‏Article by Sheikh Abdul Rashid لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏Article by Sheikh Abdul Rashid لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

پیر، 25 مارچ، 2019

قاسم علی شاہ کی اونچی اڑان


قاسم علی شاہ کی اونچی اڑان 


تعلیم ایک معاشرے کے اجتماعی شعور کو اگلی نسلوں تک منتقل کرنے کا ایک منظم عمل ہے۔یہ محض معلومات کے ابلاغ کا نام نہیں بلکہ متعلم کی چھپی ہوئی قابلیتوں کو تحریک دے کر ماضی کی دانش کو مستقبل کی تعمیر میں صرف کرنے کے قابل بنانے کا عمل بھی ہے۔بدقسمتی سے ہمارا تعلیمی نظام گوناگوں وجوہات کی بنیاد اپنے اس وظیفہ کی انجام دہی سے قاصر رہا ہے۔ دیگر وجوہات کے علاوہ اس ناکامی کی ایک بڑی وجہ معلم کا کردار بھی ہے۔ہمارے ہاں سکول،مدرسے،کالجز، اور یونیورسٹیاں تو ہیں مگر تربیت نہیں ہے۔ان تعلیمی اداروں میں ٹیچرز و انسٹرکٹرز تو ہیں لیکن حقیقی استاد و معلم نہ ہونے کے برابر ہیں،ایسا نظام تعلیم تربیت و راہنماء کے تقاضے پورے کرنے کی اہلیت سے ہی عاری ہوتا ہے چناچہ تربیت کا فقدان بڑھتے بڑھتے قحط کی صورت اختیار کر گیا ہے۔اس گھمبیر صورتحال سے نبردآزماء ہونے کے لیے لازم ہے کہ تربیت و راہبری کے در وا کیے جائیں۔



قاسم علی شاہ جن کی اونچی اڑان سے اب ایک زمانہ واقف ہے،ایک ایسے معلم ہیں جو ہمارے عہد کے تدریسی مزدوری میں جکڑے اساتذہ کے لیے رول ماڈل کی حیثیت رکھتے ہیں۔شاہ صاحب کی نہ صرف فکری اڑان بلند ہے بلکہ وہ دوسروں کو اڑنا سکھانے کا ملکہ بھی رکھتے ہیں۔وہ نہ صرف اپنی ماضی کی عظیم روایات کا گہرا شعور رکھتے ہیں بلکہ انہوں نے جدت فکر اور قوتِ عمل کو مہمیز دینے کا کارنامہ بھی سرانجام دیا ہے۔ایک بڑا استاد اپنے شاگردوں کو معلومات کے سیلاب میں بہانے کی بجائے انہیں ذہنی رجحان دیتا ہے۔ نوبل انعام حاصل کرنے والے بڑے بڑے اساتذہ و محققین کے ایک بڑے گروپ کا جائزہ لینے کے بعد ایک مبصر نے لکھا تھا کہ کسی سائنسدان کو نوبل انعام پانے کے قابل بنانے والی چیز یہ نہیں ہے کہ اس کو کہیں سے سائنسی معلومات کا بڑا ذخیرہ مل گیا تھا بلکہ وہ چیز جس نے انہیں عالمی اعزاز کا مستحق بنایا وہ صرف اخذ و مطالعہ کا ایک ذہنی رجحان تھا جو کسی بڑے سائنسدان کی صحبت سے ہی اسے ملا تھا۔اسی چیز نے بالآخر اس کو ترقی کے اعلیٰ مقام تک پہنچایا۔جناب قاسم علی شاہ بھی کوئی بڑے عالم یا محقق نہیں ہیں بلکہ اپنے ذوق و شوق کے سبب بڑے لوگوں کی صحبت سے فیضیاب صاحبِ فضل شخص ہیں۔وہ شخص جس نے طویل عرصہ علم و تجربہ میں اپنا حصہ ڈالا ہو، اس کی باتیں سادگی و پرکاری کا امتزاج ہو جاتی ہیں۔وہ جب بولتے ہیں تو علم حُسنِ ابلاغ کے پروں پر پرواز کرنے لگتا ہے۔جب تبصرہ کرتے ہیں تو ان کا تبصرہ مطالعہء کتب کا خلاصہ ہوتا ہے۔شاہ صاحب جب اپنے تجربات بیان کرتے ہیں تو وہ برسوں پر محیط سفر کو منٹوں میں سمیٹ رہے ہوتے ہیں۔قاسم علی شاہ جب مشورہ دے رہے ہوتے ہیں تو اس کے پس منظر میں نشیب و فرازِ حیات کی جھلک نظر آتی ہے۔ان کا ہر لفظ کتاب ہوتا ہے اور ان کی ہر تقریر حاصلِ مطالعہ ہوتی ہے۔یہی فلسفہ صحبت ِ اکابرین کا حاصل ہے۔اشفاق احمد،واصف علی واصف،پروفیسر احمد رفیق اختر،بابا جی عرفان الحق و ایسے ہی دیگر بزرگوں کی صحبت کا خلاصہ قاسم علی شاہ ہیں۔شاہ صاحب نے مذکورہ بزرگوں کی صحبت سے علم نہیں زاویہ نظر کشید کیا،ان کی محفلوں میں مکالمے سے معلوماتِ محض جمع نہیں کیں بلکہ تڑپ اور لگن سمیٹی۔بلاشبہ صادقین کی صحبت نے ایک ٹیوٹر کو ٹرینر بنا دیا۔جناب قاسم علی شاہ کی پہلی اڑان ایک استاد کی اڑان تھی جس نے پاس آنے والے طالبعلموں کو نہ صرف تعلیم دی بلکہ خواب دیکھنے کا ہنر بھی سکھایا۔
قاسم علی شاہ کی دوسری اڑان جس میں وہ مسلسل بلندیوں کی طرف محوِ پرواز ہیں،ایک Inspirational اور Motivational Speaker کی ہے۔پاکستان کے طول و عرض میں متعدد جامعات،کاروباری اداروں اور تنظیموں کی جانب سے ملنے والی دعوت میں جاتے ہیں اور اپنے علم اور فن کا جادو جگاتے ہیں۔ Motivational Speech اب ایک Genre کی حیثیت اختیار کر چکی ہے،اس کی ابتداء بیسویں صدی میں ڈیل کارنیگی سے ہوئی تھی۔امریکہ کا یہ نامور شخص بیسویں صدی کے افق پر موٹیویشنل سپیکر کے طور پر چھایا رہا۔ہزاروں لوگوں نے ڈیل کارنیگی سے اُمید کا درس لیا اور مایوسیوں کو چھوڑ کر کامیابی و کامرانی کے راستے کو اپنایا۔
پاکستان میں میری دانست میں اس اسلوب کو متعارف کروانے کا سہرا قاسم علی شاہ کے سر ہے جنہوں نے اس میدان میں نہ صرف لوہا منوایا بلکہ دنیا کا ایک منفرد اسلوب بھی متعارف کروایا۔ اس اسلوب کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اس کی جڑیں ہماری اعلیٰ تہذیب و اقدار میں ہیں۔اونچی اڑان کے دیباچے میں عرضِ مصنف کے عنوان کے تحت قاسم شاہ صاحب نے تین بنیادی اصول بیان کیے ہیں۔1- سچائی  2- دیانت 3- خوش اخلاقی،اور انہیں ہمارے آقا محسنِ انسانیت ؐ کی سُنت قرار دیا ہے۔میرے خیال میں یہ تینوں اصول ہر کامیاب انسان کی زندگی کا جزو لازم ہوتے ہیں۔انہیں سنت نبویؐ سے جوڑ کر قاسم علی شاہ نے ان اصولوں سے برکت بھی اخذ کی ہے جو ہماری تہذیبی زندگی کی اساس ہے۔
راست گوئی،دیانت داری اور خوش اخلاقی ایک پورا اسلوبِ زیست ہے جو کامیابیوں اور کامرانیوں کے دروازے کھولتا ہے۔حکمت و دانش کے اس سرچشمے کو اپنی روایت میں تلاش کرنا وہ خوبی ہے جس نے شاہ جی کے اسلوب کو بہت دل آویز بنا دیا ہے اور ان کی کتاب اونچی اڑان کا مطالعہ کرتے ہوئے علامہ اقبال کا شعر یاد آتا ہے کہ 
خیرہ نہ کرسکا مجھے جلوہئ دانشِ فرنگ 
سرمہ ہے میری آنکھ کا خاکِ مدینہ و نجف 
یہاں اس بات کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ اپنی روایت سے جڑا ہونے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ آپ نوعِ انسانی کی اجتماعی دانش سے فائدہ نہ اٹھائیں۔ قاسم علی شاہ نے مشرق و مغرب کی قدیم و جدید دانش سے اکتسابِ فیض کیا ہے اور حکمت کو مومن کا گمشدہ سرمایہ تصور کرتے ہوئے عقل و دانش کی ہر بات کو اپنے سامعین تک پہنچانے کی کوشش ہے۔
اونچی اڑان میں 37 عنوانات کے تحت حکمت و دانش کے موتی بکھیرے گئے ہیں اور ہر عنوان کے نیچے موضوع کا احاطہ کرنے والے کسی قولِ زریں کا حوالہ دیا گیا ہے۔جہاں رومی،سعدی اور بایزید بسطامی کاحوالہ ہے وہیں مغرب و مشرق،ایشیاء،افریقہ،یورپ اور امریکہ اور دنیا کی اکثر تہذیبوں کے اہلِ فکر و دانش کے اقوال کا حوالہ بھی دیا گیا ہے،اسی تنوع سے قاسم علی شاہ کا وسعتِ مطالعہ کے ساتھ ان کے ظرف کی وسعت کا بھی اندازہ ہوتا ہے۔
جناب قاسم علی شاہ کی یہ خوشہ چینی اس اعتبار سے منفرد ہے کہ وہ کہیں بھی اپنی روایت،اپنی اقدار،اپنے تہذیبی اصولوں کو فراموش نہیں کرتے۔ دانائی کی ہر بات کو انہوں نے اپنی ثقافتی اور تہذیبی تناظر میں رکھ کر دیکھا ہے اور ان کی فکر میں مرعوبیت نام کی کوئی چیز دکھائی نہیں دیتی ان کے اسلوب کی ایک اور خوبی ان کی فکر کا روحانی تناظر ہے۔قاسم علی شاہ اسلام کی صوفیانہ روایت سے مضبوط وابستگی رکھتے ہیں۔ ان کی فکر میں صوفیانہ طرزِ احساس کی بڑی بھرپور جھلک پائی جاتی ہے۔وہ بے مرشد،بے فیض،بے استاد ہونے کو ناکامی کا ایک اہم سبب سمجھتے ہیں۔ جناب شاہ جی نے اپنی تحریروں میں باربار ان روحانی اقدار کا حوالہ دیا ہے جو اسلامی تصوف کا جوہر ہے۔اونچی اڑان کا عمومی موضوع بھی کامیابی ہے اس حوالے سے قاسم شاہ صاحب نے کامیابی کا جو پیمانہ بیان کیا ہے وہ ان کی  تمام تحریروں کا جوہر ہے۔ان کے نزدیک کامیابی کسی بھی شعبے میں جو آپ کی افتادِ طبع اور آپ کی فطری صلاحیتوں سے ہم آہنگ ہو،نکتہ کمال کو چھونا ہے۔یہ بڑی بنیادی بات ہے۔اللہ تبارک و تعالیٰ کی ربوبیت کا بیان کرتے ہوئے مفسرین نے تربیت کی تعریف ان الفاظ میں کی ہے '' تبلیغ الشئی الی کمالہ  بحسبِ استعدادہ الازلی شیاً فشیاً (سیماوی،اصفہانی) '' ترجمہ: کسی شے کا اپنی ازلی استعداد کے مطابق درجہ بدرجہ ترقی کرتے ہوئے اپنے کمال کو پالینا (ضیاء القرآن) 
قاسم علی شاہ نے اونچی اڑان میں اسی معیار کو مدِ نظر رکھا ہے۔علم دوستی نے انہیں ابلاغ کی قوت سے بھی مالا مال کیا ہے ان کی تحریریں اور تقریریں دیکھ اور سُن کر لگتا ہے کہ برطانوی دانشور شاعر لیم بٹلر ییٹس (W.B. Yeats)نے درست کہا تھا کہ 
''Think like a wise man but communicate in the language of the people.'' 
قاسم علی شاہ صاحب اپنے مطالعے اور فکر کی سنجیدگی کو قارئین و سامعین کی استعداد کے مطابق بیان کرتے ہیں اور بڑی بڑی باتیں مسکراہٹ کی پڑیا میں لپیٹ کر دوسروں کے تحت الشعور کا حصہ بنا دیتے ہیں ڈیل کارنیگی کا کہناتھا کہ 
''Your smile is a message of your goodwill.'' 
قاسم علی شاہ صاحب کا اسلوب ان کے اندازِ فکر اور اطوارِ حیات کا امتزاج ہے اور یہی زاویہء نظر ان کی اونچی اڑان،ان  بلند منزلوں کی پرواز سکھاتی ہے جو انسان کو لازوال کامیابیوں اور کامرانیوں کی نوید دیتی ہیں۔ان کی کتاب پر بہترین تبصرہ مصحفی کا یہ شعر ہے 
میں کنگرعرش سے پر مار کے گزرا
اللہ رے رسائی میری پرواز تو دیکھو 
قاسم شاہ جی کی اونچی پرواز اب مستند ہو گئی ہے کہ اب تو یہ اڑان کئی دلوں میں کھٹکنے بھی لگی ہے۔کئی لوگوں کی حسرت حسد بن کر تنقید کے فیشن کا روپ دھار گئی ہے۔ان ناقدین شاہ جی کی رائے کا احترام ملحوظ رکھتے ہوئے صرف اتنا کہنے کی جسارت کروں گا کہ ایک فارسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ میرے اور تمہارے درمیان جو فرق ہے وہ سُننے کا فرق ہے۔ایک آواز آتی ہے،تم اس کو دروازہ بند کرنے کی آواز سمجھتے ہو اور میں اسے دروازہ کھلنے کی آواز سمجھتا ہوں۔

