‏UOG لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏UOG لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

پیر، 25 مارچ، 2019

قاسم علی شاہ کی اونچی اڑان


قاسم علی شاہ کی اونچی اڑان 


تعلیم ایک معاشرے کے اجتماعی شعور کو اگلی نسلوں تک منتقل کرنے کا ایک منظم عمل ہے۔یہ محض معلومات کے ابلاغ کا نام نہیں بلکہ متعلم کی چھپی ہوئی قابلیتوں کو تحریک دے کر ماضی کی دانش کو مستقبل کی تعمیر میں صرف کرنے کے قابل بنانے کا عمل بھی ہے۔بدقسمتی سے ہمارا تعلیمی نظام گوناگوں وجوہات کی بنیاد اپنے اس وظیفہ کی انجام دہی سے قاصر رہا ہے۔ دیگر وجوہات کے علاوہ اس ناکامی کی ایک بڑی وجہ معلم کا کردار بھی ہے۔ہمارے ہاں سکول،مدرسے،کالجز، اور یونیورسٹیاں تو ہیں مگر تربیت نہیں ہے۔ان تعلیمی اداروں میں ٹیچرز و انسٹرکٹرز تو ہیں لیکن حقیقی استاد و معلم نہ ہونے کے برابر ہیں،ایسا نظام تعلیم تربیت و راہنماء کے تقاضے پورے کرنے کی اہلیت سے ہی عاری ہوتا ہے چناچہ تربیت کا فقدان بڑھتے بڑھتے قحط کی صورت اختیار کر گیا ہے۔اس گھمبیر صورتحال سے نبردآزماء ہونے کے لیے لازم ہے کہ تربیت و راہبری کے در وا کیے جائیں۔



