‏Sheikh Abdul Rashid لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏Sheikh Abdul Rashid لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

پیر، 18 مارچ، 2019

قرآنی انسائیکلو پیڈیا: ایک جائزہ


علامہ ڈاکٹر طاہر القادری کا مجموعہ مضامین قرآن”قرآنی انسائیکلو پیڈیا“ شائع ہوا تو بارسلونا سپین میں مقیم منہاج القرآن کے راہنما اسد اقبال قادری نے یہ تحفہ مجھے بھجوایا۔میں اس بابرکت تحفہ پر ان کا شکر گذار ہوں۔ میرا یقین ہے کہ قرآن حکیم انسانوں کے لیے خدا کی ابدی راہنمائی اور تعارفِ خدا ہونے کے ساتھ انسانیت کا دستورِ حیات اور قانونِ فطرت ہے۔ آیات قرآنی کا اعجاز ہے کہ ان میں باربار تفکر و تدبر نئے نئے معنی و مفاہیم سامنے لے کر آتاہے۔ قرآن حکیم نے ہر دور میں لوگوں کے بند ذہنوں کو کھولا ہے۔ قرآن نے تقلید ی فکر کی بجائے اجتہادی فکر پیدا کی ہے۔ آج بھی عالمی فکر ی تحریک پر قرآن کی گہری چھاپ ہے۔ حقیقت میں قرآن کو شامل کیے بغیر انسانیت کے فکری سفر اور اسکے ارتقاء کی تاریخ کو سمجھا نہیں جا سکتا۔ اس ضمن میں علامہ طاہر القادری ایسے خوش نصیب ہیں کہ مالک کائنات نے انہیں قرآن مجید سے عوام و خواص کو مستفید کرنے کے لیے چن لیا ہے۔ باشبہ ڈاکٹر طاہر القادری کا شمار عالم اسلام کی نمایاں ترین شخصیات میں ہوتا ہے اور ان کے علمی و قلمی کارنامے اہل علم سے ہرگز پوشیدہ نہیں۔ کم و بیش ساڑھے پانچ سو کتابو ں کا مصنف ہونے کے ساتھ ساتھ ان کی تحریروں میں روایت اور جدت کا حسین امتزاج پایا جاتا ہے۔ وہ قدیم علماء کے علوم سے نہ صرف واقف ہیں بلکہ ان میں ید ِ طولیٰ رکھتے ہیں اور اسکے ساتھ ساتھ علومِ جدید سے آگاہی اور روح عصر کی آگہی میں بھی اپنے ہم عصروں سے کسی طور پیچھے نہیں۔ 
جناب علامہ ڈاکٹر طاہر القادری صاحب نے علم حدیث، ترجمہ و تفسیرِ قرآن، اسلامی قانون، سماجیات، اسلام کے سیاسی اور معاشی نظام، تصوف اور تہذیبِ اخلاق پر شاندار کتابیں لکھیں ہیں تاہم انہوں نے اپنی تمام علمی وذہنی توانائیوں اور فکری و قلمی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر ایسا شاندار کام کیا ہے جس نے انہیں لازوال شہرت و احترام سے نوازا ہے۔ ان کا یہ تازہ کارنامہ ”قرآنی انسائیکلوپیڈیا“ کئی اعتبار سے ان کے سابقہ علمی کاموں کا تسلسل بھی ہے اور بعض حوالوں سے ان کے پہلے کاموں پر فائق بھی ہے۔ 
قرآن تمام انسانوں اور تمام قوموں کی کتاب ہے، خدا کا کامل پیغام اور ہدایت کی روشنی ہے۔ قرآن محض ایک آسمانی کتاب نہیں بلکہ یہ بیت سی آسمانی کتابوں کے درمیان واحد لاریب کتاب ہے۔ فرقان مجید سب کی طرف خدا کی طرف سے بھیجی ہوئی کتاب ہے یہ آسمانی کتابوں کا مستند ترین ایڈیشن ہے۔ کسی بھی کتاب کی اہمیت اس کے موضوع اور اس سے متعلق بیان کردہ مضامین،مطالب اور مشمولات سے ہوتاہے۔ 

موضوعات قرآن پر کام اسلامی تاریخ کی اہم ترین سرگرمیوں میں سے ایک ہے۔ امام جلال الدین سیوطی کی ”الاتقان فی علوم القرآن“ جو کہ خود مناہل العرفان کی تفصیل ہے۔ اس سے لے کر آج تک موضوعات قرآن کی فہرست بندی ایک اہم علمی سرگرمی رہی ہے۔ قرآن مجید چونکہ ایک کتاب زندہ ہے جو لازوال حکمتوں کا خزانہ ہے اس پر کام کرنا ایک وسیع علمی وفکری تناظر کا تقاضا کرتا ہے۔ معتقدمین نے قرآنی موضوعات پر کئی جہتوں سے کام کیا ہے، لیکن بنیادی حوالے اس اعتبار سے دو ہی ہیں۔ ایک حوالہ قرآن مجید کو      ” تبیان لکل شی ً ‘‘ یعنی ہر چیز کا بیان سمجھ کر قرآن کے موضوعات کی وسعت اور تنوع پر بات کرنا ہے اور دوسرا حوالہ ہے ”ھدی للناس“ یعنی نوع انسانی کے لیے ہدایت سمجھ کر اس کا اس جہت ہدایت کی روشنی میں مطالعہ کرنا ہے۔ 
حضرت شاہ ولی اللہ نے ھدی للناس کو بنیاد بناتے ہوئے قرآنی مضامین کو علوم پنجگانہ کی تقسیم کے تحت بیان کیا ہے۔ ان پانچ علوم میں پہلا۔ علم الاحکام یعنی قرآنی احکامات کی معرفت ہے۔ دوسرا۔ علم المخاصہ یعنی تقابل ادیان۔ تیسرا۔ علم التذکیر بالاا للہ یعنی اللہ کے تخلیقی و صف کے تناظر میں۔چوتھا۔ علم التذکیر بایام اللہ یعنی اقوام کے تاریخی احوال اور پانچواں۔ علم التذکیر بالموت و ما بعدہ یعنی موت اور اسکے مابعد کے حوالے سے جانچنا۔ 
اس اعتبار سے قرآن بنیادی طور پر کتاب ہدایت ہے اور باقی تمام علوم جس کی طرف قرآن پاک میں اشارے ملتے ہیں وہ ثانوی نوعیت کے ہیں۔ اس کے برعکس اگر قرآن کو تمام علوم کی جامع کتاب کے طور پر لیا جائے تو تمام علوم کی اصل قرآن حکیم میں پائی جاتی ہے۔ اس پہلوسے کام کرنے والوں نے قرآن کا موضوعاتی مطالعہ جدید و قدیم کی مناسبت سے کیا ہے۔ اس تناظر میں سے بہت ساری تفاسیر میں موضوعاتی انڈیکس دیے گئے ہیں۔مثال کے طور پر پیر محمد کرم شاہ الازھری صاحب کی تفسیر ”ضیاء القرآن“  کی ہر جلد کے اختتام پر ایک موضوعاتی انڈیکس دیا گیا ہے جو جدید و قدیم متنوع موضوعات پر آیات کی نشاندہی کرتا ہے۔ 
ایک اور سلوب جو قرآنی موضوعات کی تفصیل کا مطالعہ کرتا ہے معجم کی شکل میں موجود ہے۔ جرمن مستشرق فلو جل اور بعد ازاں فواد عبدالباقی کی ”معجم المفہرس“۔ ایک بہت بڑا اور وقیع کام ہے۔ اسی طرح عربی زبان میں ماضی قریب میں صبحی عبدالرؤف عصر کی کتاب ”المعجم الموضوعی الایآت القرآن الکریم۔“ جو832صفحات پر مشتمل ہے۔ یہ ایک عمدہ علمی کام ہے۔ یہ کتاب 2008میں شائع ہوئی۔ 
جناب ڈاکٹر طاہر القادری صاحب کا قرآنی انسائیکلو پیڈیا اس اعتبار سے منفرد ہے کہ اس میں فواد الباقی اور صبحی عبدالروف عصر کے اسلوب کا امتزاج ہے۔ پہلی پانچ جلدیں صُبحی عبدالروف کے اسلوب میں قرآن کا موضوعاتی انڈیکس ہیں جن میں آیات بمعہ ترجمہ دی گئی ہیں۔ صبحی عبدالروف کا کام عربی میں ہے اس لیے ان کے ساتھ ترجمہ نہیں ہے۔ قرآنی انسائیکلو پیڈیا کی آخری تین جلدوں میں فواد الباقی کی معجم المفہرس کے اسلوب میں قرآنی الفاظ کا جامع اشاریہ پیش کیا گیاہے۔ اس میں اضافہ یہ ہے کہ الفاظ اور آیات کا ترجمہ بھی دیا گیا ہے جس سے یہ قرآنی انسائیکلو پیڈیا اردو پڑھنے والے طبقہ کے لیے ایک عظیم علمی اثاثہ بن گیا ہے۔ 
قرآن انسائیکلو پیڈیا کے عنوان سے جو کتابیں انگریزی زبان میں لکھی گئی ہیں ان میں ادیان کی ممتاز سکالر محترمہJ.D McAuliffe(جے ڈی میکالف) کا مدون کردہ قرآن انسائیکلو پیڈیا3956صفحات پر مشتمل ہے جسے دنیا کے قدیم اور مستند پبلشر برل لیڈن نے شائع کیا ہے۔ اس انگریزی انسائیکلو پیڈیا آف قرآن میں قرآن مجید سے متعلق لاتعداد مباحث ہیں لیکن یہ قرآنی مضامین و موضوعات کا انسائیکلو پیڈیانہیں ہے۔
محترم علامہ طاہر القادری کا ترتیب دیا ہوا قرآنی انسائیکلو پیڈیا موضوعات کے تنوع، تفصیل و تقسیم کے اعتبار سے منفرد ہے۔ اس کا مختصر تقابلی مطالعہ صبحی عبدالروف عصر کے المعجم الموضوعی سے کیا جائے تو اس کی تفصیل اور تنوع کی انفرادیت اور نمایاں ہو جاتی ہے۔ صبحی عبدالروف نے اپنے موضوعات کو تین بنیادی عنوانات میں تقسیم کیا ہے۔ اورکان ایمان و اسلام کے تحت9ذیلی موضوعات ہیں۔    تقویٰ کے تحت 101ذیلی موضوعات، کفر وفجور کے تحت126ذیلی عنوانات ہیں۔ گویا صبحی عبدالروف نے اپنے موضوعات کو ”ھدی للناس“ کے تناظر میں ترتیب دیا ہے۔ 
جبکہ جناب علامہ طاہر القادری کے قرآنی انسائیکلو پیڈیا کی جلد اوّل۔ ایمان بالاللہ کے متعلقات پر مشتمل ہے۔ جلد دوئم میں شرکت اور ایمان بالکتب، ملائکہ، تقدیر اور آخرت پر ایمان کے موضوعات ہیں۔ جلد سوئم احوال ِقیامت، عبادتِ و معاملات، حقوق و فرائض اور سائنس و ٹیکنالوجی کے موضوعات پر مشتمل ہے۔ جلد چہارم میں امن، محبت، عدم تشدد، غیر مسلموں سے حُسن سلوک اور انبیاء کے واقعات کے عنوانات ہیں۔ پانچویں جلد میں حکومت و سیاسی نظام، نظام عدل، معاشیات اور جہاد جیسے موضوعات کی تفصیل ہے۔اگرتفصیل اور تنوع کے نقطہئ نظر سے دیکھا جائے تو ایمان بالاللہ کے291ذیلی موضوعات ہیں۔ ایمان بالرسالت کے 135ذیلی موضوعات ہیں اور ایمان بالاکتب کے252ذیلی موضوعات ہیں۔ مکمل تفصیل قرآنی انسائیکلو پیڈیا کی فہرست میں دیکھی جا سکتی ہے جو مجموعی طور پر پانچ ہزار عنوانات پر مشتمل ہے۔ صرف موضوعاتی فہرست 400صفحات پر مشتمل ہے۔ اسی سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ علامہ ڈاکٹر طاہر القادری صاحب نے جدید و قدیم، مذہبی، سیاسی، اقتصادی، فکری، علمی، سائنسی، فلسفیانہ تمام پہلوؤں کے حوالے سے قرآنی آیات کی ترتیب موضوعی بیان کی ہے۔ گویا علامہ صاحب اسے ” تبیان لکل شی ً “ کے اعتبار سے دیکھ ر ہے ہیں۔ موضوعات کی وسعت اور تفصیل ڈاکٹر صاحب کے وسیع علمی وفکری پھیلاؤ کی نشاندہی کرتی ہے اور قرآن پاک کا مطالعہ اور اس حوالے سے تحقیق کرنے والوں کے لیے یہ قرآنی انسائیکلو پیڈیا ایک انتہائی مفید ذریعہ معلومات ہے۔ 
بعض اوقات کہیں کہیں تکرار کا گمان ہوتا ہے لیکن متن قرآن کا تکرار باعث برکت بھی ہے اور فکر و نظر کے دریچے وا کرتا ہے۔بعض مقامات پر سائنسی و سیاسی موضوعات اور کئی دیگر عنوانات میں تبصرے کی گنجائش ہو سکتی ہے اور اہل علم و نظر اس پر تبصرہ کرتے رہیں گے لیکن بلاشبہ یہ ایک قابل تحسین علمی سرگرمی ہے جو اس میدان میں نئے امکانات ی نشاندہی کرے گی۔ لیکن کوئی بھی تبصرہ اور تنقید اس عظیم علمی کاوش کی اہمیت کا انکار نہیں کر سکے گی۔ اس کارِخیر پر جناب علامہ ڈاکٹر طاہر القادری صاحب قلبی تحسین اور مبارکباد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے روح عصر کے تقاضوں سے ہم آہنگ قرآن کے علوم کی یہ خدمت سرانجام دی ہے۔اللہ کریم ان کا علمی سفر جاری و ساری کھے اور انہیں جزائے خیر عطا فرمائے۔۔۔آمین