تفاوت است میانِ شنیدن من و تو 
تو غِلق باب و منم فتحِ باب می شنوم

جمعہ، 3 نومبر، 2017

تصو یرِ قائد کی وفات


عظیم باپ کی عظیم بیٹی، تصویر محمد علی جناح دینا واڈیا کی2نومبر2017ء بروز جمعرات نیویارک میں اپنے گھر میں ابدی نیند سو جانے کی خبر نے دل بوجھل کر دیا۔ دینا واڈیا برصغیر پاک و ہند کی دو عظیم شخصیات محمد علی جناح اور رتن بائی کی محبت کی نشانی تھیں۔ محمد علی جناح اور رتی جناح شادی کے بعد انگلستان کے سفر پر تھے کہ ان کی زندگی کا اہم واقعہ پیش آیا۔ یہ وسط اگست کی ایک شام تھی جب جناح، رتی کو تھیٹر دکھانے لے گئے۔ وہاں رتی کی طبیعت خراب ہونے پر انہیں تھیٹر سے اٹھ کر ہسپتال جانا پڑا۔ یہ14اور15اگست1919ء کی درمیانی شب تھی وہاں ان کی دنیا میں ایک ننھی منی جان نے قدم رکھا یہ ان کی اکلوتی بیٹی دینا تھی۔ ظاہر ہے محبت کرنے والے ماں باپ نے اس کے لیے کیا کچھ نہ کیا ہو گا۔ دینا کے ایام طفولیت کا فی مشکل تھے کہ ان کے والدین کے ازدواجی تعلقات سرد مہری کا شکار ہوئے اور پھر علیحدگی پر جا کر رُکے۔ دینا دس سال کی تھی کہ اس کی والدہ انتقال کر گئیں۔ بلاشبہ محبت ابتلاء و آزمائش سے گزرتی ہے لیکن خود بہت شفیق ہوتی ہے۔ محمد علی جناح کی لخت جگر کا اصل نام صوفیہ تھا اور عرفیت دینا، اس لیے وہ دینا جناح کے نام سے جانی جانے لگیں۔ وہ قائد اعظم کے ساتھ ہی رہتی تھیں۔ ایک شفیق باپ کی طرح وہ اسے بہترین تعلیم دلانے کے آرزو مند تھے۔ 
جی الانہ کے مطابق دینا جب بارہ سال کی عمر کو پہنچیں تو انہیں انگلستان کے ایک بورڈنگ سکول میں داخل کر ا دیا گیا۔ قائد اعظم جب انگلستان جاتے تو دینا اپنی تعطیلات اپنے والد کے ساتھ گزراتی تھیں۔ اپنی محبوبہ بیوی کی وفات کے بعد دینا ہی اس کی واحدنشانی تھی۔ باپ اب اپنی ساری محبت اور شفقت اسی پر نچھاور کرنے لگا تھا۔تاہم والد کی سیاسی مصروفیات کے باعث دینا ننھیال کے زیادہ قریب رہنے لگی تھی۔ 1932ء میں جناح نے کمال اتاترک کی سوانح"Grey Wolf"پڑھی تو اس سے بہت متاثر ہوئے وہ اکثر گھر میں اس کتاب کا تذکرہ کرتے انہوں نے یہ کتاب دینا کو بھی دی۔ دینا اکثر اپنے بابا کو   ”گرے ولف“ کے نام سے ہی پکارتی تھی۔ 
محمد علی جناح کو اپنی بیٹی کی پارسی خاندان میں شادی کے فیصلے پراختلاف ہوا۔ انہوں نے مولانا شوکت علی کو بھی دینا کو سمجھانے کا کہا تاہم وہ اپنے فیصلے کی پکی تھیں، انہوں نے25نومبر1938ء کو پارسی نوجوان سے شادی کر لی۔ کہا جاتا ہے کہ اس پر باپ بیٹی میں کچھ ناراضگی بھی ہوئی۔ قائد اعظم کے ڈرائیور محمد حنیف آزاد کے بقول ایک دفعہ وہ گاڑی چلا رہے تھے، قائد اعظم پچھلی نشست پر بیٹھے تھے۔ سامنے سے ان کی بیٹی دینا کی گاڑی آ گئی۔ میں نے خاص طور پر شیشے میں سے قائد اعظم کا رویہ دیکھناچاہا۔ جب دینا کی گاڑی قریب سے گزری تو قائد اعظم نے منہ دوسری طرف پھیر لیا۔ بلاشبہ شادی کے مسئلے پر بیٹی سے ناراضگی تھی اور یہ ایک فطری امر ہے۔نیول واڈیا سے   ا ن کی شادی کامیاب نہ رہی اور پانچ سال بعد ہی1943ء میں علیحدگی ہو گئی۔ تاہم اس کو بنیاد پر کچھ لوگوں نے یہ سمجھ لیا کہ قائد اعظم نے بیٹی سے تعلق توڑلیا۔ ایسا بالکل نہیں تھا۔ دینا کی شادی کو ابھی چھ ماہ ہی گذرے تھے کہ قائد اعظم نے30مئی1939ء کو اپنی وصیت لکھی۔ ناراضگی یاقطع تعلقی تھی تو وہ دینا کو ترکے سے محروم کر سکتے تھے لیکن انہوں نے اپنی بیٹی کے لیے تاحیات دو لاکھ رروپے کی رقم کا منافع مختص کر دیا اور وصیت کی کہ دینا کی وفات کے بعد تمام رقم دینا کی اولاد کو منتقل کر دی جائے۔ کوئی والد اپنی عاق شدہ اولاد کے لیے ایسی وصیت نہیں لکھ سکتا۔ باپ بیٹی کی محبت کے رشتے کی کئی شہادتیں ہیں۔ خاص طور پر سالگرہ و دیگر مواقع پرقائد اعظم کو بھیجے جانے والے دینا واڈیا کے تہنیتی کارڈز اور ان کی تحریریں قائد اعظم اور دینا کے درمیان خط و کتابت باپ بیٹی کے پیا رکا عکس ہیں۔28اپریل1947ء کے ایک خط میں دینا لکھتی ہیں ”مائی ڈئیر پاپا! پہلے تو آپ کو مبارکباد دوں کہ ہمیں پاکستان مل گیا، یعنی اصولی طور پر تسلیم کر لیا گیا۔ میں اس پر کتنا فخر اور خوشی محسوس کر رہی ہوں۔ آپ نے اس کے لیے کتنی محنت کی ہے!۔“ ایک اور خط میں دینا نے باپ سے والہانہ لگاؤ کا اظہار کیا اور ان سے رشتے پر فخر کا اظہار کیا۔ لکھتی ہیں ”پیارے پاپا! آپ کے شفقت نامے کا بے حد شکریہ، میں جانتی ہوں آپ کس قدر مصروف ہیں۔ شاید اس لمحے آپ وائسرئے کے ساتھ ہوں گے۔ آپ نے پچھلے چند سالوں میں جو کامیابی حاصل کی ہے وہ حیرت انگیزہے اور میں آپ سے اپنی نسبت پر فخر اور انبساط محسوس کرتی ہوں۔ہندوستان بھر میں آپ وہ واحد شخص ہیں جو حقیقت پسند، راست باز، دانا اور بے مثال مدبر ہیں۔ شاید اب یہ کسی پرستار کا خط بن گیا ہے، ٹھیک کہہ رہی ہوں نا!میں نے آپ کی3جون کی تقریر سنی۔ میرے خیال میں آپ کی تقریر سب سے بہتر اور موضوع کے عین مطابق تھی۔ آپ جو چاہتے تھے وہ پورے طور پر نہ مل سکا لیکن پھر بھی آپ نے بہت کچھ حاصل کر لیا۔ کانگریس کا غرور کس طرح ٹوٹا۔ یہاں کے ہندو پاکستان کے تسلیم کیے جانے اوردو مملکتوں کے قیام پر خوش نہیں ہیں۔ اب آپ کے سامنے بڑا مسئلہ در پیش ہے یعنی پاکستان کو عملی جامہ پہنانا۔ میں جانتی ہوں کہ آپ اس میں بھی کامیاب ہوں گے۔“ ان خطوط میں دینا کو اپنے باپ سے نسبت پر بہت فخر تھا۔ قائد کو اپنی بیٹی سے ہی نہیں نواسوں سے بھی بہت پیا ر تھا۔ نسلے واڈیا نے ایک مرتبہ کہا کہ تھا ”بچپن میں ایک بار نانا ہمارے ہاں ملنے آئے تو میں ان کی ٹوپی سے کھیلنے لگا۔ نانانے یہ ٹوپی مجھے دے دی جسے میں نے ہمیشہ اپنی زندگی کی قیمتی متاع کے طور پر سنبھال رکھا ہے!
قیام پاکستان کے بعد قائدا عظم کی وفات پر وہ تدفین میں شریک ہوئیں۔ قائد اعظم کے اے ڈی سی کیپٹن این اے حسین کے مطابق بابائے قوم کی وفات پر ان کی بیٹی مسز واڈیا کو اسی رات بمبئی میں اطلاع دی گئی جس پر وہ اگلی صبح بروقت کراچی پہنچ گئیں۔ وہ سیاہ لباس پہنے ہوئے جنازے اور تدفین میں شریک ہوئیں۔ وہ اپنی پھوپھی فاطمہ جناح کے ہمراہ قائد کی پسندیدہ سیاہ کار ہمبرپل میں تشریف فرما تھیں۔تدفین کے بعد اگلے روز وہ فلیگ سٹاف ہاؤس گئیں تو اس میں بابا کی چیزیں دیکھ کر آبدیدہ ہو گئیں۔ انہوں نے بہت سی اشیاء کو شناخت کر لیا، ان اشیاء کی خریداری کا سال اور جگہ بھی ان کو یاد تھی۔ انہیں ہر شے کے متعلق ہر وہ تعریفی جملہ بھی یاد آر ہا تھا جو قائد اعظم نے ان اشیاء کے بارے میں فرمایا تھا۔ قائد اعظم اور ان کی بیٹی کے درمیان ملاقاتیں اور خط و کتابت و رابطے ہمیشہ رہے۔ بابائے قوم کو اپنی تصویر دینا سے بہت لگاؤ تھا۔ نواب بہادر یار جنگ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ وہ قائد اعظم کے ہاں گئے۔ قائد اعظم کسی دوسرے کمرے میں تھے۔ تھوڑی دیر انتظار کے بعد وہ بھی ادھر چل دیے۔ میں نے دیکھا قائد اعظم ایک صندوق پر جھکے ہوئے ہیں اور کوئی چیز دیکھ رہے ہیں اور آبدیدہ ہیں۔ نواب صاحب کہتے ہیں مجھے تعجب ہوا۔ اس پر قائد اعظم نے بتایا کہ یہ میری بیٹی کے بچپن کے کپڑے ہیں۔ آج اس کی سالگرہ ہے۔ وہ اسے یاد کر رہے ہیں۔ چاہنے والوں میں ایک خفیہ معاہدہ ہوتا ہے وہ ایک دوسرے کو دیکھتے ہیں تو محبتوں کے سرکش جذبے خامیوں کو خوبیاں بنا دیتے ہیں۔ 
1976ء میں قائد اعظم کی سویں سالگرہ کے حوالے سے ایک کتاب شائع ہوئی"Pakistan: Past & Present"اس میں دینا واڈیا نے اپنے والد کے حوالے سے"A Daughter's Memory"کے نام سے تاثرات رقم کیے۔
"My father was not a demonstrative man. But he was an affectionate father. My last meeting with him took place in Bombay in 1946....He phoned inviting me and my children to tea. He was very happy to see us. We mostly talked about the children and politics."
2004ء میں دینا واڈیا پاک بھار ت میچ دیکھنے کے لیے پاکستان آئیں۔یہاں انکا والہانہ خیر مقدم کیا گیا۔ انہوں نے بھی بڑے پُرتپاک جذبات کا اظہار کیا۔ وہ والد کی قبر پر بھی گئیں اور اپنے تاثرات رقم بھی کیے۔ انہوں نے اپنے جذبات کے غلبے کو چھپانے کے لیے والد کی قبر پر جاتے ہوئے کسی کو ساتھ نہیں آنے دیا۔ قائد اعظم اور ان کی بیٹی کی نسبت اور مراسم بڑے خوشگوار رہے۔2007ء میں دینا جناح نے بھارتی حکومت کو درخواست دی کہ بمبئی کے جناح ہاؤس کو ان کی ملکیت میں دیا جائے۔ جس گھر میں بچپن گزرا، اسی میں زندگی کے آخری سال گذارنا چاہتی ہیں تا ہم انہیں اس کا جواب نہیں ملا۔ انکے پاس برطانوی اور ہندوستانی شہریت تھی لیکن وہ گذشتہ کئی عشروں سے امریکہ کے شہر نیویارک میں رہائش پذیر تھیں۔ جہاں انہوں نے داعی اجل کولبیک کہا۔ 2نومبر کو جب ان کی وفات کی خبر سنی تو باپ بیٹی کی محبت و لگاؤ کے لازوال تاثرات خوب یاد آئے۔ وقت سے بے نیاز، زمانے کی آندھیوں کی گرد ایسے پختہ رشتوں پر نہیں جمتی۔دینا قائد اعظم کی تصویر دکھائی دیتی تھیں۔ انھے دیکھ کر قائد اعظم خوب یاد آ رہے ہیں۔ ان کی وفات سے ایک عہد اپنے اختتام کو پہنچا ہے۔دعاہے کہ پروردگار ان کی اُخروی منزلیں آسان کرے۔

بدھ، 25 اکتوبر، 2017

درگاہ سے دعا تک



افلاطون نے کہا تھا کہ ”انسانی معاملات بمشکل ہی سنجیدگی سے غور کے مستحق ہوں گے، لیکن ہمیں ان کے متعلق سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہو گا“ انسان سرکشی اور نا انصافی کا پتلا ہونے کے باوجود اس قدر قیمتی ہے کہ اس کے منہ موڑنے پر خدا، خالق ارض و سما بھی افسوس کرتا ہے چنانچہ اپنے چند دوستوں کو بے سکون اور ٹینشن میں دیکھ کر نرم دل استاد ڈاکٹر غلام علی نے تجویز دی کہ برادرم سائر انور ملہی اور محترم ایاز نورانی کی ناقابل بیاں بے قراری کو قرار بخشنے کے لیے کسی درگاہ پر حاضری دی جائے اور ان کی قلبی راحت کے لیے دعا کی جائے۔  یہ دونوں دوست آج تحیر زدہ دکھائی دیتے ہیں، میں نے اتفاق کرتے ہوئے عرض کیا حیرت زدہ ہونا، انسان ہونے کی ہی ایک روش ہے، البتہ یہ نری آوارگی، بے مقصد گھومنے، مٹر گشت اور سیر سپاٹوں کی ایک صورت بھی ہو سکتی ہے اپنی حیرت کو ایک سوال کا رخ دینا ذہن کو ایک طریقہ کار میں ڈھالنے کے ہی مترادف ہے۔ ذہنی کرب معنویت سے محروم وجود یا واقعات کے تجربے یا خوف سے زیادہ پیدا ہوتا ہے۔ فلسفیانہ مزاج کے سائر انور ملہی نے کہا کہ ایسا ہی نہیں ہے، ایک رخ ناقابل بیاں ماورائے معنویت کا بھی ہے۔ اس کی آگہی اپنے ساتھ”نا قابل بیان“کا احساس لاتی ہے جس کا تجربہ ہمیں اپنی خواہش کے تحت نہیں ہوتا بلکہ ہمارے ششدر رہ جانے اور عظمت کا مقابلہ نہ کرسکنے کے باعث ہوتا ہے۔ حقیقت کے معروضی پہلو کا عالمگیر وجدان جس کی صلاحیت ہر شخص میں موجود ہوتی ہے،یہ جہالت کی جھاگ نہیں بلکہ فکر کا نقطعہ عروج ہے۔ یہ ایک شعوری وجدان ہے کیونکہ اس کی عطا کردہ آگہی علمِ دنیا کی گہرائی میں اضافے کا سبب بنتی ہے۔ ایاز نوارانی نے گفتگو کی سنجیدگی پر ضرب لگاتے ہوئے کہا، شیخ صاحب! گھبرائیں نہیں، ملہی صاحب صوفی ہو گئے ہیں۔ ان کی روحانی تشنگی کا علاج ضروری ہے۔ میں نے عرض کیا، یہ کیسے ممکن ہے، ایک ایسا بینکار جس کے ہاتھ ہر وقت مادیت کے نشان روپے، پیسے سے رنگے ہوتے ہیں، صوفی ہو جائے……؟ تو نورانی صاحب نے فوراً جواب دیا، زمانہ بدل گیا ہے آج کا تقاضا ہے کہ ہر شخص کو تھوڑا بہت صوفی ہونا چاہیے اور ہر صوفی کو تھوڑا بہت انسان ہونا چاہیے۔ روحانی قوت کے لیے اسے کسی درگاہ پر لے چلتے ہیں تاکہ اس کی بے چین روح کو قرار ملے۔ میرا خیال تھا کہ صوفی ازل اور عوام کا باہمی رشتہ ہمیشہ سے الجھن کا شکار رہا ہے ہم صوفیاء کو ایسی نظر سے دیکھتے ہیں جیسے وہ علاقہ غیر کی ہستیاں ہوں۔ صوفی کا نام سنتے ہی ہماری آنکھیں عروجی سفر کی جانب اٹھتی ہیں۔ عوامی خیال اور سماجی مقاصد اور ہیں، مقامات تصوف کی زبان اور ہے۔ ڈاکٹر غلام علی کہنے لگے،کہ عوام زمین پر زمین کا سفر طے کرتے ہیں اور صوفی زمین سے آسمان کی طرف راہ کھولتا ہے۔ بظاہر صوفی اور عوام دونوں کی منزلیں جدا جدا ہیں تاہم زمین دونوں میں مشترک ہے اور یہی صوفی اور عام انسان کے تعلق کی بنیاد ہے۔ بات چیت جاری تھی کہ گاڑی نے بریک لگائی اور غلام علی کہنے لگے ہم خانقاہ نقشبندیہ مجددیہ سیدا شریف نزد پھالیہ پہنچ گئے ہیں۔ درگاہ پر پہنچے تو سفید رنگت، متوازن قد کے باریش لیکن جوان شخص نے متانت، وقار اور مسکراہٹ کے ساتھ استقبال کیا۔ معلوم ہوا کہ یہ خلیق و شفیق اسلاف کے گدی نشین صاحبزادہ ابوبکر ہیں، وہ سجادہ نشینی کے ساتھ ساتھ والدین کی تعلیمی و تدریسی خدمات کے وارث اور انگریزی زبان و ادب کے ایک یونیورسٹی میں استاد بھی ہیں۔ درگاہ پر خوشدلانہ استقبال، محبت بھری میزبانی اور دسترخواں کی وسعت ان کے گھرانے و خانقاہ کی حُسنِ معاشرت کی آئینہ دار تھی۔ ہم نے سب سے پہلے خواجہ محبوب عالم ؒ و دیگر قبور کی زیارت کی، حاضری دی اور سلام پیش کیا۔ سادگی و شکوہ کا حسین امتزاج دیکھنے کو ملا۔ خاموشی و طمانیت کا دریا بہہ رہا تھا اور اطمینان و قرار کی بہار تھی۔ قلوب جیسے معطر ہو گئے اور بے وجہ قرار سا آگیا۔ اسی روح پرور مستی کی فضا میں ہمارے ہاتھ خود بخود دعا کے لیے اٹھ گئے، جھولیاں پھیلنے لگیں۔ بیدار ذہن، بند آنکھوں اور محسوس کرتے دل سے نکلنے والی دعا کا اپنا ایک سرور و خمار تھا۔ دعا محض خدا سے رحم کی پکار یا روحانی برجستگی نہیں۔ دعا روح کی تکثیف ہے۔ یہ ایک لحظے میں مکمل روح کو سمو دینے کا نام ہے اور ہمارے اعمال کا خلاصہ ہے۔ دعا کے انسان میں رچنے بسنے کے لیے انسان کا دعا میں رچنا بسنا ضروری ہے۔ دعا وہ لمحہ ہے جب عاجزی حقیقت بن جائے۔ اظہار ذات کے لیے ہمیں یہ سیکھنا ضروری ہے کہ طلب جاہ، تکبر اور حُب دنیا کے خولوں کو کس طرح اتار پھینکا جائے۔ کرب کی پکار جب رحمت خداوندی کا تصور بن جائے تو اسے دعا کہتے ہیں۔ دعا وہ لمحہ ہے جب کرب میں مبتلا انسان اپنا اضطراب بھول کر خدا اوراس کی رحمت کے بارے میں سوچنا شروع کر دیتا ہے۔ صرف اپنے نفس کا مشاہدہ کرنا نہیں، بلکہ مکمل انسان کا خدا کی جانب پھر جانا ہے یہ ایک مشکل صورتحال تو ہے لیکن نا ممکن نہیں۔ شاید اس کا دورانیہ ایک ساعت ہی ہو لیکن اس میں ایک زمانہ حیات کا نچوڑ پایا جاتا ہے۔ درگاہ پر دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے کیفیت بتا رہی تھی کہ ولی کامل کے پاس حاضری دے کر دعا مانگنا ایسے ہی ہے جیسے رومی نے کہا تھا 
گر تو سنگِ خارہ، مرمرشوی
چوں بصاحب دل رسی گوہر شوی 
یعنی اگر تو ناکار ہ و سخت پتھر ہے تو سنگ مر مر ہو جائے گا۔ جب کسی دل والے کے پاس جائے گا تو موتی ہو جائے گا 
دعا کے بعد حجرے میں پہنچے تو وہاں ہر طرف کتابیں ہی کتابیں بکھری ہوئی تھیں۔ اسی اثناء میں صاحبزادہ بلال صدیق ایڈووکیٹ جو سجادہ نشین کے چھوٹے بھائی ہیں وہ بھی آ پہنچے۔ ان کی آمد نے محفل کو مکالمے میں بدل دیا، بات صوفیاء کی زندگی کے محاسن سے شروع ہوئی اور خانقاہی نظام کی افراط و تفریط میں الجھ کر رہ گئی۔ انسانی تحریکیں خواہ کتنی ہی اچھی کیوں نہ ہوں جب افراط و تفریط اور عمل و رد عمل کا بازیچہ بنتی ہیں تو ان کی شکل مسخ ہوئے بغیر نہیں رہ سکتی۔ جیسے فقہ اسلامی کی تدوین نے مسلمانوں کی دینی و سماجی زندگی کو سنوارنے کا عظیم کام کیا لیکن جب اسے حیلہ بازیوں کا ذریعہ بنایا گیا تو مسلمانوں کی عملی زندگی بے روح ہوکر رہ گئی۔ایسا ہی حال تصوف کا بھی ہوا۔ شریعت و طریقت میں تفریق پیدا ہو گئی۔ مجاز پرستی، پیر پرستی، قبر پرستی نے درگاہوں کے فیض چھین لیے۔ تاہم یہ سب گمراہیاں اپنی جگہ لیکن کھرا سچ یہ ہے کہ صوفیہئ صافی نے ہمیشہ ان گمراہیوں کے خلاف آواز بلند کی۔ حضرت شیخ ابو الحسن ؒ کا قول ہے کہ ”تصوف رسوم وعلوم کا نام نہیں بلکہ اخلاق کا نام ہے۔صوفیاء و درگاہوں نے اسلامی تاریخ میں ہمیشہ اخلاقی تحریک کے طور پر مسلمانوں کی راہبری کی۔ ہملٹن گب نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ ”تاریخ اسلام میں بار ہا ایسے مواقع آئے ہیں کہ اسلام کے کلچر کا شدت سے مقابلہ کیا گیا ہے۔ لیکن بایں ہمہ،وہ مغلوب نہ ہو سکا۔اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ تصوف یا صوفیہ کا انداز فکر فوراً اس کی مدد کو آجاتا تھا۔ اور اس کو اتنی قوت اور توانائی بخش دیتا تھا کہ کوئی طاقت اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی تھی“۔ گِب کی رائے بالکل درست ہے۔ اسلامی تاریخ میں صوفیاء کے کارنامے اسی نظر سے مطالعے کے مستحق ہیں۔ مسلمانوں کی ملی زندگی میں جب بھی کوئی مشکل مقام آیا تو ان ہی بزرگوں نے بصیرت و حکمت کے ساتھ نا مساعد حالات کا مقابلہ کیا۔ ان کا ہاتھ ملت کی نبض پر تھا اور ان کا دماغ تجدید و احیاء کی تدبیریں سوچنے میں مصروف رہتا تھا۔ آج بھی لوگ صوفیاء اور درگاہوں سے ایسے ہی راہبرانہ افعال وکردار کی توقع رکھتے ہیں۔ لیکن مشائخ و خانقاہوں نے ملت کی بہتری و راہبری کی تدبیریں سوچنا کم کر دی ہیں۔ مکالمہ ابھی ادھورا ہی تھا کہ رخصت کا وقت آن پہنچا۔ علم دوست درگاہ سے واپسی پر تبرک کے طور پر تصوف کی اہم کتب کا تحفہ ملا، جسے بصد شکریہ قبول کیا،اور اجازت چاہی۔ 
معرفتِ حق کی جستجو ایک مادہ پرست بنک آفیسر کے دل کو بھی اسی طرح بے چین کر سکتی ہے جس طرح ایک عارف کے دل کو…… اسی انسانی جستجو کا نام تصوف ہے۔ حقیقی تصوف مذہب کی روح، اخلاق کی جان اور ایمان کا کمال ہے۔ اس کی اساس شریعت ہے اور سر چشمہ قرآن و حدیث۔ یہ شریعت کی نفی نہیں بلکہ اس کی توضیع ہے۔ صرف اقرار باللسان نہیں، اقرار بالقلب بھی ہے۔ لیکن اسی سفر کے دوران حاصل سفر یہ بات تھی کہ حضرت یحییٰ بن معاذ رازیؒ کا قول یاد رکھنے والا ہے کہ تین قسم کے آدمیوں کی صحبت سے بچنا چاہیے۔ ایک غافل عالم سے، دوسرے مکار فقیر سے اور تیسرے جاہل صوفی سے۔ 





