Vice Chancellor UOG لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Vice Chancellor UOG لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعرات، 23 جولائی، 2015

علوم ترجمہ


بابائے اردو مولوی عبدالحق نے کہا تھا کہ ”جب کسی قوم کی نوبت یہاں تک پہنچ جاتی ہے اور وہ آگے قدم بڑھانے کی سعی کرتی ہے تو ادبیات کے میدان میں پہلی منزل ترجمہ ہوتی ہے ۔ اس لیے کہ جب قوم میں جدت اور اپچ نہیں رہتی تو ظاہر ہے کہ اس کی تصانیف معمولی، ادھوری، کم مایہ اور ادنیٰ ہوں گی۔ اس وقت قوم کی بڑی خدمت یہی ہے کہ ترجمہ کے ذریعے دنیا کی اعلیٰ درجے کی تصانیف اپنی زبان میں لائی جائیں۔ یہی ترجمے خیالات میں تغیر اور معلومات میں اضافہ کریں گے، جمود کو توڑیں گے اور قوم میں ایک نئی حرکت پیدا کریں گے اور پھر یہی ترجمے تصنیف و تالیف کے جدید اسلوب اور آہنگ سجائیں گے۔ ایسے میں ترجمہ تصنیف سے زیادہ قابل قدر، زیادہ مفید اور زیادہ فیض رساں ہوتا ہے “۔ اسی تناظر میں یونیورسٹی آف گجرات کے شعبہ ¿ تصنیف و تالیف کی نئی پیش کش ”علوم ترجمہ“شائع ہوئی۔ یہ نامور ماہر لسانیات و ادب اور علوم ترجمہ سوزن بیسنٹ کی ابتدائی، مفید اور مقبول عام کتاب "Translation Studies" کا اردو ترجمہ ہے ۔ بیس سے زیادہ علمی کتب کی اس مصنفہ کی یہ کتاب پہلی بار 1980ءمیں شائع ہوئی تودنیا بھر میں اس کی پذیرائی ہوئی اور اس کی مانگ بڑھتی گئی۔ قارئین کی دلچسپی اور مانگ کی بنا پر اب تک اس کے کئی ایڈیشن طبع ہوئے اور یہ کتاب (دوبارہ) چھ بار شائع ہو چکی ہے ۔ یہ کتاب ”علوم ترجمہ“ کی ابتدائی اور بنیادی کتاب سمجھی جاتی ہے اور اس نے گذشتہ پینتیس برسوں میں علوم ترجمہ کے شعبہ ¿ کو بھرپور قوت متحرکہ اور مدرسانہ راہنمائی فراہم کی ہے ۔ یہ کتاب رومن ثقافت سے بیسویں صدی تک ترجمہ کے تناظر میں ہونے والے اہم مباحث کا جائزہ پیش کرتی ہے ۔ یہ ترجمہ کو قطعی لسانی عمل کی بجائے لسانی علامات و اشارات اور ثقافتی عمل کے طور پر دیکھتی ہے اور قارئین کو مترادف معانی کی بہت سی مشکلات سے بھی آشنا کرتی ہے ۔ اس کتاب کے مطالعے سے عیاں ہوتا ہے کہ یہ پڑھنے والوں کو ”علوم ترجمہ“ کی اہمیت ، وسعت، گہرائی، امتیاز اور ترجمہ کی گہری پیچیدگیوں اور مشکلات سے متعارف کرواتی ہے اور پس نو آبادیاتی نظام کا فہم دیتی ہے اور تاریخ میں ترجمے کے کردار اور ترجمے کے بدلتے اور ترقی کرتے نظریات و مباحث سے آگاہی فراہم کرتی ہے ۔ 

سوزن بیسنیٹ (Susan Bassnett) فن ترجمہ کی نظریہ ساز اور تقابلی ادب کی سکالر ہیں۔ انہوں نے ڈنمارک، پرتگال اور اٹلی سے تعلیم حاصل کی اور بچپن میں ہی مختلف زبانوں میں مہارت حاصل کی ۔ انہوں نے واروک یونیورسٹی (The University of Warwick) میں تقابلی ادب اور علوم ترجمہ میں پوسٹ گریجویٹ پروگرام شروع کیے۔ واروک یونیورسٹی میں وہ اس کے Centre for Translation and Comparative Cultural Studies سے وابستہ رہیں۔ وہ اس یونیورسٹی میں پرووائس چانسلر کے عہدے پر بھی تعینات رہیں۔ موصوفہ بیس سے زیادہ کتب کی مصنفہ ہیں ۔وہ دنیا بھر میں علوم ترجمہ اور تقابلی ادب کے حوالے سے لیکچر دیتی رہتی ہیں اور ورکشاپس منعقد کرنے میں مصروف عمل ہیں۔ سوزن بیسنٹ Institute of Linguists, اور Royal Society of Literature اور The Academia Europia کی منتخب رکن ہیں۔ حالیہ سالوں میں وہ کئی بڑے ادبی انعامات جیسے کہ The Independent Foreign Prize, Time/Stephen Poetry in Translation اور The IMPAC Dublin Prizeکی جج رہیں ہیں۔ یونیورسٹی آف گجرات CeLTS کے تحقیقی مجلہ کے ایڈیٹوریل بورڈ کی ممبر بھی ہیں۔ مختصر یہ کہ وہ اپنی صحافت ، ترجموں اور شاعری کی وجہ سے شہرت عام کی حامل لائق تحسین اور قابل قدر مصنفہ ہیں۔ 