قاسم علی شاہ جن کی اونچی اڑان سے اب ایک زمانہ واقف ہے،ایک ایسے معلم ہیں جو ہمارے عہد کے تدریسی مزدوری میں جکڑے اساتذہ کے لیے رول ماڈل کی حیثیت رکھتے ہیں۔شاہ صاحب کی نہ صرف فکری اڑان بلند ہے بلکہ وہ دوسروں کو اڑنا سکھانے کا ملکہ بھی رکھتے ہیں۔وہ نہ صرف اپنی ماضی کی عظیم روایات کا گہرا شعور رکھتے ہیں بلکہ انہوں نے جدت فکر اور قوتِ عمل کو مہمیز دینے کا کارنامہ بھی سرانجام دیا ہے۔ایک بڑا استاد اپنے شاگردوں کو معلومات کے سیلاب میں بہانے کی بجائے انہیں ذہنی رجحان دیتا ہے۔ نوبل انعام حاصل کرنے والے بڑے بڑے اساتذہ و محققین کے ایک بڑے گروپ کا جائزہ لینے کے بعد ایک مبصر نے لکھا تھا کہ کسی سائنسدان کو نوبل انعام پانے کے قابل بنانے والی چیز یہ نہیں ہے کہ اس کو کہیں سے سائنسی معلومات کا بڑا ذخیرہ مل گیا تھا بلکہ وہ چیز جس نے انہیں عالمی اعزاز کا مستحق بنایا وہ صرف اخذ و مطالعہ کا ایک ذہنی رجحان تھا جو کسی بڑے سائنسدان کی صحبت سے ہی اسے ملا تھا۔اسی چیز نے بالآخر اس کو ترقی کے اعلیٰ مقام تک پہنچایا۔جناب قاسم علی شاہ بھی کوئی بڑے عالم یا محقق نہیں ہیں بلکہ اپنے ذوق و شوق کے سبب بڑے لوگوں کی صحبت سے فیضیاب صاحبِ فضل شخص ہیں۔وہ شخص جس نے طویل عرصہ علم و تجربہ میں اپنا حصہ ڈالا ہو، اس کی باتیں سادگی و پرکاری کا امتزاج ہو جاتی ہیں۔وہ جب بولتے ہیں تو علم حُسنِ ابلاغ کے پروں پر پرواز کرنے لگتا ہے۔جب تبصرہ کرتے ہیں تو ان کا تبصرہ مطالعہء کتب کا خلاصہ ہوتا ہے۔شاہ صاحب جب اپنے تجربات بیان کرتے ہیں تو وہ برسوں پر محیط سفر کو منٹوں میں سمیٹ رہے ہوتے ہیں۔قاسم علی شاہ جب مشورہ دے رہے ہوتے ہیں تو اس کے پس منظر میں نشیب و فرازِ حیات کی جھلک نظر آتی ہے۔ان کا ہر لفظ کتاب ہوتا ہے اور ان کی ہر تقریر حاصلِ مطالعہ ہوتی ہے۔یہی فلسفہ صحبت ِ اکابرین کا حاصل ہے۔اشفاق احمد،واصف علی واصف،پروفیسر احمد رفیق اختر،بابا جی عرفان الحق و ایسے ہی دیگر بزرگوں کی صحبت کا خلاصہ قاسم علی شاہ ہیں۔شاہ صاحب نے مذکورہ بزرگوں کی صحبت سے علم نہیں زاویہ نظر کشید کیا،ان کی محفلوں میں مکالمے سے معلوماتِ محض جمع نہیں کیں بلکہ تڑپ اور لگن سمیٹی۔بلاشبہ صادقین کی صحبت نے ایک ٹیوٹر کو ٹرینر بنا دیا۔جناب قاسم علی شاہ کی پہلی اڑان ایک استاد کی اڑان تھی جس نے پاس آنے والے طالبعلموں کو نہ صرف تعلیم دی بلکہ خواب دیکھنے کا ہنر بھی سکھایا۔
قاسم علی شاہ کی دوسری اڑان جس میں وہ مسلسل بلندیوں کی طرف محوِ پرواز ہیں،ایک Inspirational اور Motivational Speaker کی ہے۔پاکستان کے طول و عرض میں متعدد جامعات،کاروباری اداروں اور تنظیموں کی جانب سے ملنے والی دعوت میں جاتے ہیں اور اپنے علم اور فن کا جادو جگاتے ہیں۔ Motivational Speech اب ایک Genre کی حیثیت اختیار کر چکی ہے،اس کی ابتداء بیسویں صدی میں ڈیل کارنیگی سے ہوئی تھی۔امریکہ کا یہ نامور شخص بیسویں صدی کے افق پر موٹیویشنل سپیکر کے طور پر چھایا رہا۔ہزاروں لوگوں نے ڈیل کارنیگی سے اُمید کا درس لیا اور مایوسیوں کو چھوڑ کر کامیابی و کامرانی کے راستے کو اپنایا۔
پاکستان میں میری دانست میں اس اسلوب کو متعارف کروانے کا سہرا قاسم علی شاہ کے سر ہے جنہوں نے اس میدان میں نہ صرف لوہا منوایا بلکہ دنیا کا ایک منفرد اسلوب بھی متعارف کروایا۔ اس اسلوب کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اس کی جڑیں ہماری اعلیٰ تہذیب و اقدار میں ہیں۔اونچی اڑان کے دیباچے میں عرضِ مصنف کے عنوان کے تحت قاسم شاہ صاحب نے تین بنیادی اصول بیان کیے ہیں۔1- سچائی  2- دیانت 3- خوش اخلاقی،اور انہیں ہمارے آقا محسنِ انسانیت ؐ کی سُنت قرار دیا ہے۔میرے خیال میں یہ تینوں اصول ہر کامیاب انسان کی زندگی کا جزو لازم ہوتے ہیں۔انہیں سنت نبویؐ سے جوڑ کر قاسم علی شاہ نے ان اصولوں سے برکت بھی اخذ کی ہے جو ہماری تہذیبی زندگی کی اساس ہے۔
راست گوئی،دیانت داری اور خوش اخلاقی ایک پورا اسلوبِ زیست ہے جو کامیابیوں اور کامرانیوں کے دروازے کھولتا ہے۔حکمت و دانش کے اس سرچشمے کو اپنی روایت میں تلاش کرنا وہ خوبی ہے جس نے شاہ جی کے اسلوب کو بہت دل آویز بنا دیا ہے اور ان کی کتاب اونچی اڑان کا مطالعہ کرتے ہوئے علامہ اقبال کا شعر یاد آتا ہے کہ 
خیرہ نہ کرسکا مجھے جلوہئ دانشِ فرنگ 
سرمہ ہے میری آنکھ کا خاکِ مدینہ و نجف 
یہاں اس بات کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ اپنی روایت سے جڑا ہونے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ آپ نوعِ انسانی کی اجتماعی دانش سے فائدہ نہ اٹھائیں۔ قاسم علی شاہ نے مشرق و مغرب کی قدیم و جدید دانش سے اکتسابِ فیض کیا ہے اور حکمت کو مومن کا گمشدہ سرمایہ تصور کرتے ہوئے عقل و دانش کی ہر بات کو اپنے سامعین تک پہنچانے کی کوشش ہے۔
اونچی اڑان میں 37 عنوانات کے تحت حکمت و دانش کے موتی بکھیرے گئے ہیں اور ہر عنوان کے نیچے موضوع کا احاطہ کرنے والے کسی قولِ زریں کا حوالہ دیا گیا ہے۔جہاں رومی،سعدی اور بایزید بسطامی کاحوالہ ہے وہیں مغرب و مشرق،ایشیاء،افریقہ،یورپ اور امریکہ اور دنیا کی اکثر تہذیبوں کے اہلِ فکر و دانش کے اقوال کا حوالہ بھی دیا گیا ہے،اسی تنوع سے قاسم علی شاہ کا وسعتِ مطالعہ کے ساتھ ان کے ظرف کی وسعت کا بھی اندازہ ہوتا ہے۔
جناب قاسم علی شاہ کی یہ خوشہ چینی اس اعتبار سے منفرد ہے کہ وہ کہیں بھی اپنی روایت،اپنی اقدار،اپنے تہذیبی اصولوں کو فراموش نہیں کرتے۔ دانائی کی ہر بات کو انہوں نے اپنی ثقافتی اور تہذیبی تناظر میں رکھ کر دیکھا ہے اور ان کی فکر میں مرعوبیت نام کی کوئی چیز دکھائی نہیں دیتی ان کے اسلوب کی ایک اور خوبی ان کی فکر کا روحانی تناظر ہے۔قاسم علی شاہ اسلام کی صوفیانہ روایت سے مضبوط وابستگی رکھتے ہیں۔ ان کی فکر میں صوفیانہ طرزِ احساس کی بڑی بھرپور جھلک پائی جاتی ہے۔وہ بے مرشد،بے فیض،بے استاد ہونے کو ناکامی کا ایک اہم سبب سمجھتے ہیں۔ جناب شاہ جی نے اپنی تحریروں میں باربار ان روحانی اقدار کا حوالہ دیا ہے جو اسلامی تصوف کا جوہر ہے۔اونچی اڑان کا عمومی موضوع بھی کامیابی ہے اس حوالے سے قاسم شاہ صاحب نے کامیابی کا جو پیمانہ بیان کیا ہے وہ ان کی  تمام تحریروں کا جوہر ہے۔ان کے نزدیک کامیابی کسی بھی شعبے میں جو آپ کی افتادِ طبع اور آپ کی فطری صلاحیتوں سے ہم آہنگ ہو،نکتہ کمال کو چھونا ہے۔یہ بڑی بنیادی بات ہے۔اللہ تبارک و تعالیٰ کی ربوبیت کا بیان کرتے ہوئے مفسرین نے تربیت کی تعریف ان الفاظ میں کی ہے '' تبلیغ الشئی الی کمالہ  بحسبِ استعدادہ الازلی شیاً فشیاً (سیماوی،اصفہانی) '' ترجمہ: کسی شے کا اپنی ازلی استعداد کے مطابق درجہ بدرجہ ترقی کرتے ہوئے اپنے کمال کو پالینا (ضیاء القرآن) 
قاسم علی شاہ نے اونچی اڑان میں اسی معیار کو مدِ نظر رکھا ہے۔علم دوستی نے انہیں ابلاغ کی قوت سے بھی مالا مال کیا ہے ان کی تحریریں اور تقریریں دیکھ اور سُن کر لگتا ہے کہ برطانوی دانشور شاعر لیم بٹلر ییٹس (W.B. Yeats)نے درست کہا تھا کہ 
''Think like a wise man but communicate in the language of the people.'' 
قاسم علی شاہ صاحب اپنے مطالعے اور فکر کی سنجیدگی کو قارئین و سامعین کی استعداد کے مطابق بیان کرتے ہیں اور بڑی بڑی باتیں مسکراہٹ کی پڑیا میں لپیٹ کر دوسروں کے تحت الشعور کا حصہ بنا دیتے ہیں ڈیل کارنیگی کا کہناتھا کہ 
''Your smile is a message of your goodwill.'' 
قاسم علی شاہ صاحب کا اسلوب ان کے اندازِ فکر اور اطوارِ حیات کا امتزاج ہے اور یہی زاویہء نظر ان کی اونچی اڑان،ان  بلند منزلوں کی پرواز سکھاتی ہے جو انسان کو لازوال کامیابیوں اور کامرانیوں کی نوید دیتی ہیں۔ان کی کتاب پر بہترین تبصرہ مصحفی کا یہ شعر ہے 
میں کنگرعرش سے پر مار کے گزرا
اللہ رے رسائی میری پرواز تو دیکھو 
قاسم شاہ جی کی اونچی پرواز اب مستند ہو گئی ہے کہ اب تو یہ اڑان کئی دلوں میں کھٹکنے بھی لگی ہے۔کئی لوگوں کی حسرت حسد بن کر تنقید کے فیشن کا روپ دھار گئی ہے۔ان ناقدین شاہ جی کی رائے کا احترام ملحوظ رکھتے ہوئے صرف اتنا کہنے کی جسارت کروں گا کہ ایک فارسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ میرے اور تمہارے درمیان جو فرق ہے وہ سُننے کا فرق ہے۔ایک آواز آتی ہے،تم اس کو دروازہ بند کرنے کی آواز سمجھتے ہو اور میں اسے دروازہ کھلنے کی آواز سمجھتا ہوں۔