جمعہ، 3 جون، 2016

”تخلیقی اقلیت“کا خواب



تاریخ گواہ ہے کہ اقوام و ادیان کے عروج و زوال کی ذمہ داری عمومی طور پر حکمرانوں،قائدین اور مذہبی راہنماؤں کے کندھوں پر ہی ہوتی ہے لیکن ایک سنجیدہ پہلو یہ بھی ہے کہ جیسے جیسے تعلیم اور شعور بڑھتا ہے اس سے عوام میں ایک ایسا طبقہ ابھرتا ہے جو عوامی مسائل پر سنجیدگی سے غور کرتا ہے اور اس ضمن میں اپنی رائے کا بھی اظہار کرتا ہے۔ یہ طبقہ اہل فکر کا ہوتا ہے۔عزم صمیم کا حامل یہ طبقہ سماجی نا قدری، بار بار مایوسیوں اور بعض اوقات ملامت کا ہدف بننے کے باوجودتفکرو مکالمے کا عمل جاری رکھتا ہے۔تہذیبوں کے عروج و زوال کا مورخ ٹائن بی گہرے مطالعے اور تجزیے کے بعد اہل فکر کے ایسے طبقے کو بہت اہمیت دیتا ہے اور اسے تہذیب میں کار آمد ”تخلیقی اقلیت“ قرار دیتے ہوئے تہذیبی و سماجی زندگی کے ارتقا کے لیے لازمی گردانتا  ہے۔ بلاشبہ یہ وہ اقلیت ہوتی ہے جو قوم کو فوڈ فار تھاٹ فراہم کرتی ہے اور افکار تازہ کی علمبردارہوتی ہے۔اس طبقے کے افکار کی جدلیت سے نئے افکار جنم لیتے ہیں اور یوں معاشرے کے پیچیدہ اور روز افزوں مسائل کے حل کی تلاش کا عمل شروع ہوتا ہے۔زوال پذیر معاشروں میں اہل فکر کی ضرورت اور ذمہ داریاں مزید بڑھ جاتی ہیں۔ یہ بات میرے لیے خوشگوار حیرت کا موجب بنی ہوئی ہے کہ پاکستان کے دور افتادہ قصبہ کڑیانوالہ میں اہل فکر کا ”تھنکرز فورم“اپنے کردار سے نہ صرف آگاہ ہے بلکہ سماجی ارتقاء میں اپنا فعال کردار ادا کر رہا ہے،تعلیم،خدمت،رضا کاریت اور مکالمہ یہ وہ پہلو ہیں جو ”تھنکرز فورم“اور ”کئیرز پاکستان“دہمتھل کے سماج سدھار نصب العین کے اصل اہداف ہیں۔ گزشتہ چند ہفتوں سے اہل فکر کے اس طبقے نے علاقہ میں مذہبی ہم آہنگی اور مساجد کے مرکزی کردار کے فروغ کے لیے آئمہ مساجد اور علمائے دین کے ساتھ مکالمے کی مؤثر روایت کو رواج دیا ہے۔ مجھے ان کی کئی نشستوں میں شرکت کا موقع ملا۔ میں ان کی مثبت فکر اور سنجیدہ عمل کا مداح ہو گیا ہوں۔ گذشتہ دنوں بھی مجھے جواں عزم اور خیال افروز اعمال کے حامل تھنکرز فورم کے راہنما عاطف رزاق بٹ کی جانب سے مختلف الخیال علماء اور مساجد کمیٹیوں کے کار پردازان سے گفتگو کی دعوت ملی تو تمام تر مصروفیات کے باوجود میرے دل نے جانے کے لیے حامی بھر لی۔ مکالمے میں اسلامی علوم کے پی ایچ ڈی سکالرز،علماء، اساتذہ،سول سوسائٹی،صحافیوں اور نوجوانوں پر مشتمل حاضرین موجود تھے۔علامہ رضا المصطفیٰ نے کمال بلاغت سے مقاصد کا تعارف کروایا اور پچھلی نشستوں کا خلاصہ پیش کیا کہ اصل مقصد گلی محلوں میں موجود مساجد کو فعال کر کے دینی مراکز بنانا ہے جہاں عبادت و خدمت کا توازن قائم ہو۔دین کا معاشرتی پہلوہمارے اعمال و افکار سے محو ہو گیا ہے۔ ہمیں سماج سازی میں اسلامی معاشرے کی تشکیل کے اصولوں کو متعارف کروانا ہے۔صاحبزادہ علامہ حامد فاروق نے علمی انداز میں آئمہ اور مساجد کے معاشرتی کردار پر روشنی ڈالی اور کہا کہ آئمہ اور خطیب حضرات پر ساری ذمہ داری نہیں ڈالی جا سکتی،یہ اجتماعی دانش کا متقاضی معاملہ ہے۔ہمیں فروعی معاملات پر الجھاؤ کو بڑھانے کی بجائے سلجھاؤ کا پیغام دینا ہے اس کے لیے فکری مکالمہ اور ابلاغ ناگزیر ہے۔
پروفیسر شعیب عارف نے مساجد کے بطور کمیونٹی سنٹر کردار کا حوالہ دیا اور کہا کہ جب تک آئمہ مساجد سماجی رابطہ کار کا کردار ادانہیں کریں گے یہ کام ممکن نہیں۔ نبی رحمت ﷺ خود لوگوں کی عیادت کرتے، ان کے معاملات میں شریک ہوتے تھے۔ جب تک آئمہ مساجد سماج سے دور رہیں گے تب تک اس ادارے کے مثبت اثرات سے سماج محروم رہے گا۔ امریکہ سے آئے ہوئے عالم دین علامہ بشارت شازی نے کہاکہ یورپ و امریکہ میں مساجد حقیقی معنوں میں کمیونٹی سنٹر کا کردار ادا کر رہی ہیں۔ جب تک حاکم مسجد سے منسلک رہے مسجد مرکز رہی تاہم ا ب بھی مسجد کو متحرک کرنے کیلئے حکمرانوں کی توجہ کی ضرورت ہے۔ قاری محمد عیسیٰ، علامہ ادریس جلالی،ذاکر رضا شاہ، قاری رحمت اور علامہ شہباز احمد و دیگر کا بھی ایسا ہی خیال کہ مسلکی اختلاف کی فضا نے بھی مساجد سے دوری میں کردار ادا کیا ہے۔ میں نے بصد احترام عرض کیا کہ مسالک و مشارب کا اختلاف صبح قیامت تک رہے گا، تاہم مسالک اور طریق کار کے اختلاف کے با وجود ہدف اور منزل ایک ہو سکتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں تعبیر کے اختلاف کے باوجود اس میں مضمر حقیقت ایک ہو سکتی ہے۔ اتحاد نام ہی اختلاف کے باوجود متحد ہونے کا ہے۔ مختلف اسباب سے لوگوں میں طرح طرح کے اختلاف پیدا ہو جاتے ہیں۔ کسی بھی تدبیر سے اختلاف کا کلی خاتمہ ممکن نہیں۔ ہمیں ایسی باتوں کے تذکرے کو معمول بناناہے جس میں اتفاق ہے۔ وحی اللہ کی روشنی میں تشکیل پانے والا معاشرہ روشن خیال اور اعتدال پسند معاشرہ ہوتا ہے۔ نبی رحمت ﷺ نے اپنے کردار و عمل کے ذریعے اتباع وحی میں بالفعل ایسا ہی معاشرہ تشکیل دیا جو افراط و تفریط میں بٹے ہوئے انسانوں کیلئے انتہائی پر کشش تھا۔
ہم میں سے ہر ایک کو اپنے اپنے دائرے میں رہتے ہوئے قرآن و ایمان کے انوارات کو پھیلانے کی کوشش کرنی چاہئے اور اپنی توانائیوں کو دوسروں کے ساتھ جھگڑے میں خرچ نہیں کرنا چاہیے۔ اگر ہم کسی سے اتفاق نہ کر سکیں تو کم از کم ہمیں اختلاف کی آگ بھڑکانے سے تو گریز کرنا چاہئے۔ ہمیں نہ صرف مسلمانوں کے ساتھ جھگڑنے، ان پر تنقید کرنے اور ان کی عیب جوئی سے مکمل اجتناب کرنا چاہئے بلکہ ہمیں ہر اچھا کام کرنے والے کی تحسین کرنے اور ہر کلمہ گو سے تعاون کرنے کی سعی کرنے چاہئے۔ ابو سعید ابوالخیر ؒ کا قول ہے کہ خلق خدا کی جس میں بھلائی نہ ہو وہ کام خدا کو بھی پسند نہیں۔ اسلام کے پانچ ستونوں نماز، روزہ، کلمہ، زکوٰۃ، حج کا تذکرہ بہت ہوتا ہے۔ ریاضت و تفکر سے واضح ہوتا ہے کہ یہ محض ستون نہیں ان پر خلق خدا کی خدمت کی عمارت تعمیر ہوتی ہے ان سب کا مقصد انسانوں کی بہتری اور بخشش ہے۔ حضرت بایزیدبسطامی ؒ کا قول ہے کہ ”جب میں عرش خدا وندی کے نزدیک پہنچا اور دریافت کیا، اللہ کہاں ہے؟ جواب ملا کہ اللہ میاں کو اہل زمیں کے شکستہ قلوب میں تلاش کرو“۔آئیے مل کر دین کی خدمت خلق کے جذبے کو فروغ دیں تاکہ اخوت و بھائی چارہ پروان چڑھے۔ پروفیسر تنویر احمد نوید نے کہاکہ حضرت سری سقطی ؒ کا کہنا ہے کہ ”حسن خلق یہ ہے کی مخلوق خدا کو آزار نہ پہنچاؤ اور لوگوں کی دی ہوئی تکالیف کو برداشت کرو“۔ ڈاکٹر شمشاد احمد شاہین کا کہنا تھا کہ فیصلہ کر لینا بہت اہم سہی مگر فیصلہ اس وقت تک ایک آرزو ہی رہے گا جب تک اس پر عمل نہ ہو، یہاں بیٹھے علماء اور سول سو سائٹی کے نمائندے اپنی اپنی بساط بھر کوشش سے عملی آغاز کریں تا کہ نتیجہ بھی نکل سکے۔ سوشل ورکر چوہدری جاوید اعظم کہنے لگے کہ اللہ تعالیٰ کبھی اس شخص کو ہدایت سے محروم نہیں رکھتا جو اس کیلئے انکسار، صبر، اعتماد اور استقلال سے کوشش کرتا ہے۔ وہ ہمیں بھٹک جانے کی ڈھیل بھی اسی لیے دیتا ہے کہ ہم گمراہی سے اور اچھی طرح واقف ہو جائیں اور اپنی نیتوں کا امتحان دے سکیں، ہو سکتا ہے کہ کامیابی دم آخر تک حاصل نہ ہو یا ایسی صورت یا موقع پر نصیب ہو جس کا وہم و گمان بھی نہ تھا۔ 
میں حاضرین کی باتیں سن رہا تھا اور ان کے شوق اور جسارت کی داد دے رہا تھا۔ میں نے عاطف رزاق سے پوچھا کہ آخر اس کارِ خیر کے لیے مکالمے اور مباحثے کی ضرورت کیا ہے؟ توا س نے کمال تدبر سے جواب دیا کہ جھگڑوں کا آغاز بھی چونکہ انسانی دل و دماغ میں ہوتا ہے اس لیے امن وخدمت کی فصلیں بھی انسان کے قلب و دماغ میں ہی بونی چاہئیں“۔ میرا خیال ہے کہ ایک آزاد اور متحرک سماج کی عظمت میرے حقِ آزادی کے شعور اور میرے آزاد ہونے کی قابلیت میں نہیں بلکہ میرے ساتھی انسان کے حقِ آزادی کے شعور و فہم اور اس کی آزاد ہونے کی قابلیت میں بھی ہے۔ عبادات ہستی کی بے وقعتی کے خلاف رد عمل ہیں۔ عبادات صرف فرد کو اپنے سے منسلک سے نہیں کرتیں بلکہ اسے حتمی رشتوں میں زندگی کا احساس بھی عطا کرتی ہیں۔ عبادات دانش و بصیرت سے جنم لیتی ہیں یہ انسان کو اس طرح اکیلے کھڑا ہونا سکھاتی ہیں کہ وہ تنہا نہ ہو۔ آج عبادات کا حقیقی مفہوم متعارف کروانا، مساجد کو حقیقی عبادت گاہ کے تصور سے جوڑنے کی کوشش کرنا اور سماج کو انسانی اخوّت کے مذہب کے پیغام کی یاد دہانی کروانا یقینا اہل فکر کا کام ہے اور لائق تحسین بھی ہے۔ نوجوانوں کے اس فکری گروہ کا مثبت کردار دیکھ کر مجھے حسن عبدالحکیم کی کتاب King of the Castleکے مقدمے کی یہ سطور یاد آگئیں کہ ”ایک منظم اور صالح انسانی معاشرہ ان لوگوں سے کبھی تعمیر نہیں ہو سکتا جو ایسے معاشرے کی تخلیق کو اپنا بنیادی مقصد بنا لیتے ہیں۔۔۔ایک اچھامعاشرہ صرف ان افعال افکار اور محسوسات کی ضمنی پیداوار کے طور پر اُبھر سکتا ہے جن کا ہدف انسانی زندگی کے حوادث سے ماوراہو،جن کا مقصد دارالخلد ہو۔“ اس علاقہ کے جوانوں کی تخلیقی اقلیت نے بھی ایسا ہی خواب دیکھا ہے۔دُعا ہے کہ یہ جلد سے جلد تعبیر حاصل کرے۔ اس کے لیے پروردگار نے جنہیں حرکت کی توفیق دی ہے انہیں استقلال بھی عطا کرے۔ (آمین)