ایسی عالمی شہرت اور مہارت کی حامل مصنفہ کی شہرہ آفاق کتاب ”علوم ترجمہ “کا ترجمہ کوئی عام قلمکار نہیں کر سکتا تھا۔ اسی لیے علم دوست، صاحب مطالعہ اور کثیر اللسانی مہارتوں کے حامل دانشور قلمکار جناب توحید احمد کو ہی اعزاز حاصل ہوا کہ انہوں نے ہی سوزن بیسنٹ کی کتاب ”علوم ترجمہ“ کو اردو کے قالب میں ڈھالا اور نیک نیتی ، خلوص، لگن اور مہارت سے خوبصورت اور قابل اعتماد ترجمہ کیا ہے ۔ یہ بھی اہم بات ہے کہ جناب توحید احمد نے یہ ترجمہ مصنفہ سے ان کے تیسرے ایڈیشن کی اشاعت پر باقاعدہ اجازت لے کر کیا ہے ۔ 
جناب توحید احمد اکتوبر 1947ءمیں لاہور میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے حیدر آباد ، سکھر ، بہاولپور، راولپنڈی اور لاہو رکے سکولوں سے تعلیم حاصل کی ۔ 1967ءکے بہترین طالبعلم کے طور پر ایف سی کالج سے تعلیم مکمل کی اور پھر پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ ¿ انگریزی میں داخلہ لیا اور انگریزی زبان و ادب میں پہلی پوزیشن کے ساتھ ایم اے کی ڈگری حاصل کی ۔ انہیں پنجابی اور اردو کے علاوہ فرانسیسی ، فارسی اور عر بی زبانوں پر بھی عبور حاصل ہے ۔ 1971ءمیں انہوں نے پاکستان کی فارن سروس میں شمولیت سے پہلے دو سال تک پاکستان ٹائمز، لاہور میں کام کیا ۔ بعد ازاں دنیا کے مختلف دارالحکومتوں میں اپنی خدمات سر انجام دیں اور 2007 میں ریٹائر ہوئے ۔ انہوں نے پنجاب پبلک سروس کمیشن کے رکن کی حیثیت سے ایک عرصہ کام کیا ۔ انہوں نے پاکستانی اخبارات اور رسالوں میں انگریزی اور اردو زبان میں 200 سے زیادہ مضامین لکھے۔ جناب توحید احمد نے Alvin Toffler کی بہترین کتاب "The Third Wave" اور Erasmus کی کتاب "The Praise of Folly" کا اردو میں ترجمہ کیا ۔ 1995ءمیں انفارمیٹکس ریوولوشن کے حوالے سے ”اطلاعیات“ کے نام سے ان کے اردو مضامین کا مجموعہ بھی شائع ہو چکا ہے ۔ موصوف کا ”علوم ترجمہ“ کے عنوان سے سوزن بیسنٹ کی کتاب کا شاندار اور جاندار ترجمہ آپ کے ہاتھوں میں ہے ۔ جناب توحید احمد کا تجربہ اور زبان شناسی کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ کہا جاتا ہے کہ مترجم جس زبان تحریر کو اپنی زبان میں منتقل کرنے کا سوچے، پہلے اس زبان کے تہذیبی رچاﺅ میں واقفیت حاصل کرے۔ ہمارے ممدوح مترجم کا یہ وصف سند یافتہ ہے ۔ ”علوم ترجمہ“ کا ورق ورق شاہد ہے کہ جناب توحید احمد کا ترجمہ ان کے نیاز و ناز کا حسین امتزاج ہے۔ وہ مصنفہ کا دل سے احترام کرتے ہیں او راس احترام کو معتبر بنانے کے لیے انہوں نے مکمل آزادی اور دیانتداری سے ترجمہ کیا ہے ۔ ان کا ترجمہ رواں، شفاف اور تواناءہے۔ والٹر بنجامن کا کہنا ہے کہ ”اصل ترجمہ شفاف ہوتا ہے“۔ جناب توحید احمد نے متن کو اپنی علمی توانائی سے اس طرح پیش کیا ہے کہ ترجمہ کی زبان کا متن اصل معلوم ہوتا ہے ۔ ایک فرانسیسی کہاوت ہے کہ Translation is like a woman, if it is beautiful it cannot be faithful and if it is faithful, it cannon be beautiful ۔ 