بدھ، 29 جون، 2016

”تاریخ لکھنوال“مختصر جائزہ




افریقی نژاد، برطانوی سیاہ فام سیاسی راہنما و صحافی مارکوس گیروے نے کہا تھا کہ:  
"A people without the knowledge  of their past 
history, origin and culture is like a tree without roots."
بلا شبہ تاریخ سماج کی اجتماعی یاداشت کا دوسرا نام ہے، اگر کسی قوم کو اس کی تاریخ سے نا آشنا رکھا جائے تو وہ اپنی شناخت سے بھی محروم رہتی ہے۔ ہر قوم، ملک، شہر، قصبوں، دیہاتوں، بستیوں اور آبادیوں کی اپنی ایک تاریخ ہوتی ہے۔ شہروں اور دیہاتوں میں واقع آثار قدیمہ، کھنڈرات، خستہ و شکستہ در و دیوار، گلیاں اور خانقاہیں سب اہم تاریخی مآخذ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ پاکستان بھی تا حال دیہاتوں کا ملک ہے، دیہات آج بھی ہماری تاریخ کی زندہ اور متحرک دستاویز ہیں لیکن اسے بدقسمتی کے سوا کیا کہیے کہ ہمارے ہاں علاقوں، دیہاتوں،لوگوں اور ان کی تاریخ کی طرف کسی کا دھیان ہی نہیں۔ قومی بے حسی کا دردناک اور عبرتناک پہلو یہ ہے کہ ہمارے لوگ اور دیہات کبھی سرکاری و غیر سرکاری توجہ کا مرکز رہے ہی نہیں۔ آپ وطن عزیز کے کسی گاؤں یا علاقے میں چلے جائیے، ہمارا تاریخی ورثہ سسک سسک کر ہماری اجتماعی غفلت کا نوحہ کہتا نظر آئے گا۔ حکمرانوں کو تو چھوڑیئے، ہمارے پروفیشنل مؤرخین کوبھی اس جانب توجہ کی توفیق نہیں ہوئی .اس عدم توجہ کا نتیجہ ہے کہ ہماری تاریخ و ثقافت کا بہت کچھ اوراق پارینہ بن چکا اور بہت کچھ مٹتا جا رہاہے یا پھر مٹایا جا رہا ہے؟ یہ سب کچھ ہمارے سامنے ہو رہا ہے، لیکن اس پر ہم میں سے کسی کی رگِ حمیت نہیں پھڑکتی۔ ہماری تاریخ مر رہی ہے ,اسے صرف ایک ہی صورت میں زندہ رکھا جا سکتا ہے کہ کوئی زندہ دل اس کی طرف متوجہ ہو، اور اسے قلمبند کر دے اور یہ عوامی اور دیہاتی تاریخ تصنیف و تالیف کی شکل میں منتقل ہو کر کتابی صورت میں سامنے آئے اور آنے والوں کے لیے محفوظ ہو جائے۔ ہماری حالت امریکی ناول نگار Chuck Palahniuk کے لفظوں میں کچھ یوں ہے کہ:
"We will be remembered more for what 
we destroy than what we create."
ایسے گھمبیر حالات میں جب ہمارے محققین و مؤرخین کے موضوعات صرف روزگار کی بہتری اور جلد شہرت کے لیے محدود اور مخصوص ہو کر رہ گئے ہیں صرف کوئی دیوانہ ہی دیہاتوں کی تاریخ کی طرف توجہ دے سکتا ہے۔ ویسے بھی پہلے مرحلے پر دیہاتوں میں بکھری پڑی تہذیب و تاریخ کو دیکھنے، سمجھنے اور لکھنے کے لیے ڈگری سے زیادہ بڑی شرط اسکی اہمیت کی ”بصیرت“ کا موجود ہونا ہے جو صرف عشق والوں میں ہی ہو سکتی ہے۔ گجرات کے تاریخی گاؤں اسلام گڑھ سے تعلق رکھنے والے رائے فصیح اللہ جرال علاقائی تاریخ سے محبت کرنے والے نوجوان ہیں۔ ادب، قلمکاروں اور قلمی نسخہ جات سے فصیح کو بچپن سے ہی عشق ہے، اسی نسبت سے انہیں تاریخ میں بھی دلچسپی پیدا ہوئی۔ وہ مآخذوں اور کتابوں سے تاریخ پڑھنے کے ساتھ ”بیانیہ تاریخ“ کے علمبردار اور مبلغ بھی ہیں اور بزرگوں کے سینوں میں مدفون تاریخ کو کھنگالنے کے  شوقین بھی۔ گجرات اور نواح کی علمی، ادبی اورصوفیانہ تاریخ کے حوالے سے ان کے مضامین اخبارات، ادبی جرائد اور تحقیقی جرنلز میں شائع ہوتے رہتے ہیں۔ گذشتہ دنوں ان کی مختصر کتاب یا کتابچہ ”تاریخ لکھنوال“ کے عنوان سے پاک کشمیر لائبریری اینڈ ریسرچ سنٹر اسلام گڑھ(جلالپورجٹاں) ضلع گجرات نے شائع کیا ہے۔ لکھنوال ضلع گجرات کا تاریخی گاؤں ہے اور اپنی تاریخی و ثقافتی جہتوں کی وجہ سے ملک بھر میں خاص شناخت کا حامل ہے۔ اسی صفحات پر مشتمل اس کتابچے میں پہلے سولہ صفحات کتابچے اور قلمکار کے تعارف پر مشتمل ہیں۔ اگلے 74 صفحات کو چار ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلا باب گجرات کی تاریخ کے حوالے سے لکھی جانے والی کتب میں درج لکھنوال کے احوال پر مبنی ہے جن میں 1849ء میں شائع ہونے والی گنیش داس وڈیرہ کی فارسی کتاب ”چہار باغ“، 1868 میں چھپنے والی مرزا محمد اعظم کی ”تواریخ گجرات“،  1977 میں منظر عام پر آنے والی شیخ کرامت اللہ کی کتاب ”آئینہ گجرات“ جلد اول، سمیت ایلیٹ کی دی کرانیکلز آف گجرات، اسحاق آشفتہ کی ”گجرات کی بات“                       ، ڈاکٹر احمد حسین قریشی قلعہ داری کی تاریخ ”ضلع گجرات“، ایم زمان کھوکھر کی ”گجرات کی روحانی شخصیات اور تباہ شدہ بستیاں“ اور یونیورسٹی آف گجرات کے شعبہئ تصنیف و تالیف کا شائع کردہ ”گجرات پیڈیا“ شامل ہیں۔فصیح جرال نے محنت کے ساتھ ان کتب میں سے تاریخ لکھنوال کے تذکرے و حوالے کو جمع کر کے اکٹھا کر دیا ہے اور پھر مقامی لوگوں سے انٹرویوز ”ملٹری گزٹ“ اور ریاست جموں و کشمیر کی تاریخ کی رپورٹوں میں سے لکھنوال کے سلہری خاندان کی بازگشت بھی رقم کی ہے اور ان حوالوں کے تناظر میں اپنی رائے کا برملا اظہار بھی کیا ہے۔ اسی باب کا ذیلی عنوان 1947ء سے قبل کا لکھنوال ہے۔ اس میں لکھنوال کے تاریخی مقامات، واقعات اور نمایاں ہندو مسلم شخصیات کا ذکر کیا گیا ہے۔ دیوان لچھمن داس صوبتی کی بیٹی کی شادی کا والہانہ تذکرہ بھی ہے۔ اور پھر عالمی ریاضی بورڈ کے سابق چیئرمین پروفیسر سائیں داس ہانڈہ، پنجاب یونیورسٹی کے سابق استاد شعبہئ تاریخ پروفیسر گنپت، حکیم تارا چند صوبتی کا بھی ذکر بھی موجود ہے۔ تقسیم ہند سے قبل لکھنوال میں ہندوؤں اور سکھوں کی بڑی تعداد رہائش پذیر تھی ان کی مقدس عبادت گاہوں کو بھی قابل ذکر سمجھا گیا ہے۔ باب دوئم میں قیام پاکستان سے قبل کی مسلم شخصیات اور اس دور کے واقعات رقم ہیں۔ امیر شاہ بگا سلطان سچیاری نوشاہی قادری اور ان کے مزار کا احوال، انیسویں صدی کے ممتاز ماہر تعلیم اور اس وقت کے انسپکٹر سکولز آف ضلع خوشاب چوہدری رحمت خاں وڑائچ، چوہدری علی بخش اور محترمہ غلام فاطمہ اور باکمال استاد چوہدری فیض سرور سلطان کا ذکر ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ ممتاز تجزیہ نگار، اینکر اور صحافی محترم سہیل وڑائچ بھی اسی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ چوہدری رحمت خان سہیل وڑائچ کے نانا تھے۔ چوہدری علی بخش اور محترمہ غلام فاطمہ ان کے دادا، دادی اور چوہدری فیض سرور سلطان ان کے والد تھے۔ لکھنوال طوائفوں کا گاؤں بھی کہلاتا ہے۔ فن موسیقی او راداکاری کے حوالے سے بھی بڑے بڑے نام اس گاؤں کے باسی تھے۔ کسی زمانے میں سُر سنگیت کے حوالے سے یہاں کی ’بلو‘ اور’تلو‘ نے خوب نام کمایا۔ پنوں اللہ وسائی، لکھی سردار بھی آوازوں کی ملکہ تھیں۔ پاکستان کی فلم انڈسٹری کو بھی اس گاؤں نے نامور لوگ دیئے ادادکارہ ممتاز، تصور خانم، گلوکار خلیل حیدر، سہیل رانا، ٹرپل ایس سسٹرزکا تعلق بھی اسی گاؤں سے تھا۔ تیسرے باب میں بھی متفرق شخصیات، واقعات اور تاریخ ہی کا بیان ہے۔ ممتاز ماہر تعلیم پروفیسر خورشید عالم بھٹی، خاکسار راہنما ظفر علی بھٹی، امام الدین سیالوی، مولوی محمد علی سمیت کئی نام درج ہیں۔ چوتھے باب میں روحانی شخصیات حضرت امیر شاہ سلطان، خواجہ محمد امام الدین گجراتی، خواجہ غلام فرید گجراتی، حضرت محمد گہنے خاں، پیر برہان الدین سہروردی کا تفصیلی تذکرہ ہے اور آخر میں مآخذوں اور کتب کی فہرست ہے۔ مجموعی طور پر معلوماتی کتابچہ ہے۔ 
تاہم اس مختصر کتاب کے مطالعے کے بعد تشفی نہیں ہوتی بلکہ تشنگی بڑھتی ہے۔ یہ احساس بھی پیدا ہوتا ہے کہ یہ کتاب بہت جلد بازی میں شائع کی گئی ہے۔ جمع شدہ مواد کو بھی مزید بہتر انداز میں پیش کیا جا سکتا تھا اور پھر لکھنوال کا نام سنتے ہی جن موضوعات سے دلچسپی پیدا ہوتی ہے ان کا تذکرہ بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس کتاب میں لکھنوال کی فنی اور ثقافتی جھلک نظر نہیں آتی۔ لکھنوال کے باسیوں کے امتیازی رہن سہن، رسوم و رواج، تعمیر و تزئین، عمارتوں، گلیوں، حویلیوں اور بالکونیوں اور ان کے ذریعے پنپنے والی ثقافت کے حوالے سے مزید کام کرنے اور لکھنے کی ضرورت تھی۔ فصیح جیسے جواں عزم سے ہی توقع کی جا سکتی ہے کہ اس کی کتاب کا دوسرا ایڈیشن مطلوبہ اضافوں کے ساتھ ہو گا۔ لکھنے کے لیے ضروری ہے کہ ماضی کو کریدنے کے ساتھ اسے سمجھ کر جہاں تک قدرت حاصل ہو سچائی کی روشنی میں لکھا جائے۔ رائے فصیح جرال اس کام پر مبارکباد کے مستحق ہیں اور ہمارا فریضہ ہے کہ ہم اس کے کام میں سے کیڑے نکالنے کی بجائے اس کی بھرپور حوصلہ افزائی کریں تاکہ یہ باہمت اور جذبے کا حامل لکھاری بہتر سے بہتر لکھتا جائے۔ فصیح جرال کو علاقے کی تاریخ سے عشق ہے اور وہ جذبے سے کام کرتا ہے۔ تھپکی اس لیے بھی ضروری ہے کہ جذبے کا حامل لکھاری ہی کچھ لکھ سکتا ہے۔ بیانیہ تاریخ کے حوالے سے مستند لکھاری برطانوی مؤرخہ اور تاریخ کی استاد  C.V Wedgwood درست کہتی ہیں کہ: 
"Without passion there might be no error, 
but without passion there would certainly 
be no history."