تفاوت است میانِ شنیدن من و تو 
تو غِلق باب و منم فتحِ باب می شنوم

پیر، 18 مارچ، 2019

قرآنی انسائیکلو پیڈیا: ایک جائزہ


علامہ ڈاکٹر طاہر القادری کا مجموعہ مضامین قرآن”قرآنی انسائیکلو پیڈیا“ شائع ہوا تو بارسلونا سپین میں مقیم منہاج القرآن کے راہنما اسد اقبال قادری نے یہ تحفہ مجھے بھجوایا۔میں اس بابرکت تحفہ پر ان کا شکر گذار ہوں۔ میرا یقین ہے کہ قرآن حکیم انسانوں کے لیے خدا کی ابدی راہنمائی اور تعارفِ خدا ہونے کے ساتھ انسانیت کا دستورِ حیات اور قانونِ فطرت ہے۔ آیات قرآنی کا اعجاز ہے کہ ان میں باربار تفکر و تدبر نئے نئے معنی و مفاہیم سامنے لے کر آتاہے۔ قرآن حکیم نے ہر دور میں لوگوں کے بند ذہنوں کو کھولا ہے۔ قرآن نے تقلید ی فکر کی بجائے اجتہادی فکر پیدا کی ہے۔ آج بھی عالمی فکر ی تحریک پر قرآن کی گہری چھاپ ہے۔ حقیقت میں قرآن کو شامل کیے بغیر انسانیت کے فکری سفر اور اسکے ارتقاء کی تاریخ کو سمجھا نہیں جا سکتا۔ اس ضمن میں علامہ طاہر القادری ایسے خوش نصیب ہیں کہ مالک کائنات نے انہیں قرآن مجید سے عوام و خواص کو مستفید کرنے کے لیے چن لیا ہے۔ باشبہ ڈاکٹر طاہر القادری کا شمار عالم اسلام کی نمایاں ترین شخصیات میں ہوتا ہے اور ان کے علمی و قلمی کارنامے اہل علم سے ہرگز پوشیدہ نہیں۔ کم و بیش ساڑھے پانچ سو کتابو ں کا مصنف ہونے کے ساتھ ساتھ ان کی تحریروں میں روایت اور جدت کا حسین امتزاج پایا جاتا ہے۔ وہ قدیم علماء کے علوم سے نہ صرف واقف ہیں بلکہ ان میں ید ِ طولیٰ رکھتے ہیں اور اسکے ساتھ ساتھ علومِ جدید سے آگاہی اور روح عصر کی آگہی میں بھی اپنے ہم عصروں سے کسی طور پیچھے نہیں۔ 
جناب علامہ ڈاکٹر طاہر القادری صاحب نے علم حدیث، ترجمہ و تفسیرِ قرآن، اسلامی قانون، سماجیات، اسلام کے سیاسی اور معاشی نظام، تصوف اور تہذیبِ اخلاق پر شاندار کتابیں لکھیں ہیں تاہم انہوں نے اپنی تمام علمی وذہنی توانائیوں اور فکری و قلمی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر ایسا شاندار کام کیا ہے جس نے انہیں لازوال شہرت و احترام سے نوازا ہے۔ ان کا یہ تازہ کارنامہ ”قرآنی انسائیکلوپیڈیا“ کئی اعتبار سے ان کے سابقہ علمی کاموں کا تسلسل بھی ہے اور بعض حوالوں سے ان کے پہلے کاموں پر فائق بھی ہے۔ 
قرآن تمام انسانوں اور تمام قوموں کی کتاب ہے، خدا کا کامل پیغام اور ہدایت کی روشنی ہے۔ قرآن محض ایک آسمانی کتاب نہیں بلکہ یہ بیت سی آسمانی کتابوں کے درمیان واحد لاریب کتاب ہے۔ فرقان مجید سب کی طرف خدا کی طرف سے بھیجی ہوئی کتاب ہے یہ آسمانی کتابوں کا مستند ترین ایڈیشن ہے۔ کسی بھی کتاب کی اہمیت اس کے موضوع اور اس سے متعلق بیان کردہ مضامین،مطالب اور مشمولات سے ہوتاہے۔ 