جناب توحید احمد کے اس شفاف ترجمے کا نمایاں وصف یہ ہے کہ یہ مذکورہ کہاوت کے برعکس بیک وقت خوبصورت اور قابل اعتبار ہے ۔ لیکن اسے ستم ظریفی کے علاوہ کیا کہیے کہ ترجمہ نام ہی سعی نا مشکور کا ہے ، جس میں بالعموم مترجم کو ترجمے کی شدید مشقت کے بعد بھی تحسین و قبولیت کم ہی نصیب ہوتی ہے۔ اس لیے ترجمے کے حوالے سے یہ کہا جاتا ہے کہ ترجمہ ایسی محنت ہے کہ جو کسی کے شکریے کی مستحق نہیں۔ اس سے مراد یہ بھی لی جاتی ہے کہ شکریے کا مستحق دراصل مصنف ہے ، مترجم کا کام صرف اس کو دوسری زبان میں منتقل کرنے کا ہے اور یہ کوئی بڑا کام نہیں۔ عنایت اللہ دہلوی کہتے ہیں کہ ”مترجم شکریے کا مستحق نہ ہو، لیکن اگر دنیا میں مترجم نہ ہوتا ، تو روئے زمین پر علم کی جھیلیں اور دریا تو بہتیرے ہوتے، مگر ان کو ملا کر علم کا بحر ناپید کنار بنانے والا کوئی نہ ہوتا“۔ اسی تناظر میں میں دانش گاہ گجرات ، مرکز السنہ و علوم ترجمہ اور علوم ترجمہ کے طالبعلم اور اساتذہ جناب توحید احمد کے شکر گذار ہیں، جامعہ گجرات کے مرکز السنہ و علوم ترجمہ کی بنیاد رکھنے اور اسے پروان چڑھانے میں انہوں نے جو قابل قدر کردار ادا کیا ہے، میں اس کا عینی شاہد ہوں اور خوب جانتا ہوں کہ انہی کی راہنمائی اور فراخدلی سے جامعہ گجرات کا مرکز برائے السنہ و علوم ترجمہ، ترجمہ کی تدریس، تحقیق ، تدریب اور ترغیب کا واحد پاکستانی مرکز بنا ہے ۔ 

دو سو سات صفحات پر مشتمل اس کتاب کا آغاز شیخ الجامعہ ڈاکٹر ضیاءالقیوم کے فکر انگیز حرف اول سے ہوتا ہے جس میں انہوں نے بجا طور پر اکیسویں صدی کو ترجمے کی صدی بنتے دکھایا ہے۔ ترجمے کی کہانی میں مترجم نے اس کتاب کے ترجمے کی ضرورت اور اہمیت کا خوب تذکرہ کیا ہے ۔ پھر مصنفہ کا جامعہ دیباچہ و تمہید بھی شامل ہے۔ کتاب تین بنیادی ابواب پر مشتمل ہے جس میں چوبیس ذیلی عنوانات زیر بحث لائے گئے ہیں اور پھر اختتامیہ بھی ہے۔ آخر میں 34 صفحات پر مشتمل زیر بحث موضوعات سے متعلقہ 291 انگریزی کتب کی تفصیلی فہرست بھی شامل ہے جسے قارئین کی سہولت کے لیے پانچ ذیلی عنوانات میں تقسیم کیا گیا ہے ۔ 
امید واثق ہے کہ علوم ترجمہ کی یہ کتاب زبان و خیال میں وسعت اور زرخیزی کا سبب بنے گی ۔ اس کتاب کی اشاعت میں یونیورسٹی آف گجرات کے مرکز برائے السنہ و علوم ترجمہ کے سربراہ اور مبلغ علوم ترجمہ ڈاکٹر غلام علی کی ترغیب و دلچسپی کلیدی اہمیت کی حامل ہے ۔ 
گجرات یونیورسٹی کے شعبہ ¿ تصنیف و تالیف کی یہ نئی کاوش، وژنری وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ضیاءالقیوم کی شفقت ، علم دوستی اور علوم ترجمہ کی اہمیت کے ادراک کی بدولت ہی کتابی صورت میں منظر عام پر آسکی ۔یہ شعبہ ¿ اس سے قبل بھی درجن بھر کتب شائع کر کے ادبی و علمی حلقوں سے داد و تحسین وصول کر چکا ہے۔ جامعہ گجرات کی خوش قسمتی ہے کہ اسے روح عصر سے ہم آہنگ”ضیائے قیوم“ نصیب ہوئی۔ یہ فضل ربی حافظ حیات ؒ کی برکت کا ثمر ہے۔ یہی ”ضیاء“علوم و ادب کی روشنیوں سے دانش گاہ گجرات کو منور رکھے گی ۔ (انشاءاللہ)


جمعہ، 6 فروری، 2015

ہائر ایجوکیشن کمیشن، تقاضے اور خدشات


ہائر ایجوکیشن کمیشن، تقاضے اور خدشات