بدھ، 4 مئی، 2016

جمہوری وفاقیت کے استحکام میں اٹھارویں آئینی ترمیم کا کردار اور امکانات

جمہوری وفاقیت کے استحکام میں اٹھارویں آئینی ترمیم 
کا کردار اور امکانات 


ممتاز ماہر سیاسیات ہیرالڈ لاسکی کا ایک مضمون"The Obsolescence of Federalism"   ء میں شائع ہوا جس میں اس نے اعلان کیا تھا کہ ”وفاقیت کا عہد اپنے اختتام کو پہنچا“ اور نشاندہی کی کہ وفاقی حکومت اپنی روایتی ہیئت،وظائف کی حد بندی، غیر لچک پذیری اور فطری قدامت پسندی کے باعث زندگی کی اس رفتار کا ساتھ نہیں دے سکتی جسے سرمایہ داری جیسے دیو قامت نظام نے پروان چڑھایا ہے لہذا اب غیر مرکزیت والی واحدانی حکومت بیسویں صدی کے درمیان کے حالات کے لیے زیادہ موزوں ہے۔ اس کے باوجود وہ مسائل جو وفاقیت کے لیے الجھن کا باعث ہیں اور وہ مسائل جو وفاقی نظام میں از خود موجود ہیں، انہیں جاننے کے باوجود دنیا نے وفاقی نظام کو نہ صرف زندہ رکھا ہے بلکہ اس نے ترقی پذیر ملکوں میں مقبولیت بھی حاصل کی ہے۔ 
آج بھی دنیا کی آبادی کا چالیس فیصد حصہ وفاقی ممالک میں رہتا ہے وفاقی نظام ہائے حکومت کے حامل 28 ممالک میں حیرت انگیز کثیر جہتی پائی جاتی ہے ان میں نہ صرف دنیا کے متمول ترین ممالک جیسا کہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ بلکہ مائکرونیشیا اور سینٹ کٹس اور نیوس جیسی مختصر جزیریاتی ریاستیں بھی شامل ہیں۔ دنیا کے دس گنجان ترین ممالک میں سے چھ اور رقبے کے اعتبار سے دس بڑے ممالک میں سے آٹھ وفاقی ہیں۔سر آئیور جیننگز نے کہا تھا کہ ”کوئی بھی وفاقی نظام نظام کو نہ اپناتا، اگر وہ اس سے صرفِ نظر نہیں کر سکتا“۔ دنیا میں اس وقت وفاقیت ہی بڑھتی ہوئی مقبولیت حاصل نہیں کر رہی بلکہ اس کے مآخذوں، بنیادوں اور خصوصیات کو سمجھنا بھی اہم گیا ہے۔ 
پاکستان بھی ایک وفاقی ملک ہے، کہا جاتا ہے کہ پاکستان میں وفاقی نظام اچھے طریقے سے کام نہیں کر سکا کیونکہ مرکز گریز قوتوں اور مرکز مائل قوتوں میں توازن نہیں رہا۔ یہاں نظام اور مزاج کا رجحان مرکزیت کی طرف تھا جس سے و فاقی اور علاقائی عدم توازن پیدا ہوا۔ اس کے باوجود اٹھارویں آئینی ترمیم اس سفر میں اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے اور اس کی کوکھ سے جمہوری اور شراکتی وفاقیت کے استحکام کے نئے امکانات روشن ہوئے ہیں۔ لیونگسٹن نے عمرانی نقطعہئ نظر سے وفاقیت کی تشریح کرتے ہوئے کہا تھا کہ وفاقیت کی اصل روح اس کی دستوری اور اداراتی ساخت میں نہیں بلکہ خود معاشرے میں موجود ہوتی ہے۔ وفاقی حکومتیں اور وفاقی دساتیر کچھ محرکات کے جواب میں وجود میں آتے ہیں، چنانچہ یہ نظام شعوری طور پر اختیار کیا جاتا ہے تاکہ وہ ان مسائل کو حل کر سکے جو ان محرکات کے ترجمان اور نمائندہ ہوتے ہیں۔پاکستان میں جمہوری وفاقیت کو شعوری طور پر اپنانے اور اس کے فروغ کے لیے علمی مکالمہ ناگذیر ہے۔اس حوالے سے پاکستان کی نامور جامعہ گجرات اپنے کردار کے حوالے سے قومی دانش گاہ کا کردار ادا کرتی نظر آرہی ہے۔ حسب روایت حساس آئینی اور اہم قومی مسئلے سے نسل نو کو آگاہ کرنے کے لیے یونیورسٹی آف گجرات کی وژنری اور محب وطن قیادت نے خصوصی لیکچر کا اہتمام کیا۔ شعبہ ئسیاسیات و بین الاقوامی تعلقات کے زیر اہتمام تقریب میں قائداعظم محمد علی جناح کے اے ڈی سی میاں عطاء ربانی کے دانشور صاحبزادے وفاق کے نمائندہ ادارے سینٹ کے چیئرمین میاں رضا ربانی کو موضوع پر گفتگو کے لیے مدعو کیا سابق وفاقی وزیر اطلاعات چوہدری قمر زمان کائرہ، ایم پی اے میجر معین نواز اور چوہدری شبیر احمد،ڈی سی او لیاقت علی چٹھہ بھی ان کے ہمراہ تھے۔ علم دوست وائس چانسلر ڈاکٹر ضیاء القیوم نے سینئر سٹاف کے ہمراہ مہمانوں کا والہانہ استقبال کیا۔ 

