیکھ کر کرچی کرچی ہو گیا، میں نے عرض کیا حضور، پھولوں کی پتیاں بکھرتی ہیں، تو پھل ملتا ہے۔ بھٹہ صاحب نے ایک بار پھر سکوت کو توڑا اور کہا میں نے محسوس کیا کہ خدا منتظر ہے کہ اس کا معبد محبت سے تعمیر ہو، لیکن لوگ پتھر لے کر آتے ہیں۔ میری مخلوق خدا سے محبت اس کی خدمت اور انسان کی عظمت کے نظریے کو مزید تقویت ملی ہے۔ میں سنجیدگی سے افتخار بھٹہ کے روحانی تجربے کو سن ہی نہیں رہا تھا محسوس کرنے کی سعی بھی کر رہا تھا۔ مجھے لگا جو انسانی ذات کی قدر و قیمت جانتا ہے اس کے نزدیک سچ یہ ہے کہ انسان، خدا کے غیر متبدل مقاصد کے بروئے کار آنے میں ممدو معاون بن جائے اور موجودات عالم پر قدرت حاصل کر کے اس سے نئی نئی تخلیق، خدا اور بندے کی مشترکہ ذمہ داری قرار دے، اس سے زندگی اپنی انتہائی بلندیوں تک پہنچ جائے گی۔ سچا مذہب اور نظریہ صرف وہی ہے جو خدا اور بندے میں عمل تخلیق و اشتراک سے رفاقت و تعاون کا تعلق پیدا کر دے اور وحدت مقصد کی بنا پر تمام انسان ایک ہی نظام کے پرزے اور ایک ہی کل کے جزو بن جائیں۔ میرا خیال ہے کہ مذہب صرف خیال کرنے یا محسوس کرنے کی چیز نہیں، یہ تو انسانی زندگی سے مشہود کرنے کی چیز ہے۔ افتخار بھٹہ کے لیے حج کا سفر روحانی تجربہ ثابت ہوا، اس تجربہ نے انہیں انسانیت کی کئی جہتوں سے آشنا کیا۔ میرے ساتھی ان کے اس تجربے کے حوالے سے منطقی انداز میں سوال پر سوال کر رہے تھے مگر افتحار بھٹہ ٹھہر ٹھہر کر، نمناک آنکھوں، لرزتے ہونٹوں سے جواب دیتے اور پھر چپ ہو جاتے کہنے لگے بول نہیں سکتا مگر اس تجربے کو لکھ کر کتابی صورت میں سب کے سامنے پیش کروں گا مجھے اس کتاب کا شدت سے انتظار رہے گا تاہم اس نشست میں مجھے یہ بات سمجھ آگئی کہ ٹیگور نے کیوں لکھا تھا کہ ”ستارے نے کہا ”مجھے اپنا دیا جلانے دو، یہ بحث نہ کرو کہ اس سے اندھیرا دور ہو گا کہ نہیں“۔