پیر، 16 مئی، 2016

فلاح معاشرہ اور مساجد و آئمہ مساجد کا کردار

فلاح معاشرہ اور مساجد و آئمہ مساجد کا کردار 



ہمارا دین رحمت جس ضابطہ حیات کی دعوت دیتا ہے اس میں اجتماعی فوز و فلاح کا راز مضمر ہے اور ایک ایسے خدا پرست معاشرے کا داعی ہے جس کے افراد ایک خالق و مالک کے رشتے سے باہم اخوت و محبت رکھتے ہیں، ان کی پوری زندگی انتہائی نظم و ضبط اور کامل اطاعت کا مظہر ہو اور اس میں انتشار، افتراق، بے ترتیبی کا گذر نہ ہو، اس کے رکوع و سجود بھی انہی صفات کے حامل ہوں اور تمام شعبہئ ہائے حیات میں بھی یکجہتی کا مظاہرہ دکھائی دے۔ 
اسلام کے تصور مدنیت میں لوگوں کے شعور کی تربیت اسی اساس پر ہے کہ عبادت صرف دعا اور مناجات تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کی معنویت زندگی کے ہر شعبے پر محیط ہے۔ اس تناظر میں سماج میں مسجد کے مقام کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ محض مقام صلوٰۃ نہیں ہے بلکہ اسلامی ریاست کا دارالامارت بھی ہے اور اس کا منبر مقام وعظ و تذکیر ہی نہیں بلکہ ریاستی پالیسی کے اعلانات کی سرکاری جگہ ہے۔ اسلام کا یہ امتیازی وصف ہے کہ اس نے مساجدکی تقدیس و حرمت کو وسیع معنویت عطا کی ہے اور انہیں اس نظام حیات کی تربیت گاہ قرار دیا ہے جو دین و دنیا دونوں پر محیط ہے۔ تھنکرز فورم کڑیانوالہ کے سماجی راہنما عاطف رزاق بٹ اور کیئرز پاکستان دہمتھل کے سرپرست پروفیسرتنویر احمد نوید سماج سدھار کے لیے ہر لمحہ متحرک رہتے ہیں اور اس کار خیر کے لیے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے۔ علاقے میں اسلامی بھائی چارے کا فروغ ان کے مشن کی نمایاں ترجیح ہے انہوں نے بڑی جہاندیدگی سے ”فلاح معاشرہ میں مساجد اور آئمہ مساجد کا کردار“ کے موضوع پر چراغ اعظم ٹرسٹ بھنگرانوالہ کے اشتراک سے مکالمے کی فکر انگیز محفل کا اہتمام کیا اور خلوص نیت سے علاقہ کے ممتاز علمائے دین اور آئمہ مساجد جو مختلف مسالک سے تعلق رکھتے تھے ان کو مدعو کیا۔ مکالمے میں مجھ نا چیز سمیت، جامعہ گجرات کے پروفیسر ڈاکٹر غلام علی کو بھی شرکت کی دعوت دی۔ اتوار 15 مئی کے روز امریکہ میں مقیم دانشور جاوید اعظم چوہدری کی میزبانی میں مکالمے کی محفل میں شرکت خوشگوار حیرت کا موجب بنی۔میزبان چوہدری جاوید اعظم نے تعارفی کلمات میں واضح کیا کہ مسلمانوں کی اجتماعی زندگی میں مسجد کا رول کلیدی رہا ہے۔ رسول اللہ ؐاور اصحاب رسولؐ کی زندگی میں مسجد دینی، سماجی اور سیاسی تمام قسم کی مثبت اور تعمیری سرگرمیوں کا مرکز ہوتی تھی مگر آج کل محلوں میں مساجد جزیرے بن کر رہ گئی ہیں۔ ان کو آباد کرنا اور معاشرے سے جوڑنا لازمی ہے۔ میں نے عرض کیا ابتدائے اسلام میں نبی کریم ؐ امام بھی تھے اور خطیب بھی اور اسی طرح خلفائے راشدین، امراء و قائدین سب امامت و خطابت کے منصب پر فائز ہوا کرتے تھے۔ اس لیے کسی مسجد کے امام و خطیب کے لیے علم و اخلاق کے اعتبار سے مضبوط ہونا معاشرہ کی فلاح کے لیے ناگذیر ہے۔ چونکہ امام و خطیب ہی کے ذریعے مسجد اپنا روحانی، ثقافتی اور سماجی کردار ادا کرتی ہے اس لیے ان کی حیثیت مسجدوں کے ستون اور معمار کی سی ہوتی ہے۔ 
مسجد مسلمانوں کی انفرادی و اجتماعی زندگی کا ایسا مرکز و محور ہے جہاں سے ان کے تمام مذہبی، اخلاقی، اصلاحی، تعلیمی، تمدنی، ثقافتی، تہذیبی، سیاسی اور اجتماعی امور کی راہنمائی ہوتی ہے اور ہونی چاہیے۔ مسجد دین کی ہمہ گیر یت اور جامعیت کو مستحکم کرنے والے ادارے کی حیثیت کی حامل ہے۔ مسجد مسلمانوں کے درمیان اخوت و بھائی چارے کے رشتے کو مضبوط کرنے کے لیے ثمر آور کردار کی ضامن ہے۔ قرون اولیٰ میں مسجد کی حیثیت دارالخلافہ سے لے کر غرباء و مساکین کی قیام گاہ تک تھی۔ یہیں ان کی تعلیم و تربیت ہوتی اور یہیں سے دوسری قوموں کے ساتھ تعلقات کے اطوار طے ہوتے تھے۔ یہ خلیفہ کا مسکن اور معاہدات کی جگہ تھی۔ اجتماعی کاموں کی منصوبہ بندی اور مفاد عامہ کی فلاح کی پالیسیاں مسجد میں ہی تشکیل پاتی تھیں۔ جب تک سماج میں مسجد کو یہ مقام حاصل رہا، مسلمان امت واحدہ رہے لیکن جیسے جیسے سماج اور مسجد میں فاصلہ بڑھتا گیا، نظم ختم ہوتا گیا، انتشار، فرقہ واریت اور دین سے دوری بھی بڑھتی گئی۔ مساجد ہی تعلیم و تربیت کا مرکز ہوتی تھیں۔ جامعہ الازھر پہلے ایک مسجد ہی تھی اور اپنے کردار سے جامعہ میں تبدیل ہو گئی۔ اس سے مسلم سماج پر مسجد کے اثرات کا اندازہ ہو جاتا ہے۔ اس کے اثرات کم ہونے کی وجہ سے مسلم سماج کو بہت نقصان اٹھانا پڑا۔ مسجد کا سب سے اہم کام مسلمانوں میں اجتماعیت کا قیام اور اسے پائیدار بنانا تھا مگر ہمارے ہاں مسجدیں مسلکی کش مکش کے مراکز بن کر رہ گئی ہیں۔ آج جب ہم ہر لحاظ سے نشاۃ ثانیہ کا خواب دیکھ رہے ہیں تو لازم ہے کہ مسجد کو مسلم سماج سے مطلوب سطح پر جوڑ دیا جائے۔ مسلمانوں کی فکر سازی اور سماجی اصلاح دونوں کام مسجد سے لیے جا سکتے ہیں مسجد کی انتظامیہ اور اس کا امام صحیح شعور سے بہر ہ ور ہو جائے تو مسجد امت مسلمہ کے لیے ایک فکر ساز ادارے یعنی تھنک ٹینک کا کام کر سکتی ہے۔ ایسے ہی جیسے شروع میں نبی کریم ؐ نے مسجد کو مقام و مرکزیت دی تھی۔ معاشرے کی اصلاح کے لیے مسجد کو مرکز بنانے سے بہت سے تنازعے، فتنے اور فروعات ختم ہو جائیں گے۔ یقین مانیں مسجد کو اپنا حقیقی مقام مل جائے تو سماج سے بڑے مسائل ختم کیے جا سکتے ہیں۔ 
عصری منظر نامے پر نظر دوڑائیں تو عیاں ہوتا ہے کہ غیر مسلم معاشروں میں موجود اقلیتی مسلمانوں کی مساجد مسلم اکثریتی معاشرے کی مساجد سے زیادہ فعال اور بھرپور کردار ادا کر رہی ہیں۔ یہ مساجد اسلامک سنٹرز کا کردار ادا کر رہی ہیں۔ اپنی مساجد کو آباد اور فعال کرنے کے لیے ہمیں انہیں جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہو گا تاکہ لوگوں کی توجہ کا مرکز بن سکیں۔ لوگ اس طرف دلچسپی لیں گے، اس طرف آئیں گے تو ہی اصلاح اور فلاح کی تربیت ممکن ہو گی۔ ہماری مساجد میں خواتین کا داخلہ بند کر کے 52 فیصد مسلمانوں کو ویسے ہی لا تعلق کر دیا گیا ہے۔ اس حوالے سے ہمیں مجتہدانہ فکر سے کام لینا ہو گا۔ بچوں کی تعلیم و تربیت کے لیے مساجد کے ساتھ کمیونٹی سنٹرز ہونا ضروری ہے۔ تاکہ لوگ وہاں آئیں اپنی اپنی دلچسپی کے کاموں میں مشغول رہنے کے ساتھ ساتھ نماز پنجگانہ بھی خشوع و خضوع سے ادا کریں۔ مساجد میں کتب خانوں کی ثقافت متعارف کروانی پڑے گی۔ جدید ٹیکنالوجی کا استعمال وقت کا اہم تقاضا ہے۔ ہم ایئر کنڈیشنر تو مساجد میں لگا لیتے ہیں، ڈیجیٹل لائبریری قائم نہیں کرتے۔ہمیں مساجد کے فلاحی کردار کو بحال کرنے کے لیے مختلف فلاحی تنظیموں کے تعاون سے مسجدوں میں رضا کار ڈاکٹر اور فرسٹ ایڈ کی فراہمی ممکن بنانی ہو گی۔ محلہ داروں میں آگاہی مہم متعارف کروانی ہو گی۔ مساجد میں ریفریشر کورسز شروع کروانے ہوں گے۔ نمازیوں اور مسجد آنے والوں میں باہمی بھائی چارگی سے ایک دوسرے سے تعاون اور امداد کو پروان چڑھانا ہو گا۔ صرف مسجد کے لیے چندہ مانگنے کی بجائے غریب اور مستحق اہل محلہ کی مدد کے لیے متحرک کردار ادا کرنا ہو گا۔ مسجد کے ساتھ ہم بزرگ شہریوں کے بیٹھنے، اخبار پڑھنے کی سہولت وغیرہ کا انتظام کردیں تو مسجد میں آنے کا رجحان بڑھ جائے گا۔ مسجدوں میں ان موضوعات پر گفتگو کو عام کرنا جن پر ملت اسلامیہ متحد ہے۔ مسلمان اللہ کے سپاہی ہیں جن کا مرکز اور چھاؤ نی مسجد ہے۔ آئمہ مساجد کو مل بیٹھ کر اپنی اپنی مسجد کو آباد کرنے کے لیے زمینی حقائق،عصری چیلنجوں اور مستقبل کی مشکلات کے ادراک کے پیش نظر باہمی اتفاق سے لائحہ عمل ترتیب دینا ہے اور امام و راہبر کا فریضہ ادا کرنا ہے۔مختلف مسالک سے تعلق رکھنے والے علامہ رضا المصطفیٰ، قاری محمد عیسیٰ، قاری محمد نعیم، قاری غلام نبی، حافظ محمد الیاس، قاری ذوالفقار جلالی، قاری غلام محمد، قاری ساجد وٹو اور مذہبی سیاسی شخصیت فیاض شاہد بٹ سمیت شرکاء نے کمال محبت و شفقت سے میری گفتگو کو سنا اور مثبت انداز میں میری بات کو آگے بڑھایا۔ ڈاکٹر غلام علی نے جدید علوم کے تقاضوں اور دینی ہم آہنگی کے ثمرات سے آگاہ کیا اور برداشت، رواداری،تحمل اور تحرک کو نصب العین بنانے کی ترغیب دی اور خطبوں کو جوش کی بجائے ہوش سے ترتیب دینے کی استدعا کی۔ اس مکالمے میں شریک ہر فرد خلوص نیت سے اتفاق و اتحاد کا داعی نظر آرہا تھا۔ مکالمے کی ایسی کاوشیں ہی افہام و تفہیم سے اسلام کی حقیقی روح کے تعارف کے لیے نا گذیر ہیں۔ منتظمین و میزبان جزائے خیر کے حقدار ہیں۔ مکالمے میں شریک مختلف الخیال علماء کی شرکت اور تحمل و تدبر قابل تحسین تھا۔ ہر ایک نے ایک دوسرے محلے کی مساجد میں جانے کا اعادہ کیا۔  
مسلکی اور گروہی تضادات میں بٹے معاشرے میں مساجد اور آئمہ مساجد کے فعال کردار سے ہی نمٹا جا سکتا ہے۔ مسجد کے کردار کو بحیثیت ادارہ فروغ دے کر مقاصد حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ مساجد کو امت مسلمہ کی یکجائی کا مرکز و محور بنا کر ہی آگے بڑھا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے کسی مسیحا کا انتظار کرنے کی بجائے ہمیں اپنی مدد آپ کے تحت آگے بڑھنا ہے اور اپنی اپنی بساط کے مطابق علاقائی اور مقامی سطح پر اقدامات کرنے ہیں۔ سماج میں نیک لوگوں کی کمی نہیں،انہیں اعتماد دینے اور حوصلہ دینے کی ضرورت ہے۔مسجد کا سماجی کردار وسیع ہو گا تو امامت کے ادارے کی اہمیت بھی بڑھے گی اور مسجد کے امام کو ”دو رکعت کا امام“ سمجھنے کے رویے میں تبدیلی پیدا ہو گی اور پھر سماجی علوم کے حامل علوم دین سے بہرہ مند با صلاحیت اور زرخیز فکر علما وفضلا امامت کی طرف آئیں گے۔ جن سے عوام کی دینی و سماجی ذہن سازی ہو سکے گی۔ مساجد اور آئمہ کے کردار سے ہماری مدنی اور تہذیبی زندگی میں اسلام کی روح نظر آنے لگے گی۔ 

جمعہ، 6 مئی، 2016

سرشت بہار زندہ ہے

سرشت بہار زندہ ہے 


زندہ قومیں زندہ لوگوں کی قدر کرتی ہیں جبکہ مردہ قومیں مردوں کی پرستش کرتی ہیں۔ ماضی پرست قوم ہونے کے ناطے ہمارے ہاں ”عظمت رفتہ“ کا سحر اس قدر طاری ہے کہ ہمیں زندہ لوگوں میں کوئی بڑا آدمی نظر ہی نہیں آتا۔ ہم رشک کی بجائے حسد کرنے کے عادی ہیں۔ بت پرستی کے اس عالم میں زندہ لوگوں سے محبت کے اظہار، ان کی تعریف و تحسین کے لیے ان کے اعزاز میں منعقد ہونے والی پر وقار تقریب میں شرکت کی دعوت ملی تو مجھے حیرت ہوئی لیکن خوشی بھی ہوئی کہ ’سرشت بہار زندہ ہے“۔وطن عزیز کے قابل قدر ماہرین تعلیم اور اعلیٰ تعلیم  کے راہبر چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن ڈاکٹر مختار احمد،ایگزیکٹو ڈائریکٹر HEC ڈاکٹر ارشد علی، وائس چانسلر یونیورسٹی آف اینمل اینڈ ویٹرنری سائنسز ڈاکٹر طلعت نصیر پاشا اور گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد کے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد علی شاہ کو تعلیم، تدریس، تحقیق کے حوالے سے قومی خدمات پر حکومت پاکستان نے ستارہئ امتیاز اور تمغہئ امتیاز سے نوازا تو اعلیٰ تعلیم کے حلقوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی تھی۔ اس خوشی کے اجتماعی اظہار کے لیے وائس چانسلر یونیورسٹی آف گجرات پروفیسر ڈاکٹر ضیاء القیوم، وائس چانسلر علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد ڈاکٹر شاہد صدیقی اور شہید ذوالفقار علی بھٹو میڈیکل سائنسز یونیورسٹی اسلام آبادکے وائس چانسلر ڈاکٹر جاوید اکرم نے مشترکہ طو رپر ”شامِ اعزاز“ کی میزبانی کا اعلان کیا اور گذشتہ دنوں لاہور کے کیولری گراؤنڈ میں شاندار، باوقار اور علم پرور عشائیے کا اہتمام کر کے واضح کیا کہ صاحب علم او ربا عمل لوگ زندہ قومی ہیروز کی قدر کرتے ہیں۔کیونکہ عظیم دماغ دوسروں کے اثرات سے نہ خوفزدہ ہوتے ہیں اور نہ مرعوب بلکہ ان کے وجود کی وسعت کا انداز کرتے ہیں۔ 

ڈاکٹر جاوید اکرم کا گھر ان کے ذوق جمال کا عکاس تھا اور حسنِ انتظام ان کی انتظامی صلاحیتوں کا کھلا ثبوت کہ آنے والوں کے لیے شرکت بلا شبہ اعزاز سے کم نہ تھی۔تقریب اتنی پروقار تھی کہ پنجاب کی 35 جامعات کے سربراہان یہاں اپنی اپنی شریک حیات کے ساتھ اعتماد اور محبت سے کھنچے چلے آئے،ایسا لگ رہا تھا کہ اعلیٰ تعلیم محض ایک پیشہ نہیں اس سے وابستہ لوگ ایک فیملی ہیں۔ 
جامعات کے سربراہان کو داد دینے کے لیے ممتاز تجزیہ نگار و اینکر سہیل وڑائچ، سینئر صحافی سجاد میر، جوان فکر اینکر حبیب اکرم، تعلیم دوست کالم نگار نعیم مسعود، ڈی جی پی آر کے  ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر محمد اسلم ڈوگر، وفاقی پارلیمانی سیکرٹری برائے دفاع ایم این اے چوہدری جعفر اقبال اور وزیر اعلیٰ پنجاب کے مشیر صحت خواجہ سلمان رفیق بھی پیش پیش تھے۔ 
شیخ الجامعہ دانش گاہ گجرات  ڈاکٹر ضیاء القیوم جس گرمجوشی اور محبت سے مہمانوں کو ’جی آیاں نوں‘کہنے میں مصروف عمل تھے اسے دیکھ کر مجھے مدر ٹریسا کی یہ بات یاد آرہی تھی کہ ”اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ہم کس کو کتنا کم یا کتنا زیادہ دے رہے ہیں بلکہ فرق صرف اس بات سے پڑتا ہے کہ ہم جو کچھ دے رہے ہیں اس دینے میں ہماری محبت کس قدر شامل ہے“۔ 
ستارہئ امتیاز کے حامل مہمانان گرامی پنڈال میں آئے تو ایسے ہی تھا جیسے چپکے سے ویرانے میں بہار آ جائے۔ عالموں کی آمد سے شب بھی منور ہو گئی۔ جس کو بھی مبارک دی جاتی وہ عجز و انکساری کا پیکر بن جاتا۔اور برملا کہہ دیتا یہ میرا نہیں میرے شعبے کا اعزاز ہے، یہ ہائر ایجوکیشن کے لیے افتخار کی بات ہے۔ کارکردگی، محنت،ریاضت اور کاوش کے شجر پر پھل ضرور آتا ہے اور ایسے موقعوں پر لوگ ثمر دار درخت یافرد کی طرف اشارہ کر کے ضرور کہتے ہیں کہ 
؎  دانہ خاک میں مل کر گل و گلزار ہوتا ہے  
دانہ زمین کی تہہ دار گہرائیوں اور اندھے غاروں میں سفر کر کے کس طرح زمین کا سینہ چیر کر باہر آتا ہے، یہ دانہ ہی جانتا ہے مگر اس کی ذات میں اپنے آپ کو دکھانے اور ذات کااظہار کرنے کے لیے جس ہمت اور محنت کی ضرورت ہوتی ہے اس کا ہونا بے حد ضروری ہے۔ ڈاکٹر مختار احمد، ڈاکٹر ارشد علی، ڈاکٹر محمد علی شاہ یا ڈاکٹر طلعت نصیر پاشا کو تحقیق و تعلیم کے میدان میں کتنی جان مارنا پڑی اس کا اندازہ شاید دور بیٹھ کر نہیں کیا جاسکتا ہے اس کے باوجود یہ سارے تشکر و عاجزی کا جو مظاہرہ کر رہے تھے اس سے نوبل انعام دینے کی وہ تقریب ضرور یاد آرہی تھی جس میں عظیم امریکی ادیب ولیم فاکنر کو نوبل انعام ملا تھا، وہ اپنی بیٹی کے ساتھ انعام وصول کرنے سویڈن گیا تو اس نے کہا ”یہ انعام مجھے نہیں میرے کام کو دیا گیا ہے“اسی خیال سے میں آگے بڑھا مگر درویش منش چیئر مین HEC ڈاکٹر مختار احمد سے پوچھنے کی جسارت نہ کر سکا کہ آپ کو یہ ستارہئ امتیاز کیوں ملا……؟  بہت سے لوگ مصروف عمل ہیں تو پھر سرکاری انتخاب آپ کیوں؟ تاہم میں نے یہی سوال پاس بیٹھے محترم ڈاکٹر ضیاء القیوم سے ذرا بدل کر پوچھ لیا کہ ان لوگوں کی امتیازی صفت کیا ہے جو باقی لوگوں میں کم ہے۔ ان کی کونسی کرامت ہے کہ انہیں یہ اعزاز ملا ہے؟ ڈاکٹر ضیاء القیوم مسکرائے اور بولے کہ ایک عربی مقولہ ہے ”الاستقامۃ فوق الکرامۃ“ یعنی استقامت کرامت سے بھی اوپر ہے۔ یہ استقامت والے لوگ ہیں یہ کام اور محنت کرتے نہیں ہیں کئی عشروں سے کرتے ہی چلے آرہے ہیں۔ آدمی اگر استقلال کے ساتھ کام کرے تو وہ اس سے بھی زیادہ بڑی کامیابی حاصل کر لیتا ہے جو کوئی صاحب کرامت آدمی کرامت کے ذریعے حاصل کرتا ہے۔  میں ضیائے دانش گاہ گجرات کی بات سن کر چپ ہو گیا اور میرے ذہن میں بنجمن ڈزرائیلی کا یہ قول مچلنے لگا کہ ”زندگی میں سب سے زیادہ کامیاب شخص وہ ہے جو بہترین معلومات رکھتا ہو“۔  