دانش گاہیں وہ ہوتی ہیں جنہیں دانشوروں کی میزبانی کا شرف حاصل ہو،جامعہ گجرات میں قومی اہمیت کے حامل موضوعات پر دانشوروں کی آمد کی روایت پختہ اور قابل تحسین ہے۔پاک سرزمین کو شاد باد رکھنا اور منزلِ مرادتک پہنچانا جن کی ذمہ داری تھی وہ پروڈا، اورایبڈو جیسے قوانین کا رزق ہو گئے، قومی یکجہتی کی علامت قیادت کے حوالے سے قحط الرجال کے اس دور میں کہیں کہیں اُمید کے کچھ جزیر ے ہیں جہاں سے وفاقیت کے کچھ علمبردار ہر تاریک رات میں اپنے عہد کا دیا جلا کر راہبری کا فریضہ ادا کر رہے ہیں۔ ان آشفتہ سروں کی کاوشیں ہیں کہ بلوچستان کی محرومی کا تریاق ہو چلا ہے، ڈرون کی جنگ اپنے انجام کو پہنچی ہے اور سب سے بڑھ کر۔۔۔کوئی ایسا بھی ہے جو زمیں زاد ہے، رضا ربانی جیسے سنجیدہ فکر پاکستانی نہ صرف جمہور کی اُمید ہیں بلکہ جمہوریت کی آس بھی ہیں۔ ان کی آمد سے تقریب میں پاکستانیت اور وفاقیت کا رنگ نمایاں ہو گیا۔ صدر ِ شعبہئ سیاسیات ڈاکٹر مشتاق احمد نے اختصار و جامعیت سے مہمانوں کو خوش آمدید کہنے کے ساتھ وفاق اور وفاقیت کا تعارف کروایا۔ گلگت  بلتستان کے سابق گورنر چوہدری قمر زمان کائرہ جو تکلم کی جولانی اور گفتگو کی روانی کے حوالے سے شہرت عام رکھتے ہیں اُنہوں نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم نے پاکستان میں صوبوں، اکائیوں اور مرکز کے درمیان تناؤ کم کرکے اعتماد کی فضا کو بحال کیا ہے۔ پاکستان قائدا عظم کے وفاقیت پر کامل یقین کے ساتھ ہی آگے بڑھ سکتا ہے۔ غیر متوازن قوتیں نظام کے بہتر عمل درآمد کی راہ میں رکاوٹ بنی ہیں۔ کڑے مرحلے پر رضا ربانی نے بطور چیئرمین کمیٹی وفاقیت کے استحکام کے لیے اکائیوں کو بہت کچھ لوٹا یا،ہماری قومی سیاسی اور آئینی تاریخ میں ان کا اجتہادی کارنامہ ہمیشہ یاد رکھا جا ئے گا۔ چیئرمین سینٹ میاں رضا ربانی نے اپنے خصوصی خطاب میں زور دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی ممالک کے پاس حکومتوں کے درمیان بڑی حد تک باہمی انحصاری ہوتی ہے۔ سیاستدان، سرکاری ملازمین، شہری اور دیگر حصے دار اپنے اپنے دائروں میں نتائج پر کس طرح اثر انداز ہونے کی کوشش کرتے ہیں یہ چیز ایک وفاق کی سیاسی زندگی کے قلب تک جاتی ہے۔ وہ جمہوریتیں اور وفاقی نظام جن کو یکجہتی کے چیلنج کا سامنا ہو، ایک مثبت سیاسی قومیت کو فروغ دے سکتے ہیں۔ وفاقیت کی طرف بتدریج بڑھتا ہوا رُحجان جمہوری انتظام کاری کے پھیلاؤ کے نتیجے میں اُبھرا ہے۔ پاکستان میں جمہوریت کے استحکام کے لیے ابھی بڑی تگ و دو کی ضرورت ہے۔ عوام اور اکائیوں کے حقوق کا تحفظ ریاست پاکستان کا استحکام ہے۔ ہماری تہذیب اور ریاست مختلف صوبوں  سے جنم لیتی ہے۔ اُنہوں نے قائد اعظم کی حصولِ پاکستان کی جدوجہدکے تصور اور 11اگست1947ء کی پالیسی ساز تقریر سے وفاقِ پاکستان کی روح کو کشید کیا اور بتایا کہ تاریخ پاکستان میں اتحاد و اختلاف کے مستقبل بدلتے ہوئے دباؤ کے مقابل پاکستان میں وفاقی نظام ایک انتہا سے دوسری انتہا تک ڈانواں ڈول رہا، غیر متوان قوتیں نظام کے بہتر عمل درآمد کی راہ میں رکاوٹ بنی رہیں۔ مرکزیت پسند حکومتیں قومی یکجہتی کا شعور بیدار نہ کر سکیں۔ ایسے میں اٹھارویں ترمیم خاصی اہمیت کی حامل ہے اس نے اکائیوں کو ان کے اصل مقام سے آگاہ کیا اور صوبائی خود مختاری کے تکنیکی اور آئینی معاملات پر سے گرد صاف کر دی گئی۔ صدرِ محفل ڈاکٹر ضیاء القیوم نے کہا کہ وفاقیت ایک ایسا طریقہ ہے جس کے ذریعے متفرق لسانی اور ثقافتی گروہوں کو ایک عمومی مرکزی حکومت کے تحت متحد کرکے اتحاد و اختلاف کی متصادم قوتوں کو ہم آہنگ کیا جا سکتا ہے۔ کثیر نسلی اور کثیر اللسانی معاشرے ہی وفاقی ہوتے ہیں پاکستان کا معاشرہ وفاق کی خصوصیات کا حامل ہے۔ بانیان پاکستان کے تفکر میں وفاقی نظام وہ واحد ممکن العمل طریقہ کار تھا جس کے ذریعے اتحاد اور اختلاف کے متصادم دباؤوں کے درمیان توازن قائم رکھا جا سکتا تھا۔ اتحاد یا اختلاف کی قوتیں جیسی بھی ہوں ان کو مناسب طور پر متوازن ہونا چاہیے تاکہ نظام چلتا رہے یہ ایک نازک معاملہ ہے، لیکن رضاربانی جیسے اٹھارویں ترمیم کے تخلیق کاروں نے پاکستان میں وفاقیت کو مرکزیت میں بدلنے سے روکنے کے لیے تاریخ ساز کردار ادا کیا، اٹھارویں ترمیم کی کوکھ سے مستحکم وفاق اور خوشحال پاکستان کے نئے امکانات روشن ہوئے ہیں۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم نسل نو تک اس روشنی کو پہنچائیں اور انہیں حقیقی جمہوری و وفاقی اقدار سے روشناس کرائیں۔ جامعات اس حوالے سے مثبت اور متحرک کردار ادا کر سکتی ہیں۔ جامعہ گجرات قومی ذمہ داریوں سے آگاہ دانش گاہ ہے ہم اس حوالے سے پاکستانیت کے تقاضوں سے عہدہ برآہ ہونے کے لیے اپنا کردار ادا کرنے میں کوئی کسر اُٹھا نہیں رکھیں گے۔ سوال و جواب کے فکر انگیز سیشن نے نئے سوالات اُٹھائے اور مہمان مقرر نے بھرپور جواب دئیے۔ سوال و جواب کی اُلجھنوں میں پاکستان میں جمہوری وفاقیت کی گتھی سلجھتی ہوئی دکھائی دینے لگی تو پنڈال پر زور تالیوں سے گونج اُٹھا۔ 
ٍ تکثیری معاشرے میں چھوٹی اکائیوں کا بڑے صوبوں سے خائف رہنا کوئی غیر معمولی مظہر نہیں یہ احساس کینیڈا و بھارت سمیت تمام وفاقی معاشروں میں مختلف درجوں میں پایا جاتا ہے۔ تاہم یہ احساس نظام کے استحکام کے لیے اس وقت خطرہ بن جاتا ہے جب چھوٹے علاقوں کے شکوک و شہبات اور بے اعتمادی ایک زبردست عدم تحفظ کے احساس میں تبدیل ہو جائے۔ پاکستان میں وفاقیت کی ڈولتی کشتی کو پار لگانے کے لیے اٹھارویں ترمیم اہم موڑ ہے اس سے نئے امکانات اُبھر کر روشن مستقبل کی اُمید کو جنم دے رہے ہیں۔ بلاشہ ہمارے ہاں جمہوری وفاقیت عمدگی سے کام نہیں کر سکی یاا سے ٹھیک طرح سے کام کرنے نہیں دیا گیا، اس سے نتیجہ اخذ نہیں ہوتا کہ وفاقیت ملک کے لیے موزوں نہیں۔ پاکستان میں وفاقی معاشرہ اپنے شدید ثقافتی و لسانی اختلافات کے ساتھ موجود ہے اس کے لیے جمہوری وفاق کا فروغ ناگذیر ہے حقیقی وفاق اور خالص جمہوریت کے علاوہ کوئی نظام اس معاشرے کی بقا کا ضامن نہیں ہو سکتا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اٹھارویں ترمیم سے وا ہونے والے نئے امکانات کو پروان چڑھانے کے لیے ساز گار حالات پیدا اور فراہم کیے جائیں جو اس کے کامیاب عمل درآمد کے لیے ممدو معاون اور لازمی ہیں۔ 



جمعرات، 27 نومبر، 2014

"Fairy Tales: The End of Science and the Resurrection"

