Education لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Education لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعہ، 3 جون، 2016

”تخلیقی اقلیت“کا خواب



تاریخ گواہ ہے کہ اقوام و ادیان کے عروج و زوال کی ذمہ داری عمومی طور پر حکمرانوں،قائدین اور مذہبی راہنماؤں کے کندھوں پر ہی ہوتی ہے لیکن ایک سنجیدہ پہلو یہ بھی ہے کہ جیسے جیسے تعلیم اور شعور بڑھتا ہے اس سے عوام میں ایک ایسا طبقہ ابھرتا ہے جو عوامی مسائل پر سنجیدگی سے غور کرتا ہے اور اس ضمن میں اپنی رائے کا بھی اظہار کرتا ہے۔ یہ طبقہ اہل فکر کا ہوتا ہے۔عزم صمیم کا حامل یہ طبقہ سماجی نا قدری، بار بار مایوسیوں اور بعض اوقات ملامت کا ہدف بننے کے باوجودتفکرو مکالمے کا عمل جاری رکھتا ہے۔تہذیبوں کے عروج و زوال کا مورخ ٹائن بی گہرے مطالعے اور تجزیے کے بعد اہل فکر کے ایسے طبقے کو بہت اہمیت دیتا ہے اور اسے تہذیب میں کار آمد ”تخلیقی اقلیت“ قرار دیتے ہوئے تہذیبی و سماجی زندگی کے ارتقا کے لیے لازمی گردانتا  ہے۔ بلاشبہ یہ وہ اقلیت ہوتی ہے جو قوم کو فوڈ فار تھاٹ فراہم کرتی ہے اور افکار تازہ کی علمبردارہوتی ہے۔اس طبقے کے افکار کی جدلیت سے نئے افکار جنم لیتے ہیں اور یوں معاشرے کے پیچیدہ اور روز افزوں مسائل کے حل کی تلاش کا عمل شروع ہوتا ہے۔زوال پذیر معاشروں میں اہل فکر کی ضرورت اور ذمہ داریاں مزید بڑھ جاتی ہیں۔ یہ بات میرے لیے خوشگوار حیرت کا موجب بنی ہوئی ہے کہ پاکستان کے دور افتادہ قصبہ کڑیانوالہ میں اہل فکر کا ”تھنکرز فورم“اپنے کردار سے نہ صرف آگاہ ہے بلکہ سماجی ارتقاء میں اپنا فعال کردار ادا کر رہا ہے،تعلیم،خدمت،رضا کاریت اور مکالمہ یہ وہ پہلو ہیں جو ”تھنکرز فورم“اور ”کئیرز پاکستان“دہمتھل کے سماج سدھار نصب العین کے اصل اہداف ہیں۔ گزشتہ چند ہفتوں سے اہل فکر کے اس طبقے نے علاقہ میں مذہبی ہم آہنگی اور مساجد کے مرکزی کردار کے فروغ کے لیے آئمہ مساجد اور علمائے دین کے ساتھ مکالمے کی مؤثر روایت کو رواج دیا ہے۔ مجھے ان کی کئی نشستوں میں شرکت کا موقع ملا۔ میں ان کی مثبت فکر اور سنجیدہ عمل کا مداح ہو گیا ہوں۔ گذشتہ دنوں بھی مجھے جواں عزم اور خیال افروز اعمال کے حامل تھنکرز فورم کے راہنما عاطف رزاق بٹ کی جانب سے مختلف الخیال علماء اور مساجد کمیٹیوں کے کار پردازان سے گفتگو کی دعوت ملی تو تمام تر مصروفیات کے باوجود میرے دل نے جانے کے لیے حامی بھر لی۔ مکالمے میں اسلامی علوم کے پی ایچ ڈی سکالرز،علماء، اساتذہ،سول سوسائٹی،صحافیوں اور نوجوانوں پر مشتمل حاضرین موجود تھے۔علامہ رضا المصطفیٰ نے کمال بلاغت سے مقاصد کا تعارف کروایا اور پچھلی نشستوں کا خلاصہ پیش کیا کہ اصل مقصد گلی محلوں میں موجود مساجد کو فعال کر کے دینی مراکز بنانا ہے جہاں عبادت و خدمت کا توازن قائم ہو۔