کسی قوم کے نظری و عملی اور فکری و معاشرتی ارتقاءمیں ادارے کلیدی کردار کے حامل ہوتے ہیں۔ تاریخ کا مطالعہ عیاں کرتا ہے کہ اقوام کا عروج و زوال اداروں کے نشیب و فراز سے مشروط رہا ہے ۔ جن قوموں نے اداروںکے استحکام کو مقصود بنایا انہوں نے ترقی کا سفر تیزی سے طے کیا اور جن کے ہاں ادارے اکھاڑ پچھاڑ میں مبتلا ہوئے وہاں کھینچا تانی سے ادارے ہی تباہ نہیں ہوئے ان اقوام کا مستقبل مخدوش اور حال مصلوب ہو کر رہ گیا ۔ مغربی اقوام اور سماج آج اگر مستحکم بنیادوں پر استوار اور ترقی یافتہ ہیں تو اس کا بنیادی سبب یہی ہے کہ انہوں نے صدیوں کی محنت و کاوش سے اپنے تعلیمی ، سماجی اور فکری اداروں کو مضبوط و مستحکم بنایا ہے۔ تعلیم و تربیت کا اعلیٰ نظام کسی سماج میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ وطن عزیز کی حالیہ تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات فخر و انبساط کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ گذشتہ ایک ، ڈیڑھ عشرے میں ہم نے بھی ہائر ایجوکیشن کمیشن کی صورت میں ایسا ادارہ تشکیل دیا ہے جس کی کارکردگی لائق افتخار ہے ۔ اس ادارہ کا مقصد اولین اعلیٰ تعلیم کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کر کے روح عصر سے ہم آہنگ کرنا ہے ۔ معیاری اعلیٰ تعلیم کے بغیر ملک و قوم ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ جاتے ہیں کیونکہ افرادی قوت کی ترقی اداروں کی تعمیر کے بغیر خوشحالی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ تعلیمی عمل میں اعلیٰ معیار کو مرکزی اہمیت حاصل ہے۔ میدان علم و تحقیق میں جو انقلابی تبدیلیاں عالمگیر سطح پر ظہور پذیر ہیں ان سے مستفید ہونے کے لیے لازم ہے کہ قوم اعلیٰ تعلیم کے اداروں کی ضروریات پوری کرے اور اعلیٰ تعلیم کے بنیادی ڈھانچے میں بہتری لائے۔ اعلیٰ تعلیم میں قومی سرمایہ کاری کبھی رائیگاں نہیں جاتی بلکہ اس کا ثمر منافع کے ساتھ قوم و ملک کو ضرور ملتا ہے ۔ اس کے برعکس اعلیٰ تعلیم کو نظر انداز کرنے پر بھاری قیمت بھی قوم ہی کو چکانی پڑتی ہے ۔ 
نالج اکانومی کی عالمگیریت کے عہد میں دنیا بھر میں مسابقت اور فضیلت کے لیے جدوجہد نے اعلیٰ تعلیم کو معاشرے میں منفرد حیثیت بخشی ہے۔ یونیورسٹی سطح کی تعلیم کو عالمی نقشے میں نمایاں جگہ ملی ہے اس لیے لازم ہے کہ ہماری یونیورسٹیاں عالمی معیار پر پوری اتریں۔ عالمی معیار سے مطابقت کے لیے ہماری جامعات کو تیزی سے تبدیل ہونے والی دنیا کے مسائل اور چیلنجز، معاشرے کی توقعات اور طالبعلموں کے روز افزوں تقاضوں سے عہدہ برآہ ہونے کی صلاحیت سے مالا مال ہونا ضروری ہے۔ اسی خیال اور یقین کے ساتھ دانش گاہ گجرات کے جواں عزم اور علم دوست شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر ضیاءالقیوم سے گفتگو جاری تھی کہ میرے سوالوں کے جواب ڈاکٹر ضیاءالقیوم بڑی روانی سے کہہ رہے تھے کہ HEC نے پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کی ثقافت کو بدلنے اور مثبت ترقی کے لیے ہمیشہ قابل قدر اقدامات کیے ہیں۔ تجربہ کار راہنما ڈاکٹر مختار احمد اس سفر میں نئی منزلوں کی طرف رواں دواں ہیں اور اعلیٰ تعلیم کے قومی تقاضوں سے زمینی حقائق کے تناظر میں حقیقت پسندانہ تدبر و تفکر سے عہدہ برآہ ہو رہے ہیں ۔ گذشتہ چند سالوں میں HEC جیسے قومی ادارے پر دیدہ و نادیدہ دباﺅ نے بھی اپنے اثرات مرتب کیے ہیں جنہیں زائل کرنا ہمارا قومی فریضہ ہے ۔ HEC کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ اس نے حب الوطنی کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے اعلیٰ تعلیم کے قومی ہم آہنگی اور علمی یکجہتی کو فروغ دیا ہے ۔ گذشتہ دور حکومت میں اٹھارویں آئینی ترمیم سے جنم لینے والے ابہامات نے اسا ادارے کو متاثر کیا ہے ۔ ہم نے قومی سطح پر کسی مکالمے ، دانشوارانہ تجزیے اور مدبرانہ حکمت عملی کے بغیر اپنی اپنی مصلحتوں کے تناظر میں صوبائی سطح پر اعلیٰ تعلیم کے کمیشن تشکیل دینا شروع کر دیے ۔ ان صوبائی کمیشنوں کی تشکیل سے HECکے دائرہ کار اور حسن انتظام کے حوالے سے نئے مباحث نے جنم لیا ہے ،نئی بحث نے صوبائی اور مرکزی کمیشنوں کے درمیان نئی غلط فہمیوں کو جنم دیا ہے ۔ قومی مفاداتی کونسل کے اگلے اجلاس تک اعلیٰ تعلیم کے مرکزی کمیشن کے مقدر کا فیصلہ ہونے تک نئی الجھنوں کو جنم دینے سے اجتناب کیا جاسکتا تھا مگر ایسا نہیں ہوا۔ الجھاﺅ، کھینچا تانی یا غلط فہیوں کے نتیجے میں نقصان صرف اور صرف اعلیٰ تعلیم کا ہو گا ۔ وائس چانسلر ڈاکٹر ضیاءالقیوم کی بھرائی آواز سن کر میں نے سوال بدلا۔ 
میں نے عرض کیا کہ اس بدلتی صورتحال میں یونیورسٹیاں کہاں کھڑی ہیں؟ انہوں نے کہا HEC سرکاری جامعات میں فنڈز اور تنخواہیں بانٹنے ہی کا ذریعہ نہیں ہے بلکہ اعلیٰ تعلیم کا پالیسی ساز ادارہ ہے اور جامعات کے لیے راہبری و راہنمائی کا فریضہ بھی بحسن و خوبی انجام دے رہا ہے ۔ اس صورتحال میں حدود و قواعد کے تعین کے بغیر اعلیٰ تعلیم کے صوبائی کمیشنوں کی تشکیل ابہامات و مسائل کا سبب بن رہی ہے ۔ مبہم فضا میں جامعات کا متاثر ہونا لازمی امر ہے ۔ ضرورت اس امر کی تھی مناسب غور و فکر ، دور اندیشی، قومی تقاضوں اور مفاد عامہ کے ادراک کے ساتھ قواعد و ضوابط اور حدود و قیود طے کرنے کے بعد صوبائی کمیشنوں کا قیام عمل میں لایا جاتا۔ گو مگو کی اس صورتحال میں یونیورسٹیوں کو جرا ¿تمندانہ کردار ادا کرنا ہو گا ۔ میرے خیال میں پاکستانی جامعات نے HEC کی چھاﺅں کے نیچے سکھ کا سانس لیا تھا اور وہ اپنے بدلتے اور بہتر ہوتے حالات پر سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہونگی اور نہ ہی کسی ایسی صورتحال سے مطمئن ہوں گی جس سے HEC کمزور ہو او رنہ ہی ایسا ہونا چاہیے۔ ڈاکٹر ضیاءالقیوم دو ٹوک انداز میں کہنے لگے کہ میں اور میری یونیورسٹی HEC کو بہتر سے بہتر بنانے کے ہر عمل میں ہر اول دستے میں ہوں گے، ہمیں شخصیات اور ذاتیات کے جھگڑوں سے بلند ہو کر باہم مل جل کر اعلیٰ تعلیم کی کامیابیوں کو آگے بڑھانا ہے ۔ 
اعلیٰ تعلیم کی ترقی میں میری خوش خیالی کو ساری گفتگو سن کر دھچکا سا لگا کہ ایک بار پھر ہمارا قابل فخر ادارہ HEC تنقید و مباحثے کا شکار ہو گیا ہے۔ درحقیقت ناقدین اعلیٰ تعلیم کو جمہوریت اور مساوات کے آدرش سے ہم آہنگ نہیں کر پائے۔ پاکستان کے بہت کم ادارے عالمی سطح پر تحسین و تعریف حاصل کر پاتے ہیں ، HEC بلاشبہ ان میں نمایاں ترین ہے۔ علم و تحقیق کے شعبوں میں عالمی سطح پر جو تبدیلیاں برپا ہو رہی ہیں وہ متقاضی ہیں کہ ہم بحیثیت قوم اعلیٰ تعلیم کے ادارے کی ضروریات پوری کریں اور قومی اور مرکزی سطح سے مربوط اور مبسوط بہتری کا ضامن بنائیں۔ پوری قوم درد مندی سے آرزو مند ہے کہ ڈیڑھ عشرے کے تعلیمی حاصلات کو بے ثمر ہونے سے بچایا جائے اور اعلیٰ تعلیم کے سفر میں انتشار، افتراق اور ذاتیات سے اجتناب کیا جائے ۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن قومی اثاثہ ہے اس کو نقصان پہنچانے کی کسی بھی قسم کی کوئی کاوش قابل تعریف نہیں ہو گی، ہم سب کو مل کر آگے بڑھنا ہے۔ صوبائی اور قومی کمیشنوں کو باہمی ہم آہنگی ، ربط و ضبط سے باہم شیر و شکر ہو کر چلنا ہو گا ،اسی میں قوم کے اہم ادارے کی بقاءکا راز پوشیدہ ہے۔ 