سائنس کا خاتمہ یا احیائے نو 


نیو یارک ٹائمز کے سابق سائنس ایڈیٹرWaidemar Kaempffertنے اپنی کتاب "Exploration In Science"کے آخر میں اپنے تجزیے کا نچوڑبیان کرتے ہوئے صفحہ 279پرلکھا ہے کہ”انسان اس کرہئ ارض پر قریب ایک لاکھ سال سے آباد ہے لیکن اس کے اخلاقی شعور کو بیدار ہوئے صرف پانچ ہزار سال کا عرصہ ہوا ہے۔ اگر نوع انسانی کا صحیح مطالعہ صرف انسان سے کیا جا سکتا ہے تو اس باب میں سائنس ہنوز اپنے دورِ جہالت میں ہے۔وہ ایٹم کے متعلق تو بہت کچھ جانتی ہے لیکن انسان کے متعلق جو کائنات کا سب سے زیادہ دلچسپ اور اہم موضوع ہے بہت کم جانتی ہے۔ سائنس کو ابھی ایک نشاۃِ ثانیہ کی ضرورت ہے، اس کی نمود کے لیے شاید ابھی ایک سو سال درکار ہوں۔ جب ایسا ہوا تو پھر سائنس انسان کی صلاحیتوں اورکمزوریوں کی تحقیق کے لیے کم از کم اتنا وقت تو دے گی جتنا وقت یہ دوائیوں اور پلاسٹک کی تحقیق کے لیے صرف کرتی ہے۔ اب تک سائنس نے انسان کو صرف یہ بتایا ہے کہ وہ اپنے ماحول کو کس طرح مسخر کر سکتا ہے۔ اس نے ابھی انسان کو یہ بتانا ہے کہ وہ جو کچھ کرتا ہے، ایسا کیوں کرتا ہے اور اس کے لیے تسخیر خویش کس طرح ممکن ہے۔“1953ء میں لکھی جانے والی مذکورہ کتاب مجھے گذشتہ روز اس وقت یاد آئی جب میں UOG کے سابق ڈائریکٹر سائنسزعلم دوست محقق و ماہر طبیعات ڈاکٹر اعجاز الرحمان درانی سے ملنے گیا تو معمول کے مطابق خوشگوار مسکراہٹ سے استقبال کرنے کے بعد اُنہوں نے حالات حاضرہ پر گفتگو شروع کر دی۔ ڈاکٹر درانی 4 مئی 1949ء کو ضلع گجرات کے ہی معتبر خانوادے میں پیدا ہوئے۔ پنجاب یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی اور نظریاتی فزکس کے ماہر کے طور پر بڑی جامعات میں خدمات انجام دیں۔ وہ مختلف جامعات سے بطور پروفیسر ڈائریکٹر اور وائس چانسلر منسلک رہے۔ آج کل لاہور میں مقیم ہیں۔ سنجیدہ مزاج اور علمی گفتگو کے رمز شناس ڈاکٹر اعجاز درانی آداب حیات سے آگاہ ہیں اور سائنسی موضوعات کے علاوہ سماجی فلاحی اور سیاست کے نشیب و فراز پر سیر حاصل گفتگو میں مہارت رکھتے ہیں۔  باتوں ہی باتوں میں ڈاکٹر درانی کی نئی کتاب"Fairy Tales: The End of Science and the Resurrection"کا تذکرہ ہوا۔ فراخ دل محقق نے اپنی کتاب پیش کی جسے میں نے بصدشکریہ وصول پایا۔ میں سیاسیات و تاریخ کا طالب علم ہوں اسے میری نالائقی کے سوا کیا کہئیے کہ مجھے مادی علوم سے کبھی دلچسپی نہیں رہی۔ مگر فوکو ہاما کی کتاب”تاریخ کا خاتمہ“ پر نظر رکھنے والے طالبعلم کے لیے سائنس بالخصوص فزکس کے محقق کی جانب سے ملنے والی کتاب کا عنوان”من گھڑت کہانیاں!سائنس کا خاتمہ اور احیائے نو“ توجہ کا مرکز بن گیا۔ سائنسی تحقیقی اُصولوں اور فزکس کے کُلیئوں سے سجی یہ کتاب انگلستان کے نامور پبلشرMELROSEنے شائع کی ہے۔412صفحات پر مشتمل یہ پیپر بیک کتاب پانچ حصوں فئیری ٹیلز، فیوژن فزکس، سپیس پلازمہ، رئیلٹی سٹڈیز(ٹیررازم)، ہائپر رئیلٹی سٹڈیز(منی میٹرز اینڈ سائیکو فزکس) پر مشتمل ہے جس میں جامع تعارف اور پُر مغزاختتامیے کے علاوہ 34تحقیقی مضامین شامل ہیں۔ سائنس کے حوالے سے من گھڑت کہانیوں کے ٹائٹل نے ہی چونکا دیا۔ میرے جیسے ”غیر سائنسی“ لوگوں نے تو سُن رکھا ہے کہ سائنس اٹل حقیقتوں کے مجموعے کو کہتے ہیں پھر ڈاکٹر درانی انہیں افسانوی کیوں کہتے ہیں؟ میری اس اُلجھن کو ریڈنگ یونیورسٹی میں فزکس کے پروفیسر ڈاکٹر جمیز آرنلڈ کروتھرکی کتاب"The Great Design"میں موجود اقتباس نے حل کیا کہ ”نظام ِفطرت اپنی گہری بنیادی سادگی میں اس قدر تحیر انگیز ہے کہ دنیائے سائنس میں کسی موضوع پر حرفِ آخر آخری انسان کے لیے ہی چھوڑ دینا پڑتا ہے۔“خیرڈاکٹر درانی کی کتاب سے یہ تو عیاں ہوتا ہے کہ سائنس کی نشاۃ ثانیہ کی جو تحریک مغرب اور ترقی یافتہ دنیا میں شروع ہوئی تھی اس کی بازگشت پاکستان میں بھی سنائی دینے لگی ہے۔ ڈاکٹر درانی پاکستان میں سوشل فزکس کے حوالے سے لکھنے والے خال خال قلمکاروں میں شامل ہیں جنہوں نے تحقیق و گیان کے امتزاج کو موضوع قلم بنایا۔ ان کی تحریر یں عمرانی طبیعات کی عکاس ہیں۔ 
سوشل فزکس کی اصطلاح سب سے پہلے بیلجئیم کے ماہر شماریاتAdolphe Queteletنے1835میں استعمال کی۔ اس کی شماریاتی فکر سے فرانسیسی ماہر عمرانیات Agust Comteنے اختلاف کیا۔ اس کے لیےSociologieکی اصطلاح ایجاد کی۔ آگسٹ کومٹے کے مطابق عمرانی طبیعات کی اصطلاح سے مراد معاشرتی قوانین یا سائنس آف سویلائزیشن ہے۔ ا س نے اپنی کتاب"Positive Philoseply"کے حصہ ششم میں لکھا ہے کہSocial physics would complete the scientific description of the world Galileo, Newton and others had begun.ڈاکٹر درانی کی کتاب عمرانی طبیعات کے اس پرانے سفر کا نیا سنگ میل ہے۔ چونکہ نظریاتی فزکس کے حوالے سے ڈاکٹر درانی ماہرین طبیعات کے طے کردہ طرز ِکُہن پر نہیں اڑتے بلکہ اُنہوں نے طبیعاتی علوم کو معاشرتی شعور کے امتزاج سے روحِ عصر سے مطابقت دی ہے۔ عمرانی طبیعات پر لکھنے والے محققین دنیا بھر میں سراہے جاتے ہیں مگر ہمارے ہاں سائنسی اندازِ فکر سے عاری ”سائنسدان“ اسے بغاوت سمجھتے ہیں۔ کتاب کے اوراق واضح کرتے ہیں کہ مصنف سائنسی علوم میں محض مقلد نہیں سائنس کی روح کے مطابق بدعتی ہیں اسی لیے اُنہوں نے اپنے لیے نئی راہ کا انتخاب کیا ہے۔ کتاب کے تعارف میں ہی ڈاکٹر درانی نے اپنے مخصوص اسلوب میں روایتی محققین اور تحقیق کے قدیم مکتبہ فکر کو آڑے ہاتھوں لیا ہے اور نہ صرف اس حوالے سے سوالات اُٹھائے ہیں بلکہ تحقیق کے نئے زاویوں پرروشنی بھی ڈالی ہے۔ 
ڈاکٹر اعجاز الرحمان درانی کی نئی کتاب کے ٹائٹل کو رپرنظر ڈالیں تو اس پر رکھی صلیب اکیسویں صدی کے انسان کے المیوں کی داستان نظر آتی ہے یہ کورJeremy Kayنے ڈیزائن کیا ہے جو ڈاکٹر درانی کے فکر و عمل کا استعارہ ہے۔ محققانہ دماغ کے مالک ڈاکٹر اعجاز الرحمان درانی فکر مند قلب کے حامل انسان ہیں اُن کا مزاج فلسفیانہ و دانشورانہ ہے۔ وہ اطلاقی طبیعات کی طرف مائل نہیں اور نہ ہی انسانی فکر و فلسفے کو لیبارٹریوں کی قربان گاہ پر قربان کرنے کے عادی ہیں بلکہ وہ نظریاتی طبیعات میں دلچسپی لیتے ہیں جس نے انہیں گیان دھیان کی طرف مائل کر رکھا ہے۔ عہد حاضر کی صورتحال پر ان کا دِل درد محسوس کرتا ہے وہ سمجھتے ہیں کہ تاریخی جبر کے شکار انسانوں کو ناروا اور ناخوشگوار نظریات و متبرکات کو سننا اور برداشت کرنا پڑتا ہے۔ جس کی بناء پرآج ہم سب مصلوب ہو کر رہ گئے ہیں۔ معلومات کے سیلاب میں بہتا انسان سوچ و بچار سے عاری ہو کر رہ گیا ہے۔ ایسے میں ڈاکٹر درانی نے صلیب کو کتاب کے ٹائٹل پر رکھ کر خود فکر وآگہی کے لیے تزکیہء نفس شروع کر دیا اور اس سفر میں تحقیق و آگہی اور خیال و تجزیے کی جو منزلیں طے کیں انہیں مضامین کی صورت دے کر جمع کر دیا ہے۔ ڈاکٹر درانی کی محققانہ کھوج او ر درویشانہ عرق ریزی دیکھ کر لگتا ہے کہ اشفاق احمد مرحوم نے غلط نہیں کہا تھا کہ صوفی اور سائنسدان ایک ہی سکے کے دو رُخ ہیں۔ اُنہوں نے علم طبیعات کے قدیم و جدید موضوعات کے ساتھ ساتھ عصری حقائق مثلاً دہشت گردی اسکے محرکات، معاملات اور اثرات کا سائنسی انداز ِ فکر سے تجزیہ کیا ہے بلکہ ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے طبیعات کی عینک سے دنیا کے مالی معاملات اور تحلیلی طبیعات کو بھی موضوع قلم بنایا ہے۔ اس سے قبل ڈاکٹر درانی کی کتابScientific Writingsبھی اپنے منفرد موضوعات کی وجہ سے محققین اور تجزیہ نگاروں سے داد و تحسین وصول کر چکی ہے۔ ڈاکٹر اعجاز الرحمان درانی کی نئی کتاب بھی بلاشبہ بحث و نتائج کے حوالے سے نئی جہتیں اور پہلو متعارف کروا رہی ہے۔ اُمید ہے کہ علم طبیعات کے محققین، استاد اور طالبعلم ہی اس سے مستفید نہیں ہونگے بلکہ عمرانی شعور سے بہرہ مند ہر پڑھا لکھا شخص اس کتاب سے فیضاب ہو گا۔ اس کتاب نے ثابت کر دیا ہے کہ ڈاکٹر درانی مستند محقق، نامور اُستاد ہی نہیں بلکہ انسانی تقاضوں سے عہدہ برآہ ہونے والے عمرانی شعور کے مالک درویش بھی ہیں۔ بلاشبہ روح عصر کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے کے لیے ہمیں تحقیق و تدریس اور فکر و دانش کے ایسے امتزاج کی ضرورت ہے۔ 