موضوعات قرآن پر کام اسلامی تاریخ کی اہم ترین سرگرمیوں میں سے ایک ہے۔ امام جلال الدین سیوطی کی ”الاتقان فی علوم القرآن“ جو کہ خود مناہل العرفان کی تفصیل ہے۔ اس سے لے کر آج تک موضوعات قرآن کی فہرست بندی ایک اہم علمی سرگرمی رہی ہے۔ قرآن مجید چونکہ ایک کتاب زندہ ہے جو لازوال حکمتوں کا خزانہ ہے اس پر کام کرنا ایک وسیع علمی وفکری تناظر کا تقاضا کرتا ہے۔ معتقدمین نے قرآنی موضوعات پر کئی جہتوں سے کام کیا ہے، لیکن بنیادی حوالے اس اعتبار سے دو ہی ہیں۔ ایک حوالہ قرآن مجید کو      ” تبیان لکل شی ً ‘‘ یعنی ہر چیز کا بیان سمجھ کر قرآن کے موضوعات کی وسعت اور تنوع پر بات کرنا ہے اور دوسرا حوالہ ہے ”ھدی للناس“ یعنی نوع انسانی کے لیے ہدایت سمجھ کر اس کا اس جہت ہدایت کی روشنی میں مطالعہ کرنا ہے۔ 
حضرت شاہ ولی اللہ نے ھدی للناس کو بنیاد بناتے ہوئے قرآنی مضامین کو علوم پنجگانہ کی تقسیم کے تحت بیان کیا ہے۔ ان پانچ علوم میں پہلا۔ علم الاحکام یعنی قرآنی احکامات کی معرفت ہے۔ دوسرا۔ علم المخاصہ یعنی تقابل ادیان۔ تیسرا۔ علم التذکیر بالاا للہ یعنی اللہ کے تخلیقی و صف کے تناظر میں۔چوتھا۔ علم التذکیر بایام اللہ یعنی اقوام کے تاریخی احوال اور پانچواں۔ علم التذکیر بالموت و ما بعدہ یعنی موت اور اسکے مابعد کے حوالے سے جانچنا۔ 
اس اعتبار سے قرآن بنیادی طور پر کتاب ہدایت ہے اور باقی تمام علوم جس کی طرف قرآن پاک میں اشارے ملتے ہیں وہ ثانوی نوعیت کے ہیں۔ اس کے برعکس اگر قرآن کو تمام علوم کی جامع کتاب کے طور پر لیا جائے تو تمام علوم کی اصل قرآن حکیم میں پائی جاتی ہے۔ اس پہلوسے کام کرنے والوں نے قرآن کا موضوعاتی مطالعہ جدید و قدیم کی مناسبت سے کیا ہے۔ اس تناظر میں سے بہت ساری تفاسیر میں موضوعاتی انڈیکس دیے گئے ہیں۔مثال کے طور پر پیر محمد کرم شاہ الازھری صاحب کی تفسیر ”ضیاء القرآن“  کی ہر جلد کے اختتام پر ایک موضوعاتی انڈیکس دیا گیا ہے جو جدید و قدیم متنوع موضوعات پر آیات کی نشاندہی کرتا ہے۔ 
ایک اور سلوب جو قرآنی موضوعات کی تفصیل کا مطالعہ کرتا ہے معجم کی شکل میں موجود ہے۔ جرمن مستشرق فلو جل اور بعد ازاں فواد عبدالباقی کی ”معجم المفہرس“۔ ایک بہت بڑا اور وقیع کام ہے۔ اسی طرح عربی زبان میں ماضی قریب میں صبحی عبدالرؤف عصر کی کتاب ”المعجم الموضوعی الایآت القرآن الکریم۔“ جو832صفحات پر مشتمل ہے۔ یہ ایک عمدہ علمی کام ہے۔ یہ کتاب 2008میں شائع ہوئی۔ 
جناب ڈاکٹر طاہر القادری صاحب کا قرآنی انسائیکلو پیڈیا اس اعتبار سے منفرد ہے کہ اس میں فواد الباقی اور صبحی عبدالروف عصر کے اسلوب کا امتزاج ہے۔ پہلی پانچ جلدیں صُبحی عبدالروف کے اسلوب میں قرآن کا موضوعاتی انڈیکس ہیں جن میں آیات بمعہ ترجمہ دی گئی ہیں۔ صبحی عبدالروف کا کام عربی میں ہے اس لیے ان کے ساتھ ترجمہ نہیں ہے۔ قرآنی انسائیکلو پیڈیا کی آخری تین جلدوں میں فواد الباقی کی معجم المفہرس کے اسلوب میں قرآنی الفاظ کا جامع اشاریہ پیش کیا گیاہے۔ اس میں اضافہ یہ ہے کہ الفاظ اور آیات کا ترجمہ بھی دیا گیا ہے جس سے یہ قرآنی انسائیکلو پیڈیا اردو پڑھنے والے طبقہ کے لیے ایک عظیم علمی اثاثہ بن گیا ہے۔ 
قرآن انسائیکلو پیڈیا کے عنوان سے جو کتابیں انگریزی زبان میں لکھی گئی ہیں ان میں ادیان کی ممتاز سکالر محترمہJ.D McAuliffe(جے ڈی میکالف) کا مدون کردہ قرآن انسائیکلو پیڈیا3956صفحات پر مشتمل ہے جسے دنیا کے قدیم اور مستند پبلشر برل لیڈن نے شائع کیا ہے۔ اس انگریزی انسائیکلو پیڈیا آف قرآن میں قرآن مجید سے متعلق لاتعداد مباحث ہیں لیکن یہ قرآنی مضامین و موضوعات کا انسائیکلو پیڈیانہیں ہے۔
محترم علامہ طاہر القادری کا ترتیب دیا ہوا قرآنی انسائیکلو پیڈیا موضوعات کے تنوع، تفصیل و تقسیم کے اعتبار سے منفرد ہے۔ اس کا مختصر تقابلی مطالعہ صبحی عبدالروف عصر کے المعجم الموضوعی سے کیا جائے تو اس کی تفصیل اور تنوع کی انفرادیت اور نمایاں ہو جاتی ہے۔ صبحی عبدالروف نے اپنے موضوعات کو تین بنیادی عنوانات میں تقسیم کیا ہے۔ اورکان ایمان و اسلام کے تحت9ذیلی موضوعات ہیں۔    تقویٰ کے تحت 101ذیلی موضوعات، کفر وفجور کے تحت126ذیلی عنوانات ہیں۔ گویا صبحی عبدالروف نے اپنے موضوعات کو ”ھدی للناس“ کے تناظر میں ترتیب دیا ہے۔ 
جبکہ جناب علامہ طاہر القادری کے قرآنی انسائیکلو پیڈیا کی جلد اوّل۔ ایمان بالاللہ کے متعلقات پر مشتمل ہے۔ جلد دوئم میں شرکت اور ایمان بالکتب، ملائکہ، تقدیر اور آخرت پر ایمان کے موضوعات ہیں۔ جلد سوئم احوال ِقیامت، عبادتِ و معاملات، حقوق و فرائض اور سائنس و ٹیکنالوجی کے موضوعات پر مشتمل ہے۔ جلد چہارم میں امن، محبت، عدم تشدد، غیر مسلموں سے حُسن سلوک اور انبیاء کے واقعات کے عنوانات ہیں۔ پانچویں جلد میں حکومت و سیاسی نظام، نظام عدل، معاشیات اور جہاد جیسے موضوعات کی تفصیل ہے۔اگرتفصیل اور تنوع کے نقطہئ نظر سے دیکھا جائے تو ایمان بالاللہ کے291ذیلی موضوعات ہیں۔ ایمان بالرسالت کے 135ذیلی موضوعات ہیں اور ایمان بالاکتب کے252ذیلی موضوعات ہیں۔ مکمل تفصیل قرآنی انسائیکلو پیڈیا کی فہرست میں دیکھی جا سکتی ہے جو مجموعی طور پر پانچ ہزار عنوانات پر مشتمل ہے۔ صرف موضوعاتی فہرست 400صفحات پر مشتمل ہے۔ اسی سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ علامہ ڈاکٹر طاہر القادری صاحب نے جدید و قدیم، مذہبی، سیاسی، اقتصادی، فکری، علمی، سائنسی، فلسفیانہ تمام پہلوؤں کے حوالے سے قرآنی آیات کی ترتیب موضوعی بیان کی ہے۔ گویا علامہ صاحب اسے ” تبیان لکل شی ً “ کے اعتبار سے دیکھ ر ہے ہیں۔ موضوعات کی وسعت اور تفصیل ڈاکٹر صاحب کے وسیع علمی وفکری پھیلاؤ کی نشاندہی کرتی ہے اور قرآن پاک کا مطالعہ اور اس حوالے سے تحقیق کرنے والوں کے لیے یہ قرآنی انسائیکلو پیڈیا ایک انتہائی مفید ذریعہ معلومات ہے۔ 
بعض اوقات کہیں کہیں تکرار کا گمان ہوتا ہے لیکن متن قرآن کا تکرار باعث برکت بھی ہے اور فکر و نظر کے دریچے وا کرتا ہے۔بعض مقامات پر سائنسی و سیاسی موضوعات اور کئی دیگر عنوانات میں تبصرے کی گنجائش ہو سکتی ہے اور اہل علم و نظر اس پر تبصرہ کرتے رہیں گے لیکن بلاشبہ یہ ایک قابل تحسین علمی سرگرمی ہے جو اس میدان میں نئے امکانات ی نشاندہی کرے گی۔ لیکن کوئی بھی تبصرہ اور تنقید اس عظیم علمی کاوش کی اہمیت کا انکار نہیں کر سکے گی۔ اس کارِخیر پر جناب علامہ ڈاکٹر طاہر القادری صاحب قلبی تحسین اور مبارکباد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے روح عصر کے تقاضوں سے ہم آہنگ قرآن کے علوم کی یہ خدمت سرانجام دی ہے۔اللہ کریم ان کا علمی سفر جاری و ساری کھے اور انہیں جزائے خیر عطا فرمائے۔۔۔آمین