دین کا معاشرتی پہلوہمارے اعمال و افکار سے محو ہو گیا ہے۔ ہمیں سماج سازی میں اسلامی معاشرے کی تشکیل کے اصولوں کو متعارف کروانا ہے۔صاحبزادہ علامہ حامد فاروق نے علمی انداز میں آئمہ اور مساجد کے معاشرتی کردار پر روشنی ڈالی اور کہا کہ آئمہ اور خطیب حضرات پر ساری ذمہ داری نہیں ڈالی جا سکتی،یہ اجتماعی دانش کا متقاضی معاملہ ہے۔ہمیں فروعی معاملات پر الجھاؤ کو بڑھانے کی بجائے سلجھاؤ کا پیغام دینا ہے اس کے لیے فکری مکالمہ اور ابلاغ ناگزیر ہے۔
پروفیسر شعیب عارف نے مساجد کے بطور کمیونٹی سنٹر کردار کا حوالہ دیا اور کہا کہ جب تک آئمہ مساجد سماجی رابطہ کار کا کردار ادانہیں کریں گے یہ کام ممکن نہیں۔ نبی رحمت ﷺ خود لوگوں کی عیادت کرتے، ان کے معاملات میں شریک ہوتے تھے۔ جب تک آئمہ مساجد سماج سے دور رہیں گے تب تک اس ادارے کے مثبت اثرات سے سماج محروم رہے گا۔ امریکہ سے آئے ہوئے عالم دین علامہ بشارت شازی نے کہاکہ یورپ و امریکہ میں مساجد حقیقی معنوں میں کمیونٹی سنٹر کا کردار ادا کر رہی ہیں۔ جب تک حاکم مسجد سے منسلک رہے مسجد مرکز رہی تاہم ا ب بھی مسجد کو متحرک کرنے کیلئے حکمرانوں کی توجہ کی ضرورت ہے۔ قاری محمد عیسیٰ، علامہ ادریس جلالی،ذاکر رضا شاہ، قاری رحمت اور علامہ شہباز احمد و دیگر کا بھی ایسا ہی خیال کہ مسلکی اختلاف کی فضا نے بھی مساجد سے دوری میں کردار ادا کیا ہے۔ میں نے بصد احترام عرض کیا کہ مسالک و مشارب کا اختلاف صبح قیامت تک رہے گا، تاہم مسالک اور طریق کار کے اختلاف کے با وجود ہدف اور منزل ایک ہو سکتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں تعبیر کے اختلاف کے باوجود اس میں مضمر حقیقت ایک ہو سکتی ہے۔ اتحاد نام ہی اختلاف کے باوجود متحد ہونے کا ہے۔ مختلف اسباب سے لوگوں میں طرح طرح کے اختلاف پیدا ہو جاتے ہیں۔ کسی بھی تدبیر سے اختلاف کا کلی خاتمہ ممکن نہیں۔ ہمیں ایسی باتوں کے تذکرے کو معمول بناناہے جس میں اتفاق ہے۔ وحی اللہ کی روشنی میں تشکیل پانے والا معاشرہ روشن خیال اور اعتدال پسند معاشرہ ہوتا ہے۔ نبی رحمت ﷺ نے اپنے کردار و عمل کے ذریعے اتباع وحی میں بالفعل ایسا ہی معاشرہ تشکیل دیا جو افراط و تفریط میں بٹے ہوئے انسانوں کیلئے انتہائی پر کشش تھا۔
ہم میں سے ہر ایک کو اپنے اپنے دائرے میں رہتے ہوئے قرآن و ایمان کے انوارات کو پھیلانے کی کوشش کرنی چاہئے اور اپنی توانائیوں کو دوسروں کے ساتھ جھگڑے میں خرچ نہیں کرنا چاہیے۔ اگر ہم کسی سے اتفاق نہ کر سکیں تو کم از کم ہمیں اختلاف کی آگ بھڑکانے سے تو گریز کرنا چاہئے۔ ہمیں نہ صرف مسلمانوں کے ساتھ جھگڑنے، ان پر تنقید کرنے اور ان کی عیب جوئی سے مکمل اجتناب کرنا چاہئے بلکہ ہمیں ہر اچھا کام کرنے والے کی تحسین کرنے اور ہر کلمہ گو سے تعاون کرنے کی سعی کرنے چاہئے۔ ابو سعید ابوالخیر ؒ کا قول ہے کہ خلق خدا کی جس میں بھلائی نہ ہو وہ کام خدا کو بھی پسند نہیں۔ اسلام کے پانچ ستونوں نماز، روزہ، کلمہ، زکوٰۃ، حج کا تذکرہ بہت ہوتا ہے۔ ریاضت و تفکر سے واضح ہوتا ہے کہ یہ محض ستون نہیں ان پر خلق خدا کی خدمت کی عمارت تعمیر ہوتی ہے ان سب کا مقصد انسانوں کی بہتری اور بخشش ہے۔ حضرت بایزیدبسطامی ؒ کا قول ہے کہ ”جب میں عرش خدا وندی کے نزدیک پہنچا اور دریافت کیا، اللہ کہاں ہے؟ جواب ملا کہ اللہ میاں کو اہل زمیں کے شکستہ قلوب میں تلاش کرو“۔آئیے مل کر دین کی خدمت خلق کے جذبے کو فروغ دیں تاکہ اخوت و بھائی چارہ پروان چڑھے۔ پروفیسر تنویر احمد نوید نے کہاکہ حضرت سری سقطی ؒ کا کہنا ہے کہ ”حسن خلق یہ ہے کی مخلوق خدا کو آزار نہ پہنچاؤ اور لوگوں کی دی ہوئی تکالیف کو برداشت کرو“۔ ڈاکٹر شمشاد احمد شاہین کا کہنا تھا کہ فیصلہ کر لینا بہت اہم سہی مگر فیصلہ اس وقت تک ایک آرزو ہی رہے گا جب تک اس پر عمل نہ ہو، یہاں بیٹھے علماء اور سول سو سائٹی کے نمائندے اپنی اپنی بساط بھر کوشش سے عملی آغاز کریں تا کہ نتیجہ بھی نکل سکے۔ سوشل ورکر چوہدری جاوید اعظم کہنے لگے کہ اللہ تعالیٰ کبھی اس شخص کو ہدایت سے محروم نہیں رکھتا جو اس کیلئے انکسار، صبر، اعتماد اور استقلال سے کوشش کرتا ہے۔ وہ ہمیں بھٹک جانے کی ڈھیل بھی اسی لیے دیتا ہے کہ ہم گمراہی سے اور اچھی طرح واقف ہو جائیں اور اپنی نیتوں کا امتحان دے سکیں، ہو سکتا ہے کہ کامیابی دم آخر تک حاصل نہ ہو یا ایسی صورت یا موقع پر نصیب ہو جس کا وہم و گمان بھی نہ تھا۔ 
میں حاضرین کی باتیں سن رہا تھا اور ان کے شوق اور جسارت کی داد دے رہا تھا۔ میں نے عاطف رزاق سے پوچھا کہ آخر اس کارِ خیر کے لیے مکالمے اور مباحثے کی ضرورت کیا ہے؟ توا س نے کمال تدبر سے جواب دیا کہ جھگڑوں کا آغاز بھی چونکہ انسانی دل و دماغ میں ہوتا ہے اس لیے امن وخدمت کی فصلیں بھی انسان کے قلب و دماغ میں ہی بونی چاہئیں“۔ میرا خیال ہے کہ ایک آزاد اور متحرک سماج کی عظمت میرے حقِ آزادی کے شعور اور میرے آزاد ہونے کی قابلیت میں نہیں بلکہ میرے ساتھی انسان کے حقِ آزادی کے شعور و فہم اور اس کی آزاد ہونے کی قابلیت میں بھی ہے۔ عبادات ہستی کی بے وقعتی کے خلاف رد عمل ہیں۔ عبادات صرف فرد کو اپنے سے منسلک سے نہیں کرتیں بلکہ اسے حتمی رشتوں میں زندگی کا احساس بھی عطا کرتی ہیں۔ عبادات دانش و بصیرت سے جنم لیتی ہیں یہ انسان کو اس طرح اکیلے کھڑا ہونا سکھاتی ہیں کہ وہ تنہا نہ ہو۔ آج عبادات کا حقیقی مفہوم متعارف کروانا، مساجد کو حقیقی عبادت گاہ کے تصور سے جوڑنے کی کوشش کرنا اور سماج کو انسانی اخوّت کے مذہب کے پیغام کی یاد دہانی کروانا یقینا اہل فکر کا کام ہے اور لائق تحسین بھی ہے۔ نوجوانوں کے اس فکری گروہ کا مثبت کردار دیکھ کر مجھے حسن عبدالحکیم کی کتاب King of the Castleکے مقدمے کی یہ سطور یاد آگئیں کہ ”ایک منظم اور صالح انسانی معاشرہ ان لوگوں سے کبھی تعمیر نہیں ہو سکتا جو ایسے معاشرے کی تخلیق کو اپنا بنیادی مقصد بنا لیتے ہیں۔۔۔ایک اچھامعاشرہ صرف ان افعال افکار اور محسوسات کی ضمنی پیداوار کے طور پر اُبھر سکتا ہے جن کا ہدف انسانی زندگی کے حوادث سے ماوراہو،جن کا مقصد دارالخلد ہو۔“ اس علاقہ کے جوانوں کی تخلیقی اقلیت نے بھی ایسا ہی خواب دیکھا ہے۔دُعا ہے کہ یہ جلد سے جلد تعبیر حاصل کرے۔ اس کے لیے پروردگار نے جنہیں حرکت کی توفیق دی ہے انہیں استقلال بھی عطا کرے۔ (آمین)



منگل، 30 جون، 2015

تعلیم ، بجٹ اور میڈیا


قومی تعمیر نو میں یونیورسٹیاں اہم وسیلہ ہوتی ہیں۔ سیاسی ، معاشی اور تہذیبی استحکام کے لیے قوموں کو علوم و فنون کی ضرورت ہوتی ہے ۔ یونیورسٹیاں اس ضرورت کو پورا کرنے کا قومی فریضہ سر انجام دیتی ہیں۔ حقیقی یونیورسٹیاں معاشرے میں علم و دانش، مباحثے اورمکالمے کو فروغ دیتی ہیں تاکہ لوگ اپنے مسائل سے آگاہی اور انہیں حل کرنے میں لکیر کے فقیر نہ رہیں۔ اس طرح یونیورسٹیاں سماجی خدمت کے مختلف وسیلوں کو بروئے کار لاتے ہوئے سماجی ترقی کا سبب بنتی ہیں۔ ترقی کا پائیدار عمل مادی سطح پر اس وقت تک شروع نہیں ہو سکتا جب تک اس بستی کے لوگوں میں فکری تبدیلیاں رونما نہ ہوں۔ تاہم فکری راہنمائی کی ذمہ داری بہر حال یونیورسٹیوں کو ہی ادا کرنی ہے ۔ خوش قسمتی سے یونیورسٹی آف گجرات اپنے اس مثبت کردار سے بخوبی آشنا ہے اور اپنے وژنری قائد ڈاکٹر ضیاءالقیوم کی راہبری میں روایتی درس گاہ سے بڑھ کرقومی دانش گاہ کا فریضہ ادا کرنے کی ثمر آور سعی میں مصروف عمل ہے ۔ اس بات کا شدید احساس و نشاط گذشتہ دنوں علوم ترجمہ کے ممتاز دانشور استاد ڈاکٹر غلام علی کے ہمراہ یونیورسٹی آف گجرات کے مرکزی آڈیٹوریم میں ”تعلیم، بجٹ اور میڈیا“کے موضوع پر منعقدہ فکر انگیز اور پر مسرت سیمینار میں ہوا۔
صدر شعبہ ¿ ڈاکٹر زاہد یوسف کی ولولہ انگیز قیادت میں جامعہ گجرات کا سنٹر فار میڈیا اینڈ کمیونیکیشن سٹڈیز عصری تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے کے ناطے ایسی سنجیدہ فکری نشستوں کا اہتمام کرتا رہتا ہے جس میں دانشوروں، صحافیوں اور میڈیا کے زعماﺅں کو طالبعلموں کے روبرو بٹھا کر عصری مسائل پر نتیجہ خیز مکالمہ کیا جا سکے اور طالبعلموں کو ابلاغ عامہ کے ماہرین کو براہ راست سننے اور سمجھنے کا موقع فراہم کیا جا سکے ۔