پیر، 17 نومبر، 2014

”غنیمت از خاکیان ہند غنیمت بود“


ہماری ادبی و شعری تاریخ میں سخنوروں کی بستی کنجاہ ”مدینہ الشعراء“ کی شہرت رکھتی ہے،یہ اعزاز کسی فرد واحد کی وجہ سے نہیں بلکہ صدیوں سے شعراء کی بستی ہے جس نے بے شمار شعراء کو جنم دیا جنہو ں نے اندرون و بیرون ممالک خطہئ یونان گجرات کی شہرت کو دوام بخشا ہے۔ میری دیرینہ خواہش تھی کہ کنجاہ کی سرزمین پر سوئے عظیم شعراء کی تربت پر حاضری دوں، حُسن اتفاق کہ گذشتہ دنوں کنجاہ کے علمی و ادبی حلقوں کے روح رواں جواں عزم اور پختہ فکر احسان فیصل کنجاہی کا دعوت نامہ ملا کہ شریف کنجاہی ایوارڈز 2014کی تقریب میں ضرور شرکت کریں۔ میں نے دعوت کو غنیمت جانا اور 14نومبر بروز ہفتہ کی سہ پہر گجرات کے ”بیت الحکمت“ المیر ٹرسٹ لائبریری کے سر پرست اور ”فنافی الکتب“محترم عارف علی میر کی راہنمائی و رفاقت میں کنجاہ پہنچااور تقریب میں شرکت کی۔میرے لیے یہ امر باعث اعزاز ہے کہ مجھے بزم غنیمت اور احسان فیصل کنجاہی کے ادبی ہفت روزہ کامرانیاں کے زیر اہتمام منعقدہ تقریب میں ”شریف کنجاہی ایوارڈ2014“ سے نوازاگیا۔ راولپنڈی سے تشریف لائے بزرگ شاعر، ناول نگار محترم زہیر کنجاہی نے اپنے دست مبارک سے یہ ایوارڈدیا۔ شریف کنجاہی اردو اور پنجابی ادب، شعر اور تحقیق کے حوالے سے عالمی سطح پر مستند نام ہے۔ میرے لیے یہ بات اس لیے بھی قلبی مسرت کا سبب بنی کہ اس طرح جناب شریف کنجاہی کے نام سے کسی نہ کسی طور میرا نام جڑ گیا ہے۔ تقریب میں بزرگ شاعر سرور ابنالوی، منیر صابری کنجاہی، پروفیسر تفاخر گوندل، رخسانہ نازی، اشرف نازک سے ملاقات کا موقع بھی ملا، تقریب کے اختتام پر میں نے برادرم احسان فیصل کنجاہی سے درخواست کی کہ خواہ اندھیرا ہو گیا تاہم میں مولانا محمد اکرم غنیمت کنجاہی اور شریف کنجاہی کی قبور پر حاضری دینا چاہتا ہوں، ان کی وساطت سے نامورشعراء منیر صابری کنجاہی اور اشرف نازک نے کمال شفقت سے ہمارا ساتھ دیا اور روضہئ غنیمت تک رسائی فراہم کی۔ وہی غنیمت کنجاہی جس کے بارے میں ”شعراء العجم فی الہند“کے مطابق تذکرہ نگار مرزا محمد افضل سر خوش نے لکھا ہے کہ ”غنیمت از خاکیان ہند غنیمت بود“ اورنگزیب عالمگیر عہد کے قادرالکلام فارسی شاعر غنیمت کنجاہی کے علمی کمالات اور روحانی محاسن و تصرفات سے ان کے زمانہ حیات سے لے کر آج تک اصحاب فہم و ادراک متاثر نظر آتے ہیں۔ سید شرافت نوشاہی رقمطراز ہیں کہ ”آپ عالم یگانہ، فاضل زمانہ، علامہ دوراں، فہماہ، بلند مکاں، شاعر با کمال، ناظم بے مثال،غواص، بحر شریعت، گوہر دریائے حقیقت، صاحب عشق و محبت و علم وفضل تھے“ عہد عالمگیری میں غنیمت کنجاہی کی شاعری کا سورج نصف النہار پر تھا۔ پنجاب اور ہند کے علاوہ دوسرے ممالک میں بھی آپ کی شاعری کے چرچے تھے۔ ان کی شاعری کا ڈنکا بجتا تھا۔ ان کی مثنوی ”نیرنگ عشق“ کو ہندوستان، افغانستان اور وسطیٰ ایشیا میں قبول عام کی سعادت ملی۔ فارسی تذکروں کے علاوہ یورپی مستشرقین بھی ان کا ذکر اپنی تالیفات میں احترام و محبت سے کرتے ہیں۔کہا جاتا ہے کہ ان کے آباء واجداد ملک شام سے ہجرت کر کے کنجاہ آئے تھے۔ صادق علی دلاوری سید جعفر شاہ گیلانی جو غنیمت کے قریب العصر تھے کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ ”غنیمت ابھی شکم مادر میں ہی تھے کہ ایک دن حضرت خضر ؑتشریف لائے اور آپ کی والدہ ماجدہ کو بشارت دی کہ اس حمل کوغنیمت جانو۔ یہ فرزند مقبول درگاہ خدا ہوگا۔ چناچہ کہا جاتا ہے کہ اس واقعہ کی مناسبت سے ہی محمد اکرم نے اپنا تخلص غنیمت رکھا۔ سادہ مزاج اور خوش خلق انسان تھے۔ لاہور کے اس عہد کے گورنر نواب محمد مکرم خان اور اس وقت کے سیالکوٹ کے فوجدار مرزا ارتق بیگ سے دوستی تھی۔

دیگر خوبیوں کے ساتھ ساتھ انھیں پنجاب سے بڑی محبت تھی بلکہ حُبِ پنجاب ان کے خون میں سرایت کر گئی تھی۔ وہ سچے وطن پرست اور زندہ دلان پنجاب کے عاشق تھے۔ جہاں بھی جاتے پنجاب کو یاد کرتے۔ جنت نظیروادی کشمیر کی سیر پر گئے مگر وہاں بھی پنجاب کی یاد انھیں ستاتی رہی انہوں نے شعر کہا کہ
آب شد کشمیر در چشم غنیمت از حجاب
تاکہ دانستہ نام خطہ پنجاب برد 
ایک اور جگہ پنجاب سے اپنی محبت کا اظہار یوں کرتے ہیں کہ 
نخواھم لالہ زار گلشن ایران کہ سربرزدہ
گل داؤدی صبح وطن از خاک پنجابم
غنیمت نے اس زمانے میں بابا فغانی شیرازی، نظیری، مرزا صائب، قاسم دیوانہ مشہدی، ناصر علی سرہندی، جلال اسیر اصفہانی جیسے فارسی شعراء کے تتبع میں شعر کہے۔ عظیم مرتبے کے عظیم فارسی شاعر کے مزار پر پہنچے تو وہاں مزار کی خستہ حالت دیکھ کر کچھ کوفت بھی ہوئی۔ ان کی خانقاہ ان کے شایان شان نہیں۔ مزار کنجاہ کے جنوب میں باغ دیواناں سے متصل ہے۔ غنیمت کنجاہی نے 1108ھ میں وفات پائی تو ان کے دوست گورنر لاہور خانصاحب محمد مکرم نے 1110ھ میں مزار کی تعمیر کروائی ایک بڑا رقبہ بھی مزار کے ساتھ ملحق کیا۔ مگر وقت گذرنے کے ساتھ اس کی حالت خراب ہو گئی تو 1928ء میں اس وقت کنجاہ  میں تھانیدار بخشی منظور علی نے شہر سے اعانت و امداد اکٹھی کی اور پندرہ سو روپے کی لاگت سے مزار کی تعمیر نو کروائی۔ عمارت پھر خستہ حال ہوئی تو پھر بھی کسی سرکار کو یا ادبی ادارے کو خیال نہیں آیا مگر رئیس کنجاہ ملک فضل الہیٰ نے 1960ء میں ذاتی حیثیت میں مرمت کروا دی۔ زیادہ عرصہ نہ گذرا تو مزار پھر خستہ حال ہو گیا۔ 1994 میں بزم غنیمت کنجاہ کے شعراء نے پھر ذاتی حیثیت میں کوششیں شروع کیں۔ کنجاہ سابق وزیر اعلیٰ پنجاب کا حلقہ انتخاب رہا ہے۔ شعراء نے چوہدری پرویز الہیٰ سے اس حوالے سے مدد طلب کی تو اس شاعر عظیم کے مزار کی تعمیر کے لیے انہو ں نے ’کمال سخاوت‘کا مظاہرہ کرتے ہوئے صرف30 ہزار روپے عطا کیے۔ بزم غنیمت نے ادھر ادھر سے بھی فنڈز اکٹھے کیے اور مقبرے کی تعمیر کا آغاز کیا تو دوران کھدائی معلوم ہوا کہ آدھی قبر سابق دیوار کے نیچے ہے۔ اسے کھدوا کر ٹھیک کروایا اور ایک عامیانہ سا مزار تعمیر کروا دیا گیا۔ کنجاہ کے باسی بھی وقت گذرنے کے ساتھ اس فرزند عظیم کو فراموش کر بیٹھے۔ حکمران اور ضلعی انتظامیہ کو اس فارسی شاعر سے کیا لینا دینا تھا لہذاٰ کوئی وارث نہ رہا تو اہل قصبہ نے اپنی اپنی بساط کے مطابق ملحقہ زمین پر قبضہ کر کے رہائشیں تعمیر کروا لیں۔ اب عصر حاضر کے عالمی شہرت یافتہ پنجابی شاعر شریف کنجاہی بھی وصیت کے مطابق غنیمت کنجاہی کے پہلو میں دفن ہیں۔ وہ صدارتی ادبی ایوارڈ یافتہ شاعر و ادیب ہیں۔دو عظیم ہستیاں جنہوں نے دنیا بھر میں کنجاہ، گجرات اور پنجاب کو شہرت بخشی آج گمنامی کی حالت میں حکمرانوں کی توجہ کے طالب ہیں۔میری وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف، ڈویژنل اور ضلعی ارباب اختیار، سرکاری ادبی اداروں سے التماس ہے کہ غنیمت کنجاہی اور شریف کنجاہی کے مزار کی حالت زار پر توجہ دیں اورسرکاری امداد سے ان کے شایان شان مزار تعمیر کروایا جائے اور مزار کی زمینوں پر قبضہ ختم کروایا جائے۔ کنجاہ کے ادبی جنونیوں نے ہمت و جرأت سے وہاں شریف کنجاہی میموریل لائبریری کی تشکیل کے لیے ہال تعمیر کروایا ہے جو تا حال نامکمل ہے۔ اس لائبریری کے قیام کو ہر ممکن طور پر اعانت فراہم کی جائے۔ حکمرانوں کی بے حسی بڑی بے رحم ہو گئی ہے۔ علماء و ادیبوں سے تو انہیں کوئی تعلق ہی نہیں۔ غنیمت کنجاہی جیسے لوگ کسی سماج کا سرمایہ افتخار ہوتے ہیں۔ ایسے افراد کی قدر کرنا درحقیقت اپنی اور اپنی قوم کی قدر کرنے کے مترادف ہوتا ہے  ہم ان کے مقبرے یا علمی اثاثے کی اشاعت نو کی طرف کوئی توجہ دیں یا نہ دیں ان کا مقام و مرتبہ ہمیشہ رہے گا۔ یہ عظیم ہستیاں ہماری تاریخ ہیں اور جو قومیں تاریخ کو فراموش کر دیتی ہیں، ان کا جغرافیہ انہیں فراموش کر دیتا ہے۔گوہر نوشاہی لکھتے ہیں کہ ”مولانا غنیمت کنجاہی نوشاہی فارسی ادب کے ان معروف شعراء میں سے ہیں جن پر سر زمین پنجاب ا س وقت تک فخر و ناز کرے گی جب تک یہاں فارسی ادب کا ذوق باقی ہے۔ انہوں نے غیر ملکی ہونے کے باوجود فارسی زبان پر وہ قدرت حاصل کی کہ اساتذہ فن ان کے حضور میں تحسین پیش کرنے پر مجبور ہوئے۔ ایسی ہستیاں دنیا سے روپوش ہو جاتی ہیں لیکن روحانی طور پر ہمیشہ زندہ رہتی ہیں۔ ان کے اقوال اور ان کے کلام دنیا کے لیے مشعل راہ اور قندیل بزم کی حیثیت رکھتے ہیں۔ “