جمعہ، 3 نومبر، 2017

تصو یرِ قائد کی وفات


عظیم باپ کی عظیم بیٹی، تصویر محمد علی جناح دینا واڈیا کی2نومبر2017ء بروز جمعرات نیویارک میں اپنے گھر میں ابدی نیند سو جانے کی خبر نے دل بوجھل کر دیا۔ دینا واڈیا برصغیر پاک و ہند کی دو عظیم شخصیات محمد علی جناح اور رتن بائی کی محبت کی نشانی تھیں۔ محمد علی جناح اور رتی جناح شادی کے بعد انگلستان کے سفر پر تھے کہ ان کی زندگی کا اہم واقعہ پیش آیا۔ یہ وسط اگست کی ایک شام تھی جب جناح، رتی کو تھیٹر دکھانے لے گئے۔ وہاں رتی کی طبیعت خراب ہونے پر انہیں تھیٹر سے اٹھ کر ہسپتال جانا پڑا۔ یہ14اور15اگست1919ء کی درمیانی شب تھی وہاں ان کی دنیا میں ایک ننھی منی جان نے قدم رکھا یہ ان کی اکلوتی بیٹی دینا تھی۔ ظاہر ہے محبت کرنے والے ماں باپ نے اس کے لیے کیا کچھ نہ کیا ہو گا۔ دینا کے ایام طفولیت کا فی مشکل تھے کہ ان کے والدین کے ازدواجی تعلقات سرد مہری کا شکار ہوئے اور پھر علیحدگی پر جا کر رُکے۔ دینا دس سال کی تھی کہ اس کی والدہ انتقال کر گئیں۔ بلاشبہ محبت ابتلاء و آزمائش سے گزرتی ہے لیکن خود بہت شفیق ہوتی ہے۔ محمد علی جناح کی لخت جگر کا اصل نام صوفیہ تھا اور عرفیت دینا، اس لیے وہ دینا جناح کے نام سے جانی جانے لگیں۔ وہ قائد اعظم کے ساتھ ہی رہتی تھیں۔ ایک شفیق باپ کی طرح وہ اسے بہترین تعلیم دلانے کے آرزو مند تھے۔ 
جی الانہ کے مطابق دینا جب بارہ سال کی عمر کو پہنچیں تو انہیں انگلستان کے ایک بورڈنگ سکول میں داخل کر ا دیا گیا۔ قائد اعظم جب انگلستان جاتے تو دینا اپنی تعطیلات اپنے والد کے ساتھ گزراتی تھیں۔ اپنی محبوبہ بیوی کی وفات کے بعد دینا ہی اس کی واحدنشانی تھی۔ باپ اب اپنی ساری محبت اور شفقت اسی پر نچھاور کرنے لگا تھا۔تاہم والد کی سیاسی مصروفیات کے باعث دینا ننھیال کے زیادہ قریب رہنے لگی تھی۔ 1932ء میں جناح نے کمال اتاترک کی سوانح"Grey Wolf"پڑھی تو اس سے بہت متاثر ہوئے وہ اکثر گھر میں اس کتاب کا تذکرہ کرتے انہوں نے یہ کتاب دینا کو بھی دی۔ دینا اکثر اپنے بابا کو   ”گرے ولف“ کے نام سے ہی پکارتی تھی۔ 
محمد علی جناح کو اپنی بیٹی کی پارسی خاندان میں شادی کے فیصلے پراختلاف ہوا۔ انہوں نے مولانا شوکت علی کو بھی دینا کو سمجھانے کا کہا تاہم وہ اپنے فیصلے کی پکی تھیں، انہوں نے25نومبر1938ء کو پارسی نوجوان سے شادی کر لی۔ کہا جاتا ہے کہ اس پر باپ بیٹی میں کچھ ناراضگی بھی ہوئی۔ قائد اعظم کے ڈرائیور محمد حنیف آزاد کے بقول ایک دفعہ وہ گاڑی چلا رہے تھے، قائد اعظم پچھلی نشست پر بیٹھے تھے۔ سامنے سے ان کی بیٹی دینا کی گاڑی آ گئی۔ میں نے خاص طور پر شیشے میں سے قائد اعظم کا رویہ دیکھناچاہا۔ جب دینا کی گاڑی قریب سے گزری تو قائد اعظم نے منہ دوسری طرف پھیر لیا۔ بلاشبہ شادی کے مسئلے پر بیٹی سے ناراضگی تھی اور یہ ایک فطری امر ہے۔نیول واڈیا سے   ا ن کی شادی کامیاب نہ رہی اور پانچ سال بعد ہی1943ء میں علیحدگی ہو گئی۔ تاہم اس کو بنیاد پر کچھ لوگوں نے یہ سمجھ لیا کہ قائد اعظم نے بیٹی سے تعلق توڑلیا۔ ایسا بالکل نہیں تھا۔ دینا کی شادی کو ابھی چھ ماہ ہی گذرے تھے کہ قائد اعظم نے30مئی1939ء کو اپنی وصیت لکھی۔ ناراضگی یاقطع تعلقی تھی تو وہ دینا کو ترکے سے محروم کر سکتے تھے لیکن انہوں نے اپنی بیٹی کے لیے تاحیات دو لاکھ رروپے کی رقم کا منافع مختص کر دیا اور وصیت کی کہ دینا کی وفات کے بعد تمام رقم دینا کی اولاد کو منتقل کر دی جائے۔ کوئی والد اپنی عاق شدہ اولاد کے لیے ایسی وصیت نہیں لکھ سکتا۔ باپ بیٹی کی محبت کے رشتے کی کئی شہادتیں ہیں۔ خاص طور پر سالگرہ و دیگر مواقع پرقائد اعظم کو بھیجے جانے والے دینا واڈیا کے تہنیتی کارڈز اور ان کی تحریریں قائد اعظم اور دینا کے درمیان خط و کتابت باپ بیٹی کے پیا رکا عکس ہیں۔28اپریل1947ء کے ایک خط میں دینا لکھتی ہیں ”مائی ڈئیر پاپا! پہلے تو آپ کو مبارکباد دوں کہ ہمیں پاکستان مل گیا، یعنی اصولی طور پر تسلیم کر لیا گیا۔ میں اس پر کتنا فخر اور خوشی محسوس کر رہی ہوں۔ آپ نے اس کے لیے کتنی محنت کی ہے!۔“ ایک اور خط میں دینا نے باپ سے والہانہ لگاؤ کا اظہار کیا اور ان سے رشتے پر فخر کا اظہار کیا۔ لکھتی ہیں ”پیارے پاپا! آپ کے شفقت نامے کا بے حد شکریہ، میں جانتی ہوں آپ کس قدر مصروف ہیں۔ شاید اس لمحے آپ وائسرئے کے ساتھ ہوں گے۔ آپ نے پچھلے چند سالوں میں جو کامیابی حاصل کی ہے وہ حیرت انگیزہے اور میں آپ سے اپنی نسبت پر فخر اور انبساط محسوس کرتی ہوں۔