‏Zubair Amanat لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏Zubair Amanat لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

بدھ، 25 اکتوبر، 2017

درگاہ سے دعا تک



افلاطون نے کہا تھا کہ ”انسانی معاملات بمشکل ہی سنجیدگی سے غور کے مستحق ہوں گے، لیکن ہمیں ان کے متعلق سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہو گا“ انسان سرکشی اور نا انصافی کا پتلا ہونے کے باوجود اس قدر قیمتی ہے کہ اس کے منہ موڑنے پر خدا، خالق ارض و سما بھی افسوس کرتا ہے چنانچہ اپنے چند دوستوں کو بے سکون اور ٹینشن میں دیکھ کر نرم دل استاد ڈاکٹر غلام علی نے تجویز دی کہ برادرم سائر انور ملہی اور محترم ایاز نورانی کی ناقابل بیاں بے قراری کو قرار بخشنے کے لیے کسی درگاہ پر حاضری دی جائے اور ان کی قلبی راحت کے لیے دعا کی جائے۔  یہ دونوں دوست آج تحیر زدہ دکھائی دیتے ہیں، میں نے اتفاق کرتے ہوئے عرض کیا حیرت زدہ ہونا، انسان ہونے کی ہی ایک روش ہے، البتہ یہ نری آوارگی، بے مقصد گھومنے، مٹر گشت اور سیر سپاٹوں کی ایک صورت بھی ہو سکتی ہے اپنی حیرت کو ایک سوال کا رخ دینا ذہن کو ایک طریقہ کار میں ڈھالنے کے ہی مترادف ہے۔ ذہنی کرب معنویت سے محروم وجود یا واقعات کے تجربے یا خوف سے زیادہ پیدا ہوتا ہے۔ فلسفیانہ مزاج کے سائر انور ملہی نے کہا کہ ایسا ہی نہیں ہے، ایک رخ ناقابل بیاں ماورائے معنویت کا بھی ہے۔ اس کی آگہی اپنے ساتھ”نا قابل بیان“کا احساس لاتی ہے جس کا تجربہ ہمیں اپنی خواہش کے تحت نہیں ہوتا بلکہ ہمارے ششدر رہ جانے اور عظمت کا مقابلہ نہ کرسکنے کے باعث ہوتا ہے۔ حقیقت کے معروضی پہلو کا عالمگیر وجدان جس کی صلاحیت ہر شخص میں موجود ہوتی ہے،یہ جہالت کی جھاگ نہیں بلکہ فکر کا نقطعہ عروج ہے۔ یہ ایک شعوری وجدان ہے کیونکہ اس کی عطا کردہ آگہی علمِ دنیا کی گہرائی میں اضافے کا سبب بنتی ہے۔ ایاز نوارانی نے گفتگو کی سنجیدگی پر ضرب لگاتے ہوئے کہا، شیخ صاحب! گھبرائیں نہیں، ملہی صاحب صوفی ہو گئے ہیں۔ ان کی روحانی تشنگی کا علاج ضروری ہے۔ میں نے عرض کیا، یہ کیسے ممکن ہے، ایک ایسا بینکار جس کے ہاتھ ہر وقت مادیت کے نشان روپے، پیسے سے رنگے ہوتے ہیں، صوفی ہو جائے……؟ تو نورانی صاحب نے فوراً جواب دیا، زمانہ بدل گیا ہے آج کا تقاضا ہے کہ ہر شخص کو تھوڑا بہت صوفی ہونا چاہیے اور ہر صوفی کو تھوڑا بہت انسان ہونا چاہیے۔ روحانی قوت کے لیے اسے کسی درگاہ پر لے چلتے ہیں تاکہ اس کی بے چین روح کو قرار ملے۔ میرا خیال تھا کہ صوفی ازل اور عوام کا باہمی رشتہ ہمیشہ سے الجھن کا شکار رہا ہے ہم صوفیاء کو ایسی نظر سے دیکھتے ہیں جیسے وہ علاقہ غیر کی ہستیاں ہوں۔ صوفی کا نام سنتے ہی ہماری آنکھیں عروجی سفر کی جانب اٹھتی ہیں۔ عوامی خیال اور سماجی مقاصد اور ہیں، مقامات تصوف کی زبان اور ہے۔ ڈاکٹر غلام علی کہنے لگے،کہ عوام زمین پر زمین کا سفر طے کرتے ہیں اور صوفی زمین سے آسمان کی طرف راہ کھولتا ہے۔ بظاہر صوفی اور عوام دونوں کی منزلیں جدا جدا ہیں تاہم زمین دونوں میں مشترک ہے اور یہی صوفی اور عام انسان کے تعلق کی بنیاد ہے۔ بات چیت جاری تھی کہ گاڑی نے بریک لگائی اور غلام علی کہنے لگے ہم خانقاہ نقشبندیہ مجددیہ سیدا شریف نزد پھالیہ پہنچ گئے ہیں۔ درگاہ پر پہنچے تو سفید رنگت، متوازن قد کے باریش لیکن جوان شخص نے متانت، وقار اور مسکراہٹ کے ساتھ استقبال کیا۔ معلوم ہوا کہ یہ خلیق و شفیق اسلاف کے گدی نشین صاحبزادہ ابوبکر ہیں، وہ سجادہ نشینی کے ساتھ ساتھ والدین کی تعلیمی و تدریسی خدمات کے وارث اور انگریزی زبان و ادب کے ایک یونیورسٹی میں استاد بھی ہیں۔ درگاہ پر خوشدلانہ استقبال، محبت بھری میزبانی اور دسترخواں کی وسعت ان کے گھرانے و خانقاہ کی حُسنِ معاشرت کی آئینہ دار تھی۔ ہم نے سب سے پہلے خواجہ محبوب عالم ؒ و دیگر قبور کی زیارت کی، حاضری دی اور سلام پیش کیا۔ سادگی و شکوہ کا حسین امتزاج دیکھنے کو ملا۔ خاموشی و طمانیت کا دریا بہہ رہا تھا اور اطمینان و قرار کی بہار تھی۔ قلوب جیسے معطر ہو گئے اور بے وجہ قرار سا آگیا۔ اسی روح پرور مستی کی فضا میں ہمارے ہاتھ خود بخود دعا کے لیے اٹھ گئے، جھولیاں پھیلنے لگیں۔ بیدار ذہن، بند آنکھوں اور محسوس کرتے دل سے نکلنے والی دعا کا اپنا ایک سرور و خمار تھا۔ دعا محض خدا سے رحم کی پکار یا روحانی برجستگی نہیں۔ دعا روح کی تکثیف ہے۔ یہ ایک لحظے میں مکمل روح کو سمو دینے کا نام ہے اور ہمارے اعمال کا خلاصہ ہے۔ دعا کے انسان میں رچنے بسنے کے لیے انسان کا دعا میں رچنا بسنا ضروری ہے۔ دعا وہ لمحہ ہے جب عاجزی حقیقت بن جائے۔ اظہار ذات کے لیے ہمیں یہ سیکھنا ضروری ہے کہ طلب جاہ، تکبر اور حُب دنیا کے خولوں کو کس طرح اتار پھینکا جائے۔ کرب کی پکار جب رحمت خداوندی کا تصور بن جائے تو اسے دعا کہتے ہیں۔ دعا وہ لمحہ ہے جب کرب میں مبتلا انسان اپنا اضطراب بھول کر خدا اوراس کی رحمت کے بارے میں سوچنا شروع کر دیتا ہے۔ صرف اپنے نفس کا مشاہدہ کرنا نہیں، بلکہ مکمل انسان کا خدا کی جانب پھر جانا ہے یہ ایک مشکل صورتحال تو ہے لیکن نا ممکن نہیں۔ شاید اس کا دورانیہ ایک ساعت ہی ہو لیکن اس میں ایک زمانہ حیات کا نچوڑ پایا جاتا ہے۔ درگاہ پر دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے کیفیت بتا رہی تھی کہ ولی کامل کے پاس حاضری دے کر دعا مانگنا ایسے ہی ہے جیسے رومی نے کہا تھا 
گر تو سنگِ خارہ، مرمرشوی
چوں بصاحب دل رسی گوہر شوی 