جمعہ، 7 نومبر، 2014

مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح قتل یا طبعی موت…………؟


”وہ اپنے عظیم بھائی کی ہو بہو تصویر تھیں۔ بلند و بالا قد، بہتر برس کی عمر میں بھی کشیدہ قامت، گلابی چہرہ، ستواں ناک، آنکھوں میں بلا کی چمک، ہر چیز کو ٹٹولتی ہوئی نظر، سفید بال، ماتھے پر جھریوں کی چُنٹ، آواز میں جلال و جمال، چال میں کمال، مزاج میں بڑے آدمیوں سا جلال، سرتاپا استقلال، رفتار میں سطوت، کردار میں عظمت، قائداعظم کی شخصیت کا آئینہ، صبا اور سنبل کی طرح نرم، رعد کی طرح گرم، بانی پاکستان کی نشانی، ایک حصار جس کے قریب سے حشمت کا احساس ہوتا ہے، جس کی دوری سے عقیدت نشوونما پاتی ہے۔ بھائی شہنشاہ بہن بے پناہ“۔ آغا شورش کاشمیری کے یہ الفاظ واقعتا محترمہ فاطمہ جناح کے کردار کے عکاس ہیں۔ وہ کردار جسے قوم کی ماں کا لقب لے کر سرخروئی نصیب ہوئی۔ایک ایسی بہن جس نے جدوجہد حصول پاکستان میں اپنی زندگی کو بھائی کی خدمت اور تحریک آزادی کے لیے وقف کر دیا۔ پھر قیام پاکستان اور بانی پاکستان کی وفات کے بعد اس نے جمہوریت اور ملک کے لیے آمریت کو للکار کر کردار کو جلا بخشی قوم کو مادر ملت کی صورت میں ایک نجات دہندہ ملا مگر سول اور فوجی بیوروکریسی نے وہ بھی چھین لیا۔ مشرقی پاکستان کے لوگ محترمہ فاطمہ جناح کو ”مکتی نیتا“ کے نام سے پکارنے لگے تھے مگر قوم کے نام نہاد نیتاؤں نے انہیں ایسے زخم دیے کہ وہ دلبرداشتہ ہو کر سیاست سے دور رہنے لگیں اور بالآخر 9 جولائی 1967ء کے دن اچانک ان کے انتقال کی خبر سے ملک بھر میں سناٹا چھا گیا۔ ان کی وفات کے دنوں میں اچانک انتقال پر کئی سوال اٹھے مگر بالآخر خاموشی ہو گئی۔ پھر کئی عشروں بعد 22 جولائی 2003ء بروز منگل کے اخبارات میں وزیر اعظم کے سینئر مشیر سید شریف الدین پیرزادہ کا بیان کئی افراد کے لیے حیران کن اور چونکا دینے والا تھا”مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کی وفات غیر طبعی تھی اور انہیں ان کے ایک ملازم نے ذاتی رنجش کی بناء پر قتل کیا تھا۔ وہ جلد اس پہلو کو بے نقاب کریں گے
حیرت اس بات پر ہے کہ حالات سے آگاہی کے باوجودسید شریف الدین پیرزادہ نے اس اہم قومی راز کو 36 سال تک کیوں چھپائے رکھا اور آج تک چھپائے ہوئے ہیں،حالانکہ سید شریف الدین پیرزادہ اس وقت وزیر خارجہ کے منصب پر فائز تھے،سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر مادر ملت کی موت غیر طبعی تھی تو انکے قریبی رشتہ داروں نے موقع پر زبان کھولنا کیوں گوارا نہیں کیا؟ یا پھر اس وقت کی ایوب خان حکومت، سید شریف الدین پیرزادہ جس کا حصہ تھے، نے اس غیر طبعی وفات کی حقیقی وجوہات معلوم کرنے کے لیے تحقیقات کیوں نہ کروائیں حالانکہ مرحومہ کے بھانجے اکبر پیر بھائی جی بمبئی سے پاکستان آئے تھے ……؟ 
آئیے سید شریف الدین پیرزادہ کے بیان کی روشنی میں مادر ملت کی ناگہانی موت کے متنازعہ مسئلہ کا مختصر جائزہ لیں۔ محترمہ فاطمہ جناح 9 جولائی کو وفات سے ایک روز قبل 8 جولائی بروز ہفتہ شام ساڑھے چھ بجے حیدر آباد کے سابق وزیر اعظم میر لائق علی کی بیٹی کی تقریب میں شریک ہوئیں جولائی 1968 کے کراچی کے ہفت روزہ ”اخبار خواتین“ کے مطابق محترمہ فاطمہ جناح تقریباً پون گھنٹہ اس تقریب میں موجود رہیں مگر وہاں ایک گلاس پانی پینے کے علاوہ کچھ نہ کھایا اور ساڑھے سات بجے واپس ”قصرِ فاطمہ“ پہنچ گئیں اور آتے ہی اپنے ڈرائیور کو ہدایت دی کہ اگلی صبح اتوار کو کہیں جانا ہے  اس لیے چھٹی نہ کرنا“۔ پھر اپنے گھریلو ملازم سے سیب منگوا کر گھر کے لان میں بیٹھ کر کھائے اور جلد ہی پہلی منزل پر اپنی آرام گاہ میں چلی گئیں مادر ملت کا معمول تھا کہ وہ سرِ شام ہی تمام بیرونی دروازے بند کرا دیتی تھیں اور پھر رہائش گاہ کے تمام کمرے لاک کر کے چابیاں اپنے پاس رکھ لیتی تھیں اور اگلی صبح سات بجے کمرے کی کھڑکی سے چابیاں باورچی کی طرف پھینک دیتیں جو بیڈ ٹی تیار کر کے اخبارات کے ساتھ انہیں پہنچاتا تھا وہ دس بجے ناشتہ کرتی تھیں۔ 9 جولائی1967 (یکم ربیع الثانی 1387ھ)اتوار کی صبح حسب معمول انکے خانسامہ عبدالرؤف نے جسے چند روز پہلے ہی ملازم رکھا گیا تھا نے چابیاں پھینکنے کا انتظار کیا دیر ہونے پر آرام گاہ کا دروازہ کھٹکھٹایا مگر کوئی جواب نہ ملا اسی اثناء میں دھوبی انکے کپڑے لیکر آگیا دونوں نے آدھ گھنٹہ سے زیادہ انتظار کیا اس کے بعد انکی بہترین دوست لیڈی ہدایت اللہ جو قریب ہی رہائش پذیر تھیں کو مطلع کیا  وہ جلدی سے قصرِ فاطمہ آ گئیں دروازہ کھٹکھٹایا جو اندر سے بند تھا جہاں سے کوئی جواب نہیں آرہا تھا وہ بھی دروازہ نہ کھلنے پر پریشان تھیں بیگم نور الصباح نے ایک انٹر ویو میں کہا کہ اس وقت ایک نوکر آیا جسے مادر ملت نے چند دن پہلے نکال دیا تھا اور کہا کہ میرے پاس ایک چابی ہے جو شاید اس تالے کو لگ جائے نوکر نے چابی دی ”نوکر سلیم نے ڈبل چابی سے دروازہ کھولا تو فاطمہ جناح بستر پر ابدی نیند سو رہی تھیں۔ لیڈی ہدایت اللہ نے کمرے کو جوں کا توں بند کرا دیا اور گھر جا کر فوراً کمشنر کراچی سید دربار علی شاہ کو ٹیلی فون کیا۔ پھر کے ایچ خورشید اور انکی بھانجی شہر بانو کو اطلاع دی۔ لیڈی ہدایت اللہ دوربارہ قصر فاطمہ پہنچیں تو کمشنر کراچی اور ڈ ی آئی جی پولیس اے کے ترین پہنچ چکے تھے۔ محترمہ کی بھانجی شہر بانو اور کے ایچ خورشید بھی موقع پر آگئے کمرے کی کھڑکی تڑوا کر جب یہ لوگ اندر گئے تو موت کی نیند سوئی مادر ملت کے کمرے کی سمندر کی جانب کھلنے والی کھڑکی کھلی ہوئی تھی اور ایئر کنڈیشنڈ بند تھا جلد ہی ڈاکٹر کرنل ایم ایچ شاہ اور ڈاکٹر کرنل ایم جعفر کو بلوایا گیا انہوں نے معائنے کے بعد تصدیق کر دی کہ فاطمہ جناح کی وفات رات سوئے ہوئے حرکت قلب بند ہونے سے واقع ہوئی۔ 
10جولائی کے روزنامہ جنگ کراچی میں ڈاکٹروں کا اعلان شائع ہوا۔ 
اس کے باوجود 10 جولائی 1967 کو روزنامہ ”امروز“ لاہو رمیں میر لائق علی نے کہا کہ کل رات مادر ملت خوش و خرم تھیں، انہیں کسی قسم کی تکلیف نہ تھی۔  