ڈاکٹر جاوید اکرم اور ڈاکٹر شاہد صدیقی نے اپنے اپنے انداز میں مہمانوں کو مبارکباد دی اور کہا کہ ایسی تقریبات کو اعلیٰ تعلیم کے غیر رسمی تعلقات سے تعبیر کرنا چاہیے جہاں نئی روایات جنم لیتی ہیں۔ محترم سہیل وڑائچ نے کہا کہ یہ تقریب دیگر سربراہان جامعات کے لیے بھی امید افزاء ہے اور پھر غیر رسمی ماحول میں اعلیٰ تعلیم کے تعمیری و تطہیری پہلوؤں پر کھل کر گفتگو نئے اعزازات کے لیے راستہ ہموار کرنے کا موجب ہو گی۔ سینئر صحافی سجاد میر نے مبارکباد دی اور کہا کہ اتنے بڑے بڑے عالموں، محققوں بلکہ استادوں کے استادوں کی محفل میں آنا خوشی کی بات ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہماری تحقیق کو جدت و اختراع کے ساتھ ساتھ قومی تقاضوں سے ہم آہنگ بھی ہونا چاہیے۔ اینکر حبیب اکرم نے کہا کہ میں نے تو دوران تعلیم مشکل سے اپنے وائس چانسلر کو قریب سے دیکھا تھا جبکہ آج اتنے زیادہ وائس چانسلرز کی موجودگی میں خوش اور حیران ہوں او رموقع غنیمت جان کر چیئر مین HEC سے گذارش کروں گا کہ قومی زبان کے نفاذ کے لیے اعلیٰ تعلیم میں قومی زبان کے کردار پر بھی بھرپور کام کیا جائے۔ تمغہئ امتیاز کے حامل ڈاکٹر محمد علی شاہ تعلیم و تحقیق کے حوالے سے بات کر رہے تھے تو عیاں ہو رہا تھا کہ دنیا کے اعزازات اس پر جوش شخص پر واری واری جاتے ہیں جو اپنے آپ کو ٹھنڈ ااور متوازن رکھتا ہے۔ ڈاکٹر محمد علی شاہ کی سائنسی تحقیق کی گرمی کو ان کی صوفیاء کے کلام سے محبت ٹھنڈا رکھتی ہے،وہ مٹی کی خوشبو سے رچی بسی پاکستانی فکر کے علمبردار ہیں وہ کامل درویش کی طرح شکریہ ادا کر رہے تھے۔ البرٹ آئن سٹائن سے اس کے عظیم اور ناقابل فراموش کارناموں کے بارے میں کسی نے پوچھاتو اس نے ایک ہی بات کہی تھی کہ وہ ہمیشہ دوسروں کا شکریہ ادا کرتا ہے۔ وہ دن میں کئی کئی مرتبہ اظہار محبت کرتا تھا اسی لیے زندگی نے بھی اپنے تمام راز آئن سٹائن پرافشاکردیئے۔ ڈاکٹر محمد علی شاہ کی یہ خوبی آئن سٹائن سے ہی مماثلت رکھتی ہے۔ ڈاکٹر مختار احمد اپنی درویشی اور شیریں گفتگو اور متانت کے باعث جانِ محفل نظر آرہے تھے۔ ہر ایک ان کے گرد جمع ہو کر ان سے دعائیں ضرور لیتا۔ کہتے ہیں کہ خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروق ؓنے ایک بار فرمایا،وہ ایک آدمی کی تلاش میں تھے جس کو کسی مقام کا حاکم بنا سکیں، انہوں نے کہا کہ میں ایک ایسا آدمی چاہتا ہوں کہ جب وہ کسی گروہ میں امیر ہو تو وہ ان میں انہی کے ایک شخص کی طرح رہے، او رجب وہ امیر نہ ہو تو ان کے درمیان امیر کی طرح بنا ہو، یعنی اس آدمی کے اندر ایسے اخلاقی اوصاف ہوں کہ عہدہ کے بغیر وہ لوگوں کے درمیان عزت و احترام کا درجہ حاصل کر لے، مگر اسی کے ساتھ وہ اتنا بے نفس ہو کہ اسے عہدہ پر بٹھا دیا جائے تو اس کے اندر بڑائی کا احساس پیدا نہ ہو، اس کے باوجود لوگوں کے درمیان عام آدمی کی طرح رہے۔ اچھے عہدیدار کی اس سے بہتر تعریف نہیں ہو سکتی۔ اسی تعریب کا کرشمہ میں نے اس شامِ اعزاز میں دیکھا۔ مجھے لگا کہ اختیار کو مختار سے نسبت یونہی نہیں ہو گئی، فضّلِ ربی ضرور ہے اور بے وجہ بھی نہیں ہے وہ بلا شبہ ستاروں کی اس محفل میں چودھویں کے چاندکی طرح تھے۔ 
مجھے خوشی ہے کہ جس لمحہ ان اعزازات پانے والی ہستیوں کی ستائش کی جا رہی تھی،میں لفظوں کی مالا لیے ان کے ساتھ کھڑا تھا اور دل ہی دل میں دعا کر رہا تھا کہ رب العالمین! امتیاز کے حامل ان ماہرین تعلیم کی روح اور دل کو سکون و راحت نصیب کرے۔ 
یہ تقریب ’ہیروورشپ‘کی نہیں تاریخی شعور کی عکاس تھی۔تاریخی شعور ہی ہے کہ جس میں ماضی اور حال کا وجدان دونوں شامل ہیں۔ تاریخی شعور انسان کو اپنے عہد کے ساتھ سانس لیتے انسانوں کی ہڈیوں میں موجود محبت کے ذروں کو لفظ اور احترام میں سمو دینے کا حوصلہ بخشتا ہے اور یہی فکر ہمیں اپنے ہم عصروں، وقت اور زمانے کا احساس دلاتی ہے اور پھر لوگ اور گروہ حسد کرنے کی بجائے رشک کرنے کی راہ پر بامراد ٹھہرتے ہیں۔ یہ شامِ اعزاز نوید دے رہی تھی کہ اعلیٰ تعلیم کی اگواکاری کا فریضہ تاریخی شعورکے حامل رشک کرنے والے مثبت فکر لوگوں کے کاندھوں پر ہے جو اس قوم کے لیے روشن مستقبل کی ضامن اچھی خبر ہے۔  


جمعرات، 21 اپریل، 2016

چوں مرگ آید تبسم برلب اوست

چوں مرگ آید تبسم برلب اوست 


حضرت علامہ اقبال مقدر کے سکندر تھے۔ انہیں ہر طرح سے تاریخ میں اعلیٰ مقام حاصل ہوا۔ فکری و فنی پہلو میں ان کی مہارت نے اپنا لوہا منوایا تو نجی زندگی میں بھی وہ کم خوش قسمت نہ تھے۔ تاریخ کی ستم ظریفی ہے کہ فارسی کا عظیم شاعر فردوسی لاچارگی کی موت مرا، عطا ر جیسا عظیم فارسی شاعر معمولی سپاہی کی تلوار سے جاں بحق ہوا۔ جعفر زٹلی حق بات کہنے پر ہاتھی سے کچل دیا گیا۔ انشاء اللہ خاں جیسا شاندار شعر کہنے والا شاعر بھی شاہی عتاب کا نشانہ بنا۔ اس تناظر میں شاعر مشرق، حکیم الامت علامہ اقبال خوش قسمت رہے۔ ان کی علالت میں علاج اور تیمار داری ایسی شاہانہ تھی کہ بڑے بڑے بادشاہ بھی اس کی آرزو کرتے ہیں۔
شاعر مشرق، مصور پاکستان علامہ محمد اقبال آغاز شباب کے سوا کسی دور میں بھی صحیح معنوں میں تندرست و توانا نہیں رہے۔ حالانکہ علامہ اقبال کے خاندانی ”جینز“بہت عمدہ تھے،ان کے خاندان کے اکثر افراد دراز عمر رہے۔ ان کے والد نے 93 سال، والدہ نے پچھتر سال،بھائی اور بہن نے اسی سال سے زائد جبکہ بیٹے جاوید اقبال نے بھی نوے سال سے زیادہ عمر پائی۔ تاہم حضرت علامہ اکسٹھ سال چند ماہ کی عمر میں ہی داعی اجل کو لبیک کہہ گئے۔ اقبال کی کم عمری کی وجوہات میں ان کی کمزور طبیعت، تساہل پسندی، فشار اعصاب، تمباکو نوشی، بدپرہیزی اور کشتوں کا استعمال وغیرہ بیان کی جاتی ہیں۔ علامہ زندگی بھر مختلف بیماریوں کا شکار رہے۔ عوارض چشم، عوارض گردہ، نقرس، عوارض قلب، عوارض ریوہ، عوارض گوراشی، درد گلو، امراض دہان، ملیریا اور کم خوابی جیسی امراض کا ساتھ زندگی بھر رہا۔ علامہ اقبال نے اپنی بیماریوں کا تذکرہ خود بہت تفصیل سے کر رکھا ہے اور اپنی بیماریوں اور کیفیتوں کو خوب رقم کیا۔ ان کے مطبوعہ ساڑھے چودہ سو خطوط میں سے 251 خطوط میں ان کی بیماریوں کا ذکر ہے۔ علامہ کی آخری عمر کی کئی نظموں میں بھی اس کا تذکرہ ہے۔ مسلسل بیماریوں کے حملوں کے باوجود علامہ اقبال وبائی امراض اور ان کے حملوں میں محفوظ رہے۔ 1918ء میں لاہور میں جان لیوا انفلوائنزا کی وبا میں لاکھوں شہری لقمہئ اجل بن گئے پھر طاعون کی وبا کے وقت بھی علامہ کا مدافعتی نظام کامیاب رہااور وہ محفوظ رہے۔ 
علامہ اقبال علالت و علاج کے معاملے میں بھی خوش قسمت رہے اور انہیں وقت کے لحاظ سے بہترین طبی امداد میسر رہی۔ تیس سے زیادہ حکیموں اور ڈاکٹروں کے نام ان کے معا لجین کی فہرست میں نمایاں ہیں۔ ان معالجین میں مقامی اور غیر ملکی ماہرین جن میں برطانوی، جرمن اور فرانسیسی طبیب بھی شامل ہیں۔ حکیم عبدالوہاب انصاری المعروف حکیم نابینا دہلی، حکیم اجمل خاں، حکیم سید ضیاء الحسن بھوپال، حکیم سلطان محمود، حکیم محمد حسن قریشی، حکیم گورداس پور، حکیم سید زادہ، حکیم محمد افضل اور حکیم فقیر محمد کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر عبدالباسط انصاری، ڈاکٹر احمد بخش خاں بہادر، ڈاکٹر رحمان، ڈاکٹر بوس، ڈاکٹر حسن محمدحیات، ڈاکٹر مظفر علی، ڈاکٹر ڈک، ڈاکٹر یار محمد خاں، ڈاکٹر کرم، ڈاکٹر کرنل امر چند، ڈاکٹر کیپٹن الہٰی بخش، ڈاکٹر برج موہن ورما، ڈاکٹر عباس علی، ڈاکٹر ذیلنتر، ڈاکٹر محمد یوسف، ڈاکٹر متھرا داس، ڈاکٹر جمعیت سنگھ، ڈاکٹر عبدالقیوم کے نام نمایاں ہیں۔ ایام شباب سے ہی صحت کے حوالے سے مشکلات کا شکار رہنے والے علامہ کو زندگی کے آخری سالوں میں جس جان لیوا بیماری نے ان کو مبتلائے اذیت رکھا، وہ 1934 میں کھانسی اور زکام سے شروع ہوئی۔ سید نذیر نیازی کے مشہور مضمون ”آخری علالت“ کے مطابق 1934 میں 10 جنوری عید الفطر کا دن تھا وہ حسب معمول نماز کے لیے شاہی مسجد گئے،اس روز تیز اور ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔ علامہ عام لباس میں گئے تو وہاں مسجد کے کھلے صحن میں انہیں ٹھنڈ لگ گئی۔ واپس آگئے،سویاں کھائیں اور والد مرحوم کی تقلید میں دودھ کی بجائے دہی میں ملا کر کھائیں۔ حکیم فقیر محمد نے انہیں عرصہ سے دودھ اور ہر اس شے سے جو دودھ سے بنی ہو، سے پرہیز تجویز کر رکھا تھا یہ کھانے سے ان کا گلا بیٹھ گیا۔ علاج شروع ہوا مگر افاقہ نہ ہوا۔ فروری میں ایکسرے ہوا تو پتہ چلا کہ قلب کے اوپر رسولی بن رہی ہے۔ ڈاکٹر نے ریڈی ایشن علاج تجویز کیا مگر علامہ متفق نہ تھے انہوں نے حکیم نابینا سے رابطہ کیا اور ان کے علاج سے بہتری آئی۔ معاملات معمولی تبدیلیوں کے ساتھ چلتے رہے 1938 کے فروری میں دمہ کا دورہ ہوا۔ 30 مارچ کو ضعف قلبی سے غشی طاری ہو گئی۔ اپریل میں چہرے، پاؤں پر ورم ہو گیا، درد پشت اور درد شانہ کے عوارض شروع ہو گئے۔ 19 اپریل سے بلغم میں کسی قدر خون آنے لگا۔ ڈاکٹر جمعیت سنگھ نے مایوسی ظاہر کی۔ ڈاکٹر امیر چند پہنچ گئے اور ڈاکٹر عبدالقیوم کو ہدایات دے کر چلے گئے، دوائی کھائی تو علامہ کا جی متلانے لگا، اس پر خمیرہ گاؤ زبان عنبری کی خوراک لی تو طبعیت بحال ہوئی۔ 20 اپریل کو طبیعت زیادہ ناساز ہوئی تو ڈاکٹروں نے Mersalyl کا ٹیکہ لگانے کا فیصلہ کیا۔ اس ٹیکے سے پیشتر چونکہ ان دنوں ایمونیم کلورائیڈ دینا ضروری تھا تاکہ پیشاب کھل کر آجائے۔ ڈاکٹر عبدالقیوم نے دوائی تیار کی اور ذائقہ بدلنے کے لیے تھوڑا سا ”گلیسرینزا“ بھی ملا دیا۔ اس کے باوجود علامہ کو دوائی ناگوار لگی اور انہوں نے ناگواریت کا اظہار بھی کیا۔ صبح سے علامہ کی چارپائی جاوید منزل کے پورچ میں تھی رات ہوتے ہی خنکی ہونے لگی اور رات گئے علامہ نے چارپائی اندر لے جانے کا کہا۔علی بخش اور ڈاکٹر قیوم چارپائی ان کے کمرہ خاص میں لے گئے۔ چارپائی رکھ کر ڈاکٹر قیوم کمرے سے نکل کر باہر سستانے لگے۔ علامہ نے علی بخش کو کہا کہ میرے شانے دباؤ پھر بیٹھے بیٹھے پاؤں پھیلا لیے اور دل پر ہاتھ رکھ کر کہا، ”یا اللہ، یہاں درد ہے اس کے ساتھ ہی سر پیچھے کی طرف گرنے لگا،علی بخش نے سہارا دیا تو علامہ نے قبلہ رو ہو کر آنکھیں بند کر لیں اور پیدا کرنے والے کے دربار میں سرخرو ہو گئے۔ 21 اپریل 1938 ء بمطابق 19 صفر بروز جمعرات صبح سوا پانچ بجے علامہ نے جان جانِ آفریں کے سپرد کر دی۔ علی بخش نے گھبرا کر ڈاکٹر صاحب کو آواز دی۔ڈاکٹر عبدالقیوم دوڑتے ہوئے اندر پہنچے تو علامہ کی آنکھیں بند اور لبوں پر ہلکا سا تبسم سا تھا۔ اس وقت ہر طرف فجر کی اذانوں کی پر سطوت صدائیں گونج رہی تھیں پھر ڈاکٹر عبدالقیوم نے ہی ریڈیو والوں کو فون پر علامہ کے انتقال کی خبر دی۔ لوگ جوق در جوق جمع ہونا شروع ہو گئے۔ اخباروں نے خصوصی ضمیمے شائع کیے، سکول، کالج، عدالتیں سب ادارے بند رہے عبدالمجید سالکؔ کے بقول ”جاوید منزل اس بیوہ کی طرح نظر آرہی تھی جس کا سہاگ اجڑ گیا ہو“۔ چوہدری محمد حسین نے، راجہ حسن اختر اور ڈاکٹر مظفر الدین قریشی کے ہمراہ اقبال کو شاہی مسجد کے کسی حجرے میں دفن کرنے کی تجویز پیش کی۔ اس کے لیے سرکاری اجازت کی ضرورت تھی۔ پنجاب حکومت کے سربراہ سکندر حیات کلکتہ کے دورے پر تھے۔ میاں امیر الدین نے ٹیلی گراف کے ذریعے ان سے رابطہ کر کے اجازت طلب کی تو انہوں نے انکار کر دیا اور اسلامیہ کالج کے میدان میں تدفین کا کہا۔ لیکن علامہ کے دوست احباب ڈٹے رہے اور انہوں نے براہ راست صوبہ کے گورنر سر ہنری کریگ سے رابطہ کر کے دہلی سے اجازت منگوا لی اور مسجد شاہی کے بائیں جانب والے قطعہ زمین پر علامہ کی لحد کی تیاری شروع ہو گئی۔ علامہ کی رہائش گاہ پر عقید ت مندوں کی آمد پانچ بجے عصر تک جاری رہی پھر علامہ کا جنازہ جاوید منزل سے برآمد ہوا۔ جنازے کی چارپائی کے ساتھ لمبے لمبے بانس باندھ دیئے گئے تاکہ ہر شخص آسانی سے کندھا دے سکے، ہر مذہب، مسلک اور فکر کے لوگ ہجوم کی صو رت ساتھ ساتھ تھے۔ جنازہ قلعہ گوجر سنگھ اور خیابان فلیمنگ سے ہوتا ہوا، اسلامیہ کالج سے گذر کر قلعہ لاہور کے قریب پہنچا، پہلے حضوری باغ پھر شاہی مسجد کی سیڑھیوں کے قریب رکھ دیا گیا۔ 60 ہزار سے زیادہ کا ہجوم شام سات بجے شاہی مسجد کے صحن پہنچا اور وہاں جنازہ رکھ کر علامہ کے بڑے بھائی عطا محمد کا انتظار ہونے لگا جو سیالکوٹ سے نہیں پہنچ پائے تھے۔ ساڑھے آٹھ بجے مولانا غلام مرشد نے نماز جنازہ پڑھائی، اسی اثناء میں سیالکوٹ سے رشتہ دار پہنچ گئے۔ کہرام مچ گیا۔ عطا محمد روتے روتے مجمع کو ہٹاتے جاتے اور کہتے لوگو مجھے میرے بھائی کا چہرہ دیکھ لینے دو، اس نے کہا تھا اس کے چہرے پر مرنے کے بعد تبسم ہو گا ۔یقیناہو گا۔ علامہ نے خود کہا تھا کہ

نشان مرد مومن باتو گویم 
چو مرگ آید تبسم بر لب اوست

(مرد مومن کی علامت سے کہتا ہوں کہ جب اس پر موت آئے تو اس کے لبوں پر مسکراہٹ رہتی ہے) 

حکیم الامت کے جسد خاکی کو سوا دس بجے رات سپرد خاک کر دیا گیا۔ چند مہینوں بعد مزار کمیٹی بنا دی گئی جس نے فیصلہ کیا کہ مزار کی تعمیر کے لیے چندہ نہیں لیں گے۔ قیام پاکستان کے بعد وزیر خزانہ غلام محمد نے حکومت کی جانب سے مزار کی مدد کرنا چاہی تو کمیٹی نے قبول نہیں کیا۔ افغان حکومت نے اٹلی کے ماہرین فن سے مقبرہ کا نقشہ بنوا کر بھیجا، اسے بھی قبول نہیں کیا گیاکہ اس میں کیتھولک صنعتی فن تعمیر نظر آتا ہے اور آخر میں عالمی شہرت یافتہ ماہر فن تعمیر نواب زین یار بہادر جنگ سے نقشہ بنوایا گیا اور پھر پرشکوہ مقبرہ تعمیر ہوا۔ علامہ اقبال کا مقبرہ لاہور کی سرزمین پر صدیوں ”سجدہ گاہ صاحب نظراں“ رہے گا اقبال نے کہا تھا کہ  
زیارت گاہ اہل عزم و ہمت ہے لحد میری  