یعنی اگر تو ناکار ہ و سخت پتھر ہے تو سنگ مر مر ہو جائے گا۔ جب کسی دل والے کے پاس جائے گا تو موتی ہو جائے گا 
دعا کے بعد حجرے میں پہنچے تو وہاں ہر طرف کتابیں ہی کتابیں بکھری ہوئی تھیں۔ اسی اثناء میں صاحبزادہ بلال صدیق ایڈووکیٹ جو سجادہ نشین کے چھوٹے بھائی ہیں وہ بھی آ پہنچے۔ ان کی آمد نے محفل کو مکالمے میں بدل دیا، بات صوفیاء کی زندگی کے محاسن سے شروع ہوئی اور خانقاہی نظام کی افراط و تفریط میں الجھ کر رہ گئی۔ انسانی تحریکیں خواہ کتنی ہی اچھی کیوں نہ ہوں جب افراط و تفریط اور عمل و رد عمل کا بازیچہ بنتی ہیں تو ان کی شکل مسخ ہوئے بغیر نہیں رہ سکتی۔ جیسے فقہ اسلامی کی تدوین نے مسلمانوں کی دینی و سماجی زندگی کو سنوارنے کا عظیم کام کیا لیکن جب اسے حیلہ بازیوں کا ذریعہ بنایا گیا تو مسلمانوں کی عملی زندگی بے روح ہوکر رہ گئی۔ایسا ہی حال تصوف کا بھی ہوا۔ شریعت و طریقت میں تفریق پیدا ہو گئی۔ مجاز پرستی، پیر پرستی، قبر پرستی نے درگاہوں کے فیض چھین لیے۔ تاہم یہ سب گمراہیاں اپنی جگہ لیکن کھرا سچ یہ ہے کہ صوفیہئ صافی نے ہمیشہ ان گمراہیوں کے خلاف آواز بلند کی۔ حضرت شیخ ابو الحسن ؒ کا قول ہے کہ ”تصوف رسوم وعلوم کا نام نہیں بلکہ اخلاق کا نام ہے۔صوفیاء و درگاہوں نے اسلامی تاریخ میں ہمیشہ اخلاقی تحریک کے طور پر مسلمانوں کی راہبری کی۔ ہملٹن گب نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ ”تاریخ اسلام میں بار ہا ایسے مواقع آئے ہیں کہ اسلام کے کلچر کا شدت سے مقابلہ کیا گیا ہے۔ لیکن بایں ہمہ،وہ مغلوب نہ ہو سکا۔اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ تصوف یا صوفیہ کا انداز فکر فوراً اس کی مدد کو آجاتا تھا۔ اور اس کو اتنی قوت اور توانائی بخش دیتا تھا کہ کوئی طاقت اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی تھی“۔ گِب کی رائے بالکل درست ہے۔ اسلامی تاریخ میں صوفیاء کے کارنامے اسی نظر سے مطالعے کے مستحق ہیں۔ مسلمانوں کی ملی زندگی میں جب بھی کوئی مشکل مقام آیا تو ان ہی بزرگوں نے بصیرت و حکمت کے ساتھ نا مساعد حالات کا مقابلہ کیا۔ ان کا ہاتھ ملت کی نبض پر تھا اور ان کا دماغ تجدید و احیاء کی تدبیریں سوچنے میں مصروف رہتا تھا۔ آج بھی لوگ صوفیاء اور درگاہوں سے ایسے ہی راہبرانہ افعال وکردار کی توقع رکھتے ہیں۔ لیکن مشائخ و خانقاہوں نے ملت کی بہتری و راہبری کی تدبیریں سوچنا کم کر دی ہیں۔ مکالمہ ابھی ادھورا ہی تھا کہ رخصت کا وقت آن پہنچا۔ علم دوست درگاہ سے واپسی پر تبرک کے طور پر تصوف کی اہم کتب کا تحفہ ملا، جسے بصد شکریہ قبول کیا،اور اجازت چاہی۔ 