بجٹ کی آمد کے بعد گلی محلوں سے پارلیمنٹ تک ہر جگہ اس پر مختلف حوالوں سے گفتگو جاری ہے مگر بجٹ میں تعلیم کے لیے مختص فنڈز و کردار پر سنجیدہ مکالمہ نہ میڈیا میں سننے کو ملا، نہ اخبارات میں پڑھنے کو، اس کمی کا ازالہ اس نشست میں ہوا جہاں پر مغز گفتگو نے کئی سوالوں کے جواب دینے کے ساتھ ساتھ بہت سے نئے سوالوں کو جنم دے کر حاضرین کو سوچنے کے لیے بہت کچھ دیا۔ سیمینار کا آغاز نقاش سعید کی تلاوت قرآن حکیم اور رضوانہ کوثر کے ہدیہ نعت سے ہوا تو فضا میں علمیت کے ساتھ ساتھ روحانیت اور سنجیدگی کا تاثر بھی بڑھ گیا ۔ ہیڈ آف دی ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹر زاہد یوسف نے کہا کہ ہمارے ہاں تعلیمی ترقی کی راہ میں بڑی بڑی فکری و عملی رکاوٹیں ہمیشہ کھڑی رہی ہیں۔ تعلیم کی حالت زار پر بہت بات ہو چکی مگر پھر بھی اس لیے کہ شاید کچھ ”توجہ دلاﺅ“ قسم کی فکری ، قلمی اور بیانہ کاوشیں کبھی رنگ لے ہی آئیںاور ہمیں سوچنے اور سوال کرنے پر مجبور کر دیں۔ اس لیے یہ فریضہ ادا کرنے کی سعی کی گئی ہے ۔ تعلیمی شعبے پر وہ قومیں زیادہ سے زیادہ خرچ کرتی ہیں جنہیں ترقی کی آرزو اور خوشحالی کی امنگ ہو ۔ مہمان مقرر جواں عزم اور روشن خیال اینکر پرسن (دنیا ٹی وی ) محمد اجمل جامی نے کہا کہ اکیسویں صدی میں تعلیمی شعور اور آگہی ناگذیر ہے۔ تعلیم ہمارے حکمرانوں کی ترجیحات میں کبھی شامل نہیں رہی۔ ہمارے حالات کا تقاضا تو یہ ہے کہ ہم تعلیم کو اپنی ترقی کا محو بنا لیں ۔ ہمارے ہاں تعلیمی بجٹ آج بھی دو فیصد کے گرد گھومتا ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ میڈیا کے ذریعے تعلیمی بجٹ کے حوالے سے عوامی شعور اجاگر کیا جائے اور تعلیم و ترقی کے تعلق کو مربوط بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے آگاہی پیدا کی جائے۔ ترقی کا شعور فکری تبدیلیوں کے ساتھ مشروط ہے۔ یونیورسٹی آف گجرات کی معنی خیز، پاکستانیت اور پاکستان کے تقاضوں سے ہم آہنگ جراتمندانہ کاوش ہے۔ سیمینار کے مہمان اعزازDGPR کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر محمد اسلم ڈوگر نے کہا کہ آج کے میڈیا کی دنیا میں صداقت، معروضیت، غیر جانبداری اور سنجیدگی کم ہوئی ہے ۔ میڈیا کے تعلیم جیسے اہم موضوع پر کردار کے حوالے سے آج کے سیمینار کے انعقاد پر منتظمین مبارکباد اور خراج تحسین کے مستحق ہیں۔ آج کے میڈیا کے مسائل و مفادات نے اس کے فرائض اور پیشہ وارانہ ذمہ داریوں پر غلبہ حاصل کر لیا ہے اور صحافت ذرا پیچھے رہ گئی ہے ۔ کوئی قوم اس وقت تک ترقی کا دعویٰ نہیں کر سکتی جب تک کہ وہ علمی ترقی کے اعلیٰ مدارج کو نہ چھو لے۔ آزادی اظہار ترقی یافتہ قوموں کا شیوہ ہے اور فرد کا بنیادی حق ہے۔ تعلیم سماجی شعور کا نام ہے۔ پاکستان میں تعلیم و صحت کے لیے بجٹ کو خاطر خواہ طور پر بڑھانے کی ضرورت ہے۔ سیمینار کے مہمان خصوصی سینئر تجزیہ کار اور CPNE کے صدر مجیب الرحمن شامی تھے۔ شامی صاحب کے نقطہ ¿ نظر سے اختلاف ہو سکتا ہے مگر ان کا شمار ان چند خو ش قسمت دانشور صحافیوں میں ہوتا ہے جن کو خدا نے لکھنے اور بولنے دونوں نعمتوں سے نوازا۔ وہ بولتے ہوئے بلا تکان دلائل در دلائل دیے جاتے ہیں۔ مہمان خصوصی مجیب الرحمن شامی نے کہا کہ پاکستان میں تعلیمی ترقی کے لیے میڈیا کا کردار بے پایاں اہمیت کا حامل ہے کسی بھی ملک کی سماجی اور معاشی ترقی کا انحصار اس بات پر ہے کہ اس ملک کے بجٹ کا کتنا حصہ تعلیمی شعبہ ¿ پر خرچ کیا جا رہا ہے ۔ اکیسویں صدی میڈیا کی صدی ہے ۔ ذرائع اطلاعات و نشریات برق رفتار بن چکے ہیں۔ میڈیا کی بنیادی ذمہ داری پاکستان کی تاریخ و مسائل کا صحیح ادراک کرنا اور اطلاعات کو عوام تک دیانتداری سے پہنچانا ہے۔ پاکستان وسائل سے مالا مال ملک ہے مگر حکومتی ناکامیاں ہمارے وسائل کو تباہ کر رہی ہیں۔ پاکستانی بجٹ میں تعلیم پر خرچ کی مد میں آہستگی سے اضافہ ہو رہا ہے ۔ تعلیم اب صوبائی معاملہ ہے۔ حکومت کو جلد بجٹ پر چار فیصد تک خرچ کرنا ہو گا ۔ جامعات اور تعلیمی اداروں کو صنعتوں کے ساتھ جڑنے کی ضرورت ہے ۔ صوبوں کو تعلیمی بجٹ میں اضافہ کرنا چاہیے۔ پاکستان میں ہر قسم کے وسائل موجود ہیں مگر سرکار اپنا حصہ وصول کرنے میں ناکام ہے۔ حکمرانوں کو خرچ کی رقم کم کرنے کی بجائے آمدن بڑھانے والے اعمال پر عمل پیرا ہونا چاہیے۔ میڈیا عوامی مسائل کے حوالے سے گفتگو کرتا ہے اسے تعلیم اور اس کی ترقی سے وابستہ مسائل پر اور زیادہ بات کرنا ہو گی ۔ جامعہ گجرات جیسی متحرک ، فعال اور شاندار یونیورسٹیاں ہی حقیقی جامعات ہیں۔ صدر محفل شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر ضیاءالقیوم نے کہا کہ تعلیمی ترقی کا حصول معاشرہ کی انقلابی کوششوں کے ذریعے ہی ممکن ہے ۔ تمام دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی معیشتوں کا انحصار علم و تعلیم کی ترقی کے ساتھ وابستہ ہے ۔ شومئی قسمت ہمارے ہاں مجموعی پیداوار کا بہت کم حصہ تعلیمی ترقی پر خرچ کیا جاتا ہے ۔ سیاسی جماعتیں تعلیمی ترقی کے لیے وسائل کی فراہمی کے اپنے اپنے منشور پر بھی عمل نہیں کر رہی رہیں۔ تعلیم پر اخراجات کو خرچ نہیں سرمایہ کاری سمجھا جانا چاہیے۔ تعلیمی نظام کو مربوط و مضبوط اور توانا ءبنانے کے لیے اور رائے عامہ کو ہموار کرنے کے لیے اپنا کردار پوری ذمہ داری سے ادا کرے۔ جامعات کو بھی سرکار پر انحصار کے ساتھ اپنے اپنے وسائل کو بڑھانے کے لیے انڈسٹری اکڈیمیا لنکجز کو عملی جامہ پہنانا ہو گا۔ جامعہ گجرات کے اینڈوومنٹ فنڈ کے بڑھانے کے لیے سول سوسائٹی، تاجر برادری ، مخیر حضرات اور اوورسیز پاکستانیوں کے تعاون کو وسعت دیں گے۔ میڈیا کے دانشوروں کا جامعہ گجرات آنا اور سنٹر فار میڈیا سٹڈیز کا وقت کے تقاضوں کے مطابق سنجیدہ موضوع پر علمی نشست کا اہتمام کرنا لائق تحسین ہے ۔
سیمینار میں ابلاغیات کے اساتذہ ڈاکٹر محمد ارشد، زاہد بلال، محترمہ ثوبیہ عابد، ڈاکٹر لبنیٰ ، رخسانہ ریاض، عمیر احمد ، منعم شہزاد سمیت ماہرین تعلیم، تعلیمی منتظمین ،اساتذہ، اور طالبعلموں کی بڑی تعداد نے شرکت کی ان کے فکر انگیز سوالات نے سیمینار کو حقیقی جہتوں کا پابند رکھا۔