اتوار، 18 جنوری، 2015

دانش گاہ گجرات میں نئے عہد کا آغاز



مشہور فلمسازEliseo Subiela'a کی کلاسےک اطالوی فلم "No Mires Para Abajo" یعنی ’حقارت سے مت دیکھو‘ کا اختتام Eloy کے ان تاثرات پر ہوتا ہے کہ ’سب سے اہم بات یہ تھی کہ میرے باپ نے میرا ہاتھ پکڑا او رکہا، اپنی ساری زندگی تم خدا حافظ کہتے رہو گے۔ اسے یوں نہ لینا کہ تم محبت کرنا چھوڑ دو‘۔ اکتوبر 2014کے وسط میں جب جامعہ گجرات کے ہر دلعزیز وائس چانسلر ڈاکٹر محمد نظام الدین کے اعزاز میں منعقدہ الوداعی تقریب ختم ہوئی تو اس کے بعد میں چوہدری اختر وڑائچ، فیصل اقبال، حسن رضا، علی حماد جعفری و دیگر دوست انہیں رخصت کرنے گھر تک گئے تو ہمیں ڈاکٹر نظام الدین نے کچھ ایسی ہی نصیحت کی تھی کہ خدا حافظ اپنی جگہ یونیورسٹی آف گجرات سے محبت جاری رہنی چاہیے۔ خدا حافظ اور خوش آمدید دونوں ناگذیر انسانی خاصے ہیں۔ تاہم جو ناگذیریت پر سوال نہیں اٹھاتے، وہ آغوش کائنات میں تسکین پاتے ہیں۔ خدا حافظ اور خوش آمدید کے بغیر یہ دنیا بھلا کوئی دنیا ہے ۔ اس کے بغیر تو یہ Saramago کی 'Death of Interval' میں متذکرہ دنیا کی طرح ہو گی جو لافانی ہوتے ہوئے بھی تباہی کے دہانے پر موجود ہے ۔ جی ہاں فقط ہیرا کلیٹس کے متقابل”مستقل تغیر پذیری“ کے فلسفے کے بغیر زینو کے ناخوشگوار، غیر ہموار، بدبودار فلسفے کی طرح.... میں گذشتہ ایک ماہ سے خیالات کی ایسی ہی مبہم کشمکش میں مبتلا ہوں۔ کئی دنوں سے فیصل اور حسن رضا اصرار کر رہے ہیں کہ شیخ صاحب ، جامعہ گجرات میں آنے والی نئی روشنی کا تحریری خیر مقدم کریں۔ 
2004ءمیں یونیورسٹی آف گجرات کا قیام عمل میں آیا تو قدرت اس پر مہربان تھی اس نے ابتداءہی سے ڈاکٹر امتیاز احمد چیمہ جیسے ماہر تعلیم کو اس کی قیادت سونپ کر اسے امتیاز بخشاپھر اس جامعہ کو ایک ایسے نظام کی ضرورت محسوس ہوئی جو اس امتیاز کو وجہ ¿ افتخار بنا دے۔ اس کے لیے 2006 ءمیں ڈاکٹر محمد نظام الدین فضل ربی بن کر آئے۔ 2014ءمیں ستارہ ¿ امتیاز کے حقدار ٹھہرنے والے نظام کی تفہیم کے وقت اس جامعہ کی زمام کار ڈاکٹر محمد فہیم ملک کے ہاتھوں میں چلی گئی۔ تفہیم جب تفریق میں بدلنے لگی تو قدرت اس یونیورسٹی پر ایک بار پھر مہربان ٹھہری اور نا امیدی کو امید میں بدلنے کے لیے ضیائے قیوم سے نوازا۔ 
یونیورسٹی آف گجرات کا مین کیمپس مغلیہ عہد کے جس صوفی دانشور حافظ حیات ؑکے نام سے منسوب ہے اس کی روحانی برکت ہی ہے کہ قدرت اس ادارے پر مہربان ہے۔ میرا لگ بھگ ایک عشرے کا تجربہ ہے کہ یہ یونیورسٹی درو دیوار اور اساتذہ و طلبہ کے اجسام کا ہی مجموعہ نہیں ہے ،اس کے جسم میں صوفیانہ علم و دانش کی روح بھی متحرک ہے اور جب جب مشکل پیش آتی ہے روحانی قوتیںاس ادارے کی ترقی کے لیے دیدہ و نادیدہ معاونت کا اہتمام کرتی ہیں اس جامعہ کی حالیہ قیادت کے چناﺅ میں بھی یہ حقیقت پنہاں نظر آتی ہے ۔ ڈاکٹر نظام الدین جیسی حلیم الطبع، وژنری شخصیت کے جانے کے بعد ادارے کے استحکام اور ترقی کے لیے ایسی پائیدار روشنی کی ضرورت تھی ۔ جو مرکز اختصاص فضیلت کی جانب سفر کی راہ کو صالح فکر و عمل سے منور کردے۔ ایسی ہی امید ، تمنا، آرزو اور ارمانوں کا گلدستہ لیے 18 دسمبر 2014 کی صبح ہم نے جواں عزم، خوش فکر اور خوش شکل ڈاکٹر ضیاءالقیوم کا بطور رئیس الجامعہ گجرات استقبال کیا ۔ پہلی ملاقات میں ان کی شخصیت و خیالات متاثر کن لگے۔ نفیس الطبع، خوش لباس ڈاکٹر ضیاءالقیوم کی گفتگو، تہذیب و شائستگی کی اقدار کی مہک لیے ہوئے تھی۔ ان کے الفاظ تصنوع، بناوٹ اور نمائش کی بجائے فکر و تدبر، عزم و حوصلہ اور کچھ کرنے کی لگن کے عکاس تھے ۔ بلا شبہ وہ عالی ظرف شخصیت کے حامل ، دانش گاہ گجرات کی علمی و ادبی اور تدریسی و تحقیقی روایات کے قابل قدر وارث دکھائی دے رہے تھے۔ سخنوروں کی بستی، بہادروں، محب وطنوں اور وفاﺅں کے امین مہمان نواز شہر گجرات میں آمد پر ہم دوستوں نے دل ہی دل میں انہیں خوش آمدید کہا۔ انہیں دیکھا، ان سے ملے تو جامعہ گجرات کے نئے وائس چانسلر کی حیثیت سے ڈاکٹر ضیاءالقیوم کی تعیناتی مثبت تبدیلی کی نئی فضاﺅںکے لیے ڈھارس بندھانے لگی اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے سارے ادارے میں امید کی ایک نئی لہر دوڑ گئی۔ 
ٹی ایس ایلیٹ نے اپنی مشہور نظم East Coker کا آغاز کچھ اس طرح سے کیا ہے کہ "In my beginning is my end"۔ ”یعنی میرے آغاز میں میرا اختتام ہے ۔ اسی طرح کی اور بھی مشہور کہاوتیں ہیں مثلاً ہر آغاز مشکل ہوتا ہے اور "Well begun is half done" ۔ جامعہ گجرات کے نئے وائس چانسلر ڈاکٹر ضیاءالقیوم کی پہلی باقاعدہ سینئر سٹاف میٹنگ میں ان کے فکر انگیز خطاب نے یہ ظاہر کیا کہ وہ باریک بیں سکالر، وژنری منتظم، تجربہ کار استاد، اور دل و دماغ کے امتزاج کی حامل بصیرت اور بصارت رکھنے والے سربراہ ¿ ادارہ اور سنجیدہ فکر ، پاکباز، مزاح کی حس رکھنے والے انسان ہیں۔ ان میں ایسا سب کچھ دکھائی دیتا ہے جو کسی بھی دانش گاہ کے سربراہ میں ہونا چاہیے۔ ایک ماہ کے عرصہ میں انہوں نے دھیمے انداز اور سلجھے مزاج سے جس طرح پھونک پھونک کر وسائل و مسائل کا ادراک حاصل کیا ہے وہ لائق تحسین ہے۔ میں یونیورسٹی آف گجرات کی انتظامیہ، اساتذہ اور طالبعلموں کی جانب سے یونیورسٹی آف گجرات کی باگ ڈور سنبھالنے پر دل کی اتھاہ گہرائیوں سے انہیں خوش آمدید کہتا ہوں۔ ہم سب نئی امنگوں اور توقعات کے ساتھ ان کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ میں یونیورسٹی آف گجرات اور سول سوسائٹی کی جانب سے انہیں بھرپور تعاون کا یقین دلاتا ہوں تاکہ وہ گجرات یونیورسٹی کو عالمی معیار کی یونیورسٹی بنانے کا فریضہ احسن طریقے سے سر انجام دے سکیں اور اس ادارے کو استحکام بخش کر قومی تقاضوں سے ہم آہنگ اعلیٰ تعلیم کا مرکز بنا سکیں۔ اس موقع پر یہ بات دہرانے میں بھی کوئی عار نہیں کہ اس جامعہ نے تحقیقی، تخلیقی اور جدت طرازی میں اپنا لوہا منوایا ہے۔ایک عشرے سے کم عرصے میں یہ جامعہ ملک کی ممتاز جامعات کی صف میں شامل ہو چکی ہے ۔ 20 ہزار سے زیادہ طالبعلموں کی حامل درس گاہ کے زیر انتظام 38 تعلیمی شعبے کام کر رہے ہیں۔ اس کا اپنا شاندار بنیادی ڈھانچہ ، چار رکن کالج، مختلف شہروں میں چار ذیلی کیمپس او رایک سو کے لگ بھگ ملحقہ کالجز ہیں۔ 43 کمپیوٹر لیبز، 57 سائنس لیبارٹریز اور بڑی مرکزی لائبریری بھی نمایاں ہیں۔ اس جامعہ نے کمیونٹی ڈویلپمنٹ کے ضمن میں ثقافتی ، تہذیبی، مذہبی ، فنی اور ادبی میدانوں میں سول سوسائٹی کے ساتھ مل کر مکالمے اور اجتہادی فکر کو خوب فروغ دیا ہے ۔ ایک سو کے قریب عالمی اور قومی کانفرنسوں، ورکشاپس، سیمینارز اور سمپوزیم کی میزبانی کی۔ تعلیم و ترقی کے اس قابل فخر حاصل کے باوجود مجھے رابرٹ براﺅننگ کی نظم "Rabbi Bin Ezra" کی آفاقی سطور یاد آرہی ہیں کہ "Grow old along with me! The best is yet to be" جی ہاں جو بہتر ہے وہ ابھی آنا ہے ۔ جامعہ گجرات اللہ کے فضل و کرم سے ایک ایسے مقام پر پہنچ چکی ہے جہاں ایک بہترین لائحہ عمل مرتب کر کے ،علمی مواد کو دستاویزی شکل دے کر ،نظم و ضبط کے قوانین کی نوک پلک سنوار کے نئی منزلوں کی طرف آگے بڑھ سکتی ہے ۔ پیشہ وارانہ ترقی او رنشوونما کے لیے مقابلے بازی کا رجحان پیدا کر کے عظمتوں کو اور زیادہ یقینی بنا سکتے ہیں۔ بلاشبہ بہترین طرز عمل، اخلاقی تربیت اور پیشہ وارانہ اخلاقیات کے فروغ سے ہم اپنی سر بلندی کا ہدف اور زیادہ شاندار طریقے سے حاصل کر سکتے ہیں ۔ انڈسٹری اور اکڈیمیا لنکجز کو ثمر آور بنا کر قومی معیشت و معاشرت میں حصہ ڈال سکتے ہیں۔ جامعہ گجرات کی انتظامیہ نے بنیادی ڈھانچہ قائم کیا اور متحرک علمی و تحقیقی عظمت کو فروغ دینے کا مقصد طالبعلموں کی علمی و فکری مہارت و تربیت سے حاصل کیا ۔ اس نصب العین کا فریضہ اب ایک درد مند دل رکھنے والے محب وطن استاد اور باصلاحیت منتظم کو سونپ دیا گیا ہے ۔ ٹی ایس ایلیٹ کی فلسفیانہ نظم "Brunt Norton" کی سطور میری بات کی تشریح کے لیے ضروری ہیں کہ ”حال اور ماضی دونوں ہی مستقبل میں موجود ہیں اور مستقبل ماضی میں پنہاں ہیں ۔ 
اس تناظر میں ڈاکٹر ضیاءالقیوم صاحب نے ایک بڑے میدان میں پاﺅں رکھے ہیں جو ان کے لیے بڑا چیلنج ہے تاہم ایک متحرک شخصیت کے مالک جانشین کے طور پر ان کی صلاحیتیں ایسی ہیں کہ وہ مشکلات کا حل تلاش کر سکیں گے۔ ان کی راہنمائی میں ہمارا ادارہ مستحکم سے مستحکم ہوتا جائے گا ۔ مجھے یقین ہے کہ خلوص نیت اور فضل ربی کے حامل ڈاکٹر ضیاءالقیوم کی قیادت میں یونیورسٹی آف گجرات کی علمی روایات مزید مضبوط ہوتی جائیں گی اور نئی اقدار پرانی اقدار سے جڑی رہیں گی اور ارتقاءتسلسل کا حامل ہو گا ۔ ہم سب پر امید ہیںکہ نئے وائس چانسلر صاحب کی دیانت ، صداقت ، میرٹ اور انصاف کے واضح تصور پر مبنی قیادت سے نئی راہوں او رمنزلوں کی تسخیر ہو گی اور پیشہ وارانہ عظمتوں کا حصول ممکن ہو سکے گا ۔ جامعہ کے قابل اعتماد سربراہ یقیناً یونیورسٹی کی ترقی اور سربلندی کے عمل کو تیز کرنے کے لیے حقیقت پسندانہ عملیت کا راستہ اپنائیں گے ۔ قوی امید ہے کہ ڈاکٹر ضیاءالقیوم صاحب کی ملنسار بردباری انکی ہمدردانہ فطرت، مسائل کو حل کرنے والے مزاج اور ترقی کے تصور پر مبنی فکر و عمل سے یونیورسٹی میں کام کرنے والوں کے درمیان پر جوش تعلق جنم لے گا اور کام کرنے اور کارکردگی دکھانے والا ماحول پیدا ہو گا یعنی ایک ایسا ماحول جس میں ہر کوئی اس مادر علمی کی بلندی اور عظمت میں اپنا بھرپور کردار ادا کرے گا۔ اس ادارہ نے ابھی طویل مسافت طے کرنی ہے اور یہ سفر ضیائے قیوم کی موجودگی میں آساں سے آساں تر ہو جائے گا۔ میں ڈاکٹر ضیاءالقیوم کا خطہ یونان کی شہرت رکھنے والے شہر گجرات میں خیر مقدم کرتے ہوئے کہنا چاہوں گا کہ کا رلائل نے اپنی تحریر 'Past and Present' میں کہا ہے کہ :۔ 
رحمت ہوئی اس شخص پر جسے اپنا کام مل گیا 
اسے چاہیے کہ وہ پھر کسی اور نعمت کا تقاضا نہ کرے 
ایک انگریز شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ :۔ 
Work apace, apace, apace
Honest labour bears a lovely face