ہندوستان بھر میں آپ وہ واحد شخص ہیں جو حقیقت پسند، راست باز، دانا اور بے مثال مدبر ہیں۔ شاید اب یہ کسی پرستار کا خط بن گیا ہے، ٹھیک کہہ رہی ہوں نا!میں نے آپ کی3جون کی تقریر سنی۔ میرے خیال میں آپ کی تقریر سب سے بہتر اور موضوع کے عین مطابق تھی۔ آپ جو چاہتے تھے وہ پورے طور پر نہ مل سکا لیکن پھر بھی آپ نے بہت کچھ حاصل کر لیا۔ کانگریس کا غرور کس طرح ٹوٹا۔ یہاں کے ہندو پاکستان کے تسلیم کیے جانے اوردو مملکتوں کے قیام پر خوش نہیں ہیں۔ اب آپ کے سامنے بڑا مسئلہ در پیش ہے یعنی پاکستان کو عملی جامہ پہنانا۔ میں جانتی ہوں کہ آپ اس میں بھی کامیاب ہوں گے۔“ ان خطوط میں دینا کو اپنے باپ سے نسبت پر بہت فخر تھا۔ قائد کو اپنی بیٹی سے ہی نہیں نواسوں سے بھی بہت پیا ر تھا۔ نسلے واڈیا نے ایک مرتبہ کہا کہ تھا ”بچپن میں ایک بار نانا ہمارے ہاں ملنے آئے تو میں ان کی ٹوپی سے کھیلنے لگا۔ نانانے یہ ٹوپی مجھے دے دی جسے میں نے ہمیشہ اپنی زندگی کی قیمتی متاع کے طور پر سنبھال رکھا ہے!
قیام پاکستان کے بعد قائدا عظم کی وفات پر وہ تدفین میں شریک ہوئیں۔ قائد اعظم کے اے ڈی سی کیپٹن این اے حسین کے مطابق بابائے قوم کی وفات پر ان کی بیٹی مسز واڈیا کو اسی رات بمبئی میں اطلاع دی گئی جس پر وہ اگلی صبح بروقت کراچی پہنچ گئیں۔ وہ سیاہ لباس پہنے ہوئے جنازے اور تدفین میں شریک ہوئیں۔ وہ اپنی پھوپھی فاطمہ جناح کے ہمراہ قائد کی پسندیدہ سیاہ کار ہمبرپل میں تشریف فرما تھیں۔تدفین کے بعد اگلے روز وہ فلیگ سٹاف ہاؤس گئیں تو اس میں بابا کی چیزیں دیکھ کر آبدیدہ ہو گئیں۔ انہوں نے بہت سی اشیاء کو شناخت کر لیا، ان اشیاء کی خریداری کا سال اور جگہ بھی ان کو یاد تھی۔ انہیں ہر شے کے متعلق ہر وہ تعریفی جملہ بھی یاد آر ہا تھا جو قائد اعظم نے ان اشیاء کے بارے میں فرمایا تھا۔ قائد اعظم اور ان کی بیٹی کے درمیان ملاقاتیں اور خط و کتابت و رابطے ہمیشہ رہے۔ بابائے قوم کو اپنی تصویر دینا سے بہت لگاؤ تھا۔ نواب بہادر یار جنگ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ وہ قائد اعظم کے ہاں گئے۔ قائد اعظم کسی دوسرے کمرے میں تھے۔ تھوڑی دیر انتظار کے بعد وہ بھی ادھر چل دیے۔ میں نے دیکھا قائد اعظم ایک صندوق پر جھکے ہوئے ہیں اور کوئی چیز دیکھ رہے ہیں اور آبدیدہ ہیں۔ نواب صاحب کہتے ہیں مجھے تعجب ہوا۔ اس پر قائد اعظم نے بتایا کہ یہ میری بیٹی کے بچپن کے کپڑے ہیں۔ آج اس کی سالگرہ ہے۔ وہ اسے یاد کر رہے ہیں۔ چاہنے والوں میں ایک خفیہ معاہدہ ہوتا ہے وہ ایک دوسرے کو دیکھتے ہیں تو محبتوں کے سرکش جذبے خامیوں کو خوبیاں بنا دیتے ہیں۔ 
1976ء میں قائد اعظم کی سویں سالگرہ کے حوالے سے ایک کتاب شائع ہوئی"Pakistan: Past & Present"اس میں دینا واڈیا نے اپنے والد کے حوالے سے"A Daughter's Memory"کے نام سے تاثرات رقم کیے۔
"My father was not a demonstrative man. But he was an affectionate father. My last meeting with him took place in Bombay in 1946....He phoned inviting me and my children to tea. He was very happy to see us. We mostly talked about the children and politics."
2004ء میں دینا واڈیا پاک بھار ت میچ دیکھنے کے لیے پاکستان آئیں۔یہاں انکا والہانہ خیر مقدم کیا گیا۔ انہوں نے بھی بڑے پُرتپاک جذبات کا اظہار کیا۔ وہ والد کی قبر پر بھی گئیں اور اپنے تاثرات رقم بھی کیے۔ انہوں نے اپنے جذبات کے غلبے کو چھپانے کے لیے والد کی قبر پر جاتے ہوئے کسی کو ساتھ نہیں آنے دیا۔ قائد اعظم اور ان کی بیٹی کی نسبت اور مراسم بڑے خوشگوار رہے۔2007ء میں دینا جناح نے بھارتی حکومت کو درخواست دی کہ بمبئی کے جناح ہاؤس کو ان کی ملکیت میں دیا جائے۔ جس گھر میں بچپن گزرا، اسی میں زندگی کے آخری سال گذارنا چاہتی ہیں تا ہم انہیں اس کا جواب نہیں ملا۔ انکے پاس برطانوی اور ہندوستانی شہریت تھی لیکن وہ گذشتہ کئی عشروں سے امریکہ کے شہر نیویارک میں رہائش پذیر تھیں۔ جہاں انہوں نے داعی اجل کولبیک کہا۔ 2نومبر کو جب ان کی وفات کی خبر سنی تو باپ بیٹی کی محبت و لگاؤ کے لازوال تاثرات خوب یاد آئے۔ وقت سے بے نیاز، زمانے کی آندھیوں کی گرد ایسے پختہ رشتوں پر نہیں جمتی۔دینا قائد اعظم کی تصویر دکھائی دیتی تھیں۔ انھے دیکھ کر قائد اعظم خوب یاد آ رہے ہیں۔ ان کی وفات سے ایک عہد اپنے اختتام کو پہنچا ہے۔دعاہے کہ پروردگار ان کی اُخروی منزلیں آسان کرے۔