ہمارے ملکی و قومی حالات کا تقاضا ہے کہ ہم تعلیم کو اپنی سب سے بڑی ترجیح بنا لیں۔ پوری قوم یک نکاتی ایجنڈا بنا لے کہ ہمیں پورے اخلاص سے انفرادی ، اجتماعی اور قومی وسائل کا بڑا حصہ صرف اور صرف تعلیم کے لیے وقف کرنا چاہیے۔ ہماری خوشحالی، ترقی اور سلامتی کی سب راہیں صرف تعلیم اور تعلیم ہی کھول سکتی ہے ۔ تعلیم سے بڑا پیداواری سیکٹر اور کوئی نہیں، اس کا ادراک ماہرین معاشیات کو بھی بخوبی ہے مگر ہمارے سرکاری و کاروباری مالیاتی ماہرین اس بارے میں تذبذب کا شکار ہیںجس کا اظہار ان کے اعداد و شمار کے سالانہ گورکھ دھندے سے ہر سال عیاں ہوتا ہے ۔ اپنے شہریوں کی تعلیم و صحت کا تحفظ و ترقی ریاست کی بنیادی ذمہ داریوں میں ہے ۔ بجٹ ریاست کے شہریوں کی ایسے ہی حوالوں سے خدمت کے لیے سالانہ میزانیے کا نام ہے جو حکمرانوں کے سیاسی منشور اور نصب العین کی تصویر پیش کرتا ہے ، اس تناظر میں صورتحال کسی طرح بھی قابل تحسین نہیں ہے۔ تعلیم کے لیے وقف بجٹ حکمرانوں کے انقلا بی نعروں قومی تقاضوں اور عوامی امنگوں سے کوئی تعلق نہیں رکھتا ۔ گذشتہ کئی سالوں سے سیاسی قائدین نے تعلیمی بجٹ کو انتخابی نعرے کے طور پر استعمال کیا ۔گذشتہ انتخابات میں کم و بیش تمام سیاسی جماعتوں نے تعلیمی بجٹ چار فیصد کرنے کا اعلان کیا تھا مگر تیسرا مسلسل بجٹ ہے حکمران جماعتیں اپنے ہی منشور کے مطابق عمل پیرا نہ ہو سکیں اور نہ ہی اپوزیشن نے اسے مخالفت برائے مخالفت کے پراپیگنڈے سے زیادہ اہمیت دی۔ اس صورتحال میں میڈیا کی بڑی ذمہ داری تعلیم کے بجٹ پر قومی جذبات کی عکاسی کرنا تھی۔ کہا جاتا ہے کہ کسی سماج یا ملک میں میڈیا جس آزادی ، ذمہ داری اور ایمانداری سے معلومات پہنچاتا ہے ویسا ہی ذمہ دار ذہن و کردار پروان چڑھتا ہے۔ قوم کے مزاج اور کردار کا اعلیٰ ترین اظہار میڈیا ہی کے ذریعے ہوتا ہے ۔ تاہم حالیہ بجٹ میں تعلیم کے لیے وقف وسائل اور قومی ضرورتوں میں جو تفاوت ہے میڈیا اس حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرتا دکھائی نہیں دیتا۔ کسی نے بھی کوئی تحقیقی رپورٹ نہ دکھائی نہ شائع کی۔ اس احساس کا علمی تجزیہ کرنے اور تعلیم اور بجٹ کے حوالے سے ذمہ دارانہ کردار ادا کرنے کے لیے میڈیا کو جگانے کے لیے یونیورسٹی آف گجرات کا یہ سیمینار قوم کے جذبات کا آئینہ دار تھا۔ ایسے مکالمے ، مباحثے کی ذمہ داری کا فریضہ ایک دانش گاہ ادا کر رہی ہو تو یہ بھی قوم کے لیے نوید مسرت سے کم نہیں کہ اب جامعہ گجرات سے ”ضیائے قیوم“ کے انوار سے نئی روشنی پھیلنے لگی ہے ۔ مکالمے و مباحثے کی یہی فضا ہمارے زندہ ہونے کا اعلان بھی ہے اور آنے والے دنوں میں قوم کی علمی اور عملی راہنمائی کے لیے یونیورسٹی آف گجرات کے اگواکار ہونے کے دعوے کی تصدیق بھی ۔