جمعہ، 16 اکتوبر، 2015

سرسید احمد خاں:فہم نو کی ضرورت ہے


انیسویں صدی کے وسط میں ہماری قومی زندگی فشار اور بحران کے سنگم پر کھڑی تھی۔ راستے گم تھے اورر اہ نما مفقود! ان نازک حالات میں جس شخص نے اعتماد اور حوصلے کے چراغ جلائے، علی گڑھ جیسی اہم تحریک کی داغ بیل ڈالی اور پھر اس کی قیادت کے فرائض بھی انجام دیئے۔ اسے ہم سر سید احمد خاں کے نام سے یاد کرتے ہیں ۔ سر سید نے قومی زوال سے متاثر ہو کر قومی تعمیر کے لیے کمر باندھی تو زندگی کے بے شمار پہلو انہیں داغ داغ نظر آئے ۔ تہذیب و تمدن ، مذہب و معاشرت، سیاست و معیشت ، علم و ادب ، زبان اور تعلیم غرض کوئی پہلو ایسا نہ تھا جو اصلاح طلب نہ ہو ۔ ان میں سے ہر پہلو سر سید کی توجہ کا مرکز بنا اور انہوں نے ہر ایک پہلو میں زندگی کی نئی روح پھونکنے کی کوشش کی ۔ 
مولانا حالی اور سر سیدکے دوسرے معاصرین نے ان کے کام کو1857ءکے ہنگامہ رستا خیز اور برطانوی اقتدار کے قیام اور اس سے پیدا شدہ حالات کی روشنی میں ہی دیکھا ہے مگر آج ان کی وفات کے ایک سو تیرہ سال بعد بھی ان کے کام کو1857ءکے پس منظر میں دیکھنا ہی کافی سمجھا جاتا ہے حالانکہ سرسید دور جدید کے پہلے مسلمان تھے جس نے آنے والے زمانے کے ایجابی مزاج کا عکس اپنے آئینہ ادراک میں دیکھ لیا تھا اور اپنی ساری جدو جہد کا رُخ ہندوستان کی فلاح و بہبود، اسلام کی نئی تفسیر و تعبیر اور ایشیاءکے نفس ہائے رمیدہ کی باز یافت کی طرف موڑ دیا تھا۔ سر ہملٹن گب نے سر سید کی قائم کردہ درسگاہ کوFirst modernist organization of Indiaقرار دیا تھا۔ 
سر سید نے اپنی تحریک کے ذریعے بے زاری، مایوسی ، غلامی اور تقلید کی ز نجیروں میں جکڑے ہوئے لوگوں کو ایک نئی زندگی کی بشارت دی۔ ان کی آنکھوںمیں اعتماد اور حوصلے کی چمک پیدا کی ۔ سر سید کا خیال تھا کہ جب تک ہم اندھی تقلید کی زنجیروں کو نہ توڑیں گے اصلاح کا کوئی کام نتیجہ خیز ثابت نہ ہو گا ۔ اسی خیال کے پیش نظر زندگی اورادب میں عقلیت اور افادیت کا تصور پروان چڑھا۔ زندگی سے متعلق مسائل کو عقل کی روشنی میں دیکھنے اور پرکھنے کی کوشش شروع ہوئی ۔ اسی طرز فکر کے باعث ان پر کفر کے فتوے لگے لیکن ان کے کفر نے ایمان کے لیے نئے راستے کھول دیئے ۔ ہمارے معاشرے میں میں عمل اور حرکت کی ایک موج پیدا ہوئی۔ مشرق و مغرب کے امتزاج سے ایک نیا معاشرہ ابھرنے لگا۔ جدید اور قدیم کے مابین سر سید تحریک نے ایک پل کا کام کیا ۔ یہ بھی یاد رہے کہ تقلید سے پرہیز اور روایت شکنی پر زور دینے کے ساتھ انہیں اپنی اچھی روایات، عقاید اور تہذیبی ورثہ سے بھی دلی تعلق تھا۔ سرسید اور ان کے رفقاءکی جدوجہد کی تہہ میں فکر و نظر کے ساتھ گہرا انسانی ، علمی اور تاریخی شعور بھی کارفرما تھا جو اپنے مفید اور کار آمد ورثہ کو برقرار رکھتے ہوئے ، دوسروں سے اچھی اور مفید اقدار کو قبول کرنے پر اصرار کرتا تھا اور اسی تصور پر زندگی کی صحت مند تعمیر کرنا چاہتے تھے۔ 
آج وطن عزیز جن سماجی و فکری مسائل کا شکار ہے اس کے تدارک کے لیے بھی ہمیں ایسی ہی ہمہ جہت ، روشن خیال اور منطقی تحریک کی ضرورت ہے ۔ آج سر سید ہم سے پوچھ رہے ہیں کہ کیا ہم نے اپنی ذات سے بلند ہو کر اخلاص اور محبت سے اپنی تہذیب کا عرفان حاصل کرنے کی کوشش کی ؟ اور کیا ہم نے ان کی طرح فراخدلی اور رواداری کے ساتھ ، جذباتیت سے بلند ہو کر اپنی زندگی کے راستے متعین کیے ہیں ؟ اور کیا ہم نے اس تہذیبی بحران پر جس سے آج ہم دوچار ہیں اس طرح حاوی ہونے کی کوشش کی جس کی مثال ہمیں سر سید کے عمل میں ملتی ہے ؟ 
سر سید کے سماجی اور تہذیبی تصورات اگرچہ ہمارے معاشرے میں غیر محسوس طور پر نفاد کر گئے تھے لیکن ان کا شعوری اور تفصیلی جائزہ بھی ابھی نہیںلیا گیا ؟ تعلیم کے بارے میں ان کے تصورات کی افادیت آج بھی موجود ہے مگر ان کو باضابطہ مطالعہ کے بعد مرتب شکل دینے کی آج بھی اشد ضرورت ہے ۔ 
علامہ اقبال نے بہت پہلے کہا تھا کہ ”مسلمانان ایشیا اب تک سرسید احمد خاں کی ذہنی کاوش کو سمجھنے کے قابل نہ ہو سکے“ انہوں نے مزید کہا کہ ”اس حقیقت کا انکشاف مجھ پر ہوا کہ سرسید کی نگاہ ایسے وسیع و عریض اُمور پر جمی ہوئی تھی جن کا تعلق مسلمانان ایشیاءکے مذہب اور سیاست سے تھا۔ پس مسلم ایشیاءنے اب تک ان کی شخصیت کی حقیقی عظمت کا اندازہ نہیں کیا۔ مولانا ابوالکلام آزاد نے بھی سرسید احمد خاں کی شخصیت کو عالم اسلام کے وسیع فکری پس منظر میں دیکھا اور ”وکیل “ کے ایک ادارےے میں لکھا تھا کہ ”جو آواز آج سے تیس چالیس برس پیشتر اس اسلامی دور کے آخری مجدد کی زبانی سرزمین ہند سے بلند ہوئی تھی آج مصر، استنبول اور خود ہندوستان کے ہر روشن خیال اور تعلیمافتہ شخص کی زبان پر ہے ۔ مولانا ابوالکلام نے علی گڑھ کے ایک کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ”اگر ہندو اور مسلمانوں نے سر سید کی رائے کی روح کو سمجھا ہوتا اور اس کی پیروی کی ہوتی تو آج ملک کی تاریخ کا دوسرا رُخ ہوتا۔ بلاشبہ سرسید کے کارنامے ترکی کے مدحت پاشااور فواد پاشا، ایران کے حجةالاسلام شیخ ہادی نجم آبادی، مصر کے مصطفےٰ کامل، تیونس کے خیر الدین پاشا، الجیریا کے امیر عبدالقادر، طرابلس کے امام محمد سنوسی، افغانستان کے سید جمال الدین افغانی اور روس کے مفتی عالم جان کے کارناموں کے ساتھ مطالعہ کا مطالبہ کرتے ہیں۔ 
اگر اقبال، گب اور آزاد کے دئےے ہوئے معیار اور سرسید کی جدوجہد و مساعی کے جملہ پہلو ہمارے پیش نظر رہتے تو سرسید کی حیرت انگیز ہمہ گیری اور اس کے دوررس اثرات کا عظیم الشان میدان نظروں کے سامنے آجاتا لیکن ہم نے ہمیشہ محدود دائروں میں سرسید کی عظمت کو تلاش کرنے کی کوشش کی اور بقول اقبال 
اس مردخدا سے کوئی نسبت نہیں تجھ کو 
تو بندہ آفاق ہے، وہ صاحب آفاق
حقیقت یہ ہے کہ سر سید کی فکر اور ان کی جدو جہد وسعی کی نوعیت کو سمجھنے کے لےے پاک و ہند، عالم اسلام اور ایشیا تینوں کے پس منظر سامنے ہونے چائییں۔ آج پاکستانی معاشرہ جس عدم برداشت، قنوطیت، فتویٰ بازی اور تاریخی نرگیست کا شکارہے اس کا ایک علاج سر سید احمد خاں جیسے مصلح و مدبرراہنما کی حقیقت پسندانہ روشن خیالی کا فروغ بھی ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم سرسید کے افکار و خدمات کی فہم نو حاصل کرکے آنے والے دنوں کو ان کی لو سے منور کریں تاکہ معاشرے سے جہالت، مایوسی اور فکری پسماندگی کا خاتمہ ہو، ہمیں ایک اور سر سید کی ضرورت ہے۔ 

قائد ملت نوابزادہ لیاقت علی خاں

 حیات و خدما ت

قائد اعظم کے دست ِراست پاکستان کے پہلے وزیر اعظم شہید ملت نوابزادہ لیاقت علی خاں کا شمار مجاہدین تحریک آزادی اور معماران وطن میں ہوتا ہے ۔ قیام پاکستان اور استحکام پاکستان کیلئے اس بطل ِجلیل کی ملی خدمات ہماری تاریخ کا ایک روشن باب ہے وہ ایک باصلاحیت، دیانتدار، محنتی، بے باک اور عہد ساز شخصیت تھے۔ 
انہوں نے یکم اکتوبر1896ءکو مشرقی بنگال کے ضلع کرنال میں ایک بڑے زمیندار نواب رستم خان کے گھر جنم لیا۔ پیدائش میں ان کا نمبر سجاد علی کے بعد دوسرا تھا۔ انکا خاندان جو مشہور بادشاہ نوشیروان عادل کی نسل سے متعلق ہونے کا دعویدار تھا۔ تقریباً پانچ سو سال قبل مغلیہ عہد میں ایران سے ہندوستان آیا تھا۔ انکی زمینیں صوبہ پنجاب اور اتر پردیش میں پھیلی ہوئی تھیں۔ برطانوی عہد میں لارڈ کنینگ نے لیاقت علی خان کے داد ا نواب احم علی خان کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے پنجاب کے چیف کمشنر کو ہدایت کی تھی کہ اسے اور اس کی اولاد کو ہمیشہ پانچ ہزار روپے کا مالیہ معاف کر دیا جائے اور دس ہزار روپے کی خلعت دی جائے انکے ہاں نواب کا خطاب پشتی تھا۔ جو انکے بڑے بھائی سجاد علی خان کو ملا۔ لیاقت علی خان کا بچپن زیادہ تریوپی میں ہی گذارجو اس وقت مسلم ثقافت کا بڑا مرکز تھا۔ ان کی تعلیم گھر پر ہی مکمل ہوئی تو وہ مزید تعلیم کیلئے محمڈن اینگلو اورئینٹل کالج علی گڑھ چلے گئے جہاں اسے انہوں نے1918ءمیں بی اے کا امتحان پاس کیا ۔اس وقت ان کے اہل خانہ ان کوانڈین سول سروس میں شامل کرانے کا خواب دیکھ کر رہے تھے۔ لیکن دوسری طرف لیاقت علی خان بھی مزید تعلیم کے حصول کے خواہشمند تھے۔ اس لئے1919ءمیں وہ قانون کی اعلیٰ تعلیم کیلئے انگلستان چلے گئے۔ جہاں1921ءمیں انہوں نے آکسفورڈ سے قانون کی ڈگری لی اور1922ءمیں بارایٹ لاءکیلئے انرٹمپل چلے گئے۔ آکسفورڈ میں نوجوان لیاقت علی خان انڈین مجلس کے زیر اہتمام سیاسی مباحثوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے رہے اور کچھ عرصہ تک اس مجلس کے خازن بھی رہے۔ 1923ءمیں وہ ہندوستان واپس آئے اور یو پی کے مقام منظر نگر میں مقیم ہو گئے۔ عملی سیاست میں بھی دلچسپی بڑھی تو اسی سال آل انڈیا مسلم لیگ میں شامل ہو گئے اور مئی1924ءمیں پہلی مرتبہ وہ مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس منعقدہ لاہور میں شریک ہوئے۔1927ءمیں سائمن کمیشن کے مسئلے پر مسلم لیگ دوواضع دھڑوںجناح لیگ اور شفیع لیگ لاہور میں تقسیم ہوئی تو وہ جناح لیگ کے ساتھ کھڑے رہے۔ وہ1926ءمیں یوپی کی لیجسلیٹو کونسل کے رکن منتخب ہوئے ۔لیاقت علی چونکہ ایک ملنسار اور وضع دار شخصیت تھے اسلئے تعلقات بنانا اور نبھانا خوب جانتے تھے۔ اس لےے مسلسل چودہ سال تک اپنی نشست پر کامیاب ہوتے رہے۔ اس دوران وہ چھ سال صوبائی مجلس قانون ساز کے ڈپٹی پریذیڈنٹ اور ڈیمو کریٹک پارٹی کے راہنما رہے۔ دسمبر1928ءمیں وہ نہرو رپورٹ پر بحث کیلئے کلکتہ میں منعقدہ نیشنل کانفرنس میں شریک مسلم لیگ وفد کے ممبر تھے۔اس وقت ہندو مسلم اتحاد کے سفیر محمد علی جناح سے گہری وابستگی کے باعث شروع میں ہندو مسلم اتحاد کے خواہشمند تھے لیکن نہرو رپورٹ اورہندوانتہا پسندوں کے دباﺅ پر اسکی منظوری سے وہ ہندوﺅں سے مایوس ہو گئے۔ 
1933ءمیں انہوں نے دوسری شادی کی اور اسی سال بیگم رعنا لیاقت کے ہمراہ یورپ چلے گئے اس دورے میں انہوں نے انگلستان میں تنظیم سازی اور سیاسی جماعتوں کے ڈھانچوںکا خصوصی مطالعہ کیا۔ لیاقت علی نے اترپردیش میں پہلے ہی ڈیمو کریٹک پارٹی کے نام سے گروپ بنا رکھا تھا اسکی تصدیق نواب احمد سعید خاں آف چھتاری جو فروری1929ءمیں لیاقت علی رعنا کے مہمان بھی رہے اپنی سوانح حیات” یاد ایام“ میں کرتے ہیں۔ 26اپریل1936ءکو بمبی ¿ سیشن میں مسلم لیگ کی تنظیم نو کے سلسلے میں محمد علی جناح کو صدر اور سر محمد یعقوب کی جگہ نوابزادہ لیاقت علی خاں کو آنریری سیکرٹری جنرل منتخب کیا گیا لیکن ڈاکٹر رفیق افضل کے مطابق صوبائی لیگ کے بعض راہنماﺅں سے اختلاف کی وجہ سے وہ جولائی1936ءمیں مسلم لیگ پارلیمانی بورڈ سے علیحدہ ہو گئے اور نواب احمد سعید خاں آف چھتاری کی نیشنل ایگر یکلچر سٹ پارٹی میں شامل ہو گئے۔ لیکن 1937ءکا انتخاب انہوں نے کسی پارٹی کے ٹکٹ سے نہیں لڑا تا۔ہم 2مارچ1938ءکوانہیں ایک سرکاری تجارتی وفد کے مشیر کی حیثیت سے سر ظفر اللہ خاں کی زیر قیادت لند ن بھیج دیا گیا۔ 1940ءمیں وہ پھر مرکزی اسمبلی کے رکن چنے گئے اور مسلم لیگ پارٹی کے ڈپٹی لیڈر بن گئے اب آپ کا شمار قائد اعظم کے معتمد ترین ساتھیوں میں ہونے لگا تھا اور قائد اعظم نے مسلم لیگ کونسل کو خطاب کرتے ہوئے لیاقت علی خاں کو اپنا دست وبازوقرار دیا تھا۔ دسمبر1943ءمیں آپ کو دوبارہ مسلم لیگ کا جنرل سیکرٹری منتخب کر لیاگیا۔ پھر1948ءمیں پاکستان مسلم لیگ کے قیام تک یہی فرائض سرانجام دیتے رہے آپ کی صلاحیتوں کا اصل امتحان1946ءمیں شروع ہوا جب آپ کو مسلم لیگ کی جانب سے وائسرائے کی کونسل میں شامل کیا گیا اور عبوری حکومت میں وزیر خزانہ بنا یا گیا ا س وقت عام خیال یہی تھا کہ وزارت خزانہ جیسی مشکل اور اہم ذمہ داری نبھانا کسی مسلمان یا نواب کے بس کا روگ نہیں چنانچہ اس بے بنیاد چیلنج کو قبول کرتے ہوئے لیاقت علی خان نے سماجی انصاف کے اصولوں پر مبنی جو تاریخ ساز بجٹ پیش کیا اسے غریب آدمی کا بجٹ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اس بجٹ سے ہندو سرمایہ دار حیران و پریشان رہ گئے اور اسکی مخالفت کرنے لگے ۔ایک پرولتاری مزاج کے حامل نوابزادے کے اس ”کارنامے“ کے سامنے آخر کار کانگریسی راہنماﺅں نے گھٹنے ٹیک دئےے اور کئی راہنماﺅں نے بادل ِنخواستہ تقسیم ہند کی حمایت شروع کر دی۔ قیام پاکستان کے بعد لارڈ ماﺅنٹ بیٹن کی خواہش کے برعکس جب قائد اعظم نے سربراہ ریاست کی حیثیت سے حلف اُٹھایا تو اپنے ساتھ بطور وزیر اعظم نوابزادہ لیاقت علی خان کا ہی انتخاب کیا بلاشبہ ابتداءمیں بابائے قوم خود ہی قوم اور حکومت کی راہنمائی فرماتے تھے۔ لیکن اس دور میں بھی انکے فیصلوں کو عملی جامہ پہنانے کی ذمہ داری وزیر اعظم ہی کی تھی لیکن صرف ایک سال بعد جب قائد اعظم قوم کو داغِ مفارقت دے گئے تو نوازئیدہ پاکستان کی بنیادیں ہل گئیں بھارت نے اس صورتحال کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے حیدر آباد دکن پر ہلہ بول دیا اس سے نوازئیدہ مملکت خداداد کے بارے میں لوگوں کے دلوں میں ہزاروں اندیشے اور خطرے جنم لینے لگے۔ ایس ایم اکرام کے بقول غیر ملکی مبصرین تو یہاں تک کہنے لگے کہ"With the builder's death the house that Jinnah built would collapse" یعنی معمار کی وفات سے وہ مکان جو جناح نے تعمیر کیا قائم نہیں رہ سکے گا۔ان تشویشناک حالا ت میں نوابزادہ لیاقت علی خان نے عزم و استقلا ل سے قوم کے آزردہ دلوں کو سنبھالا دینے اور لا تعداد مسائل کی الجھی ہوئی گھتیوں کو سلجھانے میں ناقابل فراموش کردار سرا نجام دیا ۔انہوں نے خود اعتمادی ، تندہی، لگن اور تدبر سے اندرون وبیرون ملک پاکستان کی ساکھ نہ صرف قائم رکھی بلکہ اس میں اضافہ کیا چوہدری محمد علی کے الفاظ میں"Liaqat Ali rose to unexpectedly great hights as the national leader"لیاقت علی کو جن مسائل کا سامنا تھا ان میں سرفہرست فرقہ وارانہ فسادات اور مہاجرین کی آباد کاری کا تھا آپ خود مہاجر کو نسل کے چیئرمین تھے اور شب و روز آباد کاری کے فرائض سرانجام دیتے رہے فرقہ وارانہ فسادات کی روک تھام کے لئے حکومت ہند اورلارڈ ماﺅنٹ بیٹن سے ملاقات کی نہرو کے ساتھ مل کر جرا ¿ت مندی سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا۔ فضا کو خوشگوار بنانے کے لئے گاندھی کی سمادھی پر پھول چڑھائے۔ پٹیل کی عیادت کی اور نہرو لیاقت پیکٹ کے لئے راہ ہموار کی ۔عبوری دور میں ہی لیاقت علی خان ثابت کر چکے تھے کہ وہ اقتصادی ومالیاتی امور سے کماحقہ‘ آگاہ ہیں۔ چنانچہ وزارت عظمی کا منصب سنبھالنے کے بعد آزاد معیشت کے لئے ملکی برآمدات پر زور دیا اور پہلے ہی سال بظاہر ناگفتہ بہ حالت اور اثاثوں کی غیر منصفانہ تقسیم اور روک کے باوجود متوازن بجٹ پیش کرکے مستحکم معاشی حالت کی نشاندہی کی۔ انہی کے دور میں اکتوبر1948ءمیں لاہور میں سکے ڈھالنے کے لئے ٹکسال قائم کیا گیا ۔اقتصادی حوالے سے انہیں ستمبر1949ءمیں ایک اور کڑے امتحان سے گزرنا پڑا جب برطانیہ سمیت کئی ممالک نے اپنی معاشی بدحالی کے باعث عالمی سطح پر اپنے سکے کی قیمت گرانے کا فیصلہ کیا لیکن پاکستان اور بھارت کے درمیان ڈیڑھ سال تک معاشی سردجنگ جاری رہی بالاخر25جنوری1951ءکو بھارت نے پاکستانی سکے کی نئی شرح تبادلہ کو تسلیم کر لیا انہی دنوں کوریا کی جنگ چھڑ جانے سے بھی پاکستان نے بھرپور فائدہ اُٹھایا۔ 
نومبر1949ءمیں نیشنل بنک آف پاکستان قائم کیا گیا۔ اسی سال کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت کے لئے سب سے پہلا سٹاک ایکسچینج کراچی میں قائم کیا گیا ۔1950ءپاکستان انڈسٹریل ڈویلپمنٹ کارپوریشن قائم کی گئی جس کا مقصد پبلک سیکٹر میں صنعتیں قائم کرنے کے بعد ان کو پرائیویٹ سیکٹر میں منتقل کرنا تھا۔کونسل آف سائنٹفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ کا قیام بھی عمل میں لایا گیا۔ تیل کی تلاش شروع ہوئی جس کی وجہ سے سوئی گیس دریافت ہوئی ۔وارسک پراجیکٹ اور کرنافلی پراجیکٹ پر توجہ دی گئی سیلاب کی تباہ کاریوں کی روک تھام کے لئے 1950ءمیں فلڈ کمیشن قائم کیا ۔اسکی سفارشات کے مطابق قانون قومی آفات پاس کیا گیا جسکے تحت فلڈ ریلیف کمیشن قائم کیا جا سکتا ہے۔ اسی کمیشن کے فوجی ممبران کی تجویز پر بمبانوالہ بیدیاں کینال تعمیر کی گئی اس نہرنے1965ءکی پاک بھارت جنگ میں لاہور کی حفاظت کے سلسلے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ 
اس کے باوجود لیاقت علی خان کے کچھ ناقدین معترض ہیں کہ کو وزیر اعظم نے دستور ساز اسمبلی میں واضع اکثریت کے باوجود دستور سازی کے معاملے میں غیر ضروری تساہل سے کام لیالیکن معترفین بھول جاتے ہیں کہ قائد اعظم کی رحلت، مہاجرین کا سیل ،رواں مسئلہ کشمیر، سرحدوں پر ہندوستانی فوج کا اجتماع ایسی حقیقتیں تھیں جس سے انکی تمام تر توجہ قومی استحکام پر مرکوز رہی، اسکے باوجود12مارچ1949ءکو قرار دادمقاصد منظور کرائی جسکی بنیاد پر دستور بنناتھااگلے ہی روز بنیادی اُصولوں کی کمیٹی کا قیام عمل میں لایا گیا جس نے اگلے سال عبوری رپورٹ پیش کی اس پر نکتہ چینی شروع ہوئی تو اس پر بحث ملتوی کراد دی اور پھر انکی جان لے لی گئی۔ 
اسکے باوجود یہ کہا جا سکتا ہے کہ انکے دور میں مسلم لیگ اور حکومتی پارٹی تنزل کا شکار ہو گئی مگر انہوں نے بطور وزیر اعظم اور صدرپاکستان مسلم لیگ اس طرف مناسب توجہ نہ دی اسی بناءپر تمام صوبوں میں بھی مسلم لیگی قائدین اور ارباب اقتدار دست و گربیان رہے مگر اس نازک صورتحال میں وزیر اعظم خود کو مفادات کی جنگ اور ان صوبائی جھگڑوں سے بالا تر نہ رکھ سکے۔ اس سے انکی ذات ہدف تنقید بنی ڈاکٹر مظفر احمد چوہدری کا کہنا ہے کہ ”انکا تعلق پاکستان کے کسی صوبہ سے نہ تھا لہٰذا انہیں سیاسی حمایت حاصل کرنے کے لئے مختلف صوبوں کو وزرائے اعلیٰ کے تعاون کا سہارا لینا پڑتا تھا اور اس غرض کے لئے انہوں نے متعد د باراصولوں کی قربانی دی۔ لیاقت علی کے عہد میں خارجہ پالیسی نے بھی واضع شکل اختیار کرنا شروع کر دی تھی۔ بھارت کے ساتھ تنازعات کو پر امن طریقے سے طے کرنے کے لےے اقدامات، سا لمیت پاکستان کے تحفظ کے لئے دستور کی تلاش اوراسلامی کے ساتھ خوشگوار تعلقات کو فروغ حاصل ہوا۔ لیکن مشتاق احمد نے اپنی کتاب ” گورنمنٹ اینڈ پالٹکس ان پاکستان“ میں لیاقت دور کی خارجہ پالیسی کو ہدف تنقید بنایا ہے کہ ابتداءمیں انکی پالیسی غیر جانبدارانہ تھی اور پاکستان کسی بھی بین الاقوامی گروہ میں یا بلاک میں شامل ہونا نہیں چاہتا تھا۔ لیکن روس کی دعوت پر ماسکو نہ جانا اور ٹرومین کی دعوت پر امریکہ چلے جانا غیر جانبداری کے دعوﺅں کے سر ا سر منافی تھا۔ بعد ازاں اس غلطی کی وجہ سے وزیر اعظم کو شہید کر دیا گیا۔ 
قائد ملت لیاقت علی خان16اکتوبر1951ءکو راولپنڈی کے موجودہ لیاقت باغ میں عوام کے ایک بڑے اجتماع کو خطاب کرنے آئے اور ڈائس پر جونہی انہوں نے تقریر شروع کی اور ابھی برادارن ملت ہی کہا کہ سید اکبر نامی ایک پٹھان نے انہیں گولیوں کا نشانہ بنالیا وہ کلمہ طیبہ ادا کرتے ہوئے نیچے گر پڑے اور انکی روح پرواز کرنے لگی آخری وقت انکی زبان پر یہی الفاظ تھے کہ خدا پاکستان کی حفاظت کرے ۔ وزیر اعظم کی شہادت کا واقعہ ایک گہری سازش کا نتیجہ تھا۔ اگر ہم شہیدملت لیاقت علی کی حیات و خدمات کا تجزیہ کریں اور انکی بشری کوتاہیوں اور ملی خدمات کو ترازو میں رکھیں تو شریف النفس وزیر اعظم کی خدمات کا پلڑا بھاری رہے گا۔ سید نور احمد ”مارشل لاءسے مارشل لاءتک“ میں لکھتے ہیں کہ انکی بعض پالیسیوں سے اختلاف ممکن ہے لیکن امر واقع یہ ہے کہ قائد اعظم کی طرح لیاقت علی خان نے بھی پاکستان ہی کو اپنا سرمایہ، اپنا خاندان اور اپنا سب کچھ سمجھا۔ انہوں نے نہ کوئی بنک بیلنس جمع کیا ،نہ اپنے لئے اور نہ اپنے خاندان کے لےے کوئی منفعت حاصل کرنے کی کوشش کی وہ اقتدار کو قوم کی امانت سمجھتے رہے قائد اعظم کے بعد ملک کی قیادت اور خدمت کے لئے انکی موجودگی بلاشبہ عوام کا حوصلہ بلند رکھنے کا باعث ثابت ہوئی۔ انکی کابینہ کے ایک اہم وزیر چوہدری نذیر احمد خاں رقمطراز ہیں کہ لیاقت علی خان ایک سچے ،محب وطن، بے لالچ قابل اور گہری سوچ و بچارکے مالک تھے انہوں نے قائد اعظم کے بعد جس طرح اس نوازئیدہ مملکت کو سنبھالا وہ انہی کا حصہ ہے۔ جبکہ مشتاق احمد نے انکی شہادت کو عظیم المیہ قرار دیتے ہوئے یوں تبصرہ کیا تھا کہ 
The Assassination of Liaqat was a mortal blow to to the young state, how grim was the tragedy, became more obvious by the events that followed his death....his premature exit from the scene marked a turning point in political history of Pakistan. 