اتوار، 18 جنوری، 2015

دانش گاہ گجرات میں نئے عہد کا آغاز



مشہور فلمسازEliseo Subiela'a کی کلاسےک اطالوی فلم "No Mires Para Abajo" یعنی ’حقارت سے مت دیکھو‘ کا اختتام Eloy کے ان تاثرات پر ہوتا ہے کہ ’سب سے اہم بات یہ تھی کہ میرے باپ نے میرا ہاتھ پکڑا او رکہا، اپنی ساری زندگی تم خدا حافظ کہتے رہو گے۔ اسے یوں نہ لینا کہ تم محبت کرنا چھوڑ دو‘۔ اکتوبر 2014کے وسط میں جب جامعہ گجرات کے ہر دلعزیز وائس چانسلر ڈاکٹر محمد نظام الدین کے اعزاز میں منعقدہ الوداعی تقریب ختم ہوئی تو اس کے بعد میں چوہدری اختر وڑائچ، فیصل اقبال، حسن رضا، علی حماد جعفری و دیگر دوست انہیں رخصت کرنے گھر تک گئے تو ہمیں ڈاکٹر نظام الدین نے کچھ ایسی ہی نصیحت کی تھی کہ خدا حافظ اپنی جگہ یونیورسٹی آف گجرات سے محبت جاری رہنی چاہیے۔ خدا حافظ اور خوش آمدید دونوں ناگذیر انسانی خاصے ہیں۔ تاہم جو ناگذیریت پر سوال نہیں اٹھاتے، وہ آغوش کائنات میں تسکین پاتے ہیں۔ خدا حافظ اور خوش آمدید کے بغیر یہ دنیا بھلا کوئی دنیا ہے ۔ اس کے بغیر تو یہ Saramago کی 'Death of Interval' میں متذکرہ دنیا کی طرح ہو گی جو لافانی ہوتے ہوئے بھی تباہی کے دہانے پر موجود ہے ۔ جی ہاں فقط ہیرا کلیٹس کے متقابل”مستقل تغیر پذیری“ کے فلسفے کے بغیر زینو کے ناخوشگوار، غیر ہموار، بدبودار فلسفے کی طرح.... میں گذشتہ ایک ماہ سے خیالات کی ایسی ہی مبہم کشمکش میں مبتلا ہوں۔ کئی دنوں سے فیصل اور حسن رضا اصرار کر رہے ہیں کہ شیخ صاحب ، جامعہ گجرات میں آنے والی نئی روشنی کا تحریری خیر مقدم کریں۔ 
2004ءمیں یونیورسٹی آف گجرات کا قیام عمل میں آیا تو قدرت اس پر مہربان تھی اس نے ابتداءہی سے ڈاکٹر امتیاز احمد چیمہ جیسے ماہر تعلیم کو اس کی قیادت سونپ کر اسے امتیاز بخشاپھر اس جامعہ کو ایک ایسے نظام کی ضرورت محسوس ہوئی جو اس امتیاز کو وجہ ¿ افتخار بنا دے۔ اس کے لیے 2006 ءمیں ڈاکٹر محمد نظام الدین فضل ربی بن کر آئے۔ 2014ءمیں ستارہ ¿ امتیاز کے حقدار ٹھہرنے والے نظام کی تفہیم کے وقت اس جامعہ کی زمام کار ڈاکٹر محمد فہیم ملک کے ہاتھوں میں چلی گئی۔ تفہیم جب تفریق میں بدلنے لگی تو قدرت اس یونیورسٹی پر ایک بار پھر مہربان ٹھہری اور نا امیدی کو امید میں بدلنے کے لیے ضیائے قیوم سے نوازا۔ 
یونیورسٹی آف گجرات کا مین کیمپس مغلیہ عہد کے جس صوفی دانشور حافظ حیات ؑکے نام سے منسوب ہے اس کی روحانی برکت ہی ہے کہ قدرت اس ادارے پر مہربان ہے۔ میرا لگ بھگ ایک عشرے کا تجربہ ہے کہ یہ یونیورسٹی درو دیوار اور اساتذہ و طلبہ کے اجسام کا ہی مجموعہ نہیں ہے ،اس کے جسم میں صوفیانہ علم و دانش کی روح بھی متحرک ہے اور جب جب مشکل پیش آتی ہے روحانی قوتیںاس ادارے کی ترقی کے لیے دیدہ و نادیدہ معاونت کا اہتمام کرتی ہیں اس جامعہ کی حالیہ قیادت کے چناﺅ میں بھی یہ حقیقت پنہاں نظر آتی ہے ۔ ڈاکٹر نظام الدین جیسی حلیم الطبع، وژنری شخصیت کے جانے کے بعد ادارے کے استحکام اور ترقی کے لیے ایسی پائیدار روشنی کی ضرورت تھی ۔ جو مرکز اختصاص فضیلت کی جانب سفر کی راہ کو صالح فکر و عمل سے منور کردے۔ ایسی ہی امید ، تمنا، آرزو اور ارمانوں کا گلدستہ لیے 18 دسمبر 2014 کی صبح ہم نے جواں عزم، خوش فکر اور خوش شکل ڈاکٹر ضیاءالقیوم کا بطور رئیس الجامعہ گجرات استقبال کیا ۔ پہلی ملاقات میں ان کی شخصیت و خیالات متاثر کن لگے۔ نفیس الطبع، خوش لباس ڈاکٹر ضیاءالقیوم کی گفتگو، تہذیب و شائستگی کی اقدار کی مہک لیے ہوئے تھی۔ ان کے الفاظ تصنوع، بناوٹ اور نمائش کی بجائے فکر و تدبر، عزم و حوصلہ اور کچھ کرنے کی لگن کے عکاس تھے ۔ بلا شبہ وہ عالی ظرف شخصیت کے حامل ، دانش گاہ گجرات کی علمی و ادبی اور تدریسی و تحقیقی روایات کے قابل قدر وارث دکھائی دے رہے تھے۔ سخنوروں کی بستی، بہادروں، محب وطنوں اور وفاﺅں کے امین مہمان نواز شہر گجرات میں آمد پر ہم دوستوں نے دل ہی دل میں انہیں خوش آمدید کہا۔ انہیں دیکھا، ان سے ملے تو جامعہ گجرات کے نئے وائس چانسلر کی حیثیت سے ڈاکٹر ضیاءالقیوم کی تعیناتی مثبت تبدیلی کی نئی فضاﺅںکے لیے ڈھارس بندھانے لگی اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے سارے ادارے میں امید کی ایک نئی لہر دوڑ گئی۔ 
ٹی ایس ایلیٹ نے اپنی مشہور نظم East Coker کا آغاز کچھ اس طرح سے کیا ہے کہ "In my beginning is my end"۔ ”یعنی میرے آغاز میں میرا اختتام ہے ۔ اسی طرح کی اور بھی مشہور کہاوتیں ہیں مثلاً ہر آغاز مشکل ہوتا ہے اور "Well begun is half done" ۔ جامعہ گجرات کے نئے وائس چانسلر ڈاکٹر ضیاءالقیوم کی پہلی باقاعدہ سینئر سٹاف میٹنگ میں ان کے فکر انگیز خطاب نے یہ ظاہر کیا کہ وہ باریک بیں سکالر، وژنری منتظم، تجربہ کار استاد، اور دل و دماغ کے امتزاج کی حامل بصیرت اور بصارت رکھنے والے سربراہ ¿ ادارہ اور سنجیدہ فکر ، پاکباز، مزاح کی حس رکھنے والے انسان ہیں۔ ان میں ایسا سب کچھ دکھائی دیتا ہے جو کسی بھی دانش گاہ کے سربراہ میں ہونا چاہیے۔ ایک ماہ کے عرصہ میں انہوں نے دھیمے انداز اور سلجھے مزاج سے جس طرح پھونک پھونک کر وسائل و مسائل کا ادراک حاصل کیا ہے وہ لائق تحسین ہے۔ میں یونیورسٹی آف گجرات کی انتظامیہ، اساتذہ اور طالبعلموں کی جانب سے یونیورسٹی آف گجرات کی باگ ڈور سنبھالنے پر دل کی اتھاہ گہرائیوں سے انہیں خوش آمدید کہتا ہوں۔ ہم سب نئی امنگوں اور توقعات کے ساتھ ان کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ میں یونیورسٹی آف گجرات اور سول سوسائٹی کی جانب سے انہیں بھرپور تعاون کا یقین دلاتا ہوں تاکہ وہ گجرات یونیورسٹی کو عالمی معیار کی یونیورسٹی بنانے کا فریضہ احسن طریقے سے سر انجام دے سکیں اور اس ادارے کو استحکام بخش کر قومی تقاضوں سے ہم آہنگ اعلیٰ تعلیم کا مرکز بنا سکیں۔ اس موقع پر یہ بات دہرانے میں بھی کوئی عار نہیں کہ اس جامعہ نے تحقیقی، تخلیقی اور جدت طرازی میں اپنا لوہا منوایا ہے۔ایک عشرے سے کم عرصے میں یہ جامعہ ملک کی ممتاز جامعات کی صف میں شامل ہو چکی ہے ۔ 20 ہزار سے زیادہ طالبعلموں کی حامل درس گاہ کے زیر انتظام 38 تعلیمی شعبے کام کر رہے ہیں۔ اس کا اپنا شاندار بنیادی ڈھانچہ ، چار رکن کالج، مختلف شہروں میں چار ذیلی کیمپس او رایک سو کے لگ بھگ ملحقہ کالجز ہیں۔ 43 کمپیوٹر لیبز، 57 سائنس لیبارٹریز اور بڑی مرکزی لائبریری بھی نمایاں ہیں۔ اس جامعہ نے کمیونٹی ڈویلپمنٹ کے ضمن میں ثقافتی ، تہذیبی، مذہبی ، فنی اور ادبی میدانوں میں سول سوسائٹی کے ساتھ مل کر مکالمے اور اجتہادی فکر کو خوب فروغ دیا ہے ۔ ایک سو کے قریب عالمی اور قومی کانفرنسوں، ورکشاپس، سیمینارز اور سمپوزیم کی میزبانی کی۔ تعلیم و ترقی کے اس قابل فخر حاصل کے باوجود مجھے رابرٹ براﺅننگ کی نظم "Rabbi Bin Ezra" کی آفاقی سطور یاد آرہی ہیں کہ "Grow old along with me! The best is yet to be" جی ہاں جو بہتر ہے وہ ابھی آنا ہے ۔ جامعہ گجرات اللہ کے فضل و کرم سے ایک ایسے مقام پر پہنچ چکی ہے جہاں ایک بہترین لائحہ عمل مرتب کر کے ،علمی مواد کو دستاویزی شکل دے کر ،نظم و ضبط کے قوانین کی نوک پلک سنوار کے نئی منزلوں کی طرف آگے بڑھ سکتی ہے ۔ پیشہ وارانہ ترقی او رنشوونما کے لیے مقابلے بازی کا رجحان پیدا کر کے عظمتوں کو اور زیادہ یقینی بنا سکتے ہیں۔ بلاشبہ بہترین طرز عمل، اخلاقی تربیت اور پیشہ وارانہ اخلاقیات کے فروغ سے ہم اپنی سر بلندی کا ہدف اور زیادہ شاندار طریقے سے حاصل کر سکتے ہیں ۔ انڈسٹری اور اکڈیمیا لنکجز کو ثمر آور بنا کر قومی معیشت و معاشرت میں حصہ ڈال سکتے ہیں۔ جامعہ گجرات کی انتظامیہ نے بنیادی ڈھانچہ قائم کیا اور متحرک علمی و تحقیقی عظمت کو فروغ دینے کا مقصد طالبعلموں کی علمی و فکری مہارت و تربیت سے حاصل کیا ۔ اس نصب العین کا فریضہ اب ایک درد مند دل رکھنے والے محب وطن استاد اور باصلاحیت منتظم کو سونپ دیا گیا ہے ۔ ٹی ایس ایلیٹ کی فلسفیانہ نظم "Brunt Norton" کی سطور میری بات کی تشریح کے لیے ضروری ہیں کہ ”حال اور ماضی دونوں ہی مستقبل میں موجود ہیں اور مستقبل ماضی میں پنہاں ہیں ۔ 
اس تناظر میں ڈاکٹر ضیاءالقیوم صاحب نے ایک بڑے میدان میں پاﺅں رکھے ہیں جو ان کے لیے بڑا چیلنج ہے تاہم ایک متحرک شخصیت کے مالک جانشین کے طور پر ان کی صلاحیتیں ایسی ہیں کہ وہ مشکلات کا حل تلاش کر سکیں گے۔ ان کی راہنمائی میں ہمارا ادارہ مستحکم سے مستحکم ہوتا جائے گا ۔ مجھے یقین ہے کہ خلوص نیت اور فضل ربی کے حامل ڈاکٹر ضیاءالقیوم کی قیادت میں یونیورسٹی آف گجرات کی علمی روایات مزید مضبوط ہوتی جائیں گی اور نئی اقدار پرانی اقدار سے جڑی رہیں گی اور ارتقاءتسلسل کا حامل ہو گا ۔ ہم سب پر امید ہیںکہ نئے وائس چانسلر صاحب کی دیانت ، صداقت ، میرٹ اور انصاف کے واضح تصور پر مبنی قیادت سے نئی راہوں او رمنزلوں کی تسخیر ہو گی اور پیشہ وارانہ عظمتوں کا حصول ممکن ہو سکے گا ۔ جامعہ کے قابل اعتماد سربراہ یقیناً یونیورسٹی کی ترقی اور سربلندی کے عمل کو تیز کرنے کے لیے حقیقت پسندانہ عملیت کا راستہ اپنائیں گے ۔ قوی امید ہے کہ ڈاکٹر ضیاءالقیوم صاحب کی ملنسار بردباری انکی ہمدردانہ فطرت، مسائل کو حل کرنے والے مزاج اور ترقی کے تصور پر مبنی فکر و عمل سے یونیورسٹی میں کام کرنے والوں کے درمیان پر جوش تعلق جنم لے گا اور کام کرنے اور کارکردگی دکھانے والا ماحول پیدا ہو گا یعنی ایک ایسا ماحول جس میں ہر کوئی اس مادر علمی کی بلندی اور عظمت میں اپنا بھرپور کردار ادا کرے گا۔ اس ادارہ نے ابھی طویل مسافت طے کرنی ہے اور یہ سفر ضیائے قیوم کی موجودگی میں آساں سے آساں تر ہو جائے گا۔ میں ڈاکٹر ضیاءالقیوم کا خطہ یونان کی شہرت رکھنے والے شہر گجرات میں خیر مقدم کرتے ہوئے کہنا چاہوں گا کہ کا رلائل نے اپنی تحریر 'Past and Present' میں کہا ہے کہ :۔ 
رحمت ہوئی اس شخص پر جسے اپنا کام مل گیا 
اسے چاہیے کہ وہ پھر کسی اور نعمت کا تقاضا نہ کرے 
ایک انگریز شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ :۔ 
Work apace, apace, apace
Honest labour bears a lovely face