معرفتِ حق کی جستجو ایک مادہ پرست بنک آفیسر کے دل کو بھی اسی طرح بے چین کر سکتی ہے جس طرح ایک عارف کے دل کو…… اسی انسانی جستجو کا نام تصوف ہے۔ حقیقی تصوف مذہب کی روح، اخلاق کی جان اور ایمان کا کمال ہے۔ اس کی اساس شریعت ہے اور سر چشمہ قرآن و حدیث۔ یہ شریعت کی نفی نہیں بلکہ اس کی توضیع ہے۔ صرف اقرار باللسان نہیں، اقرار بالقلب بھی ہے۔ لیکن اسی سفر کے دوران حاصل سفر یہ بات تھی کہ حضرت یحییٰ بن معاذ رازیؒ کا قول یاد رکھنے والا ہے کہ تین قسم کے آدمیوں کی صحبت سے بچنا چاہیے۔ ایک غافل عالم سے، دوسرے مکار فقیر سے اور تیسرے جاہل صوفی سے۔ 





منگل، 7 جولائی، 2015

لفظ جی اُٹھے تو، تو خوف سے مر جائے گا


”پاکستان ایک انوکھا ملک ہے۔ تضادات اور منافقت کا شاہکا ر۔ غیر ملکی حیران ہو جاتا ہے کہ یہ ملک کس دور میں سانس لے رہا ہے۔ بیسویں صدی میں یہ لوگ کیسے کیسے اوہام میں مبتلا ہیں۔ کس طرح کے طرزِ حیات کو اپنائے ہوئے ہیں۔ یہ لوگ جو جہالت اور لا علمی سے فائدہ اُٹھاتے ہیں، نہیں چاہتے کہ اس ملک سے جہالت ختم ہو، لیکن جہالت کے خلاف تقریریں کرتے ہیں، وہ اپنے ملک کے حالات کا شکوہ کرتے ملتے ہیں۔ جبکہ وہ خود یہ چاہتے ہیں کہ یہ انار کی برقرار رہے تاکہ استحصال جاری رہے۔ یہ لوگ فوج کے خلاف باتیں کرتے ہیں لیکن در پردہ وہ فوج کے ساتھ تعاون کر رہے ہوتے ہیں۔“
مذکورہ خیالات80کی دہائی میں پاکستان کے حوالے سے لکھی جانے والی غیر ملکیوں کی کتابوں میں سے مقبول کتاب "Breaking The Curfew:A Political Journey Through Pakistan"سے اخذ ہیں۔ یہ کتاب 1989میں شائع ہوئی جسے آکسفورڈ یونیورسٹی سے سیاسیات اور معاشیات کی اعلیٰ تعلیمافتہ صحافی اور عالمی شہرت یافتہ برطانوی جریدے”اکانومسٹ“ کی نمائندہ ایما ڈنکن نے رقم کیا۔ 1986ءمیں ایما ڈنکن کو اکانومسٹ نے جنوبی ایشیاءمیں اپنی کارسپانڈنٹ مقرر کیا۔اپنی اس کتاب میں اس نے پاکستان میں گذارے آٹھ ماہ کے دوران شب و روز کے مشاہدے، تجربے، تجزیے کو اپنے منفرد انداز میں قلمبند کیا تھا۔ مصنفہ نے بڑی گہرائی سے ہماری سیاست و معاشرت کا جائزہ لیا، ہماری قومی حیات کے بے شمار گوشوں کو تحقیقی و تنقیدی نظرسے پرکھا اور مکمل دیانتداری اور سچائی سے ان حوالوں پر فکر انگیز تبصرہ بھی کیا تھا۔ مسعود اشعر نے اس کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ” ایما ڈنکن نے اپنے عورت اور سفید چمڑی کا ہونے کا پورا فائدہ اُٹھایا، وہ ہر جگہ گئی اور ہر اس شخص سے ملی جو ہماری قومی زندگی میں کوئی حیثیت اور اہمیت رکھتا ہے ۔ عورت ہونے اور سفید چمڑی کا ہونے کی وجہ سے ہر شخص اس کے سامنے ننگا ہو گیا۔ لفظی معنی میں نہیں، اصطلاحی معنی میں۔ ویسے بعض معززین نے لفظی معنی میں ایسا کرنے کی کوشش کی جس کا اس نے کتاب میں بھانڈہ پھوڑ دیا۔ ایما کو عورت ہونے کا ایک اور فائدہ بھی ہوا۔ انسانی شخصیت کو سمجھنے کے لےے عورت کے پاس ایک چھٹی حس بھی ہوتی ہے۔ ہمارے تمام اہم اور قابل ذکر لوگوں کی ذات، شخصیت اور مزاج کے بارے میں ایما نے چند جملوں میں جو تصویر کھینچ دی ہے وہ شاید مرد لکھنے والے پوری کتاب میں بھی نہ کھینچ سکتے۔ ایما نے ہمارے سیاسی و سماجی کرداروں کو ہماری تاریخ کے تناظر میں سمجھنے کی کوشش کی اور اپنی بساط کے مطابق ہمیں سمجھانے کی جرا ¿ت بھی دکھائی۔ کتاب میں تاریخی تناظر اور مباحث میں مصنفہ نے کہیں کہیں ٹھوکر بھی کھائی۔ پاکستان کے قیام کی غایت غیر ملکی مصنفین اور محققین کو سمجھ میں نہیں آ سکتی کہ یہ محض تاریخی عوامل کی پیداوارنہیں بلکہ تاریخ کا حاصل تھا۔ خیر جدوجہد پاکستان تو اپنی جگہ ہم نے گذشتہ چھ سات عشروں میں پاکستان کے ساتھ جو کیا ہے وہ بھی غیر ملکی قلمکاروں کو چکرا کے رکھ دیتا ہے۔ 
ایما ڈنکن نے اپنی کتاب میں ہمارے سماج کی منافقت، سیاسی خود غرضی اور معاشی لوٹ کھسوٹ اور انفرادی و قومی بے حسی کا جو منظر دکھایا ہے وہ آج سے پچیس سال قبل جتنا درد ناک تھا، آج بھی اس سے بڑھ کر کربناک دکھائی دیتا ہے۔ 
اک عمرسے زخموں کا لہو چاٹ رہے ہیں 
ہم لوگ محبت کی سزا کاٹ رہے ہیں 
آج بھی اپنے اردگرد نظر دوڑائیں تو ہمارے لیڈ ر خود غرض، علماءمصلحت بین، دانشور خوشامدی، قلم کار ہرکارے، ادارے کھوکھلے، عوام راضی برضائے حاکم دکھائی دیتے ہیں اور سماج منافقت، ہوس، حسد، نفرت، جھوٹ ، دغا کے مجموعے کا نام سنائی دیتا ہے۔ ایما ڈنکن نے لکھا تھا کہ پاکستان کی سرزمین تضادات کا نمونہ پیش کرتی ہے۔ پاکستان کی حکومت میں مرکزی کردار ادا کرنے والے ایک رہنما نے مجھے بتایا کہ پاکستان ایک منافقت سے بھرا ملک ہے۔ یہاں دو قسم کی اقوام بستی ہیں۔ ایک وہ جن کی جڑیں اس سرزمین میں ہیں اور دوسری قوم وہ ہے جو نظریات اور آئیڈیلز میں بستی ہے۔ پاکستان کی بد قسمتی یہ رہی کہ ان دونوں میں شبہات اور فاصلہ بڑھتا چلا گیا ۔ پاکستان میں منافقت اور تضادات کا دوسرا سبب یہ رہا کہ یہاں طرزِ حکومت برطانوی رہا۔ قانون اور عدالتیں غرضیکہ سار ا ڈھانچہ انگریزوں نے تعمیر و قائم کیا تھا۔ آزادی کے بعد کی ضرورتوں کے تحت اس ڈھانچے میں جو بتدیلیاں رونما ہونی چاہئیں تھیں ان کی طرف کسی نے توجہ نہ دی۔ ایما نے مزید بتایا تھا کہ پاکستان میں رشوت چاروں طرف پھیلی ہوئی ہے۔ لوگ معمولی رقم کی رشوت لے کر حکومت اور ملک کو بڑا نقصان پہنچانے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔ اس رشوت نے بزنس ، صنعت اور ہر شعبے کو بری طرح متاثر کیا ہے۔سرکاری ملازمین اپنی اصل آمدنی سے کہیں زیادہ خرچ کرتے ہیں۔ ان کا رہن سہن اور طرز حیات ان کی اصل آمدنی سے میل نہیں کھاتا۔ ایک بینکر نے مجھے کہا ” یہ ایک مایوس کر دینے والا ملک ہے ۔“ ایک سیاستدان نے بتایا ” خود غرضی ہمارے ملک کی سب اچھائیوں کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے۔“ ایک ماہر معاشیات نے کہا” پاکستانی معاشرہ ایک ایسا معاشرہ ہے جو اپنے جرائم کے بارے میں بے حس ہو چکا ہے۔ “یہاں ہر شخص راتوں رات دولت مند بننا چاہتا ہے۔ یہ وہ طرز فکر ہے جس نے پاکستانی معاشرے کو جکڑ رکھا ہے۔ لوگوں کے امیر بننے کی آرزو میں مبتلا یہ معاشرہ ایسے لوگوں کو جنم دیتا ہے جو ان کی اس آرزو کا استحصال کرکے انہیں لوٹ سکے۔ ۔۔پاکستان میں ایک طرف بے حد غربت ہے اور دوسری طرف ناقابل یقین امارت۔ ۔۔یہاں لوگوں میں کتاب کے لےے محبت نہیں رہی، مطالعہ کا شوق بہت کم ہے۔کتابوں کی بجائے لوگ غیر ملکی اشیاءکی خریداری اور نمائش سے اپنی دولت مندی کا اظہار کرتے ہیں۔ 
ایما ڈنکن کی یہ کتاب میں نے 1989ءمیںقائد اعظم یونیورسٹی میں زمانہ طالب علمی میں پڑھی تھی اور پاکستانیت کے جذبات سے لبریز ہو کر کچھ نکات کو نشان زدہ کر لیا تھا کہ یہ سب میرے پاکستان کے متعلق جھوٹ ہے۔ آج ملک میں ایک بار پھر ادلتی بدلتی صداﺅں ، سیاسی و سماجی واقعات کی رنگا رنگی کے ایام میں یہ کتاب نظر آئی تو دیرینہ جذبات تازہ ہو گئے اور اس جدید تعلیم یافتہ ، مغربی صحافی اور غیرملکی لکھاری کی کہانی کو رد کرنے کے لےے قلم اٹھا لیا۔ میں نے نشان زدہ لائنوں کو دوبارہ پڑھا ان میں سے اکثر کا ذکر شروع میں کر چکا ہوں اور پوری دیانتداری سے کہہ رہا ہوں ایسا لگا جیسے ہمارے ہاں تاریخ کی حرکت تھم کر رہ گئی ہے اور ہم جامد سماج اور فکر ی جمود کے حامل جہنمیوں کی سی زندگی کی سزا کاٹ رہے ہیں۔ گذشتہ تین عشروں میں منافقت اور تضادات میں اضافہ ہو اہے ۔ ایما ڈنکن جس نتیجے پر پہنچی تھی ہم بھی دبے لفظوں میں اس کا رونا روتے رہتے ہیں۔ ا س کی کتاب پڑھ کر ماننا پڑتا ہے کہ ہم ریا کار ہیں، منافق ہیں ، ہماری ساری زندگی اپنے اپنے گرد جھوٹ، منافقت اور ہوس و بے ایمانی کا جالا بُننے اور تاننے میں گذر جاتی ہے۔ ہم نے نتیجہ اخذ کر رکھا ہے اور قلمی شہادتیں ایما نے پچیس سال قبل دے دی تھیں۔ مگر ہم ہیں کہ ہمارا ضمیر تا حال خوابیدہ ہے۔ ہم ترقی کرنے اورخوشحالی دیکھنے کا ارمان لےے ہوئے ہیں۔ کیا دنیا میں کسی منافق قوم ، بکھرتے سماج، تحلیل ہوتی ریاست اور خودغرض حکمرانوں کی قیادت میں ترقی کا کوئی زینہ طے ہو سکا ہے۔ ایما نے ہمیں آئینہ دکھا یا تھا۔ ہم تو اتنے بے حس ہیں کہ ہمیں آج تک خود احتسابی کا خیال نہیں آیا۔ میں نے لرزتے ہاتھوں سے لکھنا روک دیا ہے۔ ایما مجھے کہہ رہی ہے 
میں نے کاغذ پر سجائے ہیں جو تابوت نہ کھول 
لفظ جی اٹھے تو ، تو خوف سے مر جائے گا