٭٭٭٭٭

منگل، 6 اکتوبر، 2015

1958ءکے مارشل لا ءکا پس منظر اور وجوہات


1958ءکے مارشل لا ءکا پس منظر اور وجوہات 


ممتاز ماہر عمرانیات ایرک فروم کا کہنا ہے کہ آزادی کا حصول اور اس کے حصول کے بعد اس کو قائم رکھنا ایک دشوار طلب عمل اور کشمکش ہے بعض لوگ، بعض گروہ یا قومیں اس سے گھبرا کر اپنی آزادی اپنی رضاسے ایک شخص یا جماعت کے حوالے کر دیتے ہیں۔ اس طرح انھیں فیصلہ کرنے کی زحمت سے نجات مل جاتی ہے اور وہ حکم ماننے میں ایک گو نہ سکون محسوس کرتے ہیں۔ سات اکتوبر1958ءکو جب سکندر مرزا نے پاکستان میں اعلانیہ مارشل لا ¿ نافذ کرکے کمانڈر انچیف جنرل ایوب خاں کو چیف مارشل لا ¿ ایڈمنسٹریٹر نامزد کر دیا تو قوم نے بغیر کسی مزاحمت کے سرِ تسلیم خم کرنے میں سکون محسوس کیا اور بقول ایوب خان ملک میں مارشل لاءاتنی آسانی سے جاری ہو گیا جیسے کوئی بجلی کا بٹن دبا دے ۔
لیڈر خود غرض ، علماءمصلحت بیں ، عوام خوفزدہ اور راضی بر ضائے حاکم، دانشور خوشامدی اور ادارے کھوکھلے ہو جائیں تو مارشل لاو ¿ں کے لےے راستہ ہموار ہوتا چلا جاتا ہے پھر کوئی طالع آزما ملک کو غضبناک نگاہوں سے دیکھنے لگتا ہے۔مارشل لاءخود بخود نہیں آتا اسے لایا اور بُلایا جاتا ہے اور جب آجاتا ہے تو قیامت اس کے ہمرکاب آتی ہے۔ 
بیسویں صدی کے وسط میں بہت سے ممالک نے طویل اور صبر آزما جد و جہد کے بعد آزادی حاصل کی مگر کچھ ریاستوں کی جھولی میں یہ آزادی پکے ہوئے پھل کی طرح آ گری ۔ جس کی وجہ سے ان ریاستوں میں سیاسی خلاءپیدا ہوا۔ جس کی شدت میں اضافہ اقتصادی بحرانوں نے کیاممتاز ماہر دانشورEdward Luctwackکہتا ہے 
There was one thing that the new states lacked which they could neither make for themselves, nor obtain from abroad, and this was a genuine political community. 
بلاشبہ حقیقی پولیٹیکل کیمونٹی کے نہ ہونے سے نو آزادریاستوںنے کمزور ادارہ سازی کے ماحول میں سیاسی عمل شروع کیا جس کے نتیجے میں ان ریاستوں میں سیاسی راہنماو ¿ں کو Status Quoبدلنے کے لےے طاقت پر انحصار کرنا پڑا۔ 
عائشہ جلال نے 1958ءکے مارشل لاءکی وجوہات کا ذکر یوں کیا ہے کہ یہ اندرونی ، علاقائی اور بین الاقوامی اسباب کا باہمی عمل تھا کہ چالیس اور پچاس کی دہائی میں خصوصی طور پر امریکہ سے تعلقات استوار کےے گئے جن کی وجہ سے سیاسی جماعتوں اور سیاست دانوں کی حیثیت متاثر ہوئی۔ پاکستان کی ریاست ارتقائی حالت میں تھی لہٰذا توازن سول بیورو کریسی اور فوج کے حق میں ہو گیا۔۔۔۔غیر جمہوری اداروں کی بالا دستی ، اعلیٰ سول بیورو کریسی اور فوج کی متفقہ حکمت عملی کا نتیجہ تھی جس کے پیش ِ نظر سیاست دانوں کے اختلافات سے فائدہ اٹھایا گیا۔ اور ان قوتوں نے سوچی سمجھی سکیم کے تحت لندن اور واشنگٹن میں بین الاقوامی نظام کے مراکز سے اپنے ذاتی تعلقات کو استعمال کرکے پاکستان میں سیاسی نظام کو کمزور کیا آخری تجزےے کے طور پر عائشہ جلال کہتی ہیں کہ پاکستان میں پارلیمانی نظامِ حکومت کی ناکامی کی ذمہ داری سول بیوروکریٹس، فوجی افسروں، چیف جسٹس اور سیکولر و مذہبی سیاستدانوں سب پر عائد ہوتی ہے۔ عائشہ جلال کا تجزیہ بہت حد تک درست اور جامع ہے۔ اس کا خیال ہے کہ پاکستان کے جمہوری ملک نہ بن پانے اور مارشل لاءکے لےے فضا ہموار کرنے کے کام کا آغاز تو خود بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے بطور گورنر جنرل اختیارات کا منبع و مرکز بن کرکر دیاتھا۔ قائد اعظم محمد علی جناح کی قد آور شخصیت کی وجہ سے ان کی ذاتی اتھارٹی تقدس کی حد تک بلند و بالا تھی نیز یہ کہ انھیں بطو ر گورنر جنرل گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ1935اور انڈین انڈی پینڈنس ایکٹ1947کے تحت وسیع اختیارات بھی حاصل تھے۔ اس ایکٹ کے سیکشن9کے تحت ان کے بعد کے گورنر جنرلوں کو بھی وسیع اختیارات حاصل رہے اسی کے تحت وہ محض ایک فرمان سے آئین میں ترمیم کرسکتے تھے۔ تا ہم اس ایکٹ کے سیکشن9کے تحت گورنرجنرل کو تفویض کےے جانے والے ان لا محدود اختیارات کی حتمی حد ساڑھے سات ماہ تک تھی یعنی31مارچ1948ءکے بعد اس کی تنسیخ ہو جانا تھی مگر اس مدت کے خاتمے سے پہلے ہی اس میں ایک سال کی توسیع کر دی گئی اور پھر جناح کے بعد ان اختیارات کے استعمال نے ملک میں سیاسی تماشہ لگا دیا محمد علی جناح کا بطور گورنر جنرل کابینہ کا چناو ¿ اور کابینہ کی صدارت بھی کوئی احسن جمہوری روایت ثابت نہ ہوا۔ دوسرا یہ کہ ان کی طبیعت نا ساز رہتی تھی، چنانچہ ان کے انتظامی امور کا انحصار بیوروکریسی پررہا۔ ان کا گورنر جنرل کا منصب اور آئین ساز اسمبلی کی صدارت بیک وقت سنبھالنا ایک تندو تیز بحث ہے تا ہم منتخب حکومتوں کو برطرف کرنے کی روایت کا آغاز بھی ان ہی کی ہدایت پر سرحد اور سندھ کے گورنر وں نے ڈاکٹر خانصاحب اور محمد ایوب کھوڑو کی وزارتیں22اگست1947ءاور26اپریل1948کو برطرف کرکے کیا۔ خالد بن سعید پاکستان میں جمہوری نظام کی ناکامی کی جڑیں محمد علی جناح کی گورنر جنرل شپ میں دیکھتا ہے۔ 
پاکستان کے ابتدائی عشرے میں جمہوری نظام کی ناکامی کی ایک اوربڑی وجہ مسلم لیگ کا انحطاط بھی ہے۔ ڈاکٹر صفدر محمود کا کہنا ہے کہ جمہوری نظام کی ناکامی کے اسباب میں لیگ کی بدعنوانی، بحیثیت سیاسی ادارہ کمزوریاں اور جاگیرداروں کے مفادات سرفہرست ہیں دراصل مسلم لیگ ایک سیا سی جماعت سے زیادہ ایک سیاسی تحریک تھی اور اسکی قیادت کو آزادی اتفاق سے مل گئی۔ مسلم لیگ کا پاکستان کا حصول آزادی ہند کی جدو جہد کی ضمنی پیداوار تھا۔ مسلم لیگ نے توہمیشہ عوامی مزاحمت کی تحریکوں سے خود کو علیحٰدہ رکھا۔مسلم لیگ کی توانائی کا بڑا حصہ کانگرس کے دعوں کو جھٹلانے پر صرف ہوتا رہا ۔ قیام پاکستان کے بعد مسلم لیگ وہ کردار ادا نہ کر سکی جو بھارتی سیاست میں کانگریس نے کیا ۔ لارنس زائرنگ نے پاکستان میں پہلے مارشل لاءکو مسلم لیگ کے زوال سے در آنے والی ادارتی کمزوریوں سے منسلک کیاہے مسلم لیگ اپنی عوامی حمایت کو مستحکم پارٹی ڈھانچہ کی اصطلاحات میں ادارہ بندی میں تبدیل کرنے کے قابل بھی نہ تھی یعنی وہ پاکستان کے اقتصادی اور سیاسی مسائل کے حل کے لیے عوامی تائید کا حامل منشور تیار کرنے اور ایسی تربیت دینے کا انتظام نہیں کر سکی جس سے حکومتی اقتدارکے ڈھانچہ میں نمائندہ سیاسی حکومتوں کی قومیت کا تحفظ ہو سکتا۔ مزید یہ کہ مسلم لیگ پر پست ذہنی سطح کے جاگیرداروں اور زمینداروں کے غلبہ نے اسے اس قابل نہیں رہنے دیا تھا کہ وہ نئے ملک میں ایسا سیاسی ڈھانچہ تشکیل دے جس میں عوامی امنگوں کو تسلیم کیا جا سکتا۔لیکن جمہوری ناکامی کا واحد سبب مسلم لیگ کا انحطاط ہی نہیںتھا کیونکہ جدوجہد آزادی کے فیصلہ کن مرحلہ میں عارضی طور پر قومی دھارے میں شامل ہونے کے بعد مرکز گریز قوتیں ایک بار پھر اپنے راستے پر چل نکلی تھیں ۔ مرکز میں اختیارات کے ارتکاز کے لیے جب آہنی ہاتھ استعمال کیا گیا تو مرکز گریز قوتوں کو دوبارہ اُبھرنے کا موقع ملا اس حوالے سے محقق یونس صمد نے اپنی کتاب"A Nation in Turmoil"میں تفصیلی بحث کی ہے ۔ 
پاکستان کے پہلے عشرے میں جمہوری سیاست کی ناکامی محض بدعنوانی ، انتشار اور سیاسی بدنظمی کا نتیجہ نہیں تھی۔ آئی اے رحمان کا خیال ہے کہ اس کے اسباب بیوروکریسی کی روایات اور سیاسی کلچر کی پیچیدگیوںمیں پائے جاتے ہیںجو پاکستان کو نو آبادیاتی دور کی میراث میں ملے تھے ۔ بالخصوص فوج اور بیوروکریسی کا گٹھ جوڑ ۔ تقسیم ہند سے قبل بیوروکریسی اور فوج نوآبادیاتی طاقت کا موثر ترین ذریعہ تھے۔ان کا اہم ترین فریضہ مختلف مقامی طبقات کو محکوم بنانا اور اپنے نو آبادیاتی آقاو ¿ں کے آلہ کار کے طور پر قوم پرست جدوجہد کو کچلنا ہوتا تھا ۔آزادی کی جدوجہد کے دنوں میں وہ قوم پرست راہنماو ¿ں کی مخالف سمت میں ہوتے تھے مگر آزادی کے بعد وہی سیاسی راہنما جنہیں دبانا اور جن کی سرگرمیوں کو حکومتی حدود میں پابند رکھنا ان کا فرض ہوتا تھا وہ اب اقتدار کے ایوانوں تک پہنچ چکے تھے اور انھیں بظاہر فوج اور بیوروکریسی پر اختیار حاصل ہوگیا تھا ۔ لہذا ان کے درمیان لحاظ اور افہام و تفہیم پر مبنی ایک نئے تعلق کو قائم کرنا عصری ضرورت بن چکا تھا ۔ ا س ضرورت کو پورا کرنا اس لیے بھی ضروری تھا کہ پاکستان اور ہندوستان کو بہت طاقتور بیوروکریسی اور فوج ورثے میں ملی تھی جن کے مقابلے میں سیاسی جماعتوں کی حالت ابتر تھی۔ حمزہ علوی نے ایک فکر انگیز مضمون میں لکھا ہے کہ نو آبادیاتی تعمیر کی وجہ سے فوج ااور نوکر شاہی کے ادارے ضرورت سے زیادی ترقی کر گئے تھے۔ بہ نسبت زمیندار اور بوروژوائی حکمران طبقہ کے۔ چنانچہ فوج اور نوکر شاہی کا بالا دست طبقہ ریاست کے اندر دوسروں کی نسبت خود مختارانہ حیثیت کا مالک ہے بیوروکریسی نے سب سے زیادہ فائدہ محمد علی جناح کی قد آور شخصیت کا اٹھایا اور وزیراعظم سمیت سیاسی قیادت کو بالائے طاق رکھ کرگورنر جنرل محمد علی جناح سے رابطہ رکھا۔ جناح نے بھی غلام محمد وغیرہ کو وزارتوں میںعملی طور پر لاکر اپنی تعلقداری کی نوعیت کا اظہار کر دیا تھا۔ جناح کی ذات انتظامی اختیارات کا مرکز تھی مگر چونکہ وہ علیل تھے لہذا ان کے اختیارات کاانتظامی حوالے سے استعمال بیوروکریسی ہی کرتی تھی۔ قائد اعظم کے عہد میں ہی بیوروکریسی نے اقتدار اپنے شکنجے میںلے لیا اور پھر جناح کی وفات کے بعد یہ اور مضبوط ہوئی۔ سیکرٹری جنرل کے عہدے نے چوہدری محمد علی کے قد کاٹھ میں اضافہ کیا۔ لیاقت علی خاں کے قتل کے بعد بیوروکریسی سیاسی قیادت سے آزاد حیثیت اختیار کرتے ہوئے مرکز تک چھا چکی تھی ۔ بعد ازاں بیورو کریٹ غلام محمد گورنر جنرل کے اعلیٰ عہدے پر فائز ہوئے تو بیورو کریسی اور مضبوط ہوئی ۔ یہاں یہ سوال کیا جاسکتا ہے کہ بیوروکریسی نے اقتدار پر قبضہ کے لیے کونسا طریقہ اختیار کیا ۔ بظاہر کوئی انقلابی اقدام تو سامنے نہیں آیابلکہ یہ سب نوازئیدہ ریاست کو ممکنہ مشکلات سے نجات دلانے کے لیے بنیادی تبدیلیوںکے باعث ہوا ۔ بیوروکریسی نے یہ اختیا ر ایسا انہونا عہدہ تخلیق کر کے حاصل کیا جو گورنر جنرل کی معاونت کے لیے تخلیق کیا گیا۔ سیکرٹری جنرل کا عہدہ جناح کے حکم پر تخلیق ہوا ۔ کابینہ کی قرار داد کے ذریعے سیکرٹری جنرل کو تمام سیکرٹریوں اور فائلوں تک رسائی دے دی گئی پھر پلاننگ کمیٹی تشکیل دے دی گئی جو چوہدری محمد علی کی قیادت میں ایک متوازی کابینہ بن گئی۔ جب غلام محمد گورنر جنرل بنا تب اس نے سیکرٹری جنرل اور پلاننگ کمیٹی تحلیل کر دی کیونکہ بیوروکریسی اب خود ملک کے اعلیٰ ترین عہدے پر قابض ہو چکی تھی۔ اس بیوروکریٹ گورنر جنرل نے 4اکتوبر 1954ءکو اسمبلی تحلیل کر کے نظم و نسق خود سنبھال لیا ۔ حمزہ علوی کے خیال میں یہ پہلا موقع تھا کہ سیاسی قوتوں کو جبری طور پر اقتدار سے الگ کیا گیا ،یوں اسے پہلا انقلاب یعنی کو ڈیٹا (Coup deta)کہنا چاہیے۔ 