بیگم نور الصباح نے لیڈی ہدایت اللہ کے حوالے سے کہا کہ ”جب دروازہ کھولا گیا تو مرحومہ کے ڈریسنگ روم کا دروازہ بھی کھلاہوا تھا جو کہ فاطمہ ہمیشہ رات کو بند کر کے سوتی تھیں، گیلری کا دروازہ بھی کھلا تھا اندر جھانکا تو فاطمہ جناح پلنگ کے اوپر ترچھی پڑئیں ہوئی تھیں اور ان کا ایک ہاتھ گلے کے پاس تھا۔ اسی طرح، محترمہ فاطمہ جناح کے صدارتی انتخاب میں الیکشن ایجنٹ اور کونسل مسلم لیگ کے رہنما حسن اے شیخ ممتاز قانون دان جو وفات کے وقت کابل میں تھے اور خبر سنتے ہی واپس وطن پہنچے، انہوں نے 1969ء کی انتخابی مہم میں فاطمہ جناح کے قتل کا انکشاف کیا اور پھر اگست 1971ء  میں حکومت وقت سے تحقیقات کا مطالبہ کیا ان کے خیال میں محترمہ فاطمہ جناح کا گلا گھونٹ کر قتل کیا گیا۔ 8 اگست 1971 کو جسٹس پارٹی کے سربراہ میاں منظر بشیر نے جو مادر ملت میموریل کے کنوینر تھے انہوں نے روزنامہ جسارت کے ذریعے حکومت سے تحقیقات کے لیے ٹربیونل قائم کرنے کا مطالبہ کیا۔ اسی روزنامہ نے ”مادرِ ملت کا قتل“ ایک اداریہ لکھا۔ اس حوالے سے 1971ء میں حیرت انگیز انکشافات اس وقت سامنے آئے جب غسالوں کے انٹر ویو سامنے آئے 16 اگست 1971ء کو غسال 67 سالہ شیخ ہدایت حسین عرف حاجی کلو کے مطابق، مجھے مسلم چانڈیو نے تجہیز و تکفین کی تیاری کی ہدایت کی، میں نے تینوں غسالوں کو ساتھ لیا اور ضروری سامان لیکر قصر فاطمہ پہنچ گیا اس وقت رات تھی، غسالوں فاطمہ سید، فاطمہ قاسم اور فاطمہ بائی بچو کے ساتھ کفن تیار کرنے لگا۔ غسل کے دوران معلوم ہواکہ مادر ملت کے جسم پر گہرے زخم ہیں جگہ جگہ چوٹ کے نشان ہیں غسالوں نے احتجاج کرنا چاہا لیکن کچھ لوگوں نے کہا خاموشی اختیار کی جائے“۔ غسالہ سیدہ فاطمہ ظفر نے بتایا”جب میں خواب گاہ میں داخل ہوئی تو لاش سے دور ایک کرسی پر ایک خاتون بیٹھی تھی جو غمگین اور پریشان تھی۔ وہ فاطمہ جناح کی بھانجی بیگم رضا چانڈیو تھیں قریب ہی اصفہانی کھڑے تھے لاش مسہری پر پڑی ہوئی تھی اور اس کے گرد برف کی سلیں رکھی ہوئی تھیں جب میں نے غسل کے لیے میت کا جائزہ لیا تو میری روح لرز گئی مادرِ ملت کی گردن پر چار انچ سے لمبا زخم تھا جس پر ٹانکے لگے ہوئے تھے ان کے گھٹنے پر بھی زخم تھا دایاں رخسار سوجھا ہوا تھا اور جسم نیلا ہو کر اکڑ گیا تھا ان کی چادر اور لباس خون میں لت پت تھا اور خون کے خشک دھبوں سے کپڑا سخت ہو گیا تھا اس پر میں نے منہ کھولنا چاہا تو مجھے سختی سے منع کر دیا گیا۔ خون آلود کپڑے میں گھر لے گئی۔ انتقال کے تین دن بعد میں نے خواب میں فاطمہ جناح کو دیکھا وہ مجھ سے پوچھ رہی تھیں کہ ”فاطمہ تو نے بھی تک نہیں بتایا“ اسی طرح ایک اور غسالہ فاطمہ بائی بچو نے فاطمہ جناح کے جسم پر زخموں کی تصدیق کی مزید بتایا کہ مادر ملت کے پیٹ میں ایک معین سوراخ تھا جس سے متعفن پانی بہہ رہا تھا ان کے جسم پر جگہ جگہ چوٹ کے نیل پڑے ہوئے تھے ایسا معلوم ہوتا تھا کہ جیسے انہیں کسی نے زد و کوب کیا ہو (بحوالہ نوائے وقت 16 اگست 1971) 
تیسری غسالہ فاطمہ قاسم نے بھی ان تفصیلات کی تصدیق کی۔ ان بیان کردہ معلومات کی روشنی میں خیال کی جاتا ہے کہ فاطمہ جناح کو قتل کیا گیا مذکورہ بالا’حقائق‘ سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے: محترمہ فاطمہ جناح قیمتی زیورات کا شوق رکھتی تھیں اس لیے شادی کی تقریب میں جانے کے بعد کوئی نا معلوم ڈاکو پہلے سے ہی کمرے میں گھس گیا ہو گا اور اس لیے حملہ آور ہوا ہوگا۔ یہ قیاس بھی ہوسکتا ہے کہ مادرِ ملت اصول پسند اور ذرا غصے والی تھیں انہوں نے کسی ملازم کو نوکری سے نکال دیا ہوا گا، اس پر ان کے ملازم نے ذاتی رنجش پر انہیں قتل کر دیا ہو گا۔ جیسا کہ بیگم نور الصباح نے ایک ملازم کو نکالنے اور چابی فراہم کرنے کا حوالہ دیا ہے ایسے ملازم ہی گھریلو حالات سے آگاہ ہوتے ہیں۔  
تاہم اس وفات کا ایک اور پہلو یہ بھی ہے کہ محترمہ کے کئی رفقاء نے اسے طبعی موت قرار دیا ہے ان کی نیت اور محترمہ سے عقیدت میں شک نہیں کیا جاسکتا۔ کے ایچ خورشید نے 24 دسمبر 1977ء کو ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ”محترمہ فاطمہ جناح کی موت قدرتی تھی اور بڑھاپے کی بناء پر ان کی گردن پر جھریوں کے نشان تھے یہ غلط ہے کہ گلا گھوٹنے سے انکی گردن پر کوئی نشان تھے“ ایم ابو الحسن اصفہانی نے 14 جنوری 1976ء کو آغا حسن ہمدانی کو دیے انٹرویو میں یہ کہا کہ محترمہ کی موت قدرتی طور پر واقع ہوئی تھی کیوں کہ میں نے دونوں ڈاکٹروں کرنل جعفر اور کرنل ایم ایچ شاہ سے علیحدہ علیحدہ ان کی وفات سے متعلق پوچھا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ موت قدرتی واقع ہوئی ہے“۔ 
قائداعظم کے ایک اہم ساتھی مطلوب الحسن سید نے بھی انٹر ویو میں بتایا تھا کہ ”میر لائق علی خان کی بیٹی کی شادی کی دعوت میں محترمہ فاطمہ جناح نے ملاقات میں بتایا تھا کہ ”ان کا دل ڈوب رہا ہے“ اسی وجہ سے انکی موت واقع ہوئی“ یہ تمام بیانات ان رہنماؤں کے ہیں جو انکی وفات کی اطلاع کے بعد فوراً قصر فاطمہ پہنچے۔ مگر اب ایک بار پھر سید شریف الدین پیرزادہ نے جو کہ وفات کے وقت اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شریک تھے، اطلاع ملنے پر جنازہ کے روز دوپہر بارہ بجے ہوائی اڈہ سے سیدھے مزار قائد پر پہنچے اور وہاں سب سے پہلے جنازہ کو کندھا دیا۔ انہوں نے ”قصر فاطمہ“کی ”خواب گاہ“ میں بستر پر بکھرا خون کیسے دیکھ لیا اور اگر انہیں معلوم ہو چکا تھا تو وہ وفاقی وزیر تھے اس معاملے میں کوئی پیش رفت اس وقت کیوں نہ کی؟ اگر وہ جانتے تھے تو یہ راز اسی وقت قوم کو کیوں نہ بتلایا؟ کیا وزارت کا ’مزہ‘ محترمہ کے قتل کی حقیقت سے زیادہ اہم تھا۔ کیا یہ مادرِ ملت سے محبت کے تقاضے پورے کرتا ہے کہ جب ”قاتل“ تھے یا تھا اس وقت خاموش رہو اور اب ضمیر کا بوجھ ہلکا کر کے ”مزید شہرت“ حاصل کرو۔ بہرحال اب بھی وہ سیاسی مصلحتوں کو بالائے طاق رکھ کر گرہ کھول دیں گے تو یہ کسی مورخ کے لیے تو فائدہ مند ہو گا لیکن کیا اس سے مادر ملت کی روح کو چین ملے گا……؟ بہتر تھا جب یکم اگست 1967ء کو صدر مملکت محمد ایوب خان کے ہمراہ پیرزادہ صاحب نے فاطمہ جناح کی قبر پر پھولوں کی چادر چڑھائی تھی اس وقت یہ راز افشاں کر دیتے۔
اب بھی قوم توقع رکھتی ہے سید شریف الدین پیرزادہ صرف ”قتل“ سے متعلق ڈرامائی انکشاف کرنے کے ساتھ ساتھ ان وجوہات کا ذکر بھی ضرور کریں گے جن کی وجہ تک یہ راز اتنے سالوں تک انہوں نے سینے میں چھپائے رکھا۔ شریف الدین پیر زادہ جیسے افراد کے آدھے سچ نے پہلے ہی اس قوم پر ابہامات کی بارش کر رکھی ہے۔ شریف الدین پیرزادہ سے قوم توقع رکھتی ہے کہ وہ اب عمر کے آخری حصے میں کسی وقت تو پورا سچ بول کر تاریخ کا قرض ادا کریں تاکہ قوم مادر ملت کی وفات کے اسباب کو صحیح طور پر جان سکے۔