بیوروکریسی یہ کام اکیلے نہیں کر رہی تھی اس نے فوج کے ساتھ تعلقات استوارکر لیے تھے۔ جنرل ایوب خاں کو جو اہمیت کی منزلیں بہت تیزی سے طے کر رہے تھے فوج کے کمانڈر انچیف کے ساتھ وزارت ِ دفاع کا قلمدا ن بھی سونپ دیا گیا ۔اسی طرح ان کے دوست ا سکندر مرزا جو سیکرٹری دفاع تھے انھیں وزیر داخلہ بنا دیا گیا ،اس وزارت کو ”قابل ترین افرادکی وزارت “کہا گیا۔ یہ کابینہ فوج اور بیوروکریسی کی نمائندہ تھی، نہ کہ عوام کی ۔
1947ءمیںتقسیم سے فوج کمزور ہوئی تھی نیزکمانڈر انچیف بھی برطانوی تھے لیکن 1951ءمیں ایوب خاں کے دوست ا سکندر مرزانے وزیر اعظم سے ایوب خان کوکمانڈر انچیف مقرر کروا لیا ۔ ایوب نہ تو سب سے سینئر تھے اور نہ ہی سب سے بہترین ۔ ایوب کی نامزدگی کے دنوں میں دوسینئر جرنیل اچانک ایک فضائی حادثے میں مارے گئے اس سے ایوب خاں صرف چار سالوں میں لیفیٹنٹ کرنل سے جنرل بن گئے۔ جنرل شیر علی کا کہنا ہے کہ اگر اس وقت لیفیٹینٹ جنرل افتخار کمانڈر انچیف بنتے تو آج پاکستان کی تاریخ مختلف ہوتی۔ ایوب خاں کے کمانڈر انچیف بننے سے ان کو ملنے والی ایکسٹینشن تک فوج اور بیوروکریسی کا گٹھ جوڑ نمایاں رہا اور یہی پہلے مارشل لاءکی اہم وجہ بھی بنا۔ ایوب خاں کے کمانڈر بننے کے بعد راولپنڈی سازش کیس سامنے آیا ۔ ایک جنرل نے اپنی سوانح عمری میںلکھا ہے کہ ایوب خاں نے اس سازش کا پتہ اپنی پسند کے لوگوں کوآگے لا نے کے لیے کیا۔اس سے وہ ایسے لوگوں کو آگے لانے میں کامیاب ہوا ، جو اس کے وفا دار تھے۔ راولپنڈی سازش کیس نے ایوب کو موقع فراہم کیا کہ وہ بیورو کریٹک زعماء، سکندر مرزا اور غلام محمد کے ساتھ قریبی تعلقات پیدا کریں ۔ یہ تعلق نہ صرف دوستی میں تبدیل ہوا بلکہ پاکستانی سیاست کی سمت کے تعین میںبھی کردار ادا کرتا رہا۔ستمبر 1953ءکے اواخر میں ، بری فوج کے کمانڈر انچیف ایوب خاں امریکی سول اور فوجی حکام سے ملاقات کے لیے امریکہ پہنچے۔ ان کے اس دورے سے پہلے امریکی بحری انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر نے 23 ستمبر 1953 کو امریکہ کے جوائنٹ چیف آف سٹاف کے چیئر مین ایڈمرل ڈبلیو راڈ فورڈ کو ایوب خان کا ایک ”خاکہ“ روانہ کیا جس میں لکھا کہ ”6 فٹ 2 انچ سے زیادہ طویل القامت اور 210 پا ¶نڈزکے وزن کے توانا جنرل ایوب خاں پاکستان ملٹری سروسز کے سب سے با اثر افسر ہیں۔ فوج پر ان کی گرفت بہت مضبوط ہے اور وہ زیادہ اور کم ہر دو قسم کی اہمیت کے فیصلے خود ہی کرتے ہیں کیونکہ وہاں سٹاف افسروں کو بہت کم اختیارات تفویض کیے جاتے ہیں۔ اگرچہ انہیں آفیسر کیڈر کا احترام حاصل ہے لیکن وہ اپنے ماتحتوں کے ساتھ درشتی اور سختی سے پیش آنے کا میلان رکھتے ہیں۔ ان کی شہرت یہ ہے کہ وہ خوب جانتے ہیں کہ کس شے کی جستجو کرنی چاہیے اور یہ کہ وہ نتائج پر زور دیتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ انہیں اپنے اور اپنی افواج پر بڑا اعتماد ہے ۔ ان کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ بہت زیادہ امریکہ نواز ہیں۔ جاہ و جلال کی بہت زیادہ ہوس اور سیاست کو اپنے فوجی کیریئر سے مخلوط کرنے کے میلان کو ان کی کمزوری سمجھا جاتا ہے ۔ 
فوج اور بیوروکریسی کے اس گٹھ جوڑ کو امریکی اشیر باد بھی حاصل رہی۔ دراصل آزادی کے بعد کے دور میں قومی بورژوا کی عدم موجودگی میں غیر ملکی تجارتی اور سرمایہ دار طبقے سامراجی دورجیسا کردار ادا کرتے رہے ہیں ۔ اس خطے میں امریکہ کی موجودگی اور مفادات نے بھی پاکستان میںآمرانہ قوتوں کو مضبوط کرنے میں اہم کردار اکیا ۔پاکستان نے شروع میں ہی امریکہ سے تعلقات کی کوششیں کیں تاہم ابتدائی سالوں میں امریکہ نے آنکھیں نہ ملائیں ۔ مارچ 1951ءمیں ایرانی تیل کی صنعت کی ڈاکٹر مصدق کے ہاتھوں نیشنلائزیشن نے امریکہ کے تیور بدلے۔ 1952ءکے بعد پاکستان امریکہ کی سرپرستی میں آگیا۔ امریکہ کا معاشی مفاد فوجی سازو سامان کی فروخت سے وابستہ رہا۔ چنانچہ امریکی تعلقات کی وجہ سے پاکستان کا انحصار فوج پر بڑھا۔ امریکہ فوجی امداد نے پاکستان کو سیاسی حوالے سے بھی مضبوط کیا اورپاکستان کی دفاعی معاہدوں میں شرکت ممکن ہوئی۔ مور ¿خین کا اتفاق ہے کہ پاکستان میں ملٹری بیوروکریسی کو تقویت ملنے کی بڑی وجہ سرد جنگ کا ماحول تھا۔ امریکی سمجھتے تھے کہ ملٹری بیوروکریسی پاکستان میں ایک مضبوط مرکزی نظام قائم کر سکتی ہے۔ 3اکتوبر1953ءکو پاکستانی فوج کے کمانڈر انچیف نے امریکہ کا غیر رسمی دورہ کیا جو کابینہ کی رسمی منظوری کے بغیر تھا اس دورے میں امریکی زعماو ¿ں اور پاکستانی فوج کے تعلقات کا آغاز ہوا۔ امریکہ Containment Policyکے زیر اثر دفاعی حصار قائم کرنا ضروری سمجھتا تھا۔ اس کے لےے ترکی اور پاکستان کو دفاعی لائن کے طور پر استعمال کرنا اس کا مقصد تھا۔ اس مقصدکے لےے یہاں موجود مضبوط فوجی و نوکر شاہی گٹھ جوڑ کو مضبوط کر کے اس نےOligarachyقائم کرنا بہتر سمجھا تا کہ ساز باز میں آسانی رہے۔ امریکی مفاد کے لےے پاکستان میں جمہوری قوتوں اور اداروں کو کمزور بنایا گیا۔ پاکستان اور ترکی میں فوج اس کے لےے یہ سب کرنے کو تیار تھی۔ فوج اور امریکہ کے تعلقات اس نوعیت کے ہو گئے تھے کہ انہی دنوں بریگیڈیرغلام جیلانی کو امریکہ میں ملٹری اتاشی لگایا گیا تو امریکہ بھیجتے وقت کمانڈر انچیف جنرل ایوب نے انھیںبلا کر ہدایات دیں کہ تمھاری بنیادی ذمہ داری پنٹا گون کے ساتھ ملٹری ایڈ کے تعلقات استوار کرنا ہے تم ان امریکیوں سے براہ راست ڈیل کرنا اور پاکستانی سفیر کو اعتماد میں نہ لینا۔ شیریں طاہر خیلی کے مطابق جنرل ایوب خاں نے © ©”مناسب قیمت پر امریکہ سے ایسی ڈیل کی کوشش کی جس کے مطابق پاکستان مغر ب کے اتحادی کا کردار ادا کر سکے۔ امریکی تعاون حاصل کرنے کے لےے ایوب خاں اس حد تک چلے گئے کہ انہوں نے ایک امریکی اہلکار کو یہ تک کہہ دیا کہ 
"Our Army can be your Army if you want"اس بات کا حوالہDenis Kuksنے بھی دیا ہے ۔ مغربی پاکستان میں امریکی اشیر باد سے قائم ہونے والے نظام کی acceptenceموجود تھی کیونکہ یہاں کی مذہبی، جاگیردارانہ اور کمزور سیاسی قوتیں شراکت ِ اقتدار کے مزے لوٹنے کے لےے ہر قیمت چکانے کو تیار تھیں لیکن مشرقی پاکستان میں اس منصوبے کو مشکلات کا سامنا تھاچنانچہ جب یہی مشکلات آئینی بحران کے ساتھ ظاہر ہوئیں تو مشرقی و مغربی کا بحران شدت اختیار کر گیا جو بعد ازاں1971ءمیں منطقی انجام کو پہنچا۔ اس پس منظر میں1958ءکا مارشل لا ءامریکہ، مغربی پاکستان کے کمزور سیاستدانوں ،بیورو کریسی اور فوج کے مفادات کا ترجمان تھا جبکہ پاکستان کے عوام اور مشرقی پاکستان اس کےVictimتھے۔
پاکستان میں پہلے عشرے کی جمہوریت کی ناکامی کا بڑا سبب ریاستی ساخت بھی تھی۔ اس ریاست کا قیام وارتقاءاور سماج جمہوریت کے پھلنے پھولنے کے لےے زیادہ زرخیز نہ تھا۔ ساتھ ہی ساتھ اس کی سیاسی قیادت باہر سے تھی۔ یو پی /سی پی کی قیادت بھی مقامی لوگوں ، ان کے کلچر ، روایات اور ضرورت سے آشنانہ تھی چنانچہ وہ سیاسی و سماجی مسائل پر قابو پانے کی بجائے غلطی پر غلطی کرتی چلی گئی۔ جب قائد اعظم اور لیاقت علی خاں کے بعد حالاتSon of the soilکو سنبھالناپڑے تو انکی نا تجربہ کاری آڑے آئی۔ 
یہی وہ مسائل تھے جس کے باعث ابتدائی عشرے کا پاکستان خالد بن سعید کے الفاظ میں ہابس کی ریاست کا منظر پیش کر رہا تھا۔ خالد بن سعید لکھتا ہے کہ © ©”پاکستان 1951ءسے 1958ءتک کے درمیانی عرصے کے دوران ہابس کی ریاست کے جیسا تھا جو کہ فطرت کی ہو بہو عکاسی کرتی نظر آتی ہے جہاں پرہر سیاسی یا صوبائی گروہ دوسرے گروہوں سے دست و گریباں ہوتا ہے۔اس عرصے میں یہاں تسلسل کے ساتھ اقتدار کے لےے رسہ کشی جا ری رہی ۔پاکستان کو اس ازارِ ضرر رساں سے نجات چاہےے تھی اور مارشل لا ء ہی اس ملک کو تباہی کے دہانے سے واپس لا سکتا تھا جس کے نفاذ سے امن و امان اور عوامی بھلائی کو تلوار کی نوک پر ممکن بنایا گیا۔ © ©“
مذکورہ بالا حالات نے نہ صرف 1958ءکے مارشل لاءکے منصوبے کی تکمیل کو ممکن بنایا بلکہ آنے والے مارشل لاو ¿ں کو بھی بنیاد فراہم کی۔ پاکستان میں ہمیشہ کے لےے حاکمیت غیر جمہوری کا کردار معرضِ وجود میں آ گیا۔ یہ وجوہات نہ صرف پہلے مارشل لاءکا سبب بنیں بلکہ آج بھی کسی نہ کسی طرح ریاست میں نمایاں نظر آتی ہیں ان اسباب کی موجودگی میں مور ¿خین کے لیے تحقیق کا موضوع یہ نہیں کہ پاکستان میں مارشل لاءکب کب لگا بلکہ ان کے سامنے چیلنج یہ ہے کہ جب جب مارشل لاءنہیں لگا تو اس کی وجوہات کیا تھیں ۔
رئیس امروہی مرحوم نے پاکستان میں پہلے مارشل لاءکا قطعہ تاریخ کچھ یوں کہا تھا کہ 
دیار پاک میں ہے کار فرما بحمد اللہ پاکستان کی فوج 
نظر آتا ہے ملت کا ستارہ بالآخر مائل صد عظمت و اوج
وہاں ہیں امن ساحل کے نظارے جہاں سیل بلا ہے موج در موج
گرفت پنجہ ¿ افواج کا سال 
نہیں جز ’پنجہ‘ فوج ظفر موج
 (۸۷۳۱)

اکتوبر 1958 کے مارشل لاءکے نفاذ کے بعد سرکاری ریڈیو و اخبارات مسلسل فوج کی مدح سرائی میں مصروف تھے اور قوم کو تصویر کا من پسند رخ دکھانے میں مصروف عمل تھے لیکن برہنہ آمریت کے اس دور میں ایک نحیف و نزار آواز جو قانون کی حکمرانی اور آزادی اظہار کے حق میں بلند ہوئی وہ مغربی پاکستان کے ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ایم آر کیانی کی تھی۔ ان کی ایک تقریر جو 11 دسمبر 1958 کو کراچی بار ایسوسی ایشن سے تھی انہوں نے کہا کہ مارشل لاءکا نفاذ سب سے بڑی آفت ہے جو کسی قوم پر نازل ہوتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بد نصیبی تنہا نہیں آتی اس کے ساتھ فوجی دستے بھی ہوتے ہیں لیکن اس بار تو پوری فوج اس کے ساتھ ہے ۔